Baaghi TV

Category: پشاور

  • پشاور: اپیکس کمیٹی  اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ

    پشاور: اپیکس کمیٹی اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ

    پشاور: خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں تمام بنکرز کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    یہ فیصلہ پشاور میں ہونے والے اپیکس کمیٹی کے اہم اجلاس میں کیا گیا، جس میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکریٹری کے پی، آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں کرم میں قیامِ امن کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو کرم میں امن و امان کی صورت حال اور وہاں کی تازہ ترین پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس بریفنگ میں گرینڈ جرگے کی جانب سے کرم میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کیا گیا، جس نے علاقے میں امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    اجلاس میں کرم میں پائیدار امن کے قیام کے لیے حکمتِ عملی پر بھی غور کیا گیا۔ اس حکمتِ عملی میں علاقے میں اسلحے کے خاتمے اور اسلحہ کی غیر قانونی موجودگی کے معاملے پر خاص توجہ دی گئی۔ مزید برآں، کرم میں اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے لیے اقدامات پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی، تاکہ علاقے میں عوامی مشکلات کم کی جا سکیں۔کرم میں بنکرز کے خاتمے کا فیصلہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا کہ یہ بنکرز غیر قانونی طور پر استعمال ہو رہے تھے اور علاقے میں عدم استحکام کا باعث بن رہے تھے۔ اس فیصلے کے تحت تمام بنکرز کو بند کیا جائے گا تاکہ علاقے میں مزید امن قائم کیا جا سکے اور لوگوں کی زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔

    اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ علاقے میں اسلحہ کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے تاکہ کرم کے عوام کو ایک پرامن اور محفوظ ماحول میسر آ سکے۔ اس مقصد کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں کو مزید تیز کیا جائے گا اور غیر قانونی اسلحہ کی فراہمی کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔پشاور کے اپیکس کمیٹی کے اس اجلاس میں کیے گئے فیصلے کرم میں امن کی بحالی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ ان اقدامات سے علاقے میں طویل عرصے تک پائیدار امن قائم رہے گا۔

    دوسری شادی کی اجازت کیوں نہ دی، شوہر نے بیوی کو کروایا قتل

    پاکستان پرامن ریاست،لیکن بیرونی جارحیت سے دفاع کا حق ہے،خواجہ سعد رفیق

  • کرم میں قیام امن اولین ترجیح ،محسن نقوی اور گنڈا پور ملاقات میں اتفاق

    کرم میں قیام امن اولین ترجیح ،محسن نقوی اور گنڈا پور ملاقات میں اتفاق

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی پشاور میں وزیراعلی آفس آمد ہوئی ہے

    وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا خیر مقدم کیا،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور میں ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور کرم میں قیام امن کیلئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے وزیر اعلی خیبرپختونخوا کو قیام امن کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ خیبرپختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعدادکار بڑھانے میں پورا سپورٹ کریں گے۔ کرم میں قیام امن اولین ترجیح ہے۔ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کرم میں پائیدار امن کا قیام کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا ، محسن نقوی نے کہا کہ شہداء ہمارے لئے سرمایہ افتخار ہیں۔ لازوال قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ مل کر دہشتگردی کے عفریت کا مقابلہ کریں گے۔

    دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا، فیصل کریم کنڈی نے ضلع کرم کی تشویشناک صورتحال پر صوبائی حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ کرم میں حالات بدتر ہو چکے ہیں اور صوبائی حکومت کی جانب سے حالات پر قابو پانے کے لئے کوئی واضح اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے ہیں۔ گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ "کرم جل رہا ہے، اور صوبائی حکومت و وفاقی حکومت کہاں ہیں؟ صوبائی حکومت ایک پارا چنار روڈ نہیں کھول سکتی، تو باقی معاملات کیسے سنبھالے گی؟” فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ "صوبائی حکومت کا کوئی ایجنڈا نہیں، ان کے پاس رہائی کے سوا کوئی حل نہیں ہے۔ اس لیے انہیں اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جانا چاہیے۔”

    پی ٹی آئی کے اتحادی، مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس نے بھی خیبرپختونخوا حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی رہنما کو کئی بار بتایا کہ کرم کے حالات بہتر بنانے کے لئے ڈپٹی کمشنر کو تبدیل کیا جائے، لیکن ان کی باتوں کو نظر انداز کیا گیا۔علامہ ناصر عباس کا مزید کہنا تھا کہ "کرم میں 150 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں، اور وہاں نہ وفاقی حکومت نظر آتی ہے، نہ صوبائی حکومت، اور نہ ہی سیکیورٹی ادارے موجود ہیں۔” انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس علاقے میں کسی بھی ادارے کی موجودگی نہیں ہے، جس کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

    کرم کے علاقے میں جاری تشویشناک حالات پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی غفلت کی وجہ سے عوام میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔ اس علاقے میں کئی مہینوں سے جاری دہشت گردی اور فرقہ وارانہ کشیدگی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومتوں کی بے حسی کی وجہ سے ان کی جان و مال کی حفاظت کے لئے کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔کرم کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر حکومتوں کی طرف سے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومتیں فوری طور پر کرم میں امن قائم کرنے کے لئے موثر اقدامات کریں اور عوام کی زندگی کو تحفظ فراہم کریں۔اس وقت کرم کے علاقے میں امن و امان کی صورتحال سنگین ہے اور عوام اس بات کے منتظر ہیں کہ حکومتیں ان کے مسائل کا فوری حل نکالیں تاکہ ان کے علاقوں میں امن قائم ہو سکے۔

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

    بپن راوت ہیلی حادثہ انسانی غلطی قرار،پارلیمانی کمیٹی رپورٹ پیش

  • کرم میں ستی گندم دینے کا فیصلہ، اپیکس کمیٹی اجلاس طلب

    کرم میں ستی گندم دینے کا فیصلہ، اپیکس کمیٹی اجلاس طلب

    خیبر پختون خوا حکومت نے کرم میں شہریوں کو سستی گندم دینے کا فیصلہ کر لیا۔، گندم فلور ملز کے بجائے شہریوں کو براہِ راست ملے گی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ چالیس کلو آٹے کا تھیلا اٹھائیس سو روپے میں دیں گے، کرم میں مزید چھتیس سو کلو ادویات ہیلی کاپٹر سے پہنچا دی گئیں۔دوسری جانب ضلع کرم میں جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے 20 دسمبر کو صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس طلب کرلیا۔صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی زیر صدارت وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں ہوگا جس میں اعلیٰ سول وعسکری قیادت، متعلقہ اراکین صوبائی کابینہ، ڈویڑنل اور ضلعی انتظامیہ کے حکام شریک ہونگے۔اجلاس میں کرم میں امن و امان کی تازہ صورتحال،صوبائی حکومت کے اقدامات اور دیگر معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، اجلاس کے دوران کرم میں اشیائے ضروریہ اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی اور امن کے قیام کے لئے اہم فیصلے متوقع ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں متعلقہ شراکت داروں کی مشاورت سے علاقے میں دیرپا امن کے قیام کے لئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا، کرم میں امن کے قیام کے لئے حکومتی گرینڈ جرگے کی طرف سے اب تک کی پیشرفت سے شرکاء کو آگاہ کیا جائے گا۔صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس کل طلب، قیام امن اور گرینڈ جرگے کی پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا، خیبر پختون خوا کابینہ کا اجلاس تیئس دسمبر کو ہو گا.

    ٹیکس پالیسی ٹیکس کلیکشن سے بہتر بنائیں گے،وزیر خزانہ

    گوجرہ: چوہدری خالد جاوید وڑائچ کی مرزا طارق محمود کو بلا مقابلہ صدر منتخب ہونے پر مبارکباد

  • خیبر پختونخوا، مختلف کاروائیوں کے دوران 11 خوارج ہلاک

    خیبر پختونخوا، مختلف کاروائیوں کے دوران 11 خوارج ہلاک

    خیبرپختونخوا میں 3مختلف آپریشنزکے دوران 11خارجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ٹانک میں خوارج کی موجودگی پر آپریشن کیاجس کے نتیجے میں 7 خوارج ہلاک ہوئے۔دوسرا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن دتہ خیل شمالی وزیرستان میں کیا گیا جہاں 2 خارجی ہلاک ہوئے،تیسرا آپریشن ضلع مہمند کے علاقے مامد گٹ میں کیا گیا،فائرنگ کے تبادلے میں 2 خارجی ہلاک ہوئے۔ہلاک خوارج کے قبضے سے بھاری اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا،ہلاک خوارج سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کیخلاف متعدد کاروائیوں میں ملوث تھے۔ اس سے قبل 11 دسمبر کو آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جانب سے میران شاہ میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا گیا، کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے 4 خوارج کو ہلاک کر دیا دوسرا آپریشن شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں ہوا، فورسزنے کارروائی کرتے ہوئے 3 خوارج کو ہلاک کردیا ، کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں لانس نائیک محمد امین نے شہادت کو گلے لگا لیا۔

    اسرائیل کا المواصی کیمپ پر حملہ، 50 فلسطینی شہید

    پی ٹی اے نے 58 لاکھ سے زائد سمز بلاک کر دیں

    پی ٹی آئی کے ہم خیال گروپ کا بلدیہ عظمی کراچی بلڈنگ میں احتجاج

  • لنڈی کوتل :کالج  طلباء نےفاٹا یونیورسٹی سے الحاق مسترد کردیا، احتجاجی دھرنے کا اعلان

    لنڈی کوتل :کالج طلباء نےفاٹا یونیورسٹی سے الحاق مسترد کردیا، احتجاجی دھرنے کا اعلان

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ)کالج طلباء نےفاٹا یونیورسٹی سے الحاق مسترد کردیا، احتجاجی دھرنے کا اعلان

    تفصیل کے مطابق گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج لنڈی کوتل کے طلباء نے فاٹا یونیورسٹی کے ساتھ الحاق کو مسترد کرتے ہوئے پشاور یونیورسٹی سے الحاق بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کالج کے سٹوڈنٹس یونین کے صدر داؤد شینواری، نائب صدر محمد آصف ریان، جنرل سیکرٹری قاسم اور سابق صدر عبید خان نے لنڈی کوتل پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا یونیورسٹی کے ساتھ الحاق کی وجہ سے طلباء کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور یونیورسٹی صوبے کی نمبر ون یونیورسٹی ہے اور کالج کی دو ڈیپارٹمنٹس زوالوجی اور اردو پہلے ہی پشاور یونیورسٹی سے ملحق ہیں۔

    طلباء کے رہنماؤں نے کہا کہ وہ اس مسئلے کو لے کر صوبائی وزیر تعلیم مینا خان اور عدنان قادری سمیت دیگر متعلقہ حکام سے متعدد بار مل چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی مثبت پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ اگر ان کا مطالبہ جلد منظور نہ کیا گیا تو وہ کل بروز جمعرات صبح 8 بجے کالج کے مین گیٹ پر احتجاجی دھرنا دیں گے۔ انہوں نے سیاسی قائدین، بلدیاتی نمائندگان، قومی مشران اور صحافیوں کو اس دھرنے میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

  • پشاور ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    پشاور ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    پشاور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ان کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کر دی اور سماعت 16 جنوری تک ملتوی کر دی۔

    بشری بی بی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے حوالے سے دائر کی گئی درخواست پر 2 رکنی بنچ نے سماعت کی، جس میں جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس وقار احمد شامل تھے۔درخواست گزار کے وکیل عالم خان ادینزئی ایڈوکیٹ نے عدالت میں پیش ہو کر کہا کہ بشری بی بی کو آج اسلام آباد میں توشہ خانہ ٹو کے کیس میں پیش ہونا ہے، اور وہ وہاں پر پیش ہوں گی۔ وکیل نے عدالت سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی جس میں استدعا کی گئی کہ حفاظتی ضمانت میں مزید توسیع دی جائے تاکہ درخواست گزار کو قانونی کارروائی سے تحفظ حاصل ہو سکے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بشری بی بی کے خلاف دو مختلف کیسز عدالت کے سامنے زیر سماعت ہیں، اور پہلے کیس میں انہوں نے رپورٹ جمع کروا دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں مزید کاروائی کے لیے رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔سپیشل ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے بھی عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کروا دی اور بتایا کہ بشری بی بی کے خلاف نیب کے تین مختلف کیسز زیر تفتیش ہیں۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کی نئی درخواست پر بھی رپورٹ جمع کی جائے۔عدالت نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ بشری بی بی کی نئی درخواست پر بھی رپورٹ جمع کی جائے اور مزید قانونی کارروائی کو جاری رکھا جائے۔ اس کے بعد عدالت نے بشری بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے سماعت 16 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔

    یہ مقدمات بشری بی بی اور ان کے شوہر عمران خان کے خلاف جاری تحقیقات کا حصہ ہیں، جن میں نیب اور دیگر ادارے کرپشن اور دیگر الزامات کی تفتیش کر رہے ہیں۔اب بشری بی بی کو اس عرصے میں قانونی معاملات میں راحت ملے گی اور انہیں حفاظتی ضمانت کی توسیع کا فائدہ حاصل ہوگا۔ ان کی آئندہ پیشیوں کا فیصلہ عدالت کی جانب سے 16 جنوری 2024 کو کیا جائے گا۔

  • ادویات کی عدم دستیابی، پاراچنار میں 29 بچوں کی موت

    ادویات کی عدم دستیابی، پاراچنار میں 29 بچوں کی موت

    پاراچنار کے عوام اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں، جہاں 65 دنوں سے محاصرے کی حالت برقرار ہے۔ علاقے میں بنیادی ضروریاتِ زندگی بشمول ادویات، خوراک، اور پیٹرول کی کمی کے باعث انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ عوام فاقوں پر مجبور ہیں، اور کئی معصوم بچے علاج نہ ملنے کے باعث اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

    ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سید میر حسن جان نے بتایا کہ یکم اکتوبر سے ہسپتال میں دواوں اور بنیادی سہولتوں کی کمی کے باعث مریضوں کو مناسب علاج فراہم نہیں کیا جا سکا ہے۔ اُنہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال صحت کے شعبے میں سنگین بحران پیدا کر سکتی ہے۔ڈاکٹر سید میر حسن جان نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ "ہسپتال میں دواوں کا ذخیرہ پشاور ہیلتھ ڈائریکٹریٹ سے موصول ہوا تھا، لیکن یہ مقدار ہسپتال کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔” اُنہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں ہونے والی جھڑپوں کے باعث دواوں اور سرجیکل سامان کا استعمال بہت زیادہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے ہسپتال میں دواوں کی کمی شدت اختیار کر گئی ہے۔ڈاکٹر حسن جان نے بتایا کہ "اس وقت ہسپتال کے مختلف یونٹس میں دواوں کی شدید کمی ہے اور اس مسئلے کو انسانیت کے ناطے فوراً حل کرنے کی ضرورت ہے۔” بیان میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ یکم اکتوبر 2024 سے اب تک 29 بچے ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ دواوں کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ تھل-پاراچنار روڈ بند ہونے کے باعث دوا فراہم کرنے والی کمپنیاں دواوں کو پاراچنار تک پہنچانے میں ناکام ہیں۔ اس روڈ کی بندش کو 69 دن ہو چکے ہیں، جس سے نہ صرف دوا کی فراہمی متاثر ہوئی ہے بلکہ پاراچنار اور اپر کرم کے علاقے میں ضروری اشیاء جیسے کہ کھانے پینے کی چیزیں، ایندھن اور گیس کی کمی بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔

    سماجی کارکن اسد اللہ نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر افغان سرحد اور اہم شاہراہوں کو فوراً کھولا نہ گیا تو علاقے میں ایک بڑا انسانی سانحہ پیش آ سکتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ "ہمیں فوری طور پر ضرورت مند افراد کے لیے کھانے پینے کی امداد فراہم کرنی چاہیے کیونکہ سڑکوں کی بندش کی وجہ سے مقامی لوگ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔”مقامی انتظامیہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کی کوششیں کر رہی ہیں۔ ضلع انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ کوہاٹ میں ملتوی ہونے والی گرینڈ جرگہ کو دوبارہ طلب کیا جائے گا تاکہ شاہراہوں کی بحالی اور دیگر مسائل پر بات چیت کی جا سکے۔ اس جرگہ کا مقصد علاقے میں امن و امان قائم کرنے اور ضروری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

    پاراچنار کی صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ یہاں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مقامی افراد اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات کا بار بار مطالبہ کر رہی ہیں کہ علاقے کے راستے کھولے جائیں تاکہ متاثرین کو ادویات، خوراک، اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا جا سکے۔ لیکن محاصرے کی وجہ سے ان تک امداد پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔ پاراچنار میں ادویات کی شدید کمی کے باعث مریضوں کا علاج معالجہ ممکن نہیں ہو پا رہا۔ کئی بچے جنہیں معمولی علاج کی ضرورت تھی، وہ اس کمی کے باعث اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، علاقے میں خوراک کی کمی کی وجہ سے روزے رکھنے والے عوام کے لئے حالات اور بھی بدتر ہو گئے ہیں۔پاراچنار میں پیٹرول اور دیگر ضروری اشیائے خورد و نوش کی شدید کمی ہو چکی ہے، جس کے باعث عوام کو روزمرہ کی زندگی گزارنے میں سخت مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ علاقے کے مختلف حصوں میں پیٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، اور لوگ اپنی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ روزانہ کی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی دشواری محسوس کر رہے ہیں۔

    فیصل ایدھی ایئر ایمبولینس کے ہمراہ پارا چنار پہنچ گئے
    پاراچنار میں جاری اس انسانی بحران کے حل کے لئے ایدھی فاؤنڈیشن نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ ایدھی ایئر ایمبولینس کی پہلی پرواز پاراچنار ایئرپورٹ پر پہنچی ہے، جس میں فیصل ایدھی بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ پاراچنار پہنچے۔ فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ وہ خود یہاں آ کر عوام کی مشکلات کا جائزہ لینے کے لیے آئے ہیں اور اس بحران کے حل کے لیے اپنے ادارے کی طرف سے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائیں گے۔ایدھی ایئر ایمبولینس کی پرواز کے ذریعے پشاور سے ادویات پاراچنار پہنچائی جائیں گی اور ساتھ ہی مقامی مریضوں کو پشاور منتقل کر کے ان کا علاج کیا جائے گا۔ فیصل ایدھی نے کہا کہ ان کی ٹیم پاراچنار کے ہسپتالوں میں ضروری امداد فراہم کرے گی اور جلد از جلد مزید امدادی کارروائیاں شروع کی جائیں گی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر صحافی وقار ستی کہتے ہیں کہ خیبر پختونخواہ کے علاقے پارہ چنار ہسپتال میں ادویات کی عدم دستیابی کے باعث 29 معصوم بچوں نے دم توڑ دیا، مگر انسانی حقوق کے ٹھیکیدار اور نام نہاد جعلی انقلابی سب کے سب خاموش ہیں۔ لگتا ہے ان بچوں کی موت میں کوئی “سیاسی فائدہ” نہیں تھا، اس لیے نہ کوئی مارچ نکلا، نہ کوئی ٹویٹ ہوا۔ انسانیت یہاں مر گئی اور ضمیر کہیں بیچا جا چکا ہے۔

  • سول نافرمانی تحریک عمران خان جب حکم دیں گے،شروع ہو گی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    سول نافرمانی تحریک عمران خان جب حکم دیں گے،شروع ہو گی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی ایک ماہ کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی ہے۔

    یہ فیصلہ عدالت میں علی امین گنڈاپور کی درخواست پر سماعت کے بعد دیا گیا، جس میں انہوں نے اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیل پیش کرنے کی درخواست کی تھی۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے خلاف درج مقدمات پر بات کی، جس کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے انہیں ایک ماہ کے لیے حفاظتی ضمانت دینے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو درج مقدمات میں گرفتار نہ کیا جائے۔

    وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے خلاف اسلام آباد میں 32 اور پنجاب میں 33 مقدمات درج ہیں، وفاقی حکومت کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کروا دی گئی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سول نافرمانی تحریک صرف اس وقت شروع ہوگی جب پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اس کا حکم دیں گے۔ انہوں نے کہا، "بانی پی ٹی آئی جب بتائیں گے، تب سول نافرمانی تحریک شروع ہوگی۔ ان کے احکامات آئیں گے، پھر اس پر عمل ہوگا۔”علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ انہیں گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے سے روکا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے پہنچنے کے باوجود انہیں کہا گیا کہ "آپ کو ملاقات کی اجازت نہیں ہے”۔ وزیراعلیٰ کے پی کا کہنا تھا کہ وہ پورے خیبرپختونخوا کے نمائندہ ہیں اور انہیں کسی سے کلیئرنس کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ جو افراد اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، کیا ان کی کلیئرنس ہے؟میری عمران خان سے ملاقات ہو جائے گی،جو عمران خان کا حکم ہو گا اس پر عمل ہو گا، میں صوبے کا نمائندہ ہوں مجھے ضمانت کی ضرورت نہیں پھر بھی کروا رہا ہوں،

    واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور نے کل (پیر کے روز) عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل گئے تھے تاہم انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس واقعے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں ملاقات سے روکا جانا ایک غیر مناسب عمل تھا۔

    شہباز شریف ہرجانہ کیس، عمران خان کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

    توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

  • لنڈی کوتل پریس کلب میں جنرل باڈی اجلاس، نئے ممبران کو رکنیت دی گئی

    لنڈی کوتل پریس کلب میں جنرل باڈی اجلاس، نئے ممبران کو رکنیت دی گئی

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ) پریس کلب میں جنرل باڈی اجلاس، نئے ممبران کو رکنیت دی گئی

    تفصیل کے مطابق لنڈی کوتل پریس کلب (رجسٹرڈ) میں جنرل باڈی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کی صدارت سابق صدر شاہ رحمان اور کابینہ نے کی، جہاں تین نکاتی ایجنڈا پیش کیا گیا۔

    ایجنڈے میں 2024 کے کابینہ کا احتساب، الیکشن کمیٹی کی تشکیل، اور نئے ممبران کو رکنیت دینا شامل تھا۔ اجلاس کے دوران متفقہ طور پر تینوں نکات کو منظور کیا گیا۔

    نئی رکنیت حاصل کرنے والوں میں صائم افریدی، خان زیب، عمر خٹک، اجمیر خان، منصور، اور رحیم افریدی شامل ہیں، جبکہ جواد شینواری کی رکنیت بحال کر دی گئی۔

    اجلاس میں الیکشن کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، جس کے چیئرمین اشرف الدین پیرزادہ مقرر ہوئے، جبکہ ممبران میں اکمل قادری، ابو زر افریدی، اور شاہد افریدی شامل ہیں۔

    الیکشن کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین اشرف الدین پیرزادہ نے شفاف انتخابات کے انعقاد کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پریس کلب کے وسیع تر مفاد کے لیے اجتماعی کوششوں کو جاری رکھا جائے گا۔

  • مولانا پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کا مسیحا بنا ہوا ہے،فیصل کریم کنڈی

    مولانا پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کا مسیحا بنا ہوا ہے،فیصل کریم کنڈی

    کرم: گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کرم کے مسئلہ پر صوبائی حکومت نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کی ہوئی۔

    باغی ٹی وی: فیصل کریم کنڈی نے ریجنل پاسپورٹ آفس ڈیرہ میں جدید سہولیات کے منصوبہ کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی اضلاع کے شہریوں کو پاسپورٹ کے حوالے مشکلات کا سامنا تھا آج 5 ڈیسک کا افتتاح کیا ہے میری کوشش ہے کہ وفاقی اداروں کے مسائل حل کرسکوں گورنر نے گلوٹی کے مقام پر نیشنل ائیرپورٹ کے جلد افتتاح کا بھی اعلان کر دیا، 16 دسمبر کے شہدا کو سلام پیش کرتا ہوں، امن کیلئے ہر شہری نے قربانیاں دی ہیں، حق تو بنتا ہے کہ صوبائی اسمبلی کا اجلاس بنوں اور ڈیرہ میں ہونا چاہئے۔

    کرم کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے گورنر کا کہنا تھا کہ کرم کے مسئلہ پر کے پی حکومت نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کی ہوئی ہے صوبائی حکومت کرم کے آئی ڈی پیز کے ساتھ تعاون کرے، کرم کے روڈ کے حوالے سے تحفظات ہیں پی ٹی آئی کو این آر او نہیں ملے گا ان سے مذاکرات اتحادی جماعتوں کے تعاون سے ہوگا، مولانا پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کا مسیحا بنا ہوا ہے۔

    فیصل کریم کنڈی نے وزیر اعلیٰ علی امین سے متعلق کہا کہ جو دو بوتل شراب کے ساتھ دوڑ رہا ہو، وہ بانی کو کیا آزاد کرائے گا؟