وزیر اعظم احساس پروگرام کوئٹہ کی فوکل پرسن ثانیہ صافی نے کہا ہے کہ کوئٹہ شہر میں احساس پروگرام کا سلسلہ دوسری روز بھی جاری رہا گزشتہ روز 13 اسٹیشنز پر 901 مستحقین میں 1 کروڈ 15 لاکھ 26 ہزار روپے 39 تقسیم کئے گئے انہوں نے کہا کہ لاک ڈاون میں مستحق افراد کی مالی معاونت کے لئے شروع کئے جانے والے وزیر اعظم پاکستان احساس پروگرام کے تحت شہر کے مختلف مقامات پر 14 سینٹرز کی نشاندہی کی گئی جن میں سے 13 اسٹیشنز پر مستحقین میں 12، 12 ہزار روپے کے حساب سے امدادی رقم تقسیم کی جا رہی ہے کوئٹہ شہر کے 13 مراکز ٹیکنیکل سکول میکانگی روڈ، گورنمنٹ بوائیز ہائی سکول کلی شیخان، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول مل سکیم سریاب، گورنمنٹ ہائی سکول پولیس کالونی نواں کلی، گورنمنٹ ہائی سکول جناح ٹاون، گورنمنٹ بوائیز ہائی سکول کچلاک، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول جوائینٹ روڈ، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول قائد آباد، ریلوے گرلز ہائی سکول، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ڈگری لالج سیٹلائیٹ ٹاون، سمیت دیگر سینٹرز پر گزشتہ روز 1 کروڈ 15 لاکھ 26 ہزار روپے تقسیم کئے گئے جبکہ ایک سینٹر پر رقم کی تقسیم کا سلسلہ جلد شروع کیا جائیگا ثانیہ صافی کے مطابق پیسوں کی تقسیم کو تین مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلے مرحلے میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ افراد کو رقم فراہم کی جا رہی ہے دوسرے مرحلے میں موبائل میسج کرنے والے شامل ہوں گے جبکہ تیسرے مرحلے میں ڈپٹی کمشنر کوٹہ کے مستحق افراد کو شامل کیا جائے گا واضع رہے گزشتہ روز رقم وصول کرنے والوں میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں واجبات رکھنے والی کچھ خواتین کو 21، 21 ہزار روپے بھی ادا کئے گئے فوکل پرسن برائے احساس پروگرام ثانیہ صافی کے مطابق تمام سینٹرز پر بد نظمی کے تدارک کے لئے تمام سینٹرز پر سخت سیکورٹی انتظامات کئے گئے ہیں احساس پروگرام سے شہر کے 50 ہزار سے زائد مستحق افراد مستفید ہو سکیں گے انہوں نے کہا کہ تمام سینٹرز پر سوشل ڈسٹنس کے قوانین پر سختی سی عمل درآمد کرایا جا رہا ہے تا کہ کوروناوائرس کے پھیلاؤ کو روکھنے کے ساتھ ساتھ مستحقین کی مالی معاونت کی جائے۔
Category: کوئٹہ
کوئٹہ کے میڈیکل اسٹور مالک کا ایک اچھا اقدام
جیسا کے پورے ملک میں کرونا وائرس کے بعد سے ہر میڈیکل اسٹور سے ماسک گلوس غائب ہوگئائیں لیکن پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتی اور بلوچستان جیسے پسماندہ صوبہ کے شہر کوئٹہ کے ایک میڈیکل اسٹور والے نے ثابت کردیا اور ماسک گلووس اپنی مدد آپ کے تحت مفت تقسیم کرنا شرو کئے اور میڈیکل پر انے والے لوگو کو مفت گلووس ماسک دیتے ہیں جب کے اسٹور مالک کا کہنا ہے کے اس وقت لوگو کو ان چیزوں کی ضرورت ہے تو ہم سب کو اور بڑھے تاجر حضرات کو بھی چاہی ہے کے اس میں حصہ لیں اور یہ کام کریں جب کے ہم ایک چھوٹے سے تاجر ہیں اور ہم سے جتنا ہو سکھتا ہے ہم کرینگے اور انے والے لوگو کا کہنا ہے کے اکثر جگہ پر یہی ماسک ڈبل سے بھی زیادہ قیمت پر فروخت ہورہا ہے اور عوام نے اس تاجر کے اس اقدام کو سراہا۔

بلوچستان میں کرونا سے کتنی ہلاکتیں ہو چکیں اور کتنے مریض؟ اعدادوشمار جاری
بلوچستان میں کرونا سے کتنی ہلاکتیں ہو چکیں اور کتنے مریض؟ اعدادوشمار جاری
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں کوروناوائرس سے متاثرہ دو افراد انتقال کرچکےہیں
محکمہ صحت بلوچستان کے مطابق بلوچستان میں کوروناوائرس کے89مریض صحتیاب ہوچکے ہیں،گزشتہ روز بلوچستان میں کوروناکے7 کیسز رپورٹ ہوئے تھے،بلوچستان میں کوروناوائرس کے219کیسز رپورٹ ہوچکےہیں
بلوچستان میں کوروناوائرس کے مریض 5 اضلاع میں رپورٹ ہوئے ہیں،بلوچستان میں کوروناوائرس سے مقامی طورپرمتاثرہ افراد کی تعداد 71ہے،بلوچستان میں اس وقت 356افراد کو مختلف قرنطینہ مراکز میں رکھاگیاہے،بلوچستان میں سب سےزیادہ 244افراد تفتان کے قرنطینہ مرکز میں موجودہیں،کوئٹہ کےدو قرنطینہ مراکز میں 40افراد کو قرنطینہ کیا گیا ہے.
پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد دوسرے ممالک سے 46 فیصدر جبکہ لوکل ٹرانسمیشن کی تعداد 54 فیصد ہے، 727 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں، پاکستان میں ہلاکتوں کی تعداد 67 ہو چکی ہے جن میں سے سندھ میں 21، پنجاب میں19، کے پی میں 22، گلگت میں 3، اسلام آباد اور آزاد کشمیر میں ایک ایک ہلاکت ہو چکی ہے.
ملک کے 587 اسپتالوں میں قائم قرنطینہ مراکز مریضوں کا علاج جاری ہے،اسپتالوں میں 11508 بیڈز کا بندوبست کیا گیا
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 2279 ہو گئی ہے،جن میں سے 701 زائرین ڈی جی خان، ملتان اور فیصل آباد کے قرنطینہ مراکز میں ہیں،696 مریضوں کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے، جبکہ پنجاب کی جیلوں میں 70 قیدیوں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے

بلوچستان میں غربت کی کمی، اشیاء ضروریہ کی فراہمی کیلئے وزیراعظم نے کیا دیں ہدایات؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ میں کرونا کے حوالہ سے پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس کی صدارت کی
اجلاس میں وفاقی وزراء اسد عمر، زبیدہ جلال، گورنر بلوچستان جسٹس (ر) امان اللہ خان ، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، وزیر تعلیم بلوچستان سردار یار محمد رند، کمانڈر سدرن کمانڈ اور سینئر افسران شریک تھے۔
اس موقع پر وزیراعظم کو صوبہ بلوچستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی نگہداشت، زائرین کی سہولت کیلئے کئے گئے انتظامات، اشیاء خوردونوش کی بلاتعطل فراہمی، ڈاکٹروں اور طبی عملے کیلئے حفاظتی کٹس کی فراہمی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی گئی۔ صوبائی حکومت کی جانب سے موجودہ اور مستقبل کے ریلیف پیکیج، راشن کی صوبے کی مستحق عوام میں تقسیم، پارلیمنٹیرینز کی جانب سے کورونا فنڈ کا قیام، صحت کے عملہ کیلئے مختلف نوعیت کے استثنیٰ اور مختلف مقامات پر جاری ڈس انفیکشن مہم کے حوالہ سے کئے جانے والے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم عمران خان نے صوبے میں اشیاء خوردونوش کی بلاتعطل فراہمی اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کی روانی، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور غربت میں کمی کے حوالہ سے ایک مؤثر اور مربوط حکمت عملی مرتب دینے اور اس حکمت عملی کا مسلسل جائزہ لینے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اس ضمن میں مختلف شعبوں سے وابستہ ماہرین پر مشتمل ایک تھنک ٹینک تشکیل دیا جائے، اس تھنک ٹینک کی ترجیح ان افراد کی کفالت اور فلاح و بہبود کے حوالہ سے اقدامات کی سفارش ہو جو لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
کرونا وائرس کے مریضوں کا پاکستا ن میں اضافہ ہو گیا ہے
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 4 ہزار 414 ہو گئی ہے۔
کرونا وائرس کے پنجاب میں 2171 مریض ہیں، سندھ میں 1128، خیبر پختونخوا میں 560، بلوچستان میں 212، گلگت بلتستان میں 213، اسلام آباد میں 102 جبکہ آزاد کشمیر میں 28 مریض ہیں.
پاکستان میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 64 ہو گئی ہے، سب سے زیادہ ہلاکتیں سندھ میں ہوئی ہیں، سندھ میں 21، پنجاب میں 17، خیبر پختونخوا میں 20، گلگت بلتستان میں 3، بلوچستان میں 2 اور اسلام آباد میں ایک مریض کی ہلاکت ہوئی ہے
کرونا کیخلاف منصوبہ بندی، پاکستان میں فیصلے کون کررہا ہے
برطانیہ میں کرونا سے مسلمان سب سے زیادہ متاثر، جنازوں کے اجتماع پر بھی پابندی
بھارت کی انتہائی اہم ترین شخصیت کرونا سے خوفزدہ، کروائے گی ٹیسٹ
بھارت میں کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ، کتنے مریض ہوئے صحتیاب
کرونا وائرس کا خدشہ، مساجد کو تالے لگ گئے، نمازیں گھر پر پڑھنے کا حکم
راشن نہیں چاہئے، ہمیں پاکستان واپس بھجواؤ، یو اے ای میں پھنسے پاکستانیوں کا احتجاج
ملک کے مختلف شہروں میں کورونا سے بچاؤ کیلئے لاک ڈاؤن جاری ہے، لاہور سمیت پنجاب بھر میں جگہ جگہ فوج اور پولیس تعینات ہے، حکومت کی جانب سے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت بھی جاری کی جا رہی ہیں۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھی لاک ڈاؤن پر بھرپور طریقے سے عملدرآمد ہو رہا ہے
اپریل کے آخر تک کرونا کا دباؤ بڑھ سکتا ہے، مزید لاک ڈاؤن بارے فیصلہ کون کرے گا؟ وزیراعظم نے بتا دیا

وزیراعظم سے کوئٹہ میں گورنر، وزیراعلیٰ کی ملاقات، اہم اجلاس جاری
وزیراعظم سے کوئٹہ میں گورنر، وزیراعلیٰ کی ملاقات، اہم اجلاس جاری
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے گورنر بلوچستان جسٹس ( ر ) امان اللہ خان اور وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان کی ملاقات ہوئی ہے
ملاقات میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے صوبے میں کرونا وائرس کی صورتحال سے وزیراعظم کو آگاہ کیا.
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت بلوچستان میں کورونا وائرس کی صورتحال پر اجلاس جاری ہے،اجلاس میں کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئےاقدامات سے متعلق بریفنگ دی گئی،گورنر ،وزیراعلیٰ بلوچستان ،وفاقی وزرااسدعمراور زبیدہ جلال اجلاس میں موجود ہیں،
وزیراعظم عمران خان سے گورنر بلوچستان جسٹس ( ر ) امان اللہ خان اور وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان کی ملاقات pic.twitter.com/wShNxkWjyK
— Tehreek-e-Insaf (@InsafPK) April 9, 2020
قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سرکاری دورے پر کوئٹہ پہنچے ،وزیراعظم نے کوئٹہ آمد پر وزیراعلی جام کمال کے ہمراہ بولان ہسپتال کے قرنطینہ سنٹر کا دورہ کیا جہاں چیف سیکرٹری نے آئسولیشن وارڈ میں مہیا سہولیات سمیت صوبے میں کئے گئے دیگر حفاظتی اقدامات سے متعلق بریفنگ دی۔ اس موقع پر ڈپٹی سپیکر قاسم سوری اور یار محمد رند بھی وزیراعظم کے ہمراہ رہے.
ویراعظم عمران خان کوئیٹہ پہنچ گیۓ
وزیراعظم کا ویراعلئ بلوچستان جام کمال خان نے ائیرپورٹ پر استقبال کیا وزیر اعظم عمران خان کا بولان میڈیکل کالج ہسپتال کوئٹہ میں قائم کردہ کرونا قرنطینہ سنٹر کا دورہ
وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری، سردار یار محمد رند وزیراعظم کے ہمراہ تھے چیف سیکرٹری بلوچستان نے وزیر اعظم کو آئیسولیشن وارڈ اور قرنطینہ سنٹر کےبارے تفصیلی بریفنگ بھی دی۔
مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کی پریس کانفرنس
کوئٹہ، مرکزی انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ کے صدر عبدالرحیم کاکڑ، جنرل سیکرٹری سید عبدالقیوم اغا، سنئیر نائب صدر حضرت علی اچکزئی، ،سید تاج اغا، میر یاسین مینگل، حاجی خدائے دوست ، سعداللہ اچکزئی ، حاجی ظفر کاکڑ، حاجی حسام الدین اچکزئی، ،حمداللہ ترین ، قاری عبیداللہ ، عبدالخالق اغا ، اور سیف الدین نثار نے پریس کانفرنس کرتے ہوۓ کہا کہ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ ملک بھر کی طرح صوبہ بلوچستان میں بھی عالمی وباء کرونا وائرس کی وجہ سے مکمل لاک ڈاؤن ہے ،
لاک ڈاؤن کے دروان تاجروں کے نقصانات وفاقی اور صوبائی حکومت سے چند اہم مطالبات ٹیکر برائے الیکٹرونکس و فرنٹ میڈیا ،
حکومت بلوچستان لاک ڈاؤن سے متاثرہ دکانداروں اور بلوچستان کے عوام کو دو ماہ کی گیس ، بجلی اور ٹیلی فون بل معاف کرنے کا اعلان کریں ،
حکومت بلوچستان 14 اپریل تک صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک لاک ڈاؤن میں نرمی اور 14 اپریل کے بعد لاک ڈاؤن مکمل ختم کریں ،
اگر حکومت نے لاک ڈاؤن ختم نہیں کیا تو مرکزی انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ 15اپریل سے لاک ڈاؤن خود ختم کریں گے اور بلوچستان کے تمام اضلاع کے مارکیٹیں ،دکانیں اور شاپنگ سینٹرز کھول دیں گے ،
حکومت بلوچستان تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے ایک نوٹیفکیشن جاری کریں جس مالک دکان اور مالک مکان کو پابند کریں کو وہ کرایہ داروں کو ماہ اپریل کا کرایہ معاف کرنے کا اعلان کریں ،
حکومت بلوچستان تاجروں کو 1سے 2 لاکھ بغیر سود قرضوں کا اعلان کریں تاکہ وہ اپنے لیبر کو تنخوائیں ادا کریں ،
حکومت بلوچستان لاک ڈاؤن کے دوران پولیس ،ٹریفک اور ایگل فورس کی عوام کیساتھ ناروا روئے اور تنگ کرنے کا سلسلہ فوری بند کریں
حکومت بلوچستان روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدورں ، غرباء ، مساکین کی گھروں میں راشن پہنچانے کا سلسلہ فوری شروع کریں ،
وفاقی حکومت کرونا وائرس فنڈ میں صوبہ بلوچستان کو دیگر صوبوں کے برابر فنڈ میں حصہ دیاجائے ،
وفاقی اور بلوچستان حکومت ڈاکٹروں کو کرونا وائرس سے بچاؤ اور انکی تحفظ کیلئے کٹس ، ماسک اور دیگر تمام احتیاطی آلات فراہم کریں ،
وفاقی حکومت بلوچستان کے تاجروں اور عوام پر عائد شناختی کارڈ ٹیکس، بجلی بل ، گیس بل ، اور ٹیلفون کی تمام بل معاف کرنے کا اعلان کریں ،،
وفاقی حکومت بدامنی کا شکارصوبہ بلوچستانکوئٹہ لاک داون
کوئٹہ‘ شہر میں لاک ڈائون ‘پولیس اہلکاروں نےجنرل اسٹورز‘میڈیکل اسٹورز اور تندور بند کرادیئے شہر میں لاک ڈائون کے دوران جگہ جگہ ناکے ‘ شہریوں کو روک لیا گیا ‘ مختلف سڑکوں پر شدید ٹریفک جام ہوگئی کوئٹہ شہر میں اسٹورز اور میڈیکل بند کرانے سے عوام کومشکلا ت کا سامنا ہے
ہمیں حکم ہے سب بند کرائو‘پولیس اہلکاروں کا شہریوں کو جوا بزرغون روڈ سے ملنے والی شاہرائیں بند ‘ پولیس اہلکاروں نے صحافیوں اور ڈاکٹروں کو بھی روک لیا ہے صحافیوں اور ڈاکٹروں کو ڈیوٹی کے بجائے واپس گھر جانے کا حکم‘ڈیوٹی میں مشکلات کا سامنا ہے

بلوچستان میں کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں مزید6 افراد میں کوروناوائرس کی تصدیق ہوئی ہے
ترجمان بلوچستان حکومت کے مطابق بلوچستان میں کوروناسےمتاثرہ افرادکی تعداد198ہوگئی، لیاقات شاہوانی کا کہنا ہے کہ 126ٹیسٹ کیے گئے ،6مثبت اور120منفی آئے ،
دوسری جانب متحدہ اپوزیشن نے آج پھر بلوچستان اسمبلی کا اجلاس فوری طور پر طلب کرنے کی ریکوزیشن جمع کردی- اپوزیشن اراکین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کرونا سمیت بہت مشکل و بحرانی حالات سے گذر رہا ہے – اسمبلی کا اجلاس عوام کے مسائل و انکے حل کیلے حکمت عملی مرتب کرنے کا واحد ادارہ ہے.
واضح رہے کہ بلوچستان میں کرونا وائرس سے ایک ہلاکت ہو چکی ہے،
قبل ازیں بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت فوری طور پر بلوچستان میں کورونا وائرس کی وباء کو روکنے کیلئے ڈاکٹرزاور طبی عملہ کے مسائل فوری طور پر حل کرے
ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کے ڈاکٹرز پیرا میڈیکس اور دیگر سٹاف سراپا احتجاج ہے اور انہوں نے اپنی زندگیوں کی حفاظت کی خاطر کٹس اور دیگر آلات کیلئے احتجاج پر ہیں ان پر تشدد اور گرفتاری ایسے وقت میں کی گئی جب مشکل حالات سے ہم گزر رہے ہیں اور ڈاکٹرز اور طبی عملہ اس وقت حالت جنگ میں ہیں بلوچستان کی مشکلات سب سے زیادہ ہیں کیونکہ یہاں سہولیات ہسپتالوں میں نہ ہونے کے برابر ہیں مرکزی حکومت فوری طور پر ایسے اقدامات کرے جس سے ڈاکٹروں کی مشکلات کم اور ان کی زندگیاں محفوظ ہو سکیں

پولیس تشدد ،گرفتاریوں کے بعد ینگ ڈاکٹرز نے کام چھوڑ دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں احتجاج کرنے والے طبی عملے پر پولیس نے تشدد کیا جس کے بعد ڈاکٹر ز نے کام کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا
کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف پر پولیس نے تشدد کیا اور گرفتاریاں بھی کین اس موقع پر دونوں جانب سے تشدد دیکھنے میں آیا ۔
ینگ ڈاکٹرز اور طبی عملہ جب کرونا وائرس سے بچاو کے لیے حفاظتی سامان کی عدم فراہمی پر احتجاج کر رہے تھے ،ینگ ڈاکٹرز نے وزیراعلیٰ ہاﺅس کی جانب مارچ شروع کیاتو پولیس نے ینگ ڈاکٹر ز پر لاٹھی چارج شروع کردیاجس پر متعدد ڈاکٹرز زخمی ہو گئے،پولیس نے 50 سے زائد ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس کو گرفتار کرلیا۔
پولیس نے ان پر دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر تشدد کیا اور متعدد ڈاکٹر کو گرفتار بھی کر لیا
ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ہم کرونا کے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں لیکن ابھی تک ہمیں حکومت نے حفاظتی کٹا فراہم نہیں کی۔ حکومت کی جانب سے وعدے کیے جا رہے ہیں لیکن تعاون نہیں کیا جا رہا ۔کئی ڈاکٹرز کرونا کا شکار ہو چکے ہیں حکومت ہماری زندگیوں کے ساتھ نہ کھیلے۔
پولیس تشدد کے بعد ڈاکٹرز نے او پی ڈی کئ بائیکاٹ کا اعلان کر دیا او ر کہا کہ اگر یہی ہماری سروسز کاصلہ ہے تو آج سے تمام سروسز کا بائیکاٹ کرتے ہیں،ان حالات میں سروسز دینا ہمارے لئے مشکل ہو گیا ہے ،انہوں نے کہاکہ مذاکرات کیلئے تیار نہیں ہم اب سروسز نہیں دیں گے ۔تمام سروسز کا بائیکاٹ کریں گے




