Baaghi TV

Category: پشاور

  • خیبر پختونخوا حکومت کا ایک اور تجربہ ناکام، محکمہ سیاحت کو 9 کروڑ 98 لاکھ کا نقصان

    خیبر پختونخوا حکومت کا ایک اور تجربہ ناکام، محکمہ سیاحت کو 9 کروڑ 98 لاکھ کا نقصان

    خیبر پختونخوا حکومت کا ایک اور تجربہ ناکام، محکمہ سیاحت کو 9 کروڑ 98 لاکھ کا نقصان اٹھانا پڑ گیا۔

    صوبے میں 33 سرکاری ریسٹ ہاؤسز کو 3 سال کے دوران آؤٹ سورس نہیں کیا گیا، محکمہ سیاحت کوسرکاری ریسٹ ہاؤسز آؤ ٹ سورس نہ کرنے سے 9 کروڑ 98 لاکھ روپے کانقصان ہوا۔دستاویزات کے مطابق سرکاری ریسٹ ہاؤسز کو آؤٹ سورس نہ کرنے سے 6 کروڑ 68 لاکھ روپے نقصان ہوا جبکہ ریسٹ ہاؤسز کی مرمت پر 3 کروڑ 15 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔

    خیبر پختونخوا حکومت نے 2022 میں سرکاری ریسٹ ہاؤ سز آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا تھا، مشیر سیاحت خیبرپختونخوا زاہد چن زیب تمام ریسٹ ہاؤسز متعلقہ اداروں کو واپس کیے گئے ہیں۔مشیر سیاحت خیبر پختونخوا نے کہا کہ ریسٹ ہاؤ سز واپس کرنے کا فیصلہ کابینہ نے کیا، انہوں نے سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان پر بات کرنے سے گریز کیا۔

  • سانحہ سوات، انکوائری کمیٹی کے چئیرمین کا عدالت میں کوتاہیوں کا اعتراف

    سانحہ سوات، انکوائری کمیٹی کے چئیرمین کا عدالت میں کوتاہیوں کا اعتراف

    چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے سانحہ سوات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سوال کیا کہ کیا سانحہ سوات کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہے؟

    ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ تحقیقات چیئرمین صوبائی انسپکشن ٹیم کر رہی ہے،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ چیئرمین صوبائی انسپکشن ٹیم کو بلائیں، پھر کیس کو سنتے ہیں،دوران سماعت چیئرمین انسپکشن ٹیم نے کہا کہ سوات کا دورہ کیا ہے، تحقیقات جاری ہیں، مختلف محکموں کی کوتاہی سامنے آئی ہے،چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ غفلت برتنے والوں کا تعین جلد کیا جائے، ہزارہ میں سیاحوں کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں،کمشنر ہزارہ نے کہا کہ دفعہ 144 نافذ ہے، تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری ہے۔

    چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ سیاحوں کو محفوظ ماحول اور سیکیورٹی فراہم کریں، میڈیکل ایمرجنسی کی صورت میں کیا انتظامات ہیں؟،کمشنر ہزارہ نے کہا کہ نتھیا گلی اسپتال میں اضافی عملہ تعینات کیا ہے،جسٹس فہیم ولی نے کہا کہ سوات واقعے کے بعد ایمرجنسی رسپانس کے کیا انتظامات ہیں،آر پی او ہزارہ نے کہا کہ پولیس اور ریسکیو آپس میں کوآرڈینیشن میں ہیں،عدالت کی جانب سے سوال کیا گیا کہ خدانخواستہ کچھ ہو جائے تو کیا ڈرون سے فوری ریسپانس ممکن ہے،کمشنر ہزارہ نے کہا کہ ڈرون حاصل کیے ہیں جو لائف جیکٹس پہنچا سکتے ہیں۔

    چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ ڈرونز کو ٹیسٹ کریں، کہیں عین وقت پر ناکام نہ ہوں، آزمائشی مشق کریں، دیکھیں کتنی دیر میں ایمرجنسی میں پہنچ سکتے ہیں، کمشنر مالاکنڈ اور آر پی او رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں، سانحہ سوات سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ بھی پیش کریں۔

  • سانحہ سوات،17 سالہ نوجوان کی تاحال لاش نہ ملی

    سانحہ سوات،17 سالہ نوجوان کی تاحال لاش نہ ملی

    دریائے سوات کا وہ المناک سانحہ تو گزر گیا، مگر گھروں کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ وہ گھروالے جنہوں نے اپنی بیوی اور دو جواں سال بیٹیوں کی تدفین کی، اب 17 سالہ لاپتا بیٹے کے انتظار میں آنسو خشک کرتے نظر آ رہے ہیں۔ عبدالسلام، جو ایک غمزدہ والد ہیں، کا کہنا ہے کہ موت تو برحق ہے مگر اداروں کی نااہلی نے ان کا صبر آزما دیا ہے۔ بچے چیختے رہے، مگر مدد کے لیے کوئی نہ آیا۔

    ڈسکہ کا نوجوان عبد اللہ، نویں جماعت کا طالب علم، ماڈلنگ کا شوقین اور خوش مزاج لڑکا تھا۔ اس کا ہنستا مسکراتا چہرہ سب کی آنکھوں کا تارا تھا۔ اہل خانہ تین سال سے سیاحتی مقامات کی سیر کا پروگرام بنا رہے تھے تاکہ سب ایک ساتھ خوشیاں منائیں۔ مگر کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ عبد اللہ دریا کی تیز لہروں میں کہیں گم ہو جائے گا اور اس کے گھر والے بے بسی کے مارے ایک طویل انتظار میں مبتلا ہو جائیں گے۔

    دریائے سوات کے اس افسوسناک حادثے میں مجموعی طور پر 17 افراد بہہ گئے تھے، جن میں سے چار کو بچا لیا گیا جبکہ 12 کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں۔ عبد اللہ کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ عبدالسلام نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اداروں کی لاپرواہی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ “بچے جب مدد کے لیے چیختے رہے، کوئی نہیں آیا۔”عبد اللہ کے کزن اور دوست اسے واپس آنے کی امید رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عبد اللہ ضرور واپس آئے گا اور پھر سے سب کو ہنسائے گا، اپنے والد کا سہارا بنے گا۔ یہ امید کی کرن ہر دل میں زندہ ہے، جو گھروں کو امید کی روشنی فراہم کرتی ہے۔

    عبدالسلام جو اس وقت بیرون ملک مقیم ہیں، جب وہ پاکستان آئے تو انہوں نے اہل خانہ کے لیے سیاحتی دورے کا پروگرام بنایا تھا۔ بدقسمتی سے ان کی طبیعت ناساز ہونے کے باعث وہ خود اس دورے میں شریک نہیں ہو سکے۔ اب وہ اپنی فیملی کے اس سانحے میں الجھے ہوئے ہیں، مگر کہتے ہیں کہ “موت تو برحق ہے، مگر اداروں کی نااہلی پر افسوس ہے۔”

  • محکمہ آبپاشی  نے سانحہ  سوات سے متعلق   رپورٹ تیار کر لی

    محکمہ آبپاشی نے سانحہ سوات سے متعلق رپورٹ تیار کر لی

    پشاور، محکمہ آبپاشی نے سانحہ سوات سے متعلق رپورٹ تیار کر لی
    27جون کو دریائے سوات میں پانی کابہاؤ 77ہزار782 کیوسک ہو ا ، رپورٹ کےمطابق سیلابی ریلے سے متعلق 27جون کی صبح 8بجکر 41منٹ پر وارننگ جاری کی ، سیلابی ریلے سے متعلق ڈی سی سوات، چارسدہ اور نوشہرہ کو بھی اطلاع دی گئی تھی، واٹس ایپ پر حکام کو دریا سوات میں پانی کے بہاؤ کی مسلسل اپڈیٹس دیتے رہے ،محکمہ آبپاشی کی جانب سے واقعے کے روز ساڑھے 10بجے سیلابی انتباہ جاری کیا گیا ڈی سی سوات، پی ڈی ایم اے اور اے ڈی سی ریلیف کو بار بار الرٹس بھیجے گئے، ریکارڈ سے واضح ہے کہ محکمہ آبپاشی نے بروقت ایمرجنسی کی اطلاع دی، سیاح دریائے سوات میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کی وجہ سے پھنس گئے ،

    محکمہ آبپاشی نے سیاحتی علاقوں میں داخلہ محدود کرنے اور ہوٹل مالکان کو پابند بنانے کی سفارش کی، رپورٹ میں مقامی انتظامیہ کو سیاحوں کو محفوظ مقام تک محدود رکھنے کیلئے پالیسی بنانے کی تجویز دی گئی ہے،مدین اور کالام میں اضافی گیجز لگانے کی بھی سفارش کی گئی،

  • خیبر پختونخوا میں ریسکیو ادارے جدید آلات اور ڈرونز سے لیس کرنے کا فیصلہ

    خیبر پختونخوا میں ریسکیو ادارے جدید آلات اور ڈرونز سے لیس کرنے کا فیصلہ

    چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے صوبے میں ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو اداروں کو جدید آلات اور ڈرونز سے لیس کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    یہ اہم فیصلہ چیف سیکریٹری کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، جس میں متعلقہ اداروں کو جدید مشینری فراہم کرنے، ندی نالوں کی صفائی اور دریا کے اطراف دفعہ 144 کے سخت نفاذ کی ہدایات دی گئیں۔اجلاس میں سیاحتی مقامات پر ہوٹلوں کو لائف جیکٹس اور دیگر حفاظتی آلات کی فراہمی یقینی بنانے اور عوام کو سیلابی خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے بھرپور آگاہی مہم چلانے کا بھی حکم دیا گیا۔ محکمہ سیاحت کو فوری طور پر باقاعدہ ٹریول ایڈوائزری جاری کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    چیف سیکریٹری نے کہا کہ عوام کو دریا کے کنارے جانے سے روکنے کے لیے دفعہ 144 کا نفاذ مؤثر بنایا جائے اور ہوٹل مالکان کو پابند کیا جائے کہ وہ سیفٹی آلات اپنے پاس رکھیں، خلاف ورزی کی صورت میں این او سی جاری کرنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ریسکیو 1122 کی ٹیموں کو ڈرونز اور ایڈوانسڈ آلات فراہم کیے جائیں گے، جبکہ مقامی کمیونٹیز کو ایمرجنسی رسپانس کی باقاعدہ تربیت دی جائے گی۔چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ ہر ضلع میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف کا دفتر ہنگامی حالات میں فوری ردعمل دینے کے لیے مختص ہوگا، اور ریسکیو 1122 میں میرٹ کی بنیاد پر بھرتیوں کو یقینی بنایا جائے گا۔

    دریائے جہلم میں نہاتے ہوئے 2 نوجوان ڈوب گئے، 15 سالہ عبد الرحمان جاں بحق

    ایران میں کارروائی امن کے لیے کی، کشیدگی ناگزیر حد تک بڑھ چکی تھی: امریکی ترجمان

    غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری، مزید 85 فلسطینی شہید

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا سی ایم ایچ پشاور کا دورہ، زخمی اہلکاروں کی عیادت

  • وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا سی ایم ایچ پشاور کا دورہ، زخمی اہلکاروں کی عیادت

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا سی ایم ایچ پشاور کا دورہ، زخمی اہلکاروں کی عیادت

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے سی ایم ایچ پشاور کا دورہ کیا اور شمالی وزیرستان میں حالیہ خودکش حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کی عیادت کی۔

    دورے کے دوران وزیر اعلیٰ نے زیر علاج زخمی اہلکاروں سے فرداً فرداً ملاقات کی، انہیں گلدستے پیش کیے اور ان کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے دہشتگرد حملے میں شہید ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے درجات کی بلندی کے لیے دعا بھی کی۔

    علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ہمارے شہداء اور غازیوں نے بے مثال جرأت و بہادری کے ساتھ خودکش حملے کو ناکام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں ملک میں امن کے قیام اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کی ضمانت ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قوم اپنے ان جانباز محافظوں اور ان کے اہل خانہ کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے وطن عزیز کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

    انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز اور عوام کا عزم مضبوط اور حوصلے بلند ہیں۔وزیر اعلیٰ نے دھماکے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں اور شہداء کے ورثاء کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے بھرپور مالی معاونت پر مشتمل پیکج دینے کا اعلان بھی کیا۔

    دورے کے موقع پر وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات، چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔

    نیول چیف کا پاک فضائیہ کے ساتھ مشترکہ آپریشنل مشقوں کے آغاز کا اعلان

    پاکستان کا پہلا انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس کیاسک لاہور ایئرپورٹ پر قائم

    وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ، بجلی بلوں سے الیکٹریسٹی ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان

    کراچی میں چارجڈ پارکنگ ختم، کے ایم سی کی سڑکوں پر مفت پارکنگ کا آغاز

  • 27 جون کو 8 مقامات پرآپریشنز کرکے107 سیاحوں کوریسکیوکیا،سابق  ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر  ریسکیو

    27 جون کو 8 مقامات پرآپریشنز کرکے107 سیاحوں کوریسکیوکیا،سابق ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو

    سابق ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو نے سوات واقعے کی تحقیقاتی کمیٹی کو بیان قلمبند کرا دیا ہے

    سرکاری ذرائع کے مطابق سابق ڈی ای او ریسکیو نے ریکارڈ اور شواہد بھی کمیٹی کو جمع کرادیے، فوٹیجز، عملہ اور گاڑیوں کا ریکارڈ انکوائری کمیٹی کو فراہم کیا گیا،کمیٹی نے سابق ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر سے سوال کیا کہ قیمیتی جانیں کیوں نہ بچائی جاسکیں؟ اس پر سابق ریسکیو آفیسر نے جواب دیاکہ ڈوبنےوالوں کو بچانےکی ہر ممکن کوشش کی، خوازخیلہ پل کےمقام پر پانی کا بہاو77 ہزار کیوسک سےتجاوز کرگیا تھا، 9 بج کر 49 منٹ پرشہری کی کال ملی کہ ہوٹل میں بچے پھنسے ہوئے ہیں، 10 بج کر4 منٹ پر ریسکیو میڈیکل ٹیم موقع پر پہنچی، 15منٹ میں غوطہ خور اور ٹیوب کشتی سےسیاحوں کوبچانےکی کوشش شروع کی، واقعے کی جگہ پر پانی کا بہاؤ بہت تیز اور زیادہ تھا، 40 سے 45 منٹ میں جوکرسکتےتھے، ہم نےکیا، 3 سیاحوں کو ریسکیوکیا، سوات واقعے سے قبل 2 ایمرجنسی آپریشن مکمل کرکے سیاحوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا، 27 جون کو 8 مقامات پرآپریشنز کرکے107 سیاحوں کوریسکیوکیا۔

    دوسری جانب سوات میں تجاوزات کے خلاف ضلعی انتظامیہ کا گرینڈ آپریشن جاری ہے، بائی پاس اور فضاگھٹ پر اب تک 26 ہوٹل او ریسٹورنٹس کےخلاف کارروائی کی جاچکی ہے، متاثرہ فیملی نے دریاک ے کنارے جس ہوٹل پر ناشتہ کیا تھا وہ ہوٹل بھِی گرادیاگیا،ضلعی انتظامیہ کے مطابق سنگوٹہ تک 49 ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں دریائے سوات میں سیلابی ریلے میں طغیانی کے باعث بہنے والے17 افراد میں سے ایک بچہ تاحال نہ مل سکا، بچے کو ڈھونڈنے کیلئے ریسکیو آپریشن چوتھے روز بھی جاری ہے .

  • ضلع کرم،اسکول اساتذہ پر فائرنگ کرنیوالے دو مطلوب دہشتگرد ہلاک

    ضلع کرم،اسکول اساتذہ پر فائرنگ کرنیوالے دو مطلوب دہشتگرد ہلاک

    ضلع کرم کے علاقے میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی کے دوران اسکول اساتذہ پر فائرنگ میں مطلوب دو دہشتگرد حفیظ الرحمان اور واجد گل ہلاک ہوگئے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشتگرد – 50،50 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دہشتگرد سال 2023 میں تری منگل میں پانچ اساتذہ کو شہید کرنے میں ملوث تھے۔ کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک مقامی شخص پاوں پر گولی لگنے سے زخمی بھی ہوا۔سیکیورٹی اداروں کے مطابق واقعے میں ملوث پانچ ملزمان پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پہلے سے مطلوب تھے، جن میں سے دو کو آج کی کارروائی میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ باقی تین اشتہاریوں کی تلاش جاری ہے۔

    سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ علاقے میں امن قائم رکھنے کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں اور دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.2 ریکارڈ

    سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.2 ریکارڈ

    خیبرپختونخوا کے ضلع سوات اور اس کے گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.2 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی گہرائی 220 کلومیٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں واقع تھا۔واضح رہے کہ 26 اپریل کو بھی سوات، مینگورہ اور ان کے گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5 تھی۔ اس زلزلے کی زیرزمین گہرائی 130 کلومیٹر تھی اور اس کا مرکز بھی کوہ ہندوکش، افغانستان تھا۔

    زلزلے کے جھٹکوں سے علاقے کے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا اور کئی لوگ گھروں سے باہر نکل آئے تھے۔ انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

    7 مئی کو پاک فضائیہ نے بھارتی جنگی جہاز مار گرائے،بھارتی دفاعی اتاشی کا اعتراف

    کراچی، مختلف واقعات میں 5 افراد جاں بحق، 4 زخمی

    فیلڈ مارشل سے ایرانی آرمی چیف کا ٹیلیفونک رابطہ،پاکستان کے عوام کا شکریہ

    مولانا فضل الرحمٰن کا دھاندلی، سیاست، فاٹا انضمام اور فلسطین پر دو ٹوک مؤقف

    ’اپنا میٹر اپنی ریڈنگ‘ ایپ،کے الیکٹرک کو تاحال نوٹیفکیشن موصول نہیں ہوا

  • مولانا فضل الرحمٰن کا دھاندلی، سیاست، فاٹا انضمام اور فلسطین پر دو ٹوک مؤقف

    مولانا فضل الرحمٰن کا دھاندلی، سیاست، فاٹا انضمام اور فلسطین پر دو ٹوک مؤقف

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے 2024ء کے عام انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح 2018ء کا الیکشن جعلی تھا، ویسے ہی یہ انتخابات بھی جعلی ہیں، ہم نتائج کو تسلیم نہیں کرتے۔

    شعائر اسلام کانفرنس سے خطاب میں مولانا نے کہا کہ نہ پچھلی حکومت کو چلنے دیا، نہ اس حکومت کو چلنے دیں گے۔ عوام کے فیصلے کے آگے سرِ تسلیم خم کیا جائے۔عوام اور جے یو آئی میں فاصلے پیدا نہیں ہو سکتے،آگے بڑھیں گے اور پاکستان کے اندر انقلاب برپا کریں گے۔ہم چیختے رہے کہ قبائلی عوام اس انضمام پر راضی نہیں تھے، آج پچھتا رہے ہیں کہ یہ فیصلہ غلط تھا۔

    "مولانا فضل الرحمٰن کا ً مزید کہنا تھا کہ ہم بغیر عوام کے کسی حکمرانی کو نہیں مانتے۔ ملک آئینی راستے سے ہٹ رہا ہے۔ملک اگر امریکا کی رضا مندی سے چلایا جا رہا ہے تو جمہوریت کی بات کیوں کرتے ہو؟، ایوان میں 18 سال سے کم عمر نکاح کو ناجائز قرار دیا گیا، جو آئین اور شریعت کے خلاف ہے۔عالم دین کے خلاف بندوق اٹھانا جہاد نہیں بلکہ تنگ نظری ہے۔

    مولانا فضل الرحمٰن نے سوات میں سیاحوں کے طغیانی میں بہہ جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو سیاحتی مقامات پر احتیاط برتنی چاہیے، جبکہ انتظامیہ کی لاپرواہی بھی ناقابل قبول ہے۔فلسطین میں 60 ہزار شہادتیں ہو چکیں، مگر ٹرمپ کو جنگ بندی کی یاد اب آئی جب ایران نے بمباری کی۔”

    ترک صدر طیب اردوان کی خیبرپختونخوا حملے کی مذمت

    پاکستان سے مفرور 2 ملزمان اسپین میں گرفتار

    پشاور،حملے کی کوشش ناکام، خودکش حملہ آور اور ہینڈلر ہلاک

    گلگت بلتستان: گلیشیئر پگھلنے سے خطرناک صورتحال، کئی علاقے زیرِ آب