Baaghi TV

Category: پشاور

  • وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی تصویر اشتہار میں لگانے پر سیکرٹری اطلاعات "فارغ”

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی تصویر اشتہار میں لگانے پر سیکرٹری اطلاعات "فارغ”

    پشاور: وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا، علی امین گنڈاپور کی تصویر سرکاری اشتہار میں لگانے پر صوبائی محکمہ اطلاعات کے سیکرٹری ارشد خان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے وزیرِ اعلیٰ سیکرٹریٹ نے خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری کو ایک خط لکھا جس میں حکومتی اشتہارات میں سیاسی شخصیات کی تصاویر شامل کرنے کی پالیسی کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ حکومتی اشتہارات عوامی آگاہی، تعلیمی مقاصد اور دیگر مفاد عامہ کے لیے ہوتے ہیں، جن میں سیاسی شخصیات کی تصاویر شامل کرنا نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ پالیسی کے خلاف بھی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے محکمہ اطلاعات کے سیکرٹری ارشد خان کے خلاف فوری کارروائی کی ہدایت کی۔وزیرِ اعلیٰ سیکرٹریٹ نے واضح کیا کہ 72 گھنٹوں کے اندر ذمہ داروں کا تعین کرکے رپورٹ پیش کی جائے، تاکہ اس قسم کی خلاف ورزی کا دوبارہ تدارک کیا جا سکے۔

    ذرائع کے مطابق وزیرِ اعلیٰ کی تصویر اشتہار میں لگانے پر محکمہ اطلاعات کے سیکرٹری ارشد خان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ انہیں اسٹیبلشمنٹ ڈپارٹمنٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    دوسری جانب سیکرٹری اطلاعات ارشد خان نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کی تصویر غلطی سے اخبار میں شائع ہوئی تھی اور یہ کسی بھی جان بوجھ کر کی گئی کارروائی کا نتیجہ نہیں تھا۔

  • سوات، مینگورہ اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    سوات، مینگورہ اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    خیبرپختونخوا کے ضلع سوات کے شہر مینگورہ اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے-

    باغی ٹی وی:خیبرپختونخوا کے ضلع سوات کے شہر مینگورہ اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا،شہری کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے گھروں سے باہر آ گئے-

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 4.3 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کی زیر زمین گہرائی 73 کلومیٹر تھی، زلزلے کا مرکز ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ بتایا جا رہا ہے،تاحال کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    قلات: پنجاب سے تعلق رکھنے والے 4 مزدور فائرنگ سے جاں بحق

    سپریم کورٹ میں کیسز کی سماعت کیلئے آئندہ ہفتے کا روسٹر جاری

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ’ارتھ آور‘ منایا جائے گا

  • جنوبی وزیرستان:رستم بازار  میں دھماکا،3 افراد زخمی

    جنوبی وزیرستان:رستم بازار میں دھماکا،3 افراد زخمی

    جنوبی وزیرستان کے علاقے رستم بازار وانا میں کڑیکوٹ روڈ پر سڑک کنارے نصب بارودی مواد کے دھماکے میں3 افراد زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : پولیس ذرائع کے مطابق دھماکہ نور نامی شخص کی گاڑی کے قریب ہوا، جس کے نتیجے میں گاڑی کو نقصان پہنچا، زخمیوں کو فوری طور پر ڈی ایچ کیو اسپتال وانا منتقل کر دیا گیا، جہاں ایم ایس ڈاکٹر جان محمد نے بتایا کہ زخمیوں میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے،واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    شامی صدر کی روسی ہم منصب سے بشارالاسد کی واپسی کی درخواست

    ضرورت پڑی تو حکومت کہیں بھی دہشتگردی کے خاتمے کیلئے آپریشن کر سکتی ہے،عرفان صدیقی

    وزیراعظم سعودی عرب کا دورہ مکمل کر کےاسلام آباد پہنچ گئے

  • علی امین گنڈاپور اور عاطف خان کے اختلافات: ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے استعفیٰ طلب

    علی امین گنڈاپور اور عاطف خان کے اختلافات: ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے استعفیٰ طلب

    پشاور: وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور عاطف خان کے اختلافات کے معاملے کے حوالے سےعاطف خان کے اینٹی کرپشن کیس میں کمزور دلائل پیش کرنے پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے استعفیٰ طلب کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور قاضی انور ایڈووکیٹ کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس میں قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ گنڈا پور کی ہدایات ہے کہ نو روز خان استعفی دے دیں، آپ نے غیر مناسب دلائل دیئے ہیں، جو آرڈر شیٹ میں بھی آگئے۔

    قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ آرڈر شیٹ میں لکھا گیا ہے کہ فریقین آپس میں کمپرومائز کر رہے ہیں، وزیر اعلیٰ نے اسی دن کہا کہ آپ کو ہٹایا جائے، میں نے ایڈووکیٹ جنرل کو کہا کہ آپ سےرضا کارانہ استعفی لیاجائےنور روز خان کی بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل تعینا تی کی سفارش میں نے خود کی تھی، اب وزیر اعلیٰ کی ہدایت ہے اس لیے وہ خود استعفی دے دیں۔

    پاکستانی شخص کا قانونی طور پر بغیر ویزا بھارت کا سفر

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نورروز خان نے پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کو آڈیو میسج کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کے کیس میں ملتوی ہونے پر اعتراض نہیں کیا تھا، یہ کہتے ہیں کہ اس کیس کو نمٹانا چاہیے تھا، ملتوی نہیں کرنا چاہیے تھا قاضی انور ایڈووکیٹ جنرل مجھ سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں، میں استعفیٰ نہیں دے رہا، اب یہ جعلی دستخط سے بھی میرا استعفی تیار کر رہے ہیں،آپ ایڈووکیٹ جنرل کو ایک کال کریں کہ یہ آپ کی دشمنی میں کیا کر رہے ہیں؟ لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے اس کیس کو کیوں پرسو نہیں کیا۔

    حوثیوں کا اسرائیل میں بن گوریون ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

  • جلسوں کیلئے پیسہ ہر وقت دستیاب، ملازمین کو تنخواہیں دینے کیلئے گنڈا پور کے پاس فنڈز نہیں،عظمیٰ بخاری

    جلسوں کیلئے پیسہ ہر وقت دستیاب، ملازمین کو تنخواہیں دینے کیلئے گنڈا پور کے پاس فنڈز نہیں،عظمیٰ بخاری

    لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ کے پی حکومت کے پاس سرکاری وسائل اور پیسہ احتجاج، جلسے اور مارچ پر خرچ کرنے کے لیےہر وقت دستیاب ہے، لیکن سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کے لیے گنڈاپور کے پاس فنڈز نہیں ہوتے۔

    باغی ٹی وی : وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ کے پی حکومت نے مرکز بحالی پروجیکٹ کے 182 ملازمین کو ایک ہی دن میں نوکری سے فارغ کر دیا ہے ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسہ دینے والے لوگوں کا روزگار چھیننے پر آ گئے ہیں کے پی حکومت کے محکمہ اطلاعات سے کروڑ وں روپے سوشل میڈیا بریگیڈ کو دیئے جاتے ہیں، یہی سوشل میڈیا بریگیڈ دن رات پاکستان اور قومی سلامتی کے اد اروں کے خلاف پروپیگنڈہ کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت کے پاس سرکاری وسائل اور پیسہ احتجاج، جلسے اور مارچ پر خرچ کرنے کے لیے ہر وقت دستیاب ہے، لیکن سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کے لیے گنڈاپور کے پاس فنڈز نہیں ہوتے کے پی حکومت وفاق سے ملنے والا این ایف سی ایوارڈ کا حصہ برابر وصول کرتی ہے، لیکن خیبرپختونخوا میں بلدیاتی نمائندے دو سال سے فنڈز نہ ملنے پر سڑکوں پر ہیں تعلیمی ادا روں کے ملازمین الگ سے احتجاج کرتے ہیں۔

    ریاست اور حکومتی شخصیات کی فیک ویڈیوز بنانے میں ملوث ملزم گرفتار

    عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں مریم نواز نے صرف ستھرا پنجاب منصوبے میں ایک لاکھ سے زائد افراد کو نوکریاں دی ہیں پنجاب کے درجنوں نئے منصوبوں میں اب تک لاکھوں نئی نوکریاں پیدا ہوئی ہیں،مریم نواز عوام کی خدمت میں مصروف ہیں جبکہ مخالفین عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھیننے میں مصروف ہیں۔

    مصطفیٰ قتل کیس،ملزم ارمغان اعتراف جرم کے بعد مکر گیا

  • پاراچنار ایئرپورٹ کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے کوششیں تیز

    پاراچنار ایئرپورٹ کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے کوششیں تیز

    پاراچنار ایئرپورٹ کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی (PAA) اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی مشترکہ ٹیم نے پاراچنار ایئرپورٹ کا دورہ مکمل کیا ہے۔ یہ دورہ پاراچنار ایئرپورٹ پر تجارتی اور امدادی پروازوں کی بحالی کے امکانات اور ممکنہ اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے کیا گیا۔

    جوائنٹ بورڈ آف آفیسرز نے ایئرپورٹ کے بنیادی ڈھانچے، تکنیکی پہلوؤں اور سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس جائزے میں ایئرپورٹ کی ٹرمینل بلڈنگ، رن وے، فائر گیراجز، پی اے اے کی رہائش گاہ، جنریٹر روم اور دیگر آپریشنل سہولتوں کا معائنہ شامل تھا۔معائنے کے بعد ٹیم کے ارکان نے ڈپٹی کمشنر پاراچنار سے بھی ملاقات کی، جس میں پاراچنار ایئرپورٹ پر آپریشنز کی بحالی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ ایئرپورٹ کی دوبارہ فعالیت سے نہ صرف تجارتی پروازوں کے آپریشنز میں بہتری آئے گی بلکہ امدادی پروازوں کے لئے بھی یہ ایئرپورٹ ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل وزارت دفاع کی ہدایت پر پی اے اے اور پی آئی اے کے ارکان پر مشتمل آٹھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس کا مقصد پاراچنار ایئرپورٹ کی بحالی اور اس کی آپریشنل صلاحیتوں کا جائزہ لینا تھا۔یہ اقدامات پاراچنار کے عوام کے لیے اہم ہیں، کیونکہ ایئرپورٹ کی فعالیت سے علاقے میں سفری سہولتیں بہتر ہوں گی اور کاروباری اور انسانی امداد کے لئے نئی راہیں کھلیں گی۔

  • بنوں میں پولیس چوکی پر دہشت گردوں کی فائرنگ، جوابی کارروائی سے پسپا

    بنوں میں پولیس چوکی پر دہشت گردوں کی فائرنگ، جوابی کارروائی سے پسپا

    بنوں: بنوں کے علاقے کنگرپل میں دہشت گردوں نے پولیس چوکی پر فائرنگ کی جسے پولیس نے بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی سے ناکام بنا دیا۔ پولیس کے مطابق، دہشت گردوں نے کنگرپل پولیس چوکی پر اچانک حملہ کیا تھا، جس پر فوراً پولیس اہلکاروں نے جوابی کارروائی شروع کر دی، جس کے نتیجے میں دہشت گرد پسپا ہو گئے اور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے حملے کے دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ فورسز نے دہشت گردوں کی تلاش شروع کر دی ہے اور ان کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔

    دوسری جانب پشاور کے علاقے متنی میں ایک ہوٹل پر دستی بم حملہ کیا گیا۔ بم پھینکنے کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہوگئے۔ خوش قسمتی سے اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور تمام افراد محفوظ رہے۔ پولیس نے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔یہ دونوں واقعات امن و امان کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والے ہیں، لیکن فورسز کی بروقت کارروائی نے ان حملوں کو کامیاب ہونے سے روک دیا۔

  • خواتین کو وراثتی حق سے محروم کرنے والی رسم غیر اسلامی اور غیر قانونی قرار

    خواتین کو وراثتی حق سے محروم کرنے والی رسم غیر اسلامی اور غیر قانونی قرار

    خواتین کو وراثتی حق سے محروم کرنے والی رسم غیر اسلامی اور غیر قانونی قرار دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی: وفاقی شرعی عدالت نے چادر و پرچی رسم کو غیر اسلامی اور غیر قانونی قرار دے دیا ہے،یہ فیصلہ چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت جسٹس اقبال حمید الرحمٰن کی سربراہی میں فل کورٹ نے دیا جس میں جسٹس خادم ایم شیخ، جسٹس ڈاکٹر محمد انور اور جسٹس امیر محمد بھی شامل تھے۔

    وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ چادر اور پرچی کی رسم کے تحت خواتین کو وراثتی حق سے محروم کیا جاتا تھا، ایسی روایات اسلامی احکامات کے خلاف ہیں، چادر اور پرچی جیسی روایات قرآن و سنت میں خواتین کو دیے حقوق کے خلاف ہیں خواتین کو سماجی دباؤ کے تحت وراثتی جائیداد سے محروم کرنا اسلامی احکامات اور قوانین کے خلاف ہے۔

    وفاقی شرعی عدالت نے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سیکشن 498 کے تحت کارروائی کرنے کا حکم دیا اور فیصلے میں خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ اور فراہمی کے قوانین کے بارے میں آگاہی اور مؤثر نفاذ پر بھی زور دیا۔

    یورپ کے بعد برطانیہ میں بھی پاکستانی ایئرلائنز بحال کرنے کی منظوری کی امید

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت کو بتایا گیا کہ بنوں میں چادر اور پرچی نامی روایات پر عمل ہوتا ہے، خیبر پختونخوا حکومت کے مطابق ایسے رسم و رواج نہ رائج ہیں نہ ان کی کوئی اہمیت ہے، چادر اور پرچی کے نام پر خواتین کو وراثت سے محروم کیا جاتا ہے، اسلام سے قبل زمانۂ جہالت میں خواتین کو وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا۔

    جب نعمان اعجاز نے شوٹنگ کے دوران رعید عالم کو تھپڑ مارا

  • 25 دن کے تعطل کے بعد طورخم بارڈر کھلنے کے لیے تیار، تجارتی سرگرمیاں بحال

    25 دن کے تعطل کے بعد طورخم بارڈر کھلنے کے لیے تیار، تجارتی سرگرمیاں بحال

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ)25 دن کی بندش کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سرحد آج دوبارہ کھلنے کے لیے تیار ہے۔ یہ فیصلہ قبائلی جرگہ کے درمیان ایک معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں متنازعہ تعمیرات کو ختم کرنے اور تجارتی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    کارگو گاڑیوں کی آمدورفت آج سہ پہر 4 بجے تک دوبارہ شروع ہونے کی امید ہے۔ سیکورٹی ذرائع نے فلیگ میٹنگ کے کامیاب اختتام اور مشترکہ جرگہ کے فیصلوں کی توثیق کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو بحال کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

    امیگریشن سسٹم کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کے لیے پیدل آمدورفت کو 2-3 دن کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق طورخم امیگریشن سسٹم کو افغان فورسز کی فائرنگ سے نقصان پہنچا ہے، امیگریشن سسٹم کی مرمت تک افغانستان پیدل آمدورفت معطل ہوگی، صرف افغان مریضوں کو ہنگامی بنیادوں پر پاکستان امد ورفت کی اجازت دی گئی۔

    یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور تجارتی تعلقات کو بحال کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ پاکستانی جرگہ کے سربراہ نے طورخم سرحد پر متنازعہ تعمیرات کے خاتمے پر افغان حکام کی رضامندی کو سراہا۔ دونوں ممالک کے حکام نے مستقبل میں اس طرح کے تنازعات سے بچنے اور سرحدی انتظام کو بہتر بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم کیا ہے۔

    بارڈر کی بندش کی وجہ سے دونوں ممالک کو روزانہ 30 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا، جس سے سالانہ تجارتی حجم میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ تجارتی گزرگاہ کے کھلنے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور معاشی ترقی میں مدد ملے گی۔

    افغان قونصل جنرل نے سرحد کو جلد کھولنے کی اہمیت پر زور دیا اور افغان باشندوں کی واپسی کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی درخواست کی۔ فلیگ میٹنگ کے بعد تجارتی گزرگاہ کھول دی جائے گی، جے سی سی اجلاس تک فائربندی رہے گی۔ سیکورٹی حکام کی جانب سے بھی افغان حکام کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔

  • جرگہ فیصلہ پرعمل نہ ہوا، طورخم گزرگاہ کھولنے میں افغان رکاوٹ

    جرگہ فیصلہ پرعمل نہ ہوا، طورخم گزرگاہ کھولنے میں افغان رکاوٹ

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی) پاکستان اور افغان مشترکہ جرگہ کے طورخم تجارتی گزرگاہ کھلوانے کے فیصلے پر افغان حکام کی طرف سے عمل درآمد میں تاخیر کے باعث 18 مارچ بروز منگل کو بھی تجارتی گزرگاہ 25 ویں روز بھی ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند رہی۔

    پاکستانی جرگہ کے سربراہ سید جواد حسین کاظمی نے بتایا کہ گزشتہ روز پاکستان اور افغان جرگہ کے درمیان فیصلہ کن نشست ہوئی، جس میں افغان فورسز کی متنازعہ تعمیرات بند کرنے اور طورخم تجارتی گزرگاہ ہر قسم آمد و رفت کے لیے کھولنے پر اتفاق کیا گیا۔ تاہم، طورخم سرحد کی بحالی کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے افغان جرگہ نے افغان حکام سے حتمی رائے لینے کے لیے گزشتہ شام تک مہلت مانگی۔ جرگہ سربراہ کے مطابق، 20 گھنٹے گزرنے کے باوجود افغان جرگہ نے انہیں افغان حکام کے حتمی فیصلے سے آگاہ نہیں کیا، جس سے طورخم سرحد کھلوانے میں تاخیر ہو رہی ہے۔

    جرگہ سربراہ سید جواد حسین کاظمی نے کہا کہ وہ اب بھی افغان جرگہ کے رابطے کے منتظر ہیں۔ واضح رہے کہ 24 روز قبل افغان فورسز پاکستانی حدود میں تعمیرات کر رہی تھیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی اور پاک افغان سرحدی گزرگاہ ہر قسم آمد و رفت کے لیے بند کر دی گئی۔

    کسٹم ذرائع کے مطابق، تجارتی گزرگاہ بند ہونے سے ملک کے خزانے کو ٹیکس کی صورت میں اوسطاً 3 ملین ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے، اور گزشتہ 24 دنوں میں 72 ملین ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے۔

    طورخم سرحدی گزرگاہ پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے گزشتہ روز پاک افغان مشترکہ جرگہ کے فیصلے پر افغان حکام کی طرف سے عمل درآمد میں ایک دن کی تاخیر ہوئی ہے۔ افغان حکام کے درمیان ہنگامی طور پر مشاورت جاری ہے۔ پاکستانی جرگہ نے جلد مثبت پیغام موصول ہونے کی توقع ظاہر کی ہے۔ طورخم تجارتی گزرگاہ آج 25 ویں روز بھی بند ہے۔

    پاکستان اور افغان مشترکہ جرگہ کے درمیان گزشتہ روز کامیاب مذاکرات ہوئے۔ جرگہ نے فائر بندی اور طورخم تجارتی گزرگاہ فوری کھولنے پر اتفاق کیا۔ تاہم، افغان جرگہ نے متنازعہ تعمیرات پر پابندی کے فیصلے پر اعلیٰ حکام سے حتمی رائے لینے کے لیے گزشتہ شام تک مہلت مانگی۔ افغان حکام کی مشاورت سے حتمی فیصلہ ایک دن کے لیے موخر کر دیا گیا ہے۔

    پاکستانی جرگہ کے سربراہ اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبر کے مشیر سید جواد حسین کاظمی نے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 21 فروری سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سرحد کشیدگی کے خاتمے کے لیے گزشتہ روز افغانستان میں ہونے والی مذاکرات کامیاب ہوئیں۔ دونوں ممالک کے جرگہ ممبران نے فائر بندی اور طورخم سرحدی گزرگاہ ہر قسم آمد و رفت کے لیے فوری طور پر کھولنے پر اتفاق کیا۔

    جواد حسین کے مطابق متنازعہ تعمیرات کا مسئلہ آئندہ JCC یعنی جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی اجلاس میں حل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ جے سی سی اجلاس تک متنازعہ تعمیرات بند ہوں گی اور فائر بندی معاہدے پر بھی عمل درآمد جاری رہے گا۔ جے سی سی اجلاس کے لیے تاریخ باہمی مشاورت سے مقرر کی جائے گی۔ جرگہ میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ JCC کو ماضی کی طرح فعال کیا جائے گا۔ پاکستانی جرگہ خیبر چیمبر آف کامرس کے صدر حاجی محمد یوسف سمیت 36 ارکان پر مشتمل تھی، جس کی قیادت سید جواد حسین کاظمی کر رہے تھے۔ جبکہ افغان جرگہ 25 ارکان پر مشتمل تھی۔

    سید جواد حسین کاظمی نے مزید کہا کہ پاکستانی جرگہ ایف سی حکام اور افغان جرگہ افغان بارڈر حکام کو مشترکہ فیصلے سے شام تک آگاہ کریں گے۔ دوپہر 4 بجے جرگہ نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرکے نشست کو برخاست کیا۔ تاہم، افغان حکام کی حتمی رائے اس لیے اگلے روز کے لیے موخر کر دی گئی کہ افغان حکام نے حتمی رائے کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ افغان جرگہ کے مطابق، حتمی رائے لینے کے لیے جرگہ جلال آباد اور کابل کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

    سید جواد حسین کاظمی نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ افغان حکام کی طرف سے مثبت پیغام ملے گا، جس کا پاکستانی عوام بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں اور پاک افغان تجارتی گزرگاہ ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے کھول دی جائے گی۔

    سید جواد حسین کاظمی کے مطابق 21 فروری کو افغان فورسز طورخم سرحد کے قریب فوجی چیک پوسٹ تعمیر کر رہے تھے، جنہیں ایف سی حکام نے منع کیا کہ یہ پاکستانی حدود ہے اور پاکستانی حدود میں تعمیرات کی اجازت نہیں دے سکتے۔ جس پر دونوں ممالک کے فورسز کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی اور کئی بار مسلح جھڑپ ہوئی۔ اور طورخم تجارتی گزرگاہ ہر قسم آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا۔

    سید جواد حسین کاظمی نے مزید کہا کہ روز اول سے ان کی کوشش رہی کہ کشیدگی کا خاتمہ اور مسئلے کا پرامن حل تلاش کیا جائے۔ لہذا، 6 مارچ کو افغان چیمبر آف کامرس کے قائدین سے رابطہ کیا اور انہیں مذاکرات کے لیے 9 مارچ کو طورخم مدعو کیا۔ پہلی کامیاب نشست میں مشترکہ جرگہ نے فیصلہ کیا کہ فوری طور پر فائر بندی ہو۔ دوسری نشست 17 مارچ کو ہوئی۔

    گزشتہ روز مشترکہ جرگہ کے کامیاب مذاکرات ہوئے کہ عید الفطر کے 15 ویں روز تک فائر بندی ہوگی۔ افغان فورسز سمیت دونوں ممالک متنازعہ حدود میں تعمیراتی کام نہیں کریں گے اور افغان فورسز کی متنازعہ تعمیرات کا مسئلہ آئندہ جے سی سی اجلاس میں اٹھایا جائے گا۔ اور طورخم تجارتی گزرگاہ کو ہر قسم آمد و رفت کے لیے فوری طور پر کھول دیا جائے۔ پاکستانی حکام نے جرگہ فیصلے کا خیر مقدم کیا، تاہم افغان حکام نے متنازعہ تعمیرات بند کرنے کے جرگہ فیصلے پر اپنی حتمی رائے تاحال نہیں دی۔

    سید جواد حسین کاظمی نے پاک افغان دو طرفہ تجارت کے حوالے سے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ طورخم سرحدی گزرگاہ گزشتہ 24 دنوں سے ہر قسم آمد و رفت کے لیے بند ہے۔ جس کے باعث افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت سمیت ٹرانزٹ ٹریڈ معطل رہی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت سے ملکی خزانے کو یومیہ اوسطاً 3 ملین ڈالرز محصولات ملتے ہیں۔ اور یوں گزشتہ 24 دنوں میں ملک کو ٹیکس کی مد میں 72 ملین ڈالرز کی ڈیوٹی ٹیکسز کا نقصان ہو چکا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یومیہ اوسطاً 10 ہزار افراد طورخم سرحدی گزرگاہ آمد و رفت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔