Baaghi TV

Category: پشاور

  • خیبر: تنظیم اساتذہ کا اجلاس، اساتذہ کے تحفظ اور شہید روح الامین کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ

    خیبر: تنظیم اساتذہ کا اجلاس، اساتذہ کے تحفظ اور شہید روح الامین کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ

    خیبر (باغی ٹی وی رپورٹ) تنظیم اساتذہ ضلع خیبر کی پریس ریلزکے مطابق تنظیم اساتذہ نے حکومت سے اساتذہ کے تحفظ کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے اور شہید استاد روح الامین کے قاتلوں کی گرفتاری کی درخواست کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے شہید کے لیے شہداء پیکج کا اعلان کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    تنظیم اساتذہ ضلع خیبر کا ایک اہم اجلاس تنظیم منزل جمرود میں منعقد ہوا، جس کی صدارت ضلعی صدر شریف اللہ آفریدی نے کی۔ اجلاس میں اساتذہ کے تحفظ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ضلع نے کہا کہ حکومت اساتذہ کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے لیے حفاظتی تدابیر نہ ہونے کی وجہ سے تدریس کا عمل متاثر ہونے کا خطرہ ہے، جس کا اثر طلبہ کی تعلیم پر بھی پڑ سکتا ہے۔

    اس موقع پر تنظیم اساتذہ ضلع خیبر کی سالانہ کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ رپورٹ میں اس بات کا ذکر کیا گیا کہ تنظیم نے گزشتہ سال اساتذہ اور طلبا کی خدمت اور تربیت کے لیے بہترین اقدامات کیے اور اس سلسلے کو آئندہ سال بھی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ اساتذہ کی فلاح و بہبود اور تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

    اجلاس کے آخر میں استاد شہید روح الامین کی مغفرت اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ اس موقع پر تنظیم کے ذمہ داران نے ایک آواز ہو کر حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اساتذہ کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے اور شہید روح الامین کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

  • مدارس رجسٹریشن ،کل لائحہ عمل دیں گے،مولانا فضل الرحمان

    مدارس رجسٹریشن ،کل لائحہ عمل دیں گے،مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر حکومت مدارس رجسٹریشن پر سیدھی نہیں ہوتی تو کل لائحہ عمل دیں گے،

    نوشہرہ میں‌مولانا فضل الرحمان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سے اتفاق ہوا تھا کہ مدارس جس صوبے میں چاہیں رجسٹر ہو سکتے ہیں، اب ایوان صدر سے اعتراض آ رہے ہیں، آصف زرداری خود لاہور اجلاس میں موجود تھے جب بلاول کے ساتھ اس پر اتفاق ہوا تھا،اب ان کے اعتراض کو میں ہاتھ لگانا تو کیا چمٹے سے بھی پکڑنے کو تیار نہیں ہوں ،میرے مدرسے کا طالب علم کالج یونیورسٹی کے نصاب کا امتحان دیتا ہے، اسکی شرح نکالی جائے کہ ہمارا کتنا نوجوان عصری علوم حاصل کر رہا ہے، ہماری شرح بہت زیادہ ہے، اگر بیٹے کے لئے انگریزی پڑھانا مفید سمجھتا ہوں تو امت کے بچوں کے لئے کیوں مفید نہیں سمجھوں گا، کیا دارالعلوم دیوبند نے عصری علوم کا کبھی انکار کیا، تاریخ بھی تو پڑھیے گا، مدرسہ کیوں وجود میں آیا، جو مدرسہ برصغیر میں ہے وہ 1857 سے پہلے کیوں برصغیر میں نہ تھا، اس پر سوچنا چاہیے، اسلام ،علما ہر جگہ ہیں، آج بھی کہنا چاہتا ہوں میری بیوروکریسی جتنی بھی خوش نما، خوبصورت اور معصوم الفاظ میں ہمدردی کے الفاظ استعمال کریں کہ مدارس کو مین سٹریم میں لانا چاہتے ہیں، فضلا کو روزگار دلانا چاہتے ہیں ،یہ وہ زہر ہیں جو آپ ہمیں دینا چاہ رہے، ہمیں آپ پر کوئی اعتماد نہیں، یہ الیکشن دھاندلی کا الیکشن ہے اور یہ حکومت قانونی اور آئینی نہیں ہے، بس ایک زبردستی والی حکومت ہے، اگر خیبرپختونخوا میں کوئی تبدیلی آئےگی تو ہم اس کا حصہ نہیں ہونگے،مدارس کو رجسٹرڈ کروانا چاہتے ہیں لیکن ریاست سے تصادم نہیں چاہتے ،دینی مدارس کو حکومت کے اثرورسوخ سے آزاد رکھنا چاہتے ہیں ،

    جے یو آئی کی 8 دسمبر کے بعد اسلام آباد کا رخ کرنے کی دھمکی،وزیراعظم کا مولانا سے رابطہ

    مولانا سے بلاول کی ملاقات،ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

    پاکستان کے فیصلے ٹرمپ نہیں کرے گا،مولانا فضل الرحمان

    ہم اس ملک میں غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان

  • میں بشریٰ بی بی کے ساتھ” فل ٹائم” تھا،علی امین گنڈا پور

    میں بشریٰ بی بی کے ساتھ” فل ٹائم” تھا،علی امین گنڈا پور

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ میں بشریٰ بی بی کے ساتھ فل ٹائم تھا،آخر تک تھااور ان کو وہاں سے لے کر آنا، سب کچھ میں نے کیا، اب اُس کے علاوہ کسی اور کے بارے میں ان کی کوئی رائے ہے، تو وہ ان کی ذاتی رائے ہے،وہی جواب دے سکتی ہیں

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ہماری تو تاریخ ہے پانی پت پر کتنے حملے ہوئے تھے ابھی تو ہم نے پانچ کئے ہیں ابھی تو بہت رہتے ہیں انشااللہ فتح کریں گے اسطرح نہیں مانیں گے تو فتح کرکے دکھائیں گے، پانی پت کے برابر آ چکے ،سومنات کی طرف بڑھیں گے،ہم مذاکرات کرنے کی بات ملک کے لئے کر رہے ہیں، آئین نے ہمیں احتجاج کا حق دیا ہے، مذاکرات کرنے ہیں تو کر لیں،نہیں کرنے تو بھی ہم احتجاج کر رہے ہیں،ایک ایسا شخص، جس کی پارٹی نے بلوچستان اور سندھ میں ہماری پارٹی پر پابندی کی قراردادیں منظور کروائیں، اور گولیاں چلانے کے احکامات دینے میں بھی ان کی پارٹی شامل تھی، میں ایسے شخص کی اے پی سی میں جاؤں گا ،ایسا نہیں ہو سکتا، ایسی پارٹی اپنے آپ کو جمہوری کہتی ہے،یہ فارغ ہے، کوٹ ،ٹائی پہنے اور فوٹو نکلوائے بس،جتنی سختی کر لیں ہم اب بہت آگے بڑھ چکے ہیں.اس پیپلز پارٹی نے 1977 میں لاہور کے اندر وہی بھٹو، جسے ہم شہید کہتے ہیں، کرسی کے لیے لوگوں کو مروایا، ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ ن نے جو کیا، وہ بھی سب کے سامنے ہے اوران انہوں نے مل کر جو حرکت کی ہے، اس کا حساب لیا جائے گا،یہ نفرت پیدا کروا رہے ہیں،کیا چاہتے ہیں کہ لوگ اپنا حق نہ مانگیں، مینڈیٹ چور ہیں یہ غیر آئینی اقدامات کر رہے ہیں،

    قبل ازیں گومل میڈیکل کالج کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ملک کو ایسی قیادت دیں جو اس ملک کو عظیم بنائے، دور دراز علاقوں میں ہیلتھ یونٹ کو فعال بنائیں گے، امن و امان کی صورتِ حال اور دور ہونے سے لوگ ڈیوٹی کرنے نہیں جاتے،جن لوگوں نے تاریخ رقم کی انہوں نے کچھ غیر معمولی کام کیا، آپ بھی وہی لوگ بنیں اور پسماندہ علاقوں میں جا کر خدمت کریں،مجھے خوشی ہے کہ چانسلر کی حیثیت سے موجود ہوں، اگر آپ کا ماضی ٹھیک نہیں ہے تو آپ اپنے حال کو ٹھیک کر لیں، جب دماغ سے سوچیں گے تو تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔

    ڈی چوک سے کون بھاگا؟ بشریٰ یا پی ٹی آئی قیادت

    عدالت پیش نہ ہونیوالی بشریٰ بی بی ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک

    رقص و سرور کی محفل،بیٹے موسیٰ اور سابق شوہر خاورمانیکا کو بشریٰ بی بی کب "تبلیغ” کریں گی

    بشریٰ بارے انٹرویو، مشال یوسف زئی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    بشریٰ بی بی کی سیاسی انٹری نئی نہیں،عمران خان کی بہن پھٹ پڑی

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

  • صوابی میں گولیاں چل گئیں، میاں بیوی سمیت 3 قتل

    صوابی میں گولیاں چل گئیں، میاں بیوی سمیت 3 قتل

    صوابی کی تحصیل ٹوپی کے علاقے ڈھیرو لار گدون میں فائرنگ کے ایک دردناک واقعے میں تین افراد جاں بحق جبکہ ایک بچی زخمی ہوگئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حملہ پرانی دشمنی کے سبب کیا گیا۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ 7 دسمبر 2024 کو صبح کے وقت پیش آیا۔

    پولیس حکام کے مطابق ملزمان نے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس میں گاڑی کے اندر سوار افراد شدید زخمی ہوگئے۔ گاڑی کا رخ ڈھیرو لار گدون کے علاقے کی طرف تھا، جہاں ملزمان نے فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں سوار تین افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ہلاک ہونے والوں میں ایک مرد اور ایک خاتون شامل ہیں جو میاں بیوی تھے، جبکہ ان کے ساتھ موجود ایک قریبی رشتہ دار بھی اس فائرنگ کی زد میں آ کر جاں بحق ہوگیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کی زد میں آنے والی بچی، جو تقریباً 8 سے 9 سال کی عمر کی ہے، شدید زخمی ہوگئی، تاہم وہ زندہ بچ گئی ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ زخمی بچی کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی طبی امداد کی جا رہی ہے۔

    پولیس نے فوراً موقع پر پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کردیا۔ پولیس حکام کے مطابق ابتدائی طور پر یہ واقعہ پرانی دشمنی کا شاخسانہ لگتا ہے، کیونکہ علاقے میں ماضی میں دونوں فریقوں کے درمیان دشمنی رہی ہے۔ اس سلسلے میں پولیس نے مختلف زاویوں سے تفتیش شروع کر دی ہے اور علاقے کی ناکہ بندی کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔صوابی پولیس کے ڈی ایس پی نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمی بچی اور جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں کو ٹوپی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھا کیے جا رہے ہیں تاکہ اس دہشت گردانہ حملے کے ملزمان تک پہنچا جا سکے۔

    ذرائع کے مطابق اس واقعے کا تعلق ممکنہ طور پر دونوں فریقوں کے مابین ایک طویل عرصے سے چلتی آرہی دشمنی سے ہے، جو مختلف چھوٹے بڑے تنازعات کی شکل میں کئی مرتبہ سامنے آ چکی تھی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ حملہ کسی انتقامی کارروائی کا نتیجہ ہو سکتا ہے، جس میں ملزمان نے اپنی پرانی دشمنی کے بدلے فائرنگ کی۔صوابی کے اس علاقے میں اس طرح کے واقعات ایک سنجیدہ مسئلہ بنتے جا رہے ہیں، خاص طور پر جب یہ دشمنیاں مسلسل بگڑتی جارہی ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ اس واقعے کے بعد سیکیورٹی کے مزید اقدامات کیے جائیں گے اور علاقے میں گشت کو بڑھایا جائے گا تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

    صوابی کے ضلعی انتظامیہ نے اس واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت کی ہے۔ ضلعی پولیس افسران نے ایک پریس کانفرنس میں عوام کو یقین دلایا کہ اس واقعے کی تحقیقات کو تیز کیا جائے گا اور ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔صوابی کے عوام نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کیا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس علاقے میں پرانی دشمنیاں اور تنازعات پہلے بھی دیکھنے کو ملے ہیں، لیکن اس نوعیت کی فائرنگ نے عوام میں خوف اور بے چینی کو بڑھا دیا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور پولیس اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید سخت اقدامات کریں تاکہ ایسے المیے کی دوبارہ تکرار نہ ہو۔

  • لنڈی کوتل:ایس پی ایل کا اختتام، ایم ڈی کے کرکٹ کلب نے ٹرافی جیت لی

    لنڈی کوتل:ایس پی ایل کا اختتام، ایم ڈی کے کرکٹ کلب نے ٹرافی جیت لی

    لنڈی کوتل( باغی ٹی وی رپورٹ)ایس پی ایل کا اختتام، ایم ڈی کے کرکٹ کلب نے ٹرافی جیت لی

    تفصیل کے مطابق وی سی 3 ریلوے اسٹیشن کرکٹ گراؤنڈ پر اسٹیشن پریمیئر لیگ (SPL) کے سنسنی خیز مقابلوں کا اختتام ہوا، جس کے فائنل میں ایم ڈی کے کرکٹ کلب نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیراہ زلمی کرکٹ کلب کو شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کر لی۔

    فائنل میچ میں تیراہ زلمی نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ایم ڈی کے کلب کو ایک معتدل ہدف دیا، جسے ایم ڈی کے کلب نے باآسانی حاصل کر کے فتح حاصل کی۔

    تقریب کے مہمان خصوصی تحصیل چیئرمین شاہ خالد شینواری تھے جبکہ طورخم کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر مجیب شینواری، کابینہ ممبران، تحصیل کونسل ممبران، عمائدین علاقہ، اور کثیر تعداد میں شائقین نے شرکت کی۔

    مہمان خصوصی نے فاتح ٹیم کو موٹر سائیکل اور نقد انعام سے نوازا جبکہ رنر اپ ٹیم کو کیش انعام دیا گیا۔ مین آف دی میچ اور مین آف دی ٹورنامنٹ کو بھی خصوصی نقد انعامات پیش کیے گئے۔ شاہ خالد شینواری نے پچاس ہزار روپے نقد انعام کا اعلان کیا جبکہ مجیب شینواری نے مزید 20 ہزار روپے دیے۔

    ٹورنامنٹ آرگنائزر شاہ فہد شینواری نے تمام مہمانوں، اسپانسر ضیاء الدین شینواری، اور ڈے نائٹ ہوٹل کے مالک کا شکریہ ادا کیا اور ٹورنامنٹ کی کامیابی پر مسرت کا اظہار کیا۔

    ایس پی ایل کے اس ایونٹ نے کرکٹ کے شائقین کو سنسنی خیز لمحات فراہم کیے اور کھیل کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

  • خیبر پختونخوا اسمبلی نے ‘خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ترمیمی بل 2024’ منظور کر لیا

    پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی نے ‘خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ترمیمی بل 2024’ کو منظور کر لیا ہے۔ اس بل کو خیبر پختونخوا کی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، مینا خان نے ایوان میں پیش کیا، جسے تمام ارکان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ترمیمی بل 2024 کے تحت، صوبے کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے چانسلر کی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے پاس ہوگی۔ اس سے قبل مختلف یونیورسٹیوں کے چانسلر مختلف افراد تھے لیکن اب یہ اختیار وزیراعلیٰ کے پاس منتقل کر دیا گیا ہے۔ وائس چانسلرز کی تقرری کا اختیار بھی وزیراعلیٰ کے پاس ہوگا۔ وائس چانسلر کے عہدے کے لیے، وزیراعلیٰ کو اکیڈیمک سرچ کمیٹی سے تین نام موصول ہوں گے، جن میں سے کسی ایک کو وائس چانسلر مقرر کیا جائے گا۔

    نئے ترمیمی بل کے مطابق وائس چانسلر کی مدت ملازمت کو چار سال تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اس مدت کا جائزہ حکومت کی تشکیل کردہ مانیٹرنگ کمیٹی لے گی، جو وائس چانسلر کی کارکردگی کا تفصیلی تجزیہ کرے گی۔ اگر کسی وائس چانسلر کی کارکردگی 65 فیصد سے کم ہو تو ان کی مدت ملازمت ختم کی جا سکتی ہے۔اس بل کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ خواتین یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر کے عہدے کے لیے صرف خواتین ہی اہل ہوں گی۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کی تعلیم اور قیادت کو فروغ دینا ہے۔

    اس ترمیمی بل کو منظور کر کے صوبے میں تعلیمی نظام میں بہتری لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سے نہ صرف یونیورسٹیوں کی انتظامیہ میں شفافیت آئے گی بلکہ یونیورسٹیوں کی کارکردگی کو بھی بہتر بنانے کی توقع ہے۔ خواتین کی قیادت کے حوالے سے یہ بل ایک تاریخی قدم ہے، جو نہ صرف تعلیم کے شعبے میں خواتین کی موجودگی کو بڑھائے گا بلکہ معاشرتی سطح پر بھی ایک مثبت پیغام دے گا۔خیبر پختونخوا حکومت نے اس بل کے ذریعے تعلیمی اداروں میں اصلاحات لانے کی عزم کو مزید مستحکم کیا ہے اور اسے صوبے کی تعلیمی ترقی میں سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

  • انٹرنیٹ سست روی،پشاور ہائیکورٹ نے کیا جواب طلب

    انٹرنیٹ سست روی،پشاور ہائیکورٹ نے کیا جواب طلب

    پشاور ہائیکورٹ نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس کی سست روی پر وزارت داخلہ اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) سے جواب طلب کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک درخواست کی سماعت کے دوران کیا گیا، جس میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری کے باعث عوام کو درپیش مشکلات اور اس کے اقتصادی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ میں جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات میاں خیل شامل تھے، جنہوں نے اس درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملک میں انٹرنیٹ کی سست رفتار سے عوام کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ کی سست روی کے باعث ملک کی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، اور اس کا اثر ملک کے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) پر بھی پڑ رہا ہے۔

    وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ اکثر احتجاج یا کسی سیاسی معاملے کے دوران حکومت انٹرنیٹ سروس کو جان بوجھ کر سست کر دیتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت انٹرنیٹ کی سست روی کو تسلیم کرتی ہے اور بعض اوقات ایسے اقدامات کو عوامی تحفظ کے لیے ضروری قرار دیتی ہے، لیکن اس کے باوجود انٹرنیٹ کی اس سست رفتاری سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    اس پر جسٹس وقار احمد نے سوال کیا کہ "آپ کا مطلب ہے کہ حکومت انٹرنیٹ کی سست رفتاری کو تسلیم نہیں کر رہی؟” جس پر وکیل نے جواب دیا کہ "جی ہاں، حکومت اکثر اوقات انٹرنیٹ سروس کو مخصوص حالات میں سست کرتی ہے، اور یہ پہلے سے عوام کو بتایا بھی جاتا ہے۔”

    عدالت نے اس معاملے کی مزید تفصیل جاننے کے لیے وزارت داخلہ اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو آئندہ سماعت تک انٹرنیٹ کی سست رفتار کے حوالے سے جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے اس اہم مسئلے پر مزید تحقیقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت کا وقت مقرر کردیا۔

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • گورنر ہاؤس پشاور میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جاری

    گورنر ہاؤس پشاور میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جاری

    پشاور: گورنر ہاؤس پشاور میں گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی کی زیر صدرارت منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : 1. صوبہ کی سیاسی قیادت صوبہ میں امن و امان کی خوفناک حد تک بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتی ہے جاری سال گزشتہ سال کی نسبت زیادہ خونریزی کا شکار رہا گزشتہ مہینہ 70 سے زیادہ سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت ہوئی کرم میں فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں 200 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں مرکزی اور صوبائی حکومت امن و امان کی صورتحال میں ناکام دکھائی دے رہی ہیں-

    2. یہ اجلاس صوبہ کی مالی اور سیاسی صورتحال اور صوبے کے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی پر سیاسی کمیٹی اور ٹیکنیکل کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کرتا ہے-

    3. ساتویں این ایف سی ایوارڈ تقریبا گزشتہ دو ڈھائی سال سے غیر موثر ہو چکا ہے لہذا فوری طور پر گیارواں این ایف سی ایوارڈ جاری کیا جائے این ایف سی ایوارڈ میں سابقہ فاٹا کے لیے مختص تین فیصد رقم گزشتہ پانچ سالوں میں ریلیز نہیں کی گئی فاٹا کے لیے مختص واجب الادا تین فیصد رقم سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کے مطابق جاری کیے جائیں اور سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر من و عمل کیا جائے نئے این ایف سی ایوارڈ صوبہ کی مردم شماری کے مطابق کی جائے اور فارمولا میں فارسٹ اور ماحولیات کو شامل کیا جائے-

    4. یہ فورم متفقہ طور پر اس تاریخی حقیقت کا اعادہ کرتا ہے کہ صوبے میں پائی جانے والی مائز اینڈ منرلز صوبوں کی عوام کی ملکیت اور انے والی نسلوں کی امانت ہے اور مطالبہ کرتے ہیں کہ صوبہ بھر میں دی گئی لیز اس کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں-

    5. پاک افغان بارڈر کے تمام تاریخی تجارتی راستوں کو ہر قسم کی تجارت کے لیے فوری طور پر کھول دیا جائے-

    6. وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 158 کے مطابق صوبے کی عوام کو ترجیحی بنیادوں پر گیس کی فراہمی یقینی بنائیں اور آئین کے آرٹیکل 161 کے مطابق این ایچ پی اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی آن آئل صوبے کو ادا کریں-

    7. مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس آئینی مدت کے مطابق باقاعدگی سے بلایا جائے –

    8. صوبائی حکومت پی ایف سی کی تشکیل کر کے باقاعدگی کے ساتھ ایوارڈ کا اجراء کرے-

    9. موثر بلدیاتی نظام اور بلدیاتی نمائندوں کو لوکل گورنمنٹ کے مطابق بلا تفریق فنڈ جاری کیے جائیں-

    10. صوبائی حکومت سے آئی ڈی سی جو دو فیصد لاگو کیا گیا ہے وہ افغان تجارت کو متاثر کر رہی ہے اس کو واپس لیا جائے-

    11. آبی وسائل میں صوبے کا جو حصہ 1991 ڈبلیو اے اے میں پیرا دو ، چار اور 10 کے مطابق بنتا ہے مرکز صوبے کو اس کے لیے انفراسٹرکچر فراہم کرے جس طرح باقی صوبوں کو مرکز نے فراہم کیا ہے –

    12. تمام قبائلی اضلاع میں آپریشنوں سے ہونے والے تمام آئی ڈی پیز کو باعزت اور وعدوں کے مطابق واپس اپنے علاقوں کو بھیج دیا جائے-

    13. صوبہ خیبر کے پرامن پشتونوں کو دوسرے صوبوں اورمرکز اسلام آباد میں بیجا تنگ نہ کیا جائے –

    14. صوبائی حکومت کی کارکردگی کی پرفارمنس آڈٹ کی جائے-

    خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  • خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے گورنر ہاؤس میں آل پارٹیز کانفرنس

    خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے گورنر ہاؤس میں آل پارٹیز کانفرنس

    خیبرپختونخوا میں قیام امن، صوبائی حقوق کے حصول اور درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کے لیے آل پارٹی کانفرنس گورنر ہاوس پشاور میں جاری ہے

    کانفرنس کی صدارت و میزبانی گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کر رہے ہیں۔کانفرنس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما شریک ہیں جن میں آفتاب شیر پاؤ، میاں افتخار حسین، انجنیئر امیر مقام، مولانا لطف الرحمان، پروفیسر ابراہیم، محمد علی شاہ باچا، محسن داوڑ، سکندر شیر پاؤسمیت دیگر قائدین شامل ہیں۔۔افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کل جماعتی کانفرنس کا مقصد صوبے میں امن و امان اور اس کے وسائل کے بارے بات چیت کرنی ہے۔ صوبے کو بد امنی نے اپنے لپٹ میں لے رکھا ہے۔صوبائی حکومت کو کل جماعتی کانفرنس بلانی چاہیے تھی۔مجبور ہو کر ہم نے یہ اقدام اٹھایا۔ چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں مسائل کے حل کیلئے اپنی تجاویز   پیش کر سکیں ۔گورنر نے کہا جنوبی اضلاع اور کرم کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔انھوں نےُ کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے تجاویز پر غور کیا جائے گا اور آخر میں ایک اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس صوبے میں امن و استحکام اور سیاسی یکجہتی میں معاون ثابت ہوگی۔

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا خیبرپختونخوا میں حقیقی مسائل کے حل کی جانب پہلا قدم ہے۔ وزیر اعلیٰ کی غیرفعالیت اس کے برعکس عوام کے لیے مایوسی کا سبب بنی ہے،گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی قیادت نے صوبے میں امن و امان اور مسائل کے حل کے لیے ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس میں 16 سے زائد جماعتوں کو یکجا کرنا اتحاد کی جانب بڑا قدم ہے

    خیبر پختونخوا حکومت، پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کو دوسرے کیس میں نوٹس جاری

    عاطف خان کی طلبی، پی ٹی آئی میں اختلافات

    اینٹی کرپشن میں طلبی،عاطف خان بولے،اب کھل کو بولوں گا

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

  • گنڈاپور کا عاطف خان سے رابطہ،وزیراعلیٰ ہاؤس بلا لیا

    گنڈاپور کا عاطف خان سے رابطہ،وزیراعلیٰ ہاؤس بلا لیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں علی امین گنڈا پور اور عاطف خان کے درمیان اختلافات کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں ان اختلافات کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں، اسد قیصر اور شہرام ترکئی نے علی امین گنڈا پور کو عاطف خان سے رابطہ کرنے کے لیے قائل کیا۔ ان رہنماؤں کا خیال تھا کہ اگر یہ دونوں رہنما مل بیٹھ کر اپنے اختلافات حل کر لیں تو پارٹی کو فائدہ ہوگا اور اس کے اندرونی انتشار کو کم کیا جا سکے گا۔ علی امین گنڈا پور نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے اندرونی اختلافات کو حل کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ ان اختلافات کی وجہ سے تحریک انصاف کو نقصان ہو رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ علی امین گنڈا پور نے عاطف خان کو وزیر اعلیٰ ہاؤس آنے کی دعوت دی، جس پر عاطف خان نے اس دعوت کو قبول کر لیا اور جلد ہی ملاقات کے لیے وزیر اعلیٰ ہاؤس پہنچنے کی حامی بھری۔

    عاطف خان نے بھی علی امین گنڈا پور سے ٹیلیفونک رابطے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے درمیان بات چیت جاری ہے  

    یاد رہے کہ علی امین گنڈا پور اور عاطف خان کے درمیان ماضی میں سنگین نوعیت کے اختلافات سامنے آئے تھے اور دونوں رہنماؤں کی طرف سے ایک دوسرے پر سخت الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔ تاہم، اس وقت کی پیشرفت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں رہنما اپنے اختلافات کو پی ٹی آئی کے مفاد میں حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    خیبر پختونخوا حکومت، پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کو دوسرے کیس میں نوٹس جاری

    عاطف خان کی طلبی، پی ٹی آئی میں اختلافات

    اینٹی کرپشن میں طلبی،عاطف خان بولے،اب کھل کو بولوں گا

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

    فیض حمید عبرت کا نشان،عمران کا نشہ بند، بشریٰ پر فیض کا فیض

    فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر نہ ڈرا ہوں نہ گھبرایا ہوں،عمران خان