Baaghi TV

Category: پشاور

  • پشاور میں کھلونا بندوق اور فائر کریکر پر دفعہ 144 نافذ

    پشاور میں کھلونا بندوق اور فائر کریکر پر دفعہ 144 نافذ

    خیبر پختونخوا کے ضلع پشاور میں کھلونا بندوق اور فائر کریکر پر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی کو موصول ضلعی انتظامیہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کھلونا اسلحہ فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہا کہ کھلونا اسلحہ کلچر کا خاتمہ ضروری ہے۔ شہری اس حوالے سے تعاون کریں۔ضلعی انتظامیہ نے عیدالفطر کے موقع پر کھلونا اسلحہ فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

    دوسری جانب خیبر پختونخوا کے دو اضلاع پشاور اور کرک میں دہشت گردوں نے مختلف مقامات پر 5 حملوں میں 3 پولیس اہلکار اور 1 ایف سی گارڈ کو شہید کر دیا جبکہ حملے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع کرک میں دہشت گردوں نے تھانہ یعقوب شہید اور تھانہ حرم پر حملے کیے جس میں پولیس سب انسپکٹر اسلم نور شہید ہوئے،کرک میں سوئی گیس آفس پر بھی دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس میں ایف سی اہلکار شہید ہو گیا۔

    پشاور میں تھانہ مچنی گیٹ اور تھانہ خزانہ کے مقامات پر بھی دہشت گردوں نے فائرنگ کی، مچنی گیٹ پر حملے میں پولیس اہلکار نذر علی شہید ہوئے جبکہ پولیس نے فوری جوابی کارروائی کر کے دہشت گردوں کو پسپا کر دیا۔

    مصطفی کمال کا صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو کراچی کا دورہ

    گوجرخان: 14 سال بعد قتل کا اشتہاری مجرم گرفتار

  • والد کوسیکورٹی کیوں نہیں دی ،جواب دیں ورنہ  تدفین نہیں کرونگا،بیٹامفتی منیر شاکر

    والد کوسیکورٹی کیوں نہیں دی ،جواب دیں ورنہ تدفین نہیں کرونگا،بیٹامفتی منیر شاکر

    پشاور کے علاقے ارمڑ میں مسجد کے باہر نصب آئی ای ڈی بم دھماکے میں معروف عالمِ دین مفتی منیر شاکر جاں بحق ہو گئے، جبکہ ان کے ذاتی محافظ سمیت دیگر افراد زخمی ہوئے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد ان کے بیٹے عبداللّٰہ شاکر نے پولیس اور انتظامیہ کی نااہلی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے والد کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں لیکن اس کے باوجود انہیں سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔

    عبداللّٰہ شاکر کا کہنا تھا کہ مفتی منیر شاکر نے ہر ممکنہ فورم پر درخواست دی کہ انہیں جان کا خطرہ لاحق ہے، مگر نہ انہیں اسلحہ لائسنس دیا گیا اور نہ ہی کسی قسم کی سیکیورٹی مہیا کی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے والد کو بغیر کسی تحفظ کے دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا۔جب تک کوئی مجھے مطمئن نہ کرے والد کی تدفین اجازت نہیں دونگا،

    کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) پشاور قاسم علی خان نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مفتی منیر شاکر کے پاس ان کے ذاتی محافظ موجود تھے اور دھماکے میں ان کے گارڈ بھی زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی ڈویژن سے چیک کیا جا رہا ہے کہ ان کے پاس کتنی سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔سی سی پی او نے اس بات کی تصدیق کی کہ مفتی منیر شاکر دھماکے کا براہِ راست ہدف تھے اور اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اس واقعے کی مشترکہ تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ اس کے محرکات اور ممکنہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے مسجد کے باہر ہونے والے اس بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولیس حکام سے فوری طور پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں واقعے میں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    یہ واقعہ پشاور میں امن و امان کی صورتحال پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے، جہاں علماء اور دیگر نمایاں شخصیات عدم تحفظ کا شکار ہو رہے ہیں۔ عوامی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف مزید مؤثر اقدامات اٹھائیں اور علماء سمیت ہر شہری کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں۔

  • پشاور: بارودی مواد کا دھماکہ،  عالم دین مفتی منیر شاکر  سمیت چار افراد زخمی

    پشاور: بارودی مواد کا دھماکہ، عالم دین مفتی منیر شاکر سمیت چار افراد زخمی

    پشاور:تھانہ ارمڑ کی حدود میں ہونے والے بارودی مواد کے دھماکے میں چار افراد زخمی ہوگئے،زخمی ہونے والوں میں عالم دین مفتی منیر شاکر بھی شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی: پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد پولیس، بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے افسران فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور شواہد اکٹھا کرنے کا عمل شروع کردیا۔

    پولیس کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے مفتی منیر شاکر بائیں پاؤں پر زخم آنے کے باعث متاثر ہوئے جبکہ دیگر زخمیوں میں خوشحال، عابد اور سید نبی شامل ہیں، تمام زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے علاقے میں تحقیقات میں مصروف ہیں جب کہ دھماکے کی نوعیت اور اسباب جاننے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔

    وہ سیارہ جسے ’چاندوں کا بادشاہ‘ قرار دیا گیا

    خیبرپختونخوا میں2 الگ کارروائیوں میں 9 خوارج دہشتگرد ہلاک،2 جوان شہید

    پاکستان نے قرض پروگرام کی شرائط پر سختی سے عملدرآمد کیا ،آئی ایم ایف

  • 9 مئی کے جوڈیشل کمیشن قیام کی یادہانی،کے پی حکومت کا ہائیکورٹ کو  دوبارہ خط

    9 مئی کے جوڈیشل کمیشن قیام کی یادہانی،کے پی حکومت کا ہائیکورٹ کو دوبارہ خط

    پشاور: کے پی حکومت نے ہائیکورٹ کو 9 مئی کے جوڈیشل کمیشن قیام کی یادہانی کے لئے دوبارہ خط ارسال کردیا۔

    باغی ٹی وی: اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمانخیل نے بتایا کہ پشاور ہائیکورٹ کو 9 مئی جوڈیشل کمیشن کے حوالے سے یادہانی لیٹر بھیج دیا ہے، 27 جون 2024ء کو صوبائی کابینہ نے 9 مئی واقعات کی انکوائری کے لئے جوڈیشل کمیشن قیام کی منظوری دی۔

    انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن قیام کے لئے ہم نے ہائیکورٹ کو دو خطوط بھیجے، کئی ماہ ہوگئے ابھی تک ہائیکورٹ کی جانب سے ہمیں جوڈیشل کمیشن قیام کے حوالے سے کوئی رسپانس نہیں ملا، پہلے خط پر ہائیکورٹ نے کہا کہ یہ مجاز اتھارٹی کی جانب سے نہیں آیا۔

    خیبرپختونخوا میں2 الگ کارروائیوں میں 9 خوارج دہشتگرد ہلاک،2 جوان شہید

    ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ صوبائی حکومت نے دوسرا لیٹر بھیجا، ابھی تک اس پر بھی ہائیکورٹ کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا، ہمیں ہائیکورٹ کے جواب کا انتظار ہے، ہم چاہتے ہیں کہ 9 مئی کے حوالے سے تمام حقائق عوام کے سامنے آجائے، ہائیکورٹ ہمیں کوئی جواب دیں تو اس کے بعد صوبائی حکومت آئندہ کا لائحہ عمل بنائے گی۔

    پاکستان نے قرض پروگرام کی شرائط پر سختی سے عملدرآمد کیا ،آئی ایم ایف

  • بنوں میں دہشت گردوں کا  دوپولیس تھانوں اور چوکی پر حملہ

    بنوں میں دہشت گردوں کا دوپولیس تھانوں اور چوکی پر حملہ

    خیبر پختونخوا کے شہر بنوں کے دو تھانوں اور ایک پولیس چوکی پر دہشت گردوں نے حملہ کیا ہے، تاہم بروقت پولیس کارروائی کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے تھانہ بکاخیل اور تھانہ غوری والہ پر حملہ کیا جبکہ خوجڑی پولیس چوکی پر دستی بم پھینکے گئے۔ ان حملوں میں دہشت گردوں کا مقصد پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانا تھا، مگر پولیس کی فوری کارروائی کے باعث اہلکار محفوظ رہے۔پولیس نے بتایا کہ جیسے ہی دہشت گردوں نے حملہ کیا، اہلکاروں نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کو فرار ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق علاقے میں امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے مزید سرچ آپریشن شروع کر دیے گئے ہیں۔

    پولیس حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اور دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ علاقے میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے تاکہ دہشت گرد دوبارہ کسی قسم کی کارروائی کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔

  • پاک افغان تجارتی بحران، فوری اقدامات ناگزیر، پاک افغان جوائنٹ چیمبر

    پاک افغان تجارتی بحران، فوری اقدامات ناگزیر، پاک افغان جوائنٹ چیمبر

    پشاور(باغی ٹی وی )پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) کے صدر جنید مکڈا نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی بحران کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی رکاوٹوں، بڑھتے ہوئے ٹرانسپورٹ اخراجات اور طورخم بارڈر کی بندش سے سرحد پار کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے، جس سے پاکستان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

    انہوں نے دسمبر 2024 میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) کے اجلاس میں اٹھائے گئے تحفظات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اکتوبر 2023 میں جاری کردہ ایس آر اوز کے باعث تجارت میں نمایاں کمی آئی ہے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت نے حال ہی میں انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس (IDC) کو 2 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کر دیا ہے، لیکن یہ اب بھی افغانستان کے ساتھ دو طرفہ ٹرانزٹ ٹریڈ پر لاگو ہوتا ہے جو قانونی تجارت کی حوصلہ شکنی اور بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

    انہوں نے کہا کہ IDC میں کمی ایک معمولی ریلیف ہے، لیکن ٹرانزٹ ٹریڈ پر کوئی ٹیکس نہیں ہونا چاہیے۔ اضافی ٹیکس اور بارڈر کی بندش کے باعث تاجر ایرانی بندرگاہوں کا رخ کر رہے ہیں، جو پاکستان کے تجارتی راہداری کے کردار کے لیے خطرناک ہے۔

    21 فروری 2025 سے طورخم بارڈر افغان سرحدی چوکی کی تعمیر پر تنازع کی وجہ سے بند ہے، جس سے ہزاروں ٹرک، جن میں خراب ہونے والا سامان بھی شامل ہے، پھنس گئے ہیں اور تاجروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ بارڈر کی مسلسل بندش کی وجہ سے کاروبار متبادل راستوں، جیسے چابہار اور بندر عباس کی طرف منتقل ہو رہا ہے جو پاکستانی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

    پاک افغان جوائنٹ چیمبر کے سینئر نائب صدر ضیاء الحق سرحدی اور نائب صدر پرویز لالہ نے بھی اس بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سب سے زیادہ نقصان چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کو ہو رہا ہے۔ ضیاء الحق سرحدی نے کہا کہ طویل تاخیر اور غیر یقینی صورتحال تاجروں کا اعتماد ختم کر رہی ہے، جس سے سرمایہ کاری کا ماحول بھی متاثر ہو رہا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان اپنی حیثیت بطور اہم تجارتی مرکز کھو سکتا ہے۔

    جنید مکڈا نے کہا کہ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ افغانستان جیسے زمینی راستے سے محصور ممالک کے لیے تجارتی سہولیات فراہم کرے۔ اگر پاکستان ان وعدوں پر پورا نہیں اترا تو نہ صرف عالمی سطح پر بدنامی ہوگی بلکہ علاقائی حریفوں کو بھی فائدہ پہنچے گا، کیونکہ بھارتی بندرگاہیں پہلے ہی پاکستانی تجارت کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں۔

    پاک افغان جوائنٹ چیمبر نے واضح کیا کہ وہ قومی سلامتی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے، تاہم جنید مکڈا نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ سیکیورٹی اور تجارت میں توازن پیدا کرے، بارڈر مینجمنٹ کو بہتر بنائے، ٹرانسپورٹ لاگت کم کرے اور ٹرانزٹ ٹریڈ پر IDC کو مکمل طور پر ختم کرے تاکہ کاروبار کو تحفظ دیا جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی ازبکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی کوششیں خوش آئند ہیں، لیکن اگر تجارتی رکاوٹوں کو جلد دور نہ کیا گیا تو پاکستان ایک بڑی تجارتی راہداری بننے کا موقع کھو دے گا اور اپنی معاشی صلاحیت سے محروم ہو جائے گا۔

    پاک افغان جوائنٹ چیمبر نے حکومت پاکستان سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ہر گزرتا دن پاکستان کے لیے قیمتی تجارت، سرمایہ کاری کا اعتماد اور معاشی استحکام کھونے کا خطرہ بڑھا رہا ہے۔

  • جامعہ حقانیہ اور بنوں خودکش حملہ آوروں کی شناخت ہوگئی

    جامعہ حقانیہ اور بنوں خودکش حملہ آوروں کی شناخت ہوگئی

    آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا ہے کہ دارالعلوم حقانیہ اور بنوں میں ہونے والے خودکش حملوں کے حملہ آوروں کی شناخت کر لی گئی ہے۔ دونوں دھماکوں کی تحقیقات جاری ہیں اور سی سی ٹی وی ویڈیوز حاصل کر لی گئی ہیں۔

    پشاور میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ذوالفقار حمید نے مزید کہا کہ نوشہرہ میں دارالعلوم حقانیہ اور بنوں دھماکوں کی تحقیقات کو تیز کر دیا گیا ہے۔ ان دھماکوں میں ملوث خودکش حملہ آوروں کی اعضاء کے ذریعے شناخت کی گئی ہے، جس سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے حوالے سے اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا کہ بنوں کے واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی ٹریکنگ کی جا رہی ہے، اور اس دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس حملے میں غیر ملکی اسلحہ بھی استعمال کیا گیا۔ اسلحہ کی ٹریکنگ جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ اسلحہ کس ملک سے آیا اور کس طریقے سے دہشت گردوں کے ہاتھ لگا۔

    ذوالفقار حمید نے کرم میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی کی کارروائیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ کرم میں حالات خراب کرنے والے 100 سے زائد ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرم کے حالات میں اب دہشت گردی کا عنصر شامل ہو چکا ہے، جس کے پیش نظر کرم کے لیے ایک نئی حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔ امید ہے کہ اس حکمت عملی کے تحت کرم میں آئندہ کوئی دہشت گردانہ واقعہ پیش نہیں آئے گا۔

    آئی جی خیبرپختونخوا نے سیف سٹی پراجیکٹ کی منظوری کی خوشخبری بھی دی اور کہا کہ اس پراجیکٹ پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند ماہ میں سیف سٹی پراجیکٹ مکمل ہو جائے گا، جس سے خیبرپختونخوا کے شہری علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔

    آئی جی خیبرپختونخوا کے مطابق، صوبے میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کی تحقیقات تیز کر دی گئی ہیں اور خودکش حملہ آوروں کی شناخت ہو چکی ہے۔ کرم میں حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے خصوصی حکمت عملی تیار کی گئی ہے، جبکہ سیف سٹی پراجیکٹ کی تکمیل سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال مزید مستحکم ہو گی۔

  • پشاور:گھروں پر حملے کر کے ویڈیوز بنانیوالے ٹک ٹاکرز گرفتار

    پشاور:گھروں پر حملے کر کے ویڈیوز بنانیوالے ٹک ٹاکرز گرفتار

    پشاور: حیات آباد میں ٹک ٹاک ویڈیو کے چکر میں گھروں میں لگے شیشے پتھراؤ کر کے توڑنے والے اوباش نوجوانوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی: ٹک ٹاکر پتھر گروپ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت کے علاقے حیات آباد میں گھروں پر پتھر پھینکتے ہیں، نوجوان گھروں کو پتھر مار کر شیشے توڑ کر ویڈیوز بناتے اور پھر اس کی ویڈیوز ٹک ٹاک پر ڈال کر اسے وائرل کرتے ہیں، عوامی شکایات ملنے پر تھانہ تاتارا پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے رات کی تاریکی میں گھروں، دروازوں پر پتھراو کرنے میں ملوث اوباش نوجوانوں کا گروہ کو حراست میں لے لیا۔

    حراست میں لئے گئے نوجوان لڑکے تراویح کے بعد حیات آباد کے پوش اور کمرشل علاقوں میں رات کی تاریکی میں شہریوں کے گھرو ں پر پتھراؤ کرتے ہیں اور ساتھ میں ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرتے ہیں، جس سے علاقہ میں خوف وحراس پھیل رہا تھا،عوامی شکا یت ملنے پر حیات آباد سرکل پولیس نے تمام اوباش نوجوانوں کو حراست میں لے لیا، جنہوں نے اپنی غلطی تسلیم کرلی، جس کے بعد تما م لڑکوں کے والدین اور ورثا کو تھانہ طلب کرکے ان کے بچوں کی جانب سے تحریری معافی نامہ دینے کے بعد انہیں والدین کی ضما نت پر چھوڑ دیا گیا۔

    ملزم ارمغان نے وکیل کو دھمکیاں دینے کے مقدمے میں اعتراف جرم کرلیا

    جوان اپنے بچو ں کو یتیم کرکے لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچا رہے ہیں،وزیراعظم

    میں رابطوں کا حصہ نہیں، نہ کسی نے رابطہ کیا، جنید اکبر

  • امدای سامان پر مشتمل  450 سے زائد گاڑیوں کا قافلہ پارہ چنار روانہ

    امدای سامان پر مشتمل 450 سے زائد گاڑیوں کا قافلہ پارہ چنار روانہ

    کُرم: اشیا ضروریہ اور تجارتی سامان پر مشتمل 450 سے زائد گاڑیوں کا قافلہ سخت سیکورٹی میں ٹل سے پارہ چنار روانہ ہوگیا-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق ہنگو سے اشیا ضروریہ اور تجارتی سامان پر مشتمل 450 سے زائد گاڑیاں پارہ چنار روانہ ہوگیا، گاڑیوں کو سخت سیکورٹی میں ٹل سے روانہ کیا گیا ہے ہنگو کے علاقے ٹل سے سخت سیکورٹی میں بڑی اور چھوٹی گاڑیوں کے متعدد قافلے پارہ چنار روانہ کیے گئے جن میں اشیا ضروریہ اور تجارتی سامان شامل ہے۔

    حکام کے مطابق 450 گاڑیوں کو چھوٹے چھوٹے قافلوں کی شکل میں اور وقفے وقفے سے پارہ چنار کے لیے روانہ کیا گیا،اس دوران قومی شاہراہ پر پولیس اور ایف سی کے جوان تعینات تھے اور موبائل فون سروس بھی معطل رہی۔

    میں رابطوں کا حصہ نہیں، نہ کسی نے رابطہ کیا، جنید اکبر

    قبل ازیں کمشنر کوہاٹ اور آر پی او کے عمائدین اور سرکردہ شخصیات سے جرگہ بھی منعقد ہوا اور قومی شاہراہ پر قافلوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے ان سے مشاورت بھی کی گئی۔

    صدر پاکستان کے خطاب پر بات کرنا چاہتا تھا مگر نہیں کرنا چاہتا،فاروق ستار

  • وزیر اعلی خیبر پختونخوا  سے  فٹبال پلئیر محمد ریاض کی ملاقات

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے فٹبال پلئیر محمد ریاض کی ملاقات

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ضلع ہنگو سے تعلق رکھنے والے معروف فٹبال کھلاڑی محمد ریاض سے ملاقات کی، جنہوں نے فٹبال کے بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ محمد ریاض کا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے اور حالیہ دنوں میں وہ اپنے خاندان کا گزر بسر کرنے کے لیے جلیبی کی دوکان پر کام کر رہے تھے۔

    محمد ریاض کی زندگی میں ایک نیا موڑ اُس وقت آیا جب سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں وہ جلیبی کی دوکان پر کام کرتے نظر آ رہے تھے۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے اس کا نوٹس لیا اور محمد ریاض کو سی ایم ہاؤس بلا کر ملاقات کی۔وزیر اعلیٰ نے محمد ریاض کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں 10 لاکھ روپے کا امدادی چیک دیا تاکہ ان کی مالی حالت بہتر ہو سکے اور وہ اپنے فٹبال کے کیریئر پر توجہ مرکوز کر سکیں۔ اس کے علاوہ، وزیر اعلیٰ نے محمد ریاض کو محکمہ اسپورٹس کے تحت فٹبال کوچ کی ذمہ داری بھی سونپی، تاکہ وہ اپنے تجربات اور مہارت کو نئے کھلاڑیوں کے ساتھ شیئر کر سکیں اور خیبر پختونخوا میں فٹبال کے کھیل کو فروغ دے سکیں۔

    محمد ریاض کی یہ کہانی ایک مثال بن گئی ہے کہ کس طرح محنت اور لگن سے انسان حالات کا مقابلہ کر کے کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی طرف سے دی جانے والی امداد اور نئی ذمہ داری سے محمد ریاض کو نہ صرف مالی مدد ملی ہے بلکہ ان کے لیے ایک نئی زندگی کے دروازے بھی کھل گئے ہیں۔یہ اقدام خیبر پختونخوا حکومت کی اسپورٹس کے فروغ اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے عزم کا عکاس ہے۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ وہ صوبے میں نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اس طرح کے اقدامات کرتے رہیں گے۔