Baaghi TV

Category: پشاور

  • سوات،سیاحوں کے بہہ جانے کے بعد وزیراعلیٰ کا نوٹس،4 افسران معطل

    سوات،سیاحوں کے بہہ جانے کے بعد وزیراعلیٰ کا نوٹس،4 افسران معطل

    سوات میں حالیہ سیلابی صورتحال میں سیاحوں کے بہہ جانے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے سخت نوٹس لیتے ہوئے متعدد اعلیٰ سرکاری افسران کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

    وزیراعلیٰ کے ترجمان کے مطابق، عوامی شکایات، تاخیر سے ردعمل اور انتظامی غفلت پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے فوری کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق، ناقص کارکردگی پر معطل ہونے والے افسران میں اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی، اسسٹنٹ کمشنر خوازہ خیلہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف اور ریسکیو 1122 کے ضلعی انچارج شامل ہیں،اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی کو سست ردعمل اور بروقت عوامی مدد نہ کرنے پر معطل کر دیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر خوازہ خیلہ کو پیشگی وارننگ جاری نہ کرنے پر معطل کیا گیا، جس سے نقصانات سے بچاؤ ممکن نہ ہو سکا۔اے ڈی سی ریلیف کو ہنگامی صورتحال میں پیشگی اقدامات نہ کرنے پر ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور فوری معطلی عمل میں لائی گئی۔ریسکیو 1122 سوات کے ضلعی انچارج کو بھی ایمرجنسی کے دوران غیر مؤثر کارکردگی اور ناقص کمانڈ کی بنیاد پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ترجمان کے مطابق، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے وزیراعلیٰ انسپیکشن ٹیم کو معاملے کی مکمل انکوائری کی باضابطہ ہدایات بھی جاری کر دی ہیں تاکہ غفلت کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    ترجمان نے کہا کہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ پر کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی اور جو افسران اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہیں گے، ان کے خلاف سخت ترین اقدام اٹھائے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ آئندہ چند روز میں سوات کا دورہ بھی کر سکتے ہیں تاکہ حالات کا خود جائزہ لے سکیں اور عوام کو یقین دلایا جا سکے کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق باقی سیاحوں کے لیے کسی بھی جگہ کوئی اقدامات نہیں ہے صوبائی حکومتیں مکمل طور پہ غفلت کا شکار ہیں ،صوبائی اورضلعی انتظامیہ کی نااہلی کا بولتا ثبوت یہ ہے کہ راول ڈیم سے لے کے خانپور ڈیم تک پچھلے دنوں کئی اموات واقع ہوئی جس میں سختی سے آرڈر تھے کہ کوئی یہاں نہا نہیں سکتا اس کے باوجود نوجوان سویمنگ کرنے گئے نہانے گئے سلفیاں لینے گئے ،جس میں تین سے چار لوگ راول ڈیم میں ڈوب کر اور چار سے پانچ لوگ خان پور ڈیم میں ڈوب کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے مگر صوبائی حکومتیں اور خاص کر ضلع انتظامیہ پھر بھی بے انتہا غفلت کا شکار نظر آئیں،اس لیے لوگ احتیاط کریں اور خاص کر مون سون کے موسم میں پہاڑی ایریا سے ،کیونکہ وہاں اچانک پانی کے ریلے ا جاتے ہیں جس سے بڑے نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے

  • کرم: سینئر صحافی محمد بلوچ سات ماہ بعد بھی حکومتی معاوضے سے محروم

    کرم: سینئر صحافی محمد بلوچ سات ماہ بعد بھی حکومتی معاوضے سے محروم

    کرم (باغی ٹی وی) ضلع کرم کے علاقے بگن میں 21 نومبر 2024 کی رات ہونے والے افسوسناک واقعے کو سات ماہ گزر چکے ہیں، مگر متاثرین میں شامل سینئر صحافی اور دنیا نیوز سے وابستہ محمد بلوچ تاحال حکومتی معاوضے کے منتظر ہیں۔

    واقعے کے دوران نامعلوم شرپسندوں نے بگن پر حملہ کر کے علاقے کی 1500 سے زائد دکانوں، مارکیٹوں اور رہائشی مکانات کو آگ لگا دی تھی۔ اسی آتشزدگی میں محمد بلوچ کا صحافتی دفتر بھی مکمل طور پر جل گیا، جس کے باعث وہ پیشہ ورانہ سرگرمیاں جاری رکھنے سے قاصر ہیں۔

    واقعے کے بعد حکومت کی جانب سے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے سروے کرایا گیا اور متاثرین کو مالی امداد دینے کا اعلان بھی ہوا، تاہم متعدد متاثرین بشمول محمد بلوچ اب بھی کسی قسم کی مدد سے محروم ہیں۔

    محمد بلوچ نے حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ وہ صحافیوں سمیت تمام متاثرہ افراد کو فوری طور پر معاوضہ فراہم کریں تاکہ وہ دوبارہ اپنے روزگار کو بحال کر سکیں۔ صحافتی حلقوں نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

  • سانحہ سوات،17 افراد بہہ گئے،4 کو بچا لیا گیا،9 کی لاشیں مل گئیں

    سانحہ سوات،17 افراد بہہ گئے،4 کو بچا لیا گیا،9 کی لاشیں مل گئیں

    دریائے سوات میں بارش کے بعد پانی کا ریلہ 17 افراد کو بہا کر لے گیا، جن میں سے 4 افراد کو بچا لیا گیا۔

    سیلابی ریلے میں بہنے والے 9 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ 4 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بہنے والے 17 افراد خشک ٹیلے پر کھڑے ہو کر ایک گھنٹے تک مدد کے لیے پکارتے رہے، مقامی افراد نے اپنے طور پر کشتی سے کوشش کر کے 4 افراد کو بچایا ہے، بہنے والوں میں سے 10 کا تعلق سیالکوٹ، 6 کا مردان اور 1 کا سوات سے ہے، لواحقین نے کہا ہے کہ بہنے والے دریا کے کنارے بیٹھ کر ناشتہ کر رہے تھے، اچانک ریلہ آیا جس کے بعد ان لوگوں نے ایک خشک ٹیلے پر پناہ لی تھی۔

    دوسری طرف سوات کی ضلعی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ متاثرہ افراد خود دریائے سوات کے بیڈ میں گئے، ضلعی انتظامیہ نے انہیں روکنے اور بچانے کی کوشش کی تھی،دریائے سوات میں لاپتہ ہونے والی ایک فمیلی نے ’جیو نیوز‘ کو بتایا کہ متاثرہ خاندان کی 1 خاتون اور 9 بچے دریا میں تھے جو سب لاپتہ ہو گئے،انہوں نے کہا کہ خاتون کی لاش مل گئی ہے جبکہ 9 بچوں کی تلاش جاری ہے،متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ بچے دریا میں تصویر بنانے گئے تھے کہ اچانک ریلہ آ گیا۔

  • سوات حادثہ،مولانا فضل الرحمٰن کا گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

    سوات حادثہ،مولانا فضل الرحمٰن کا گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

    جمعیۃ علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے دریائے سوات میں پیش آنے والے افسوس ناک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے سیاحوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوات میں اتنی بڑی تعداد میں سیاحوں کی ہلاکت ایک دل خراش سانحہ ہے، جس پر ہر اہلِ دل کا دل اشکبار ہے۔

    مولانا فضل الرحمٰن نے اس افسوسناک واقعے کا ذمہ دار حکومتی نااہلی اور سیاحوں کے تحفظ کے حوالے سے موثر اقدامات نہ ہونے کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر متعلقہ ادارے اور حکومت پیشگی حفاظتی اقدامات کرلیتے تو شاید یہ قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء اسلام اس دکھ کی گھڑی میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے ریسکیو اداروں سے مطالبہ کیا کہ امدادی سرگرمیوں میں تیزی لائی جائے اور فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید قیمتی جانوں کا ضیاع نہ ہو۔

    مولانا فضل الرحمٰن نے جاں بحق افراد کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اور بروقت حکمت عملی ترتیب دے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔انہوں نے انصار الاسلام کے رضاکاروں کو بھی فوری طور پر متحرک ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ جائے وقوعہ پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن میں بھرپور تعاون فراہم کریں تاکہ متاثرین کو فوری ریلیف دیا جا سکے۔

  • سوات فضا گٹ میں 18 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے

    سوات فضا گٹ میں 18 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے

    سوات میں بارش کے باعث سیلابی صورتحال، کئی سیاح پھنس گئے

    سوات،مختلف مقامات پر ریلوں میں 70 افراد پھنس گئے تھے، مختلف مقامات پر ریلوں میں پھنسے 55 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ،سوات سے ایک افسوسناک خبر سامنے آئی ہے جہاں سیالکوٹ سے سیاحت کے لیے آئے ایک خاندان کے 18 افراد تیز بارش کے باعث دریا کے شدید بہاؤ میں بہہ گئے۔ریسکیو حکام کے مطابق متاثرہ خاندان سیالکوٹ سے سوات کی سیاحت کے لیے آیا تھا۔ یہ لوگ دریا کے کنارے بیٹھ کر ناشتہ کر رہے تھے کہ اچانک بارش شروع ہو گئی، جس کی وجہ سے دریا میں پانی کی سطح تیزی سے بڑھ گئی اور بہاؤ اتنا شدید ہو گیا کہ خاندان کے 18 افراد پانی میں بہہ گئے۔

    ریسکیو حکام نے بتایا کہ تقریباً 8 بجے کے قریب ڈوبنے کی اطلاع موصول ہوئی۔ اس مقام پر بائی پاس پر کئی مہمان موجود تھے جو دریا کے کنارے بیٹھے تھے اور انہیں پانی کی تیز لہر کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا۔ اب تک 3 افراد کو بحفاظت نکالا جا چکا ہے جبکہ 5 لاشیں بھی برآمد ہو چکی ہیں۔ باقی مفقود افراد کی تلاش جاری ہے اور ریسکیو حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر رہیں اور بارش کے دوران دریا کے قریب نہ جائیں۔مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں مسلسل آپریشن میں مصروف ہیں تاکہ مزید جانی نقصان کو روکا جا سکے اور تمام مفقود افراد کو بازیاب کرایا جا سکے۔

    ایک سیاح نے کہا کہ ان کے خاندان کے 10 افراد دریا میں بہہ گئے جن میں سے ایک خاتون کی لاش مل گئی ہے اور 9 بچوں کی تلاش جاری ہے،سیاح نے بتایا کہ ہم ناشتہ کرکے چائے پی رہے تھے اور بچے دریا کے پاس سیلفی لینے گئے، اس وقت دریا میں اتنا پانی نہیں تھا، اچانک سے پانی آیا تو بچے پھنس گئے، ریسکیو کو آگاہ کیا تو وہ ڈیڑھ سے 2 گھنٹے بعد آئے، یہ سب ان کے سامنے ہوا، ریسکیو کی موجودگی میں بچے دریا میں ڈوبے اور وہ بچا نہیں سکے۔

    علی امین گنڈا پور گیارہ کروڑ کے بسکٹ کھا سکتے ہیں مگر سیلاب میں پھنسے 15 افراد کو نہیں بچا سکے۔پیپلز پارٹی
    پیپلزپارٹی خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کی ناکامی ، علی امین گنڈا پور گیارہ کروڑ کے بسکٹ کھا سکتے ہیں مگر سیلاب میں پھنسے 15 افراد کو نہیں بچا سکے۔ افسوسناک واقعہ، دریائے سوات میں ایک ہی خاندان کے 15 افراد سیلابی ریلے میں ڈوب گئے، کئی گھنٹے امداد کے منتظر رہے۔

    https://x.com/PPPKP_Official/status/1938498292801016210

    دوسری جانب خیبر پختونخوا میں4 مقامات پر سیلاب وارننگ جاری کر دی گئی،دریائے سوات میں خوازہ خیلہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ریکاڈ کیا گیا،تربیلہ ، وارسک اور ادینزئی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے،

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نےدریائے سوات میں خوازہ خیلہ کے مقام پر سیلابی ریلے میں سیاحوں کی اموات پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہارکیا ہے،وزیرِ اعظم نے جاں بحق ہونے والے افراد کی مغفرت اور ان کے اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا کی ہے،وزیرِ اعظم نے واقعے میں لاپتہ افراد کی جلد تلاش مکمل کرنے کی ہدایت کی،وزیراعظم نے NDMA، انتظامیہ و ریسکیو اداروں کو دریاؤں و ندی نالوں کے قریب حفاظتی تدابیر مزید مربوط بنانے کی ہدایت کی،

    پانی کے تیز بہاؤ کے باوجود ریسکیو1122 کی امدادی کاروائیاں جاری ہیں،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
    وزیر اعلی خیبر پختونخوا نےسوات واقعہ پر اظہار افسوس کیا ہے ، خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں بارشوں اور سیلابی ریلے کی تباہ کاریوں پر اظہار افسوس کیا ہے اور کہا ہےکہ دریائے سوات میں سیلابی ریلے میں متعدد افراد بہہ گئے ہیں، ریسکیو1122 اور ضلعی انتظامیہ کا مختلف مقامات پر سرچ آپریشن جاری ہے، اب تک مختلف مقامات سے 4 جسد خاکی نکالے گئے ہیں، پانی کے تیز بہاؤ کے باوجود ریسکیو1122 کی امدادی کاروائیاں جاری ہیں،ریسکیو1122 کو مزید کاروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، ریسکیو1122 تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے تمام افراد کو جلد از جلد نکالے، بارشوں اور سیلابی ریلوں سے متعلق پہلے ہی الرٹ جاری کیے گئے، انتظامیہ سیاحوں اور مقامی افراد کو ان الرٹ پر عملدرآمد یقینی بنائے، ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضلعی انتظامیہ سخت ترین اقدامات کرے،

  • خیبر پختونخوا پولیس کا تھرمل ڈرونز خریدنے کا فیصلہ

    خیبر پختونخوا پولیس کا تھرمل ڈرونز خریدنے کا فیصلہ

    خیبر پختونخوا پولیس نے تھرمل ڈرونز خریدنے کا فیصلہ کیا ہے-

    انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا ہے کہ ضم شدہ قبائلی اور جنوبی اضلاع میں دہشت گردوں کی جانب سے ڈرونز کا استعمال کیا گیا ہے، پوری دنیا میں ڈرونز کا استعمال بڑھ گیا ہے دہشتگردوں کی جانب سے ڈرونز کا استعمال بڑھنے کا خدشہ ہے پولیس کو تمام اضلاع میں مانیٹرنگ کے لیے ڈورنز کی ضرورت ہے پولیس کو رات کے وقت تھرمل ڈرونز کی بھی ضرورت ہے، ڈرونز کی خریداری پر کام جاری ہے، جلد اس کمی کو پورا کر لیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کی جانب سے ڈرون اور کواڈکاپٹر کے ذریعے حملے کرکے شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آئے ہیں، اس حوالے سے قبائلی علاقوں کے عوام نے بھی شدید احتجاج کیا ہےدو دن قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے بھی خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کی جانب سے ڈرونز حملوں، کواڈ کاپٹر کے ذریعے عوام کو نشانہ بنانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ایسے حملوں سے عوام کو تحفظ فرا ہم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

    ایرانی قوم پاکستان کی حمایت کبھی فراموش نہیں کرے گی، ایرانی سفیر

    اطالوی سپر مارکیٹ چین کا فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی، اسرائیلی مصنوعات کی فروخت بند کر دی

    ایسے ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کریں گے جن کا تصور بھی ممکن نہیں،مشیر ٹرمپ

  • گنڈاپور نےصوابدیدی فنڈز 5 کروڑ کی بجائے 50 کروڑ خرچ کر دیے،تحائف و تفریح پر 11 کروڑ خرچ

    گنڈاپور نےصوابدیدی فنڈز 5 کروڑ کی بجائے 50 کروڑ خرچ کر دیے،تحائف و تفریح پر 11 کروڑ خرچ

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے صوابدیدی فنڈز میں نئے مالی سال کے لیے نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جو 50 کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں۔

    سرکاری دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال میں وزیراعلیٰ کے لیے 5 کروڑ روپے کے صوابدیدی فنڈ مختص کیے گئے تھے، تاہم اس مد میں 50 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔اسی طرح تحائف اور تفریح کے لیے مختص 3 کروڑ 50 لاکھ روپے کے بجٹ کے مقابلے میں 11 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ نئی مالی سال کے بجٹ میں اس مد کے لیے 3 کروڑ 85 لاکھ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

    دستاویزات میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ وزیراعلیٰ کے سیکرٹ فنڈ چارجز کی مد میں بھی 5 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم اس مد میں 15 کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کی گئی۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اعداد و شمار مالی نظم و ضبط اور حکومتی اخراجات پر کئی سوالات کو جنم دے رہے ہیں، جبکہ بجٹ میں شفافیت اور کفایت شعاری کے دعووں کے برعکس اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔

    سعودی عرب میں محرم الحرام 1447 ہجری کا چاند نظر آ گیا

    عید پر غیر حاضری: اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کی ایک ماہ کی تنخواہ ضبط

    بیلاروسین نے ایرانی بچے کو زمین پر زمین پر پھینک دیا، دو سالہ بچہ کوما میں

    ارشد ندیم سمیت 36 کھلاڑیوں کو 82 لاکھ کے کیش انعامات، 22 فیڈریشنز کو کروڑوں کی گرانٹس جاری

    12 دن بعد بیت المقدس میں مقدس مقامات دوبارہ کھل گئے، عبادات بحال

    شہادت کی افواہ، ایرانی جنرل تہران میں جشن میں شریک، ویڈیو وائرل

  • خیبر پختونخوا اسمبلی، پی ٹی آئی کے ارکان میں تلخ کلامی،  الزامات کی بوچھاڑ

    خیبر پختونخوا اسمبلی، پی ٹی آئی کے ارکان میں تلخ کلامی، الزامات کی بوچھاڑ

    باغی ٹی وی: خیبر پختونخوا اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور تحریک انصاف پارلیمنٹرینز (پی ٹی آئی پی) کے ارکان کے درمیان شدید گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔ اجلاس کے دوران ایوان میں شور شرابا، تلخ جملوں اور کرپشن کے الزامات کا تبادلہ ہوا۔

    پی ٹی آئی پی کے رکن اقبال وزیر نے اسمبلی میں الزام لگایا کہ ان کے حلقے میں محکمہ آبپاشی کا ٹینڈر کسی اور مقام پر کھولا گیا، جو صوبے کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ محکمہ آبپاشی کے وزیر اس کرپشن پر وضاحت دیں اور اسپیکر سے ایکسیئن و دیگر افسران کے خلاف انکوائری کا مطالبہ بھی کیا۔

    جواب میں پی ٹی آئی کے نیک محمد داوڑ نے شدید ردعمل دیا اور کہا کہ پچھلی حکومت میں اقبال وزیر خود صوبائی وزیر تھے، ان کے دور اور موجودہ وزارت دونوں کی انکوائری کرائی جائے۔ نیک محمد نے طنز کرتے ہوئے الزام لگایا کہ "آپ کے دور میں لمبے بالوں والے افراد کو لاکر ٹینڈر کھلوائے جاتے تھے۔”

    اس موقع پر دونوں جماعتوں کے دیگر اراکین بھی ایک دوسرے کی حمایت میں کھڑے ہو گئے اور ایوان میں شور شرابا شروع ہو گیا، جس پر اسپیکر کو مداخلت کرنا پڑی۔ایوان میں پیدا ہونے والی کشیدہ فضا نے اسمبلی کی کارروائی کو متاثر کیا، جبکہ اسپیکر نے اراکین سے تحمل اور پارلیمانی آداب کا خیال رکھنے کی اپیل کی۔

    پاکستان کا ایران اسرائیل جنگ بندی کا خیرمقدم

    سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس پیپلزپارٹی میں شامل

    ابھینندن کو گرفتار کرنے والے ہیرو میجر معیز عباس جنوبی وزیرستان میں شہید

    کشن گنگا اور رتلے منصوبے: پاکستان نے کارروائی روکنے کی بھارتی درخواست مسترد کردی

    بھارت کا ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں نیا بدترین ریکارڈ

  • گنڈاپور نے 11 کروڑ کے بسکٹ ، 240 ارب عیاشیوں پر خرچ کیے ، اپوزیشن لیڈر  کا انکشاف

    گنڈاپور نے 11 کروڑ کے بسکٹ ، 240 ارب عیاشیوں پر خرچ کیے ، اپوزیشن لیڈر کا انکشاف

    باغی ٹی وی: خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد نے ضمنی بجٹ پر بحث کے دوران بڑے انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران وزیراعلیٰ ہاؤس میں 11 کروڑ روپے صرف چائے بسکٹ پر خرچ کیے گئے، جبکہ مجموعی طور پر 240 ارب روپے غیر ضروری اخراجات اور عیاشیوں میں اڑا دیے گئے۔

    ڈاکٹر عباد نے ایوان کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے گڈ گورننس کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن اصل حقائق سرکاری ویب سائٹس پر موجود اعداد و شمار کے مطابق اس کے برعکس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 240 ارب روپے کا ضمنی بجٹ لے کر آنا کیا کارکردگی کی علامت ہے، جب کہ کل ہی سرکاری ملازمین سڑکوں پر احتجاج کر رہے تھے۔

    اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں بھی ایک ارب 90 کروڑ روپے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں، جو کہ حکومتی بدانتظامی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس کا سالانہ خرچہ ایک ارب 50 کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ پنجاب میں یہ خرچہ ایک ارب 40 کروڑ روپے ہے۔

    ڈاکٹر عباد نے ایوان میں سوال اٹھایا کہ جب بجٹ میں اتنی بے قاعدگیاں ہوں اور عوام کی فلاح کے بجائے عیاشیوں پر رقم خرچ کی جائے تو حکومت کے گڈ گورننس کے دعوے کیسے درست تسلیم کیے جا سکتے ہیں؟

    جنوبی وزیرستان میں آپریشن،11 دہشتگردجہنم واصل،میجر سمیت دو جوان شہید

  • ارشد خورشید کو APCAA کا چیئرمین منتخب ہونے پر ضیاء الحق سرحدی اور FCAA خیبرپختونخوا کی مبارکباد

    ارشد خورشید کو APCAA کا چیئرمین منتخب ہونے پر ضیاء الحق سرحدی اور FCAA خیبرپختونخوا کی مبارکباد

    پشاور (باغی ٹی وی) فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن (FCAA) خیبر پختونخوا کے صدر ضیاء الحق سرحدی، ان کے عہدیداران اور ایگزیکٹو کمیٹی نے آل پاکستان کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن (APCAA) کے نومنتخب چیئرمین ارشد خورشید کو ان کے انتخاب پر دلی مبارکباد دی ہے۔

    ضیاء الحق سرحدی جو کہ پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) کے سینئر نائب صدر، سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (SCCI) کے سابق سینئر نائب صدر اور موجودہ ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن بھی ہیں، نے اپنے بیان میں کہا کہ ارشد خورشید ایک تجربہ کار تجارتی رہنما ہیں۔ وہ کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن (KCAA) کے سابق صدر رہ چکے ہیں اور انہیں کسٹمز آپریشنز، پورٹ کوآرڈینیشن اور پالیسی ایڈوکیسی میں ایک دہائی سے زائد کا عملی تجربہ حاصل ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ارشد خورشید کی قیادت میں توقع ہے کہ کسٹمز کے طریقہ کار کو مزید ہموار کیا جائے گا اور پاکستان بھر میں کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مضبوط آواز اٹھائی جائے گی۔ ارشد خورشید اس وقت وفاقی ٹیکس محتسب (FTO) کے اعزازی کوآرڈینیٹر کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، جہاں وہ ٹیکس سے متعلق شکایات کے حل اور قومی سطح کی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے سرگرم ہیں۔

    ضیاء الحق سرحدی جو خود بھی FTO کے اعزازی کوآرڈینیٹر اور کسٹمز میڈیا ایڈوائزری کمیٹی کے ایڈوائزر ہیں، نے کہا کہ فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا اور ان کی مکمل کابینہ ارشد خورشید کو بھرپور تعاون کا یقین دلاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس برادری ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی قیادت میں مزید بہتری کی توقع رکھتی ہے۔