Baaghi TV

Category: پشاور

  • علی امین گنڈا پور کا چیلنج ،مولانا فضل الرحمان کے بھائی نے کھری کھری سنا دیں

    علی امین گنڈا پور کا چیلنج ،مولانا فضل الرحمان کے بھائی نے کھری کھری سنا دیں

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بھائی نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا الیکشن لڑنے کا چیلنج قبول کرلیا۔

    مولانا فضل الرحمان کے چھوٹے بھائی انجینئر ضیا الرحمان نے جاری ویڈیو بیان میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا الیکشن لڑنےکا چیلنج قبول کرتے ہوئے کہا ہے علی امین گنڈاپور تمہارا چیلنج قبول ہے، تمہاری اوقات نہیں کہ مولانا فضل الرحمان تمہارا چیلنج قبول کرے،پہلے تم مفتی محمود کے اس بیٹے سے مقابلہ کرکے دکھاؤ۔مولانا فضل الرحمان نے تو تمہارے لیڈر کو اقتدار کی کرسی سے گھسیٹ کر نکالا تھا، تم اپنے بھائی سے استعفیٰ دلوا کر ان کا مجھ سے مقابلہ کراؤ،میں نے ڈی آئی خان کے چوک میں کھڑے ہوکر کہا تھا کہ اگر ان کا ڈی این اے کیاگیا تو یہ گنڈاپور نہیں نکلے گا۔ گنڈاپور بہادر اور غیرت مند لوگ ہیں،مگر یہ ان میں سے نہیں، علی امین گنڈاپور کے انداز گفتگو اور تکلیف سے انہیں معلوم ہوچکا ہے کہ ان کے چل چلاؤ کا زمانہ آچکا ہے۔

    واضح رہے کہ اتوار کو لاہور میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پختونخوا علی امین گنڈا پور نے مولانا فضل الرحمان کو کھلا چیلنج دیا تھا،علی امین گنڈاپور نے مولانا فضل الرحمان کو چیلنج دیتے ہوئے کہا تھا کہ ڈی آئی خان میں میرے بھائی کے خلاف الیکشن جیت کر دکھائیں، مولانا فضل الرحمان نے الیکشن جیت لیا تو میں استعفیٰ دے دونگا۔

  • پشاور پولیس نے نامناسب ویڈیوز بنانے والے ٹک ٹاکر کو دوبارہ گرفتار کر لیا

    پشاور پولیس نے نامناسب ویڈیوز بنانے والے ٹک ٹاکر کو دوبارہ گرفتار کر لیا

    پشاور: پشاور پولیس نے اندرون شہر تحصیل پارک گور کھڑی علاقے سے نامناسب ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والے معروف ٹک ٹاکر ‘ماصل’ کو ایک بار پھر گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم پر مختلف دفعہ منشیات کے استعمال، لڑائی جھگڑے اور غیر اخلاقی ویڈیوز بنانے کے متعدد مقدمات پہلے سے درج ہیں اور وہ عادی مجرم کے طور پر ریکارڈ میں موجود ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق ماصل نے تحصیل پارک گور کھڑی میں متعدد بار ایسے نامناسب اور غیر اخلاقی ویڈیوز بنا کر انہیں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپلوڈ کیا تھا، جس سے عوام میں شدید تشویش اور ناپسندیدگی پائی گئی۔ عوامی حلقوں نے اس قسم کی حرکتوں کی سخت مذمت کی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ملزم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔پولیس نے مزید بتایا کہ ماصل کو تھری ایم پی او (مقامی قانون کے تحت) کے تحت جیل منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ وہ آئندہ ایسے جرائم سے باز رہے۔ پشاور پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھے گی جو معاشرتی اقدار اور اخلاقیات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

  • خیبر پختونخوا میں 32 ارب روپے کا اسکینڈل، غیر رجسٹرڈ ترک کمپنی کو مبینہ فائدہ

    خیبر پختونخوا میں 32 ارب روپے کا اسکینڈل، غیر رجسٹرڈ ترک کمپنی کو مبینہ فائدہ

    خیبر پختونخوا میں ایک اور بڑے مالیاتی اسکینڈل کا انکشاف، کے پی سٹیز امپروومنٹ پراجیکٹ کے تحت غیر رجسٹرڈ غیر ملکی کمپنی کو 32 ارب روپے کا مبینہ مالی فائدہ پہنچایا گیا۔

    یہ انکشاف خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان کی جانب سے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو لکھے گئے خط میں سامنے آیا۔ خط پر دستخط کرنے والوں میں سجاد اللہ، محمد ریاض، آزاد رکن تاج محمد، منیر حسین لغمانی اور پی ٹی آئی کے محمد عارف شامل ہیں۔خط میں الزام لگایا گیا ہے کہ منصوبے میں بولی کے وقت جس ترک کمپنی کو ٹھیکا دیا گیا، وہ ایف بی آر، کے پی ریونیو اتھارٹی اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھی۔ اس کے باوجود کمپنی کو گراؤنڈ پر معمولی پیش رفت کے باوجود 32 ارب روپے جاری کر دیے گئے۔

    خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جھوٹی پیش رفت رپورٹس، ناقص نگرانی، اور عملے و مشیروں کی ملی بھگت سے ادائیگیاں کی گئیں، جب کہ غیر ملکی کمپنی نے مبینہ طور پر ٹیکس چوری بھی کی، جس کا ریکارڈ موجود نہیں۔متاثرہ منصوبہ ایشیائی ترقیاتی بینک، ایشیائی انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک اور خیبر پختونخوا حکومت کے اشتراک سے پشاور، ایبٹ آباد، مردان، کوہاٹ اور مینگورہ میں شہری انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

    چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بابر سلیم سواتی نے اس معاملے پر 17 جولائی کو اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں ڈپٹی آڈیٹر جنرل (نارتھ)، سیکریٹری مواصلات اور سیکریٹری بلدیات سمیت متعلقہ محکموں کو تفصیلی جوابات کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ارکان اسمبلی نے اس معاملے کو نیب، ایف بی آر اور دیگر تحقیقات کرنے والے اداروں کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    وزارت خزانہ کا نیا ماڈل ،ریاستی اداروں کی فنڈنگ کارکردگی سے مشروط

    فریڈم فلوٹیلا کا نیا مشن،اٹلی سے غزہ کے لیے انسانی امداد لے کر کشتی روانہ

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورہ ایران، ایرانی ہم منصب سے ملاقات

    پنجاب اسمبلی: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کمیٹی اجلاس بے نتیجہ

  • امیر مقام کی گورنر خیبر پختونخوا سے ملاقات،  سینیٹ انتخابات پر مشاورت

    امیر مقام کی گورنر خیبر پختونخوا سے ملاقات، سینیٹ انتخابات پر مشاورت

    وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام نے اتوار کے روز گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران صوبے میں امن و امان کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جب کہ آئندہ سینیٹ انتخابات سے متعلق امور اور اپوزیشن کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں اراکین اسمبلی سے رابطوں کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی، جس کا مقصد سیاسی رابطوں کو مزید مؤثر بنانا اور آئندہ انتخابی مراحل میں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہے۔

    بھارت کا میانمار میں ڈرون حملہ، یو ایل ایف اے کے 3 کمانڈر ہلاک

    دلائی لاما کی جانشینی پر بھارت اور چین کے درمیان سفارتی کشیدگی شدت اختیار کر گئی

    آئینی ترمیم،پی ٹی آئی نے ووٹ دینے والے 5 ارکان اسمبلی کو پارٹی سے نکال دیا

  • 90 روزہ تحریک  لگتاہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے،عظمی بخاری

    90 روزہ تحریک لگتاہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے،عظمی بخاری

    پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا مطالعاتی دورے پر لاہور آئے ہیں ، 90 روزہ تحریک حکومت بچانے کا بہانہ ہے،علی امین گنڈا پور صرف بڑھکیں مارتے ہیں، سیاسی لوگ ہی سیاسی لوگوں سے مذاکرات کرتے ہیں-

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ علی امین گنڈاپور بطور وزیر اعلیٰ آئیں تو ان کی مہمان نوازی کریں گے، اگر اسلحے کیساتھ آئیں گے تواس کی اجازت نہیں ہو گی کسی کو پنجاب میں ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دی جائے گی، پنجاب کی ترقی کو آگ نہ لگائیں تو ہمیں وزیراعلیٰ کے لاہور آنے پر کوئی اعتراض نہیں،علی امین گنڈا پور صرف بڑھکیں مارتے ہیں، سیاسی لوگ ہی سیاسی لوگوں سے مذاکرات کرتے ہیں ، جن پر تنقید کرتے ہیں انہی لوگوں کو ہی مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں ،ایک اور 90 دن کا پلان آیا ہے، لگتا ہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور میں پریس کانفرنس میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پارٹی کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور اب تحریک باقاعدہ طور پر شروع کی جا رہی ہے پاکستان میں صرف بانی پی ٹی آئی ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے حقیقی معنوں میں تحریک چلائی اور ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی کی بات کی۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف قائم مقدمات بے بنیاد ہیں، ان میں کچھ بھی نہیں، اور دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں کسی پارٹی کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا گیا جیسا پی ٹی آئی کے ساتھ ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ فسطائیت کے باوجود پی ٹی آئی کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ ’ہم ہر گلی، کوچے، اور قصبے سے عوام کو جمع کریں گے، ہم سے سوال کیا جا رہا ہے کہ ملک کو کہاں لے کر جانا چاہتے ہیں؟ ہم کہتے ہیں ملک کو قانون کی راہ پر لے جانا چاہتے ہیں،سیاسی تحریک کے 90 دن کا آغاز گزشتہ رات سے ہو چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے واضح کیا کہ یہ تحریک ”آر یا پار“ ہوگی اور اس کی قیادت خود بانی پی ٹی آئی کریں گے، اس بار صرف تحریک نہیں بلکہ ایک نظریا تی بیداری کی لہر ہے جو پاکستان بھر میں پھیل چکی ہے،آنے والے 90 دنوں میں فیصلہ ہو جائے گا کہ عوام کا حق غالب آئے گا یا جبر کا نظام باقی رہے گا۔‘

  • تربیلا ڈیم کے اسپل ویز کھولے جارہے ہیں، دریائے سندھ میں سیلاب کا خدشہ، ایڈوائزری جاری

    تربیلا ڈیم کے اسپل ویز کھولے جارہے ہیں، دریائے سندھ میں سیلاب کا خدشہ، ایڈوائزری جاری

    خیبر پختونخوا کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نےوارننگ جاری کی ہے کہ تربیلا ڈیم کے اسپل ویز کھولے جارہے ہیں، لہٰذا شہری دریا ئے سندھ کے قریب جانے سے گریز کریں۔

    اتوار کو جاری کردہ پی ڈی ایم اے الرٹ کے مطابق اسپل ویز کو دوپہر ڈھائی بجے کھولا جائے گا، جس کے نتیجے میں ڈیم سے پانی کے اخراج کے باعث پانی کی سطح ایک لاکھ 60 ہزار سے بڑھ کر 2 لاکھ 60 ہزار کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے دریائے سندھ، اس کی معاون ندیوں اور نہروں میں سیلاب کا خدشہ ہے پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقامی آبادی کو خبردار رکھے، اور عوام پر زور دیا گیا کہ وہ دریا اور نہروں کے قریب نہ جائیں، والدین کو بھی خبردار رہنا چاہیے کہ بچے نہروں کے قریب نہ جائیں، ماہی گیر اور مال مویشی پالنے والے محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں، سیاحوں اور مقامی افراد کو ایڈوائزری پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

    90 روزہ تحریک لگتاہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے،عظمی بخاری

    پی ڈی ایم اے نے کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار صورت حال میں عوام 1700 پر کال کریں،اسی طرح کی وارننگ رواں ماہ کے آغاز میں بھی جاری کی گئی تھی، تربیلا ڈیم کے اسپل ویز کو ممکنہ طور پر سیلابی موسم 2025 میں پہلی بار کھولا جائے گا۔

    5 اگست کوئی ڈیڈ لائن نہیں بلکہ وہ دن تحریک کے عروج کا ہوگا،علی امین

  • پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ: ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان کی درخواستیں قابل سماعت قرار

    پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ: ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان کی درخواستیں قابل سماعت قرار

    پشاور ہائیکورٹ نے ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان کی جانب سے دائر درخواستوں کو قابل سماعت قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس وقار احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے تحریری حکم نامے کے ذریعے سنایا۔

    عدالت نے وفاقی حکومت کی جانب سے درخواستوں کو ناقابلِ سماعت قرار دینے کے دلائل مسترد کر دیے۔ تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ اپنے آئینی اختیارات پر آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ ملٹری کورٹ سے سزا پانے والے ملزمان کو آئین کے تحت ہائیکورٹ میں رٹ دائر کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔

    حکم نامے کے مطابق، وکیلِ صفائی نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزاروں کو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ ان پر الزام کیا ہے۔ عدالت نے وفاق کا یہ مؤقف ناقابلِ قبول قرار دیا کہ اپیل کا وقت گزر چکا ہے، کیونکہ اگر اپیل کا کوئی فورم دستیاب نہ ہو یا وقت گزر چکا ہو تو رٹ پٹیشن ہی واحد راستہ بچتا ہے۔

    مزید کہا گیا کہ وفاقی حکومت یہ ثابت نہیں کر سکی کہ ملزمان کو فیصلے کی کاپی یا مقدمے کا ریکارڈ فراہم کیا گیا، لہٰذا یہ ملزمان کا حق ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے ضروری ریکارڈ تک رسائی حاصل کریں۔ عدالت نے ہدایت دی کہ متعلقہ ریکارڈ اور تفصیلات ملزمان کو فراہم کی جائیں۔

    نادرا کی یتیم و لاوارث بچوں کی رجسٹریشن مہم، 106 بچوں کا اندراج مکمل

    بلوچستان میں 6 ماہ کے دوران دہشتگردی کے 501 واقعات، 257 افراد جاں بحق

    پی ٹی آئی قافلہ لاہور پہنچ گیا، یاسر گیلانی سمیت 4 کارکن گرفتار

    کراچی میں بچوں کے اغوا اور گمشدگی میں خطرناک اضافہ

    ایران سے 5 لاکھ افغان باشندے ملک بدر، کریک ڈاؤن تیز

  • لکی مروت میں دہشت گردوں کا تھانہ گمبیلا پر حملہ ناکام

    لکی مروت میں دہشت گردوں کا تھانہ گمبیلا پر حملہ ناکام

    خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت کے علاقے تھانہ گمبیلا پر دہشت گردوں کی جانب سے حملے کی کوشش کو پولیس نے کامیابی سے ناکام بنا دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق دہشت گردوں کی مشتبہ نقل و حرکت کو بروقت بھانپتے ہوئے سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کی اور فائرنگ کا آغاز کیا جس کے باعث دہشت گرد موقع سے فرار ہوگئے۔

    اس واقعے میں خوش قسمتی سے پولیس کی نفری مکمل طور پر محفوظ رہی اور کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ دہشت گردوں کے حملے کی ناکامی سے علاقہ مکینوں میں بھی امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔اِس موقع پر آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے لکی مروت پولیس کے جوانوں سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور ان کی بروقت کارروائی اور بہادری کو سراہتے ہوئے ان کو خراج تحسین پیش کیا۔ آئی جی کا کہنا تھا کہ پولیس نے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی ادا کیا اور دہشت گردوں کی سازش کو ناکام بنایا۔

    آر پی او بنوں ریجن سجاد خان نے بھی اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے پہلے سے ہی الرٹ ہے اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے جو ہر طرح کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی ادارے اپنی خدمات جاری رکھیں گے تاکہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

  • طورخم بارڈر، انسانی اسمگلنگ میں ملوث  ایجنٹس سمیت 6 افراد گرفتار

    طورخم بارڈر، انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹس سمیت 6 افراد گرفتار

    فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) امیگریشن نے انسانی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بناتے ہوئے طورخم بارڈر سے چار مسافروں اور دو ایجنٹس کو گرفتار کرلیا۔

    ایف آئی اے ترجمان کے مطابق گرفتار افراد افغانستان کے راستے یورپ جانے کی کوشش کر رہے تھے، جنہیں بروقت کارروائی کرتے ہوئے حراست میں لیا گیا۔ گرفتار مسافروں کو مزید تفتیش کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔ایف آئی اے کے مطابق گرفتار مسافروں کی نشاندہی پر دو ایجنٹس کو بھی گرفتار کیا گیا، جن کے قبضے سے غیر قانونی امیگریشن سے متعلق مواد، پیغامات، افغان پاسپورٹ اور روسی زبان میں حلف نامے بھی برآمد ہوئے۔

    فرانس کا برطانیہ سے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا مطالبہ

  • سانحہ سوات،ضلعی انتظامیہ، محکمہ آبپاشی، بلدیات اور ریسکیو 1122ذمہ دار قرار

    سانحہ سوات،ضلعی انتظامیہ، محکمہ آبپاشی، بلدیات اور ریسکیو 1122ذمہ دار قرار

    صوبائی انسپکشن کمیٹی نے دریائے سوات میں 26 جون کو پیش آنے والے سیلابی ریلے کے باعث 13 افراد کے ڈوبنے کے واقعے کی جامع انکوائری مکمل کر کے 63 صفحات پر مشتمل رپورٹ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو پیش کر دی ہے۔

    رپورٹ میں ضلعی انتظامیہ، محکمہ آبپاشی، بلدیات اور ریسکیو 1122 کو اس حادثے کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے رپورٹ میں شامل کوتاہیوں کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے متعلقہ افراد کے خلاف سخت تادیبی کارروائیاں کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔رپورٹ کے مطابق مختلف محکموں بشمول محکمہ پولیس، ریونیو، ایریگیشن، ریسکیو، اور ٹورازم پولیس کے درمیان فیلڈ میں کوآرڈینیشن کا شدید فقدان رہا، جس کی وجہ سے امدادی کارروائیاں بروقت اور مؤثر طریقے سے انجام نہ دی جا سکیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ تمام متعلقہ محکمے 60 دن کے اندر اپنی تمام قانونی ذمہ داریاں پوری کریں اور کوتاہی برتنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔مزید برآں، رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ متعلقہ ادارے 30 دن کے اندر اپنی کوتاہیوں کو دور کریں تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

    وزیراعلیٰ نے چیف سیکرٹری کی قیادت میں ایک اورسائٹ کمیٹی بنانے کی منظوری دی ہے جو ماہانہ بنیادوں پر وزیراعلیٰ کو رپورٹ پیش کرے گی۔ یہ کمیٹی ریور سیفٹی ماڈیولز کی تشکیل، اگلے مون سون کے دوران ایمرجنسی پلان بنانے، اور ریسکیو 1122 کی استعداد بڑھانے کے لیے منصوبہ بندی کرے گی۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دریاؤں کے اطراف سیاحتی مقامات میں حفاظتی خطرات کی کوئی درجہ بندی نہیں کی گئی، جبکہ آبی گزرگاہوں پر غیر قانونی تعمیرات روکنے کے لیے اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ صوبہ بھر میں تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کے دوران 127 غیر قانونی عمارتوں کو سیل کیا گیا اور 682 کنال زمین پر تعمیرات کو مسمار کیا گیا۔رپورٹ میں آئندہ ایسے سیلابی حادثات سے نمٹنے کے لیے 36 نئے ریسکیو اسٹیشنز کے قیام، جدید ریسکیو آلات کی خریداری اور 70 کمپیکٹ ریسکیو اسٹیشنز قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے قیام کی منظوری بھی دی گئی ہے تاکہ بروقت خطرات کی نشاندہی اور مؤثر ردعمل ممکن ہو سکے۔

    یاد رہے کہ 26 جون کو دریائے سوات میں آنے والے سیلابی ریلے کے باعث 17 افراد بہہ گئے تھے، جن میں سے 4 کو بچالیا گیا جبکہ 12 کی لاشیں مل چکی ہیں اور ایک لاش اب تک نہیں ملی۔