Baaghi TV

Category: پشاور

  • مولانا حامد الحق حقانی پر حملہ کے ذمہ داران کا  گرفتار نہ ہونا المیہ ہے،سیف اللہ قصوری

    مولانا حامد الحق حقانی پر حملہ کے ذمہ داران کا گرفتار نہ ہونا المیہ ہے،سیف اللہ قصوری

    مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری نے کہا ہے کہ مولانا حامد الحق حقانی پر حملہ کے ذمہ داران کا پانچ روز گزرنے کے باوجود گرفتار نہ ہونا المیہ ہے.خیبر پختونخوا میں مذہبی رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بڑھ رہے ہیں. علما کرام پاکستان میں امن کے داعی ہیں.حکومت علما کرام کو تحفظ فراہم کرے.

    ان خیالات کا اظہار سیف اللہ قصوری نے جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں مولانا حامد الحق حقانی کی دھماکے میں شہادت کے بعد لواحقین سے اظہار تعریت کے بعد بات چیت کرتے ہوئے کیا.سیف اللہ قصوری نے مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں واصف بصیر، جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کا دورہ کیا اور مولانا حامد الحق حقانی کے بیٹے عبدالحق ثانی سے ان کے والد کی خود کش دھماکے میں موت پر اظہار تعزیت کی . سیف اللہ قصوری نے جمعیت علماء اسلام س کے مرکزی رہنما مولانا یوسف شاہ اور دیگر علماء کرام سے بھی ملاقات کی .

    سیف اللہ قصوری کا کہنا تھا کہ مولانا حامد الحق حقانی کی خدمات اتحاد امت اور قیام امن کے لیے ناقابل فراموش ہیں اور ان کی دینی و قومی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ مدارس، مساجد اور عبادتگاہوں پر حملے کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ مولانا حامد الحق پر حملے کے ذمہ داروں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔مشکل کی اس گھڑی میں مرکزی مسلم لیگ کی قیادت جمعیت علماء اسلام س کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔اللہ تعالیٰ مولانا حامد الحق حقانی کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے.آمین

  • دارالعلوم حقانیہ نوشہرہ  خودکش دھماکے کی تحقیقات ،نادرا میں ریکارڈ نہ ملا

    دارالعلوم حقانیہ نوشہرہ خودکش دھماکے کی تحقیقات ،نادرا میں ریکارڈ نہ ملا

    نوشہرہ: دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں 28 فروری کو ہونے والے خودکش دھماکے کی تحقیقات تیزی سے جاری ہیں، جس میں مولانا حامد الحق سمیت 8 نمازی شہید اور 18 افراد زخمی ہوئے تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم نے مختلف زاویوں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم اب تک نادرا کے ریکارڈ میں خودکش حملہ آور کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دائرے کو افغان مہاجر کیمپوں تک وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کے پیش نظر کیا گیا ہے کہ دھماکے کے پس پردہ عوامل کا پتا چلایا جا سکے اور اس دہشت گردانہ کارروائی کے اصل محرکات تک پہنچا جا سکے۔

    مولانا حامد الحق پر ہونے والا یہ حملہ نہ صرف ایک دہشت گردانہ کارروائی کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ ملک بھر میں مذہبی رہنماؤں کی حفاظت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھاتا ہے۔پولیس اور دیگر تحقیقاتی ادارے اس دھماکے کی تحقیقات میں مصروف ہیں اور ملزمان کو جلد پکڑنے کے لیے تمام وسائل استعمال کر رہے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ اس حملے کے پیچھے چھپے افراد اور گروپوں تک پہنچا جا سکے تاکہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔

    28 فروری کو دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں مولانا حامد الحق سمیت 8 افراد شہید ہو گئے تھے، جبکہ 18 افراد زخمی ہوئے تھے۔ دھماکے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا اور فوراً پولیس و رینجرز کی نفری موقع پر پہنچ گئی تھی۔تحقیقات کا دائرہ وسیع کرنے اور مختلف زاویوں سے تفتیش جاری رکھنے کے باوجود یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ اس حملے کے پیچھے کون سی قوتیں کارفرما ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ تمام ممکنہ شواہد کی چھان بین کی جا رہی ہے۔

  • پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی تمام تنظیمیں تحلیل، نوٹیفکیشن جاری

    پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی تمام تنظیمیں تحلیل، نوٹیفکیشن جاری

    خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی تنظیمیں تحلیل کردی گئیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق صوبائی جنرل سیکریٹری نے تمام عہدیداران کو ہٹانے اور تنظیمیں تحلیل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔صوبائی جنرل سیکرٹری علی اصغر کی طرف سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایات کے مطابق تنظیمیں تحلیل کی گئی ہیں، جس کا مقصد حکومت اور پارٹی عہدے الگ کرنا ہے۔ صوبائی صدر جنید اکبر خان نے پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں تمام ریجنل صدور اور جنرل سیکریٹریز کے عہدے فوری طور پر ختم کر دیے۔

    اعلامیے کے مطابق عمران خان کی ہدایات کے مطابق خیبر پختونخوا میں پارٹی ڈھانچے کی تنظیم نو کو یقینی بنانے کے لیے کہ خیبر پختونخوا حکومت میں ذمہ داریاں سنبھالنے والے افراد کو پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں دیا جائے گا۔ تمام کارکنان و عہدیداروں کو پابند بھی کیا گیا ہے کہ وہ حکومت اور پارٹی تنظیم میں بیک وقت عہدے نہ رکھیں۔اعلامیے کے مطابق پارٹی کو از سرِ نو ترتیب دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، عہدوں پر نئی تقرریوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

    خیبرپختونخوا کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹانسز ترمیمی بل منظور

    خیبرپختونخوا کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹانسز ترمیمی بل منظور

    نیٹو کی رکنیت کے بدلے مستعفی ہونے کو تیار ہوں،ولودیمیر زیلنسکی

  • خیبرپختونخوا کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹانسز ترمیمی بل منظور

    خیبرپختونخوا کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹانسز ترمیمی بل منظور

    صوبائی اسمبلی میں خیبرپختونخوا کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹانسز ترمیمی بل منظور کرلیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بل وزیر برائے ایکسائز اینڈ انسداد منشیات خلیق الزمان نے پیش کیا،بل میں منشیات کی خرید وفروخت، کاروبار اور اسمگلنگ پر الگ الگ سزائیں مقررکی گئی ہیں۔نارکوٹک سبسٹانس بل کی شق نمبر 9 میں ترمیم کی گئی ،ایک کلو سے زائد منشیات پر پھانسی اور عمر قید میں نرمی کی گئی،بل میں منشیات مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کی گئی،سزائوں کا منشیات کی اقسام اور مقدار کی مناسبت سے تعین کیا گیا ہے۔

    10سے 20کلو گرام ریکریشنل منشیات پر14سال قید کی سزا،20کلو گرام سے زائد ریکریشنل منشیات پر زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا اور 2لاکھ جرمانہ تجویزکیا گیا۔ایک کلو گرام سے کم پوست پر زیادہ سے زیادہ 4 سال قید، 20ہزار جرمانہ،15کلو پوست سے زائد برآمد ہونے پر زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا، 3لاکھ جرمانہ تجویزکیا گیا۔10کلو گرام سے زائد چرس ہونے پر زیادہ سے زیادہ عمر قید، 8لاکھ تک جرمانہ،5کلو گرام سے زائد حشیش آئل پر زیادہ سے زیادہ عمر قید سزا ، 4لاکھ جرمانہ تجویزکیا گیا۔

    8کلو گرام افیون برآمد ہونے پر عمر قید تک کی سزا،4کلو گرام سے زائد ہیروئن برآمد ہونے پر عمر قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔6کلو گرام سے زائد ہیروئن پر عمر قید یا پھانسی،5 کلو گرام سے زائد کوکین برآمد ہونے پر عمر قید یا پھانسی،4 کلو گرام سے زائد سائیکو ٹراپیک سبسٹانس برآمد پر عمر قید یا پھانسی کی سزا تجویزکی گئی۔بل میں کنٹرول سبسٹانس میں استعمال ہونے والی بارہ اشیاء کی نشاندہی بھی کی گئی،تعلیمی اداروں میں منشیات برآمد ہونے پر سخت ترین سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

  • چاند کی رویت سے متعلق متنازع الفاظ کا استعمال کرنا شہری کو مہنگا پڑگیا

    چاند کی رویت سے متعلق متنازع الفاظ کا استعمال کرنا شہری کو مہنگا پڑگیا

    پشاور: خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں چاند کی رویت سے متعلق متنازع الفاظ کا استعمال کرنا شہری کو مہنگا پڑگیا، پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی : رمضان المبارک کے چاند کے حوالے سے سوشل میڈیا پر نازیبا الفاظ میں بیان دینے پر شہری کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا،بنوں میں روزے کا اعلان نہ کرنے کو بنیاد بنا کر شہری نے علما کے خلاف سوشل میڈیا پر نازیبا الفاظ کااستعمال کیا، جس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    پولیس کے مطابق آئمہ مساجد کے امیر مولانا عبدالغفارقریشی کی مدعیت میں شہری کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا،ملزم پر الزام ہے کہ وہ فیس بک پر علما کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کر رہا تھا ملزم کا دعویٰ تھا کہ چاند 2 روز کا ہے مگر علما نے ایک روزہ چھپایا ہے۔

    کوٹ چھٹہ:رمضان کی آمد پر مہنگائی بے قابو، غریب روزہ دار پریشان

    سیالکوٹ : سکول داخلہ مہم 2025 کا آغاز، ایک لاکھ 13 ہزار بچوں کے داخلے کا ہدف مقرر

    پنجاب پختونخوا سرحد پر خوارجی دہشتگردوں کی 2 کارروائیاں ناکام

  • پاک افغان بارڈر تنازعہ شدت اختیار کرگیا، فائرنگ میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال

    پاک افغان بارڈر تنازعہ شدت اختیار کرگیا، فائرنگ میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ)تورخم بارڈر پر کشیدگی میں اضافہ، پاک افغان فورسز کے درمیان شدید فائرنگ۔ مقامی ذرائع کے مطابق دونوں جانب سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ فائرنگ سے ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔

    باچا مینہ میں پھنسے مسافروں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، تاہم گزشتہ 9 روز سے پاک افغان بارڈر ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند ہے۔

    گزشتہ روز پاکستان اور افغان حکام کے درمیان بارڈر کھولنے کے حوالے سے مذاکرات بے نتیجہ رہے۔ ذرائع کے مطابق افغان حکام نے چند مطالبات پیش کیے، جنہیں اسلام آباد اور کابل کے اعلیٰ حکام کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ بارڈر کی بندش گزشتہ جمعہ کو اس وقت عمل میں آئی جب افغان حکام نے متنازعہ چیک پوسٹ پر تعمیری کام شروع کیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کر گیا۔

  • خیبر پختونخوا کی عوام کا فتنہ الخوارج  کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

    خیبر پختونخوا کی عوام کا فتنہ الخوارج کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

    خیبر پختونخوا کے عوام نے فتنہ الخوارج دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کردیا ہے۔

    خیبر پختونخوا کے شہریوں نے دارالعلوم حقانیہ پر خودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الخوارج نہ صرف مساجد اور مدرسوں پر حملے کرتے ہیں بلکہ جب سکیورٹی فورسز ان کے خلاف کارروائی کرتی ہیں تو یہ دہشت گرد مساجد کو اپنی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ شہریوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست کو اب فتنہ الخوارج کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید تیز کرنی چاہیے کیونکہ ان دہشت گردوں سے عوام، علمائے کرام، اور حتیٰ کہ ریاست بھی محفوظ نہیں رہ سکے ہیں۔عوام نے اپنے بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا کے لوگ خوارج کے خلاف آپریشنز میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہیں اور ہر قدم پر ان کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ دہشت گرد عورتوں اور بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنے مذموم مقاصد کو آگے بڑھا سکیں۔ ان کا مقصد پاکستان کے بچوں اور نوجوانوں کو علم سے محروم رکھنا ہے، اور اسی وجہ سے یہ دہشت گرد اسکولوں، مساجد اور مدرسوں پر حملے کرتے ہیں۔

    شہریوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فتنہ الخوارج مساجد کا تقدس پامال کرتے ہیں اور انہیں دہشت گردی کے مراکز میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ عوام کا کہنا تھا کہ یہ دہشت گرد کبھی مسجد میں دھماکہ کرتے ہیں، کبھی بازار میں، اور ان دھماکوں کی وجہ سے معصوم بچے، خواتین، اور بزرگ شہید ہو جاتے ہیں۔عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دارالعلوم حقانیہ پر دہشت گردی کے اس افسوسناک واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ پاکستان کو ایک پرامن ملک بنایا جا سکے۔

    یہ مطالبہ عوام کی طرف سے اس یقین کے ساتھ کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی بھرپور حمایت کی جانی چاہیے اور اس ضمن میں حکومت کو اپنے اقدامات مزید سخت اور موثر بنانا ہوں گے۔

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا  سے افغان قونصل جنرل حافظ محب اللہ شاکر کی ملاقات

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے افغان قونصل جنرل حافظ محب اللہ شاکر کی ملاقات

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا (کے پی) علی امین گنڈاپور سے افغان قونصل جنرل حافظ محب اللہ شاکر نے ایک اہم ملاقات کی، جس میں رمضان اور عیدالفطر کے پیش نظر پاکستان اور افغانستان کی سرحد کو جلد کھولنے پر اتفاق کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی تجارت کے فروغ اور صوبے میں مقیم افغان شہریوں کو درپیش مسائل پر تفصیل سے گفتگو کی۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحد کو جلد کھولنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے افغان سفارتخانہ اپنا کردار ادا کرے۔علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ علاقائی امن پاکستان اور افغانستان دونوں کے مفاد میں ہے، اور دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی سطح پر افغان حکومت سے مذاکرات کے لیے ایک جرگہ تشکیل دیا گیا ہے، جس کی وفاقی حکومت کی طرف سے ٹی او آرز (Terms of Reference) کی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

    وزیراعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ افغان باشندوں کو صحت اور تعلیم کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی اداروں سے بات چیت جاری ہے، تاکہ ان کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جا سکے اور انہیں ضروری سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات اور مسائل کے حل کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ ہو گا بلکہ علاقائی استحکام بھی مضبوط ہو گا۔

  • ہنگامی بنیادوں پر وفد افغانستان بھیجنا چاہتے ہیں،وفاق  ٹی او آرز منظور کرے،بیرسٹر سیف

    ہنگامی بنیادوں پر وفد افغانستان بھیجنا چاہتے ہیں،وفاق ٹی او آرز منظور کرے،بیرسٹر سیف

    پشاور: مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا ہے کے پی حکومت ہنگامی بنیادوں پر وفد افغانستان بھیجنا چاہتی ہے، وفاق افغانستان سے بات چیت کے لیے ٹی او آرز جلد منظور کرے۔

    باغی ٹی وی : بیرسٹر محمد علی سیف نے اپنے بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت ہنگامی بنیادوں پر وفد افغانستان بھیجنا چاہتی ہے، لہذا وفاق خیبرپختونخوا کے ٹی او آرز کی منظوری میں مزید تاخیر سے گریز کرے ،اپنے عوام کے جان و مال کی حفاظت خیبر پختونخوا حکومت کی اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے، وفاق دہشت گردی جیسے اہم مسئلے پر سیاست کرنے سے گریز کرے-

    بیرسٹر سیف نے کہا کہ وفاق کو پنجاب اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ کے بیرونی دوروں پر کوئی اعتراض نہیں، مریم نواز بھارت سے اسموگ ڈپلومیسی کر سکتی ہیں تو دہشت گردی جیسے اہم مسئلے پر خیبر پختونخوا حکومت کی افغانستان سے بات چیت میں کیا حرج ہے؟ وفاق کی دوغلی پالیسی سے صوبے کا احساس محرومی مزید بڑھ رہا ہے۔

    آج رات دوبارہ بارش برسانے والا سسٹم پاکستان میں داخل ہونیکا امکان

    دہشتگردی کے پیچھے ایک منظم غیر قانونی سپیکٹرم ہے،آرمی چیف

    ٹرمپ نے امریکا میں انگریزی کو سرکاری زبان بنانے کے ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کر دیئے

  • کرم حملوں میں ملوث 14 دہشت گردوں کے نام اور تصاویر جاری

    کرم حملوں میں ملوث 14 دہشت گردوں کے نام اور تصاویر جاری

    پشاور: محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) پشاور نے کرم میں ہونے والے دہشت گردی کے حملوں میں ملوث 14 دہشت گردوں کے نام اور تصاویر جاری کر دی ہیں۔ سی ٹی ڈی کے مطابق، یہ دہشت گرد کرم میں 200 سے زائد افراد کے قتل میں ملوث ہیں اور ان کے سروں کی قیمتیں 30 لاکھ روپے سے لے کر 3 کروڑ روپے تک مقرر کی گئی ہیں۔

    سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ ان دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے ہے، اور یہ دہشت گرد غیر ملکی آقاؤں کے ایماء پر کرم میں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دے رہے ہیں۔ سی ٹی ڈی نے مزید بتایا کہ یہ دہشت گرد لوٹ مار، جلاؤ گھیراؤ، اور نہتے بچوں و خواتین کے قتل میں بھی ملوث ہیں۔محکمہ انسداد دہشتگردی نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ ان دہشت گردوں کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات فراہم کریں، تاکہ انہیں قانون کی گرفت میں لایا جا سکے۔ اطلاع دینے والوں کو انعامات سے نوازا جائے گا۔سی ٹی ڈی نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے ان کی معلومات بہت اہم ہیں، اور اس طرح کی دہشت گردی کا خاتمہ ملک کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔