Baaghi TV

Category: پشاور

  • خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیموں پر حملے،پولیس اہلکار سمیت دو کی موت

    خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیموں پر حملے،پولیس اہلکار سمیت دو کی موت

    بنوں کے علاقے کالا خیل مستی خان میں نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر کے انسداد پولیو مہم پر مامور ایک پولیو ورکر کو قتل کر دیا۔کرک میں پولیو ٹیم پر حملے میں پولیس اہلکار شہید ہو گیا ہے

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیو ورکر اپنی معمول کی ڈیوٹی پر جا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، ملزمان نے پولیو ورکر کو اس کے راستے میں گھات لگا کر نشانہ بنایا اور اس پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔پولیس کے مطابق مقتول پولیو ورکر کا نام گلزار خان تھا اور وہ پولیو مہم کے دوران بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی ذمہ داری پر مامور تھا۔ گلزار خان اپنی ڈیوٹی کے لیے جا رہا تھا جب اسے ملزمان نے نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق، فائرنگ کے بعد ملزمان فوراً فرار ہو گئے اور وہ جائے وقوعہ سے غائب ہو گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ واقعے کی حقیقی وجہ سامنے آ سکے۔پولیس نے بتایا کہ اس حوالے سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے اور ملوث افراد کو جلد گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں اور یہ حملہ اسی قسم کی دشمنی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب بنوں تھانہ صدر کی حدود میں پولیو ورکر پر فائرنگ ہوئی ہے، فائرنگ سے پولیو ورکر حیات اللہ خان زخمی ہوگیا ، زخمی ورکر کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ، واردات کے بعد ملزمان فرار ہوگئے۔

    خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں پولیو ٹیم پر حملہ ہوا ہے ، جس میں ایک کانسٹیبل شہید ہوگیا،کرک میں ٹیری کے علاقے شیخان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے کانسٹیبل شہید ہوگیا، جبکہ پولیو ورکر زخمی ہوا۔

    یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاکستان بھر میں انسداد پولیو مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس مہم کا مقصد ملک بھر میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے اور لاکھوں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس مہم کے تحت، تمام صوبوں میں پولیو ورکرز گھروں، اسکولوں اور دیگر عوامی مقامات پر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے دیں گے۔پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے گزشتہ کئی سالوں سے کوششیں جاری ہیں، لیکن اس دوران پولیو ورکرز کو مختلف علاقوں میں دہشت گردوں، مسلح گروپوں اور مخالفین کی طرف سے خطرات کا سامنا رہا ہے۔ اس نوعیت کے حملے پولیو مہم کی کامیابی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔پولیو ورکرز اور مہم میں شریک دیگر افراد کی حفاظت ہمیشہ ایک سنگین مسئلہ رہا ہے، اور اس واقعے نے اس بات کو مزید اجاگر کیا ہے کہ انسداد پولیو مہم کے دوران ورکرز کو زیادہ تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ مقامی انتظامیہ اور پولیس حکام نے کہا ہے کہ وہ پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بنوں کے شہریوں اور پولیو ورکرز کے نمائندوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مقامی رہنماؤں نے اس واقعے کو علاقے کی سلامتی کے لیے ایک بڑا دھچکہ قرار دیا ہے اور حکومت سے پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے۔

    یہ واقعہ نہ صرف بنوں بلکہ پورے ملک میں پولیو مہم پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔ پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اس قسم کے حملے ان کوششوں کو ناکام بنانے کی کوششیں ہیں۔ اس وقت حکومت اور مقامی اداروں کے لیے سب سے بڑی چیلنج پولیو ورکرز کی حفاظت اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے انجام دے سکیں۔

    خیبر پختونخوا میں پولیو ورکرز پر حملے، صدر مملکت،وزیراعظم کی مذمت
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخواہ کے ضلع کرک میں پولیو ورکرز پر حملے کی مذمت کی ہے،صدر مملکت نے حملے میں سکیورٹی اہلکار کی شہادت پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ دہشت گرد ملک و قوم کے مستقبل کے دشمن ہیں ، دہشت گرد پاکستان کے عوام کو صحت مند اور خوشحال نہیں دیکھنا چاہتے ، پاکستان کی عوام بڑھ چڑھ کر پولیو مہم میں حصہ لے، عوام سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں، صدر مملکت نے ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے تک کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا.

    پولیو ورکرز پر حملہ باعث تشویش ہے،وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں انسداد پولیو ٹیم پر دہشتگرد حملے، اور اس میں ایک پولیس اہلکار کی شہادت پر اظہار افسوس کیا ہے،وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ پولیو کو پاکستان سے ختم کرنے کے لئے ہماری سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی. قوم کو پولیو کے مرض سے پاک کرنے کے لیے سرگرم عمل پولیو ورکرز پر حملہ باعث تشویش ہےاس قسم کی کاروائیاں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں،حکومت ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے اور پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی.

    گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی نے کرک میں پولیو ٹیم پر حملے کی رپورٹ طلب کر لی،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ کرک میں پولیو ٹیم پر حملہ انتہائی افسوسناک ہے،حملے میں پولیس اہلکار کی شہادت پر دلی افسوس ہوا، زخمی پولیو ورکر کو ہر ممکن علاج کی فراہمی یقینی بنائی جائے،پولیو ورکرز پر حملہ پاکستان اور انسانیت دشمن قوتوں کی سازش ہے۔

    پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ کرک میں پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت کیلیےڈیوٹی پر مامور کانسٹیبل پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتی ہوں ،پولیو ٹیم پر حملے میں شہید پولیس اہلکار کی شہادت افسوسناک ہے ، پولیو ٹیمیں اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتی ہیں ،اس نیک مقصد کے دوران ان پولیو ٹیموں پر حملہ انہتائی شرمناک ہے ،کے پی حکومت حملے میں زخمی ہو نے والے پولیو ورکرز کو علاج کیلئے بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے، حملے میں شہید کانسٹیبل کے لیے بلندی درجات اور اہلخانہ کے لیے صبرو جمیل کی دعا کرتی ہوں،

  • راج کپور کی 100 ویں سالگرہ پشاور میں منائی گئی

    راج کپور کی 100 ویں سالگرہ پشاور میں منائی گئی

    پشاور: آنجہانی فلمسٹار، پروڈیوسر اور ڈائریکٹر راج کپور کی 100 ویں سالگرہ پشاور میں منائی گئی۔

    باغی ٹی وی:اس موقع پر کلچرل ہیریٹیج کونسل کے سیکریٹری شکیل وحیداللہ نے راج کپور کی سالگرہ کے موقع پر کیک کاٹا کونسل کے سیکریٹری کا کہنا تھا کہ راج کپور کی سالگرہ منانے کا مقصد پاکستان اور ہندوستان کے لوگوں کے مابین فاصلے کم کرنا ہےہماری تنظیم کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ اپنی تاریخ اور ہیریٹیج کے بچاؤ اور عوام میں آگاہی کےلیے کوئی نہ کوئی سرگرمی ہوتی رہے۔

    راج کپور 14 دسمبر 1924 کو پشاور کے علاقہ ڈھکی منور شاہ میں پیدا ہوئے تھے راج کپور کے والد پرتھوی راج کپور بھی معروف اداکار تھے لیجنڈری اداکار 1932 کو پشاور سے بمبئی (ممبئی) منتقل ہوئے راج کپور کی عمر تقریباً 10 سال تھی جب انھیں اپنی زندگی کی پہلی فلم ’’انقلاب‘‘ میں کام کرنے کا موقع ملا ،1990 میں راج کپور کے بیٹے رشی کپور اور رندھیر کپور جب فلم ’’حنا‘‘ بنا رہے تھے تو دونوں بھائی پشاور آئے تھے اور اپنی حویلی بھی گئے تھے اطلاعات کے مطابق رشی کپور پاکستان سے واپسی پر اپنے ساتھ گھر کی مٹی بھی ساتھ لے گئے تھے۔

  • علی امین گنڈاپور سے سابق سنیٹر محمد علی درانی  کی ملاقات

    علی امین گنڈاپور سے سابق سنیٹر محمد علی درانی کی ملاقات

    پشاور: خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور سے سابق وفاقی وزیر اور سابق سنیٹر محمد علی درانی نے ملاقات کی –

    باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور سے محمد علی درانی کی ملاقات کے موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف بھی موجود تھےملاقات میں ملک کے موجودہ سیاسی حالات اور سیاسی مفاہمتی عمل آگے بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر ملک کے سیاسی میدان میں مفاہمت کے عمل کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔

    درایں اثنا وزیراعلیٰ نے جماعت اسلامی کے سنئیر رہنما لیاقت بلوچ اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے مرکزی رہنما صفدر عباسی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ملک کی سیاسی صورت حال میں مفاہمت کے عمل کو موقع دینے اور اس سلسلے میں کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

  • پشاور ہائیکورٹ سے سلمان اکرم راجہ کو بھی ضمانت مل گئی

    پشاور ہائیکورٹ سے سلمان اکرم راجہ کو بھی ضمانت مل گئی

    پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ26 نومبر کو گرفتار افراد کو 9 مئی کے مقدمات میں بھی شامل کیا جا رہا ہے۔

    پشاور ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ ہم قانون اور آئین کی بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں، ایف آئی آر کا مقصد سیاسی نہیں ہونا چاہیے، ہم مذاکرات بھی کریں گے اور سیاسی سطح پر راستہ بھی نکالنا چاہتے ہیں،زخمی اور شہداء کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ نے سلمان اکرم راجہ کو ایک ماہ کی حفاظتی ضمانت دے دی،عدالت نے درج مقدمات میں سلمان اکرم راجہ کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا،درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ کے خلاف 8 ایف آئی آرز درج ہیں، 8 مقدمات میں راہداری ضمانت حاصل کر لی ہے، 8 مقدمات معلوم ہیں، باقی کا پتہ نہیں۔

  • پشاور ہائیکورٹ،اسد قیصر،صنم جاوید،شاندانہ گلزار و دیگر کی ضمانت منظور

    پشاور ہائیکورٹ،اسد قیصر،صنم جاوید،شاندانہ گلزار و دیگر کی ضمانت منظور

    پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی اور ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی اور صنم جاوید کو بھی ضمانت دے دی، تینوں کو 2 ہفتے تک کسی بھی کیس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا

    پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنماء سلمان اکرم راجہ، شاندانہ گلزار، ارباب شیر علی، ارباب عامر ایوب اور آصف خان کو 24 دسمبر تک ضمانت دیدی،پشاور ہائیکورٹ نے اسد قیصر کو تین مقدمات میں 31 دسمبر تک راہداری ضمانت دیدی، گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا

    اسلام آباد ڈی چوک کے مقدمات میں ایم این اے سہیل سلطان ایڈووکیٹ سمیت پاکستان تحریک انصاف کے دیگر ایم این ایز صاحبزادہ صبغت اللہ، شہریار آفریدی، جنید اکبر، محبوب شاہ، ساجد مہمند اور احسن جمال ضمانت 24 تاریخ تک منظور ہوگئی۔

    ڈی چوک احتجاج پر گرفتار14 سالہ بچے سمیت146 کارکنان کو جوڈیشل کردیاگیا،انسداد دہشتگری عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیس پر سماعت کی،10 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر 146 ورکرز عدالت میں پیش کرتے ہوئےملزمان کے 20 روزہ مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی جو عدالت نے مسترد کر دی

    پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب پانچ مقدمات میں عبوری ضمانتیں کرانے اسلام آباد کچہری پہنچ گئے،عمر ایوب کی 3 مقدمات میں عبوری ضمانت 21 دسمبر تک منظو ر کر لی گئی،سیشن عدالت نے دس دس ہزار روپے کے مچلکوں کی عوض ضمانت منظور کی

  • مالم جبہ کیس،عاطف خان کے وارنٹ گرفتاری معطل

    مالم جبہ کیس،عاطف خان کے وارنٹ گرفتاری معطل

    پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عاطف خان کے وارنٹ گرفتاری معطل کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ مالم جبہ اور فضل گارڈن کیس کے حوالے سے کیا گیا، جس میں عاطف خان کے خلاف اینٹی کرپشن کے مقدمات درج ہیں۔

    پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس وقار احمد کی سربراہی میں عاطف خان کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت عاطف خان کے وکیل نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ ان کے موکل کے خلاف بدنیتی پر مبنی کیس درج کیا گیا ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے جاری کیے گئے وارنٹ منفی مقاصد کے تحت ہیں۔وکیل درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عاطف خان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وارنٹ گرفتاری کو معطل کیا جائے۔عدالت نے درخواست پر غور کرتے ہوئے عاطف خان کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کا حکم دیا اور اینٹی کرپشن حکام کو ان کی گرفتاری سے روک دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ عاطف خان کے حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، اور تحقیقات کے دوران انہیں گرفتار کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ اینٹی کرپشن نے مالم جبہ اور فضل گارڈن کیس میں عاطف خان کے خلاف کارروائی شروع کی تھی اور انہیں کال آف نوٹس اور وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ ان الزامات کے تحت عاطف خان پر بدعنوانی اور سرکاری اراضی کی غیر قانونی خریداری کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔عدالت کی جانب سے وارنٹ گرفتاری معطل کیے جانے کے بعد عاطف خان کے وکیل نے کہا کہ یہ فیصلہ انصاف پر مبنی ہے اور ان کے موکل پر عائد الزامات بے بنیاد ہیں۔ اس فیصلے کے بعد عاطف خان اور ان کے حامیوں نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔

    خیبر پختونخوا حکومت، پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کو دوسرے کیس میں نوٹس جاری

    عاطف خان کی طلبی، پی ٹی آئی میں اختلافات

    اینٹی کرپشن میں طلبی،عاطف خان بولے،اب کھل کو بولوں گا

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

  • جمرود: سرکاری سکول ٹیچر کے قتل پر احتجاج، پاک افغان شاہراہ بند

    جمرود: سرکاری سکول ٹیچر کے قتل پر احتجاج، پاک افغان شاہراہ بند

    جمرود (باغی ٹی وی رپورٹ)جمرود میں مقتول سرکاری سکول ٹیچر روح الامین کو انصاف دلانے کے لیے شاہ کس لیوی سنٹر اور ڈی پی او خیبر کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں سیاسی و غیر سیاسی افراد، اساتذہ، اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے پاک افغان شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ مظاہرین نے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور مقتول کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی کے مطالبات کیے۔

    مقتول ٹیچر روح الامین، جو کوکی خیل قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، کو چند دن قبل تحصیل باڑہ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ مظاہرین نے پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی عدم فعالیت پر شدید تنقید کی، اور سوال اٹھایا کہ عوام کی حفاظت کون کرے گا، اگر پولیس اور سیکیورٹی اہلکار اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کرتے۔

    ڈی پی او خیبر نے مظاہرین سے مذاکرات کے بعد ان کے مطالبات تسلیم کیے، جن میں 20 دن کے اندر قاتلوں کی گرفتاری، مقتول کے لواحقین کو شہداء پیکج کی فراہمی، ایک سرکاری نوکری، اور ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنا شامل ہیں۔ مظاہرین نے ان مطالبات کی منظوری کو زبانی قرار دیتے ہوئے عملی اقدامات پر زور دیا۔

    جمرود سیاسی اتحاد کے صدر ملک واحد شاہ نے مظاہرے میں جمرود کے مشران اور دیگر جماعتوں کی عدم شرکت پر افسوس کا اظہار کیا اور اسے مقتول کے خاندان کے ساتھ ناانصافی قرار دیا۔ مظاہرین نے انصاف کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

  • خواہش ہے عمران خان کو خیبرپختونخوا منتقل کیا جائے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    خواہش ہے عمران خان کو خیبرپختونخوا منتقل کیا جائے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہماری خواہش ہے کہ عمران خان کو خیبرپختونخوا منتقل کیا جائے اور ان کی رہائی جلد ممکن ہو۔

    پشاور میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کے حوالے سے جو باتیں کی جا رہی ہیں، وہ غیر مناسب ہیں اور اس پر ہمیں کسی صورت بھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔و لوگ پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی باتیں کر رہے ہیں، وہ اپنی حد میں رہیں۔ ہم سول نافرمانی کی تحریک پر ابھی فیصلہ نہیں کر پائے ہیں، اس پر بات چیت عمران خان سے ملاقات کے بعد کی جائے گی۔”میں کسی ایسی عورت کو وہ ماں ماننے کیلئے تیار نہیں ہوں جس کے پاؤں کے نیچے جنت ہے جو کرپشن کو پروموٹ کرتی ہے.

    نومبر کے آخری ہفتے میں تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران بشریٰ بی بی کو اکیلے چھوڑ جانے کے حوالے سے سوال پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا، "اس سوال کا جواب بشریٰ بی بی خود دے سکتی ہیں۔”

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے انسداد بدعنوانی کے حوالے سے نشتر ہال پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیب پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ "نیب پر اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں اور اس کا کردار کرپشن کے خاتمے کے بجائے کرپشن کو پروموٹ کرنے کا بن چکا ہے۔ نیب کا کردار صرف انتقامی کارروائیوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔”ہم نے ابھی تک اپنے اندر سے احتساب شروع نہیں کیا۔ جب ہم کرپشن کو بُرا ماننا شروع کریں گے تو ہی کرپشن کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے کرپشن کے خاتمے کے لیے ایک نظام بنانے کی بات کی تھی، مگر اس کے باوجود کرپشن کے مسائل حل نہیں ہو پائے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا وپر نے ملک کے مختلف اداروں میں کرپشن کے معاملات کو سامنے لاتے ہوئے کہا کہ "تھانوں میں رشوت چلتی ہے، پٹواری پیسے لیتا ہے اور لوگوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ اگر 8 کروڑ روپے جمع کروا دیے جائیں تو جیل جانے سے بچا جا سکتا ہے۔”

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کرپشن معاشرتی سطح پر گہرا اثر ڈال رہی ہے اور اس کا خاتمہ ممکن نہیں ہو رہا۔ "ہم سب کا اس کا حصہ بننا ایک المیہ ہے۔ اتنے سال گزرنے کے باوجود کرپشن کا خاتمہ نہیں ہو سکا، مگر حکومت نے آئندہ کے لیے اقدامات کیے ہیں اور 44 فیصد ریونیو بڑھایا ہے۔”علی امین گنڈاپور نے حکومت کی جانب سے کرپشن کے خلاف عملی اقدامات کے بارے میں کہا کہ "ہم اس نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لیے حکومتی سطح پر کام جاری ہے۔”

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 7ملزمان کیخلاف مقدمات درج

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 13 ملزمان کیخلاف مقدمات

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

  • دینی مدارس میں سرکار کی مداخلت نہیں مانتے،مولانا فضل الرحمان

    دینی مدارس میں سرکار کی مداخلت نہیں مانتے،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ دینی مدارس کے بل پر دستخط نہ کرنا بدنیتی پر مبنی ہے، ہم مدارس کا ایک اجلاس بلا رہے ہیں، جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائےگا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پشاور میں ’اسرائیل مردہ باد‘ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کارکنوں سے وعدہ لیا کہ اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دینے کی صورت میں وہ تیار رہیں۔ ہم موجودہ حکومتوں کو تسلیم نہیں کرتے، کیونکہ یہ اسٹیبلشمنٹ کی حکومتیں ہیں، ہم نے اگر اسلام آباد کی جانب بڑھنے کا فیصلہ کرلیا تو کوئی ہمیں روک نہیں سکے گا۔ حکومت 56 شقوں پر مشتمل جو آئینی ترمیم پاس کرنا چاہتی تھی اگر وہ پاس ہوجاتی تو نہ ملک بچتا اور نہ ادارے بچتے، لیکن ہم نے مشاورت کے ذریعے حکومت کو 34 شقوں سے دستبردار کرایا، اور پھر کچھ شقیں اپنی بھی شامل کیں جو سود اور وفاقی شرعی عدالت سے متعلق ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس کے علاوہ مدارس کے حوالے سے ایک بل جو پہلے سے تیار تھا، اس پر حکومت سے اتفاق رائے ہوگیا، اور وہ دونوں ایوانوں سے پاس بھی ہوا لیکن صدر نے اس پر دستخط نہیں کیے۔مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ آپ جانتے ہیں کہ ہم دینی مدارس میں سرکار کی مداخلت نہیں مانتے، مدارس آزاد حیثیت سے کام کریں گے۔انہوں نے کہاکہ مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر ڈائریکٹوریٹ بنانے کا جو فیصلہ ہوا یہ معاہدے میں کہیں موجود نہیں تھا۔سربراہ جے یو آئی نے کہاکہ ایک جرنیل جس شناختی کارڈ کی بنیاد پر پاکستانی ہے میں اور میرا کارکن بھی اسی کی بنیاد پر پاکستانی ہیں، ہم ملک کی بقا اور تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں نے ہمیشہ پاکستان کے نظریے کا انکار کیا، پاکستان ہمارے کچھ سرکاری محکموں کا نام نہیں، یہ ریاست عوام کی بنیاد پر ریاست کہلاتی ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ مولوی صاحبان تھک جائیں گے تو یہ ان کی بھول ہے، ہم جدوجہد جاری رکھیں گے اور یہ جنگ ہم ہی جیتیں گے۔انہوں نے کہاکہ فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے لیکن مغربی دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، ان کو اب انسانی حقوق کی بات کرنے کا کوئی حق نہیں۔انہوں نے کہاکہ اسرائیل فلسطینی مجاہدین کا مقابلہ نہیں کرسکتا، وہ معصوم اور بے بس مسلمانوں پر بمباری کررہا ہے، اس صورت حال میں ہم فلسطینی بھائیوں کے شانہ بشانہ ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ حکمرانو زرا سوچو مودی تو ڈٹ کر کہتا ہے کہ ہم اسرائیل کے ساتھ ہیں، آپ کو فلسطینیوں کے حق میں کھل کر کھڑے ہونے کی جرات کیوں نہیں ہورہی۔

    عمران خان نے حکومت سے مذاکرات کیلیے کمیٹی بنا دی

    کچے کے ڈاکوؤں کو اسلحہ فراہم کرنے والے 5 ملزمان گرفتار

    شوہر نے دوسری بیوی کے ساتھ مل کر پہلی کو قتل کردیا

    گورنر سندھ سے اٹلی کی سفیراور وزارت دفاع کے مشیرکی ملاقات

  • خیبر: تنظیم اساتذہ کا اجلاس، اساتذہ کے تحفظ اور شہید روح الامین کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ

    خیبر: تنظیم اساتذہ کا اجلاس، اساتذہ کے تحفظ اور شہید روح الامین کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ

    خیبر (باغی ٹی وی رپورٹ) تنظیم اساتذہ ضلع خیبر کی پریس ریلزکے مطابق تنظیم اساتذہ نے حکومت سے اساتذہ کے تحفظ کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے اور شہید استاد روح الامین کے قاتلوں کی گرفتاری کی درخواست کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے شہید کے لیے شہداء پیکج کا اعلان کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    تنظیم اساتذہ ضلع خیبر کا ایک اہم اجلاس تنظیم منزل جمرود میں منعقد ہوا، جس کی صدارت ضلعی صدر شریف اللہ آفریدی نے کی۔ اجلاس میں اساتذہ کے تحفظ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ضلع نے کہا کہ حکومت اساتذہ کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے لیے حفاظتی تدابیر نہ ہونے کی وجہ سے تدریس کا عمل متاثر ہونے کا خطرہ ہے، جس کا اثر طلبہ کی تعلیم پر بھی پڑ سکتا ہے۔

    اس موقع پر تنظیم اساتذہ ضلع خیبر کی سالانہ کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ رپورٹ میں اس بات کا ذکر کیا گیا کہ تنظیم نے گزشتہ سال اساتذہ اور طلبا کی خدمت اور تربیت کے لیے بہترین اقدامات کیے اور اس سلسلے کو آئندہ سال بھی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ اساتذہ کی فلاح و بہبود اور تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

    اجلاس کے آخر میں استاد شہید روح الامین کی مغفرت اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ اس موقع پر تنظیم کے ذمہ داران نے ایک آواز ہو کر حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اساتذہ کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے اور شہید روح الامین کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔