Baaghi TV

Category: پشاور

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ،کابینہ کا ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو دینے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ،کابینہ کا ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو دینے کا فیصلہ

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے اہم اعلان کر دیا ہے۔

    انہوں نے اپنے اور کابینہ ارکان کی تنخواہوں کا حصہ سیلاب متاثرین کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ وہ خود ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو دیں گے، جبکہ کابینہ کے دیگر ارکان اپنی 15 دن کی تنخواہ عطیہ کریں گے۔مزید برآں، صوبائی اسمبلی کے ارکان کی 7 دن کی تنخواہ، اسکیل 17 اور اس سے اوپر کے ملازمین کی دو دن کی تنخواہ اور اسکیل 1 سے 16 تک کے ملازمین کی ایک دن کی تنخواہ بھی سیلاب زدگان کی مدد کے لیے مختص کی جائے گی۔ یہ اقدام متاثرین کی فوری مدد اور ریلیف کے لیے کیا جا رہا ہے۔

    وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے عطیات کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے پی ڈی ایم اے (پبلک ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) میں خصوصی اکاؤنٹ کھولنے کا اعلان کیا ہے، جس میں فنڈ کی ایک ایک پائی کا مکمل حساب رکھا جائے گا۔ عوام کو اس فنڈ کی تفصیلات سے مکمل آگاہ رکھا جائے گا تاکہ شفافیت برقرار رہے۔اسی سلسلے میں، وزیر اعلیٰ نے کمشنر مردان ڈویژن اور دیگر حکام سے رابطہ کیا ہے تاکہ ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کو تیز کیا جا سکے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر صوابی کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے ریسکیو سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کی خصوصی ہدایت بھی دی ہے۔

    خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کی وجہ سے زبردست تباہی ہوئی ہے۔ خاص طور پر پشاور، مردان، صوابی اور ایبٹ آباد میں شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ نے کئی گھروں کو نقصان پہنچایا ہے۔ صوابی میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث 15 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے کئی راستے بند ہو چکے ہیں۔ کرنل شیر ندی میں دو افراد کی تلاش جاری ہے۔

    مردان میں بارشوں کی وجہ سے متعدد علاقے زیر آب آ گئے ہیں، اور سیلابی ریلے نے گاڑیاں بھی بہا لے جانے کے علاوہ گھروں میں پانی داخل کر دیا ہے۔ حکام نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہیں۔

  • سیلابی تباہی، اموات کی تعداد 328 ، قادر نگر میں 84 جانیں ضائع

    سیلابی تباہی، اموات کی تعداد 328 ، قادر نگر میں 84 جانیں ضائع

    خیبر پختون خوا کے اضلاع سوات اور بونیر میں سیلاب نے تباہی مچادی۔ ترجمان ریسکیو بونیر کے مطابق تحصیل گدیزی قادر نگر سے مزید 7 افراد کی لاشیں نکالی گئیں جنہیں ٹی ایچ کیو اسپتال پاچا منتقل کردیا گیا۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اب تک سیلابی ریلوں سے 274 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں جبکہ 1165 متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔بونیر کے گاؤں عمر خان کے گھر کے 21 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے، جن میں سے کچھ کی لاشیں مل گئیں۔ قادر نگر میں عمر کے بھائی کی شادی کی خوشیاں بھی سیلاب کی نذر ہوگئیں جبکہ اہل خانہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے پیارے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

    قادر نگر میں اب تک سیلابی ریلے سے 84 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ بادل پھٹنے کے بعد خیبر پختون خوا میں مجموعی طور پر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 328 تک جاپہنچی ہے۔سیلابی ریلوں اور طوفانی بارشوں نے کئی گاؤں بہا دیے جبکہ انفراسٹرکچر، سڑکوں اور بجلی کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔

    پی ٹی اے کا اعلان: صارفین کے لیے مفت آن نیٹ وائس کالز، 72 فیصد سے زائد ٹیلی کام سائٹس بحال

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کہا ہے کہ موبائل فون آپریٹرز کے تعاون سے صارفین کو مفت آن نیٹ وائس کالز فراہم کی جا رہی ہیں۔پی ٹی اے کے مطابق زیرو بیلنس کے باوجود صارفین اپنے اہلِ خانہ اور ایمرجنسی سروسز سے رابطے میں رہ سکیں گے۔

    ترجمان نے بتایا کہ اب تک 72 فیصد سے زائد متاثرہ ٹیلی کام سائٹس بحال کر دی گئی ہیں جبکہ باقی ماندہ سائٹس کی بحالی کے لیے سی ایم اوز کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    خیبر پختون خوا اور گلگت بلتستان میں پاک فوج کا فلڈ ریلیف آپریشن جاری

    جشن آزادی پر حملے کا منصوبہ ناکام ،یونیورسٹی پروفیسر سمیت 3 دہشت گرد گرفتار

    حماس نے اسرائیلی منصوبے کو مسترد ، خیمہ بستیوں کو "نسلی کشی کی مہم” قرار دے دیا

    روس سے مذاکرات میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

  • خیبرپختونخوا ہیلی کاپٹر حادثہ: بلیک باکس برآمد

    خیبرپختونخوا ہیلی کاپٹر حادثہ: بلیک باکس برآمد

    خیبرپختونخوا میں حادثے کا شکار ہونے والے سرکاری ہیلی کاپٹر کا بلیک باکس مل گیا ہے۔

    سرکاری حکام کے مطابق بلیک باکس جائے حادثہ سے تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر ملا، جسے پولیس نے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ بلیک باکس کا ڈیٹا حادثے کی وجوہات جاننے میں اہم کردار ادا کرے گا، اس سے پائلٹس کی گفتگو سمیت دیگر ضروری معلومات بھی حاصل کی جائیں گی۔مزید بتایا گیا کہ بلیک باکس سے یہ بھی معلوم کیا جا سکے گا کہ ہنگامی حالات میں ہیلی کاپٹر میں سائرن بجا یا نہیں۔

    واضح رہے کہ 15 اگست کو خیبرپختونخوا حکومت کا امدادی کارروائیوں کے لیے جانے والا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا تھا، حادثے میں 2 پائلٹس سمیت 5 افراد شہید ہو گئے تھے۔

    نیویارک کلب میں فائرنگ، 3 افراد ہلاک، 8 زخمی

    بجلی چوری سے نقصانات میں معمولی کمی، نقصانات 194 ارب روپے کم

    مودی حکومت کی سب سے بڑی ٹیکس کٹوتیاں، صارفین اور کمپنیوں کو ریلیف

    خیبرپختونخوا فلڈ: بونیر سب سے زیادہ متاثر، 313 افراد جاں بحق، ایمرجنسی نافذ

  • خیبرپختونخوا فلڈ: بونیر سب سے زیادہ متاثر، 313 افراد جاں بحق، ایمرجنسی نافذ

    خیبرپختونخوا فلڈ: بونیر سب سے زیادہ متاثر، 313 افراد جاں بحق، ایمرجنسی نافذ

    مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ صوبے میں آنے والے فلش فلڈ سے سب سے زیادہ بونیر متاثر ہوا ہے۔

    پشاور میں ڈی جی پی ڈی ایم اے، ڈی جی ریسکیو اور محکمہ ریلیف حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سیلابی صورتحال کے دوران ایک بڑا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا، جس میں 5 اہلکار شہید ہوئے۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا بھی فرض ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرے، خوش آئند بات یہ ہے کہ اس معاملے پر کسی جماعت نے سیاست نہیں کی۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے اسفند یار خٹک کے مطابق سیلاب کے باعث اب تک 313 افراد جاں بحق اور 156 زخمی ہو چکے ہیں، 59 مکانات کو نقصان پہنچا، 22 پل ٹوٹ گئے جبکہ 157 مویشی بھی ہلاک ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے ڈیڑھ ارب روپے جاری کیے ہیں، 54 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان متاثرہ علاقوں کو روانہ کر دیا گیا ہے۔ بونیر کو سب سے زیادہ متاثرہ ضلع قرار دیتے ہوئے وہاں 50 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں، جبکہ تمام متاثرہ اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

    بھارتی جہازوں کے گرنے کے ویڈیو ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں، محسن نقوی

  • وسائل موجود ہیں، مدد کےلیے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا،علی امین گنڈاپور

    وسائل موجود ہیں، مدد کےلیے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا،علی امین گنڈاپور

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ،عوام کو ریلیف دینا ہمارا فرض ہے، میں مدد لینے والوں میں سے نہیں، مدد دینے والوں میں سےہوں، وسائل موجود ہیں، مدد کےلیے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا۔

    سوات میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کہاکہ شہدا کےلواحقین اورزخمیوں کومعاوضوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، معاوضوں کی ادائیگی کے لیے ڈیڑھ ارب روپے جاری کر دیے گئے ہیں، تمام محکموں نےسیلاب سےمتاثرہ علاقوں میں بہترین کام کیا۔

    علی امین گنڈاپور نے کہاکہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے ہرممکن مدد کریں گے، گھر بناکردیں گے، بستیاں قائم کریں گے، ہم کسی پر احسان نہیں کررہے،عوام کو ریلیف دینا ہمارا فرض ہے، سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کریں گے، کسی پر احسان نہیں کررہے،عوام کو ریلیف دینا ہمارا فرض ہے۔

    انہوں نے کہاکہ میرے پاس وسائل موجود ہیں، مدد کے لیے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا، متاثرہ علاقوں میں انفرااسٹرکچرکو فوری بحال کیاجائے گا، انہوں نے کہاکہ میں مدد لینے والوں میں سے نہیں، دینے والوں میں سے ہوں، وسائل موجود ہیں، کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا، بونیرمیں پانی کے راستےمیں قائم عمارتوں کی وجہ سےزیادہ نقصان ہوا۔

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے سیلاب سے متاثرہ ضلع بونیر کا دورہ کیا اور ڈی سی آفس میں سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال اور ریلیف و بحالی کی سرگرمیوں کے بارے میں اجلاس کی صدارت کی،اجلاس میں سیلاب سے شہید ہونے والے افراد کو ایصال ثواب کے لیے دعا کی گئی، اجلاس کو بونیر میں سیلاب کی تباہ کاریوں،ریسکیو اور ریلیف و بحالی کی سرگرمیوں بارے بریفنگ دی گئی۔

    اجلاس کو بتایا کہ بونیر کی 7 ویلج کونسلوں میں کلاؤڈ برسٹ سے مجموعی طور پر 5 ہزار 380 مکانات کو نقصان پہنچا، اب تک 209 اموات رپورٹ ہوئی ہیں، 134 افراد لاپتہ ہیں جبکہ 159 افراد زخمی ہوئے ہیں،ضلع بونیر سمیت 8 متاثرہ اضلاع میں ریلیف ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، بونیر میں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، سیلاب میں پھنسے 3500 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلع میں 10 ایکسکیویٹرز، 22 ٹریکٹرز، 10ڈی واٹرنگ پمپس، 5واٹرباؤزرز اور 10ڈوزر کی مدد سے ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیوں انجام دی جارہی ہیں، ریلیف سرگرمیوں میں 223 ریسکیو اہلکار، 205 ڈاکٹرز، 260 پیرا میڈیکل اسٹاف اور 400 پولیس اہلکار حصہ لے رہے ہیں، سول ڈیفنس کے 300 رضاکار اور پاک فوج کی 3 بٹالین بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں، متاثرہ لوگوں کو خوراک،صحت سہولیات،ٹینٹس، کمبل میٹرس سمیت تمام ضروری اشیا فراہم کی جا رہی ہیں، پیر بابا6 کلومیٹر روڈ،گوکند کا 3.5 کلومیٹر روڈ کلیئر کرلیا گیا جبکہ 15 مقامات پرلینڈ سلائیڈنگ کا ملبہ بھی کلیئرکر لیا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ سیلابی صورتحال میں صوبائی حکومت کے اداروں اور ضلعی انتظامیہ کا بروقت رسپانس قابل ستائش ہے، سول انتظامیہ اب ریلیف اور بحالی کے کاموں میں بھی اسی جذبے سے کام کرے، متاثرہ لوگوں کی بحالی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے، سیلاب میں شہید ہونیوالوں کے لواحقین اور زخمیوں کو بلا تاخیر معاوضوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، صوبائی حکومت نے اس مقصد کیلیے ڈیڑھ ارب روپے جاری کر دیے ہیں، مشکل کی اس گھڑی میں رابطہ کرنے اور تعاون کی یقین دہانی پر وزیر اعظم اور تمام وزرائے اعلی کا مشکور ہوں۔

  • ضلع بونیر میں بڑے پیمانے پر تباہی، پاک فوج کا ریلیف آپریشن جاری

    ضلع بونیر میں بڑے پیمانے پر تباہی، پاک فوج کا ریلیف آپریشن جاری

    خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر کی ضلعی انتظامیہ نے اتوار کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی رپورٹ جاری کر دی، جس میں بتایا گیا ہے کہ کلاؤڈ برسٹ اور سیلاب سے اموات کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی۔

    ڈپٹی کمشنر بونیر کاشف قیوم کے مطابق تباہ کن سیلاب نے ضلع بونیر میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں 401 افراد جاں بحق اور 671 زخمی ہوئے ہیں،تباہی کی شدت بے مثال ہے، اب تک 401 ہلاکتیں، 671 زخمی اور 4 ہزار 54 مویشیوں کے نقصان کی تصدیق ہو چکی ہے، 2 ہزار 300 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے، جب کہ 413 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے، تعلیمی ڈھانچہ بھی شدید متاثر ہوا ہے، اور 6 سرکاری اسکول بہہ گئے ہیں۔

    قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عوامی خدمات بھی محفوظ نہیں رہ سکیں، 2 تھانے سیلاب میں بہہ گئے، 639 گاڑیاں تباہ ہوئیں، 127 دکانیں مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ گئیں اور 824 کو جزوی نقصان پہنچاڈپٹی کمشنر نے تصدیق کی کہ 2 بڑے پل مکمل طور پر بہہ گئے، جب کہ 4 پلوں کو جزوی نقصان ہوا ہے، صحت کی سہولیات بھی متاثر ہوئیں، اور تین سرکاری ہسپتالوں کو جزوی نقصان پہنچا،ریسکیو اور امدادی کارروائیاں مشکلات کے باوجود جاری ہیں، ہماری ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں تاکہ فوری امداد فراہم کی جا سکے، لیکن نقصان بہت زیادہ ہے اور بحالی میں وقت لگے گا۔

    انڈونیشیا میں 6.0 شدت کا زلزلہ

    خیبرپختونخوا کے بارش اور سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں عوام کی مدد کے لیے پاک فوج بھی اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہےپاک فوج کی جانب سے بونیر کے مختلف علاقوں میں ریسکیو آپریشنز جاری ہیں،گاؤں چوراک میں بھی فوجی دستے ریسکیو کارروائیوں میں شریک ہیں،آدم خیل میں تباہ ہونے والے گھروں کے ملبے تلے دبے افراد کو بھی ریسکیو کیا جارہا ہے۔

    متاثرہ خاندانوں کو راشن اور بستروں کی فراہمی کاسلسلہ بھی جاری ہے، خراب موسم کے باوجود پاک فوج کے ہیلی کاپٹر ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں، شہریوں نے امدادی کاموں پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے پاک فوج کا شکریہ ادا کیا۔

    حافظ آباد :3 افراد کو قتل کرکے لاشیں گاڑی سمیت جلادی گئیں

    خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر ریسکیو کے 176 یونٹس قائم کر دیئے گئے ہیں،ڈی جی ریسکیو طیب عبداللہ کے مطابق دریاؤں کے کنارے 60 ریسکیو ایمرجنسی پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں ، سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 1800 ریسکیو اہلکار تعینات ہیں جبکہ غوطہ خوروں کی تعداد 264 ہے، ریسکیو آپریشن کے دوران سیلاب میں پھنسے 510 افراد کو بچایا گیا۔ امدادی سرگرمیوں کیلئے مزید 60 ریسکیو اہلکاروں کو بونیر بھیج دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ڈی جی پی ڈی ایم اے پختونخوا نے کہا ہے کہ 54 امدادی ٹرکوں پر مشتمل سامان بونیر بھجوایا گیا ہے، ضلعی انتظامیہ بونیر کو اب تک 50 کروڑ روپے دیے جا چکے ہیں۔

    اسحاق ڈار اور برطانوی وزیر خارجہ کا رابطہ ، سیلاب سے جانی نقصان پر افسوس

  • کوہاٹ: نامعلوم افراد کی  فائرنگ سے 7 افراد جاں بحق

    کوہاٹ: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 7 افراد جاں بحق

    کوہاٹ کے علاقے ریگی شینوخیل میں نامعلوم افراد کی اندھا دھند فائرنگ سے 7 افراد جاں بحق اور ایک شدید زخمی ہو گیا۔

    خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کے نواحی علاقے ریگی شینو خیل میں اُس وقت قیامت صغریٰ برپا ہوگئی جب نامعلوم مسلح افراد نے اچانک اندھا دھند فائرنگ کر کے 7 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا، جبکہ ایک شخص شدید زخمی ہو کر زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔

    پولیس کے مطابق مقتولین تاندہ ڈیم پر پکنک منانے کے بعد واپس آ رہے تھے کہ راستے میں گھات لگائے حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کردی، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا،پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد اکھٹے کیے اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا زخمی شخص کو تشویشناک حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے، واقعے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے، حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔ ابتدائی طور پر واقعہ دشمنی کا شاخسانہ لگتا ہے۔

  • خیبرپختونخوا: سیلاب متاثرین کے لیے وزیر اعلیٰ کا 20،20 لاکھ امداد کا اعلان

    خیبرپختونخوا: سیلاب متاثرین کے لیے وزیر اعلیٰ کا 20،20 لاکھ امداد کا اعلان

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بونیر کا دورہ کیا اور سیلاب میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے 20،20 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا۔

    وزیر اعلیٰ کے ہمراہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور ایم این اے شیر افضل مروت بھی موجود تھے۔ علی امین گنڈاپور نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیا اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو جانی و مالی نقصانات اور ریلیف سرگرمیوں پر بریفنگ دی گئی۔ صوبائی کابینہ کے ارکان، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا اور دیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    خیال رہے کہ خیبرپختونخوا میں طوفانی بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ کے باعث 48 گھنٹوں کے دوران اموات کی تعداد 340 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی سیلاب نے کم از کم 21 جانیں لے لی ہیں اور بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔

    معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار

    اینکر پرسن خاور حسین سانگھڑ سے مردہ حالت میں برآمد، اعلیٰ سطح تحقیقات کا آغاز

    اینکر پرسن خاور حسین سانگھڑ سے مردہ حالت میں برآمد، اعلیٰ سطح تحقیقات کا آغاز

    اسلام آباد ،بارشوں کے پیش نظر مارگلہ ہلز کی تمام ہائیکنگ ٹریلز بند

  • لنڈی کوتل :فاٹا ڈس ایبل کرکٹرز کو سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ

    لنڈی کوتل :فاٹا ڈس ایبل کرکٹرز کو سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ) فاٹا ریجن کے ڈس ایبل کرکٹرز نے حکومت اور محکمہ کھیل سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ساتھ روا رکھے گئے امتیازی سلوک کو فوری طور پر بند کیا جائے اور کھلاڑیوں کو ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انٹرنیشنل ڈس ایبل کرکٹر اور فاٹا ریجن ڈس ایبل کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد اللہ آفریدی نے ڈسٹرکٹ خیبر پریس کلب لنڈیکوتل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ کھلاڑی واحد شاہ اور محی الدین شینواری بھی موجود تھے۔

    محمد اللہ آفریدی نے کہا کہ فاٹا ریجن کے ڈس ایبل کرکٹرز وسائل اور سہولیات کی کمی کے باوجود شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 27 اگست کو مانسہرہ اور گوجرانوالہ میں ملک کے 16 ریجنز کی ڈس ایبل ٹیموں کے درمیان کرکٹ مقابلے ہونے جا رہے ہیں، جس میں فاٹا ریجن کی ٹیم بھی حصہ لے رہی ہے۔ تاہم، ٹیم کو کٹ بیگز اور دیگر ضروری سامان کی عدم دستیابی کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ فاٹا ریجن کے کھلاڑیوں میں بہترین صلاحیتیں موجود ہیں، لیکن وسائل کی کمی اور حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے صوبائی وزیر برائے کھیل عدنان قادری، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ کھیل سے اپیل کی کہ وہ ان کھلاڑیوں کی مدد کریں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کھلاڑیوں کو مناسب سہولیات فراہم کی جائیں تو وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر فاٹا ریجن کا نام روشن کر سکتے ہیں۔

  • مالاکنڈ ،مفتی کفایت کے گھر  فائرنگ،بیٹی ،بیٹا جاں بحق،مفتی کفایت اللہ زخمی

    مالاکنڈ ،مفتی کفایت کے گھر فائرنگ،بیٹی ،بیٹا جاں بحق،مفتی کفایت اللہ زخمی

    جے یوآئی مالاکنڈ کے امیر مفتی کفایت اللہ کے گھر پرفائر نگ ہوئی ہے

    مفتی کفایت اللہ کا بیٹا اور بیٹی فائرنگ سے جاں بحق جبکہ مفتی کفایت اللہ اور دوسری بیٹی شدید زخمی ہو گئے،زخمیوں اور لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ،اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی ،پولیس نے واقعہ کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعیت علماء اسلام ضلع مالاکنڈ کے امیر مفتی کفایت اللہ مبینہ طور پر اپنے بیٹے کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوگئے۔ فائرنگ کے نتیجے میں ان کا دوسرا بیٹا (عصمت اللہ، جو لیویز فورس میں ملازم تھا) اپنی والدہ سمیت جاں بحق ہوگیا، جبکہ ایک بیٹی شدید زخمی ہے۔ملزم موقع سے فرار ہوگیا