Baaghi TV

Category: پشاور

  • مالاکنڈ ڈویژن میں بارشوں سےچھتیں گرنے کے واقعات، تین بچے جاں بحق

    مالاکنڈ ڈویژن میں بارشوں سےچھتیں گرنے کے واقعات، تین بچے جاں بحق

    خیبر پختونخوا کے مالاکنڈ ڈویژن میں شدید بارشوں کے باعث چھت گرنے کے دو افسوسناک واقعات پیش آئے، جن میں تین بچے جاں بحق جبکہ ایک خاتون سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

    ریسکیو 1122 دیر لوئر کے ترجمان عبد الرحمٰن کے مطابق پہلا واقعہ تحصیل براول کے علاقے شاہی مورو میں پیش آیا، جہاں ایک زیر تعمیر کچے مکان کی چھت گرنے سے چار بچے ملبے تلے دب گئے۔ ریسکیو ٹیم نے بچوں کو نکال کر سرمباغ اسپتال منتقل کیا، جہاں 14 سالہ اسلام الدین اور 6 سالہ حسن علی دم توڑ گئے، جبکہ 3 سالہ شہاب خان اور 9 سالہ محمد یاسین کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    دوسرا واقعہ شانگلہ کی تحصیل چکسر کے علاقے اوپل میں پیش آیا، جہاں شدید بارش کے نتیجے میں علی رحمٰن کے گھر کی چھت گر گئی۔ حادثے میں اس کا 5 سالہ بیٹا جاں بحق ہو گیا جبکہ بیوی اور دو بچے زخمی ہو گئے۔ریسکیو 1122 شانگلہ کے ترجمان رسول خان شریف کے مطابق زخمیوں کو رورل ہیلتھ سنٹر چکسر منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں مزید علاج کے لیے مینگورہ سوات اسپتال ریفر کر دیا گیا۔

    حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، جبکہ مقامی انتظامیہ کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں معمولی کمی

    جنڈولہ اور برمل میں کل کرفیو نافذ، نقل و حرکت اور بازاروں پر مکمل پابندی

    مالی سال 2025: بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 1.21 فیصد کمی

    فنانس ایکٹ 2025 کی شق 37 اے پر تاجروں سے مذاکرات، ہڑتال مؤخر

  • جنڈولہ اور برمل میں کل کرفیو نافذ، نقل و حرکت اور بازاروں پر مکمل پابندی

    جنڈولہ اور برمل میں کل کرفیو نافذ، نقل و حرکت اور بازاروں پر مکمل پابندی

    سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ٹانک کے قبائلی علاقے جنڈولہ اور جنوبی وزیرستان کی تحصیل برمل میں کل صبح 6 بجے سے شام 7 بجے تک مکمل کرفیو نافذ کیا جائے گا۔

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق کرفیو کے دوران ہر قسم کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی عائد ہو گی، جبکہ تمام بازار اور تجارتی مراکز بند رہیں گے۔جنڈولہ بازار اور وہاں سے جنوبی وزیرستان اپر جانے والے تمام راستے بند کر دیے جائیں گے۔ ڈپٹی کمشنر وانا کے مطابق برمل میں بھی کرفیو اسی وقت نافذ ہو گا، جہاں عام شہریوں کی آمد و رفت مکمل طور پر محدود رہے گی۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام علاقے میں ممکنہ سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا جا سکے۔

    جنرل ساحر مرزا کی چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی 98ویں سالگرہ پر شرکت

    مالی سال 2025: بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 1.21 فیصد کمی

    فنانس ایکٹ 2025 کی شق 37 اے پر تاجروں سے مذاکرات، ہڑتال مؤخر

    پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں مانیٹرنگ کیلئے "سی ایم ہیلتھ ویجی لینس اسکواڈ” قائم

  • لنڈی کوتل: میٹ دی پریس میں منشیات کیخلاف مؤثر اقدامات کا مطالبہ

    لنڈی کوتل: میٹ دی پریس میں منشیات کیخلاف مؤثر اقدامات کا مطالبہ

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی،تحصیل رپورٹر)ڈسٹرکٹ خیبر پریس کلب لنڈی کوتل (رجسٹرڈ) میں "منشیات کا خاتمہ، ہم سب کا فریضہ” کے عنوان سے ایک اہم میٹ دی پریس سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں سیاسی و سماجی رہنما، علما کرام، پولیس افسران اور انتظامیہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے نوجوان نسل کو نشے کی لت سے بچانے اور منشیات فروشوں کے خلاف مربوط حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔

    میٹ دی پریس میں شریک رہنماؤں نے کہا کہ خیبر کے دیہی و شہری علاقوں میں منشیات کا ناسور تیزی سے پھیل رہا ہے اور نوجوان بڑی تعداد میں نشہ آور اشیاء کے عادی بن چکے ہیں، جس سے معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہوتا جا رہا ہے۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر منشیات کی روک تھام، عادی افراد کی بحالی اور منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائیاں کرے۔

    اس اہم اجلاس میں صدر خیبر سپورٹس کلب و سینیئر کسٹم کلیئرنس ایجنٹ معراج الدین شینواری، جنرل سیکرٹری مسلم لیگ (ن) ساجد علی آفریدی، رہنما جماعت اسلامی و ممبر تحصیل کونسل عبدالروف شینواری، پی ٹی آئی پارلیمانی لیڈر ابودردا شینواری، جے یو آئی ف کے جنرل سیکرٹری مولانا عاقب شینواری، ٹرانسپورٹ یونین کے صدر حاجی عظیم اللہ شینواری، ایس ایچ او لنڈی کوتل عدنان آفریدی اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر شہاب الدین شریک ہوئے۔

    صدر سپورٹس کلب معراج الدین شینواری نے علمائے کرام پر زور دیا کہ وہ منبر و محراب کے ذریعے معاشرے کو منشیات کے خلاف شعور دیں اور حکومت کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ علماء کی آواز عوامی ذہن سازی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

    ایس ایچ او عدنان آفریدی نے یقین دہانی کرائی کہ منشیات فروشوں سے کسی قسم کی رعایت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے عوام اور صحافیوں سے اپیل کی کہ وہ پولیس سے تعاون کریں اور منشیات کے متعلق اطلاع فوری دیں تاکہ کارروائی ممکن ہو سکے۔

    ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر شہاب الدین نے اپنی گفتگو میں کہا کہ منشیات کے خلاف مہم میں انتظامیہ ہر ممکن کردار ادا کرے گی، تاہم والدین، اساتذہ اور سماجی رہنما بھی اس جدوجہد میں شریک ہوں۔

    دیگر مقررین نے کہا کہ نوجوان نسل کو نشے سے بچانے کے لیے حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ والدین، اساتذہ، علماء، میڈیا اور سماجی تنظیموں کو بھی متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔ والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں کیونکہ یہی عمر منشیات فروشوں کے لیے آسان ہدف ہے۔

    شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ منشیات فروشی میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزائیں دی جائیں تاکہ وہ دوسروں کے لیے نشان عبرت بنیں۔ اس موقع پر میڈیا سے بھی کہا گیا کہ وہ نشے کے خلاف مؤثر آگاہی مہم چلائیں تاکہ خیبر اور پورے پاکستان میں ایک صحت مند معاشرہ قائم ہو سکے۔

  • وزیرستان، بارشیں،سیلابی ریلے، لینڈ مائنز،دھماکہ خیز مواد کا خطرہ،احتیاط کی ہدایت

    وزیرستان، بارشیں،سیلابی ریلے، لینڈ مائنز،دھماکہ خیز مواد کا خطرہ،احتیاط کی ہدایت

    افغانستان سے ملحقہ قبائلی اضلاع، بالخصوص وزیرستان کے بارڈر کے قریبی علاقوں میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث لینڈ مائنز اور دیگر غیر پھٹے دھماکہ خیز مواد کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔

    سیلابی پانی نے سرحدی پہاڑی علاقوں سے یہ مواد بہا کر ندی نالوں اور میدانی آبادیوں تک پہنچا دیا ہے، جو مقامی افراد خصوصاً بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔سیکیورٹی اداروں اور مقامی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ندی نالوں، سیلابی راستوں اور غیر محفوظ، نامعلوم علاقوں میں جانے سے مکمل پرہیز کریں۔ والدین سے خاص طور پر گزارش کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں اور انہیں ایسی جگہوں سے دور رکھیں جہاں دھماکہ خیز مواد موجود ہونے کا خطرہ ہو۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مشکوک یا غیر معمولی دھات یا پیکٹ جیسی چیز نظر آئے تو ہرگز اسے نہ چھوا جائے، فوری طور پر قریبی پولیس تھانے، ریسکیو 1122 یا سیکیورٹی فورسز کو اطلاع دی جائے۔ ذرائع کے مطابق یہ مواد معمولی چھیڑ چھاڑ سے بھی دھماکہ کر سکتا ہے، جو جان لیوا حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔

  • کے پی پولیس کے دو سراغ رساں کتے ریٹائر ہوگئے

    کے پی پولیس کے دو سراغ رساں کتے ریٹائر ہوگئے

    پشاور:دہشتگردوں کے درجنوں منصوبے ناکام بنانے والے کے پی پولیس کے دو سراغ رساں کتے ریٹائرڈ ہوگئے۔

    کے پی پولیس کے دو سراغ رساں کتے اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے دس سال بعد اسپیشل یونٹ سے جدا ہوگئے، دونوں بی ڈی یو خیبرپختونخوا کے اس یونٹ کا حصہ تھے جو وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ، گورنر، اور اعلیٰ سکیورٹی حکام کی سکیورٹی کلیئرنس سے لےکر قبائلی اضلاع میں بموں کو ناکارہ بنانے کے لئے خدمات سر انجام دیتا ہے، برٹش ڈاگز کو ریٹائرمنٹ کے بعد گود لینے والوں کی لائنیں لگ گئیں، پولیس کا ہتھیار کہلانے والے ڈیٹکیٹو ڈاگز مزید سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشنز کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    ائیر انڈیا حادثہ:پائلٹ کے ڈپریشن اور دماغی مسائل میں مبتلا ہونے کا انکشاف

    اس حوالے سے کے پی کے نائن یونٹ کے ڈاریکٹر عادل ابدال نے نجی خبررساں ادارے کو بتایا کہ دونوں سراغ رساں کتوں کا سکیورٹی آپریشنز میں اہم کردار ہوتا تھا، دو بڑی آئی ڈیز جن سے تباہی ہو سکتی تھی وہ بھی انہوں نے ناکارہ بنانے میں مدد دی، روٹس کلئیرنس کے دوران مشتبہ درجنوں اشیا کے حوالے سے یونٹ کو باخبر رکھنے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیاان کی مخصوص تربیت ہوتی ہے ٹریننگ کے بعد ان کو کے نائن یونٹ کا حصہ بنایا جاتا ہے ان کی عمر بڑھنے کی وجہ سے انکی ریٹائرمنٹ ہوگئی لیکن پھر بھی یہ کے پی پولیس کا اثاثہ ہی رہیں گے

    پاکستان اور روس کے درمیان آئندہ ماہ مال بردار ٹرین چلانے کا اعلان

  • سانحہ سوات :  رپورٹ پشاور ہائیکورٹ میں جمع ، حکومتی اقدامات اور نظام میں خامیوں کا انکشاف

    سانحہ سوات : رپورٹ پشاور ہائیکورٹ میں جمع ، حکومتی اقدامات اور نظام میں خامیوں کا انکشاف

    پشاور ہائیکورٹ میں سانحہ سوات سے متعلق 384 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ جمع کرا دی گئی۔

    عدالت نے دریا کنارے غیر محفوظ تعمیرات اور سیلابی خطرات کے پیش نظر دریاؤں کو محفوظ بنانے سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کی تھی رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے 10 افسران اور ذمے دار افراد کے بیانات قلمبند کیے اور واقعے کی تحقیقات کیلئے محکموں کے افسران کو الگ الگ تفتیش کیلئے بلایاجن میں سوات پولیس کے سربراہ، ڈی جی ریسکیو، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ، ڈی جی پی ڈی ایم اے، ڈپٹی کمشنر سوات، ٹی ایم او سوات، اور کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق پولیس، ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور دیگر محکموں نے اپنی تفصیلی رپورٹس جمع کرائیں۔ ان رپورٹس میں سیلاب سے پہلے اور بعد میں کی گئی تیاریوں، حکومتی ردعمل اور معطل کیے گئے افسران کے حوالے سے تفصیلات موجود ہیں رپوٹ میں واقعے کے بعد حکومتی اقدامات، معطل افسران، سیلاب سے پہلے اوربعد میں کی گئی تیاریوں کی تفصیلات، اور سانحہ سے قبل کیے گئے اقدامات اور نظام میں موجود خامیوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سانحہ سوات کے 3 دن بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے تجاوزات کے خلاف آپریشن کی ہدایت کی تاہم اس سے پہلے کسی موثر اقدام کا کوئی ثبوت نہیں ملا، رپورٹ میں بارشوں سے جاری پیشگی آگاہی پیغامات کے ثبوت بھی عدالت کو فراہم کیے گئے،رپورٹ میں محکموں کی باہمی کوآرڈینیشن کی کمی اور خطرات سے نمٹنے کے لیے مناسب حکمت عملی نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مون سون بارشوں کی پیش گوئی، دفعہ 144 کے نفاذ اور خطرات سے آگاہی سے متعلق جاری کردہ اعلامیے موجود تھے، تاہم ان پر موثر عملدرآمد نہیں کیا گیا اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بروقت پیشگی آگاہی دینے کے شواہد بھی رپورٹ میں شامل ہیں، مگر نظام کی خامیوں نے نقصان کو بڑھا دیا۔

    آئندہ ماہ ای وی پنک موٹر سائیکل مفت میں خواتین کو دی جائیں گی، شرجیل میمن

  • سانحہ سوات، پشاور ہائیکورٹ میں تحقیقات رپورٹ پیش

    سانحہ سوات، پشاور ہائیکورٹ میں تحقیقات رپورٹ پیش

    پشاور: پشاور ہائی کورٹ میں سانحہ سوات کے حوالے سے ایک تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ جمع کرا دی گئی ہے جس میں مجموعی طور پر 384 صفحات شامل ہیں۔ رپورٹ میں سیلاب سے پہلے اور بعد کی تیاریوں، حکومتی اقدامات اور معطل کیے گئے افسران کی تفصیلات کو جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

    تحقیقاتی کمیٹی نے سانحہ سوات کے پس منظر، اس کے اسباب، اور ممکنہ حفاظتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمیٹی نے 10 مختلف افسران اور ذمہ دار افراد کے بیانات قلمبند کیے ہیں جن میں سیلاب سے پہلے کی تیاریاں اور حکومتی ردعمل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ سانحہ کے تین دن بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے تجاوزات کے خلاف سخت آپریشن کی ہدایت جاری کی تھی جس کا تذکرہ بھی رپورٹ میں موجود ہے۔

    رپورٹ میں محکمہ جات کے افسران کو الگ الگ تفتیش کے لیے طلب کرنے اور ان سے سوالات کرنے کے عمل کا بھی ذکر ہے۔ اس دوران ان سے متعلقہ معلومات اور دستاویزات بھی حاصل کی گئیں تاکہ واقعے کی تمام پہلوؤں کو سمجھا جا سکے۔مزید براں، رپورٹ میں سانحہ سے پہلے کیے گئے حفاظتی اقدامات، موجودہ نظام میں موجود خامیوں، اور ان خامیوں کی اصلاح کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی تفصیل بھی شامل ہے۔ بارش کی پیشگوئی اور دفعہ 144 کے نفاذ کے اعلانات بھی عدالت میں جمع کرائے گئے، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ متعلقہ حکام کو قبل از وقت ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ، مون سون بارشوں کے متعلق پیشگی آگاہی پیغامات اور ان کے ثبوت بھی عدالت کے سامنے پیش کیے گئے ہیں تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ انتظامیہ نے کس حد تک بروقت اور مؤثر اقدامات کیے۔

  • شاندانہ گلزار کے ایس ایچ او پر الزامات،تحقیقات کا حکم

    شاندانہ گلزار کے ایس ایچ او پر الزامات،تحقیقات کا حکم

    پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے ضلع بڈھ بیر میں مقامی ایس ایچ او پر ایف سی آر (فرنٹیئر کرائم ریگولیشن) نافذ کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڈھ بیر کے علاقے میں ایس ایچ او قانون سے تجاوز کرتے ہوئے لوگوں کو بلاوجہ گھروں سے اٹھا کر لاپتہ کر رہے ہیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

    شاندانہ گلزار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بڈھ بیر میں ایس ایچ او نے چادر اور چار دیواری کی حفاظت کو پامال کرتے ہوئے ایف سی آر کی طرح غیر قانونی طریقوں سے لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ ایس ایچ او کو فوری طور پر معطل کیا جائے ورنہ وہ سخت احتجاج پر مجبور ہوں گی۔

    شاندانہ گلزار کے اس الزام کے بعد خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ آئی جی ذوالفقار حمید نے فوری نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او کو حکم دیا ہے کہ وہ ایس ایچ او بڈھ بیر کے خلاف انکوائری عمل میں لائیں۔ آئی جی نے ہدایت دی ہے کہ 48 گھنٹوں کے اندر اندر مکمل رپورٹ پیش کی جائے تاکہ واقعے کی اصل وجوہات کا پتا چلایا جا سکے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

  • نیب نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی اور اعظم سواتی کو طلب کر لیا

    نیب نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی اور اعظم سواتی کو طلب کر لیا

    قومی احتساب بیورو (نیب) خیبرپختونخوا نے آمدنی سے زیادہ اثاثہ جات سے متعلق معاملے میں وزیر اعلی علی امین گنڈاپور کے معاون خصوصی امجد علی کو طلب کرلیا۔

    کوہستان 36 ارب میگا کرپشن کیس میں اعظم سواتی کو بھی نیب نے دوبارہ طلب کرلیا مبینہ کرپشن پر معاون خصوصی امجد علی کو 17 جولائی کو نیب میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے، اور نیب میں 2013 سے اب تک اثاثوں اور ٹیکس جمع کرنے کی تفصیلات جمع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    نیب خیبر پختونخوا نے اعظم سواتی کو بھی 17 جولائی کو پیش ہونے کی ہدایت کر دی نیب کا کہنا تھا کہ کوہستان 36 ارب روپے کرپشن میں جو دستاویز پیش کیے ہیں اس میں کچھ خامیاں موجود ہیں، ضلع کوہستان میں سرکاری فنڈز کے غیر قانونی اخراجات کی تحقیقات جاری ہیں۔

    نیب کی جانب سے جاری سمن میں کہا گیا ہے کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس، اے جی آفس اور پرائیویٹ کنٹریکٹرز پر اربوں کی مبینہ خوردبرد میں ملوث ہونےکا الزام ہے،سرکاری خزانے سے 36 ارب روپے سے زائد کی رقم مبینہ غیرقانونی طریقے سے نکالنےکا انکشاف ہوا ہے،اعظم سواتی کو 17 جولائی کو نیب پشاور آفس طلب کیا گیا ہے، اعظم سواتی کو ریکارڈ میں خامیوں کی وضاحت کے لیے نیب کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے، عدم پیشی کی صورت میں اعظم سواتی کے خلاف سخت کارروائی ہو سکتی ہے۔

  • چار گھنٹوں  میں انڈیا کو لپیٹنے والی ہماری ریاست اتنی کمزور نہیں،مولانا فضل الرحمان

    چار گھنٹوں میں انڈیا کو لپیٹنے والی ہماری ریاست اتنی کمزور نہیں،مولانا فضل الرحمان

    سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے تعلقات میں میانہ روی اور اختلاف کو اختلاف تک رکھنا چاہتے ہیں-

    چارسدہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ مدارس بل پر حکومتی اتحاد کے بدنیتی ظاہر ہو چکی ہے، صدر مملکت نے مدارس آرڈیننس ایکٹ پر دستخط کیے ہیں، مدارس آرڈیننس کو توسیع دی جار ہی ہے مگر قانون سازی نہیں ہو رہی، مدارس ترمیمی بل کے حوالے سے حکومت کے عزائم ٹھیک نہیں ہیں، مدارس ترمیم بل کے حوالے سے فیصلہ وفاق المدارس اور تنظیمات مدارس کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ امن و امان اور شہریوں کے جان ومال کی ذمہ داری ریاست کی ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کےجان و مال کی حفاظت کریں چار دہائیوں سے دہشت گردی کے واقعات ریاستی اداروں کا منہ چڑا رہے ہیں، چار گھنٹوں میں انڈیا کو لپیٹنے والی ہماری ریاست اتنی کمزور نہیں، سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ چار دہائیوں سے جاری دہشت گردی پر قابو کیوں نہیں پایا جارہا؟ ریاستی ادارے دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالے سے سنجیدہ نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے عوام پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگا رہے ہیں،عوام نے سوات سے لے کروزیرستان تک چند گھنٹوں میں علاقے خالی کیے، آج بھی وہ لوگ اپنے ہی ملک میں مہاجر ہیں، سیکیورٹی ادارے ایک بار پھر عوام کو علاقے خالی کرنے کا کہہ رہے ہیں، ریاستی ادارے اپنی ناکامی کی ذمہ داری عوام پر نہ ڈالیں، ادارے اپنے گریباں میں جھانک اپنا امتحان لیں مگر یہاں تو ادارے ٹانگ پر ٹانگ ڈال کر عوام پر رعب ڈال رہے ہیں، ریاستی اداروں کا لب و لہجہ رعب والا ہوتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے ہر میٹنگ اور جرگہ میں عام لوگوں کو اپنے لہجے سے مرعوب کر رہے ہیں، ریاستی ادارے اپنا لب و لہجہ سیدھا کرلیں، ادارے ہمارے ساتھ انسان اور پاکستانی بن کر بات کریں، اداروں کے لوگ مافوق الفطرت نہیں ہیں اور نہ یہ عوام سے بالاتر ہیں، ریاستی اداروں کے لوگ ہماری طرح کے انسان ہیں اور ہمارا اور ان کا شناختی کارڈ ایک ہے، مجھے اس بات پر تشویش ہے کہ ریاستی ادارے جرگے بلاکر ان کو دھمکیاں دیتے ہیں۔

    سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ صرف اور صرف اسٹیبلشمنٹ موجودہ حالات کی ذمہ دار ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے عوام پر الزامات لگا رہے ہیں، خیبر پختون خوا میں اپوزیشن پارٹیاں ایک مخصوص نشست کے لیے عدالتوں میں جا رہی ہے، مسلم لیگ ن نے مخصوص نشست پر عدالت میں جے یو آئی کے خلاف کیس دائر کیا ہے، موجود ہ حالات میں مسلم لیگ ن کا یہ اقدام کس کو فائدہ دے گا؟ ایسی اپوزیشن کا میں کیا کرو ں جس کا ہر قدم صوبائی حکومت کے فائدے میں جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختون وا میں موجودہ اپوزیشن کے ساتھ ان حالات میں کیسے چلیں گے؟ہم معتدل سیاست کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں، حکمران بھی ہمیں لچر زبان میں جوا ب اور گالیاں دے رہے ہیں، اپوزیشن جماعتیں بھی ہمارے خلاف عدالتوں میں جار ہی ہے، ایسی صورتحال میں خیبر پختون خوا میں عدم اعتماد کا سوچ غلط ہے۔

    انہوں ںے کہا کہ افغانستان سے تعلقات بہتر بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے، ہم افغانستان کے خلاف پہلے کاروائی اور بعد میں بات چیت شروع کرتے ہیں، افغانستان کے خلاف کارروائی سے تلخیاں پیدا ہوتی ہے اور مذاکرات کا ماحول ختم ہو جاتا ہے، میثاق جمہوریت پر ہم ایک بار ہاں کر چکے ہیں، جے یو آئی آج بھی میثاق جمہوریت پر قائم ہے، اگر سیاست دان میثاق جمہوریت پر عمل کریں تو ایک بہتر ماحول پیدا ہو سکتا ہے میں پی ٹی آئی کے ساتھ اختلاف ختم نہیں کررہا لیکن تعلقات کو بہتر بنانا میرے مقاصد میں سے ہے، میں پی ٹی آئی سے اختلاف کو اختلاف کی حد تک رکھ کر تلخیوں کو دور کرنا چاہتاہوں، میں پی ٹی آئی کی تلخی اور بداخلاقی پر کوئی جواب نہیں دینا چاہتا۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا جواب ان سے پوچھ لیں اس غیر معقول سوال کا جواب میں کیوں دوں؟ میں نے خیبر پختو خوا میں عدم اعتماد کی بات پی ٹی آئی کے خلاف نہیں کی، میں نے مشورہ دیا ہے کہ صوبے میں تبدیلی کی ضرورت ہے، میں نے پی ٹی آئی کے اندر تبدیلی لانے کی بات کی ہے، میں نے اپوزیشن کی سودا بازیوں اور ارکان توڑنے کے بجائے پی ٹی آئی کے اندر نئی ایڈمنسٹریشن کی بات کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں خیبر پختونخوا سیاسی کشمکش کا متحمل نہیں ہوسکتا، آج بھی کہتا ہوں کہ اس صوبے کی اکثریت جعلی ہے، پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہے اور عدالت نے تسلیم بھی کیا ہے، ساری دنیا پی ٹی آئی کی حکومت مان رہی ہے ،اس میں ہم کچھ نہیں کرسکتے، تاریخ فیصلہ کرے گی کہ مینڈیٹ چوری کے حوالے سے ہمارا دعویٰ غلط یا درست ؟-