Baaghi TV

Category: پشاور

  • خیبرپختونخوا : 24 گھنٹوں میں کورونا سے کتنے افراد جاں بحق ہوگئے ، تشویشناک  ناک اعداد وشمار آگئے

    خیبرپختونخوا : 24 گھنٹوں میں کورونا سے کتنے افراد جاں بحق ہوگئے ، تشویشناک ناک اعداد وشمار آگئے

    باغی ٹی وی :خیبرپختونخوا 24 گھنٹوں میں کورونا سے کتنے افراد جاں بحق ہوگئے ، تشویشناک ناک اعداد وشمار آگئے

    محکمہ صحت.خیبرپختونخوا کے مطابق خیبرپختونخوا میں 24 گھنٹوں میں کورونا سے مزید22 افراد جاں بحق ہوگئے ، صوبہ بھر میں میں کورونا سے جاں بحق افراد کی تعداد 3ہزار156 ہوگئی.خیبرپختونخوا میں 24 گھنٹوں میں کورونا سے مزید584 افراد متاثر .خیبر پختونخوا میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 1 لاکھ14 ہزار 661 ہوگئی.

    خیبرپختونخوا میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے متاثرہ 1109مریض صحت یاب ہو چکے ہیں ،.خیبرپختونخوا میں کورونا سے صحت یاب افراد کی تعداد98 ہزار45 ہوگئی .پشاورمیں 24 گھنٹوں کے دوران 10 افراد کورونا سے انتقال کرگئے .

    ادھر این سی او سی کے اجلاس میں شہروں میں لاک ڈاؤن کی تجویز پر غور کرتے ہوئے کہا گیا کہ ‏وبامیں اضافہ مخصوص شہروں میں طبی سہولیات کی کمی کاباعث بن رہا، لاک ڈاؤن سےمتعلق ‏حتمی فیصلہ فریقین کی مشاورت کےبعدلیاجائےگا۔
    اجلاس میں لاک ڈاؤن کے دوران تجویز کردہ پابندیوں میں بازاروں اور مالز کی بندش جبکہ انٹرسٹی پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی اور تعلیمی اداروں کی مکمل بندش کی تجویز بھی زیر غور آئی۔

    این سی او سی نے کیمبرج امتحانات کے انعقاد کے طریقہ کار پر بھی نظر ثانی کی اور کہا کہ امتحانات وزارت تعلیم کے فیصلے کے مطابق منعقد کئے جا رہے ہیں، ایک امتحانی مرکز میں پچاس سے زیادہ امیدوار نہ بٹھائے جائیں۔ وزارت تعلیم کیمرج امتحانات منعقد کرواتے ہوئے تمام تر حفاظتی تدابیر کے عملدرامد کو یقینی بنائے.

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 40 سے 50سال والےافراد کی رجسٹریشن کا کل سےآغاز ہو گا جب کہ ‏‏60 سال سے زائد عمر افراد کیلئے واک ان ویکسی نیشن کافیصلہ کیا گیا ہے۔

  • فیس بک منیٹائزیشن آن کرنےکیلئےخیبرپختونخوااسمبلی کا اہم قدم

    فیس بک منیٹائزیشن آن کرنےکیلئےخیبرپختونخوااسمبلی کا اہم قدم

    فیس بک منیٹائزیشن آن کرنےکیلئےخیبرپختونخوااسمبلی کا اہم قدم

    باغی ٹی وی :پاکستان میں فیس بک منیٹائزیشن آن کرنےکیلئےخیبرپختونخوااسمبلی میں قراردادمنظور کر لی گئی ، قراردادممبرصوبائی اسمبلی ضیااللہ بنگش نےپیش کی، پاکستان میں فیس بک کے5کروڑصارفین ہیں،دیگرممالک میں فیس بک منیٹائزیشن آن ہے،دیگرممالک میں صارفین فیس بک کے استعمال سے پیسےکمارہےہیں.وفاقی حکومت پاکستان میں فیس بک منیٹائزیشن آن کرنےکیلئےوفاقی حکومت اقدامات اٹھائے،

    اس سے پہلے انہوں نے کہا ہمارے نوجوانوں اور آئی ٹی انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کی جانب سے پاکستان میں فیس بک کی منیٹائزیشن آن کرنے کا مطالبہ کیا گیا جس کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی ہدایت پر فیس بک سے رابطہ کیا۔

    مشیر سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یوٹیوب کی طرح فیس بک بھی پاکستان میں منیٹائزیشن آن کرے تا کہ ہمارے نوجوان اور آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ لوگ فیس بک سے پیسے کما سکیں۔

    انھوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان سوشل میڈیا پر پاکستان کا ایک بہتر امیج پروموٹ کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان فیس بک سے پیسے کما سکیں اور اس جدید دور میں یہ ان کے لیے آمدنی کا زریعہ بنے۔

    ضیاء اللہ بنگش کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے فیس بک کی منیٹائزیشن آن کرنے کے لیے باقاعدہ اقدامات شروع کر دیے انشاءاللہ جلد ہمارے نوجوانوں کو خوشخبری ملے گی، اور فیس بک ہمارے نوجوانوں کے لیے پیسے کمانے کا زریعہ بنے گا۔

    اس اقدام سے پاکستان کے سیاحتی مقامات کی بھی بین الاقوامی سطح پر پروموشن ہو گی اور پاکستان کا ایک بہتر امیج پروموٹ ہو گا جبکہ پاکستان کی معیشت پر بھی مثبت اثر پڑے گا اور بہتر ہو گی

    خیال رہے کہ دیگر شوشل میڈیا جیسے یو ٹیوب وغیر ہ سے پیسے کمانے کا رجحان عام ہوچکا ہے . اس حوالے سے فیس بک پر بھی یہ سہولت ہے لیکن پاکستان میں فیس بک کمپنی نے اس کو محدود کر رکھا ہے .

  • پاکستان میں کورونا سے مزید 70 اموات مثبت کیسز میں بھی اضافہ

    پاکستان میں کورونا سے مزید 70 اموات مثبت کیسز میں بھی اضافہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا سے مزید 70 اموات ہوئی ہیں جبکہ 4 ہزار825 نئے مریض سامنے آئے ہیں، پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 17 ہزار69 ہو گئی ہے جبکہ کرونا مریضوں کی مجموعی تعداد 7 لاکھ 94 ہزار841 ہو گئی ہے جبکہ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریبا 9.61 فی صد رہی۔


    این سی او سی کے مطابق پاکستان میں ایکٹو کیسز کی تعداد89 ہزار219 ہے اور6لاکھ 94 ہزار46 افراد کورونا سے صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    سندھ میں 16 ہزار 983 ،پنجاب میں 19 ہزار 445 ، خبیر پختونخوا میں 7 ہزار 709، اسلام آباد میں 3725، بلوچستان 1 ہزار 36، گلگت بلتستان 333، آزاد جموں کمشیر 975 نئے کیسز سامنے آئے-

    کورونا کے سبب پنجاب میں 7 ہزار990 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 4 ہزار599، خیبر پختونخوا 3 ہزار134، اسلام آباد 665، گلگت بلتستان 105، بلوچستان میں 232 اور آزاد کشمیر میں 462 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    این سی او سی کے مطابق اسلام آباد میں کورونا کیسز کی تعداد 73ہزار750، خیبر پختونخوا ایک لاکھ 140ہزار77، پنجاب2لاکھ 90 ہزار 788، سندھ 2 لاکھ 78 ہزار545، بلوچستان21 ہزار743، آزاد کشمیر16ہزار591 اور گلگت بلتستان میں5 ہزار258 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے پاکستان کے 26 اضلاع ہائی رسک قرار دیئے گئے ہیں۔ پاکستان میں کورونا کی ویکسینیشن جاری ہے اور تیسرے مرحلے میں50تا60 سال کے درمیان عمر والے افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے۔

  • باجوڑمیں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کاروائی ، بھارتی ایجنسی کا منصوبہ ناکام

    باجوڑمیں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کاروائی ، بھارتی ایجنسی کا منصوبہ ناکام

    باجوڑمیں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کاروائی ، بھارتی ایجنسی کا منصوبہ ناکام

    باغی ٹی وی : باجوڑمیں سیکیورٹی فورسز نے بروقت کامیاب کارروائی کرتے ہوئے تخریب کاری کابڑامنصوبہ ناکام بنا دیا . بھاری مقدارمیں اسلحہ اور بارودی موادبرآمد کر لیا . خفیہ ٹھکانوں سے بارودی مواد بھی حاصل کر لیا ، ان ٹھکانوں سے گولے،آئی ای ڈیز،بارودی سرنگ اوراسلحہ برآمد ہوئے .

    ہفتہ کے دن تحصیل ماموند کے علاقے غاخی میں حساس اداروں کی اطلاعات پرایک آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں بارودی مواد، گولے ، آئی ای ڈیز، بارودی سرنگیں اور بھاری اسلحہ برآمد کیا گیا، برآمد شدہ بارودی مواد اور اسلحہ دہشت گردوں نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کی ایما پر باجوڑ اور دیگر علاقوں میں تخریب کاری کے لئے استعمال کرنا تھا۔

  • وفاقی کابینہ میں تبدیلیوں کے بعد صوبائی حکومت کے استعفے آنا شروع ہو گئے،اہم شخصیت کا استعفیٰ آ گیا

    وفاقی کابینہ میں تبدیلیوں کے بعد صوبائی حکومت کے استعفے آنا شروع ہو گئے،اہم شخصیت کا استعفیٰ آ گیا

    وفاقی کابینہ میں تبدیلیوں کے بعد صوبائی حکومت کے استعفے آنا شروع ہو گئے،اہم شخصیت کا استعفیٰ آ گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایک طرف وفاقی کابینہ میں تبدیلیاں تو دوسری جانب استعفے آنا شروع ہو گئے

    وزیراعلٰی خیبرپختونخوا کے مشیر ضیاء اللہ بنگش اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں ضیاء اللہ بنگش نے اپنا استعفی وزیراعلٰی خیبرپختونخوا کو بھیج دیا ہے ، استعفے میں ضیا اللہ بنگش نے تحریر کیا ہے کہ میرے اوپر حلقے کی ذمہ داریاں بہت ہیں اور میں اپنے حلقے پر ذیادہ توجہ دینا چاہتا ہوں۔ وزیراعلٰی خیبرپختونخوا محمود خان کو اپنا استعفی پیش کر دیا ہے،

  • پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 112 اموات،مریضوں میں بھی اضافہ

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 112 اموات،مریضوں میں بھی اضافہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے –

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا سے اموات کا ریکارڈ آج پھر ٹوٹ گیا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 112 افراد انتقال کر گئے –

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز کورونا کے 65 ہزار 279 ٹیسٹ کئے گئے 4 ہزار 976 نئے کیس سامنے آ گئے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریبا 7.62 فی صد رہی۔

    پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 15 ہزار 982 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 7 لاکھ 45 ہزار182 ہو چکی ہے۔

    این سی او سی کے مطابق کورونا کے سبب س پنجاب میں 7 ہزار 271 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 4 ہزار 541، خیبر پختونخوا 2 ہزار796، اسلام آباد 626، گلگت بلتستان 103، بلوچستان میں 222 اور آزاد کشمیر میں 423 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔اسلام آباد میں کورونا کیسز کی تعداد 68 ہزار665، خیبر پختونخو 1 لاکھ 3ہزاراور419، پنجاب 2 لاکھ 61 ہزار173، سندھ 2 لاکھ 70 ہزار963، بلوچستان 20 ہزار662، آزاد کشمیر 15 ہزار137 اور گلگت بلتستان میں 5 ہزار 163 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے پاکستان کے 26 اضلاع ہائی رسک قرار دیئے گئے ہیں۔

    قبل ازیں حکومت کی جانب سے ایس او پیز جاری کی گئی ہیں جس کے مطابق ملک میں کورونا کی تیسری لہر کے پیشِ نظر حکومت کے وضع کردہ ایس او پیز پر سختی سے کاربند رہیں۔ ماسک کا استعمال کریں، بار بار ہاتھوں کو 20 سیکنڈ تک صابن سے دھوئیں۔ گھروں کو ہوادار بنائیں اور بلا ضرورت ہرگز گھر سے باہر نہ نکلیں۔ پُرہجوم جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔

    پنجاب میں ماسک پہننے کو لازمی قرار دِیا گیا ہے ، ماسک نہ پہننے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور جرمانے کے علاوہ چھ ماہ قید بھی ہو سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کا کہن اتھا کہ پنجاب حکومت این سی او سی کی ہدایت پر مکمل عمل کر رہی ہے، صوبے میں کورونا وائرس کی صورتحال خطرناک ہو گئی ہے، گجرات اور گوجرانوالہ کے ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ صوبے بھر میں ماسک پہننا لازمی قرار دیدیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی

  • پشاور میں  پرانی بسوں اور ویگنوں کو سکریپ کرنے کا سلسلہ جاری۔

    پشاور میں پرانی بسوں اور ویگنوں کو سکریپ کرنے کا سلسلہ جاری۔

    پشاور میں چلنے والی پرانی بسوں اور ویگنوں کو مرحلہ وار سکریپ کرنے کا سلسلہ جاری۔

    اب تک مجموعی طور پر 84 سے زائد پرانی گاڑیوں کو سکریپ کیا جاچکا ہے۔ 64 گاڑیوں کو مزید آج سکریپنگ کیلئے بھیجا جارہا ہے۔

    سکریپ شدہ گاڑی مالکان کو طے شدہ ریٹ پر معاوضے کی ادائیگی کردی گئی۔ اب تک 418 گاڑیوں کی رجسٹریشن کی جاچکی ہے۔ پراجیکٹ اپنے 7ویں مرحلے میں ہے۔

  • کابینہ سے نکالے گئے ایک بار پھر کابینہ میں شامل

    کابینہ سے نکالے گئے ایک بار پھر کابینہ میں شامل

    کابینہ سے نکالے گئے ایک بار پھر کابینہ میں شامل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گورنر ہاؤس پشاور میں تقریب حلف برداری منعقد ہوئی، صوبائی وزراء نے حلف لیا

    اراکین صوبائی اسمبلی عاطف خان، شکیل احمد خان، فضل شکور اور فیصل امین گنڈا پور نے صوبائی وزیر کے عہدوں کا حلف اٹھا لیا۔ گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے اراکین صوبائی اسمبلی عاطف خان، شکیل خان، فضل شکور اور فیصل امین گنڈا پور سے صوبائی وزیر کے عہدوں کا حلف لیا۔حلف برداری تقریب میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان بھی موجود تھے۔حلف برداری تقریب میں صوبائی وزراء،اراکین صوبائی اسمبلی، چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز سمیت مختلف محکموں کے انتظامی سربراہان شریک ہوئے۔

    کابینہ سے برطرفی کے بعد عاطف اورشکیل خان دوبارہ کابینہ میں آ گئے، وزیراعظم عمران خان کی منظوری سے علی امین گنڈا پور کے بھائی و دیگرکو محکمے بعد میں دیئے جائیں گے

  • دلیپ کماراورراج کپورکےگھرخریدنے کامعاملہ خیبرپختونخواحکومت نےبڑا فیصلہ کر لیا

    دلیپ کماراورراج کپورکےگھرخریدنے کامعاملہ خیبرپختونخواحکومت نےبڑا فیصلہ کر لیا

    خیبرپختونخوا حکومت نے بھارتی لیجنڈ اداکاروں دلیپ کمار اور راج کپور کے آبائی گھروں کو خریدنے کے لیے قانونی کارروائی کا آغاز کردیا۔

    باغی ٹی وی : خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور کے قصہ خوانی بازار میں موجود بھارتی اداکاروں کے مکانات میوزیم میں بدلنے کا فیصلہ کیاتھا۔محکمہ آرکیالوجی کی جانب سے صوبائی حکومت کو سفارش کی گئی تھی کہ بھارتی اداکاروں دلیپ کمار اور راج کپور کے گھر خستہ حالت اختیار کرچکے ہیں اور لیجنڈری اداکاروں کے یہ گھر قومی ورثہ ہیں اس لیے ان گھروں کو خرید کر اس کی تزئین و آرائش کرکے محفوظ کیا جائے۔

    تاہم خیبر پختونخوا حکومت نے گزشتہ سال دلیپ کمار اور کپور فیملی کے آبائی گھروں کو محفوظ اثاثہ قرار دے کر ان کو حاصل کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا گھروں کے مالکان حکومت کی متعین کردہ قیمت پر راضی نہیں تھے-

    لہذا اب خیبرپختونخوا حکومت نے بھارتی اداکاروں کے گھروں کو خریدنے کے لیے ریاست کے اراضی حصول ایکٹ 1894ء کے تحت سیکشن 6 اور سیکشن 17نافذ کردئیے ہیں جس کے تحت حکومت دونوں گھروں کا قبضہ ہنگامی بنیادوں پر حاصل کرسکتی ہے ۔

    پاکستان کے محکمہ آثار قدیمہ نے پشاور کے قصہ خوانی بازار میں موجود بھارت کے لیجنڈ اداکار دلیپ کمار کے 4 یونٹ (101 اسکوائر میٹر) آبائی گھر کی قیمت 50 ہزار 517 ڈالرز اور راج کپور کی 6 یونٹ (151.75 اسکوائر میٹر) حویلی کی قیمت 94 ہزار 061 ڈالر مقرر کی ہے۔

    دونوں گھروں کے لئے اگلے مرحلے میں سیکشن 9نافذ کرکے مالکان کوسرکاری طورپر مقررکردہ رقم وصول کرنے کی دعوت دی جائے گی تاہم اعتراض کی صورت میں پندرہ روز کے اندر اپیل دائر کرناہوگی بصورت دیگر دونو ں گھروں کے ایوارڈ کا اعلان کرکے حکومت انھیں اپنی تحویل میں لے لے گی مکانات کے مالکان ڈپٹی کمشنر کے فیصلے کو اعلی عدلیہ میں چیلنج کرسکیں گے

    خیال رہے کہ ایک طویل عرصے سے دونوں گھروں کے مالک مکان حکومت کو یہ گھر فروخت کرنے کے لیے راضی نہیں تھے کیونکہ حکومت ان گھروں کی مارکیٹ کے مطابق قیمت ادا کرنے پر راضی نہیں تھی مالک مکانوں کا اعتراض یہ تھا کہ ان کے گھروں کی قیمتیں کم مقرر کی گئی ہیں۔

    دلیپ کمار کے آبائی گھر کے مالک مکان نے اس جائیداد کے لیے 250 ملین کا مطالبہ جب کہ کپور حویلی کے مالک مکان نے 2 بلین (2 ارب روپے) مانگے ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں گھروں کے مالک مکان پراپرٹی کی اہمیت کی وجہ سے غیر معمولی قیمتوں کا مطالبہ کررہے ہیں اور حکومت کو بلیک میل کررہے ہیں۔

  • واقعی تبدیلی آ گئی، گورنر کے لئے 11 کروڑ کی گاڑیاں خریدنے کی سمری ارسال

    واقعی تبدیلی آ گئی، گورنر کے لئے 11 کروڑ کی گاڑیاں خریدنے کی سمری ارسال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خرچے کم کرنے کی دعویدار حکومت کے گورنر کا ایسا کارنامہ سامنے آ گیا کہ یوں لگتا ہے تبدیلی کے غبارے سے واقعی ہوا نکل گئی ہے

    وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے غیر ضروری خرچے، پروٹوکولز کم کرنے کے دعوے کئے تھے، اقتدار میں آنے کے بعد وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیاں بیچی گئی تھی اور انکی نیلامی کی گئی تھی، وزیراعظم کے بیرون ملک دوروں کے خرچوں کا موازنہ پچھلے حکمرانوں سے کیا جاتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کم ترین خرچ کیا

    لیکن دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی ٹیم ایسے کام کر رہی ہے جس سے خزانے پر بوجھ پڑ رہا ہے، مہنگائی میں پسی عوام کو ریلیف دینے کی بجائے کرسیوں پر بیٹھے حکمران وزیراعظم عمران خان کی پالیسی کے برعکس من مانیاں کر رہے ہیں، وزیراعظم عمران خان کے اصولوں اور منشور کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں .

    خیبر پختونخواہ جہاں دوسری بار پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور ایسا پہلی بار ہوا کہ کسی بھی جماعت کو اس صوبے میں دوسری بار حکومت ملی اس صوبے کے گورنر خیبر پختونخوا کو گاڑیوں کی ضرورت پڑ گئی ہے، اس ضمن میں وزیراعلی محمود خان کو ایک سمری بھجوائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گورنر صاحب کے پاس جو گاڑیاں ہیں وہ پرانی ہو چکی ہیں اور 2011 اور 2014 ماڈل ہیں، اب گورنر خیبر پختونخوا کو بی ایم ڈبلیو گاڑیاں چاہئے،گورنر کے پی کے کیلئے تین بلٹ پروف بی ایم ڈبلیو خریدنے کے لئے سمری ارسال کی گئی گاڑیوں کی مالیت 11 کروڑ 51 لاکھ روپے سے زیادہ ہے

    گورنر خیبر پختونخواہ کے اس اقدام سے سوشل میڈیا پر عوامی حلقوں نے شدید تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ عوام کے پیسوں سے اب گاڑیاں تو خرید لی جائیں گی لیکن عوام کو کسی قسم کا ریلیف نہین دیا جائے گا

    دوسری جانب وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی کے لیے کوئی بلٹ پروف گاڑی نہیں خریدی گئی پرانی سمری کو منفی اندا میں پیش کیاجارہاہے،خیبرپختونخوا حکومت نے کفایت شعاری مہم کے تحت اخراجات کم کیے، مزید اخراجات کم کرنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں،