Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • کوئٹہ میں ایک اور کرونا مریض کی موت،بلوچستان حکومت نے کی ٹیسٹ بارے پالیسی تبدیل

    کوئٹہ میں ایک اور کرونا مریض کی موت،بلوچستان حکومت نے کی ٹیسٹ بارے پالیسی تبدیل

    کوئٹہ میں ایک اور کرونا مریض کی موت،بلوچستان حکومت نے کی ٹیسٹ بارے پالیسی تبدیل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محکمہ صحت بلوچستان نے کورونا وائرس کے ٹیسٹ سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کرلی ہے اور اب صرف مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

    محکمے نے فاطمہ جناح لیبارٹری کو بند کردیا ہے جو واحد لیب تھی جہاں رہائشی اپنے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کروا سکتے تھے۔ محکمہ صحت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جن میں کورونا وائرس کا شبہ ہو ان کا صرف اس وقت ٹیسٹ کیا جائے گا جب وہ اپنے گھروں میں 14 روز قرنطینہ کا وقت گزار چکے ہوں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ لیبارٹری میں ٹیسٹ کی صلاحیت میں کمی کے باعث کیا گیا، 2 ہزار سے زائد ٹیسٹ کے نتائج پہلے ہی تاخیر کا شکار ہیں۔

    دوسری جانب بلوچستان میں کورونا کے 174 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، محکمہ صحت کے مطابق بلوچستان میں کورونا سے متاثرہ اضلاع کی تعداد 17 ہوگئی،صوبائی دارلحکومت میں کورونا کیسز کی تعداد 1156 ہوگئی،پشین میں 57، قلعہ عبداللہ میں 23 جبکہ جعفرآباد میں 22 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں.

    کوئٹہ میں 11496 مجموعی ٹیست کئے گئے ہیں،مریضوں کی مجموعی تعداد 1495 ہو گئی ہے،بلوچستان میں مشتبہ مریضوں کی تعداد 16334 ہے .بلوچستان میں 206 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں جبکہ 22 اموات ہو چکی ہیں

    کوئٹہ کے فاطمہ جناح ہسپتال میں داخل ایک اور 60سالہ مریض دوران علاج جاں بحق ہوگیا مریض کا تعلق کوئٹہ سے تھا جسے28اپریل کو کورنا وائرس تشخیص ہونے کے بعد 29اپریل کو ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا مریض فاطمہ جنا ح ہسپتال کے آئی سی یو میں زیر علاج تھ

    قبل ازیں بلوچستان حکومت نے کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن میں مزید 19 مئی تک توسیع کر دی ہے،محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں مزید دو ہفتوں کےلیے لاک ڈاؤن نافذ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کہ اب 19 مئی تک برقرار رہے گا۔

    دہلی میں سی آر پی ایف میں کرونا پھیلنے لگا، ایک ہلاک، 47 مریض

    سبزی و فروٹ منڈی میں بھی کرونا پھیل گیا، 12 تاجروں میں تشخیص

    کرونا وائرس سے خاتون سکول ٹیچر کی ہوئی موت

    بلوچستان حکومت نے لاک ڈاؤن میں توسیع کا فیصلہ کرونا کے خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ اس سے قبل حکومت نے 5 مئی تک صوبے میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تھا

    ا

  • وزیراعلیٰ  بلوچستان کا کورونا وائرس کے کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا دورہ

    وزیراعلیٰ بلوچستان کا کورونا وائرس کے کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا دورہ

    کوئٹہ: وزیراعلیٰ جام کمال خان کا کورونا وائرس کے کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کادورہ/ انچارج عمران گچکی نے بریفنگ دی،
    کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کو وزیراعلیٰ کی گائیڈ لائن کے مطابق بھرپور طور پر فعال بنایا گیاہے۔ سینٹر کے مختلف شعبوں کے ماہرین اور اکیڈیمیا کی خدمات بھی حاصل کی گئ ہیں۔ کوروناوائرس کے پھیلاؤ کے مختلف شعبوں پر مرتب ہونے والے اثرات کا تجزیہ کیا جا رہاہے ۔ سینٹر میں وائرس کے پھیلاؤ کے رجحان کا جائیزہ بھی لیا جارہاہے۔

    ڈویژنل سطح پر بھی سینٹر قائم کر دیۓ گیۓ ہیں. کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کو کورنا وائرس کے اثرات کے بعد بھی مستقل بنیادوں پر فعال رکھا جاۓ گا. آپریشن سینٹر میں تمام شعبوں سے متعلق دستیاب ڈیٹا کو مربوط میکنیزم کے تحت استعمال کرنے میں مدد ملے گی ۔ماضی میں نہ تو اداروں میں کام کرنے کا ماحول دیا گیا اور نہ ہی افسران کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا گیا۔ پولیٹیکل لیڈر شپ کی زمہ داری ہے کہ صوبے کی ضروریات کے مطابق ماہرین کی ہر شعبہ میں خدمات حاصل کرے.۔کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق مزید وسعت دے کر بھرپور استفادہ کیا جاۓ گا ۔وزیراعلیٰ بلوچستان.

  • کرونا کے بڑھتے کیسز، بلوچستان حکومت نے کس سے مانگی مدد؟

    کرونا کے بڑھتے کیسز، بلوچستان حکومت نے کس سے مانگی مدد؟

    کرونا کے بڑھتے کیسز، بلوچستان حکومت نے کس سے مانگی مدد؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دو ہفتے سے کورونا کی مقامی طور پر منتقلی کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں،

    لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں میں بلوچستان میں لوکل ٹرانسمیٹڈ کیسز کا تناسب 88فیصد ہے،بلوچستان میں ریکوری کی شرح پندرہ فیصد ہے،بلوچستان میں لاک ڈاون مزید دوہفتے رہے گا،اگلے دو ہفتے تک بلوچستان میں سخت لاک ڈاؤن کی کیفیت برقرار رہے گی،

    لیاقت شاہوانی کا مزید کہنا تھا کہ لاک ڈاوَن پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے،خلا ف ورزی پر کارروائی ہو گی،بلوچستان میں 2پی سی آر مشینوں سے ٹیسٹنگ کی جا رہی تھی ،ہمارے پاس وینٹی لیٹرز کم ہیں این ڈی ایم کو مزید وینٹی لیٹرز فراہم کرنے کی درخواست کی،

    لیاقت شاہوانی کا مزید کہنا تھا کہ بیت السلام ٹرسٹ کے اشتراک سے مستحق افراد میں مفت روٹی کی تقسیم کا سلسلہ بھی جاری ہے،کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے عالمی گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کیا جارہا ہے،عوام سے درخواست ہے کورونا کی روک تھام کے لئے حکومت سے تعاون کریں

    بلوچستان میں اب تک 1321 افراد میں کوروناکی تصدیق ہوئی،9312 کے ٹیسٹ منفی آئے،بلوچستان میں 2089افراد کے کورونا کے ٹیسٹ کی رپورٹ آنا باقی ہے ،بلوچستان میں کورونا سے متاثرہونے والوں میں دوسرے نمبر پر15سے29سال کےنوجوان ہیں،

    صوبائی محکمہ صحت کے مطابق بلوچستان میں اب تک کوروناسے متاثرہ 197افراد صحتیاب ہوچکےہیں،بلوچستان میں اب تک 30 سے 44 سال کی عمر کےافراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے،

    قبل ازیں بلوچستان حکومت نے کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن میں مزید 19 مئی تک توسیع کر دی ہے،محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں مزید دو ہفتوں کےلیے لاک ڈاؤن نافذ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کہ اب 19 مئی تک برقرار رہے گا۔

    دہلی میں سی آر پی ایف میں کرونا پھیلنے لگا، ایک ہلاک، 47 مریض

    سبزی و فروٹ منڈی میں بھی کرونا پھیل گیا، 12 تاجروں میں تشخیص

    کرونا وائرس سے خاتون سکول ٹیچر کی ہوئی موت

    بلوچستان حکومت نے لاک ڈاؤن میں توسیع کا فیصلہ کرونا کے خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ اس سے قبل حکومت نے 5 مئی تک صوبے میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

  • بلوچستان میں کرونا کے لوکل ٹرانسمیشن کے مریضوں کی شرح کتنی؟

    بلوچستان میں کرونا کے لوکل ٹرانسمیشن کے مریضوں کی شرح کتنی؟

    بلوچستان میں کرونا کے لوکل ٹرانسمیشن کے مریضوں کی شرح کتنی؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کا ملک بھر میں پھیلاؤ جاری ہے، صوبہ بلوچستان میں اب تک 10 ہزار 633 افراد کے کورونا کے ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں،

    محکمہ صحت بلوچستان کے مطابق بلوچستان میں مقامی سطح پر رپورٹ ہونے والے کیسز کی شرح 88 فیصد ہے،بلوچستان میں اب تک 1321 افراد میں کوروناکی تصدیق ہوئی،9312 کے ٹیسٹ منفی آئے،بلوچستان میں 2089افراد کے کورونا کے ٹیسٹ کی رپورٹ آنا باقی ہے ،بلوچستان میں کورونا سے متاثرہونے والوں میں دوسرے نمبر پر15سے29سال کےنوجوان ہیں،

    صوبائی محکمہ صحت کے مطابق بلوچستان میں اب تک کوروناسے متاثرہ 197افراد صحتیاب ہوچکےہیں،بلوچستان میں اب تک 30 سے 44 سال کی عمر کےافراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے،

    قبل ازیں بلوچستان حکومت نے کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن میں مزید 19 مئی تک توسیع کر دی ہے،محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں مزید دو ہفتوں کےلیے لاک ڈاؤن نافذ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کہ اب 19 مئی تک برقرار رہے گا۔

    دہلی میں سی آر پی ایف میں کرونا پھیلنے لگا، ایک ہلاک، 47 مریض

    سبزی و فروٹ منڈی میں بھی کرونا پھیل گیا، 12 تاجروں میں تشخیص

    کرونا وائرس سے خاتون سکول ٹیچر کی ہوئی موت

    بلوچستان حکومت نے لاک ڈاؤن میں توسیع کا فیصلہ کرونا کے خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ اس سے قبل حکومت نے 5 مئی تک صوبے میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

  • بلوچستان کی جیلیں کرونا وائرس کا گڑھ بن گئیں ، تحریر شفیق الرحمان

    بلوچستان کی جیلیں کرونا وائرس کا گڑھ بن گئیں ، تحریر شفیق الرحمان

    کورونا وائرس اور قیدی ، تحریر شفیق الرحمان

    کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے سبب دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومتوں کو اس خطرے کا ادراک کروانے کے لیے بھرپور زور ڈال رہی ہیں کہ جیل کے معمولات اس نوعیت کے ہوتے ہیں کہ جہاں ممکن ہی نہیں ہے کہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنا ممکن ہو تبھی ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ برطانیہ یورپ چین اور ایران سمیت اکثر ممالک میں جیل میں وائرس پھیلنے کی اطلاعات کنفرم ہوچکی ہیں اور حکومتیں مجبور ہوئیں کہ اس غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے غیرمعمولی اقدامات اٹھائے جائیں۔ بڑی تعداد میں قیدیوں کی رہائی کے اعلانات سامنے آ ئے ہیں اس سارے منظرنامے کا اثر اگر ہم پاکستان میں دیکھیں تو بلوچستان صوبے کے علاؤہ باقی صوبوں میں کچھ سنجیدگی تو دکھائی دیتی ہے لیکن بلوچستان کا معاملہ حیران کن حد تک خطرناک دکھائی دیتا ہے۔ بہ ظاہر اسکا سبب ایک محکمے کے کرپٹ افسران ہیں جو کرپشن کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ، اس موقع پر بھی اس آگ سے کھیل رہے ہیں جو خود انہیں بھی جلا سکتی ہے۔ دنیا بھر میں غور و فکر ہورہی ہے قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے کی تاکہ قیدیوں کو حتی الامکان ریلیف مل سکے لیکن بلوچستان میں جیل محکمے کی جانب سے پچھلے چند ماہ میں لاتعداد ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جنکا مقصد اس ریلیف کو بھی ختم کرنا ہے جو پہلے سے حاصل تھے اسکی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے کبھی کبھار حکومت ایک روپے پٹرول کی قیمت بڑھا کر بعد میں پچیس پیسے کم کرنے کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے۔ بلوچستان میں قیدیوں کو امتحانات پاس کرنے پر معافیاں دی جاتی ہیں لیکن حال ہی میں آئی جی جیل خانہ جات کے نئے حکمنامے کے مطابق براہوی ادیب کا امتحان ختم کردیا گیا ، جو قیدی امتحانات دے چکے تھے انکی معافی منسوخ ہوگئی ۔ جبکہ اسکے علاوہ قیدیوں کے امتحانات کے رزلٹ کارڈ سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود آئی جی آفس میں پڑے ہیں اور آئی جی صرف انہی کے رزلٹ کارڈ پر سائن کررہا ہے معافی کے لیے جو رشوت دیں یا پھر جن کے پاس وزراء کی سفارش ہو۔ اس مسئلے کے سبب کویٹہ جیل میں قیدیوں نے احتجاج کیا جسکو میڈیا میں غلط تاثر دے کر انکے خلاف ظالمانہ آ پریشن کیا گیا ، انکا ضرورت کا سارا لوٹ لیا گیا ۔ کئی دہائیوں سے جیل میں یہ روٹین رہی تھی کہ قیدی اپنے خرچے پر اپنا کھانا تیار کرتے تھے جسکی وجہ جیل کی مضر صحت اور ناقص غذا تھی جو کسی طور بھی کھانے کے قابل نہ تھی۔ آپریشن میں قیدیوں کی کھانا پکانے کی سہولت ختم کردی گئی اور انہیں پابند کیا گیا کہ وہ وہی مضر صحت جیل کا ہی کھانا کھائیں۔ جبکہ جیل کے بااثر اور امیر قیدی پانچ سو اور ہزار روپے کے عوض گوشت وغیرہ منگوالیتے ہیں یہ رقم بطور لانے کی فیس ہوتی ہے علاؤہ گوشت کی قیمت کے۔ کیا اس طریقہ کار پر ایک عام آدمی جیل میں کھانے پینے کا خرچ اٹھا سکتا ہے؟ کرونا وائرس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان افراد کے اس وائرس میں مبتلا ہونے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں جو جسمانی طور ہر کمزور ہوں۔ اب جیل انتظامیہ قیدیوں کی خوراک کے معاملے میں ایسی غیر انسانی پابندی لگا کر کیا قیدیوں کو جسمانی طور پر کمزور اور بیمار بنانا چاہتی ہے تاکہ وائرس پھیل سکے ؟
    یہ بھی وضاحت کرتے چلیں کہ جیل محکمے کے پاس قیدیوں کی سزا میں ردوبدل کرنے کے چور راستے بہت سے ہیں ، جن قیدیوں کو جرمانہ بھی ادا کرنا ہوتا ہے انکو جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں جو سزا کاٹنی ہوتی ہے وہ بھی کٹوانے کے بعد قیدیوں کو بتاتے ہیں کہ اب آپکی سزا پوری ہوچکی ہے اب آپ جرمانہ جمع کرواؤ ۔ وہ جو جرمانہ جمع کرواتا ہے وہ جیل محکمہ کے کرپٹ افسران کی جیب میں جاتا ہے اور کاغذات میں ظاہر کیا جاتا ہے کہ قیدی نے جرمانہ جمع نہ کیا بلکہ مزید قید کاٹی۔ اس مد میں کئی دہائیوں سے حکومت پاکستان کو اربوں روپوں کا نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔کورونا وائرس کے حوالے سے بھی جیل محکمہ نے نہ صرف غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا بلکہ بعض معاملات میں تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ انکی بھرپور کوشش ہے کہ جیل میں وائرس پھیل جائے ۔
    بلوچستان کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد جیلوں کی capacity سے زیادہ نہیں ہے لیکن محکمہ کامجرمانہ کردار ہے کہ بیرکوں میں مصنوعی overcrowding کی گئی ہے۔
    سینٹرل جیل مچھ میں بھی اسوقت چار بارکیں جو قدرے صاف ستھری تھیں وہاں سے قیدیوں کو نکال کر پہلے سے فل دوسری بارکوں میں ٹھونس دیا گیا حالانکہ یہ بارکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں جگہ تنگ ہے باتھ روم ٹوٹے اور گندے ہیں ۔ ان اقدامات سے بہ ظاہر یہی لگتا ہے کہ جیل حکام نے کورونا وائرس کو قطعاً سنجیدگی سے نہیں لیا۔ تاحال کوئی بھی اہلکار ماسک نہیں لگاتا ۔

    باوجود بارکیں خالی ہونے کے، قیدیوں کو چند بارکوں میں ٹھونس کر رکھنے کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ جیل حکام قیدیوں کی زندگی اتنی مشکل بنانا چاہتے ہیں کہ وہ پھر چھوٹی چھوٹی سہولت کے لیے منہ مانگی رشوت دینے کو تیار ہوجائیں۔

    امتحانات کی معافیاں جو کئی دہائیوں سے لگ رہی تھی اسے روکنے اور اسکے علاوہ بھی ممکنہ حکومتی اقدامات کے سبب ملنے والے ریلیف کو عملی طور پر ختم کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جیل حکام کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ جیل میں قیدیوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہو، کیونکہ جتنے زیادہ قیدی ہونگے اتنا ہی انہیں فنڈ زیادہ ملے گا اور خوردبرد کے مواقع بھی زیادہ ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے نیب ، اور اعلی عدلیہ مذکورہ بالا معاملات کا نوٹس لے اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائے تاکہ جیلیں جنکا بنیادی مقصد قیدیوں کی اصلاح ہے عملی طور پر اصلاحی مراکز بن بھی سکیں ۔ ورنہ موجودہ حالات میں تو ایک قیدی یا تو ذہنی مریض بنے گا یا وہ منشیات کی لت میں مبتلا ہو جائے گا یا خدانخواستہ کوئی مجرم بن کر نکلے گا کیونکہ عمر قید کی سزا میں اسکا وقت ایسا گزرا ہوگا جس میں ایک ایک دن ذلت آمیز رویوں سے سامنا ہوا ہوگا ۔
    دوسری طرف سنٹرل جیل ژوب
    سے کچھ قیدیوں کو دور سنٹرل جیل مچھ بھیج دیا گیا جسمیں پشین۔ خانوزئی ۔ مسلم باغ ۔ قلعہ سیف اللہ ۔ لورالائی ۔سنجاوی ۔دوکی ۔ بارکھان ۔کولوں ۔رکنی اور ژوب کے قیدی شامل تھے قیدیوں کے اپنوں نے بتایا کہ سیکورٹی کی بنیاد پر ان قیدیوں کو 800 سو کلو میٹر دور سنٹرل جیل مچھ منتقل کیا گیا لیکن ایک آفیسر نے نام نا ظاہر کرنے پر بتایا کہ دراصل آئی جی جیلخانہ جات سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل ژوب سے ماہانہ 50000 روپے مانگ رہا تھا جبکہ سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ قیدی کم ہے اتنی رقم میں نہیں دے سکتا
    اسلئے قیدیوں کو مچھ شفٹ کیا گیا جبکہ اس وقت سنٹرل جیل ژوب کی تعداد 25/30 ہے اور جگہ 300 سو قیدیوں کی ہے
    کورونا یا دیگر بیماری کیوجہ سے جاگیردار ۔امیر ۔ منسٹر کیلئے میڈیا بات کرسکتی ہے لیکن غریب کیلئے نہیں یہود نصاریٰ میں بھی یہی تھا کہ کسی شہزادے کیلئے سزا میں ترمیم کرتے اور غریب کو سزا دیتے تو آج وہ یہودی اور ہم مسلمان کیسے ؟

  • لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی،2800 دکانیں سیل کر دی گئیں

    لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی،2800 دکانیں سیل کر دی گئیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں کورونا کیسز کی تعداد ایک ہزار سے تجاوزکرگئی،

    بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کے مطابق بلوچستان میں 53نئے کیسز سامنے آئے ہیں

    لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کر رہے ہیں،اپریل میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر 2800 دکانیں سیل کی گئیں،

    لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ وہ لاک ڈاؤن سخت کرنے کے حوالے سے ڈاکٹرز کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ کورونا وائرس کے خلاف حکومت کام کر رہی ہے، عوام کوحکومت کے ساتھ تعاون کرنا ہو گا۔ لاک ڈاوَن کی خلاف ورزی پر گرفتاری عمل میں لائی جائے گی، مساجد میں سماجی دوری کا خاص خیال رکھا جائے، علمائے کرام مساجد کے حوالے سے ایس او پیز پر عمل درآمد کرائیں۔

    ایم ایس فاطمہ جناح اسپتال کوئٹہ کے ڈاکٹر نور اللہ میں کرونا کی تشخیص ہوئی ہے، جس کے بعد ڈاکٹر نے خود اپنے گھر میں قرنطینہ کرلیا ہے۔

    فاطمہ جناح ہسپتال کے ایم ایس نے کرونا کی تصدیق کے بعد جاری بیان میں کہا کہ بلوچستان میں دس مارچ کو کورونا کا پہلا کیس سامنے آیا تھا،اس دوران میں نے دن رات ہسپتال میں رہ کر لوگوں کی خدمت کی ہے،اب بھی جلد صحت یاب ہوکر پھر سے عوام کی خدمت کروں گا۔

  • صدر مملکت عارف علوی ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے

    گورنر بلوچستان جسٹس ریٹائرڈ امان اللہ خان یاسین زئی اور وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے صدر مملکت کا استقبال کیا اور صدر مملکت کی زیر صدارت بلوچستان میں کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلی سطحی اجلاس شروع

    چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن ریٹائرڈ فضیل اصغر کی صدر مملکت کو بلوچستان میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ

    اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ سید اعجاز شاہ، وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری، چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹننٹ جنرل محمد افضل، گورنر بلوچستان جسٹس ریٹائرڈ امان اللہ خان یاسین زئی، وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹنٹ جنرل وسیم اشرف سمیت دیگر اعلی حکام کی شرکت

    کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مربوط لائحہ عمل کے تسلسل کو قائم رکھیں،بلوچستان حکومت کے اقدامات تسلی بخش ہیں لاک ڈاون کے دوران غریب افراد کی معاونت کو موثر بنایا جائے، صدر عارف علوی ۔

  • صدر مملکت عارف علوی ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے

    گورنر بلوچستان جسٹس ریٹائرڈ امان اللہ خان یاسین زئی اور وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے صدر مملکت کا استقبال کیا اور صدر مملکت کی زیر صدارت بلوچستان میں کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلی سطحی اجلاس شروع

    چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن ریٹائرڈ فضیل اصغر کی صدر مملکت کو بلوچستان میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ

    اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ سید اعجاز شاہ، وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری، چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹننٹ جنرل محمد افضل، گورنر بلوچستان جسٹس ریٹائرڈ امان اللہ خان یاسین زئی، وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹنٹ جنرل وسیم اشرف سمیت دیگر اعلی حکام کی شرکت

    کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مربوط لائحہ عمل کے تسلسل کو قائم رکھیں،بلوچستان حکومت کے اقدامات تسلی بخش ہیں لاک ڈاون کے دوران غریب افراد کی معاونت کو موثر بنایا جائے، صدر عارف علوی ۔

  • کورونا وائرس اپڈیٹ مورخہ 28 اپریل2020

    کوئٹہ میں سکریننگ کئے گئے لوگوں کی کل تعداد:23422 ہے جب کے آج مورخہ 28 اپریل 2020کو کورونا وائرس کے نئے مریضوں کی تعداد:62 سامنے آئی ہے کورونا و ائرس مثبت رزلٹ کی مریضوں کی کل تعداد:915 ہوگئی ہے جیسا کے کورونا وائرس منفی رزلٹ کی تعداد:7589 ہے اور مشتبہ مریضوں کی تعداد : 12334

    آج مورخہ 28 اپریل2020 کو کورونا کے کیے گئے ٹیسٹ کی تعداد:513 ہے اب تک کورونا کے کیے گئے مجموعی ٹیسٹ کی کل تعداد 8504

    کورونا وائرس سے صحت یاب مریضوں کی کل تعداد:176 ہے اس کے علاوہ کورونا وائرس سے جانبحق مریضوں کی تعداد: 14 ہے۔

  • کرونا وائرس، ہسپتال کے ایم ایس بھی کرونا کا شکار بن گئے

    کرونا وائرس، ہسپتال کے ایم ایس بھی کرونا کا شکار بن گئے

    کرونا وائرس، ہسپتال کے ایم ایس بھی کرونا کا شکار بن گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایم ایس فاطمہ جناح اسپتال کوئٹہ کے ڈاکٹر نور اللہ میں کرونا کی تشخیص ہوئی ہے، جس کے بعد ڈاکٹر نے خود اپنے گھر میں قرنطینہ کرلیا ہے۔

    فاطمہ جناح ہسپتال کے ایم ایس نے کرونا کی تصدیق کے بعد جاری بیان میں کہا کہ بلوچستان میں دس مارچ کو کورونا کا پہلا کیس سامنے آیا تھا،اس دوران میں نے دن رات ہسپتال میں رہ کر لوگوں کی خدمت کی ہے،اب بھی جلد صحت یاب ہوکر پھر سے عوام کی خدمت کروں گا۔

    ایم ایس فاطمہ جناح اسپتال ڈاکٹر نوراللہ نے عوام سے اپیل کی کہ خدارا احتیاط کریں صورتحال ٹھیک نہیں ہے ، گھروں میں رہیں اور لاک ڈاؤن کے حوالہ سے حکومتی احکامات کی پابندی کریں.

    دوسری جانب حکومت بلوچستان نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت ایکشن لیتے ہوئے انہیں گرفتار کرکے قرنطینہ مراکز منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں اب تک لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر 2700 دوکانیں سیل کی جاچکی ہیں۔ بلوچستان میں کورونا کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے اس لیے کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے لئے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کرکے قرنطینہ مراکز منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ اگر عوام نے تعاون نہ کیا تو صوبے میں مکمل لاک ڈاؤن کی طرف بھی جاسکتے ہیں۔