Baaghi TV

Category: پشاور

  • علی محمد خان کو  18 جون تک مزید کسی کیس میں گرفتار نہ کیا جائے،عدالت

    علی محمد خان کو 18 جون تک مزید کسی کیس میں گرفتار نہ کیا جائے،عدالت

    سابق وزیر مملکت علی محمد خان کی جانب سے خیبرپختونخوا میں مقدمات اور انکوائریز کی تفصیل کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی جس پر جسٹس عتیق شاہ اور جسٹس وقار احمد نے سماعت کی۔وکیل درخواست گزار علی زمان ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ علی محمد کو ایک کیس میں ضمانت ملنے کے بعد دوسرے میں گرفتار کیا جاتا ہے اور مختلف ادارے اس طریقے سے علی محمد خان کو ہراساں کررہے ہیں، اس لیے علی محمد خان کے خلاف درج مقدمات اور انکوائریز کی تفصیل فراہم کرکے مزید کسی کیس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا جائے۔عدالت نے کیس میں مختصر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے نیب، اینٹی کرپشن اور پولیس کو احکامات جاری کیے کہ 18 جولائی تک علی محمد خان کسی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے جبکہ حکومت کو 7 روز میں علی محمد خان کے خلاف تمام مقدمات اور انکوائریز کی تفصیل ہائیکورٹ میں جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

  • وزیر اعظم نے فاٹا یونیورسٹی میںنوجوان طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کیئے

    وزیر اعظم نے فاٹا یونیورسٹی میںنوجوان طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کیئے

    فاٹا یونیورسٹی کی افتتاحی تقریب میں شہباز شریف نے نوجوان طلبہ میں لیپ ٹاپ بھی تقسیم کیئے۔ اس تقریب میں گورنر و نگراں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب بھی شریک ہیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں شروع ہونے والے اس منصوبے کا پہلا زون مکمل ہوا جس پر 4.5 ارب روپے کی لاگت آئی، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا بہادر لوگوں کی دھرتی ہے، یہاں کے لوگوں نے اپنے خون سے پاکستان کا دفاع کیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی اس صوبے کے لو گوں نے بے شمار قربانیاں دیں،

    ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ لیپ ٹاپس تقسیم کیے جا رہے ہیں، لیپ ٹاپس کی تقسیم میرٹ پر کی جا رہی ہے، البتہ کورونا وائرس کے دوران لاکھوں بچے لیپ ٹاپس سے مستفید ہوئے جس کی مدد سے ان کا تعلیمی سلسلہ جاری رہا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کی آئی ایم ایف کا پروگرام خوشی سے نہیں مجبوری سے قبول کرنا پڑا ،بھکاری پن کے خاتمے کے لئے ملک کو اپنے پیروں پہ کھڑا ہونا ہو گا جس کے لئے ہم سب کو محنت کرنی پڑیگی،انہوں نے اپنے خطاب میں سعودی ولی عہد اور سعودی حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دے کر دو ارب ڈالر پاکستان کو دے دیں،جس کے لئے آرمی چیف اور وزیر خزانہ اسحآق ڈار کا شکر گزار ہوں،شہباز شریف نے کہا کہ ہم باہر جاتے ہیں تو لوگوں کے چہرے کہتے ہیں کہ پیسے مانگنے آگئے، لہٰذا ہم نے فیصلہ کرنا ہے ہاتھ سیدھا ہی رکھنا ہے یا کبھی الٹابھی کرنا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخواہ نے پاکستان کو دہشتگردی سے بچانے کیلیے جو تاریخی کردار ادا کیا اس صوبے کے لوگوں نے اپنے لہو سے جو قربانیاں دی ہیں اس کے بغیر پاکستان میں دیشتگردی کی لعنت ختم نہیں کی جا سکتی تھی ،لیپ ٹاپ سکیم کا جو آج اجراء کیا گیا ہے یہ 1لاکھ لیپ ٹاپ ہیں جو پورے پاکستان میں بغیر کسی سفارش کے صرف میرٹ کی بنیاد پہ تقسیم کیے جارہے ہیں اور یہی نوازشریف کی پالیسی ہے یہی میری پالیسی ہے اور یہی اس حکومت کی پالیسی ہے.میرا اگر بس چلتا تو پاکستان کے ہر بچے اور بچی کے ہاتھ لیپ ٹاپ دیتا جس سے پاکستان میں کلاشنکوف کا کلچر ختم ہوتا بے روزگاری کا خاتمہ ہوتا لیکن اس سال ہمیں بہت سے معاشی چیلنجز کا سامنا تھا.مجھ سمیت تمام اشرافیہ کو جن کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ نعمتوں سے نوازا ہے ہم سب کو اپنے اندر جھانکنا ہوگا اوراگر اس قوم کا مستقبل سنوارنا ہے تو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا 90 کی دہائی یاد کیجیے جب پاکستان کا روپیہ ہندوستان کی کرنسی سے زیادہ قیمت رکھتا تھا

    آج پشاور میں لیپ ٹاپ کی تقریب میں ایک طالب علم نے وزیراعظم شہباز شریف کا طلبہ کو لیپ ٹاپ کا تحفہ دینے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم اس لیپ ٹاپ کی بدولت محنت کر کے کل کو وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھیں گے وزیراعظم شہباز شریف نے طالب علم کو اپنی کرسی پر بٹھایا اور اس کی حوصلہ افزائی کی،

  • کے پی کے گورنر کے معاملے پر اے این پی اور جے یو ائی ف  کا ایک دوسرے پر زبانی گولہ باری

    کے پی کے گورنر کے معاملے پر اے این پی اور جے یو ائی ف کا ایک دوسرے پر زبانی گولہ باری

    ترجمان عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا ثمرہارون بلور نے مولانا فضل الرحمن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب! سمدھی کے علاوہ کوئی رشتہ دار گورنرہاؤس بھیج دیں، وہاں آتے جاتے بریف کیسز دیکھ لیں، ثمرہارون بلور نے گورنر کے پی کے پر الزام لگا کہ کہا کہ گورنرہاؤس میں باپ بیٹا اتحادی جماعتوں کے کونسلرز کو 30 سٹریٹ لائٹس کی رشوت دے رہے ہیں، ہم اس قوم کیلئے جانیں دینے والی پارٹی ہیں، 30 لائٹس تو کیا 30 ارب روپے بھی ہمارا ضمیر نہیں خرید سکتا،ثمرہارون بلورنے مزید کہا کہ تمیز اور تہذیب اگر سکھانی ہے تو گورنرہاؤس میں بیٹھے لوگوں کو سکھائے، بڑی کرسی پر بیٹھ کر تہذیب سے بات کرنے سے عاری لوگوں کی حمایت نہیں کرسکتے،اے این پی کے صوبائی ترجمان اور رہنما ثمر بلور نے مزید کہا باچاخان اور ولی خان کے سیاسی وارث کا قد پوری دنیا جانتی ہے، ولی باغ سیاسی مدرسہ ہے جہاں لوگ سیاست سیکھتے ہیں، کون کہاں تک محدود ہے، سب کچھ چند مہینوں میں واضح ہوجائیگا،صوبائی ترجمان اے این پی نے کہا اے این پی اپنے اصولی مؤقف اور ماضی کی خدمت کی بنیاد پر عوام میں نکل چکی ہے ، انہوں نے کہا غیرسنجیدہ رویوں کی وجہ سے پختونخوا کے پرامن سیاسی ماحول کو خراب کرنے کے پیچھے گورنرہاؤس کی سازش ہے،صرف اے این پی ہی نہیں، پورا اتحاد کہہ چکا ہے کہ گورنرہاؤس میں کیا کچھ ہورہا ہے،ثمرہارون بلور نے سوال کیا کہ کیا تمام لوگ غلط اور ایک جماعت درست ہے؟ عوام پر حکمرانی حلوہ نہیں کہ کھایا جائے،عوام اپنے حق پر کھبی ڈاکہ نہیں ڈالنے دے گی،

  • غیر قانونی بھرتیوں کا الزام بے بنیاد ہے،سابق صوبائی وزیر

    غیر قانونی بھرتیوں کا الزام بے بنیاد ہے،سابق صوبائی وزیر

    پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر فضل شکور نے غیر قانونی بھرتیوں کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر قانونی بھرتیوں کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے ،فضل شکور نے ٹوئیٹر پر ایک پیغام میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام بھرتیاں قانون کے مطابق ایم پی ایز کا جو کوٹہ میں ہوئی ہے جو بھی لوگ میریٹ پر پورا اترے ہے ،جن کے میڈیکل اور پورے قانونی تقاضےپورے کر کے بھرتیاں کی گئی ہیں ۔اور ہر بات ریکارڈ پر موجود ہیں ۔ فضل شکور نے کہا اینٹی کرپشن چارسدہ نے ساکھ کو نقصان پہنچایا جس کے خلاف ہرجانے کا کیس کرونگا اور مکمل طریقے سے دفاع کرینگے ۔واضح رہے کہ گزشتہ شب کو چارسدہ اینٹی کرپشن اور پولیس کی جانب سے ایم اینااے فضل خان اور فضل شکور کے گھر پر چھاپے مارے تھے لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں ائی تھی،

  • مردان ،ریسکیو 1122 کی گزشتہ 24 گھنٹوں کی رپورٹ

    مردان ،ریسکیو 1122 کی گزشتہ 24 گھنٹوں کی رپورٹ

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریسکیو1122 مردان نے 43 ایمرجنسیز کے دوران اپنی خدمات پیش کیں۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر عمران خان یوسفزئی کی سربراہی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریسکیو 1122 مردان کنٹرول روم کو 1502 کالز موصول ہوئیں۔
    مردان،07 روڈ ٹریفک حادثات،29 میڈیکل، گولی لگنے یا لڑنے/جھگڑنے کے 04، ڈیلوری کیسز 01، گرنے یا دیگر کے 02 حادثات پیش آئے۔ ان حادثات کے دوران 02 افراد نے موقع پر یا ہسپتال پہنچنے پر جان کی بازی ہار گئے۔
    42 افراد کو بروقت امداد فراہم کرتے ہوئے ہسپتال منتقل کر دیا۔
    اس کے علاوہ ہیلتھ ایمبولینس سروس کے ذریعے 06 ایمرجنسیز میں خدمات پیش کئیں 06 ایمرجنسیز میں مریضوں کو ضلع کے اندر ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال منتقل کر دیا۔

  • ضلع کرم میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری، جاں بحق افراد کی تعداد 11 ہوگئی

    ضلع کرم میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری، جاں بحق افراد کی تعداد 11 ہوگئی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلع کرم کے مختلف علاقوں میں قبائل کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ پانچ روز سے جاری ہے تازہ جھڑپوں میں مزید 2 افراد جاں بحق اور 25 زخمی ہوگئے۔ پانچ روزہ جھڑپوں میں مجموعی طور پر 11 افراد جاں بحق اور 77 زخمی ہوگئے۔
    پولیس ذرائع کے مطابق پیواڑ پر جنگ بندی کے باوجود حملے جاری ہیں۔ پانچ روز قبل بوشہرہ میں جائیداد کے تنازعے پر دو قبائل کے مابین فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو تاحال جاری ہے۔
    قبائلی عمائدین اور فورسز کے تعاون سے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے حالات پر قابو پانے کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔
    وفاقی وزیر ساجد طوری بھی قبائل کے مابین فائر بندی کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں تاہم حالات خراب ہے۔
    دوسری جانب وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز و انسانی وسائل ساجدطوری نے کہا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومت ضلع کرم میں خونریز جھڑپیں رکوانے کے لئے فوری اقدامات اٹھائیں۔ امن دشمن عناصر کی سازشوں سے بار بار فائر بندی کے باوجود ضلع کرم کے چاروں اطراف میں جھڑپیں شروع ہوگئیں ہیں۔

  • تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو ، اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

    تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو ، اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

    حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا
    ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا

    قتیل شفائی

    قتیل شفائی یا اورنگزیب خان (پیدائش 24 دسمبر، 1919ء – وفات 11 جولائی، 2001ء) پاکستان کے ایک مشہور و معروف اردو شاعر تھے۔ قتیل شفائی خیبر پختونخوا، ہری پور، ہزارہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور بہت سی فلموں کے لیے گیت لکھے۔

    ابتدائی زندگی اور کیرئر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی 1919ء میں برطانوی ہند (موجوہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام محمد اورنگ زیب تھا۔ انھوں نے 1938ء میں قتیل شفائی اپنا قلمی نام رکھا اور اردو دنیا میں اسی نام سے مشہور ہیں۔ اردو شاعری میں وہ قتیل تخلص کرتے ہیں۔ شفائی انھوں نے اپنے استاد حکیم محمد یحیی شفاؔ کانپوری کے نام کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ لگایا۔ 1935ء میں ان کے والد کی وفات ہوئی اور ان پر اعلیٰ تعلیم چھوڑنے کا دباؤ بنا۔ انھوں نے کھیل کے سامان کی ایک دکان کھول لی مگر تجارت میں وہ ناکام رہے اور انھوں نے اپنے چھوٹے سے قصبے سے راولپنڈی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا جہاں انھوں نے ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ بعد میں 1947ء میں انھوں نے پاکستانی سنیما میں قدم رکھا اور نغمہ لکھنے لگے۔ ان کے والد ایک تاجر تھے اور ان کے گھر میں شعر و شاعری کا کوئی رواج نہ تھا۔ ابتدا میں امھوں حکیم یحیی کو اپنا کلام دکھانا شروع کیا اور بعد میں احمد ندیم قاسمی سے اصلاح لینے لگے اور باقاعدہ ان کے شاگرد بن گئے۔ قاسمی ان کے دوست بھی تھے اور پڑوسی بھی۔

    فلمی دنیا
    ۔۔۔۔
    1948ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی فلم ’’تیری یاد‘‘ کی نغمہ نگاری سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔ جس کے بعد انھوں نے مجموعی طور پر 201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کیے۔ وہ پاکستان کے واحد فلمی نغمہ نگار تھے جنھیں ہندستانی فلموں کے لیے نغمہ نگاری کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ انھوں نے کئی فلمیں بھی بنائیں جن میں پشتو فلم عجب خان آفریدی کے علاوہ ہندکو زبان میں بنائی جانے والی پہلی فلم ’’قصہ خوانی‘‘ شامل تھی۔ انھوں نے اردو میں بھی ایک فلم ’’اک لڑکی میرے گائوں کی‘‘ بنانی شروع کی تھی مگر یہ فلم مکمل نہ ہوسکی تھی۔ فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ قتیل شفائی کا ادبی سفر بھی جاری رہا۔ اپنی عمر کے آخری دور میں متعدد مرتبہ ممبئی کا بھی سفر کیا اور ’سر‘، ’دیوانہ تیرے نام کا‘، ’بڑے دل والا‘ اور ’پھر تیری کہانی یاد آئی‘ جیسی ہندستانی فلموں کے لیے بھی عمدہ گیت لکھے۔

    اُن کے گیتوں کی مجموعی تعداد ڈھائی ہزار سے زیادہ بنتی ہے، جن میں ’صدا ہوں اپنے پیار کی‘، ’اے دل کسی کی یاد میں ہوتا ہے بے قرار کیوں‘، ’یوں زندگی کی راہ سے ٹکرا گیا کوئی‘ کے ساتھ ساتھ ’یہ وادیاں، یہ پربتوں کی شاہزادیاں‘ جیسے زبان زدِ خاص و عام گیت بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی گیتوں پر اُنھیں خصوصی اعزازات سے نوازا گیا

    کلام کی خصوصیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں۔ ان کے لہجے کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ یوں تو انھوں نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے۔ ان کی شاعری میں سماجی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے۔ اور انھیں صف اول کے ترقی پسند شعرا میں اہم مقام حاصل ہے۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انھوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام پاکستان اور ہندستان دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔

    اعزازت
    ۔۔۔۔۔
    صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی 1994ء، آدم جی ادبی انعام، امیر خسرو ایورڈ، نقوش ایورڈ۔ نیز ہندستان کی مگدھ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے‘‘ کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاول پور یونیورسٹی کی دو طالبات نے ایم اے کے لیے ان پر مقالہ تحریر کیا۔

    فلمی نغمہ نگاری
    ۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے۔ انہیں نیشنل فلم ایورڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایورڈ بھی دیے گئے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ہریالی
    ۔ (2)گجر
    ۔ (3)جلترنگ
    ۔ (4)روزن
    ۔ (5)جھومر
    ۔ (6)مطربہ
    ۔ (7)چھتنار
    ۔ (8)گفتگو
    ۔ (9)پیراہن
    ۔ (10)آموختہ
    ۔ (11)ابابیل
    ۔ (12)برگد
    ۔ (13)گھنگرو
    ۔ (14)سمندر میں سیڑھی
    ۔ (15)پھوار
    ۔ (16)صنم
    ۔ (17)پرچم
    انتخاب (منتخب مجموعہ)
    کلیات
    ۔۔۔۔۔
    رنگ خوشبو روشنی (تین جلدیں)
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    11 جولائی 2001ء کو قتیل شفائی لاہور میں وفات پاگئے اور علامہ اقبال ٹائون کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے
    منسوبات
    ۔۔۔۔۔
    لاہور جہاں رہتے تھے وہاں سے گزرنے والی شاہراہ کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جبکہ ہری پور میں ان کے رہائشی محلے کا نام محلہ قتیل شفائی رکھ دیا گیا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
    میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو
    میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن
    میں ہوں گر پھول تو جوڑے میں سجا لے مجھ کو
    ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم
    تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو
    مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
    یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو
    میں سمندر بھی ہوں موتی بھی ہوں غوطہ زن بھی
    کوئی بھی نام مرا لے کے بلا لے مجھ کو
    تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی
    خود پرستی میں کہیں تو نہ گنوا لے مجھ کو
    باندھ کر سنگ وفا کر دیا تو نے غرقاب
    کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو
    خود کو میں بانٹ نہ ڈالوں کہیں دامن دامن
    کر دیا تو نے اگر میرے حوالے مجھ کو
    میں کھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارے
    تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو
    کل کی بات اور ہے میں اب سا رہوں یا نہ رہوں
    جتنا جی چاہے ترا آج ستا لے مجھ کو
    بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیلؔ
    شرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں
    لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں
    بکھرا پڑا ہے تیرے ہی گھر میں ترا وجود
    بے کار محفلوں میں تجھے ڈھونڈتا ہوں میں
    میں خودکشی کے جرم کا کرتا ہوں اعتراف
    اپنے بدن کی قبر میں کب سے گڑا ہوں میں
    کس کس کا نام لاؤں زباں پر کہ تیرے ساتھ
    ہر روز ایک شخص نیا دیکھتا ہوں میں
    کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
    دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں
    پہنچا جو تیرے در پہ تو محسوس یہ ہوا
    لمبی سی ایک قطار میں جیسے کھڑا ہوں میں
    لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب
    دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں
    جاگا ہوا ضمیر وہ آئینہ ہے قتیلؔ
    سونے سے پہلے روز جسے دیکھتا ہوں میں

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
    ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

    آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے
    موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں

    جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
    جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں

    چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی
    وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

    اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن
    دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں

    یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا
    جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا

    دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں
    لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں

    دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
    اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

    ہم اسے یاد بہت آئیں گے
    جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا

    یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
    خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے

    تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو
    اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

    گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
    ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

    تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں
    ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں

    میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا
    گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا

    اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
    ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا

    گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
    لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

    احباب کو دے رہا ہوں دھوکا
    چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں

    کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیں
    میرا نہیں تو دل کا کہا مان جائیے

    اچھا یقیں نہیں ہے تو کشتی ڈبا کے دیکھ
    اک تو ہی ناخدا نہیں ظالم خدا بھی ہے

    لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب
    دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں

    کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
    دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں

    وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم
    دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے

    مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
    یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

    رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر
    یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے

    جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج
    بٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں

    ابھی تو بات کرو ہم سے دوستوں کی طرح
    پھر اختلاف کے پہلو نکالتے رہنا

    نہ جانے کون سی منزل پہ آ پہنچا ہے پیار اپنا
    نہ ہم کو اعتبار اپنا نہ ان کو اعتبار اپنا

    ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا اپنا
    قبول ہم نے کیے جس کے غم خوشی کی طرح

    حالات سے خوف کھا رہا ہوں
    شیشے کے محل بنا رہا ہوں

    حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
    ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں

    وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
    میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے

    گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
    کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے

    میں اپنے دل سے نکالوں خیال کس کس کا
    جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے

    جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں

    وہ تیری بھی تو پہلی محبت نہ تھی قتیلؔ
    پھر کیا ہوا اگر وہ بھی ہرجائی بن گیا

    مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت
    اب کھل کے مزاروں پہ یہ اعلان کیا جائے

    کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔ
    مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا

    رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ
    ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ

    جیت لے جائے کوئی مجھ کو نصیبوں والا
    زندگی نے مجھے داؤں پہ لگا رکھا ہے

    یوں تسلی دے رہے ہیں ہم دل بیمار کو
    جس طرح تھامے کوئی گرتی ہوئی دیوار کو

    ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے
    اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں

    آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام
    کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے

    شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے
    ہم اسی آگ میں گم نام سے جل جاتے ہیں

    تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی
    تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

    اپنے لیے اب ایک ہی راہ نجات ہے
    ہر ظلم کو رضائے خدا کہہ لیا کرو

    انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی
    تم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کی

    حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا
    اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں

    مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ہے
    لیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں

    ترک وفا کے بعد یہ اس کی ادا قتیلؔ
    مجھ کو ستائے کوئی تو اس کو برا لگے

    کس طرح اپنی محبت کی میں تکمیل کروں
    غم ہستی بھی تو شامل ہے غم یار کے ساتھ

    ثبوت عشق کی یہ بھی تو ایک صورت ہے
    کہ جس سے پیار کریں اس پہ تہمتیں بھی دھریں

    کیوں شریک غم بناتے ہو کسی کو اے قتیلؔ
    اپنی سولی اپنے کاندھے پر اٹھاؤ چپ رہو

    دشمنی مجھ سے کئے جا مگر اپنا بن کر
    جان لے لے مری صیاد مگر پیار کے ساتھ

    یوں برستی ہیں تصور میں پرانی یادیں
    جیسے برسات کی رم جھم میں سماں ہوتا ہے

    ہم ان کے ستم کو بھی کرم جان رہے ہیں
    اور وہ ہیں کہ اس پر بھی برا مان رہے ہیں

    اپنی زباں تو بند ہے تم خود ہی سوچ لو
    پڑتا نہیں ہے یوں ہی ستم گر کسی کا نام

    قتیلؔ اب دل کی دھڑکن بن گئی ہے چاپ قدموں کی
    کوئی میری طرف آتا ہوا محسوس ہوتا ہے

    یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
    کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے

    تھوڑی سی اور زخم کو گہرائی مل گئی
    تھوڑا سا اور درد کا احساس گھٹ گیا

    اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
    میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو

    نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ بت خانہ
    تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے

    تم آ سکو تو شب کو بڑھا دو کچھ اور بھی
    اپنے کہے میں صبح کا تارا ہے ان دنوں

    داد سفر ملی ہے کسے راہ شوق میں
    ہم نے مٹا دئے ہیں نشاں اپنے پاؤں کے

    میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں
    برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے

    یارو یہ دور ضعف بصارت کا دور ہے
    آندھی اٹھے تو اس کو گھٹا کہہ لیا کرو

    بہ پاس دل جسے اپنے لبوں سے بھی چھپایا تھا
    مرا وہ راز تیرے ہجر نے پہنچا دیا سب تک

    رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
    ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لیا پاؤں میں

    میں جب قتیلؔ اپنا سب کچھ لٹا چکا ہوں
    اب میرا پیار مجھ سے دانائی چاہتا ہے

    سوچ کو جرأت پرواز تو مل لینے دو
    یہ زمیں اور ہمیں تنگ دکھائی دے گی

    زندگی میں بھی چلوں گا ترے پیچھے پیچھے
    تو مرے دوست کا نقش کف پا ہو جانا

    قتیل اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
    تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے

    سوکھ گئی جب آنکھوں میں پیار کی نیلی جھیل قتیلؔ
    تیرے درد کا زرد سمندر کاہے شور مچائے گا

    نہ چھاؤں کرنے کو ہے وہ آنچل نہ چین لینے کو ہیں وہ بانہیں
    مسافروں کے قریب آ کر ہر اک بسیرا پلٹ گیا ہے

    تیز دھوپ میں آئی ایسی لہر سردی کی
    موم کا ہر اک پتلا بچ گیا پگھلنے سے

  • چارسدہ،مکان کے تنازعے پر  بھتیجے نے چچا کو قتل کر دیا

    چارسدہ،مکان کے تنازعے پر بھتیجے نے چچا کو قتل کر دیا

    ضلع چارسدہ مکان کے تنازعہ پر فائرنگ کے نتیجے میں سکول استاد مسیح اللہ قتل کر دیئے گئے، پولیس کے مطابق فائرنگ متقول کے بھتیجے نے کی جس کے نتیجے میں چا چا مسیح اللہ مو قع پر جاں بحق ہو گئے، واقع رجڑ بائی پاس چارسدہ میں پیش آیا ،مقتول مسیح اللہ سکول ٹیچر تھے،پولیس نے ،ملزم کے خلاف سٹی تھانہ میں رپورٹ درج کر کے تعتیش شروع کر دی،ملزم واردات کر کے موقع سے فرار ہو گیا،جس کے لئے پولیس کی جانب سے کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے،

  • دین کا لباس اوڑھے ملک کا جو حشر کیا ہے، ایک دن اس کا جواب دینا ہوگا، ایمل ولی خان

    دین کا لباس اوڑھے ملک کا جو حشر کیا ہے، ایک دن اس کا جواب دینا ہوگا، ایمل ولی خان

    خیبر پختونخوا میں اے این پی اور جے یو ائی ف آمنے سامنے ،اے این پی خیبرپختونخوا کے صدر ایمل ولی خان کا مولانا فضل الرحمان کی صحافیوں سے گفتگو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پختونخوا کی حکومت ہے کوئی حلوہ نہیں کہ ہر کوئی کھائے، ایمل ولی خان نے کہا حکومتوں کے بھوکے اور بھکاری نہیں، میں نے کسی بزرگ کی بڑی کرپشن کی بات نہیں کی، پختونخوا میں مذہب کے نام پر جو من و سلویٰ جاری ہے، ابھی اس کا ذکر بھی نہیں کیا،صوبائی صدر اے این پی نے کہا میں نے صرف گورنر کی بات کی، قوم کو پتہ ہے کہ وہ مولانا اور انکی پارٹی کیلئے شرم کا باعث بن چکا ہے، خود کا کیا دوسروں پر ڈالنا آسان ہے، اپنے سمدھی اور فیصلوں کو اپنانے کی ہمت پیدا کریں، ایمل ولی خان نے اے این پی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری عظیم غلطی ہے کہ غلام علی کی حمایت کی اور میں اپنی یہ غلطی مانتا ہوں، اس نے مولانا کو کہا مجھ معلوم نہیں تھا کہ کے پی کے گورنر غلام علی کیسا بندہ ہے، آپ کے گھر کا بندہ ہے ، آپ انہیں خوب جانتے تھے، پھر بھی آپ نے انکو عوام پر مسلط کر دیا،ایمل ولی نے کہا کہ گورنر کے پی کے پر عدم اعتماد کرنے سے پیغام دیا جارہا ہے کہ میں سب کچھ اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر کررہا ہوں، جبکہ میں صرف حقیقت بیان کررہا ہوں، ایمل ولی نے مولانا فضل الرحمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا دین کا لباس اوڑھے ملک کا جو حشر کیا ہے، ایک دن اس کا جواب دینا ہوگا، ایمل ولی خاننے ایک بار پھر دہرایا ، گورنرپختونخوا جے یو آئی کیلئے باعث شرمندگی بن رہا ہے ،اس نے
    آنیوالے انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کا عزم ظاہر کیا اور کہا زیادہ تر امیدواران نامزد ہوچکے ہیں، ایمل ولی خان نے کہا اے این پی کسی بھی بیساکھی کی محتاج نہیں، عوام ہماری طاقت ہے اور رہے گی،ہم حکومت کے بھوکے نہیں، عوامی خدمت، حقوق اور امن کیلئے صف اول کا کردار ادا کرتے رہیں گے، ایمل ولی خان نے کہا کہ قوم نے موقع دیا تو اسی طرح خدمت کریں گے جس طرح ماضی میں کی ہے،

  • نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے زیر صدارت امن وامان صورتحال کے متعلق اجلاس

    نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے زیر صدارت امن وامان صورتحال کے متعلق اجلاس

    نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اجلاس ہوا ہے اجلاس میں انسپکٹر جنرل آف پولیس اختر حیات خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری زبیر اصغر قریشی سمیت دیگر اعلیٰ حکام کی شرکت کی ،
    اجلاس میں صوبے بالخصوص ضلع کرم میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ضلع کرم میں جاری کشیدگی پر وزیر اعلیٰ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ انتظامیہ اور پولیس حکام کو کرم میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے،اور کہا کہ ضلع کرم میں تمام تنازعات و مسائل پر امن طریقے سے حل کیے جائیں ، نگران وزیر اعلی کے پی کے شہریوں سے اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر امن کے لیے کوشاں رہنے کی اپیل کی ہے،