Baaghi TV

Category: پشاور

  • ہمارے اراکین اسمبلی دہشتگرد نہیں ہیں، ہم سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں، لیکن اب بس ہونا چاہیے،  بیرسٹر گوہر

    ہمارے اراکین اسمبلی دہشتگرد نہیں ہیں، ہم سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں، لیکن اب بس ہونا چاہیے، بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ خزاں میں درختوں سے اتنے پتے تیزی سے نہیں گرتے جیسے ہمارے اراکین اسمبلی نااہل کیے گئے، ہمارے اراکین اسمبلی دہشتگرد نہیں ہیں، ہم سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں، لیکن اب بس ہونا چاہیے، 9 مئی غلط تھا ، دوبارہ نہیں ہونا چاہیے۔

    پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن میں ہم نے 170 سیٹیں جیتیں، اسمبلی میں گئے تو91 سیٹیں تھیں، اب ہمارے اراکین اسمبلی کی تعداد 76 ہے، ہمارے اراکین اسمبلی دہشتگرد نہیں ہیں، ہم سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں، لیکن اب بس ہونا چاہیے، جیل میں دہشتگرد کو بھی بنیادی حقوق ملتے ہیں، بانی پی ٹی آئی ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں، بانی پی ٹی آئی کو جیل میں بنیادی حقوق نہیں مل رہے۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ قوم کو اتحاد کی ضرورت ہے، بونیر میں سیلابی صورتحال کے دوران تعاون پر لوگوں اور حکومت کا شکریہ ادا کرتا ہوں، یہ عوام کو ریلیف دینے کی بات ہے، اس پر سیاست نہیں کرتے، وفاقی حکومت کو بھی سراہتے ہیں، وہ بہت مدد کر رہی ہے، آج آرمی چیف آئے ہیں، ان کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں، الخدمت فاؤنڈیشن، خدائی خدمت اور دیگر تنظیموں کا شکریہ ادا کرتے ہیں، ہم نے وفاق سے بھاری مشینری کی درخواست کی ہے وہ ابھی تک نہیں آئی، ہمارے پاس جو مشینری ہے، اس سےآج تمام روڈ کلیئر کر دیےجائیں گے۔

    صوبائی حکومت اس پوزیشن میں ہے کہ متاثرہ لوگوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پرکھڑا کر سکے،علی امین گنڈاپور

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے مجھے نہیں جانے دیا گیا، گزشتہ روز میرا نام لکھا تھا لیکن میں بونیر میں مصروف تھا، میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے وقت پر پہنچ نہیں پایا، بانی پی ٹی آئی جو فیصلہ کرتے ہیں وہی ہمارا فیصلہ ہوتا ہے، ہم تحریک بھی چلائیں گے، کورٹس بھی جائیں گے، دیکھتے ہیں کب تک ریلیف ملے گا، ہماری کوشش جاری رہےگی،ہمارے ساتھ قانون کے مطابق سلوک نہیں کیا گیا، ہم 9 مئی کے ٹرائل پر انکاری نہیں۔

    پی ٹی آئی نے سینیٹ کی خالی نشست پر اعجاز چوہدری کی اہلیہ کو ٹکٹ جاری کردیا

  • موجودہ موسمی حالات میں مل کر کام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے،وزیراعظم

    موجودہ موسمی حالات میں مل کر کام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاق آج پھر صوبوں کے ساتھ مل کر موسمیاتی آفت کا مقابلہ کررہا ہے، سیلاب زدہ علاقوں میں امداد اور بحالی کے کاموں میں کوئی تفریق نہیں کی جائے، موجودہ موسمی حالات میں مل کر کام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے-

    وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے پر بونیر میں خطاب کرتے ہوئےکہا کہ ناگہانی آفت میں جاں بحق افراد کےلواحقین سے افسوس کرنے آیا ہوں، اللہ تعالیٰ مرحومین کے درجات بلند کرے، شمالی علاقہ جات میں گزشتہ چند روز کے واقعات پر پوری قوم اشکبار ہے، انسانی جانوں کے ضیاع سے بڑھ کر دکھ کی کوئی اور بات نہیں ہوسکتی، بادل پھٹنے سےآبی ریلے نے طغیانی کی شکل اختیار کی جس سے نقصانات ہوئے ، 350 سے زائد افراد جاں بحق ، سیکڑوں زخمی اور لاپتا ہیں۔

    حکومتی فیصلے پر عمل نہیں ہوتا لیکن حکومت پر تنقید کی جاتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    انہوں نے کہا کہ 2022میں جب سیلاب آیا تو جہاں تک ممکن ہوسکا وہاں تک گیا تھا، 2022 کے سیلاب میں بھی دلخراش واقعات دیکھے تھے، وفاق نے2022کےسیلاب میں امدادی رقوم کےعلاوہ 100 ارب روپے دیے تھے، وفاق آج پھر صوبوں کے ساتھ مل کر موسمیاتی آفت کا مقابلہ کررہا ہے، سیلاب زدہ علاقوں میں امداد اور بحالی کے کاموں میں کوئی تفریق نہیں کی جائے، موجودہ موسمی حالات میں مل کر کام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

    آئی سی سی نے نئی ون ڈے رینکنگ جاری کر دی ،رضوان اور شاہین کی تنزلی

    وزیراعظم نےکہا کہ غیرقانونی ہوٹل بنانا اور اس کی اجازت دینا ناقابل معافی جرم ہے، تجاوزات کے خلاف سخت پالیسی اپنانا ہوگی، دنیا کے کسی قانون میں تجاوزات کی کوئی گنجائش نہیں ہے،متعلقہ اداروں کے مطابق بارشوں کے مزید2 اسپیل آنے ہیں، متوقع بارشوں کے پیش نظر ہمیں اپنی تیاری کرنا ہوگی، ہم انسانی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے تو اپنا ہی نقصان کریں گے۔

    ربیع الاول کا چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 24 اگست کو طلب

    وزیراعظم نے کہا کہ پاک افواج اور سول انتظامیہ کے ریسکیو آپریشنز کو سراہتے ہیں، فیلڈ مارشل کی سربراہی میں پاک فوج دن رات سیلاب زدگان کی مدد کررہی ہے پاکستان ایک گھر ہے اس کو ہم سب نے مل کر سنوارنا ہے،قرضوں سےنجات کیلئے ہمیں اپنا پیسہ ٹھیک جگہ پر استعمال کرنا ہے، تجاوزات پیسے کے ضیاع کے مترادف ہیں، تحریک چلائیں کہ ندی نالوں کے ساتھ تعمیرات نہ ہوں،وفاق کےتمام وسائل متاثرہ عوام کیلئے بروئےکار لائیں گے، پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے انتہائی متاثرہ 10ممالک میں شامل ہے۔

    پاک امریکا تعلقات : دنیا فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کامیاب ڈپلومیسی کی معترف ،واشنگٹن پوسٹ

  • مرکزی مسلم لیگ کی امدادی ٹیم مینگورہ پہنچ گئی،مینگورہ تباہ،آدھا شہر ڈوب گیا

    مرکزی مسلم لیگ کی امدادی ٹیم مینگورہ پہنچ گئی،مینگورہ تباہ،آدھا شہر ڈوب گیا

    خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے،مینگورہ میں تباہی ،10 ہزار گھر ڈوب گئے، مکین کھلے آسمان تلے زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں، مرکزی مسلم لیگ نے مینگورہ میں بھی ریلیف و ریسکیو آپریشن کے لئے کیمپ قائم کر دیا، دو ہزار افرادمیں مستقل بنیادوں پر روزانہ پکی پکائی خوراک تقسیم کی جا رہی ہے، میڈیکل کیمپ میں ہزاروں افراد کا علاج معالجہ کیا جا چکا ہے، مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل انجینئر حارث ڈار،مرکزی ترجمان تابش قیوم امدادی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں.

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں متحرک ہے،خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر مرکزی مسلم لیگ نے بونیر ،سوات،مینگورہ و دیگر علاقوں میں امدادی کیمپ قائم کر دیئے ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم و دیگر مینگورہ پہنچ چکے ہیں،انجینئر حارث ڈار،تابش قیوم نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سیلاب نے علاقوں میں کچھ نہیں چھوڑا، جانی و مالی نقصان بہت زیادہ ہوئے ہیں، مینگورہ میں تباہی بہت زیادہ ہوئی ہے، 10 ہزار سے زائد گھر سیلاب میں ڈوبے، ہزاروں دکانیں پانی میں ڈوب گئی ہیں،دس دس فٹ پانی گھروں ،دکانوں میں آیا جس کے بعد وہاں مٹی اور کیچڑ ہے، گھروں کے مکین کھلے آسمان تلے زندگیاں بسر کر کرنے پر مجبور ہیں، ایسے میں مرکزی مسلم لیگ متاثرین میں روزانہ پکی پکائی خوراک تقسیم کر رہی ہے، دو ہزار سے زائد افراد میں کھانا تقسیم کیا جارہا ہے، میڈیکل کیمپ میں متاثرین کا مفت طبی معائنہ کیا جا رہا ہے، علاقے میں الرجی پھیل چکی ہے،جلدی بیماریاں زیادہ پھیل رہی ہیں، مرکزی مسلم لیگ کے مختلف شہروں سے طبی عملے کی ٹیمیں پہنچ چکی ہیں، ہزاروں نوجوان متحرک ہیں مگر افرادی قوت کی مزید ضرورت ہے کیونکہ گھروں سے کیچڑ نکال کر انہیں مکینوں کے لئے بحال کرنا ہے، مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار رب کی رضا کے لئے خدمت کے عمل میں مصروف عمل ہیں،مزید بارش سے بچاؤ کے لئے متاثرین میں پلاسٹک کی چادریں بھی تقسیم کی جا رہی ہیں،ملک بھر سے مرکزی مسلم لیگ کے امدادی قافلے اضلاع کی سطح پر متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کے ہمراہ پہنچ رہے ہیں،اب تک مرکزی مسلم لیگ پانچ سو سے زائد خاندانوں میں خشک راشن بھی تقسیم کر چکی ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم مشکل کی اس گھڑی میں پیچھے نہ رہے بلکہ اخوت کے جذبے کو زندہ کرتے ہوئے اپنے متاثرہ بھائیوں کی مدد کریں.

  • خیبرپختونخوا حکومت کا کلاؤڈ برسٹ اور موسمیاتی تبدیلی کی تحقیقات کا آغاز

    خیبرپختونخوا حکومت کا کلاؤڈ برسٹ اور موسمیاتی تبدیلی کی تحقیقات کا آغاز

    پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں حالیہ کلاؤڈ برسٹ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی تحقیقات کے لیے ایک تحقیقاتی ٹیم قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ ٹیم موسمیاتی تبدیلی کی وجوہات اور سیلاب زدہ علاقوں میں سیلاب کی شدت کے پیچھے عوامل کی تفصیلی جانچ کرے گی۔

    سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم وفاقی وزارت ماحولیات، سپارکو (پاکستان اسپیس اینڈ اپلیکیشن سینٹر) اور پاکستان فارسٹ انسٹیٹیوٹ کے ماہرین پر مشتمل ہوگی۔ ٹیم خاص طور پر بونیر، صوابی اور دیگر سیلاب زدہ علاقوں کا دیگر علاقوں کے ساتھ موسمیاتی موازنہ کرے گی تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی جامع سمجھ حاصل کی جا سکے۔ذرائع نے بتایا کہ تحقیقاتی ٹیم موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، موسمیاتی ریکارڈ کا 20 سالہ جائزہ لے کر ایک مفصل رپورٹ مرتب کرے گی۔ رپورٹ میں سیلاب کی وجوہات اور مستقبل میں ایسے حادثات سے محفوظ رہنے کے لیے حفاظتی اقدامات کی تجاویز بھی شامل ہوں گی۔

    اس حوالے سے سیکریٹری محکمہ جنگلات، شاہد زمان نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور کلاؤڈ برسٹ جیسے واقعات کی وجوہات جاننے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر خاص طور پر خیبرپختونخوا میں موسمیاتی تبدیلی کی بڑی وجہ ترقی یافتہ ممالک کی صنعتی سرگرمیاں ہیں، جن سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسز موسم پر گہرے اثرات ڈال رہی ہیں۔شاہد زمان نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے شجرکاری پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ فطرت کو محفوظ بنایا جا سکے اور آلودگی کم کی جا سکے۔

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ،کابینہ کا ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو دینے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ،کابینہ کا ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو دینے کا فیصلہ

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے اہم اعلان کر دیا ہے۔

    انہوں نے اپنے اور کابینہ ارکان کی تنخواہوں کا حصہ سیلاب متاثرین کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ وہ خود ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو دیں گے، جبکہ کابینہ کے دیگر ارکان اپنی 15 دن کی تنخواہ عطیہ کریں گے۔مزید برآں، صوبائی اسمبلی کے ارکان کی 7 دن کی تنخواہ، اسکیل 17 اور اس سے اوپر کے ملازمین کی دو دن کی تنخواہ اور اسکیل 1 سے 16 تک کے ملازمین کی ایک دن کی تنخواہ بھی سیلاب زدگان کی مدد کے لیے مختص کی جائے گی۔ یہ اقدام متاثرین کی فوری مدد اور ریلیف کے لیے کیا جا رہا ہے۔

    وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے عطیات کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے پی ڈی ایم اے (پبلک ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) میں خصوصی اکاؤنٹ کھولنے کا اعلان کیا ہے، جس میں فنڈ کی ایک ایک پائی کا مکمل حساب رکھا جائے گا۔ عوام کو اس فنڈ کی تفصیلات سے مکمل آگاہ رکھا جائے گا تاکہ شفافیت برقرار رہے۔اسی سلسلے میں، وزیر اعلیٰ نے کمشنر مردان ڈویژن اور دیگر حکام سے رابطہ کیا ہے تاکہ ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کو تیز کیا جا سکے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر صوابی کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے ریسکیو سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کی خصوصی ہدایت بھی دی ہے۔

    خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کی وجہ سے زبردست تباہی ہوئی ہے۔ خاص طور پر پشاور، مردان، صوابی اور ایبٹ آباد میں شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ نے کئی گھروں کو نقصان پہنچایا ہے۔ صوابی میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث 15 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے کئی راستے بند ہو چکے ہیں۔ کرنل شیر ندی میں دو افراد کی تلاش جاری ہے۔

    مردان میں بارشوں کی وجہ سے متعدد علاقے زیر آب آ گئے ہیں، اور سیلابی ریلے نے گاڑیاں بھی بہا لے جانے کے علاوہ گھروں میں پانی داخل کر دیا ہے۔ حکام نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہیں۔

  • سیلابی تباہی، اموات کی تعداد 328 ، قادر نگر میں 84 جانیں ضائع

    سیلابی تباہی، اموات کی تعداد 328 ، قادر نگر میں 84 جانیں ضائع

    خیبر پختون خوا کے اضلاع سوات اور بونیر میں سیلاب نے تباہی مچادی۔ ترجمان ریسکیو بونیر کے مطابق تحصیل گدیزی قادر نگر سے مزید 7 افراد کی لاشیں نکالی گئیں جنہیں ٹی ایچ کیو اسپتال پاچا منتقل کردیا گیا۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اب تک سیلابی ریلوں سے 274 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں جبکہ 1165 متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔بونیر کے گاؤں عمر خان کے گھر کے 21 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے، جن میں سے کچھ کی لاشیں مل گئیں۔ قادر نگر میں عمر کے بھائی کی شادی کی خوشیاں بھی سیلاب کی نذر ہوگئیں جبکہ اہل خانہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے پیارے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

    قادر نگر میں اب تک سیلابی ریلے سے 84 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ بادل پھٹنے کے بعد خیبر پختون خوا میں مجموعی طور پر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 328 تک جاپہنچی ہے۔سیلابی ریلوں اور طوفانی بارشوں نے کئی گاؤں بہا دیے جبکہ انفراسٹرکچر، سڑکوں اور بجلی کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔

    پی ٹی اے کا اعلان: صارفین کے لیے مفت آن نیٹ وائس کالز، 72 فیصد سے زائد ٹیلی کام سائٹس بحال

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کہا ہے کہ موبائل فون آپریٹرز کے تعاون سے صارفین کو مفت آن نیٹ وائس کالز فراہم کی جا رہی ہیں۔پی ٹی اے کے مطابق زیرو بیلنس کے باوجود صارفین اپنے اہلِ خانہ اور ایمرجنسی سروسز سے رابطے میں رہ سکیں گے۔

    ترجمان نے بتایا کہ اب تک 72 فیصد سے زائد متاثرہ ٹیلی کام سائٹس بحال کر دی گئی ہیں جبکہ باقی ماندہ سائٹس کی بحالی کے لیے سی ایم اوز کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    خیبر پختون خوا اور گلگت بلتستان میں پاک فوج کا فلڈ ریلیف آپریشن جاری

    جشن آزادی پر حملے کا منصوبہ ناکام ،یونیورسٹی پروفیسر سمیت 3 دہشت گرد گرفتار

    حماس نے اسرائیلی منصوبے کو مسترد ، خیمہ بستیوں کو "نسلی کشی کی مہم” قرار دے دیا

    روس سے مذاکرات میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

  • خیبرپختونخوا ہیلی کاپٹر حادثہ: بلیک باکس برآمد

    خیبرپختونخوا ہیلی کاپٹر حادثہ: بلیک باکس برآمد

    خیبرپختونخوا میں حادثے کا شکار ہونے والے سرکاری ہیلی کاپٹر کا بلیک باکس مل گیا ہے۔

    سرکاری حکام کے مطابق بلیک باکس جائے حادثہ سے تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر ملا، جسے پولیس نے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ بلیک باکس کا ڈیٹا حادثے کی وجوہات جاننے میں اہم کردار ادا کرے گا، اس سے پائلٹس کی گفتگو سمیت دیگر ضروری معلومات بھی حاصل کی جائیں گی۔مزید بتایا گیا کہ بلیک باکس سے یہ بھی معلوم کیا جا سکے گا کہ ہنگامی حالات میں ہیلی کاپٹر میں سائرن بجا یا نہیں۔

    واضح رہے کہ 15 اگست کو خیبرپختونخوا حکومت کا امدادی کارروائیوں کے لیے جانے والا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا تھا، حادثے میں 2 پائلٹس سمیت 5 افراد شہید ہو گئے تھے۔

    نیویارک کلب میں فائرنگ، 3 افراد ہلاک، 8 زخمی

    بجلی چوری سے نقصانات میں معمولی کمی، نقصانات 194 ارب روپے کم

    مودی حکومت کی سب سے بڑی ٹیکس کٹوتیاں، صارفین اور کمپنیوں کو ریلیف

    خیبرپختونخوا فلڈ: بونیر سب سے زیادہ متاثر، 313 افراد جاں بحق، ایمرجنسی نافذ

  • خیبرپختونخوا فلڈ: بونیر سب سے زیادہ متاثر، 313 افراد جاں بحق، ایمرجنسی نافذ

    خیبرپختونخوا فلڈ: بونیر سب سے زیادہ متاثر، 313 افراد جاں بحق، ایمرجنسی نافذ

    مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ صوبے میں آنے والے فلش فلڈ سے سب سے زیادہ بونیر متاثر ہوا ہے۔

    پشاور میں ڈی جی پی ڈی ایم اے، ڈی جی ریسکیو اور محکمہ ریلیف حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سیلابی صورتحال کے دوران ایک بڑا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا، جس میں 5 اہلکار شہید ہوئے۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا بھی فرض ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرے، خوش آئند بات یہ ہے کہ اس معاملے پر کسی جماعت نے سیاست نہیں کی۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے اسفند یار خٹک کے مطابق سیلاب کے باعث اب تک 313 افراد جاں بحق اور 156 زخمی ہو چکے ہیں، 59 مکانات کو نقصان پہنچا، 22 پل ٹوٹ گئے جبکہ 157 مویشی بھی ہلاک ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے ڈیڑھ ارب روپے جاری کیے ہیں، 54 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان متاثرہ علاقوں کو روانہ کر دیا گیا ہے۔ بونیر کو سب سے زیادہ متاثرہ ضلع قرار دیتے ہوئے وہاں 50 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں، جبکہ تمام متاثرہ اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

    بھارتی جہازوں کے گرنے کے ویڈیو ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں، محسن نقوی

  • وسائل موجود ہیں، مدد کےلیے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا،علی امین گنڈاپور

    وسائل موجود ہیں، مدد کےلیے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا،علی امین گنڈاپور

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ،عوام کو ریلیف دینا ہمارا فرض ہے، میں مدد لینے والوں میں سے نہیں، مدد دینے والوں میں سےہوں، وسائل موجود ہیں، مدد کےلیے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا۔

    سوات میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کہاکہ شہدا کےلواحقین اورزخمیوں کومعاوضوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، معاوضوں کی ادائیگی کے لیے ڈیڑھ ارب روپے جاری کر دیے گئے ہیں، تمام محکموں نےسیلاب سےمتاثرہ علاقوں میں بہترین کام کیا۔

    علی امین گنڈاپور نے کہاکہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے ہرممکن مدد کریں گے، گھر بناکردیں گے، بستیاں قائم کریں گے، ہم کسی پر احسان نہیں کررہے،عوام کو ریلیف دینا ہمارا فرض ہے، سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کریں گے، کسی پر احسان نہیں کررہے،عوام کو ریلیف دینا ہمارا فرض ہے۔

    انہوں نے کہاکہ میرے پاس وسائل موجود ہیں، مدد کے لیے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا، متاثرہ علاقوں میں انفرااسٹرکچرکو فوری بحال کیاجائے گا، انہوں نے کہاکہ میں مدد لینے والوں میں سے نہیں، دینے والوں میں سے ہوں، وسائل موجود ہیں، کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا، بونیرمیں پانی کے راستےمیں قائم عمارتوں کی وجہ سےزیادہ نقصان ہوا۔

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے سیلاب سے متاثرہ ضلع بونیر کا دورہ کیا اور ڈی سی آفس میں سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال اور ریلیف و بحالی کی سرگرمیوں کے بارے میں اجلاس کی صدارت کی،اجلاس میں سیلاب سے شہید ہونے والے افراد کو ایصال ثواب کے لیے دعا کی گئی، اجلاس کو بونیر میں سیلاب کی تباہ کاریوں،ریسکیو اور ریلیف و بحالی کی سرگرمیوں بارے بریفنگ دی گئی۔

    اجلاس کو بتایا کہ بونیر کی 7 ویلج کونسلوں میں کلاؤڈ برسٹ سے مجموعی طور پر 5 ہزار 380 مکانات کو نقصان پہنچا، اب تک 209 اموات رپورٹ ہوئی ہیں، 134 افراد لاپتہ ہیں جبکہ 159 افراد زخمی ہوئے ہیں،ضلع بونیر سمیت 8 متاثرہ اضلاع میں ریلیف ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، بونیر میں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، سیلاب میں پھنسے 3500 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلع میں 10 ایکسکیویٹرز، 22 ٹریکٹرز، 10ڈی واٹرنگ پمپس، 5واٹرباؤزرز اور 10ڈوزر کی مدد سے ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیوں انجام دی جارہی ہیں، ریلیف سرگرمیوں میں 223 ریسکیو اہلکار، 205 ڈاکٹرز، 260 پیرا میڈیکل اسٹاف اور 400 پولیس اہلکار حصہ لے رہے ہیں، سول ڈیفنس کے 300 رضاکار اور پاک فوج کی 3 بٹالین بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں، متاثرہ لوگوں کو خوراک،صحت سہولیات،ٹینٹس، کمبل میٹرس سمیت تمام ضروری اشیا فراہم کی جا رہی ہیں، پیر بابا6 کلومیٹر روڈ،گوکند کا 3.5 کلومیٹر روڈ کلیئر کرلیا گیا جبکہ 15 مقامات پرلینڈ سلائیڈنگ کا ملبہ بھی کلیئرکر لیا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ سیلابی صورتحال میں صوبائی حکومت کے اداروں اور ضلعی انتظامیہ کا بروقت رسپانس قابل ستائش ہے، سول انتظامیہ اب ریلیف اور بحالی کے کاموں میں بھی اسی جذبے سے کام کرے، متاثرہ لوگوں کی بحالی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے، سیلاب میں شہید ہونیوالوں کے لواحقین اور زخمیوں کو بلا تاخیر معاوضوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، صوبائی حکومت نے اس مقصد کیلیے ڈیڑھ ارب روپے جاری کر دیے ہیں، مشکل کی اس گھڑی میں رابطہ کرنے اور تعاون کی یقین دہانی پر وزیر اعظم اور تمام وزرائے اعلی کا مشکور ہوں۔

  • ضلع بونیر میں بڑے پیمانے پر تباہی، پاک فوج کا ریلیف آپریشن جاری

    ضلع بونیر میں بڑے پیمانے پر تباہی، پاک فوج کا ریلیف آپریشن جاری

    خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر کی ضلعی انتظامیہ نے اتوار کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی رپورٹ جاری کر دی، جس میں بتایا گیا ہے کہ کلاؤڈ برسٹ اور سیلاب سے اموات کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی۔

    ڈپٹی کمشنر بونیر کاشف قیوم کے مطابق تباہ کن سیلاب نے ضلع بونیر میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں 401 افراد جاں بحق اور 671 زخمی ہوئے ہیں،تباہی کی شدت بے مثال ہے، اب تک 401 ہلاکتیں، 671 زخمی اور 4 ہزار 54 مویشیوں کے نقصان کی تصدیق ہو چکی ہے، 2 ہزار 300 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے، جب کہ 413 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے، تعلیمی ڈھانچہ بھی شدید متاثر ہوا ہے، اور 6 سرکاری اسکول بہہ گئے ہیں۔

    قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عوامی خدمات بھی محفوظ نہیں رہ سکیں، 2 تھانے سیلاب میں بہہ گئے، 639 گاڑیاں تباہ ہوئیں، 127 دکانیں مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ گئیں اور 824 کو جزوی نقصان پہنچاڈپٹی کمشنر نے تصدیق کی کہ 2 بڑے پل مکمل طور پر بہہ گئے، جب کہ 4 پلوں کو جزوی نقصان ہوا ہے، صحت کی سہولیات بھی متاثر ہوئیں، اور تین سرکاری ہسپتالوں کو جزوی نقصان پہنچا،ریسکیو اور امدادی کارروائیاں مشکلات کے باوجود جاری ہیں، ہماری ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں تاکہ فوری امداد فراہم کی جا سکے، لیکن نقصان بہت زیادہ ہے اور بحالی میں وقت لگے گا۔

    انڈونیشیا میں 6.0 شدت کا زلزلہ

    خیبرپختونخوا کے بارش اور سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں عوام کی مدد کے لیے پاک فوج بھی اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہےپاک فوج کی جانب سے بونیر کے مختلف علاقوں میں ریسکیو آپریشنز جاری ہیں،گاؤں چوراک میں بھی فوجی دستے ریسکیو کارروائیوں میں شریک ہیں،آدم خیل میں تباہ ہونے والے گھروں کے ملبے تلے دبے افراد کو بھی ریسکیو کیا جارہا ہے۔

    متاثرہ خاندانوں کو راشن اور بستروں کی فراہمی کاسلسلہ بھی جاری ہے، خراب موسم کے باوجود پاک فوج کے ہیلی کاپٹر ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں، شہریوں نے امدادی کاموں پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے پاک فوج کا شکریہ ادا کیا۔

    حافظ آباد :3 افراد کو قتل کرکے لاشیں گاڑی سمیت جلادی گئیں

    خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر ریسکیو کے 176 یونٹس قائم کر دیئے گئے ہیں،ڈی جی ریسکیو طیب عبداللہ کے مطابق دریاؤں کے کنارے 60 ریسکیو ایمرجنسی پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں ، سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 1800 ریسکیو اہلکار تعینات ہیں جبکہ غوطہ خوروں کی تعداد 264 ہے، ریسکیو آپریشن کے دوران سیلاب میں پھنسے 510 افراد کو بچایا گیا۔ امدادی سرگرمیوں کیلئے مزید 60 ریسکیو اہلکاروں کو بونیر بھیج دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ڈی جی پی ڈی ایم اے پختونخوا نے کہا ہے کہ 54 امدادی ٹرکوں پر مشتمل سامان بونیر بھجوایا گیا ہے، ضلعی انتظامیہ بونیر کو اب تک 50 کروڑ روپے دیے جا چکے ہیں۔

    اسحاق ڈار اور برطانوی وزیر خارجہ کا رابطہ ، سیلاب سے جانی نقصان پر افسوس