Baaghi TV

Category: پشاور

  • سانحہ سوات،ضلعی انتظامیہ، محکمہ آبپاشی، بلدیات اور ریسکیو 1122ذمہ دار قرار

    سانحہ سوات،ضلعی انتظامیہ، محکمہ آبپاشی، بلدیات اور ریسکیو 1122ذمہ دار قرار

    صوبائی انسپکشن کمیٹی نے دریائے سوات میں 26 جون کو پیش آنے والے سیلابی ریلے کے باعث 13 افراد کے ڈوبنے کے واقعے کی جامع انکوائری مکمل کر کے 63 صفحات پر مشتمل رپورٹ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو پیش کر دی ہے۔

    رپورٹ میں ضلعی انتظامیہ، محکمہ آبپاشی، بلدیات اور ریسکیو 1122 کو اس حادثے کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے رپورٹ میں شامل کوتاہیوں کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے متعلقہ افراد کے خلاف سخت تادیبی کارروائیاں کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔رپورٹ کے مطابق مختلف محکموں بشمول محکمہ پولیس، ریونیو، ایریگیشن، ریسکیو، اور ٹورازم پولیس کے درمیان فیلڈ میں کوآرڈینیشن کا شدید فقدان رہا، جس کی وجہ سے امدادی کارروائیاں بروقت اور مؤثر طریقے سے انجام نہ دی جا سکیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ تمام متعلقہ محکمے 60 دن کے اندر اپنی تمام قانونی ذمہ داریاں پوری کریں اور کوتاہی برتنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔مزید برآں، رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ متعلقہ ادارے 30 دن کے اندر اپنی کوتاہیوں کو دور کریں تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

    وزیراعلیٰ نے چیف سیکرٹری کی قیادت میں ایک اورسائٹ کمیٹی بنانے کی منظوری دی ہے جو ماہانہ بنیادوں پر وزیراعلیٰ کو رپورٹ پیش کرے گی۔ یہ کمیٹی ریور سیفٹی ماڈیولز کی تشکیل، اگلے مون سون کے دوران ایمرجنسی پلان بنانے، اور ریسکیو 1122 کی استعداد بڑھانے کے لیے منصوبہ بندی کرے گی۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دریاؤں کے اطراف سیاحتی مقامات میں حفاظتی خطرات کی کوئی درجہ بندی نہیں کی گئی، جبکہ آبی گزرگاہوں پر غیر قانونی تعمیرات روکنے کے لیے اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ صوبہ بھر میں تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کے دوران 127 غیر قانونی عمارتوں کو سیل کیا گیا اور 682 کنال زمین پر تعمیرات کو مسمار کیا گیا۔رپورٹ میں آئندہ ایسے سیلابی حادثات سے نمٹنے کے لیے 36 نئے ریسکیو اسٹیشنز کے قیام، جدید ریسکیو آلات کی خریداری اور 70 کمپیکٹ ریسکیو اسٹیشنز قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے قیام کی منظوری بھی دی گئی ہے تاکہ بروقت خطرات کی نشاندہی اور مؤثر ردعمل ممکن ہو سکے۔

    یاد رہے کہ 26 جون کو دریائے سوات میں آنے والے سیلابی ریلے کے باعث 17 افراد بہہ گئے تھے، جن میں سے 4 کو بچالیا گیا جبکہ 12 کی لاشیں مل چکی ہیں اور ایک لاش اب تک نہیں ملی۔

  • ضلع کرم،گاڑی کھائی میں‌گر گئی،سات افراد کی موت

    ضلع کرم،گاڑی کھائی میں‌گر گئی،سات افراد کی موت

    ضلع کرم کے علاقے گندال میں ایک سنگین حادثہ پیش آیا جس میں ایک گاڑی کھائی میں گر گئی۔ اس حادثے میں 7 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ 2 افراد زخمی ہوئے۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور گاڑی میں پھنسے ہوئے تمام افراد کو نکال کر قریبی ہسپتال منتقل کیا۔ ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 7 ہے جبکہ زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    زخمیوں کو فوری طبی امداد دی جارہی ہے اور ہسپتال میں ان کا علاج جاری ہے۔ مقامی انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور حادثے کی وجہ جاننے کے لیے کارروائی کی جارہی ہے۔

    یہ حادثہ ضلع کرم میں سڑکوں کی خراب حالت اور موسمی حالات کے پیش نظر پیش آنے والے حادثات میں ایک اور افسوسناک اضافہ ہے۔ متعلقہ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سفر کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

  • شبلی فراز کی اوپن ہارٹ سرجری پر غور

    شبلی فراز کی اوپن ہارٹ سرجری پر غور

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سینیٹ میں قائدِ حزب اختلاف شبلی فراز کی صحت کی سنگینی کے باعث ان کی اوپن ہارٹ سرجری کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔ شبلی فراز اس وقت پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زیرِ علاج ہیں جہاں ان کے طبی معائنے اور ٹیسٹ جاری ہیں۔

    ہسپتال ذرائع کے مطابق شبلی فراز کو بعض اوقات دل میں درد محسوس ہوتا ہے جبکہ ان کا بلڈ پریشر بھی بلند ہے۔ ان کی دل کی مرکزی شریانوں میں سے ایک شریان پر مسلز بریج کی تشخیص ہوئی ہے، جس کی وجہ سے شریان میں خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور اس سے دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ڈاکٹروں نے ان کی حالت کے پیشِ نظر ممکنہ طور پر اوپن ہارٹ سرجری کا مشورہ دیا ہے، تاہم حتمی فیصلہ ٹیسٹوں کے نتائج کے بعد کیا جائے گا۔

    شبلی فراز نے اپنی صحت کے حوالے سے بتایا کہ انہیں دل کی بیماری کافی عرصے سے ہے لیکن وہ اس سلسلے میں احتیاط نہیں کر رہے تھے اور ادویات کا بھی صحیح استعمال نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ معمولی ذہنی دباؤ (ٹینشن) بھی ان کی صحت پر منفی اثر ڈال رہا تھا۔انہوں نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کی صحت کے لیے دعا کریں اور وعدہ کیا کہ آئندہ وہ اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں گے تاکہ بہتر زندگی گزار سکیں۔

  • ویمن یونیورسٹی کی ویڈیو ٹک ٹاک پر شیئر کرنے کا الزام ،ڈپٹی کمشنر صوابی طلب

    ویمن یونیورسٹی کی ویڈیو ٹک ٹاک پر شیئر کرنے کا الزام ،ڈپٹی کمشنر صوابی طلب

    ویمن یونیورسٹی کی ویڈیو ٹک ٹاک پر شیئر کرنے کے الزام میں عدالت نے ڈپٹی کمشنر صوابی کو طلب کرلیا۔

    پشاور ہائیکورٹ میں ویمن یونیورسٹی صوابی کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر شیئر کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، کیس کی سماعت جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی،سماعت کے دوران ڈپٹی کمشنر صوابی اور وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی صوابی کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا ہے۔

    درخواست گزار کے وکیل محمد حمدان ایڈووکیٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ڈپٹی کمشنر صوابی نے بغیر اجازت ویمن یونیورسٹی کی ویڈیو اپنے ذاتی ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر شیئر کی، جس سے طالبات کی پرائیویسی متاثر ہوئی ہے، نہ صرف طالبات بلکہ مقامی افراد نے بھی اس اقدام پر اعتراض کیا ہے۔

    ہمیں علم ہے صدر ،وزیراعظم اور آرمی چیف کیخلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ مہم کے پیچھے کون عناصر ہیں،محسن نقوی

    عدالتی کارروائی کے دوران جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ کیا ہو رہا ہے؟ جس پر اے اے جی نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے جواب جمع کرایا جا چکا ہے عدالت نے استفسار کیا کہ ویمن یونیورسٹی کا اس معاملے پر مؤقف کیا ہے اور وائس چانسلر کیوں پیش نہیں ہوئے؟-

    وکیل درخواست گزار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری افسران کو صرف ایکس اور فیس بک کے استعمال کی اجازت ہے، جب کہ یہ نوٹیفکیشن 2018 میں جاری ہوا تھا،جبکہ ڈپٹی کمشنر نے 2025 میں اپنے ذاتی ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر یونیورسٹی کی ویڈیوز اپلوڈ کیں، جو سراسر خلاف ضابطہ اقدام ہے۔

    جنوبی کوریا کے سابق صدر دوسری بار گرفتار

    عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 23 جولائی مقرر کرتے ہوئے وی سی ویمن یونیورسٹی صوابی اور ڈپٹی کمشنر صوابی کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔

  • سانحہ سوات کی انکوائری کمیٹی مقررہ وقت تک رپورٹ پیش کرنے میں ناکام

    سانحہ سوات کی انکوائری کمیٹی مقررہ وقت تک رپورٹ پیش کرنے میں ناکام

    سانحہ سوات کے حوالے سے قائم کی گئی تین رکنی انکوائری کمیٹی مقررہ ڈیڈ لائن کے باوجود اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے اس کمیٹی کو صرف سات روز میں تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دی تھی، لیکن اب تک رپورٹ مکمل نہیں ہو سکی۔

    انکوائری کمیٹی نے واقعے کی مکمل چھان بین کے لیے پچاس سے زائد متعلقہ افسران اور اہلکاروں کے بیانات قلم بند کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ریسکیو، آبپاشی، ریلیف، پی ڈی ایم اے، ٹی ایم اے اور دیگر متعلقہ محکموں سے بھی تحقیقات کی گئی ہیں تاکہ واقعے کی اصل وجوہات اور امدادی اقدامات کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔انکوائری کمیٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ تیار کرنے کا کام جاری ہے اور اسے دو سے تین روز کے اندر حکومت کو پیش کر دیا جائے گا۔ کمیٹی کی جانب سے اس تاخیر کی وجہ رپورٹ کی جامع تیاری اور تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ قرار دی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ 27 جون کو دریائے سوات میں شدید سیلاب کے باعث پھنس جانے والے 13 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس حادثے نے سوات کے عوام میں شدید صدمہ اور تشویش پیدا کی تھی، جس کے بعد فوری طور پر ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی تاکہ ذمہ داروں کا تعین اور مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے سفارشات مرتب کی جا سکیں۔

  • بنوں میں پولیس سے جھڑپ، ڈرون اور راکٹ لانچر استعمال

    بنوں میں پولیس سے جھڑپ، ڈرون اور راکٹ لانچر استعمال

    خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے علاقے میریان میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے، جس کے دوران ڈرون حملے اور راکٹ لانچر کا استعمال بھی کیا گیا۔

    آر پی او بنوں سجاد خان کے مطابق دہشت گردوں کی فائرنگ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کی بھاری نفری اور بکتر بند گاڑیاں فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئیں۔دوسری جانب ڈی آئی جی بنوں نے تصدیق کی ہے کہ جھڑپ کے دوران پولیس پر دہشت گردوں کی جانب سے ڈرون حملے بھی کیے گئے، جن میں ایک کانسٹیبل معمولی زخمی ہوا ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق جوابی کارروائی میں متعدد دہشت گردوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ دہشت گردوں کی جانب سے راکٹ لانچر کا استعمال بھی کیا گیا۔فورسز کی جانب سے علاقے میں آپریشن جاری ہے، اور صورتحال کو مکمل کنٹرول میں لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر اختیار کریں اور تعاون جاری رکھیں۔

    مودی حکومت کے خلاف مزدور،کسان سڑکوں پر،بھارت بند،تاریخی ہڑتال

    فرانسیسی رافیل سمیت تین بھارتی طیاروں کے نقصان کے شواہد موجود ہیں،سربراہ فرانسیسی فضائیہ

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، 4 دہشت گرد گرفتار

    پنجاب میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی ٹرانسفر فیس میں 10 فیصد اضافہ

  • خیبرپختونخوا، پولیس شہداء پیکیج اور یونیفارم الاؤنس میں نمایاں اضافہ

    خیبرپختونخوا، پولیس شہداء پیکیج اور یونیفارم الاؤنس میں نمایاں اضافہ

    خیبرپختونخوا حکومت نے پولیس اہلکاروں کے لیے شہداء پیکیج اور یونیفارم الاؤنس میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن صوبائی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کر دیا گیا۔

    کانسٹیبل رینک کے لیے شہداء پیکیج میں 10 لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ رقم 1 کروڑ سے بڑھ کر 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ہو گئی ہے جبکہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) لیول کے افسران کے لیے پیکیج میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس سے یہ رقم 2 کروڑ 10 لاکھ روپے تک جا پہنچی ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق شہداء کے اہل خانہ کو پلاٹ بھی فراہم کیے جائیں گے، جن کی تقسیم شہید کے رینک کے مطابق ہوگی — 5 مرلے سے لے کر 1 کنال تک۔اس کے علاوہ کانسٹیبل سے انسپکٹر رینک تک کے اہلکاروں کے لیے یونیفارم الاؤنس میں 4 ہزار روپے سے 6 ہزار روپے تک کا اضافہ کر دیا گیا ہے، جو اہلکاروں کی فلاح اور پیشہ ورانہ ضروریات کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

    یہ فیصلہ صوبائی حکومت کی جانب سے پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کے اعتراف اور ان کے اہل خانہ کی فلاح و بہبود کے عزم کا مظہر ہے۔

    روس کا یوکرین پر 728 ڈرونز کا ریکارڈ حملہ، عالمی سطح پر نئی پابندیوں کا عندیہ

  • ایمل ولی خان کا ثمر بلور کی مسلم لیگ ن میں شمولیت پر ردعمل

    ایمل ولی خان کا ثمر بلور کی مسلم لیگ ن میں شمولیت پر ردعمل

    پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صدر ایمل ولی خان نے سابق پارٹی رہنما ثمر بلور کی مسلم لیگ ن میں شمولیت پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ثمر بلور کا مسلم لیگ ن میں شامل ہونا حیران کن بات نہیں ہے، کیونکہ متعدد پارٹی رہنماؤں نے پہلے ہی اس امکان کی نشاندہی کر دی تھی۔

    ایمل ولی خان نے کہا کہ ثمر بلور کو صوبائی اسمبلی کی نشست شہید بشیر بلور اور شہید ہارون بلور کے لہو کی قربانیوں کی بدولت ملی تھی، جنہوں نے پارٹی اور عوام کی خدمت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما حاجی غلام احمد بلور آج بھی پارٹی کے ساتھ چٹان کی طرح مضبوطی سے کھڑے ہیں اور ان کی سیاسی زندگی میں 60 سال سے زائد قربانیاں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔صدر اے این پی نے مزید کہا کہ غلام احمد بلور کی عمر اور تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ مزید کسی بھی سیاسی آزمائش کے مستحق نہیں ہیں، اور ان کی قربانیاں پارٹی کے لیے رہنمائی کا منبع ہیں۔

    دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما غلام احمد بلور نے بھی ثمر بلور کی پارٹی چھوڑنے پر ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ثمر بلور کا یہ ذاتی فیصلہ ہے اور وہ اس میں کسی مداخلت کے حق دار نہیں ہیں۔ غلام احمد بلور نے اپنی وفاداری عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ ظاہر کی اور کہا کہ وہ پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    ثمر بلور، جو کہ پشاور کے معروف بلور خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، نے حال ہی میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی ہے۔ وہ عوامی نیشنل پارٹی میں صوبائی سطح کی رہنما تھیں اور 2018 میں ضمنی انتخابات جیت کر پہلی بار صوبائی اسمبلی کی رکن بنیں۔ جون 2020 میں انہیں خیبر پختونخوا اے این پی کی صوبائی سیکرٹری انفارمیشن مقرر کیا گیا تھا۔

    ثمر بلور نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں وفاقی وزیر امیر مقام بھی موجود تھے۔ اس ملاقات کے دوران انہوں نے مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ثمر بلور کی شمولیت سے مسلم لیگ ن کو خیبر پختونخوا میں مضبوطی ملے گی۔ثمر بلور، شہید رہنما ہارون بشیر بلور کی بیوہ ہیں اور انہوں نے تقریباً چار سال تین ماہ (24 اکتوبر 2018 سے 18 جنوری 2023 تک) صوبائی اسمبلی کی رکن کے طور پر خدمات انجام دیں۔

  • بنوں میں مسلح افراد کی جانب سے ڈرون حملے، خاتون جاں بحق

    بنوں میں مسلح افراد کی جانب سے ڈرون حملے، خاتون جاں بحق

    شمالی وزیرستان سے متصل ضلع بنوں میں مسلح افراد کی جانب سے ڈرون حملے کے دوران ایک خاتون جاں بحق اور تین دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق بنوں کے دو مختلف علاقوں میں ایک ڈرون تھانہ میریان اور دوسرا ڈرون ہوید کے علاقے میں ایک گھر پر گرا، جس کے نتیجے میں یہ جانی و مالی نقصان ہوا۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ ڈرون حملہ صبح سویرے کیا گیا، جس میں خاص طور پر تھانہ میریان کے قریب سولر پلیٹس کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔پولیس نے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ مسلح افراد کی جانب سے منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔ اس واقعے کے بعد فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ حملے میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جا سکے اور علاقے کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک افراد یا سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں تاکہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

  • اے این پی کی ثمربلور کامسلم لیگ ن میں شمولیت کا فیصلہ

    اے این پی کی ثمربلور کامسلم لیگ ن میں شمولیت کا فیصلہ

    عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی معروف رہنما ثمربلور نے مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ثمربلور بلور کا تعلق بلور خاندان سے ہے، جو سیاسی لحاظ سے خیبر پختونخوا میں ایک جانی پہچانی شخصیت ہے۔

    ثمر بلور اے این پی کے شہید رہنما ہارون بشیر بلور کی بیوہ ہیں، جنہوں نے پارٹی اور صوبے کی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ثمربلور نے 2018 میں ضمنی انتخابات جیت کر پہلی بار صوبائی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں اور تقریباً چار سال تین مہینے اس عہدے پر فائز رہیں۔ ان کا سیاسی سفر 24 اکتوبر 2018 سے 18 جنوری 2023 تک جاری رہا۔جون 2020 میں انہیں خیبر پختونخوا کی عوانی نیشنل پارٹی کی صوبائی سیکرٹری اطلاعات مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے پارٹی کے پیغام کی عوامی سطح پر تشہیر اور روابط میں اہم کردار ادا کیا۔ ثمربلور نے یہ منفرد اعزاز بھی حاصل کیا کہ وہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی پہلی خاتون رکن تھیں جو عوامی نشست سے منتخب ہوئیں، اور یہ کامیابی 16 سال بعد پشاور میں کسی خاتون کو نصیب ہوئی۔

    ثمر بلور نے جیونیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ آج وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گی اور اس ملاقات کے بعد مسلم لیگ ن میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے انہیں مسلم لیگ ن میں شامل ہونا زیادہ مفید محسوس ہوا ہے۔