Baaghi TV

Category: پشاور

  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.4 ریکارڈ

    سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.4 ریکارڈ

    خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں مینگورہ شہر اور گردونواح میں ایک بار پھر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.4 ریکارڈ کی گئی۔

    منگل کے روز آنے والے زلزلے کے باعث مینگورہ سمیت کئی علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، شہری گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے اور بلند آواز میں کلمہ طیبہ کا ورد کرتے رہے۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی گہرائی 47 کلو میٹر تھی، جبکہ اس کا مرکز مینگورہ کے پہاڑی علاقے میں واقع تھا۔جھٹکے سوات کے علاوہ قریبی علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے، تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    مقامی انتظامیہ کے مطابق تمام سرکاری اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

    پاکستان اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن منتخب

    منی لانڈرنگ،غیرقانونی سرگرمیاں،ایف آئی اے کا تحریک لبیک کیخلاف کاروائی کا آغاز

    اسرائیلی فوج کی جنگ بندی کے بعد پہلی خلاف ورزی، 9 فلسطینی شہید

  • وزیراعلیٰ حلف برداری سے قبل پی ٹی آئی کی اہم مشاورت، کابینہ میں ردوبدل متوقع

    وزیراعلیٰ حلف برداری سے قبل پی ٹی آئی کی اہم مشاورت، کابینہ میں ردوبدل متوقع

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی حلف برداری سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وزیراعلیٰ ہاؤس میں اہم بیٹھک جاری ہے، جس میں صوبائی کابینہ کی تشکیل پر تفصیلی مشاورت ہو رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق نئی کابینہ میں زیادہ تر پرانے وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی کو برقرار رکھنے کا امکان ہے، تاہم کچھ نئے اور اہم چہروں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ پارٹی کے اندر علی امین گنڈاپور کے مخالف گروپ کے ارکان بھی وزارتوں کے حصول کے لیے سرگرم ہیں۔مزید بتایا گیا کہ نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو کابینہ میں ردوبدل کا مکمل اختیار دیا گیا ہے، جب کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے مزمل اسلم کو مشیر خزانہ مقرر کرنے کے علاوہ باقی تمام اختیارات سہیل آفریدی کو سونپ دیے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور نے ماضی میں شہرام ترکئی اور اسد قیصر کے بھائیوں کو کابینہ سے فارغ کیا تھا، تاہم سہیل آفریدی کے انتخاب کے بعد شہرام ترکئی اور عاطف خان نے دوبارہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔

    ڈیرہ غازی خان: بارڈر ملٹری پولیس کی کارروائی، 34 کلو چرس برآمد، سمگلنگ کی کوشش ناکام

  • گورنر کی غیر موجودگی میں کل اسپیکر نو منتخب وزیراعلیٰ سے حلف لیں، عدالت

    گورنر کی غیر موجودگی میں کل اسپیکر نو منتخب وزیراعلیٰ سے حلف لیں، عدالت

    وزیر اعلی سہیل آفریدی کے حلف کا معاملہ ،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنانا شروع کردیا

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ گورنر کے پی نئے وزیر اعلیٰ سے 15 اکتوبر بدھ کو شام 4 بجے حلف لیں،اگر گورنر حلف نہیں لیتے تو پھر اسپیکر نئے وزیر اعلیٰ سے حلف لیں،

    قبل ازیں پشاور ہائیکورٹ نے سہیل آفریدی کے بطور وزیر اعلیٰ حلف برداری کیلئے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، جو اب سنا دیا گیا ہے،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ 90 نمائندوں کے ووٹ سے سُہیل آفریدی وزیراعلیٰ منتخب ہوئے، جہاں تک استعفے کی بات ہے تو جب گورنر نے وزیراعلیٰ کا استعفیٰ وصول کر لیا تو وزیراعلیٰ مستعفی تصور ہو گا، میرے پاس تمام حقائق آ گئے ہیں، علی امین گنڈاپور مستعفی ہو چکے ، گورنر کے خط سے فرق نہیں پڑتا،

    وکیل گورنر خٰیبر پختونخوا نے کہا کہ گورنر کے لئے انتظار کریں، کل تک وہ آ جائیں تو سب ہو جائے گا، نئے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری تک پرانا وزیر اعلیٰ دفتر چلائے گا،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ وہ تو تب ہو گا، جب الیکشن نہیں ہوا ہو گا، یہاں تو الیکشن ہوا ہے،

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے نومنتخب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی حلف برداری کےلیے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کر فیصلہ کر لیا۔پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی، ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا ہے کہ گورنر پشاور میں موجود نہیں اور گورنر کی غیر موجودگی میں چیف جسٹس کے پاس اختیار ہے کہ حلف برداری کے لیے کسی کو نامزد کریں،

  • سہیل آفریدی کے بطور وزیر اعلیٰ حلف برداری کیلئے درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سہیل آفریدی کے بطور وزیر اعلیٰ حلف برداری کیلئے درخواست پر فیصلہ محفوظ

    پشاور ہائیکورٹ نے سہیل آفریدی کے بطور وزیر اعلیٰ حلف برداری کیلئے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ 90 نمائندوں کے ووٹ سے سُہیل آفریدی وزیراعلیٰ منتخب ہوئے، جہاں تک استعفے کی بات ہے تو جب گورنر نے وزیراعلیٰ کا استعفیٰ وصول کر لیا تو وزیراعلیٰ مستعفی تصور ہو گا، میرے پاس تمام حقائق آ گئے ہیں، علی امین گنڈاپور مستعفی ہو چکے ، گورنر کے خط سے فرق نہیں پڑتا،

    وکیل گورنر خٰیبر پختونخوا نے کہا کہ گورنر کے لئے انتظار کریں، کل تک وہ آ جائیں تو سب ہو جائے گا، نئے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری تک پرانا وزیر اعلیٰ دفتر چلائے گا،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ وہ تو تب ہو گا، جب الیکشن نہیں ہوا ہو گا، یہاں تو الیکشن ہوا ہے،

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے نومنتخب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی حلف برداری کےلیے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کر فیصلہ کر لیا۔پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی، ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا ہے کہ گورنر پشاور میں موجود نہیں اور گورنر کی غیر موجودگی میں چیف جسٹس کے پاس اختیار ہے کہ حلف برداری کے لیے کسی کو نامزد کریں،

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا انتخاب،جے یو آئی پشاور ہائیکورٹ پہنچ گئی

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا انتخاب،جے یو آئی پشاور ہائیکورٹ پہنچ گئی

    جے یو آئی کی جانب سے نو منتخب وزیر اعلیٰ کے انتخاب کا عمل پشاورہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

    درخواست جے یو آئی کے رکن خیبرپختونخوا اسمبلی لطف الرحمان کی جانب سے دائر کی گئی،درخواست میں کہا گیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کااستعفیٰ منظور نہیں ہوا ،سہیل آفریدی کاانتخابی عمل غیرآئینی ہے،عدالت سہیل آفریدی کے بطور وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے عمل کو کالعدم قرار دے،

    قبل ازیں پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لطف الرحمان نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا انتخاب غیر قانونی طور پر ہوا ہے، پچھلے وزیراعلیٰ کا استعفیٰ منظور نہیں ہوا، پتا نہیں ان کو کیوں جلدی ہے،گورنر نے علی امین گنڈاپور کو تصدیق کے لیے بلایا ہے، نئے وزیراعلیٰ کے آنے تک پرانا وزیراعلیٰ تو کام کرسکتا ہے،اسپیکر کے کہنے پر ہم نے کاغذات جمع کیے لیکن اجلاس کا بائیکاٹ کیا، گورنر کا خط جب آیا تب ہمیں معلوم ہوا کہ استعفیٰ منظور نہیں ہوا، ہم چاہتے ہیں کہ پچھلے وزیراعلیٰ کا استعفیٰ منظور ہو پھر نیا وزیراعلیٰ منتخب ہو۔

  • نو منتخب وزیر اعلیٰ کی حلف برداری کے لیے درخواست، پی ٹی آئی کو فوری ریلیف نہ مل سکا

    نو منتخب وزیر اعلیٰ کی حلف برداری کے لیے درخواست، پی ٹی آئی کو فوری ریلیف نہ مل سکا

    نو منتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی حلف برداری تقریب کے لیے درخواست کا معاملہ،چیف جسٹس درخواست پر سماعت کرنے کے لیے عدالت میں بیٹھ گئے

    سلمان اکرم راجہ نے درخواست پر دلائل شروع کر دیئے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 8 اکتوبر کو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے استعفیٰ دے دیا تھا،11 اکتوبر کو دوبارہ ایک استعفیٰ بھیجا گیا جو کہ گورنر نے موصول کیا،جب ایک دفعہ آرٹیکل 130 شق 8 کے تحت گورنر کو استعفیٰ موصول ہو گیا تو وزیر اعلیٰ مستعفی تصور ہوگا، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آج آپ کو حلف برداری کے معاملے میں قانونی حیثیت میں سنیں گے، آپ نے اپنی درخواست میں آرٹیکل 255 کا ذکر کیا ہے،کیا آپ چیف جسٹس کے اختیارات کا استعمال کرنا چاہتے ہیں؟سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ چیف جسٹس کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ حلف برداری کے لیے کسی کو نامزد کریں،آج اپوزیشن لیڈر نے اسمبلی سیشن میں اعتراض اٹھایا کہ وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ منظور نہیں ہوا،گورنر نے ٹویٹ کرکے مانا کہ استعفیٰ ان کو موصول ہو چکا ہے،جب استعفیٰ پہنچ گیا تب اس میں کوئی اور بات نہیں رہی، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ کیا گورنر نے استعفی منظور کیا ہے؟گورنر ہاؤس نے کوئی رسید دی تھی؟ کیا آپ اب گورنر کی غیر موجودگی میں حلف برداری کے لیے نامزدگی چاہتے ہیں؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ استعفی ابھی منظور نہیں ہوا، جب استعفی پُہنچ گیا تو ابہام والی بات نہیں،

    چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اس درخواست کو جوڈیشل نہیں ایڈمنسٹریٹو سائیڈ پر دیکھ رہے ہیں۔ کیا اسپیکر نے سمری بھیج دی ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جی اسپیکر نے آج سمری بھیج دی ہے۔عدالت کو اختیار ہے کہ وہ کسی کو حلف کے لیے نامزد کرسکتی ہے۔چیف جسٹس نے سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی.

    نو منتخب وزیر اعلیٰ کی حلف برداری کے لیے درخواست، پی ٹی آئی کو فوری ریلیف نہ مل سکا، پشاور ہائیکورٹ نے کل تک جواب طلب کرلیا،چیف جسٹس نے کل صبح تک گورنر صاحب کو وقت دیا ہے کہ وہ اپنی وجوہات پیش کریں کہ کیوں وہ حلف نہیں لینا چاہتے

    قبل ازیں پی ٹی آئی نے نومنتخب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی حلف برداری کےلیے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کر فیصلہ کر لیا۔پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی، ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا ہے کہ گورنر پشاور میں موجود نہیں اور گورنر کی غیر موجودگی میں چیف جسٹس کے پاس اختیار ہے کہ حلف برداری کے لیے کسی کو نامزد کریں،

    پشاور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی منتخب ہوچکے ہیں، گورنر کو صوبے میں موجود ہونا چاہئے تھا، وزیراعلیٰ سے حلف لیناضروری ہے،اس میں تاخیرنہیں کی جاسکتی۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ چیف جسٹس پشاورہائی کورٹ کو درخواست دے رہے ہیں، خط چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کو چیمبرمیں دیں گے۔ آئین نے چیف جسٹس کواختیار دیا ہے کہ گورنر موجود نہ ہوتو وہ کسی کو بھی حلف کے لیے نامزد کرسکتے ہیں، چیف جسٹس سے درخواست کرتے ہیں معاملہ آج ہی حل کریں، حکومت کے بغیرصوبہ نہیں چل سکتا.

  • نام کے ساتھ زرداری اور بھٹو لکھنے سے کوئی بڑا لیڈر نہیں بن جاتا،نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

    نام کے ساتھ زرداری اور بھٹو لکھنے سے کوئی بڑا لیڈر نہیں بن جاتا،نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

    نومنتخب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پرچی سے وزیراعلیٰ نہیں بنا، میں محنت کر کے یہاں پہنچا ہوں۔

    خیبرپختونخوا اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ میں اپنے لیڈر کا شکر گزار ہوں، میرا تعلق قبائلی ضلع سے ہے، میرا تعلق قبائلی اضلاع کے متوسط خاندان سے ہے، میرا نہ والد، نہ بھائی اور نہ رشتہ دار سیاست دان ہیں، میرے نام کے ساتھ نہ زرداری ہے، نہ بھٹو ہے اور نہ شریف ہے، نام کے ساتھ زرداری اور بھٹو لکھنے سے کوئی بڑا لیڈر نہیں بن جاتا،احتجاجی سیاست کا چیمپئن ہوں، میرے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں، نہ گاڑیاں، نہ بنگلہ، نہ پیسے،نہ کرسی کی لالچ، جیسا ہوں، ویسا ہی رہوں گا۔ میرے لیڈر جس وقت کہیں گے اس کرسی کو لات مار دوں گا،میرے نام کا اعلان ہوا تو ایک خاص مائنڈسیٹ نے قبائلیوں کی تضحیک کی، قبائل ہمیشہ پیچھے رہنے کے لیے نہیں، ان کے معدنیات پر قبضہ کرنے کے لیے نہیں، قبائلی میرے وزیراعلی بننے پُرخوش ہیں،لوگوں کو دکھانا ہے کہ کس طرح 8 فروری کو دھاندلی ہوئی تھی، 8 فروری کو جس طرح ہمارے حلقوں پر ڈاکا ڈالا گیا تھا، اس کی انکوائری کروں گا،بانی پی ٹی آئی کو فیملی اور جماعت کی مشاورت کے بغیر ادھر ادھر کیا تو پورا ملک جام کر دیں گے، کوئی یہ نہ سوچے میں اس منصب پر آگیا ہوں تو نظریے سے ہٹ جاؤں گا، یہ بھول ہے۔ میں نے آج سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے اقدامات کرنے شروع کر دیے ہیں،ایکشن ان ایڈ آف سول پاور کو واپس لینے کے لیے کابینہ کے پہلے اجلاس میں اسکو ایجنڈے میں شامل کریں گے،

  • اپوزیشن لیڈرخیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ کے انتخاب کیخلاف عدالت جانے کا اعلان

    اپوزیشن لیڈرخیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ کے انتخاب کیخلاف عدالت جانے کا اعلان

    اپوزیشن لیڈر خیبرپختونختوا اسمبلی ڈاکٹر عباد اللّٰہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن کل وزیراعلیٰ کے انتخاب کے خلاف عدالت جائے گی۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم تو کل تک سمجھ رہے تھے کہ استعفیٰ منظور ہوا، اس لیے امیدواروں نے کاغذات جمع کروائے، وزیراعلیٰ کا انتخاب غیرآئینی ہے، ان کے وکیل کہہ رہے ہیں یہ ٹھیک ہے، ہم کہہ رہے ہیں یہ غلط ہے، ہم سمجھ رہے تھے کہ استعفیٰ منظور ہو گیا اس لیے امیدوار لائے۔

    واضح رہے کہ محمد سہیل آفریدی خبیرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے جبکہ اپوزیشن نے اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت ہوا جس میں سہیل آفریدی کو 90 اراکین صوبائی اسمبلی نے منتخب کیا۔

  • خیبر میں افواج پاکستان کے حق میں ریلی ، افغان طالبان فورسز کیخلاف  شدید نعرے بازی

    خیبر میں افواج پاکستان کے حق میں ریلی ، افغان طالبان فورسز کیخلاف شدید نعرے بازی

    پاک افغان سرحد پرافغانستان کی بلا اشتعال جارحیت کیخلاف قوم نے افواج پاکستان کیساتھ بھر پور اظہار یکجہتی کیا ہے

    خیبر میں افواج پاکستان کے حق میں ریلی ، افغان طالبان فورسز کیخلاف شدید نعرے بازی کی گئی، شہریوں کا کہنا تھا کہ افغانیوں کو دل میں جگہ دی مگر یہ نمک حرام ہیں جو مسلمان بھائیوں پر حملہ کرتے ہیں ،ہم نے انہیں بھائی چارہ اور محبت دی لیکن یہ کبھی پاکستان زندہ باد نہیں کہیں گے ، یہ غدار اور بے ایمان لوگ ہیں ، ہم نے انہیں بچوں اور بہن بھائیوں کی طرح پالا ہے،ہمارے ملک میں جو دہشتگردی ہو رہی ہے اُسکی وجہ یہی لوگ ہیں، یہ مودی اور بھارتی حکومت کی خوشنودی کیلئے ہماری چیک پوسٹوں پر حملہ کر رہے ہیں،افغانستان خوارج اور دہشتگردوں کا مرکز ہے، یہ اپنے مسلمان بھائیوں کیساتھ دہشتگردانہ رویہ رکھتے ہیں،آج افغان پوسٹوں پر پاکستان کا پرچم لہرا رہا ہے،ہم پاک فوج کے ساتھ ہر محاذ پر کھڑے رہیں گے ، پاک فوج کا عزم ہے کہ ان تمام عناصر کو ختم کر دیں گے جو پاکستان کے امن کو خراب کرتے ہیں ، افغانستان ہمارے دشمن بھارت کیساتھ کھڑا نہ ہو، انڈیا ہمارا دشمن ہے اور پاک فوج اس کی ہر چال سے باخبر ہے پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اوراگر جنگ ہو گی تو شانہ بشانہ لڑیں گے،

  • خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس،سہیل آفریدی نئے وزیراعلیٰ منتخب

    خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے اسمبلی کا اجلاس جاری ہے۔

    خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت شروع ہو گیا ہے، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا عمران خان نے جس روز کہا اسی روز اپنے لیڈر کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے استعفیٰ دیدیا، جمہوری عمل کا مذاق نہ بنایا جائے، جو کچھ ہوتا رہا ہے اسے مزید برداشت نہیں کریں گے، 19 ماہ میں جو کچھ کیا وہ سب ریکارڈ پر ہے، جب ہمیں حکومت ملی تو صرف 18 روز کی تنخواہ تھی آج صوبائی خزانے میں 218 ارب روپے موجود ہیں، مجھ سے اپوزیشن کو گلہ ہوگا کہ میں نے انہیں فنڈز نہیں دیے لیکن عوام خوش ہیں کیونکہ میں نے پیسہ عوام پر لگایا۔

    اپوزیشن لیڈر کے پی ڈاکٹر عباد اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ تاحال منظور نہیں ہوا، ایک وزیر اعلیٰ کے ہوتے ہوئے دوسرے وزیر اعلیٰ کا انتخاب نہیں ہو سکتا، گورنر نے علی امین گنڈا پور کو بلایا ہے تاکہ جو ابہام ہے وہ دور ہو جائے، ہمارے دوستوں کو اتنی کیا جلدی ہے، ان کے پاس نمبرز پورے ہیں تو کیوں اس معاملے کو متنازع بنا رہے ہیں، یہ عمل غیر قانونی ہے ہم اس غیر قانونی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    اسپیکر کے پی اسمبلی بابر سلیم سواتی نے اپوزیشن لیڈر کے خطاب کے بعد کہا کہ علی امین گنڈا پور نے دو بار استعفیٰ گورنر کو بھیجا اور آج ایوان میں بھی استعفے کا اعلان کیا، چند لوگوں کی خواہش ہے کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ نہ بنیں، لیکن آئین لوگوں کی خواہشات پر نہیں چل سکتا، آئین کے مطابق چلیں گے،بابر سلیم سواتی نے اس حوالے سے رولنگ پڑھتے ہوئے کہا کہ نئے قائد ایوان کا طریقہ کار آئین کے مطابق ہوگا

    اسپیکر خیبرپختونخواہ اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کہا کہ میں رولنگ دیتا ہوں کہ علی امین گنڈا پور نے پہلے 8 اور پھر 11 تاریخ کو آرٹیکل 130-8 کے تحت وزرات اعلی کے عہدے سے استعفی دیتے ہوئے اپنے دستخط کے ساتھ تحریری طور گورنر کو کو بھجوایا، ایوان میں کھڑے ہوکر استعفے کی تصدیق کی، آئین اور عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کے تحت گورنر استعفے پر اعتراض لگا کر مسترد نہیں کرسکتا، میں اسمبلی کے نگہبان ہونے کے ناطے نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کرانا میری ذمہ داری ہے، لہٰذا آج بروز ۱۳ اکتوبر ۲۰۲۵ وزرات اعلیٰ کا انتخاب آئینی اور اسمبلی طریقہ کار کے عین مطابق ہے،

    اسپیکر کے پی اسمبلی نے نئے قائد ایوان کو منتخب کرنے کا طریقہ بتایا جس کے بعد اسمبلی میں ووٹنگ ہوئی اور پھر 90 ایم پی ایز نے سہیل آفریدی کو نیا قائد ایوان منتخب کیا۔

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں کل ارکان کی تعداد 145 ہے جس میں سے حکومتی ارکان کی تعداد 93 اور اپوزیشن کے 52 ارکان ہیں۔ قائد ایوان منتخب ہونے کے لیے 73 ووٹ درکار تھے۔

    قبل ازیں اپوزیشن لیڈر عباد اللہ کی تقریر کے دوران اسمبلی کی گیلری سے شور شرابہ ہونے پر اسپیکر بابر سلیم سواتی نے گیلری میں موجود لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اگر آپ لوگ خاموش نہیں ہوں گے تو میں اجلاس کی کارروائی رکوا کر آپ لوگوں کو باہر نکالنے پر مجبور ہوں گا۔

    نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے 4 امیدوار میدان میں تھے، پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کو وزارت اعلیٰ کے لیے نامزد کیا تھا جبکہ جے یو آئی ایف نے مولانا لطف الرحمان کو وزارت اعلیٰ کے لیے نامزد کیاتھا۔مسلم لیگ ن کی جانب سے سردار شاہ جہاں یوسف جبکہ ارباب زرک خان پیپلزپارٹی کی طرف سے وزارت اعلیٰ کے نامزد امید وار تھے،خیبر پختونخوا اسمبلی میں کل ارکان کی تعداد 145 ہے جس میں سے حکومتی ارکان کی تعداد 93 اور اپوزیشن کے 52 ارکان ہیں۔قائد ایوان منتخب ہونے کے لیے 73 ووٹ درکار تھے.

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے اپنے امیدواروں سے حلف لے لیے ہیں اور گزشتہ روز صدر پی ٹی آئی کے پی جنید اکبر نے واضح طور پر کہا تھا کہ جو بھی بانی پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار سے غداری کرے گا صوبے کی عوام اس کا گھر سے نکلنا مشکل بنا دے گی اور اس پر زمین تنگ کر دی جائے گی۔علی امیں صاحب نے اسمبلی کے فلور پر اپنی استعفی کا اعلان کیا اب مذید گسی بہانے کی گنجائش نہیں جو لوگ سمجھ رہے تھے کہ تحریک انصاف میں گروپ بندی ہوجائے گی وہ ناکام ہوگئے علی امین صاحب نے اج بھی کہا کہ میں خان صاحب کے ساتھ کھڑا ہوں اور خان صاحب کی رہائی کیلئے پہلے سے ذیادہ جدوجہد کرتارہونگا۔