Baaghi TV

Category: پشاور

  • بنوں میں دہشت گردوں کا  دوپولیس تھانوں اور چوکی پر حملہ

    بنوں میں دہشت گردوں کا دوپولیس تھانوں اور چوکی پر حملہ

    خیبر پختونخوا کے شہر بنوں کے دو تھانوں اور ایک پولیس چوکی پر دہشت گردوں نے حملہ کیا ہے، تاہم بروقت پولیس کارروائی کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے تھانہ بکاخیل اور تھانہ غوری والہ پر حملہ کیا جبکہ خوجڑی پولیس چوکی پر دستی بم پھینکے گئے۔ ان حملوں میں دہشت گردوں کا مقصد پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانا تھا، مگر پولیس کی فوری کارروائی کے باعث اہلکار محفوظ رہے۔پولیس نے بتایا کہ جیسے ہی دہشت گردوں نے حملہ کیا، اہلکاروں نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کو فرار ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق علاقے میں امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے مزید سرچ آپریشن شروع کر دیے گئے ہیں۔

    پولیس حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اور دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ علاقے میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے تاکہ دہشت گرد دوبارہ کسی قسم کی کارروائی کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔

  • پاک افغان تجارتی بحران، فوری اقدامات ناگزیر، پاک افغان جوائنٹ چیمبر

    پاک افغان تجارتی بحران، فوری اقدامات ناگزیر، پاک افغان جوائنٹ چیمبر

    پشاور(باغی ٹی وی )پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) کے صدر جنید مکڈا نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی بحران کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی رکاوٹوں، بڑھتے ہوئے ٹرانسپورٹ اخراجات اور طورخم بارڈر کی بندش سے سرحد پار کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے، جس سے پاکستان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

    انہوں نے دسمبر 2024 میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) کے اجلاس میں اٹھائے گئے تحفظات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اکتوبر 2023 میں جاری کردہ ایس آر اوز کے باعث تجارت میں نمایاں کمی آئی ہے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت نے حال ہی میں انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس (IDC) کو 2 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کر دیا ہے، لیکن یہ اب بھی افغانستان کے ساتھ دو طرفہ ٹرانزٹ ٹریڈ پر لاگو ہوتا ہے جو قانونی تجارت کی حوصلہ شکنی اور بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

    انہوں نے کہا کہ IDC میں کمی ایک معمولی ریلیف ہے، لیکن ٹرانزٹ ٹریڈ پر کوئی ٹیکس نہیں ہونا چاہیے۔ اضافی ٹیکس اور بارڈر کی بندش کے باعث تاجر ایرانی بندرگاہوں کا رخ کر رہے ہیں، جو پاکستان کے تجارتی راہداری کے کردار کے لیے خطرناک ہے۔

    21 فروری 2025 سے طورخم بارڈر افغان سرحدی چوکی کی تعمیر پر تنازع کی وجہ سے بند ہے، جس سے ہزاروں ٹرک، جن میں خراب ہونے والا سامان بھی شامل ہے، پھنس گئے ہیں اور تاجروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ بارڈر کی مسلسل بندش کی وجہ سے کاروبار متبادل راستوں، جیسے چابہار اور بندر عباس کی طرف منتقل ہو رہا ہے جو پاکستانی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

    پاک افغان جوائنٹ چیمبر کے سینئر نائب صدر ضیاء الحق سرحدی اور نائب صدر پرویز لالہ نے بھی اس بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سب سے زیادہ نقصان چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کو ہو رہا ہے۔ ضیاء الحق سرحدی نے کہا کہ طویل تاخیر اور غیر یقینی صورتحال تاجروں کا اعتماد ختم کر رہی ہے، جس سے سرمایہ کاری کا ماحول بھی متاثر ہو رہا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان اپنی حیثیت بطور اہم تجارتی مرکز کھو سکتا ہے۔

    جنید مکڈا نے کہا کہ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ افغانستان جیسے زمینی راستے سے محصور ممالک کے لیے تجارتی سہولیات فراہم کرے۔ اگر پاکستان ان وعدوں پر پورا نہیں اترا تو نہ صرف عالمی سطح پر بدنامی ہوگی بلکہ علاقائی حریفوں کو بھی فائدہ پہنچے گا، کیونکہ بھارتی بندرگاہیں پہلے ہی پاکستانی تجارت کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں۔

    پاک افغان جوائنٹ چیمبر نے واضح کیا کہ وہ قومی سلامتی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے، تاہم جنید مکڈا نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ سیکیورٹی اور تجارت میں توازن پیدا کرے، بارڈر مینجمنٹ کو بہتر بنائے، ٹرانسپورٹ لاگت کم کرے اور ٹرانزٹ ٹریڈ پر IDC کو مکمل طور پر ختم کرے تاکہ کاروبار کو تحفظ دیا جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی ازبکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی کوششیں خوش آئند ہیں، لیکن اگر تجارتی رکاوٹوں کو جلد دور نہ کیا گیا تو پاکستان ایک بڑی تجارتی راہداری بننے کا موقع کھو دے گا اور اپنی معاشی صلاحیت سے محروم ہو جائے گا۔

    پاک افغان جوائنٹ چیمبر نے حکومت پاکستان سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ہر گزرتا دن پاکستان کے لیے قیمتی تجارت، سرمایہ کاری کا اعتماد اور معاشی استحکام کھونے کا خطرہ بڑھا رہا ہے۔

  • جامعہ حقانیہ اور بنوں خودکش حملہ آوروں کی شناخت ہوگئی

    جامعہ حقانیہ اور بنوں خودکش حملہ آوروں کی شناخت ہوگئی

    آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا ہے کہ دارالعلوم حقانیہ اور بنوں میں ہونے والے خودکش حملوں کے حملہ آوروں کی شناخت کر لی گئی ہے۔ دونوں دھماکوں کی تحقیقات جاری ہیں اور سی سی ٹی وی ویڈیوز حاصل کر لی گئی ہیں۔

    پشاور میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ذوالفقار حمید نے مزید کہا کہ نوشہرہ میں دارالعلوم حقانیہ اور بنوں دھماکوں کی تحقیقات کو تیز کر دیا گیا ہے۔ ان دھماکوں میں ملوث خودکش حملہ آوروں کی اعضاء کے ذریعے شناخت کی گئی ہے، جس سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے حوالے سے اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا کہ بنوں کے واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی ٹریکنگ کی جا رہی ہے، اور اس دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس حملے میں غیر ملکی اسلحہ بھی استعمال کیا گیا۔ اسلحہ کی ٹریکنگ جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ اسلحہ کس ملک سے آیا اور کس طریقے سے دہشت گردوں کے ہاتھ لگا۔

    ذوالفقار حمید نے کرم میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی کی کارروائیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ کرم میں حالات خراب کرنے والے 100 سے زائد ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرم کے حالات میں اب دہشت گردی کا عنصر شامل ہو چکا ہے، جس کے پیش نظر کرم کے لیے ایک نئی حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔ امید ہے کہ اس حکمت عملی کے تحت کرم میں آئندہ کوئی دہشت گردانہ واقعہ پیش نہیں آئے گا۔

    آئی جی خیبرپختونخوا نے سیف سٹی پراجیکٹ کی منظوری کی خوشخبری بھی دی اور کہا کہ اس پراجیکٹ پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند ماہ میں سیف سٹی پراجیکٹ مکمل ہو جائے گا، جس سے خیبرپختونخوا کے شہری علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔

    آئی جی خیبرپختونخوا کے مطابق، صوبے میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کی تحقیقات تیز کر دی گئی ہیں اور خودکش حملہ آوروں کی شناخت ہو چکی ہے۔ کرم میں حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے خصوصی حکمت عملی تیار کی گئی ہے، جبکہ سیف سٹی پراجیکٹ کی تکمیل سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال مزید مستحکم ہو گی۔

  • پشاور:گھروں پر حملے کر کے ویڈیوز بنانیوالے ٹک ٹاکرز گرفتار

    پشاور:گھروں پر حملے کر کے ویڈیوز بنانیوالے ٹک ٹاکرز گرفتار

    پشاور: حیات آباد میں ٹک ٹاک ویڈیو کے چکر میں گھروں میں لگے شیشے پتھراؤ کر کے توڑنے والے اوباش نوجوانوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی: ٹک ٹاکر پتھر گروپ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت کے علاقے حیات آباد میں گھروں پر پتھر پھینکتے ہیں، نوجوان گھروں کو پتھر مار کر شیشے توڑ کر ویڈیوز بناتے اور پھر اس کی ویڈیوز ٹک ٹاک پر ڈال کر اسے وائرل کرتے ہیں، عوامی شکایات ملنے پر تھانہ تاتارا پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے رات کی تاریکی میں گھروں، دروازوں پر پتھراو کرنے میں ملوث اوباش نوجوانوں کا گروہ کو حراست میں لے لیا۔

    حراست میں لئے گئے نوجوان لڑکے تراویح کے بعد حیات آباد کے پوش اور کمرشل علاقوں میں رات کی تاریکی میں شہریوں کے گھرو ں پر پتھراؤ کرتے ہیں اور ساتھ میں ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرتے ہیں، جس سے علاقہ میں خوف وحراس پھیل رہا تھا،عوامی شکا یت ملنے پر حیات آباد سرکل پولیس نے تمام اوباش نوجوانوں کو حراست میں لے لیا، جنہوں نے اپنی غلطی تسلیم کرلی، جس کے بعد تما م لڑکوں کے والدین اور ورثا کو تھانہ طلب کرکے ان کے بچوں کی جانب سے تحریری معافی نامہ دینے کے بعد انہیں والدین کی ضما نت پر چھوڑ دیا گیا۔

    ملزم ارمغان نے وکیل کو دھمکیاں دینے کے مقدمے میں اعتراف جرم کرلیا

    جوان اپنے بچو ں کو یتیم کرکے لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچا رہے ہیں،وزیراعظم

    میں رابطوں کا حصہ نہیں، نہ کسی نے رابطہ کیا، جنید اکبر

  • امدای سامان پر مشتمل  450 سے زائد گاڑیوں کا قافلہ پارہ چنار روانہ

    امدای سامان پر مشتمل 450 سے زائد گاڑیوں کا قافلہ پارہ چنار روانہ

    کُرم: اشیا ضروریہ اور تجارتی سامان پر مشتمل 450 سے زائد گاڑیوں کا قافلہ سخت سیکورٹی میں ٹل سے پارہ چنار روانہ ہوگیا-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق ہنگو سے اشیا ضروریہ اور تجارتی سامان پر مشتمل 450 سے زائد گاڑیاں پارہ چنار روانہ ہوگیا، گاڑیوں کو سخت سیکورٹی میں ٹل سے روانہ کیا گیا ہے ہنگو کے علاقے ٹل سے سخت سیکورٹی میں بڑی اور چھوٹی گاڑیوں کے متعدد قافلے پارہ چنار روانہ کیے گئے جن میں اشیا ضروریہ اور تجارتی سامان شامل ہے۔

    حکام کے مطابق 450 گاڑیوں کو چھوٹے چھوٹے قافلوں کی شکل میں اور وقفے وقفے سے پارہ چنار کے لیے روانہ کیا گیا،اس دوران قومی شاہراہ پر پولیس اور ایف سی کے جوان تعینات تھے اور موبائل فون سروس بھی معطل رہی۔

    میں رابطوں کا حصہ نہیں، نہ کسی نے رابطہ کیا، جنید اکبر

    قبل ازیں کمشنر کوہاٹ اور آر پی او کے عمائدین اور سرکردہ شخصیات سے جرگہ بھی منعقد ہوا اور قومی شاہراہ پر قافلوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے ان سے مشاورت بھی کی گئی۔

    صدر پاکستان کے خطاب پر بات کرنا چاہتا تھا مگر نہیں کرنا چاہتا،فاروق ستار

  • وزیر اعلی خیبر پختونخوا  سے  فٹبال پلئیر محمد ریاض کی ملاقات

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے فٹبال پلئیر محمد ریاض کی ملاقات

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ضلع ہنگو سے تعلق رکھنے والے معروف فٹبال کھلاڑی محمد ریاض سے ملاقات کی، جنہوں نے فٹبال کے بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ محمد ریاض کا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے اور حالیہ دنوں میں وہ اپنے خاندان کا گزر بسر کرنے کے لیے جلیبی کی دوکان پر کام کر رہے تھے۔

    محمد ریاض کی زندگی میں ایک نیا موڑ اُس وقت آیا جب سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں وہ جلیبی کی دوکان پر کام کرتے نظر آ رہے تھے۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے اس کا نوٹس لیا اور محمد ریاض کو سی ایم ہاؤس بلا کر ملاقات کی۔وزیر اعلیٰ نے محمد ریاض کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں 10 لاکھ روپے کا امدادی چیک دیا تاکہ ان کی مالی حالت بہتر ہو سکے اور وہ اپنے فٹبال کے کیریئر پر توجہ مرکوز کر سکیں۔ اس کے علاوہ، وزیر اعلیٰ نے محمد ریاض کو محکمہ اسپورٹس کے تحت فٹبال کوچ کی ذمہ داری بھی سونپی، تاکہ وہ اپنے تجربات اور مہارت کو نئے کھلاڑیوں کے ساتھ شیئر کر سکیں اور خیبر پختونخوا میں فٹبال کے کھیل کو فروغ دے سکیں۔

    محمد ریاض کی یہ کہانی ایک مثال بن گئی ہے کہ کس طرح محنت اور لگن سے انسان حالات کا مقابلہ کر کے کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی طرف سے دی جانے والی امداد اور نئی ذمہ داری سے محمد ریاض کو نہ صرف مالی مدد ملی ہے بلکہ ان کے لیے ایک نئی زندگی کے دروازے بھی کھل گئے ہیں۔یہ اقدام خیبر پختونخوا حکومت کی اسپورٹس کے فروغ اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے عزم کا عکاس ہے۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ وہ صوبے میں نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اس طرح کے اقدامات کرتے رہیں گے۔

  • سوات پولیس کی اہم کامیابی، مطلوب دہشت گرد اجمل ساتھیوں سمیت گرفتار

    سوات پولیس کی اہم کامیابی، مطلوب دہشت گرد اجمل ساتھیوں سمیت گرفتار

    سوات: مینگورہ میں پولیس نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے انتہائی مطلوب دہشت گرد اجمل کو دو ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا۔ اجمل ساکن ملوک آباد تھا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس کی طویل عرصے سے تلاش تھی۔

    پولیس کے مطابق اجمل اور اس کے ساتھی دہشت گرد مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے اور ان پر متعدد قتل اور دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ یہ کارروائی سوات پولیس کی خصوصی ٹیم نے کی، جس میں خفیہ اطلاعات پر بروقت کارروائی کی گئی۔مذکورہ دہشت گرد گروہ علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کے علاوہ امن و امان کی صورت حال کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پولیس نے فوری طور پر انہیں گرفتار کر کے قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سوات میں دہشت گردوں کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جس کے ذریعے امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف معلومات فراہم کرنے میں پولیس کا ساتھ دیں تاکہ ان کے نیٹ ورک کو مزید ختم کیا جا سکے۔یہ گرفتاری پولیس کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف کیے جانے والے موثر اقدامات اور سوات میں امن و سکون کے قیام کے لیے ایک اور اہم کامیابی ہے۔

  • بنوں کینٹ حملے میں ہلاک 16 دہشتگردوں میں افغان شہری بھی شامل

    بنوں کینٹ حملے میں ہلاک 16 دہشتگردوں میں افغان شہری بھی شامل

    بنوں کینٹ پر ہونے والے حملے کی تحقیقات میں پیش رفت ، حملے میں شامل 16 دہشت گردوں میں سے 2 حملہ آوروں کی شناخت ہوگئی ہے۔

    میڈیا رپورتس کے مطابق بنوں کینٹ پر ہونے والے حملے میں شامل 16 دہشت گردوں میں سے اب تک 2 حملہ آوروں کی شناخت ہوئی ہے، دونوں دہشت گردوں کی شناخت عبد الہادی عرف حماس مہاجر اور شمس اللہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ہلاک دہشت گردوں کا تعلق افغانستان کے صوبہ پکتیا سے تھا، ایک حملہ آور افغانستان کے صوبہ پکتیا کے گاؤں دروزی کا رہائشی تھا۔

    دوسری جانب تفتیشی ٹیم دیگر حملہ آوروں کی شناخت اور خاندانی تفصیلات اکھٹی کر رہی ہے۔یادر ہےکہ بنوں کینٹ کی دیوار کے قریب 4 مارچ کو 2 خودکش حملے ہوئے تھے جس کی ذمہ داری کالعدم تنظیم گل بہادر گروپ نے قبول کی تھی۔ بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں تمام 16 حملہ آور ہلاک ہوگئے تھے۔

    کے پی کے حکومت کا یوٹرن ، گاڑیوں کی خریداری پر پابندی واپس لینے کا فیصلہ

    سندھ کے سرکاری ملازمین کو ایڈوانس تنخواہیں دینے کا فیصلہ

    سونے کی قیمت 306,000 روپے فی تولہ پر مستحکم

    سوتیلے باپ نے 12 سالہ بیٹی کی 60 سالہ شخص سے شادی کرا دی

  • کے پی کے حکومت کا یوٹرن ، گاڑیوں کی خریداری پر پابندی واپس لینے کا فیصلہ

    کے پی کے حکومت کا یوٹرن ، گاڑیوں کی خریداری پر پابندی واپس لینے کا فیصلہ

    خیبرپختونخوا حکومت نے یوٹرن لیتے ہوئے گاڑیوں کی خریداری پر عائد پابندی واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے ایک بڑا یوٹرن لیا ہے اور خیبرپختونخوا میں گاڑیوں کی خریداری پر پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، یہ فیصلہ کل کابینہ کے اجلاس میں ہوگا۔ خیبرپختونخوا کابینہ کا اجلاس کل رات طلب کرلیا گیا، کابینہ کا 27واں اجلاس کل رات 09 بجے کیبنٹ روم سول سیکرٹریٹ میں منعقد ہوگا، کابینہ میں شامل 15 وزراء، 5 مشیر اور 12 معاون خصوصی کو دعوت نامے بھیج دیے گئے۔اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے آسامیوں کی تخلیق پر بھی پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے، ساتھ ہی کراچی میں ہونے والے 35 ویں نیشنل گیمز کے لیے فنڈز کی بھی منظوری دی جائے گی۔

    سونے کی قیمت 306,000 روپے فی تولہ پر مستحکم

    سوتیلے باپ نے 12 سالہ بیٹی کی 60 سالہ شخص سے شادی کرا دی

    سوچ عورت ایوارڈ .تحریر:عنبریں حسیب عنبر

  • لنڈی کوتل:پاکستانی جرگہ عمائدین کا دباؤ رنگ لایا، افغان تعمیراتی مشینری واپس

    لنڈی کوتل:پاکستانی جرگہ عمائدین کا دباؤ رنگ لایا، افغان تعمیراتی مشینری واپس

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ)پاکستانی جرگہ عمائدین کا دباؤ رنگ لایا، افغان تعمیراتی مشینری واپس

    تفصیل کے مطابق طورخم بارڈر پر ایک بار پھر کشیدگی، افغان حکام نے جرگہ کے فیصلوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی حدود میں چیک پوسٹ کی تعمیر شروع کر دی۔ تاہم، پاکستانی جرگہ عمائدین کے سخت دباؤ کے بعد افغان فورسز تعمیراتی مشینری واپس لے جانے پر مجبور ہو گئیں۔

    گزشتہ روز طورخم بارڈر پر پاکستانی اور افغان قبائلی عمائدین کے درمیان ایک تاریخی جرگہ ہوا تھا، جس میں سرحدی کشیدگی کو ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ دونوں فریقین نے متنازعہ تعمیراتی کام روکنے اور امن قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور ایک روز کا وقت مانگا تھا، جرگہ ممبران کے مطابق آج بروز پیر افغان جرگہ اور طالبان حکومت کے انتظار میں ہے کہ وہ ہمارے شرایط کے متعلق کیا رد عمل دیتے ہیں۔

    پاک جرگہ مشران کی طرف سے بھی سوشل میڈیا پر افغان حکام کی طرف سے اس خلاف ورزی پر تنقید کی گیی جس کے بعد افغان فورسز مشینری واپس کرنے پر مجبور ہوگئی۔

    واضح رہے کہ تورخم سے ملحقہ آبادی والے علاقہ باچا مینہ کے رہائشیوں میں خوف پھیل گیا جب متنازعہ چیک پوسٹ پر افغان فورسز نے کام شروع کیا لیکن جرگہ عمائدین کی مداخلت سے کشیدگی پھر ختم ہوگئی اور افغان فورسز نے مشینری واپس کردی۔

    انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی فلاحی تنظیموں کے رہنماؤں نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وہ جرگہ کی پاسداری کریں،متنازعہ چیک پوسٹ پر کام بند کریں اور سیز فائر کریں تاکہ گزشتہ 17 دنوں سے بند تورخم بارڈر کو کھولا جاسکے۔