Baaghi TV

Category: پشاور

  • وزیراعلیٰ کا کوئی آفیشل استعفیٰ موصول نہیں ہوا،  گورنر خیبر پختونخواہ

    وزیراعلیٰ کا کوئی آفیشل استعفیٰ موصول نہیں ہوا، گورنر خیبر پختونخواہ

    گورنر خیبر پختونخواہ فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ان کے پاس وزیراعلیٰ کا کوئی آفیشل استعفیٰ نہیں پہنچا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ جب بھی وزیراعلیٰ کا استعفیٰ موصول ہوگا تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملٹری سیکرٹری کو استعفیٰ ملنے کی خبریں بے بنیاد اور فیک نیوز ہیں۔فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے وزیراعلیٰ کے امیدوار کا اعلان اپوزیشن لیڈر ہی کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پوری پی ٹی آئی یومِ نجات منا رہی ہے۔

    سینیٹ میں ہنگامہ آرائی: پی ٹی آئی کا قائم مقام چیئرمین کے استعفے کا مطالبہ

  • گنڈا پور کا استعفیٰ، اپوزیشن متحرک، نیا وزیراعلیٰ لانے کی تیاریاں تیز

    گنڈا پور کا استعفیٰ، اپوزیشن متحرک، نیا وزیراعلیٰ لانے کی تیاریاں تیز

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے استعفے کے بعد صوبے میں سیاسی منظرنامہ تیزی سے بدلنے لگا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے سرگرم مشاورت شروع کر دی ہے اور اراکین اسمبلی کو پشاور میں قیام کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور کے مستعفی ہونے کے فوراً بعد اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے رابطے تیز کر دیے ہیں اور مشترکہ حکمتِ عملی کے لیے اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کے بعد اراکین اسمبلی کو اعتماد میں لیا جائے گا، جبکہ نئے وزیراعلیٰ کے لیے متفقہ امیدوار کے نام پر مشاورت جاری ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی پشاور میں موجود ہیں اور اپوزیشن قیادت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ ان کی قیادت میں اپوزیشن جماعتیں وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے مشترکہ امیدوار لانے پر متفق ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    دوسری جانب وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و نشریات اختیار ولی خان نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں تصدیق کی کہ خیبرپختونخوا کی صورتحال پر متحدہ اپوزیشن میں تفصیلی مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں وزیراعلیٰ کے لیے مشترکہ امیدوار میدان میں اتارنے پر متفق ہیں تاکہ صوبے میں سیاسی استحکام پیدا کیا جا سکے۔ادھر پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کے جنرل سیکرٹری ملک حبیب نور اورکزئی نے بھی گفتگو میں تصدیق کی کہ ان کی جماعت اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسمبلی میں اکثریت حاصل ہو گئی تو جے یو آئی (ف) کے امیدوار کو وزیراعلیٰ کے طور پر سامنے لایا جا سکتا ہے۔ پارٹی آزاد اراکین سے بھی رابطے میں ہے تاکہ اپوزیشن کے متفقہ امیدوار کو کامیابی دلانے کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل کی جا سکے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق علی امین گنڈاپور کے استعفے کے بعد خیبرپختونخوا میں ایک نئی سیاسی صف بندی کا آغاز ہو گیا ہے، جہاں اپوزیشن جماعتیں برسراقتدار آنے کے لیے متحد ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ آئندہ چند دنوں میں صوبائی سیاست میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔

  • نیب کی کاروائی، 40 ارب روپے مالیاتی اسکینڈل میں ملوث سابق ڈمپر ڈرائیور کو گرفتار

    نیب کی کاروائی، 40 ارب روپے مالیاتی اسکینڈل میں ملوث سابق ڈمپر ڈرائیور کو گرفتار

    نیب نے 40 ارب روپے کے بڑے مالیاتی اسکینڈل میں ملوث ایک سابق ڈمپر ڈرائیور کو گرفتار کر لیا ہے، جس پر جعلی کمپنی کے ذریعے سرکاری خزانے سے براہ راست 3 ارب روپے سے زائد کی رقم وصول کرنے اور مختلف بینکوں میں اپنے اکاؤنٹس کے ذریعے 16 ارب روپے سے زائد کی ٹرانزیکشنز کرنے کے الزامات ہیں۔

    نجی ٹی وی کے مطابق نیب حکام کے مطابق ملزم کی گرفتاری تاریخی اسکینڈل کی تحقیقات میں ایک بڑی پیشرفت ہے، تفتیش سے مزید ملزمان کے نام سامنے آئیں گے،گرفتار ملزم جو ایم/ایس ممتاز خان کنسٹرکشن کمپنی کے نام سے جعلی کمپنی کا مالک اور ڈائریکٹر تھا اسے نیب خیبر پختونخوا نے ایبٹ آباد سے گرفتار کیا، بعد ازاں اسے پشاور کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے نیب کو 8 روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا تاکہ مزید تفتیش اور شواہد کی برآمدگی ممکن ہو سکے۔

    نیب کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم ماضی میں ایک عام ڈمپر ڈرائیور تھا، تاہم اس نے دیگر شریک ملزمان کے ساتھ مل کر جعلی کمپنی قائم کی جس کے ذریعے سرکاری خزانے سے خطیر رقم خرد برد کی گئی،یہ رقم مبینہ طور پر ٹھیکیداروں کے سکیورٹی ڈپازٹ ہیڈ آف اکاؤنٹ (G-10113) سے نکالی گئی، جو دراصل سرکاری منصوبوں کی تکمیل کے لیے ضمانتی رقم کے طور پر رکھی جاتی ہے،تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ جعلی کمپنی اور اس کے بینک اکاؤنٹس خرد برد شدہ رقوم کی منتقلی کے مرکزی ذرائع کے طور پر استعمال ہوئے۔

  • کوئی قانونی یا آئینی نقطہ مبہم ہوا تو استعفیٰ واپس بھی کیا جا سکتا ہے۔گورنر خیبر پختونخوا

    کوئی قانونی یا آئینی نقطہ مبہم ہوا تو استعفیٰ واپس بھی کیا جا سکتا ہے۔گورنر خیبر پختونخوا

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے علی امین گنڈا پور کے بطور وزیراعلیٰ استعفے پر شاعرانہ تبصرہ کیا ہے

    نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعلیٰ کےپی علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ اب تک موصول نہیں ہوا، استعفیٰ دیکھ کر پتہ چلےگا کہ مستعفی ہونے کی کیا وجہ ہے، کوئی قانونی یا آئینی نقطہ مبہم ہوا تو استعفیٰ واپس بھی کیا جا سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز علی امین گنڈاپور نے اپنا استعفیٰ دستخط کرکے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو بھجوایا تھا

    گورنرکے پی فیصل کریم کنڈی نے صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال پر شاعرانہ تبصرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا.
    کیوں اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
    اس طرح تو ہوتا ہےاس طرح کےکاموں میں

    علاوہ ازیں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہےکہ علی امین گنڈاپور میر جعفر اور میر صادق کا کردار ادا کررہے تھے،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے صوبائی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرعباد اللہ نے ملاقات کی جس دوران صوبے کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال اورمشاورت کی گئی،اس موقع پر گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نالائق اور کرپٹ تھے، وہ میر جعفر اور میر صادق کا کردار ادا کررہے تھے، کبھی کہتے تھے ریاست کے ساتھ ہیں ، کبھی کہتے تھے دہشتگردوں کے ساتھ ہیں، نئے نامزد وزیر اعلیٰ بھی اتنے قابل نہیں لہٰذا صوبہ ان کا متحمل نہیں ہوسکتا.

  • علی امین گنڈاپور مستعفی،استعفے پر دستخط کر کے گورنر کو ارسال کر دیا

    علی امین گنڈاپور مستعفی،استعفے پر دستخط کر کے گورنر کو ارسال کر دیا

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اپنے استعفے پر دستخط کر کے گورنر کو ارسال کر دیا ہے۔

    علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جب انہوں نے وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالا تو صوبے کو سنگین معاشی اور امن و امان کے مسائل درپیش تھے، تاہم پارٹی قیادت کے اعتماد اور ڈیڑھ سال کی محنت سے معاشی بحرانوں پر قابو پا لیا گیا۔ انہوں نے کابینہ ممبران اور اپوزیشن ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتہائی مخلصانہ انداز میں صوبے کے لیے کام کیا۔آج سوشل میڈیا پر یہ اطلاعات زیر گردش تھیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے علی امین گنڈاپور کو وزارتِ اعلیٰ کے منصب سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے، اور سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلیٰ نامزد کیا جا رہا ہے۔

    بعدازاں، تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس تبدیلی کی تصدیق کر دی۔ انہوں نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور کی جگہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ کے امیدوار کے طور پر پیش کیا جائے گا۔سلمان اکرم راجا کے مطابق علی امین گنڈاپور نے علیمہ خان پر سنگین الزامات لگائے تھے اور انہیں پارٹی میں تقسیم کا ذمہ دار قرار دیا تھا، جس کے بعد قیادت نے وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا فیصلہ کیا۔

    یوں خیبرپختونخوا میں سیاسی ہلچل بڑھ گئی ہے اور سہیل آفریدی کے نئے وزیراعلیٰ بننے کے امکانات واضح ہو گئے ہیں۔

    لاس اینجلس آگ: ملزم 9 ماہ بعد گرفتار، چیٹ جی پی ٹی سے طریقہ پوچھنے کا انکشاف

    صدر زرداری سےن لیگ وفد کی ملاقات، لفظی محاذ آرائی ختم کرنے پر اتفاق

    سعودی کاروباری وفد کا پاکستان مٰیں سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کے فروغ پر زور

    اسرائیل اور حماس میں آج جنگ بندی ممکن ہے، ترک وزیرِ خارجہ

  • خیبرپختونخوا، گنڈاپور مستعفی،اپوزیشن متحرک، اجلاس طلب

    خیبرپختونخوا، گنڈاپور مستعفی،اپوزیشن متحرک، اجلاس طلب

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے مستعفی ہونے اور سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلیٰ نامزد کرنے کے بعد صوبے میں سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے۔

    قائد حزبِ اختلاف ڈاکٹر عباد اللہ متحرک ہوگئے ہیں اور انہوں نے کل پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر کے ترجمان کے مطابق اجلاس میں وزیراعلیٰ کے استعفے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ کی حکمتِ عملی پر غور کیا جائے گا۔ اپوزیشن اراکین کو تجاویز پیش کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے آج وزیراعلیٰ کی تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ علی امین گنڈاپور کی جگہ سہیل آفریدی امیدوار ہوں گے۔

    انہوں نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ علی امین گنڈاپور نے علیمہ خان پر سنگین الزامات عائد کیے تھے اور پارٹی میں تقسیم کا ذمہ دار بھی انہیں قرار دیا تھا۔

    منڈی بہاؤالدین: پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائی، بیمار و مردار جانوروں کا 500 کلوگرام گوشت برآمد

    چکلالہ گیریژن میں لیفٹیننٹ کرنل جنید طارق اور میجر طیب راحت کی نمازِ جنازہ ادا

  • صوبے میں بدامنی کا ادراک اگر خود پی ٹی آئی نے کیا  تو اچھی بات ہے،مولانا فضل الرحمان

    صوبے میں بدامنی کا ادراک اگر خود پی ٹی آئی نے کیا تو اچھی بات ہے،مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ پی ٹی آئی کے دوست آئینی ترمیم سے کیسے پیچھے ہٹ گئے؟

    پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 16 اکتوبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں مفتی محمود کانفرنس منعقد ہوگی، غزہ میں 70 ہزار بے گناہ لوگ شہید ہوچکے ہیں، امن مارچ کے ساتھ اسرائیل مردہ باد بھی مارچ کا حصہ ہوگا، ہمیں حقیقت پسندانہ بات چیت کرنی چاہیے،پی ٹی آئی 26 آئینی ترمیم سے قبل آخری نشستوں تک ہمارے ساتھ تھی، پوائنٹ اسکورنگ نہ کرے،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی تبدیلی کی خبروں پر ابھی کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا ،صوبے میں بے امنی اور کرپشن انتہا پر ہے ،صوبے میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے فیصلے سے صورتحال کو دیکھ کر اسمبلی میں فیصلہ کریں گے، صوبے میں بدامنی کا ادراک اگر خود پی ٹی آئی نے کیا ہے تو اچھی بات ہے

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ کہ 26 ویں آئینی ترمیم کےخلاف لوگ عدالت گئےہیں، یہ ہرپاکستانی کا حق ہے، پی ٹی آئی 26 آئینی ترمیم سے قبل آخری نشستوں تک ہمارے ساتھ شریک تھی، ہم سنجیدہ سیاسی لوگ ہیں ،ہمیشہ حقیقت پسندانہ بات کرنی چاہیے، پی ٹی آئی والے کیسےفریق بنےجو یہ کہہ کرکہ ہم توججوں سےیکجہتی کیلئےآئے ہیں، 26 ویں آئینی ترمیم میں ہم نے کافی شقیں ختم کیں اور کچھ شامل کیں، کے پی اور بلوچستان میں ہمارا مینڈیٹ چوری ہوا ہے، موجودہ صورتحال پرنظرہے،

  • بنوں میں دہشتگردوں کے حملے، 2 اساتذہ اور بی آئی ایس پی کے 2 اہلکار اغوا

    بنوں میں دہشتگردوں کے حملے، 2 اساتذہ اور بی آئی ایس پی کے 2 اہلکار اغوا

    خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں مختلف مقامات سے چار سرکاری ملازموں کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا، جن میں دو ہائی اسکول کے اساتذہ اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے دو کارکن شامل ہیں۔

    پولیس کے مطابق پہلا واقعہ ہوید پولیس اسٹیشن کی حدود میں پیش آیا، جہاں گورنمنٹ ہائی اسکول موسیٰ خان کے ہیڈ ماسٹر اور ایک سینئر ٹیچر کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا۔ بنوں پولیس کے ترجمان کاشف نواز نے بتایا کہ دونوں اساتذہ کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اسکول سے واپس جا رہے تھے۔ مغویوں کی بازیابی کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ضلع پولیس افسر (ڈی پی او) بنوں سلیم عباس کلاچی نے ڈان ڈاٹ کام سے گفتگو میں کہا کہ ہوید پولیس اسٹیشن پہلے بھی دہشت گردوں کے متعدد حملوں کی زد میں رہا ہے اور اس علاقے کو حساس قرار دیا جاتا ہے۔

    ڈی پی او کے مطابق دوسرا واقعہ اس وقت پیش آیا جب 15 سے 20 دہشت گردوں کے گروپ نے بی آئی ایس پی کے ادائیگی مرکز پر حملہ کیا اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر صفی اللہ اور سپر وائزر شاہ خالد کو اغوا کر لیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ دہشت گرد متاثرین سے رقم بھی لوٹ کر لے گئے تاہم اس کی مقدار کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

    مصر مذاکرات، حماس کے اسرائیل سے مستقل جنگ بندی اور انخلا کے مطالبات

    نیشنل پریس کلب حملہ،جوائنٹ کمیٹی کا چارٹر آف ڈیمانڈ وزارت داخلہ کے حوالے

  • میر علی،انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد

    میر علی،انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد

    میرعلی کے نزدیک سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا گیا جس میں ایک مشکوک ٹرالی کو روک کر اس سے بڑی مقدار میں ہتھیار، گولہ بارود اور دھماکہ خیز سامان برآمد کر لیا گیا۔

    حکام کے مطابق کارروائی قابلِ عمل خفیہ معلومات پر مبنی تھی اور فورسزنے حدِ ہدف کو محاصرہ کر کے فوری کارروائی انجام دی، جس کے نتیجے میں ٹرالی کو مزید منتقل ہونے سے قبل ہی قابو کر لیا گیا۔آپریشن کے دوران ای او ڈی (Explosive Ordnance Disposal — بم و دھماکہ خیز اشیاء سے نمٹنے والی ٹیم) نے موقع پر موجود متعدد چیزیں محفوظ انداز میں ڈسپوز کیں۔ ڈسپوز کی جانے والی اشیاء کی فہرست درج ذیل ہے

    16 آر پی جی (RPG) گولے
    3 روسی قسم کے ہائی ایکسپلوسیو (HE) گرینیڈ
    7 دیگر HE گرینیڈ
    1 اینٹی پرسنل مائن (APM)
    3 تیار شدہ IEDs (بارود سے بنے دھماکہ خیز آلات)
    20 کلو گرام دھماکہ خیز مواد
    5 راؤنڈز 81 ملی میٹر مورٹر گولہ بارود
    15 شاٹ گن راؤنڈز (12 گیج)
    23 آر پی جی-7 کے بوسٹر چارجز
    6 IED فیوزز

    مزید تحقیقات اور عدالتی جانچ پڑتال کے لیے مندرجہ ذیل اشیاء ضبط کر کے لیبارٹری تک بھیج دی گئی ہیں
    3 آر پی جی-7 لانچرز
    1 بھاری مشین گن (زارکائی) کا بیرل
    1 12.7 ملی میٹر بندوق کا زنگ آلود جسمانی حصہ
    2 اضافی بھاری مشین گن کے بیرلز
    1 سب مشین گن کے تحت لگایا جانے والا گرینیڈ لانچر (UBGL) کِٹ
    1 راکٹ لانچر باڈی (نوعیت نامعلوم)
    1 ٹرائی پوڈ ماؤنٹ

    گولہ بارود کی تفصیلی مقدار (جو بعد ازاں فورنزک استعمال کے لیے رکھی گئی):
    1,445 راؤنڈز 12.7 ملی میٹر (AAMG) کی گولیاں
    30,400 راؤنڈز زارکائی کالیبر ہتھیاروں کے لیے
    2,240 راؤنڈز 14.5 ملی میٹر ایچ ایم جی (HMG) گولیاں
    190 پستول راؤنڈز

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایک ممکنہ بڑے حملے کو ناکام بنانے کی کوشش میں سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ موقع پر پہنچنے والی ای او ڈی ٹیم نے شواہد کی حفاظت اور ابتدائی تفتیش کے بعد اشیاء کا معائنہ کیا، جبکہ تفتیشی ٹیمیں برآمد شدہ اشیاء کی ماخذ، ممکنہ کارپوریٹرز اور ان کے نیٹ ورک کی شناخت کے لیے مزید تفتیش کر رہی ہیں۔علاقائی سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو عارضی طور پر سیل کر رکھا تھا اور اس بات کی تصدیق کی جارہی ہے کہ اس واقعے میں عام شہریوں یا فورسز کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا

  • پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج

    پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج

    تحریک انصاف کی خاتون رہنما صنم جاوید کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے یہ مقدمہ تھانہ شرقی پشاور میں صنم جاوید کی قریبی دوست خاتون وکیل کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

    درج ایف آئی آر کے متن کے مطابق، صنم جاوید کو پشاور کی ایک مصروف شاہراہ پر اس وقت روکا گیا جب وہ اپنی گاڑی میں سفر کر رہی تھیں۔ عینی شاہدین کے مطابق، نامعلوم پانچ افراد نے ان کی گاڑی کو زبردستی روکا، انہیں گاڑی سے نکالا اور ایک دوسری گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔مدعیہ نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں، سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کی جائیں، اور ملوث افراد کی شناخت و گرفتاری کو یقینی بنایا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔