Baaghi TV

Category: پشاور

  • پشاور،حملے کی کوشش ناکام، خودکش حملہ آور اور ہینڈلر ہلاک

    پشاور،حملے کی کوشش ناکام، خودکش حملہ آور اور ہینڈلر ہلاک

    پشاور میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے خودکش حملہ آور اور اس کے ہینڈلر کو ہلاک کر دیا۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گرد حساس تنصیب پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ہلاک خودکش حملہ آور کی شناخت منیر احمد کے نام سے ہوئی، جو افغانستان ننگرہار کا رہائشی تھا۔دہشت گرد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ تھے۔خوست افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کے بعد حملے کی تیاری کر رہے تھے۔

    فائرنگ کے تبادلے میں سی ٹی ڈی آپریشنل ٹیم نے دونوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔کارروائی میں خودکش جیکٹ، ایس ایم جی اور پستول برآمد کی گئیں۔سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق منیر احمد کا سراغ نومبر 2024 سے لگایا جا رہا تھا.واقعے کا مقدمہ درج کر کے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، جبکہ ہینڈلر کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔

    گلگت بلتستان: گلیشیئر پگھلنے سے خطرناک صورتحال، کئی علاقے زیرِ آب

    ایشیا کپ 2025، 10 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان

    کراچی: سمندرپر دفعہ 144 کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد پہنچ گئی

    شمالی وزیرستان: کل صبح سے شام تک کرفیو نافذ، دفعہ 144 بھی لاگو

  • شمالی وزیرستان: کل صبح سے شام تک کرفیو نافذ، دفعہ 144 بھی لاگو

    شمالی وزیرستان: کل صبح سے شام تک کرفیو نافذ، دفعہ 144 بھی لاگو

    شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی خدشات اور سیکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت کے پیش نظر کل صبح 5 بجے سے شام 7 بجے تک مکمل کرفیو نافذ رہے گا، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان کے مطابق تمام داخلی و خارجی راستے اور مین شاہراہیں بند رہیں گی۔عوامی آمد و رفت پر مکمل پابندی ہو گی۔کرفیو کا مقصد سیکیورٹی فورسز کی لاجسٹک نقل و حرکت کو ممکن بنانا ہے۔مزید سیکیورٹی اقدامات کے طور پر ضلع بھر میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے:

    موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی اور تین یا اس سے زائد افراد کے عوامی اجتماع پر پابندی بھی لگا دی گئی۔نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا علاقے میں داخلہ ممنوع قرار دیا گیا ہے۔انتظامیہ نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ اقدامات امن و امان کی بہتری کے لیے ناگزیر ہیں۔

    گیس قیمتوں میں اضافہ، فیصل ندیم نے فیصلہ عوام دشمن قرار دے دیا

    اسلام آباد: 1 ہزار 427 ریسٹورنٹس پر 3 کروڑ 30 لاکھ روپے جرمانہ

    اسلام آباد: 1 ہزار 427 ریسٹورنٹس پر 3 کروڑ 30 لاکھ روپے جرمانہ

    ایف آئی اے اور سندھ پولیس میں بیرون ملک مفرور ملزمان کی گرفتاری پر مشاورت

  • خیبر پختونخوا میں بارش سے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری

    خیبر پختونخوا میں بارش سے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے بارش، سیلاب، فلش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث صوبہ خیبر پختونخوا میں جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کردی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا میں پچھلے 27 جون اب تک ہونے والی بارشوں، تیز آندھی اور فلش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث حادثات کے نتیجے میں مجموعی طور پر 21 افراد جان بحق جبکہ 10 افراد زخمی ہوئے جاں بحق افراد میں 7 مرد اور 5 خواتین اور 9 بچے جبکہ زخمیوں میں 6 مرد، 3 خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بارش کے باعث مجموعی طور پر 57 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 51 کو جزوی اور 6 مکمل طور پر منہدم ہوئے، حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع سوات، ایبٹ آباد، چترال لوئر، بونیر، صوابی،کرم چارسدہ، ملاکنڈ، شانگلہ، دیر لوئر اور تورغر میں پیش آئے سب سے زیادہ متاثرہ ضلع سوات رہا جس میں 14 افراد جانبحق اور 6 افراد زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے کی جانب سے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو متاثرہ خاندان کو فوری طور پر امداد اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔

    واضح رہے کہ بارشوں کا سلسلہ یکم جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے-

  • آرمی چیف کا کور ہیڈکوارٹر پشاور کا دورہ، دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ

    آرمی چیف کا کور ہیڈکوارٹر پشاور کا دورہ، دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ

    چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آج کور ہیڈکوارٹر پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہیں سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال اور جاری انسدادِ دہشت گردی آپریشنز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    اپنے دورے کے دوران آرمی چیف نے بنوں گیریژن حملے میں شہید ہونے والے جوانوں کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی اور کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) بنوں میں زخمی اہلکاروں کی عیادت بھی کی۔آرمی چیف نے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے حوصلے، قربانی اور عزم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اہلکار بھارت کی پشت پناہی سے چلنے والے فتنے “الخوارج” کے خلاف مثالی بہادری سے لڑ رہے ہیں۔

    انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے تمام سہولت کاروں، مددگاروں اور مجرموں کا بلاامتیاز پیچھا کیا جائے گا اور ان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ ہر بے گناہ پاکستانی کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، اور ملک کے اندرونی استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔

    آرمی چیف نے خیبرپختونخوا پولیس اور دیگر سول اداروں کی ادارہ جاتی صلاحیتوں کو بڑھانے پر زور دیا اور متعلقہ حکومتی اداروں سے کہا کہ وہ اس حوالے سے اپنی ترجیحات طے کریں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پاک فوج ان اداروں کی استعداد بڑھانے کے لیے اپنا ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔

    آرمی چیف کے کور ہیڈکوارٹر پہنچنے پر کور کمانڈر پشاور نے ان کا استقبال کیا۔

    اربن فلڈنگ کا الرٹ، سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان متاثر ہونے کا خدشہ

    وفاقی وزرا کی تنخواہوں کے نظام میں تبدیلی، تنخواہ ارکانِ اسمبلی کے برابر مقرر

    گوجرانوالہ: بیٹیوں کے قتل کیس میں والدین ہی قاتل نکلے

    کراچی میں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوار، انتظامیہ کی نااہلی سے سڑکیں زیرِ آب

    Ask ChatGPT

  • گورنر کے پی  کا وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے استعفیٰ کا مطالبہ

    گورنر کے پی کا وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے استعفیٰ کا مطالبہ

    گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا۔

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سانحہ سوات کو حکومت کی بدترین ناکامی قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے ہری پور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ سانحہ سوات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اور وزیراعلیٰ کے خلاف مقدمہ درج کیا جانا چاہیے۔

    گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کے پی میں بلدیاتی اداروں کو ایک روپیہ تک نہیں دیا گیا، پولیس اور ایف سی خود سوال کر رہی ہے کہ فنڈز کہاں گئے این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والے پیسوں کا کوئی حساب نہیں دیا گیا، اور 50 ارب روپے کا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک سفید پوش کے لیے بنگلہ خریدا گیا، جبکہ حکومت کے اصل مسائل سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔

    گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قیدی 804 کے تحت چوروں اور ڈاکوؤں کو وزارتیں دی جا رہی ہیں اور ایسے افراد کو پروموٹ کیا جا رہا ہے جو ریاست مدینہ کے اصولوں کے برعکس ہیں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنے تمام وسائل وفاق پر چڑھائی کے لیے رکھے تھے، جبکہ صوبے کے عوام بنیادی سہولیات کو ترس رہے ہیں۔

    سانحہ سوات: ڈپٹی کمشنر سوات معطل،نئے ڈی سی تعینات

    دوسری جانب صوبائی حکومت نے سیلابی صورتحال میں غفلت برتنے والے افسران کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کردیا ہےصوبے میں گذشتہ روز بھی 2 اسسٹنٹ کمشنرز، ایک ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور ریسکیو کے ضلعی انچارج کو معطل کیا گیا تھا،جن میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مینگورہ (ADC) اور اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی (AC) شامل ہیں-

    خیبرپختونخوا حکومت نے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) سوات شہزاد محبوب کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں باضابطہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے سرکاری ذرائع کے مطابق، گریڈ 18 کے افسر سلیم جان کو نیا ڈپٹی کمشنر سوات تعینات کر دیا گیا ہے اس اقدام کو سانحہ سوات میں انتظامی ناکامی کا براہ راست ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔

    ادھر، ریسیکو 1122 کا سوات کے قریبی علاقوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں سے سرچ آپریشن جاری ہے، ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 شاہ فہد کے مطابق دریائے سوات میں ڈوبنے والے 10 افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں جب کہ لاپتا 3 افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز خیبرپختونخوا میں موسلادھار بارش کے باعث دریائے سوات بپھر گیا تھا، جس کے نتیجے میں 7 مقامات پر خواتین اور بچوں سمیت 75 سے زائد افراد دریا میں بہہ گئے تھے، جن میں سے 10 افراد کی لاشیں نکالی گئی تھیں اور 55 سے زائد افراد کو ریسکیو کرلیا گیا تھا۔

    شمالی وزیرستان میں خود کش دھماکہ ، 8 افراد شہید

  • سانحہ سوات: ڈپٹی کمشنر سوات معطل،نئے ڈی سی تعینات

    سانحہ سوات: ڈپٹی کمشنر سوات معطل،نئے ڈی سی تعینات

    خیبرپختونخوا حکومت نے سوات میں سیلاب کے باعث پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں ریسکیو آپریشن میں تاخیر اور غفلت برتنے پر پر ڈپٹی کمشنر سوات شہزاد محبوب کو معطل کرکے سلیم جان کو نیا ڈی سی سوات تعینات کر دیا گیا۔

    خیبرپختونخوا حکومت نے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) سوات شہزاد محبوب کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں باضابطہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے سرکاری ذرائع کے مطابق، گریڈ 18 کے افسر سلیم جان کو نیا ڈپٹی کمشنر سوات تعینات کر دیا گیا ہے اس اقدام کو سانحہ سوات میں انتظامی ناکامی کا براہ راست ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔

    صوبائی حکومت نے سیلابی صورتحال میں غفلت برتنے والے افسران کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کردیا ہےصوبے میں گذشتہ روز بھی 2 اسسٹنٹ کمشنرز، ایک ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور ریسکیو کے ضلعی انچارج کو معطل کیا گیا تھا،جن میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مینگورہ (ADC) اور اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی (AC) شامل ہیں-

    شمالی وزیرستان میں خود کش دھماکہ ، 8 افراد شہید

    ادھر، ریسیکو 1122 کا سوات کے قریبی علاقوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں سے سرچ آپریشن جاری ہے، ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 شاہ فہد کے مطابق دریائے سوات میں ڈوبنے والے 10 افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں جب کہ لاپتا 3 افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز خیبرپختونخوا میں موسلادھار بارش کے باعث دریائے سوات بپھر گیا تھا، جس کے نتیجے میں 7 مقامات پر خواتین اور بچوں سمیت 75 سے زائد افراد دریا میں بہہ گئے تھے، جن میں سے 10 افراد کی لاشیں نکالی گئی تھیں اور 55 سے زائد افراد کو ریسکیو کرلیا گیا تھا۔

    مخصوص نشستوں کا کیس:سپریم کورٹ کے فیصلے سے دکھ اور مایوسی ہوئی ہے، بیرسٹر گوہر

  • خیبر پختونخوا میں مون سون کی تباہ کاریاں: 11 افراد جاں بحق، درجنوں مکانات متاثر

    خیبر پختونخوا میں مون سون کی تباہ کاریاں: 11 افراد جاں بحق، درجنوں مکانات متاثر

    خیبر پختونخوا میں جاری مون سون بارشوں کے باعث ہونے والے نقصانات کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے، جس کے مطابق مختلف حادثات میں 11 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہو چکے ہیں۔

    صوبائی دارالحکومت پشاور سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں میں 4 مرد، 3 خواتین اور 4 بچے شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق مون سون بارشوں اور سیلاب سے سب سے زیادہ نقصان ضلع سوات میں ہوا، جہاں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہوئے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق سوات سمیت مختلف متاثرہ علاقوں میں 56 مکانات متاثر ہوئے، جن میں سے 6 مکانات مکمل طور پر تباہ اور 50 جزوی طور پر متاثر ہوئے۔سیلاب کی وجہ سے سڑکوں، پلوں اور دیگر انفرااسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

    سیلابی صورتحال اور وارننگ
    پی ڈی ایم اے نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ دریائے سوات میں خوازہ خیلہ کے مقام پر سیلابی کیفیت پیدا ہو چکی ہے، جبکہ نوشہرہ اور چارسدہ کی ضلعی انتظامیہ کو بھی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    احتیاطی تدابیر کی ہدایت
    پی ڈی ایم اے نے ہدایت کی ہے کہ تمام ضلعی انتظامیہ ممکنہ سیلاب سے قبل پیشگی اقدامات یقینی بنائیں تاکہ قیمتی جانوں اور املاک کا تحفظ ممکن ہو سکے۔ صوبے بھر میں مون سون بارشوں کا آغاز ہو چکا ہے اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

    ٹرمپ کا ایران سے ایٹمی تنصیبات کے معائنے کا مطالبہ، دوبارہ حملوں کا عندیہ

    سندھ میں مون سون بارشوں سے فضائی آپریشن متاثر، پروازوں کے روٹس تبدیل

    حویلیاں ندی میں 3 بچے ڈوب گئے، 2 کی لاشیں مل گئیں

    غیرقانونی تارکین وطن کے بچوں کو پیدائشی شہریت نہیں ملے گی،امریکی سپریم کورٹ

  • دریائے سوات میں حادثات ، ٹورزم اتھارٹی کی خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہ

    دریائے سوات میں حادثات ، ٹورزم اتھارٹی کی خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہ

    خیبر پختون خوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی نے دریائے سوات میں سیاحوں کے ڈوبنے کے حالیہ واقعات کے بعد اہم ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔

    اتھارٹی کی جانب سے جاری بیان میں ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ فوری طور پر دریا کے کنارے بیٹھنے کی گنجائش ختم کی جائے۔تمام کاروباری حضرات سیفٹی قوانین اور ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔خلاف ورزی کی صورت میں انتظامی اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں دریائے سوات میں سیاحوں کے ڈوبنے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد حکام کی جانب سے مون سون سیزن کے پیش نظر احتیاطی تدابیر مزید سخت کی جا رہی ہیں۔اتھارٹی نے شہریوں، سیاحوں اور کاروباری افراد سے اپیل کی ہے کہ دریا کے قریب احتیاط برتیں اور محفوظ سیاحت کو یقینی بنانے میں تعاون کریں۔

    سوات کا سیلابی ریلہ مالاکنڈ میں داخل، متعدد علاقوں میں تباہی

    جنیوا ،کشمیری کمیونٹی کا مودی حکومت کے خلاف شدید احتجاج

    محرم الحرام، ملک بھر میں پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز تعینات

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں اچانک بڑی کمی

    اسرائیل نےامداد کی آڑ میں فلسطینیوں پر حملے تیز کر دیے، 549 جاں بحق

  • سوات کا سیلابی ریلہ مالاکنڈ میں داخل، متعدد علاقوں میں تباہی

    سوات کا سیلابی ریلہ مالاکنڈ میں داخل، متعدد علاقوں میں تباہی

    سوات سے نکلنے والا خطرناک سیلابی ریلہ 78 ہزار کیوسک پانی کے ساتھ مالاکنڈ میں داخل ہو چکا ہے، ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    محکمہ آبپاشی کے مطابق، سیلابی ریلہ انتہائی خطرناک نوعیت کا ہے اور تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ترئی، طوطہ کان اور جالاوانان ہیڈورکس سمیت مختلف مقامات پر الرٹ جاری کرتے ہوئے عوام کو دریا کے کناروں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    بارش اور سیلاب سے دیگر متاثرہ علاقوں میں شانگلہ، دیر اور ملاکنڈ میں بارشوں اور برساتی نالوں نے تباہی مچا دی ہے۔لوئر دیر کے علاقے رحیم آباد میں ایک شخص برساتی نالے میں ڈوب کر جاں بحق ہو گیا۔خزانہ بائی پاس پر دریائے پنجکوڑہ میں پھنسے دو خواتین اور دو بچوں کو ریسکیو 1122 نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے محفوظ مقام پر منتقل کر لیا۔

    مزید بارشوں کا خدشہ

    این ڈی ایم اے نے ملک بھر کے کئی علاقوں میں موسلادھار بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے مزید ممکنہ سیلابی صورتحال کے لیے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ریسکیو 1122 کے ترجمان ثاقب خان کے مطابق، تمام ہنگامی ٹیمیں فُل الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

    حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور دریا یا ندی نالوں کے قریب نہ جائیں۔

    محرم الحرام، ملک بھر میں پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز تعینات

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں اچانک بڑی کمی

    اسرائیل نےامداد کی آڑ میں فلسطینیوں پر حملے تیز کر دیے، 549 جاں بحق

  • سانحہ سوات،سول سوسائٹی کی جانب سے ذمہ داران کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    سانحہ سوات،سول سوسائٹی کی جانب سے ذمہ داران کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    سوات سول سوسائٹی کی جانب سے واقعہ دریائے سوات پر ایف آئی آر کے لیے درخواست دینا، سوات کے عوام کی جانب سے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری کو بہترین طریقے سے نبھانے کے مترادف ہے،

    سوات میں حالیہ دلخراش واقعے، جس میں 18 افراد دریائے سوات میں بہہ گئے، پر سوات سیول سوسائٹی کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ سول سوسائٹی کے صدر عزیز الحق کی سربراہی میں ایک تحریری درخواست تھانے میں جمع کرائی گئی ہے، جس میں اس سانحے کے تمام ممکنہ ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی اور ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے. درخواست میں واضح طور پر مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ محض قدرتی حادثہ نہیں، بلکہ انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت اور لاپروائی کا نتیجہ ہے؛ سیول سوسائٹی کے مطابق، یہ صرف متاثرہ خاندانوں کا نہیں، بلکہ پورے سوات کے عوام کا مقدمہ ہے اگر اس بار خاموشی اختیار کی گئی، تو کل ہر شہری خطرے میں ہوگا۔

    یہ واقعہ ایک سنگین سانحہ ہے جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حکومت سیاحت کو فروغ دینا چاہتی ہے، لیکن سیاحوں کے جانی و مالی نقصانات کو روکنے اور انہیں مناسب سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات اکثر ناکافی ہوتے ہیں۔ سوات جیسی خوبصورت وادیوں میں سیاحت کا فروغ بہت ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سیاحوں کی حفاظت، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بہترین انتظامات بھی انتہائی لازم ہیں۔ اس واقعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دریاؤں کے کنارے یا دیگر خطرناک مقامات پر حفاظتی باڑ، وارننگ سائنز، ریسکیو ٹیموں کی دستیابی، اور غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام کتنی اہم ہے۔دریائے سوات میں پیش آنے والے دلخراش واقعے پر ایف آئی آر کے لیے درخواست دینا، سوات کے عوام کی جانب سے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری کو بہترین طریقے سے نبھانے کے مترادف ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ عوام اپنے حقوق کے لیے بیدار ہیں اور ذمہ داریوں کا احساس رکھتے ہیں۔

    اب گیند انتظامیہ کے کورٹ میں ہے، اور ان کا کردار درج ذیل نکات پر مشتمل ہونا چاہیے،سول سوسائٹی کی درخواست پر فوری طور پر ایف آئی آر کا اندراج کیا جائے تاکہ باقاعدہ قانونی کارروائی کا آغاز ہو سکے۔ایک غیر جانبدارانہ اور اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے جو واقعے کی ہر پہلو سے چھان بین کرے۔ تحقیقات میں نہ صرف فوری وجوہات بلکہ دیرینہ مسائل، جیسے غیر قانونی تعمیرات، حفاظتی اقدامات کی کمی، اور ضلعی انتظامیہ کے کردار کو بھی شامل کیا جائے۔ تحقیقاتی رپورٹ کو جلد از جلد مکمل کیا جائے اور اسے عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔تحقیقات کے نتیجے میں جو بھی افراد یا محکمے ذمہ دار پائے جائیں، چاہے وہ سرکاری اہلکار ہوں، ہوٹل مالکان ہوں، یا غیر قانونی قابضین، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ کسی بھی دباؤ یا سفارش کو خاطر میں نہ لایا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔سانحے کے متاثرین (متوفین کے لواحقین اور زخمیوں) کو مناسب معاوضہ اور ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔۔ان کے غم میں شریک ہو کر ان کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اور جامع حکمت عملی وضع کی جائے۔ دریاؤں اور سیاحتی مقامات پر حفاظتی باڑ، وارننگ سائنز، اور ہنگامی صورتحال میں ریسکیو کی سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔ سیاحوں کے لیے معلوماتی اور حفاظتی ہدایات جاری کی جائیں اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ مقامی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی صلاحیت کو بڑھایا جائے تاکہ وہ ایسے حالات سے مؤثر طریقے سے نمٹ سکیں۔انتظامیہ پر یہ بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس واقعے کو محض ایک حادثہ سمجھ کر نظر انداز نہ کرے، بلکہ اسے ایک موقع سمجھے تاکہ سوات میں سیاحت کو محفوظ بنایا جا سکے اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔