Baaghi TV

Category: پشاور

  • پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا پختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا پختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ

    پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔

    کے پہ اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے لیے آج ہونے والا اجلاس دو گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے بعد شروع ہوااجلاس کے لیے اپوزیشن اراکین ایوان پہنچ گئے تاہم پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کو اسمبلی ہال کے بجائے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پہنچنے کی ہدایت کی گئی پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور کی زیر صدارت ہوا جس میں اسمبلی اجلاس سے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین کی حلف برداری پی ٹی آئی کی حکمت عملی کے باعث مکل نہ ہوسکی۔ آج حلف برداری کے لیے طلب کیا گیا اجلاس ڈھائی گھنٹے تاخیر کے بعد شروع ہوا لیکن اجلاس شروع ہوتے ہی کورم کی نشاندہی کردی گئی اجلاس کے لیے صبح 9 بجے کا وقت مقرر تھا، جس پر گھنٹیاں بھی بجائی گئیں، مگر ایوان خالی ہونے سے کارروائی تاخیر کا شکار ہو گئی حکومت کی جانب سے حلف برداری سے راہ فرار کیلئے حکمت عملی کے تحت کورم کی نشاندہی کی گئی پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے اسمبلی اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا۔

    اجلاس کی صدارت اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کی، اجلاس میں مخصوص نشستوں پر نومنتخب ارکان موجود تھے، جبکہ اپوزیشن کے تمام ارکان بھی موجود تھے۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کے چند ارکان موجود تھے۔

    اسمبلی اجلاس شروع ہوتے ہی حکومتی اراکین نے کورم کی نشاندہی کردی حکومتی اراکین کورم کی نشاہدہی کرکے ہال سے نکلنا شروع ہوگئے۔ ایم پی اے شیر علی آفریدی نے کورم کی نشاہدہی کی۔ جس کے بعد اپوزیشن اراکین نے اسپیکر کو حلف لینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران پی ٹی آئی کے صرف چار ارکان کے پی اسمبلی میں موجود تھے۔

    اس دوران اسپیکر اسمبلی نے کہا کہ اسمبلی میں ارکان کی تعداد 25 ہے، کورم پورا نہیں ہے۔ جس پر خاتون رکن اسمبلی نے کہا کہ تلاوت کے دوران کوئی کورم کی نشاندہی نہیں کرسکتا۔ اسپیکر نے خاتون کو جواب دیا کہ تقریریں نہ کریں پہلے کورم کی گنتی کرلیں جس پر اپوزیشن کی جانب سے اسمبلی میں نعرے بازی شروع کردی گئی اور اپوزیشن ارکان اسپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے اس دوران خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس 24 جولائی دن 2 بجے تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔

    دوسری جانب اپوزیشن لیڈر عباداللہ نے حکومت کی جانب سے حلف برداری اجلاس میں کورم کی نشاندہی اور اجلاس ملتوی کرنے پر عدالت جانے کا اعلان کردیا ہےاپوزیشن لیڈر ڈاکٹرعباداللہ نے کہا کہ غیرآئینی کام کیلئے رات 12 بجے بھی سیشن بلاتے ہیں، سیاسی نابالغ 12 سال سے خیبرپختونخوا میں بیٹھے ہیں پی ٹی آئی نے گورننس اور دیگرچیزوں میں تباہی کی، اب پی ٹی آئی والے اسمبلی کے ساتھ بھی کھلواڑ کر رہے ہیں، یہ چاہتے ہیں سیاسی اسپیس کسی اور کے حوالے نہ کرو۔

    شمالی ایران میں زلزلے کے شدید جھٹکے، آفٹر شاکس کا خدشہ

    انہوں نے کہا کہ اگرحلف برداری ابھی نہیں ہوئی تو شام کو یا کل ہوجائے گی ایک سال سے سینیٹ میں کیبرپختونخوا صوبے کی نمائندگی نہیں ہے، 50 فیصد خواتین کی نمائندگی نہیں ہے، ایوان میں اقلیتوں کی نمائندگی نہیں ہے اور یہ حلف نہیں لے رہے، خیبرپختونخوا سیاسی نابالغوں کے ہاتھوں میں ہے۔

    شمالی ایران میں زلزلے کے شدید جھٹکے، آفٹر شاکس کا خدشہ

  • سینیٹ انتخابات: ناراض امیدواروں کی ضد سے ہارس ٹریڈنگ کا خدشہ بڑھ گیا

    سینیٹ انتخابات: ناراض امیدواروں کی ضد سے ہارس ٹریڈنگ کا خدشہ بڑھ گیا

    خیبر پختونخوا میں 21 جولائی کو ہونے والے سینیٹ انتخابات سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے درمیان امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب کرانے کا معاہدہ تو طے پا گیا ہے، تاہم پی ٹی آئی کے ناراض امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی واپس نہ لینے پر ایک مرتبہ پھر ہارس ٹریڈنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طے پانے والے فارمولے کے تحت 6 نشستیں حکومتی اتحاد اور 5 نشستیں اپوزیشن کو دی جائیں گی۔ تاہم ناراض امیدوار عرفان سلیم سمیت بعض پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے قیادت کی ہدایت کے باوجود الیکشن سے دستبرداری نہ کرنے پر خفیہ رائے شماری کا امکان بڑھ گیا ہے، جس سے سینیٹ انتخاب کے شفاف انعقاد پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کوئی نئی بات نہیں۔ 2018 میں بھی پی ٹی آئی کے 19 اراکین اسمبلی نے پارٹی پالیسی کے برخلاف دیگر جماعتوں کو ووٹ دیا تھا، جس پر انہیں بانی چیئرمین عمران خان کے حکم پر پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ اس انتخاب میں پیپلز پارٹی محض 7 ووٹوں کے ساتھ دو نشستیں لینے میں کامیاب رہی تھی۔پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ اگر ناراض امیدوار کاغذات واپس نہیں لیتے تو پارٹی ڈسپلن کے تحت ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    وفاقی وزیر طلحہ محمود نے تصدیق کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن نے سینیٹ انتخابات مل کر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ خرید و فروخت کا راستہ بند ہو سکے۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ "سیاست میں دولت کا استعمال روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے”۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق تاہم ناراض عناصر کی ضد سے اب بھی امکان موجود ہے کہ بعض اراکین اسمبلی اپنی پارٹی پالیسی کے برخلاف ووٹ کاسٹ کریں، جس سے شفاف انتخابات پر پھر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔

    پاکستانیوں کی آن لائن شاہ خرچیاں: 2023 میں 10.42 ارب ڈالر خرچ

    قلات: بلوچستان کانسٹیبلری قافلے پر حملے کا مقدمہ درج

    کراچی: 43 رہائشی عمارتیں خطرناک قرار، ہزاروں مکین متاثر

    یاسمین بخاری سے ملاقات،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

  • سینیٹ الیکشن: ارب پتی امیدواروں اور رشتہ داروں کو ٹکٹ، نظریاتی کارکن ناراض

    سینیٹ الیکشن: ارب پتی امیدواروں اور رشتہ داروں کو ٹکٹ، نظریاتی کارکن ناراض

    خیبر پختونخوا میں سینیٹ الیکشن کے لیے سیاسی جماعتوں نے ایک بار پھر مالی طور پر مضبوط اور بااثر امیدواروں کو میدان میں اتار دیا ہے، جبکہ دیرینہ پارٹی کارکنوں کو نظر انداز کیے جانے پر شدید ناراضی پائی جا رہی ہے۔

    سینیٹ کی 11 نشستوں کے لیے 21 جولائی کو خیبر پختونخوا میں انتخابات ہوں گے جن میں 7 جنرل، 2 خواتین اور 2 ٹیکنوکریٹس کی نشستیں شامل ہیں۔ ان انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں نے روایت برقرار رکھتے ہوئے دولت مند اور بااثر شخصیات کو ترجیح دی ہے۔حکمران جماعت تحریک انصاف نے ارب پتی امیدوار اعظم سواتی اور مرزا آفریدی کو نامزد کیا ہے، جب کہ مسلم لیگ (ن) نے وفاقی وزیر امیر مقام کے صاحبزادے نیاز احمد کو جنرل نشست کے لیے میدان میں اتارا ہے۔ پیپلز پارٹی نے اربوں کے اثاثوں کے مالک طلحہ محمود کو ٹکٹ دیا ہے، جبکہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے دلاور خان بھی ارب پتی امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

    ماضی کی طرح اس بار بھی نظریاتی اور دیرینہ کارکنان کو نظر انداز کیا گیا، جس پر بالخصوص تحریک انصاف کے کارکنان شدید ناراض ہیں۔ پارٹی رہنما عرفان سلیم نے بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں سینیٹ انتخابات کے نام پر جو کھیل کھیلا جا رہا ہے، ہم اس کے خلاف کھڑے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق، سینیٹ الیکشن میں سرمایہ دار امیدواروں کی ترجیح نے جمہوری اقدار اور کارکنان کی محنت کو پس پشت ڈال دیا ہے، جو جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو 32 ٹیموں تک وسعت دینے کی تجویز

    مالاکنڈ میں پولیس اور سی ٹی ڈی کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک، 8 گرفتار

    ایران کی صرف ایک جوہری تنصیب کو نقصان کی خبروں پر ٹرمپ کا ردعمل

    خیبرپختونخوا سینیٹ الیکشن: حکومت و اپوزیشن کا مشترکہ الیکشن کا فیصلہ

  • مالاکنڈ میں پولیس اور سی ٹی ڈی کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک، 8 گرفتار

    مالاکنڈ میں پولیس اور سی ٹی ڈی کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک، 8 گرفتار

    خیبر پختونخوا کے ضلع مالاکنڈ میں پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی مشترکہ کارروائی کے دوران 5 دہشت گرد ہلاک، 2 زخمی جبکہ 8 کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    درگئی تحصیل کے اسسٹنٹ کمشنر وحید اللہ خان کے مطابق، یہ بڑا آپریشن مہردے کے علاقے میں کیا گیا، جس میں پولیس اور سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے بھرپور حصہ لیا۔ کارروائی کے دوران 5 دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہوئے، جبکہ دو کو زخمی حالت میں حراست میں لیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے مزید بتایا کہ زخمی دہشت گردوں کو طبی امداد کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال درگئی منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر گرفتار دہشت گردوں کو تفتیش کے لیے سی ٹی ڈی سینٹر منتقل کیا گیا ہے۔

    اے سی درگئی کے مطابق، یہ دہشت گرد گروہ علاقے میں دہشت گرد حملوں اور تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھا، جن کے خلاف خفیہ اطلاع پر یہ کامیاب کارروائی عمل میں لائی گئی۔واضح رہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

    ایران کی صرف ایک جوہری تنصیب کو نقصان کی خبروں پر ٹرمپ کا ردعمل

    خیبرپختونخوا سینیٹ الیکشن: حکومت و اپوزیشن کا مشترکہ الیکشن کا فیصلہ

    لاس اینجلس میں کلب کے باہر گاڑی ہجوم پر چڑھ گئی، 30 افراد زخمی

  • خیبرپختونخوا سینیٹ الیکشن: حکومت و اپوزیشن کا مشترکہ الیکشن کا فیصلہ

    خیبرپختونخوا سینیٹ الیکشن: حکومت و اپوزیشن کا مشترکہ الیکشن کا فیصلہ

    خیبرپختونخوا میں سینیٹ الیکشن کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، بلامقابلہ انتخاب نہ ہونے کی صورت میں دونوں فریقین نے مشترکہ طور پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    حکومت اور اپوزیشن اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کوئی امیدوار دستبردار نہ ہوا تو بھی 6،5 کا متفقہ فارمولا برقرار رکھا جائے گا۔ اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد نے بتایا کہ اس حوالے سے ان کی وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے بات ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امیدوار دستبردار نہیں ہوتے تو صرف وقت کا ضیاع ہوگا۔دوسری جانب، سینیٹ انتخابات سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ پارٹی کی سیاسی کمیٹی ناراض رہنماؤں کو منانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ گزشتہ روز مذاکرات کے دو ادوار بے نتیجہ ثابت ہوئے، تاہم آج صبح پی ٹی آئی نے اعلامیہ جاری کیا کہ رہنما کاغذات واپس لے رہے ہیں۔

    تاہم اعلان کے بعد ہی پی ٹی آئی کے ناراض رہنماؤں نے ویڈیو پیغامات کے ذریعے پارٹی مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے انتخابی عمل کا حصہ نہ بننے کا اعلان کر دیا۔ پی ٹی آئی رہنما عرفان سلیم نے کہا کہ وہ سینیٹ الیکشن سے دستبردار نہیں ہوں گے اور کسی گٹھ جوڑ کا حصہ نہیں بنیں گے۔دوسرے ناراض رہنما خرم ذیشان نے اپنے ویڈیو پیغام میں واضح کیا کہ وہ ان لوگوں سے مفاہمت کے قائل نہیں جو ملک کو تباہ کرنے کے ذمے دار ہیں۔ انہوں نے مفاہمت کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کا اعلان کیا۔

    ادھر پارٹی کے مرکزی رہنما عمر ایوب کا کہنا ہے کہ سینیٹ امیدواروں کی حتمی منظوری پارٹی چیئرمین عمران خان نے دی ہے، لہٰذا فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے۔خیال رہے کہ خیبرپختونخوا میں سینیٹ کا اجلاس 21 جولائی کو شیڈول ہے، اور موجودہ سیاسی صورتحال کے باعث ایوان بالا کے انتخابات میں پیچیدگیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔

    لاس اینجلس میں کلب کے باہر گاڑی ہجوم پر چڑھ گئی، 30 افراد زخمی

    پنجاب اسمبلی میں مذاکرات کامیاب، اسپیکر نے ریفرنس مؤخر کر دیا

    ٹک ٹاک کا امریکا کے لیے نئی ایپ بنانے کی خبروں کی تردید

    اسحاق ڈار امریکا روانہ، سلامتی کونسل اجلاس کی صدارت کریں گے

  • ہنگو میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے ڈی پی او محمد خالد زخمی، 4 دہشتگرد ہلاک

    ہنگو میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے ڈی پی او محمد خالد زخمی، 4 دہشتگرد ہلاک

    ہنگو کے علاقے شناوڑی زرگری میں دہشتگردوں کے حملے کے دوران ڈی پی او محمد خالد زخمی ہو گئے ہیں۔ ڈی ایس پی امجد حسین نے بتایا کہ دہشتگردوں کے ساتھ پولیس کا تبادلۂ فائرنگ ہوا جس میں ڈی پی او محمد خالد کے علاوہ ایس ایچ او تھانہ دوآبہ نبی خان بھی زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں سے انہیں مزید علاج کے لیے پشاور روانہ کیا جا رہا ہے۔

    ہنگو پولیس کے ترجمان نے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران فورسز نے دہشتگردوں کو نشانہ بنایا اور چار دہشتگرد مارے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعہ کے بعد پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) نے علاقے میں کرفیو نافذ کر کے بڑی سطح پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    علاقے میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف حساس مقامات پر تعینات ہیں تاکہ ممکنہ دہشتگرد سرگرمیوں کو روکنے میں کامیابی حاصل کی جا سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ زخمی ڈی پی او محمد خالد کی حالت تشویشناک ہے اور ان کی فوری صحت یابی کے لیے تمام طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

  • پشاور،: ایکسائز گاڑی کو حادثہ، انسپکٹر جاں بحق، 4 سپاہی شدید زخمی

    پشاور،: ایکسائز گاڑی کو حادثہ، انسپکٹر جاں بحق، 4 سپاہی شدید زخمی

    پشاور سے اسلام آباد جانے والی موٹر وے پر ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی گاڑی کو افسوسناک حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں انسپکٹر جاں بحق جبکہ 4 سپاہی شدید زخمی ہوگئے ہیں ۔

    ایکسائز انسپکٹر عزیر موقع پر ہی جاں بحق جبکہ گاڑی میں سوار دیگر چار سپاہی شدید زخمی ہو ئے حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 صوابی کی میڈیکل ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی،بعد ازاں زخمیوں کو تشویشناک حالت میں باچا خان میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دیا گیا۔

    زخمیوں میں سپاہی قمر زمان جن کی عمر 32 سال ہے اور ان کا تعلق باجوڑ سے ہے، سپاہی منصور جن کی عمر 29 سال ہے اور وہ کرک کے رہائشی ہیں، سپاہی سا لار جن کی عمر 19 سال ہے اور وہ بھی باجوڑ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ سپاہی محمد اعجاز جن کی عمر 23 سال ہے اور وہ کرک کے رہائشی ہیں، شامل ہیں۔

    حادثے میں جاں بحق ہونے والے انسپکٹر عزیر محمد کی عمر 39 سال تھی اور وہ ضلع باجوڑ کے رہائشی تھے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔

    10 لاکھ بھارتی فوج کی درندگی، سفاکیت کشمیریوں کے عزم کو توڑنے میں ناکام رہی ،وزیرعظم

    کے ٹو ، برفانی تودے کی زد میں آ کر پاکستانی کوہ پیما جاں بحق

    کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں 8 اہم ملزمان گرفتار

  • سینیٹ ٹکٹوں پر پی ٹی آئی میں اختلافات ،  ناراض امیدواروں سے پہلی ملاقات ناکام

    سینیٹ ٹکٹوں پر پی ٹی آئی میں اختلافات ، ناراض امیدواروں سے پہلی ملاقات ناکام

    سینیٹ انتخابات کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں ٹکٹوں کی تقسیم پر شدید اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی ناراض امیدواروں سے پہلی ملاقات بے نتیجہ ختم ہو گئی، جبکہ دوسری بیٹھک آج عشاء کے بعد ہوگی۔

    وزیراعلیٰ نے سینیٹ کے ٹکٹوں میں نظرانداز کیے گئے پارٹی رہنماؤں کو منانے کی کوشش کی، تاہم عرفان سلیم، عائشہ بانو، ارشاد حسین اور خرم ذیشان سمیت ناراض رہنما بات چیت سے مطمئن نہ ہو سکے۔ان رہنماؤں نے احتجاج اور پریس کانفرنس کے بعد وزیراعلیٰ کی دعوت پر ملاقات کی تھی، لیکن کوئی حتمی نتیجہ نہ نکل سکا۔ اب وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور ایک بار پھر عشاء کے بعد ملاقات کریں گے اور کوشش کریں گے کہ ناراض اراکین اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیں۔

    ذرائع کے مطابق اگر ناراض امیدوار دستبردار نہ ہوئے تو سینیٹ کے انتخابات آئینی طور پر لازمی ہوں گے، حالانکہ علی امین گنڈاپور پہلے ہی اپوزیشن سے سینیٹ امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب کرانے پر معاہدہ کر چکے ہیں۔ادھر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں ٹکٹوں کی نامزدگی پر اختلافات اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ صوبائی صدر نے نئی ترجیحی فہرست چیئرمین کو ارسال کر دی، جس میں مرزا خان آفریدی کا نام خارج کر دیا گیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے لیبیا کے کمانڈر ان چیف کی ملاقات، دوطرفہ تعاون پر گفتگو

    برطانیہ کی روس پر نئی پابندیاں، 20 سے زائد مبینہ جاسوس اور ہیکرز نشانے پر

    چین میں 300 پاکستانی طلبہ کی زرعی ٹریننگ مکمل، وزیراعظم کا تعاون پر اظہار تشکر

    پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال بعد سرپلس

  • عرفان سلیم سینیٹ امیدوار ہوں‌گے،خیبر پختونخوا کے پی ٹی آئی کارکنان کا اعلان

    عرفان سلیم سینیٹ امیدوار ہوں‌گے،خیبر پختونخوا کے پی ٹی آئی کارکنان کا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پشاور سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں نے نیوز کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ پارٹی کے سینئر رہنما اور سینیٹ کے امیدوار عرفان سلیم اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس نہیں لیں گے اور وہ آئندہ ہونے والے سینیٹ انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گے۔ عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کا یہ جائز مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو 21 جولائی کو خیبرپختونخوا اسمبلی کا گھیراؤ کیا جائے گا اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر احتجاج کیا جائے گا۔

    نیوز کانفرنس میں پی ٹی آئی پشاور کے عہدیداروں نے زور دیا کہ عرفان سلیم پارٹی کے ایک مخلص اور وفادار کارکن ہیں جنہوں نے ہمیشہ پارٹی کی خدمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عرفان سلیم کو بطور سینیٹ امیدوار نامزد کرنا کارکنوں کے ساتھ انصاف ہے اور ان کی جگہ کسی اور کو نامزد کرنا پارٹی کارکنوں کے جذبات کی توہین ہوگی۔ی ٹی آئی رہنماؤں نے اس موقع پر پارٹی قیادت پر شدید تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ پارٹی میں واقعی محنت کرنے والے مخلص کارکنوں کو نظر انداز کر کے باہر سے آئے ہوئے اور مالی وسائل کے حامل افراد (جنہیں عموماً ‘اے ٹی ایمز’ کہا جاتا ہے) کو ٹکٹ دی جا رہی ہے، جو کہ پارٹی کی سالمیت کے خلاف ہے اور اس کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

    رہنماؤں نے واضح کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر کوئی توجہ نہ دی گئی تو وہ 21 جولائی کو ہونے والے سینیٹ انتخابات کے موقع پر خیبرپختونخوا اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر احتجاج کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سینیٹ الیکشن محض انتخابات نہیں بلکہ تحریک کی شروعات ہے اور اس کے بعد پارٹی میں بغاوت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • خیبرپختونخوا: پی ٹی آئی میں سینیٹ انتخابات پر اختلافات شدت اختیار کر گئے

    خیبرپختونخوا: پی ٹی آئی میں سینیٹ انتخابات پر اختلافات شدت اختیار کر گئے

    خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی پشاور کے صدر عرفان سلیم نے سینیٹ کا ٹکٹ واپس لینے کے بدلے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا مشیر بننے کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔پارٹی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے 5 سینیٹ امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے سے انکار کر دیا ہے اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے فیصلوں کے سامنے ڈٹ گئے ہیں۔عرفان سلیم نے پارٹی قیادت کو واضح پیغام دیا ہے کہ فارم 47 کے ذریعے آنے والی حکومت سے کوئی کمپرومائز قبول نہیں۔

    پی ٹی آئی کے ایک اور سینیٹ امیدوار مظہر مشوانی نے بھی عرفان سلیم کی حمایت میں کھل کر مؤقف اپنایا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پارٹی رہنماؤں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ نور الحق قادری اور مرزا آفریدی سے سینیٹ ٹکٹ واپس لیے جائیں کیونکہ ان کے خاندان کے افراد پہلے ہی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ناراض رہنماؤں نے کہا کہ اگر فیصلہ واقعی عمران خان کا ہے تو وزیراعلیٰ خود الیکشن لڑیں۔

    پارٹی کے ضلع پشاور کے عہدیداران نے اعلان کیا ہے کہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے پارٹی کے اندرونی اختلافات پر کل پشاور میں ایک اہم پریس کانفرنس کی جائے گی، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔دوسری جانب پارٹی کے ناراض رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں خیبرپختونخوا حکومت کے مشیر بیرسٹر سیف کے بیان کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ عمران خان نے پیغام دیا ہے کہ سینیٹ انتخابات سے متعلق مشاورت کی جائے اور فارم 47 حکومت سے کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

    پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عرفان سلیم کو کسی صورت ٹکٹ واپس نہیں لینے دیں گے کیونکہ وہ پارٹی کے دیرینہ اور نظریاتی کارکن ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق سینیٹ انتخابات کے قریب آتے ہی پی ٹی آئی کے اندر اختلافات گہرا رخ اختیار کر گئے ہیں، جس کے اثرات خیبرپختونخوا کی سیاست پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔

    بشریٰ بی بی کے بیٹے موسیٰ مانیکا کے خلاف اقدامِ قتل کا مقدمہ درج
    کراچی ،سی ٹی ڈی اور خفیہ ایجنسی کی کارروائی، کالعدم ٹی ٹی پی کے 2 دہشت گرد ہلاک

    راولپنڈی میں بارش کے بعد صورتحال کنٹرول میں، مرکزی سڑکیں کلیئر

    شام پر اسرائیلی حملے خطے کے لیے خطرہ ہیں، ترک صدر اردوان