Baaghi TV

Category: پشاور

  • افغان حکام کا دوغلا پن و مکروہ چہرہ، جرگہ فیصلوں کو پاؤں تلے روند ڈالا، تعمیراتی کام جاری

    افغان حکام کا دوغلا پن و مکروہ چہرہ، جرگہ فیصلوں کو پاؤں تلے روند ڈالا، تعمیراتی کام جاری

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی)افغان حکام کا دوغلا پن و مکروہ چہرہ، جرگہ فیصلوں کو پاؤں تلے روند ڈالا، تعمیراتی کام جاری

    ایک دن پہلے تورخم بارڈر پر ایک تاریخی جرگہ ہوا، جس میں پاکستانی اور افغان قبائلی عمائدین نے سرحدی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے اتفاق کیا۔ انہوں نے متنازعہ تعمیراتی کام کو روکنے اور امن قائم کرنے کا وعدہ کیا۔

    لیکن آج تصویریں ایک مختلف کہانی بیان کرتی ہیں۔ افغان فورسز نے جرگہ کے فیصلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے متنازعہ زمین پر دوبارہ تعمیراتی کام شروع کر دیا ہے۔ یہ عمل نہ صرف جرگہ کی روایات کی توہین ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو بھی بڑھا رہا ہے۔

    اس تنازعہ کی وجہ سے تورخم بارڈر بند ہے، جس سے دونوں طرف کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تاجر اور عام شہری سرحد کی بندش سے پریشان ہیں۔

    دونوں جانب کے عوام اور جرگہ اراکین افغان حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستانی زمین پر تعمیراتی کام فوری طور پر بند کریں۔ تاکہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو سکے اور دونوں طرف کے لوگ آزادانہ تجارت اور نقل و حرکت کر سکیں۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی مسائل ہیں تو انہیں مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ تاکہ طورخم بارڈر پر دوبارہ حالات خراب نہ ہوں.

  • گورنر خیبر پختونخوا   کا دورہ صوابی، سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سے کی تعزیت

    گورنر خیبر پختونخوا کا دورہ صوابی، سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سے کی تعزیت

    صوابی: گورنر خیبر پختونخوا، فیصل کریم کنڈی نے جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی رہائش گاہ کا دورہ کیا۔ اس دوران گورنر نے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سے ان کے بھائی شکیل احمد کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ گورنر نے مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور مشتاق احمد خان سمیت دیگر لواحقین سے تعزیت کی۔

    گورنر نے تعزیت کے دوران کہا کہ "اس واقعے پر انتہائی افسوس ہوا ہے اور میں آپ کے دکھ میں برابر کا شریک ہوں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔”گورنر فیصل کریم کنڈی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ صوابی کی عوام کا دکھ اور غم دل سے محسوس کیا ہے اور ان کے ساتھ ہر مرحلے پر ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔

    دورے کے دوران، رکن قومی اسمبلی فتح اللہ خان میانخیل اور پیپلز پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری شجاع خانزادہ بھی گورنر کے ہمراہ تھے اور انہوں نے بھی سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سے تعزیت کا اظہار کیا۔

  • لنڈی کوتل:پاک افغان جرگے میں طورخم بارڈر کھولنے پر سیز فائر کا اتفاق

    لنڈی کوتل:پاک افغان جرگے میں طورخم بارڈر کھولنے پر سیز فائر کا اتفاق

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ)خیبر میں پاک افغان طورخم گزرگاہ کو کھلوانے کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ جرگے میں سیز فائر پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق طورخم گزرگاہ پر جاری کشیدگی کم کرانے اور اسے کھلوانے کے لیے پاک افغان عمائدین پر مشتمل جرگہ منعقد ہوا جس میں 11 مارچ تک فائر بندی پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    جرگہ ذرائع کے مطابق 11 مارچ تک سرحد کے دونوں جانب تعمیرات پر پابندی ہوگی۔ جرگہ ممبران 11 مارچ کو افغان فورسز کی متنازع تعمیرات کا جائزہ لیں گے اور اگر سرحد سے متصل تعمیرات کے تنازع کا حل نکالا گیا تو طورخم بارڈر کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

    کسٹم حکام کے مطابق طورخم گزرگاہ آج 17ویں روز بھی بند ہے اور اس بندش کے باعث یومیہ تقریباً 3 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ مزید برآں طورخم گزرگاہ سے یومیہ 10 ہزار افراد کی آمدورفت ہوتی ہے، جو اس وقت مکمل طور پر معطل ہے۔

    اس پیشرفت سے قبل پاک افغان کشیدگی ختم کرنے کے لیے ایک مشترکہ جرگہ منعقد کیا گیا تھا۔ گزشتہ روز اس جرگے کی پہلی نشست مکمل ہوئی تھی، جس میں پاکستان کی جانب سے لنڈی کوتل کے جرگہ مشران کو مکمل اختیار دیا گیا تھا۔ پاکستان کی طرف سے یہ مطالبات پیش کیے گئے کہ 11 مارچ تک فائر بندی کی جائے اور سرحد کے دونوں جانب فوجی تعمیرات پر پابندی عائد کی جائے، جس کے بعد بارڈر کو کھول دیا جائے گا۔ اسی جرگے میں فیصلہ کیا گیا کہ 11 مارچ کو افغان فورسز کی متنازعہ تعمیرات کا جائزہ لیا جائے گا۔

    لنڈی کوتل کے جرگہ مشران کے مطابق افغان جرگہ مشران کو مکمل اختیار حاصل نہیں تھا اور انہوں نے کہا کہ وہ طورخم کے کمیسار سے مشاورت کے بعد اس حوالے سے حتمی جواب دیں گے۔

    واضح رہے کہ افغانستان کی جانب سے ایک متنازعہ چیک پوسٹ پر تعمیری کام شروع کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں دونوں طرف سے چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، جس سے سرحدی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔

    آج 17ویں روز بھی پاک افغان بارڈر طورخم ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے اور پاکستان کی طرف سے افغان طالبان کے جواب کے منتظر ہیں کہ وہ پاکستان کے جرگہ مشران کی پیش کردہ شرائط اور مطالبات کا کس طرح جواب دیتے ہیں۔ اگر افغان حکومت لچک کا مظاہرہ کرتی ہے تو امکان ہے کہ بارڈر آج ہی کھول دیا جائے۔

  • کوہاٹ ،مسلح افراد کی فائرنگ سے 2 سی ٹی ڈی اہلکار شہید

    کوہاٹ ،مسلح افراد کی فائرنگ سے 2 سی ٹی ڈی اہلکار شہید

    کوہاٹ کے علاقے تانڈہ ڈیم کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے 2 اہلکار شہید ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں اہلکار اپنے گاؤں بڑھ سے ڈیوٹی کے لیے دفتر جا رہے تھے۔ ملزمان نے پہاڑی علاقے میں تاک میں بیٹھ کر حملہ کیا اور فرار ہو گئے.واقعے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ شہید ہونے والے اہلکاروں کی لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور جلد ہی مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں دہشت گردی اور پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے پیش نظر سیکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں تاکہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بروقت کارروائی کی جا سکے۔

  • طورخم بارڈر پر جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے گرینڈ قبائلی جرگہ تشکیل

    طورخم بارڈر پر جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے گرینڈ قبائلی جرگہ تشکیل

    خیبر:طورخم بارڈر پر جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے گرینڈ قبائلی جرگہ تشکیل دے دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : خیبر میں پاک افغان کشیدگی کے باعث طورخم تجارتی گزرگاہ آج سولہویں روز بھی بند ہے،سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ تین روز سے فائرنگ کا سلسلہ تھم چکا ہے، تاہم سرحدی راستہ بدستور بند ہے، جس کے باعث پاک افغان دوطرفہ تجارت اور پیدل آمدورفت معطل ہےسیکیورٹی ذرائع کے مطابق جھڑپوں میں مجموعی طور پر 8 ایف سی اہلکار زخمی ہوئے جبکہ افغان فورسز کے 3 اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

    افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے عمائدین نے بھی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک جرگہ تشکیل دیا ہے ذرائع کے مطابق 41 رکنی افغان جرگہ ننگرہار کے قبائلی عمائدین، علما اور تاجروں پر مشتمل ہے افغان گرینڈ جرگہ مذاکرات کے لیے طورخم سرحد پہنچ چکا ہے، جبکہ پاکستانی وفد بھی کچھ ہی دیر میں سرحد پر پہنچ جائے گا۔

    ملک ناقابل تسخیربنایا نواز شریف تیرا شکریہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    ذرائع کے مطابق گرینڈ جرگہ سب سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان فائر بندی کروانے کی کوشش کرے گادوسرے مرحلے میں افغا ن فورسز کی جانب سے کی گئی متنازعہ تعمیرات کا جائزہ لیا جائے گا، اگر ان تعمیرات کو متنازعہ حدود میں پایا گیا تو ان کی تعمیر فوری طور پر رکوانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے،جرگے کا تیسرا مرحلہ طورخم سرحد کو ہر قسم کی آمدورفت کے لیے کھلوانے پر مشتمل ہوگا تاکہ تجارتی اور سفری سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔

    مریم نواز نےمزدوروں کی فلاح وبہبود کیلئے اہم منصوبوں کی منظوری دیدی

    واضح رہے کہ طورخم سرحدی گزرگاہ پر 12 روز قبل کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی تھی جب افغان فورسز نے متنازع علاقے میں ایک چیک پوسٹ کی تعمیر شروع کی، جس پر پاکستانی فورسز نے مداخلت کرکے تعمیراتی کام رکوا دیا، اس کے نتیجے میں دونوں طرف سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جو دو دن تک جاری رہا۔

    ملک ناقابل تسخیربنایا نواز شریف تیرا شکریہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

  • پنجاب پولیس نے دہشتگردوں کا ایک اور حملہ ناکام بنا دیا

    پنجاب پولیس نے دہشتگردوں کا ایک اور حملہ ناکام بنا دیا

    پنجاب پولیس نے خیبر پختونخوا کی سرحد پر دہشت گردوں کا ایک اور حملہ پسپا کر دیا۔

    باغی ٹی وی : ترجمان پولیس کے مطابق، سرحدی چوکی لکھانی پر خوارجی دہشت گردوں نے بھاری اسلحے سے حملہ کیا، تاہم پولیس اہلکاروں نے بروقت اور جرات مندانہ کارروائی کرتے ہوئے انہیں پسپائی پر مجبور کر دیا۔

    ترجمان کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں میں یہ دوسرا جبکہ رواں ہفتے میں تیسرا بڑا حملہ تھا جسے ناکام بنایا گیا حملہ آوروں کی تعداد 20 سے 25 تھی اور وہ راکٹ لانچرز سمیت جدید اسلحے سے لیس تھے،تاہم، پولیس نے تھرمل امیج کیمروں کی مدد سے دہشت گردوں کی بروقت نشاندہی کی اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے انہیں بھاری نقصان پہنچایا۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا اور عوام کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

  • نوشہرہ میں بجلی میٹر کے تنازع پر فائرنگ، ماں، بھائی اور بہن قتل

    نوشہرہ میں بجلی میٹر کے تنازع پر فائرنگ، ماں، بھائی اور بہن قتل

    نوشہرہ: خیبر پختونخوا کے شہر نوشہرہ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں بجلی میٹر کی ملکیت کے تنازع پر ایک شخص نے فائرنگ کرکے اپنی ماں، بھائی اور بہن کو قتل کر دیا۔ واقعہ پبی چوکی درب کے علاقے میں پیش آیا، جس نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔

    ملزم کے والد سابق واپڈا ملازم تھے، جن کے نام سے گھر پر مفت بجلی کا میٹر نصب تھا۔ مذکورہ میٹر کی ملکیت پر اکثر اہلِ خانہ میں جھگڑا رہتا تھا، جو بالآخر ایک اندوہناک سانحے میں تبدیل ہو گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق واقعے کے روز گھر میں ایک بار پھر بجلی میٹر کی ملکیت پر بحث چھڑ گئی، جو شدت اختیار کر گئی۔ اسی دوران ملزم نے طیش میں آکر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں اس کی ماں، بہن اور بھائی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ فائرنگ کی آواز سنتے ہی قریبی لوگ جائے وقوعہ پر پہنچے، لیکن ملزم اپنے بیوی بچوں سمیت موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مقتولین کی بہن کی مدعیت میں پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزم کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد ہی اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

    اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ مقتولین نہایت شریف النفس لوگ تھے، جبکہ ملزم اکثر گھریلو تنازعات میں ملوث رہتا تھا۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور لوگ افسوس اور غم کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔

  • اے این پی رہنما متوکل خان روڈ حادثے میں جاں بحق

    اے این پی رہنما متوکل خان روڈ حادثے میں جاں بحق

    عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری متوکل خان شانگلہ کے علاقے سانگڑئی میں ایک افسوسناک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق متوکل خان ایک تعزیتی دورے سے واپس آرہے تھے کہ سانگڑئی کے مقام پر ان کی کار بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جاگری۔ حادثہ اس قدر شدید تھا کہ وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ان کے ہمراہ موجود ڈرائیور شدید زخمی ہوگیا۔ زخمی ڈرائیور کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔متوکل خان عوامی نیشنل پارٹی کے ایک متحرک رہنما تھے۔ وہ نہ صرف پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری کے عہدے پر فائز رہے بلکہ اس سے قبل اے این پی کے ضلعی جنرل سیکرٹری کے طور پر بھی اپنی خدمات انجام دے چکے تھے۔انہوں نے گزشتہ عام انتخابات میں اے این پی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے بھی انتخاب لڑا تھا۔ ان کی سیاسی جدوجہد اور عوامی خدمات کو ان کے ساتھیوں اور پارٹی قیادت کی جانب سے بے حد سراہا جاتا رہا ہے۔

    متوکل خان کے اچانک انتقال پر اے این پی کی قیادت، کارکنان اور دیگر سیاسی و سماجی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے ان کے انتقال کو ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا اور کہا کہ وہ ایک مخلص، ایماندار اور اصول پسند سیاستدان تھے۔پارٹی قائدین اور کارکنان کی بڑی تعداد نے ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل دے۔

  • واٹس ایپ گروپ سے کیوں نکالا؟ ایڈمن کو گولی مار دی گئی

    واٹس ایپ گروپ سے کیوں نکالا؟ ایڈمن کو گولی مار دی گئی

    پشاور کے نواحی علاقے ریگی سفید سنگ میں ملزم نے واٹس ایپ گروپ سے ریمو وکرنے پر ایڈمن کو فائرنگ کرکےقتل کردیا.

    تھانہ ریگی میں مدعی ہمایوں کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے.درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ مشتاق ولدخوشدل عرف اخون میرا سوتیلا بھائی ہے. اشفاق ولد رحمت شیر اور برادرام مقتول مشتاق احمد کے درمیان واٹس ایپ گروپ پر فائرنگ ہوا تھا ،ہم دونوں راضی نامہ کی خاطر رحمت شیر کے حجرہ پر جا رہے تھے کہ اس دوران اشفاق نے دوبارہ فا ئرنگ شروع کی ہم دونوں نے نزدیک ہی پیٹرول پمپ کے اندر چلے گئے میں نے درخت کے سائے میں پناہ لی جبکہ برادر مشتاق نے پیٹرول پمپ کے کمرے کے اند رپناہ لی، اس دوران اسحاق نے میرے سامنے آ کر برادر مشتاق پر آتشیں اسلحہ سے فائرنگ کی،جس سے مشتاق موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا مجھ پر بھی قتل کے ارادے سے فائرنگ کی گئی لیکن میں بال بال بچ گیا. وجہ عنادواٹس ایپ گروپ قوم ورڈ میں میں ایڈ اور ریموو کرنے پر لڑائی ہوئی.پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا اور ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارنا شروع کر دیے.

    fir

  • خیبر پختونخوا میں امن و امان کی خراب صورتحال،عدالت نے کیا جواب طلب

    خیبر پختونخوا میں امن و امان کی خراب صورتحال،عدالت نے کیا جواب طلب

    پشاور: پشاور ہائی کورٹ میں خیبر پختون خوا کے جنوبی اضلاع میں امن کی خراب صورتِ حال سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخواست کی سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس خورشید اقبال نے کی۔

    سماعت کے دوران درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ خیبر پختون خوا کے جنوبی اضلاع میں سیکیورٹی کی صورتِ حال انتہائی مخدوش ہے، جس کی وجہ سے وہاں کے رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ علاقے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور دیگر جرائم نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، اور ان حالات میں عوام کا تحفظ کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔عدالتِ عالیہ نے درخواست پر غور کرتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومت، سیکریٹری داخلہ، آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹسز جاری کر دیے۔ عدالت نے فریقین کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔