Baaghi TV

Category: پشاور

  • پاک فوج کی جانب سے ضلع باجوڑ  میں جامع مسجد کی تعمیر و تزئین مکمل

    پاک فوج کی جانب سے ضلع باجوڑ میں جامع مسجد کی تعمیر و تزئین مکمل

    پاک فوج کی جانب سے ضلع باجوڑ (سلیمان خیل) میں سب سے بڑی جامع مسجد کی تعمیر و تزئین مکمل، عوام کا اظہارِ تشکر

    ضلع باجوڑ میں سلیمان خیل کی سب سے بڑی جامع مسجد کو دہشتگردوں نے شہید کر دیا تھا، فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا نے مسجد کی دوبارہ مرمت و تزئین مکمل کر لی، مسجد کے اندر قالین، انورٹر، پنکھے اور سولر سسٹم سمیت تمام اشیاء دوبارہ نصب کی گئیں، مسجد کی بحالی کے بعد تمام تر ضروری سہولیات فعال کر دی گئیں،پاک فوج کی جانب سے مسجد کی تعمیر و تزئین مکمل کرنے پر مقامی عوام نے بھرپور اظہارِ تشکر کیا ہے،مقامی عوام کا کہنا ہے کہ یہ مسجد (باجوڑ ) سلیمان خیل کی ایک تاریخی مسجد ہے جو فتنہ الخوارج کے حملہ سے متاثر ہوئی تھی، دہشت گردوں کےحملہ میں مسجد کا سولر سسٹم، دروازے اور کھڑکیاں وغیرہ تباہ جبکہ عمارت کو شدید نقصان ہوا تھا،پاک فوج نے مسجد کی تزئین و آرائش مکمل کی جسکی وجہ سے یہ اب بہتر حالت میں موجود ہے، ہم پاک فوج کے اس اقدام پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں،

  • وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواکے بے بنیاد اور نفرت انگیز بیان پرصوبہ کے عوام کی شدید مذمت

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواکے بے بنیاد اور نفرت انگیز بیان پرصوبہ کے عوام کی شدید مذمت

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواکے بے بنیاد اور نفرت انگیز بیان پرصوبہ کے عوام نے شدید مذمت کی ہے

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواسہیل آفریدی کے بیان کیخلاف شدید ردعمل میں شہریوں کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان نے سرحدوں اور قبائلی علاقوں میں امن و امان کیلئے بہت قربانیاں دی ہیں،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے مساجد کے حوالہ سے نہایت غلط بیان دیا ہے ،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیان کی بھر پور مذمت کرتے ہیں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے بیان سے ملک پر برے اثرات پڑیں گے، پاک فوج کی جانب سے تمام امور پر نہایت اچھے اقدامات کیے جا رہے ہیں، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے اپنی سیاست کیلئے آخری حد پار کر دی ہے، پاک فوج ہمارا مقدس ادارہ ہے جس نے بہت قربانیاں دی ہیں اس کو بدنام کرنا غلط ہے، پاک فوج ہماری سرحدوں کی محافظ ہے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ایسی حرکتوں سے باز رہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے بیانات کا مقصد دشمن بھارت کو خوش کرنا ہے، پاک فوج نے ہمیشہ اپنی عوام کا ساتھ دیا ہے اور بہترین کردار ادا کیا ہے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو چاہیے کہ اپنے صوبہ پر توجہ دے اور ترقی کیلئے اقدامات کرے، اداروں کو نشانہ بنانا مناسب نہیں، پاک فوج نے پورے ملک بالخصوص خیبرپختونخوا کیلئے قربانیاں دی ہیں،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیان کا مقصد پاک فوج کیخلاف نفرت اور انتشارپھیلانا ہے جوکسی بھی محب وطن کو قبول نہیں، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اہم عہدہ کے باوجود چور اور بدعنوان شخص ہے جس کے پاس عزت کیساتھ بیان کرنے کو الفاظ نہیں ہیں،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ہمیشہ پاک فوج کے خلاف سخت اور بے بنیاد باتیں کرتا رہتا ہے،افواج پاکستان اس ملک کی اصل محافظ ہیں جن کے جوان جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں ،

  • 4 افغان شہریوں کی پاکستانی شہریت حاصل کرنے کی کوشش ناکام ،گرفتار

    4 افغان شہریوں کی پاکستانی شہریت حاصل کرنے کی کوشش ناکام ،گرفتار

    ایف آئی اے نے جعلسازی سے پاکستانی شہریت حاصل کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے افغان شہری سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان میں صدیق اللہ، سمیع اللہ، فیاض خان اور یونس خان شامل ہیں، گرفتار ملزم صدیق اللہ افغان شہری ہے، افغان شہری جعلی دستاویزات پر پاکستانی شہریت کی کوشش کر رہا تھا، ملزم یونس خان نے خود کو افغان شہری کے والد کے طور پر پیش کیا، یونس خان نے جعلسازی میں اہم کردار ادا کیا جبکہ ملزم فیاض خان اور سمیع اللہ نے بطور گواہ اور تصدیق کنندگان کا کردار ادا کیا،صدیق اللہ کی پاکستانی شہریت کی غیر قانونی تصدیق کی گئی، تمام ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

  • خوارج نے  ریسکیو ایمبولینس اغوا کر لی، خاتون مریضہ سڑک پر چھوڑ دی

    خوارج نے ریسکیو ایمبولینس اغوا کر لی، خاتون مریضہ سڑک پر چھوڑ دی

    ریسکیو ذرائع نے بتایا ہے کہ شمالی وزیرستان سے بنوں جانے والی ایک ریسکیو ایمبولینس کو راستے میں ایک فیول اسٹیشن پر روک کر خوارج کے مسلح افراد نے اپنے قبضے میں لے لیا۔

    ذرائع کے مطابق ایمبولینس میں سوار خاتون مریضہ کو گاڑی سے اتار کر سڑک پر چھوڑ دیا گیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اغوا شدہ ایمبولینس کو کسی تخریبی کارروائی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔عارضی طبی عملے اور زخمی مریضوں پر حملہ اور طبی گاڑیاں روک کر اغوا کرنا انسانی دشمنی اور جنگی اخلاق کے خلاف ہے، اور اس عمل کو ریسکیو ذرائع نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اس قسم کی حرکت پشتون روایاتِ میزبانی اور عزت کے خلاف ہے ، جنگ یا تصادم میں بھی زخمیوں اور طبی عملے اور ایمبولینس کی حفاظت لازمی سمجھی جاتی ہے

    وفاقی کابینہ سے 27ویں آئینی ترمیم کل منظور ہونے کا امکان، اجلاس طلب

    66 ویں سارک لٹریچر فیسٹیول کا 9 نومبر سے دہلی میں آغاز،پاکستان کو دعوت نہ ملی

  • خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی پنجاب کی طرح مکمل فعال نہیں، آئی جی خیبر پختونخوا

    خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی پنجاب کی طرح مکمل فعال نہیں، آئی جی خیبر پختونخوا

    آئی جی خیبرپختونخوا (کے پی) نے پشاور ہائی کورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا پنجاب کی طرح مکمل فعال اور پروفیشنل نہیں ہے۔

    پشاور ہائی کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کریمنل جسٹس سسٹم میں خامیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، ڈی جی پراسیکیوشن، سیکرٹری فائنانس اور ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جدید دور میں یہ کیسے ممکن ہے کہ پولیس جرائم سے باخبر نہ ہو، آپ کے محکمے میں احتساب کا کیا نظام ہے؟ آئی جی پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس میں سب سے مضبوط احتسابی نظام موجود ہے اور اب تک ہزاروں اہلکاروں کو سزائیں دی جا چکی ہیں،ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے عدالت کو بتایا کہ پشاور میں 458 تفتیشی افسران تعینات ہیں جبکہ مزید 500 کی ضرورت ہے، ایف ایس ایل میں بہتری کے لیے ایک ارب روپے دینے کو تیار ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پشاور شہر کی صورتحال سب کے سامنے ہے، پولیس اور پراسیکیوشن کو سپورٹ فراہم کی جائے۔سماعت کے دوران ڈی جی پراسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا کہ پراسیکیوشن اکیڈمی غیر فعال ہے جسے فعال کرنے کے لیے سکیورٹی اور بجلی کی فراہمی درکار ہے۔ چیف جسٹس نے پراسیکیوشن سے پوسٹنگ و ٹرانسفر پالیسی طلب کرلی۔ سیکریٹری فنانس نے عدالت کو بتایا کہ اس سال 15 ارب روپے کی پروکیورمنٹ ہوگی، کے پی پولیس کی تنخواہیں پنجاب کے برابر کردی گئی ہیں اور شہداء کے لیے خصوصی فنڈ مختص کیا گیا ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ جوڈیشل اکیڈمی پولیس کو اپنے خرچے پر تربیت دینے کو تیار ہے۔ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی جواد قمر نے بتایا کہ پنجاب میں 2016 میں سی ٹی ڈی کیسز میں سزا کی شرح 4 فیصد تھی جو 2019 میں 84 فیصد تک پہنچ گئی، وہاں کے افسران سی ٹی ڈی میں ہی رہتے ہیں، خیبرپختونخوا میں بھی یہی پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ سی ٹی ڈی کے سروس رولز عدالت میں جمع کرائے جائیں تاکہ مؤثر تفتیشی نظام کے لیے رہنما اصول طے کیے جا سکیں۔

    چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری سے پوچھا کہ آپ لوگ پولیس کو سپورٹ کیوں نہیں کر رہے؟ کیا یہ افسران مافیا سے چندہ مانگیں،عدالت نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو تین دن میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

  • کمسن بچی سے زیادتی کرنے والا رشتے دار گرفتار

    کمسن بچی سے زیادتی کرنے والا رشتے دار گرفتار

    قائم مقام ڈی پی او مردان نثار احمد خان کی خصوصی ہدایات پر، ایس پی سٹی شفیع الرحمان کی نگرانی، ڈی ایس پی شیخ ملتون سرکل ارشاد خان اور ایس ایچ او تھانہ شیخ ملتون عرفان خان کی قیادت میں پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مردان بورڈ کے قریب کھیتوں سے زخمی حالت میں ملنے والی کمسن بچی دعا دختر گل نواز (عمر تقریباً 5 تا 6 سال، ساکن مردان خاص) کے کیس میں نامزد ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ملزم حیدر ولد شیراز ساکن مردان خاص، بچی کا قریبی رشتہ دار ہے، جس نے دعا کے ساتھ جنسی زیادتی کی ناکام کوشش کی۔ بچی کی چیخ و پکار پر ملزم نے اسے قتل کرنے کی بھی کوشش کرتے ہوئے چھری سے گلا کاٹ دیا۔ تاہم، پولیس کی بروقت کارروائی اور ڈاکٹروں کی انتھک کوششوں سے معصوم بچی کی جان بچ گئی۔عوام کی بروقت اطلاع اور پولیس کے فوری ردِعمل کے نتیجے میں ملزم کو جلد گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ وقوعہ میں استعمال ہونے والی چھری برآمد کرلی گئی ہے جبکہ دیگر شواہد فرانزک بنیادوں پر جمع کیے جا رہے ہیں۔زخمی بچی اس وقت مردان میڈیکل کمپلیکس میں زیرِ علاج ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔قائم مقام ڈی پی او مردان نثار احمد خان (PSP) نے اسپتال میں بچی کی عیادت کی، اہل خانہ سے ملاقات میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ:

    پولیس ہر پہلو سے شفاف تحقیقات کو مکمل کرے گی، تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے اور انصاف ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

  • محکمہ صحت خیبرپختونخوا میں 60 کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن کا انکشاف

    محکمہ صحت خیبرپختونخوا میں 60 کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن کا انکشاف

    محکمہ صحت خیبرپختونخوا میں بدعنوانی کا ایک اور اسکینڈل سامنے آگیا۔ محکمہ صحت خیبرپختونخوا میں 60 کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق انکوائری رپورٹ میں اعلیٰ افسران پر غیر مجاز ادائیگیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، سابق ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر شوکت علی، ڈاکٹر مبشر احمد اور اکاؤنٹنٹ فضل دیان کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک نجی کمپنی کو جعلی انوائسز پر 7 کروڑ 99 لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی، دائیگی کے بعد مطلوبہ سامان کی فراہمی کا کوئی ثبوت موجود نہیں، گاڑیوں کی جعلی مرمت کے نام پر 6 کروڑ 12 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔انکوائری رپورٹ کے مطابق بینک منافع کی 10 کروڑ 13 لاکھ روپے رقم خزانے میں جمع نہیں کرائی گئی، ٹیکس کٹوتی نہ ہونے سے حکومت کو 5 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا، 30 کروڑ 68 لاکھ روپے بچت کی رقم جی ایف آر رولز کے برعکس واپس نہ کی گئی۔انکوائری کمیٹی نے ذمہ دار افسران کیخلاف سخت محکمانہ کارروائی کی سفارش کردی۔

  • پاک فوج کے زیر اہتمام بنوں ، جانی خیل میں قبائلی جرگہ کا انعقاد

    پاک فوج کے زیر اہتمام بنوں ، جانی خیل میں قبائلی جرگہ کا انعقاد

    پاک فوج نےجانی خیل میں امن و امان کے قیام کیلئے جرگہ کا انعقادکیا،

    پاک فوج اور ضلعی انتظامیہ کے زیرِ انتظام جرگہ میں جانی خیل کے قبائلی عمائدین اور مشران نے بڑی تعداد میں شرکت کی،جنرل آفیسر کمانڈنگ میرانشاہ نے علاقہ میں قیام امن کیلئے قبائلی عمائدین کے کردار کا خیرمقدم کیا،جنرل آفیسر کمانڈنگ میرانشاہ نے کہا کہ "عوام کے تعاون سے علاقہ میں امن و ترقی کا سفر کامیابی سے جاری ہے”جرگے میں جانی خیل قبائل اور نواحی علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال، دہشتگردی کی روک تھام اور فلاحی کاموں پر بات چیت کی گئی،قبائلی رہنماؤں نے امن و امان کے حوالے سے اپنی تجاویز بھی پیش کیں،عمائدین اور جرگہ کے شرکاء نے حکومت، انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کیساتھ بھرپور تعاون کا اعادہ کیا،پاک فوج اور سکیورٹی ادارے ملک سے دہشتگردی کے ناسور کو عوام کے تعاون سے ختم کرنے کے لیے پر عزم ہیں

  • خیبر پختونخوا پولیس کے وسائل ناکافی، فوج کے بغیر دہشت گردی پر قابو ممکن نہیں،آئی جی

    خیبر پختونخوا پولیس کے وسائل ناکافی، فوج کے بغیر دہشت گردی پر قابو ممکن نہیں،آئی جی

    خیبر پختونخوا اسمبلی کی سیکیورٹی سے متعلق گزشتہ روز ہونے والے کمیٹی اجلاس کی اندرونی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق پشاور میں ہونے والے اجلاس میں آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کے پاس وسائل کم ہیں، فوج کی مدد کے بغیر دہشت گردی پر قابو پانا ممکن نہیں۔آئی جی کے مطابق پولیس کی کل تعداد تقریباً 1 لاکھ 30 ہزار ہے، جن میں سے 20 سے 30 فیصد اہلکار اعلیٰ شخصیات کی سیکیورٹی پر مامور ہیں، اس طرح دہشت گردی کے خلاف فعال فورس صرف 80 ہزار کے قریب رہ جاتی ہے۔

    بریفنگ میں آئی جی نے بتایا کہ پولیس کے پاس گاڑیوں اور دفاتر کی شدید کمی ہے، جبکہ سی ٹی ڈی میں اہلکاروں کی تعداد اور استعدادِ کار دونوں ناکافی ہیں۔انہوں نے شکوہ کیا کہ پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے لیے بجٹ انتہائی کم ہے، یہاں تک کہ ایک کلو میٹر رنگ روڈ کی تعمیر پر آنے والے اخراجات سے بھی کم رقم پولیس کو دی جاتی ہے

    ایس پی عدیل اکبر کی بیوہ کے لیے خصوصی مراعات کا اعلان

    کراچی میں بے قابو ٹریلر کی ٹکر سے نوجوان جاں بحق، دوسرا زخمی

    بلوچستان کےضلع پشین میں 15 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ

  • بنوں،جرگے میں قبائلی عمائدین کی امن و امان کے قیام کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی

    بنوں،جرگے میں قبائلی عمائدین کی امن و امان کے قیام کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی

    بنوں ، جانی خیل کے ملک و مشران اور قبائلی عمائدین کا اہم جرگہ ہوا
    پاک فوج اور ضلعی انتظامیہ کے زیرِ انتظام میرانشاہ میں جانی خیل کے ملک و مشران اور قبائلی عمائدین کا اہم جرگہ منعقد ہوا ۔جنرل آفیسر کمانڈنگ میرانشاہ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور علاقے میں امن کے قیام میں قبائلی عمائدین کے کردار کو سراہا ۔جرگے میں جانی خیل اور نواحی علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال، دہشتگردی کی روک تھام اور فلاحی کاموں پر تفصیلی بات چیت ہوئی ۔ قبائلی رہنماؤں نے امن و امان کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں اور ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا ۔جی او سی نے کہا کہ عوام کے تعاون سے علاقے میں امن اور ترقی کا سفر کامیابی سے جاری ہے ۔جرگے کا اختتام قومی یکجہتی اور سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ کیا گیا ۔