Baaghi TV

Category: پشاور

  • خیبر پختونخوا سیلاب ، مواصلاتی انفراسٹرکچر کو سنگین نقصان

    خیبر پختونخوا سیلاب ، مواصلاتی انفراسٹرکچر کو سنگین نقصان

    پشاور: خیبر پختونخوا میں 15 اگست سے 22 اگست کے دوران موسلادھار بارشوں اور شدید سیلاب نے صوبے کے مواصلاتی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مختلف اضلاع میں سڑکوں اور پلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے کئی راستے بند ہو گئے ہیں اور کئی علاقوں کی رابطہ کاری متاثر ہوئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے مجموعی طور پر 331 سڑکوں کو 336 مختلف مقامات پر نقصان پہنچا، جس کی کل لمبائی 493 کلومیٹر ہے۔ ان میں سے 57 سڑکیں تاحال مکمل بند ہیں۔ سڑکوں کی بحالی پر اندازاً 9 ارب 45 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ اب تک 229 سڑکیں جزوی طور پر اور 50 سڑکیں مکمل طور پر بحال کی جا چکی ہیں۔پلوں کی صورتحال بھی تشویشناک ہے، جہاں 32 پل سیلاب کی نذر ہوگئے ہیں۔ ان میں سے ایک پل مکمل طور پر ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، جبکہ 22 پل جزوی طور پر کھول دیے گئے ہیں۔ باقی 9 پل ابھی بھی بند ہیں۔ پلوں کی مرمت پر تقریباً ایک ارب 12 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔

    سوات: سب سے زیادہ نقصان سوات میں ہوا ہے جہاں 79 سڑکیں 80 مقامات پر متاثر ہوئیں۔ یہاں 43 کلومیٹر سڑکیں سیلاب میں بہہ گئیں۔ اب تک 3 سڑکیں مکمل اور 75 سڑکیں جزوی طور پر بحال ہو چکی ہیں، جبکہ 2 سڑکیں بند ہیں۔ سوات میں سڑکوں کی بحالی پر 45 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئے گی۔

    بونیر: بونیر میں 43 سڑکیں متاثر ہوئیں جن میں سے 39 سڑکیں جزوی طور پر بحال ہو چکی ہیں اور 4 سڑکیں مکمل بند ہیں۔ بونیر میں بحالی کے لیے ساڑھے 4 ارب روپے کی لاگت درکار ہے۔

    صوابی: صوابی میں 41 سڑکیں متاثر ہوئی ہیں، جن میں سے 32 اب تک بحال نہیں ہو سکیں۔ یہاں سڑکوں کی بحالی پر 2 ارب 76 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔

    محکمہ مواصلات و تعمیرات کے سیکرٹری محمد اسرار نے جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ تیز بارشوں اور سیلاب کے باعث خاص طور پر بونیر، صوابی اور دیگر اضلاع میں شدید نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 15 اگست کو محکمہ خزانہ کو ڈیڑھ ارب روپے جاری کرنے کی درخواست کی گئی تھی، جس میں سے 70 کروڑ روپے فوری طور پر جاری کر دیے گئے ہیں۔ ان میں 40 کروڑ مالاکنڈ، 10 کروڑ ہزارہ ریجن، اور 20 کروڑ پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کو دیے گئے ہیں۔محمد اسرار نے مزید بتایا کہ 186 چھوٹی بڑی مشینریوں کے ذریعے سڑکوں کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے تاکہ جلد از جلد رابطے بحال کیے جا سکیں اور متاثرہ علاقوں کی ترقیاتی سرگرمیاں معمول پر آ سکیں

  • خیبرپختونخوا: سیلاب متاثرہ اضلاع میں وبائی امراض پھیلنے لگے

    خیبرپختونخوا: سیلاب متاثرہ اضلاع میں وبائی امراض پھیلنے لگے

    خیبرپختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں وبائی اور موسمی امراض تیزی سے پھیلنے لگے ہیں۔

    محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں پیٹ و آنتوں کی بیماریوں، ہیضہ، ملیریا، ڈینگی، جلدی امراض اور سانس کی بیماریوں کے ہزاروں کیسز رپورٹ ہوئے ہیں،خیبرپختونخوا میں مختلف انفیکشنز کے مزید 5 ہزار 111 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

    محکمہ صحت خیبرپختونخوا کے مطابق سیلاب کے بعد اب تک مختلف انفیکشنز کے 12 ہزار 313 کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سانس کی بیماریوں کے کیسز کی تعداد 3 ہزار 668 ہو گئی ہے،گزشتہ 24 گھنٹے میں اسکیبیز کے 381 نئے کیس رپورٹ ہوئے، اسکیبیز کے کیسز کی مجموعی تعداد 1200 ہو گئی ہےپشاور میں مجموعی طور پر آنکھوں کے انفیکشنز سے متاثرہ افراد کی تعداد 1 ہزار 224 ہو گئی ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لشمینیا کے بھی 7 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

    باجوڑ آپریشن، فتنتہ الخوارج کا ایک اور عوام مخالف پروپیگنڈا بے نقاب

    دستاویز کے مطابق صرف ڈائریا کے 11 اضلاع سے 2 ہزار 506 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں دیر لوئر سے سب سے زیادہ 823، سوات سے 591، بونیر سے 319 اور باجوڑ سے 262 کیسز شامل ہیں دیگر اضلاع میں بھی درجنوں کیسز سامنے آئے ہیں رپورٹ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں خونی پیچش کے 116 مریض جبکہ ملیریا کے 123 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    محکمہ صحت کے مطابق ڈینگی کے بھی 15 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں صوابی میں 8، دیر لوئر میں 6 اور باجوڑ میں ایک کیس شامل ہے متاثرہ علاقوں میں خارش اور دیگر جلدی امراض کے سینکڑوں مریض بھی سامنے آئے ہیں دستاویز کے مطابق تورغر میں 172، دیر لوئر میں 125 اور شانگلہ میں 128 جلدی امراض کے مریض رجسٹرڈ ہوئے۔

    سوشل میڈیا پر ٹرانس جینڈرز کمیونٹی کیخلاف گفتگو ،ماریہ بی سائبر کرائم ایجنسی میں طلب

    سیکریٹری صحت شاہد اللہ کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں محکمہ صحت کی ٹیمیں اور موبائل اسپتال موجود ہیں اور ایک لاکھ 64 ہزار سے زیادہ مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جا چکی ہے،سانپ اور کتوں کے کاٹنے کی ویکسین متاثرہ اضلاع میں بھیج دی گئی ہیں جبکہ نفسیاتی امراض میں اضافے کے باعث ماہرینِ نفسیات پر مشتمل ٹیمیں بھی متاثرہ علاقوں میں تعینات ہیں-

  • بونیر میں سیلابی تباہی، شادی کی خوشیاں 24 جنازوں میں بدل گئیں

    بونیر میں سیلابی تباہی، شادی کی خوشیاں 24 جنازوں میں بدل گئیں

    خیبرپختونخوا کا ضلع بونیر حالیہ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ شادی کی تیاریوں میں مصروف ایک خاندان کی خوشیاں بھی سیلاب بہا لے گیا، کئی افراد جاں بحق جبکہ متعدد اب بھی لاپتا ہیں۔

    بونیر کے رہائشی نوجوان نور محمد کی شادی کی تیاری ایک المناک حادثے میں بدل گئی۔ تباہ کن سیلاب نے ان کے 24 قریبی رشتہ داروں اور اہل خانہ کی جان لے لی۔نور محمد، جو ملائیشیا میں مزدوری کرتے رہے، 15 اگست کو اپنی شادی کی تیاری کے لیے اسلام آباد پہنچے تھے۔ شادی سے دو دن پہلے انہوں نے والدہ سے طویل فون کال کی، مگر چند گھنٹوں بعد ہی سیلاب نے ان کی والدہ سمیت پورے خاندان کو بہا دیا۔

    نور محمد کے مطابق قادر نگر گاؤں میں واقع ان کے 36 کمروں پر مشتمل گھر کا کچھ بھی باقی نہ رہا، صرف ملبہ اور پہاڑوں سے گرے بھاری پتھر دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب نے گھروں، بازاروں اور عمارتوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ سیلاب نے ان کی ماں، بہن، بھائی، چچا، دادا اور بچوں سمیت سب کو چھین لیا۔

    اعداد و شمار کے مطابق 15 اگست سے جاری بارشوں اور سیلاب میں ضلع بونیر میں تقریباً 400 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں سے 200 سے زائد اموات صرف اسی علاقے میں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

    جاز کے غیر مجاز نرخوں میں اضافے کی خبروں کی پی ٹی اے کی تردید

  • خیبرپختونخوا میں سیلاب سے آبپاشی نظام کو  پہنچنے والے نقصانات کی رپورٹ جاری

    خیبرپختونخوا میں سیلاب سے آبپاشی نظام کو پہنچنے والے نقصانات کی رپورٹ جاری

    پشاور: خیبرپختونخوا میں سیلاب سے آبپاشی نظام کو پہنچنے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کردی گئی۔

    پورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایری گیشن انفراسٹرکچرکو 10ارب سے زائد کا نقصان پہنچا، چارسدہ میں آبپاشی نظام کو سب سے زیادہ ایک ارب 71 کروڑ روپےکانقصان پہنچا،چارسدہ میں سیلاب کے باعث آبپاشی نظام اور واٹر کورسز متاثر ہوئے اور چارسدہ میں دریائے سوات اور دریائےکابل کےکنارے بندھ ٹوٹ گئے جس کے باعث تقریباً 6 کلومیٹرحفاظتی بندھ اور ریٹیننگ والز سیلابی ریلےمیں بہہ گئی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ بٹگرام میں سیلاب کے باعث ایک ارب 68 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا، کئی حفاظتی پشتے سیلاب کی نذر ہوگئے، کھیتوں کو پانی دینے والا نظام بھی متاثر ہوا جبکہ سول ایری گیشن نہریں بھی بڑے پیمانے پر متاثر ہوئیں، مانسہرہ میں ایری گیشن انفرا اسٹرکچرکو ایک ارب 42 کروڑ روپےکا نقصان ہوا، شانگلہ میں کئی نہریں اور حفاظتی پشتے متاثر ہوئے اور مجموعی طور پر ایک ارب 12 کروڑ روپےکانقصان ، ایبٹ آباد میں سیلاب کےباعث فلد پروٹیکشن وال بہہ جانے سے ساڑھے 43 کروڑ روپےکا نقصان ہوا۔

    اسٹاک مارکیٹ میں آج مثبت رجحان رہا،100 انڈیکس میں 700 پوائنٹس کا اضافہ

    رپورٹ کے مطابق باجوڑ میں سیلابی ریلے میں کئی حفاظتی پشتے بہہ گئے، آبپاشی نظام بھی متاثر ہوا اور ایری گیشن انفرا اسٹرکچر کو 39 کروڑ 90 لاکھ روپےکا نقصان پہنچا،بونیر میں فلڈ پروٹیکشن وال اور نہریں متاثر ہونے سے 9 کروڑ 30 لاکھ روپےکا نقصان ہوا جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں سیلاب سےآبپاشی نظام کو 60 کروڑ 90 لاکھ روپےکا نقصان پہنچا، اسی طرح بنوں میں بھی سیلاب کےباعث ایری گیشن انفرا اسٹرکچرکو 3 کروڑ روپےکا نقصان پہنچا۔

    ہمیں کسی قسم کا خوف نہیں، ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے،علیمہ خان

  • پاک فوج کا سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیوآپریشن،سڑک کھول دی

    پاک فوج کا سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیوآپریشن،سڑک کھول دی

    خیبرپختونخوا آرمی فلڈ ریلیف آپریشن جاری ہے،پاک فوج کی کوششوں سے بونیر میں قادر نگر سے بھٹائی دارا جانے والی سڑک کھول دی گئی

    اس کے علاوہ پاک فوج کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم ملبے سے لاشیں ڈھونڈنے میں مقامی انتظامیہ کی مدد کر رہی ہے،پاک فوج کا بونیر، سوات ، شانگلہ اور صوابی کے سیلاب زدہ علاقوں میں فلڈ ریلیف آپریشن آٹھویں روز بھی جاری ہے،پاک فوج کی کور آف انجینئرز کے دستے راستوں کو کھولنے اور ملبے کو ہٹانے میں مصروف ہیں،پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز میں راشن اور دیگر سامان مہیا کیا جا رہا ہے اور سیلاب زدہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے،پاک فوج کے ڈاکٹرز متاثرہ علاقوں میں کیمپس لگا کے مریضوں کے مفت علاج میں مصروف ہیں،پاک فوج سیلاب سمیت تمام قدرتی آفات میں اپنی عوام کی خدمت میں پیش پیش، سیلاب زدگان کی بحالی اور مکمل ریسیکیو تک پاک فوج کا ریسیکیو مشن جاری رہے گا

  • خیبر پختونخوا حکومت کا نیا ہیلی کاپٹر خریدنے کا فیصلہ

    خیبر پختونخوا حکومت کا نیا ہیلی کاپٹر خریدنے کا فیصلہ

    خیبر پختونخوا حکومت نے چند روز قبل حادثے کا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر کی جگہ نیا ہیلی کاپٹر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق چیف سیکریٹری کے پی شہاب علی شاہ نے نیا ہیلی کاپٹر خریدنے کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ قدرتی آفات سمیت دیگر کاموں میں ہیلی کاپٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔شہاب علی شاہ نے کہا کہ مہمند میں ہیلی کاپٹر گرنے کے بعد حکومت کے پاس ایک ہیلی کاپٹر رہ گیا تھا اس لیے دوسرا ہیلی کاپٹر خریدنے کا فیصلہ کیا۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر عملے نے دوسروں کیلئے اپنی جانیں قربان کیں، یہ ہمارے اصل ہیرو ہیں، ان کی قربانی سنہرے حروف میں لکھی جائےگی۔علی امین گنڈا پور نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے شہداء کے لواحقین کو خصوصی پیکج دینے کی منظوری دی، صوبائی حکومت شہداء کے ورثا کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔

    ذرائع کا بتانا ہے کہ ہیلی کاپٹر حادثے کے شہدا کے لواحقین کو پولیس کے برابر کا شہدا پیکج دیا جائے گا۔سرکاری ذرائع کے مطابق ہیلی کاپٹر کے عملے کےپانچوں افراد کنٹریکٹ ملازمین تھے، ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے دونوں پائلٹس کے ورثا کو اسکیل 19 پولیس افسرکے شہدا پیکج کے برابر پیکج دیا جائے گا، دونوں پائلٹس کے لواحقین کو 2، 2 کروڑ روپےکا پیکج دیا جائے گا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ پائلٹس میں کرنل ریٹائرڈ شاہد سلطان اور آفتاب شامل ہیں جبکہ فلائٹ انجنیئر سلیم کے ورثا کو ڈیڑھ کروڑ روپے دیے جائیں گے اور دو کریو چیفس کے لواحقین کو ایک، ایک کروڑ روپے دیے جائیں گے۔

    یاد رہے کہ 15 اگست کو باجوڑ ریلیف آپریشن کے دوران خیبر پختونخوا حکومت کا سرکاری ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا تھا جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

  • شاہد آفریدی کا بونیر کا دورہ، سیلاب متاثرین میں امدادی سامان تقسیم

    شاہد آفریدی کا بونیر کا دورہ، سیلاب متاثرین میں امدادی سامان تقسیم

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد آفریدی خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر پہنچے جہاں انہوں نے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور عوامی مشکلات کا جائزہ لیا۔

    شاہد آفریدی نے ان خاندانوں سے ملاقات کی جن کے عزیز حالیہ سیلاب کے دوران جاں بحق ہوئے اور ان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے متاثرہ افراد میں نقد امداد کے ساتھ روزمرہ ضروریات کی اشیاء بھی تقسیم کیں۔ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے انہیں بریفنگ دی جس میں جاری ریلیف آپریشن اور متاثرین کو فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق آگاہ کیا گیا۔

    اس سے قبل شاہد آفریدی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام میں قوم سے اپیل کی تھی کہ وہ سیلاب متاثرین کی مدد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں پاکستانی قوم ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔

    چنیوٹ: فوڈ اتھارٹی کا ایکشن، ملاوٹ زدہ دودھ اور بیمار جانور کا گوشت برآمد

    قومی اسمبلی، دہری شہریت والے سول افسران پر پابندی کا بل مؤخر

    ایران کی بحری مشقیں، خلیج عمان و بحرِ ہند میں میزائل فائر

  • سیلاب متاثرین ہمارے اپنے ہیں ان کے لیے ہر حد تک جائیں گے، علی امین گنڈاپور

    سیلاب متاثرین ہمارے اپنے ہیں ان کے لیے ہر حد تک جائیں گے، علی امین گنڈاپور

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ،ریسکیو آپریشنز اور امدادی سرگرمیوں کی براہِ راست نگرانی کررہا ہوں، روزانہ کی بنیاد پر امدادی سرگرمیوں کی رپورٹ دیکھ رہا ہوں۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے نقصانات کا سروے مکمل ہوچکا ہے، ابتدائی تفصیلات کی بنیاد پر جامع حکمت عملی تیار کی جارہی ہے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرہ اضلاع میں ریسکیو آپریشنز جاری ہیں،سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف و بحالی کا کام بھی کر رہے ہیں، اور ان علاقوں میں کھانے، پینے سمیت رہائش کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔

    ڈیفالٹرز سے بجلی بلز کی ریکوریاں ڈسکوز کیلئے بدستور بڑا چیلنج ،480 ارب روپے کی وصولی کرنے میں ناکام

    انہوں نے بتایا کہ ریسکیو آپریشنز اور امدادی سرگرمیوں کی براہِ راست نگرانی کررہا ہوں، روزانہ کی بنیاد پر امدادی سرگرمیوں کی رپورٹ دیکھ رہا ہوں، متاثرین کو روزگار، گھروں کی تعمیرِ نو اور ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ سیلاب متاثرین کے لیے مزید فنڈز بھی مختص کیے جائیں گےخیبرپختونخوا حکومت اپنے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لارہی ہے، سیلاب متاثرین ہمارے اپنے ہیں ان کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔

    سندھ میں کوئی دوسرا صوبہ نہیں بنایا جائے گا۔شرجیل میمن

  • خیبرپختونخو اسیلاب،نقصانات بہت زیادہ ہیں،قوم مدد کو آگے بڑھے،شفیق الرحمان وڑائچ

    خیبرپختونخو اسیلاب،نقصانات بہت زیادہ ہیں،قوم مدد کو آگے بڑھے،شفیق الرحمان وڑائچ

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نےکہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں‌سیلاب سے نقصانات بہت زیادہ ہوئے،ہزاروں گھر تباہ ہوئے،خواتین وبچے اب بھی گھروں سے باہر کیونکہ گھر رہنے کے قابل نہیں رہے،بیماریاں پھیل رہی ہیں، خوراک،صاف پانی کی کمی ہے،مرکزی مسلم لیگ کے دو ہزار سے زائد رضاکار ریسکیو و ریلیف آپریشن میں مصروف ہیں، خشک راشن کی تقسیم اور مفت علاج معالجے کا سلسلہ بھی جاری ہے

    ان خیالات کا اظہار مرکزی مسلم لیگ ،خدمت خلق کے چیئرمین شفیق الرحمان وڑائچ، خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر عارف اللہ خٹک، مرکزی ترجمان تابش قیوم،مرکزی مسلم لیگ وسطی پنجاب کے صدر حمید الحسن،مرکزی مسلم لیگ راولپنڈی کے سیکرٹری جنرل انجنینئر مبین صدیقی,مرکزی مسلم لیگ فیصل آباد کے سیکرٹری جنرل احسن تارڑ نے مینگورہ بازار میں مرکزی مسلم لیگ کے امدادی کیمپ میں متاثرین میں سامان کی تقسیم کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر مینگورہ کے سیلاب متاثرین 350 خاندانوں میں خشک راشن سمیت دیگر امدادی سامان تقسیم کیا گیا،اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات طہٰ منیب، ترجمان خیبر پختونخوا محمد عبداللہ بھی موجودتھے،شفیق الرحمان وڑائچ کاکہنا تھا کہ جمعہ کو سیلاب آیا اور شدید ترین سیلاب نے علاقوں کے علاقے ہلا ڈالے، کافی اموات ہوئیں، مالی نقصان کو تو اندازہ ہی نہیں ہو رہا،شانگلہ،مینگورہ،بونیر دیکھیں ،باجوڑ میں آپریشن کے متاثرین الگ ہیں اور سیلاب متاثرین الگ،گلگت ،سکردو میں بھی نقصان ہوا،کچھ علاقے جہاں شدید تباہی ہے وہ ابھی بھی نظر انداز ہیں، مینگورہ میں چھ ہزار سے زائد گھر متاثر ہوئے، گھر ختم،سیلاب بہہ گئے، ان حالات میں جمعہ کے دن سے فوری طور پر ریسکیو کا آپریشن شروع کیا، لاشیں نکالی،جنازے پڑھے،ہفتے سے ملک بھر سے میڈیکل ٹیمیں روانہ ہوئیں ،پکی پکائی خوراک تقسیم کی جا رہی ہے، دن رات ہمارے رضاکار کام کر رہے ہیں، ساڑھے تین ہزار افراد تک راشن پہنچایا گیا ہے،اگلے مرحلے میں ہم ملبہ اٹھانے کا کام کریں گے، کئی لوگوں کی ابھی تک لاشیں نہیں ملیں، گھروں، دکانوں کو تعمیر کریں گے،باجوڑ میں بھی امدادی کام جاری ہے،ہم سکردو سے بونیر ،باجوڑ تک کام کر رہے ہیں،مینگورہ میں ہمیں بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ اتنا نقصان ہوا،مینگورہ میں آج 350 سے زائد خاندانوں میں لاکھوں روپے مالیت کا راشن تقسیم کر رہے ہیں، مچھر دانیاں بھی تقسیم کر رہے ہیں

    خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر عارف اللہ خٹک کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں سیلاب رب کی طرف سے آزمائش تھی ،ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے، قیمتی سامان،مال مویشی سب بہہ گیا، خواتین،بچے کھلے آسمان تلے زندگیاں گزار رہے ہیں، خیبر پختونخوا کا شمالی ریجن سیلاب سے متاثر ہوا ہے، باجوڑ،چترال،و دیگر علاقوں میں جو نقصان ہو اس کے بعد مرکزی مسلم لیگ فوری متحرک ہوئی، مینگورہ میں زیادہ نقصان ہوا ہے،شانگلہ میں بھی کوئی نہیں پہنچا،مرکزی مسلم لیگ پہنچی ہے، ریسکیو،ریلیف آپریشن جاری ہے.مرکزی مسلم لیگ کے دو ہزار سے زائد رضاکار ریسکیو وریلیف آپریشن میں مصروف ہیں،گھروں سے کیچڑ نکالا جا رہا،کئی مقامات سے ہمارے رضاکاروں نے لاشیں بھی نکالیں،ایک ایک گھر میں دس دس سے زیادہ اموات ہوئیں، بونیر،سوات،مینگورہ و دیگر علاقوں میں امدادی کیمپ لگائے گئے ہیں،مینگورہ میں تباہی زیادہ ہوئی،آدھا شہر ڈوب گیا،نقصانات بہت زیادہ ہیں لیکن نقصانات کم بتائے جا رہے،مینگورہ میں دس ہزار گھر متاثر،ہزاروں دکانیں ڈوب گئیں،گھروں میں دس دس فٹ پانی آیا،خواتین،بچوں نے چھتوں پر چڑھ کر جانیں بچائیں،

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم کا کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ کی سیاست خدمت انسانیت ہے،سیلاب کےفوری بعد ملک بھر سے مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار متاثرہ علاقوں میں پہنچے اور ریسکیو ،ریلیف آپریشن شروع کر دیا،بونیر ،مینگورہ،باجوڑ ، گلگت ، سکردو میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،مرکزی مسلم لیگ روزانہ 2500متاثرین میں پکی پکائی خوراک تقسیم کر رہی ہے،مینگورہ بازار میں امدادی کیمپ قائم کیا ہے،3500 سے زائد خاندانوں میں خشک راشن تقسیم کر چکے،350 خاندانوں میں آ ج راشن اور امدادی سامان تقسیم کیا،مرکزی مسلم لیگ کی 32میڈیکل ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ لگا رہی ہیں،اب تک تقریبا ایک لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج معالجہ کر چکے،مفت ادویات دی جا رہی ہیں،12 ہزار افراد میں صاف پانی تقسیم کیا گیا ہے جبکہ 18 سو بستر بھی تقسیم کیے گئے ہیں،،متاثرہ گھروں کا بھی ٹیمیں سروے کر رہی ہیں، مرکزی مسلم لیگ گھر بنا کر دے گی،گھروں میں کیچڑ کی صفائی کی وجہ سے رہنے کے قابل نہیں،مزید افرادی قوت کی ضرورت ہے،مشکل کی گھڑی میں قوم خدمت کے جذبے کے ساتھ متاثرین کی مدد کرے،مرکزی مسلم لیگ متاثرین کی بحالی تک امدادی سرگرمیاں جاری رکھے گی،

  • صوابی ،بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ سے بڑے پیمانے پر تباہی، 42 افراد جاں بحق

    صوابی ،بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ سے بڑے پیمانے پر تباہی، 42 افراد جاں بحق

    صوابی: خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں موسمی صورتحال انتہائی خراب ہونے کے باعث شدید بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں 42 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ چند روز قبل گاؤں دالوڑی بالا میں آنے والے کلاؤڈ برسٹ نے 17 گھروں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، جس کے باعث 40 افراد ملبے تلے دب گئے تھے۔

    ڈپٹی کمشنر صوابی نصراللہ نے بتایا کہ متاثرہ علاقے میں ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ ریسکیو ٹیموں نے ملبے تلے سے 40 افراد کو نکالا، جن میں سے 37 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ صوابی کے دیگر علاقوں میں بھی کلاؤڈ برسٹ کی شدت برقرار رہی، جس سے کئی گھر متاثر ہوئے اور کئی مکینوں کی جانیں بھی گئیں۔ خاص طور پر سرکوئی پایاں میں کلاؤڈ برسٹ کی وجہ سے 4 افراد جاں بحق ہوئے، جب کہ کرنل شیر ندی کے مقام پر سیلابی ریلے میں بہنے والے ایک نوجوان کی لاش گزشتہ روز ریسکیو ٹیموں نے نکالی۔

    ڈپٹی کمشنر نصراللہ نے کہا کہ مجموعی طور پر صوابی میں بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ کی وجہ سے 42 افراد اپنی جانیں کھو چکے ہیں۔ دالوڑی بالا میں 17 گھر، سرکوئی میں ایک گھر مکمل طور پر تباہ ہوا ہے، جبکہ مجموعی طور پر 27 گھروں کو مختلف سطح پر نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ علاقے میں بحالی کے کام بھی جاری ہیں تاکہ متاثرین کو جلد از جلد سہولیات فراہم کی جا سکیں۔انتظامیہ اور ریسکیو ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لئے خصوصی امداد کا اعلان کیا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور موسمی صورتحال کا خاص خیال رکھیں۔