پشاورمحکمہ سیاحت کی جانب سے سال کا ساتواں سرمائی فیسٹیول مالم جبہ میں جاری ہو گیا، فیسٹیول میں سکی کے 120کھلاڑی حصہ لیں رہے ہیں۔
ھوم رن 19 ممالک میں کھیلا جاتا ہے۔ مالم جبہ سکی ریزارٹ پاکستان بھر میں سکی اور دیگر برف پر کھیلی جانے والے کھیلوں کے لئے نہایت موزوں ہے۔
محکمہ سیاحت کی جانب سے سوات کے پر فضا سیاحتی مقام گبین جبہ میں بھی خصوصی تہوار کا اہتمام کیا گیا ہے۔ محکمہ سیاحت کی جانب سے مارچ میں ڈیرہ جات فیسٹیول کا اہتمام کیا گیا ہے۔ سیاحت کو فروغ دینے اور سیاحتی مقامات تک آسان رسائی کے لئے انفراسٹرکچر کو بہتر کیا جا رہا ہے۔
Category: پشاور

خیبر پختونخوا، مالم جبہ کی رونقیں بحال ہو رہی ہیں

ریکروٹمنٹ عمل مزید شفاف بنانے کے لیے ایٹا میں اصلاحاتی ایجنڈے پر کام جاری، معاون اعلیٰ تعلیم کامران بنگش
حکومت خیبرپختونخوا کا میرٹ و شفافیت کی جانب ایک اور اقدام اٹھانے کا فیصلہ، صوبے میں ریکروٹمنٹ عمل ایک ہی ٹیسٹنگ ایجنسی ہے اس کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ معاون اعلیٰ تعلیم کامران بنگش کی زیر صدارت ٹیسٹنگ ایجنسی ایٹا کا جائزہ اجلاس ہوا جس میں ایٹا حکام کی جانب سے مختلف امور و کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔ نیز سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن داود خان سمیت ایٹا کے اہلکاروں نے اجلاس میں شرکت کی۔
معاون اعلیٰ تعلیم کامران بنگش کا کہنا ہے کہ صوبے میں ایک ہی ایجنسی کی تحت ریکروٹمنٹ عمل کنڈکٹ پر کام تیز کر دیا ہے۔ ٹیسٹنگ ایجنسی ایٹا کی استعداد کار بڑھانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ تمام شعبہ جات میں میرٹ و شفافیت کی بالادستی قائم رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ریکروٹمنٹ عمل مزید شفاف بنانے کے لیے ایٹا میں اصلاحاتی ایجنڈے پر کام جاری ہے۔ جلد صوبے میں ایک ہی ٹیسٹنگ ایجنسی کی تحت ریکروٹمنٹ کریں گے۔ ایٹا میں افرادی قوت کی کمی پوری کرنے کے لیے پوزیشنز مشتہر کیے جائیں گے۔ ایٹا نے ستمبر 2020 سے سال کے آخر تک تقریباً دو لاکھ چوبیس ہزار افراد سے ٹیسٹ لیا۔ رواں سال کے جنوری میں ایک لاکھ چالیس ہزاری افراد سے ٹیسٹ لیا گیا۔ کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ عمل پر بھی کام تیز کیا جائے۔ پرائیویٹ ٹیسٹنگ ایجنسیز پر ریکروٹمنٹ کا دارومدار کم کیا جائے۔

وزارت خزانہ نے سرکاری ملازمین کو لالی پاپ دے دیا!!!
تنخواہوں میں اضافہ، حکومت نے ملازمین کو نئی مشکل میں ڈال دیا
وزارت خزانہ نے سرکاری ملازمین کو لالی پاپ دے دیا ہے، یکم مارچ سے گریڈ ایک سے 19 تک کے وفاقی سرکاری ملازمین کو 25 فیصد الاؤنس دینے کا اعلان کردیا مگر یہ الاؤنس صرف ان کو ملے گا جن کی بنیادی تنخواہ میں کبھی بھی 100 فیصد اضافہ نہ ہوا جبکہ ایڈہاک ریلیف اور ٹائم اسکیل گرانٹ پر آئندہ بجٹ میں غور ہوگا۔وفاقی سرکاری ملازمین اور حکومت کے درمیان طے پانیوالے معاہدے کی روشنی میں وزارت خزانہ ملازمین کو ریلیف فراہم کرنے کا اعلان کردیا ہے مگر زیادہ تر مطالبات آئندہ بجٹ میں ماننے کا وعدہ کرلیا ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کو تنخواہوں میں 25 فیصد الاؤنس فراہم کیا جائے گا مگر یہ الاؤنس ان ملازمین کو دیا جائے گا جن کی تنخواہوں میں کبھی 100 فیصد اضافہ نہ ہوا ہو گا۔گریڈ 1 سے 19 تک کے ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں 25 فیصد الاؤنس شامل کیا جائے گا جبکہ امتیازی الاؤنس یکم مارچ سے جاری کیا جائے گا۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخواہ کی طرز پر یکم مارچ سے گریڈ 1 سے 16 کی پوسٹوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا، مگر ٹائم اسکیل گرانٹ پر آئندہ بجٹ میں غور کیا جائے گا۔
یکم جولائی سے ایڈہاک ریلیف کو بنیادی تنخواہ میں شامل کرنے پر غور کیا جائے گا مگر صوبوں کو تنخواہوں میں اضافے کی سفارشات اپنے وسائل سے پورے کرنے کی تجویز دی جائے گی لیکن تنخواہوں میں اضافے کی سمری وفاقی کابینہ میں پیش کی جائے گی۔
پی کے 60 میں بغیر کسی سیاسی تفریق کے سہولیات فراہم کی جائیں، وزیراعلی عارف احمدزئی
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے معدنیات عارف احمدزئی نے یوسف خان قلعہ اور پہلوان قلعہ شبقدر میں نئے تعمیر شدہ سڑک میں پائی جانے والی خامیوں و کمی کو دور کرنے کے سلسلے میں متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دیں۔ اس سلسلے میں معاون خصوصی برائے معدنیات عارف احمدزئی نے جمعہ کو ناگمان میں واقع پختونخوا ہائی وے اتھارٹی کے دفتر کا خصوصی دورہ کیا، جہاں پر ڈائریکٹر پی کے ایچ اے اعجاز کی جانب سے معاون خصوصی کو شبقدر تا ناگمان سڑک کو دو رویہ بنانے کے حوالے سے اعداد و شمار سے آگاہ کرتے ہوئے خصوصی بریفنگ بھی دی گئی۔معاون خصوصی برائے وزیراعلی عارف احمدزئی نے پختونخوا ہائی وے اتھارٹی کے متعلقہ حکام کو شبقدر تا ناگمان دو رویہ سڑک میں پائی جانے والی خامیوں کو جلد از جلد دور کرنے کی ہدایت کی۔ معاون خصوصی عارف احمدزئی نے ریمارکس دیئے کہ شبقدر تا ناگمان روڈ کی اہمیت پہلے سے زیادہ بڑھ چکی ہے پہلوان قلعہ اور یوسف خان قلعہ میں جہاں پر کمی رہ گئی ہے اس کو بروقت دور کیا جائے تاکہ عوام کو یہاں مواصلات کی مد میں سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ شبقدر مستقبل میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان ڈرائی پورٹ کے طور پر استعمال کیا جائے گا جہاں پر سڑکوں کی تعمیر انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔پی کے 60 میں مواصلات کی سہولیات فراہمی بارے میں عارف احمدزئی نے کہا کہ پی کے 60 میں بغیر کسی سیاسی تفریق کے سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ زرعی زمینوں سے منڈی تک عام لوگ اپنے مال کو تیزی اور سہولت کے ساتھ پہنچا سکیں جس سے معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ غربت مکاو پروگرام میں بھی مدد ملے گی۔

امریکی کونسل جنرل نے خیبرپختونخوا حکومت کے یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام کو سراہا
تیمور جھگڑا کا کہنا ہے کہ غریب و متوسط طبقے کو اب علاج کی خاطر اثاثے بیچنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ خیبرپختونخوا میں صحت کارڈ پلس پروگرام کے آغاز کے بعد پیچیدہ امراض کے لاحق ہونے پر علاج کے لیے غریب اور متوسط طبقے کو اثاثے بیچنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ پروگرام صوبے کے غریب عوام کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے ہی شروع کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت گزشتہ دور حکومت میں صوبے کی 30 فیصد آبادی کور کی گئی تھی تاہم اب 100 فیصد آبادی کو ہیلتھ کوریج میسر ہے۔ ان خیالات کا اظہار خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا نے پشاور میں قائمقام امریکی کونسل جنرل جم ایزن ہٹ سے وڈیو لنک پر بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر دو طرفہ باہمی تعاون کو مزید بڑھانے اور فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ امریکی کونسل جنرل نے صوبائی وزیر سے صحت کارڈ پلس پروگرام کے حوالے سے بات چیت کی اور اس منصوبے کی افادیت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ تیمور جھگڑا نے کونسل جنرل کو بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے اس فلیگ شپ منصوبے کے اجراء کے بعد غریب اور متوسط طبقے کو پیچیدہ امراض لاحق ہونے کی صورت میں علاج کے لیے اپنا گھر، گاڑی، جائیداد یا دیگر اثاثے بیچنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ حقیقتا یہ منصوبہ صوبے کے غریب عوام کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے ہی شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہ گزشتہ دور حکومت میں یہ پروگرام صوبے کی 30 فیصد آبادی کو کور کرتا تھا تا اب اس منصوبے کے تحت صوبے کی تمام سو فیصد آبادی کو سالانہ 10 لاکھ روپے تک کی ہیلتھ کوریج حاصل ہے۔ تیمور جھگڑا نے کہا کہ اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق صحت کارڈ کے اجراء کے بعد صوبے کے تمام اضلاع میں مریضوں کے ہسپتال میں داخلے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ دریں اثناء پشاور میں تعینات امریکی کونسل جنرل نے خیبرپختونخوا حکومت کے یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام کو سراہا اور وزیر صحت و خزانہ کو اس کے کامیاب اجراء پر مبارکباد دی۔

پشاور تاجر انصاف اور نانبائی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں میں راضی نامہ کیسے ممکن ہوا؟
تاجر انصاف کا نانبائی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں میں راضی نامہ پیش۔اختلافات اور
بقول شاہد خان مسائل مذاکرات اور جرگہ سسٹم ہی کے ذریعے حل کئے جا سکتے ہیں۔ پشاور تاجر انصاف نے نانبائی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں میں راضی نامہ کرلیا۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز تاجر انصاف چیمبر میں صدر تاجر انصاف شاہد خان‘ میاں سید بادشاہ‘ حاجی رامبیل اور حاجی زرماش کی قیادت میں جرگے کا انعقاد کیا گیا جس میں دونوں فریقین حاجی اقبال اور خائستہ رحمان کے موقف کو سنا گیا اور اختلافات کو باہمی اتفاق رائے سے ختم کردیا اور دونوں فریقین بغلگیر ہو گئے۔ فریقین نے آئندہ ملکر پشاور سمیت صوبے بھر کے نانبائیوں کیلئے کام کرنے کا عہد کیا۔ صدر تاجر انصاف شاہد خان نے اختلافات کے خاتمے پر نانبائی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ وہ ملکر پشاور سمیت صوبے بھر میں نابنائیوں کے حقوق کیلئے آواز اٹھائیں اس سلسلے میں تاجر انصاف ان کے ساتھ بھر پور تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات اور مسائل مذاکرات اور جرگہ سسٹم ہی کے ذریعے حل کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے دونوں فریقین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے تاجر انصاف کی قیادت کی موجودگی میں راضی نامہ کرلیا جو تاجر انصاف اور نانبائی ایسوسی ایشن کی اصل کامیابی ہے۔ نانبائی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے تاجر انصاف پر اعتماد کا اظہار کیا اور صدر تاجر انصاف شاہد خان کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔
ٹائر بلاسٹرز کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی!!!
سٹی ٹریفک پولیس پشاور چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت کا ون ویز پوائنٹس اور ٹائر بلاسٹرز کا جائزہ لینے کیلئے مختلف سیکٹرز نے دورہ کیا۔
ٹائر بلاسٹرز کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لانے کی مختلف سیکٹرز کے دوروں کے موقع پر حکام کو ہدایت دی گئی۔
چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت نے شہر میں مختلف مقامات پر ون ویز پوائنٹس اور ٹائر بلاسٹرز کا جائزہ لینے کے لئے مختلف سیکٹرز کا دورہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان نے گزشتہ روز شہر میں ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کے لئے شہر کے مختلف ون ویز پوائنٹس کا دورہ کیا اور دورے کے دوران پوائنٹس پر موجود اہلکاروں سے ملے اور ٹریفک کی روانی کا جائزہ لیا اور انہیں بغیر کسی تعطل کے ٹریفک روانی یقینی بنانے کے حوالے سے ہدایات جاری کیں۔ اسی طرح چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت نے شہر کے مختلف علاقوں میں قائم ٹائر بلاسٹرز کا بھی جائزہ لیا اور ٹریفک حکام کو ہدایت کی کہ وہ مختلف اوقات میں ٹائر بلاسٹرز کی دیکھ بھال کریں تاکہ اس کو شہریوں یا ٹریفک میں خلل ڈالنے والوں کی طرف سے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچایا جائے اور ٹریفک کی روانی بلا تعطل جاری رہے۔ انہوں نے ٹریفک حکام کو ہدایت کی کہ ٹائر بلاسٹرز کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال ایم ٹی آئی میں ایل آر ایچ کا دورہ !!
لیڈی ریڈنگ ہسپتال ایم ٹی آئی پشاور میں نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول کی ٹیم کا ایل آر ایچ کا دورہ جس کا مقصد کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسینیشن کا جائزہ لینا تھا۔ ویکسینیشن کے عمل کو آسان اور تیز تر بنانے کے لئے واک ان سسٹم کا قیام کرنا ہے۔ حکومت طبی عملے کے بچاؤ کے لئے اقدامات کر رہی ہے، تمام طبی عملے کو ویکسینیٹ کر رہے ہیں۔ ایل آر ایچ میں اب تک 60 سے زائد طبی عملے کو کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگائی گئی ہے۔

خیبرپختونخوا کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافہ!!!
باغی ٹی وی کی تحقیقات کے مطابق کورونا وائرس کی صورتحال:
محکمہ صحت: خیبرپختونخوا میں 24 گھنٹوں میں کورونا سے4 افراد کا انتقال ہوا، کورونا سے جاں بحق افراد کی تعداد1980 ہوگئی۔
اگلے 24 گھنٹوں میں کورونا کے192 کیسز رپورٹ ہوئے، خیبرپختونخوا میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد69 ہزار164 ہوگئی، خیبرپختونخوا میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے277 مریض صحت یاب ہوئے، کورونا سے صحت یاب افراد کی تعداد65 ہزار213 ہوگئی ہے۔
پشاورمیں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے92 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، مزید کورونا کیسز کی تعداد27ہزار 986 تک پہنچ گئے،1021 افراد کا انتقال ہوا۔
ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ چار سالہ بی ایس پبلک ہیلتھ پروگرام کا آغاز!!!
پشاور:خیبر میڈیکل یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ اینڈ سوشل سائنسز (کے ایم یو آئی پی ایچ اینڈ ایس ایس) پشاور نے ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ چار سالہ بی ایس پبلک ہیلتھ پروگرام کا آغاز کردیا۔یہ پروگرام آبادی کی انفرادی اور اجتماعی صحت کی بہبود و تحفظ، فروغ اور بہتری کے مشن کے ساتھ شروع کیاگیا ہے۔ واضح رہے کہ کے ایم یو انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ ملک میں اپنی نوعیت کامنفرد ادارہ ہے جس میں پبلک ہیلتھ سے متعلق انڈرگریجویٹ سے لے کر پی ایچ ڈی سطح تک کی تعلیم دی جارہی ہے۔تفصیلات کے مطابق بی ایس پبلک ہیلتھ چار سالہ پروگرام کی افتتاحی تقریب گزشتہ روزکے ایم یو آئی پی ایچ اینڈ ایس ایس میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی کے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق تھے جب کہ اس موقع پر ڈائریکٹر آئی پی ایچ ڈاکٹر صائمہ آفاق بھی موجود تھیں۔ دریں اثناء تقریب سے پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس پبلک ہیلتھ پروگرام کا مقصد آبادی کی صحت کی صورتحال کو بہتر بنا نے کے ساتھ ساتھ پیشہ ور افراد کو صحت عامہ میں اعلیٰ معیار کی انڈرگریجویٹ ٹریننگ فراہم کرناہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پبلک ہیلتھ بیماریوں سے بچاؤ،امراض کے پھیلاؤ اور کنٹرول کے بنیادی تصورات سے نمٹتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پبلک ہیلتھ کی تعلیم کا مقصدمعاشرے پر بیماریوں کے بوجھ کوکم کرنے کے علاوہ مختلف امراض کی روک تھام میں راہنمائی اور مدد فراہم کرناہے۔ پروفیسر ضیا ء الحق نے کہا کہ بی ایس پبلک ہیلتھ پروگرام کے آغاز سے نہ صرف پبلک ہیلتھ کے ہنر مند اور پیشہ ور افراد کی تیاری میں مدد ملے گی بلکہ اس سے معاشرے میں مختلف امراض کی تشخیص، روک تھام اور سدباب کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مختلف بیماریوں کے ایک بڑے بوجھ کا شکار ہے جس کی وجہ بنیادی وجہ وسائل کی کمی،ناخواندگی اور آبادی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال بڑے پیمانے پر مختلف امراض کے باعث اموات واقع ہوتی ہیں جن میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں میں شعور بیدار کرکے کافی حد تک کمی لائی جاسکتی ہے لہٰذاان مقاصد کے حصول کی خاطر کے ایم یو نے ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ بی ایس پبلک ہیلتھ کاچارسالہ ڈگری پروگرام شروع کیاہے۔توقع ہےکہ اس پروگرام کے حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہوں گے۔









