Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • چمن پاک افغان سرحد پر 34 روز کے بعد آج سے 3 دن کے لئے کھول دیا گیا

    چمن میں قرنطینہ کیمپ میں پانی۔بجلی اور دیگر سہولیات فراہم۔کردی گئی ھے سنٹر میں رہنے والے افراد کے لے تمام ترسہولیات فراہم کردی گئی ھے۔افغانستان سے آنے والے افراد کو اس سنٹر میں چودہ دن تک رکھاجائیگا کیمپ کی سکیورٹی پر پاک فوج۔ایف سی ۔پولیس اور لیویز اہلکار تعینات ہونگے حکومت پاکستان کی جانب سے اجازت ملنے پر افغان باشندوں کو واپسی کی اجازت مل گئی

    مال بردار ٹرک سرحد پر ڈرائیور ایک دوسرے کے حوالے کریں گے اگلے روز وہی ٹرک واپس ان کے ڈرائیور کے حوالے ھوگ

    حکومت پاکستان کی جانب سے اجازت ملنے پر چمن بارڈر کو اب کھول دیا گیا ۔ایف سی حکام

  • کوئٹہ، 6 ڈاکٹر اور 7 سیکورٹی اہلکاروں میں بھی کرونا کی تشخیص

    کوئٹہ، 6 ڈاکٹر اور 7 سیکورٹی اہلکاروں میں بھی کرونا کی تشخیص

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی تعداد 169 ہوگئی ہے،

    محکمہ صحت کے ترجمان کے مطابق کورونا سے متاثرہ مریضوں میں 6 ڈاکٹرز اور 7 سیکورٹی اہلکار شامل ہیں، کورونا سے متاثرہ ڈاکٹرز اور سیکورٹی اہلکاروں کی سفری تاریخ نہیں ہے، 100 افراد کے ٹیسٹ رزلٹ آنا باقی ہیں، بلوچستان میں کورونا کے 17 افراد صحتیاب ہوئے ہیں، بلوچستان میں اب تک کورونا سے ایک شخص کی موت واقعہ ہوئی ہے،

    بلوچستان میں کورونا کے 151 مریض زیر علاج ہیں، بلوچستان میں اب تک 1902 افراد کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں، بلوچستان کے تین اضلاع کورونا وائرس سے متاثر ہیں، تفتان قرنطینہ میں 190 آر ڈی اے میں 137 پی سی ایس آئی آر میں 64 اور گوادر قرنطینہ میں 17 افراد موجود ہیں، بلوچستان میں کُل قرنطینہ کیے گئے افراد کی تعداد 408 ہے.

    پاک ایران سرحد 41ویں روز، پاک افغان سرحد چمن33ویں روز بھی بند ہے،دونوں سرحدوں پر آمدورفت سمیت تجارتی سرگرمیاں معطل ہے ،کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں لاک ڈائون گیارویں روز بھی برقرار ہے ، لاک ڈوان کے دوران کاروباری مراکز، ہوٹلز، مارکٹیں، شاپنگ مالز بند پڑے ہیں ، میڈیکل اسٹورز، کریانہ، تندور، سبزی اور فروٹ کی دکانوں کو لاک ڈاون سے استثنی حاصل ہیں، صوبے بھر میں دفعہ 144نافذ ہے،لاک ڈاون کے باعث ٹریفک کم ہے

    بلوچستان کے صوبائی محکمہ داخلہ کے مطابق نماز جمعہ کے لیے تمام مساجد کھلی رہے گی، 3 سے 5 افراد مساجد میں نماز ادا کرینگے، عوام الناس سے نماز جمعہ گھروں میں پڑھنے کی اپیل کی گئی ہے

    واضح رہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 2450 ہو گئی ہے، کرونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں 14 اپریل تک لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے، پبلک ٹرانپسورٹ ، ریلوے معطل ہے، شہریوں سے نماز جمعہ گھر میں ادا کرنے کی اپیل کی گئی ہے.

    کرونا وائرس، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ، رکن اسمبلی کا بیٹا بھی ووہان میں پھنسا ہوا ہے، قومی اسمبلی میں انکشاف

    کرونا وائرس سے کس ملک کے فوج کے جنرل کی ہوئی موت؟

    ٹرمپ کی بتائی گئی دوائی سے کرونا کا پہلا مریض صحتیاب، ٹرمپ نے کیا بڑا اعلان

    کرونا کیخلاف منصوبہ بندی، پاکستان میں فیصلے کون کررہا ہے

    پاکستان میں کوروناوائرس سے35افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 126صحت یاب ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں،پنجاب میں 920اورسندھ میں 783افراد کورونا وائرس کا شکارہیں،خیبرپختونخوا311،گلگت بلتستان میں 190اوربلوچستان میں 169افراد متاثرہیں،اسلام آباد68 اورآزاد کشمیر میں 9 کرونا وائرس کے مریض ہیں.

  • فون کیوں نہیں اٹھایا؟ وزیر صحت نے سیکرٹری صحت کو تھپڑ مار دیا

    فون کیوں نہیں اٹھایا؟ وزیر صحت نے سیکرٹری صحت کو تھپڑ مار دیا

    فون کیوں نہیں اٹھایا؟ وزیر صحت نے سیکرٹری صحت کو تھپڑ مار دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے صوبائی وزیر زمرک اچکزئی نے سیکرٹری صحت کو تھپڑ رسید کردیا

    صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کورونا وائرس کے حوالے سے رپورٹ فراہم نہ کرنے اور تین دنوں سے مسلسل ٹیلیفون نہ اٹھانے پر سیکرٹری صحت کو تھپڑ رسید کردیا ،جس کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان نے آج کابینہ اجلاس طلب کرلیا اہم فیصلہ متوقع ہے

    صوبائی وزیر زراعت زمرک خان اچکزئی کی بدھ کو سیکرٹری صحت مدثر وحید ملک سے کورونا وائرس کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ فراہم نہ کرنے اور بار بار کال پر جواب نہ دینے پر تلخ کلامی ہوئی صوبائی وزیر زراعت کا کہنا تھا کہ پنجاب سے آنے والے افسران کے بلوچستان آکر تیور بدل جاتے ہیں جس پر دونوں سے تلخ کلامی ہوئی جس پر صوبائی وزیر نے سیکرٹری صحت کو تھپررسید کیا.

    جب اس سلسلے میں صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان سے رابطہ کیا تو انکے پرنسل سیکرٹری نے آج سیکرٹری صحٹ سے ہونے والے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کابینہ کا اجلاس آج بروز جمعرات طلب کرلی ہے جس میں اس والے سے اہم فیصلہ متوقع ہے۔

    تبلیغی مرکز کے نواحی علاقے کے 200 افراد کرونا کے شبہہ میں ہسپتال منتقل،ڈرون کے ذریعہ علاقہ کی نگرانی

    بھارت کی انتہائی اہم ترین شخصیت کرونا سے خوفزدہ، کروائے گی ٹیسٹ

    کرونا وائرس،بھارت میں اتنے مریض ہو جائیں گے کہ لاشیں بلڈوزر سے گڑھے میں ڈالنا پڑیں گی

    چین میں‌ کرونا وائرس کا پہلا مریض اب کس حال میں ہے ؟

    کرونا کے وار جاری، 288 پولیس اہلکاروں میں ہوئی کرونا کی تشخیص

    سعودی عرب میں کرونا کے مریضوں میں مسلسل اضافہ، شاہ سلمان نے دیا عالمی ادارہ صحت کو فنڈ

    واضح رہے کہ کوئٹہ میں صوبائی وزیر کے بیٹے میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی وزیر زراعت کے بیٹے میں ہی کرونا کی تشخیص ہوئی ہے

    بلوچستان کے وزیراعلیٰ ہاؤس کے ملازم میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اسے قرنطینہ کر دیا گیا ہے، بلوچستان کے صوبائی وزیرکے بیٹے میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جو لندن سے واپس آیا تھا، وائرس کی تشخیص کے بعد اسے گھر میں قرنطینہ کر دیا گیا ہے

    بلوچستان بھر میں کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن نویں روز میں داخل ہو گیا ہے جس کے باعث کارباری مراکز، ہوٹلز اور مارکیٹس بند ہیں۔ چیف سیکریٹری بلوچستان فضیل اصغر کے مطابق بلوچستان میں کرونا سے متاثرہ  17 مریض صحتیاب ہو کر گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔

    پاک ایران تفتان سرحد 40 ویں روز جبکہ پاک افغان سرحد 32 ویں روز بھی بند ہے۔ بلوچستان کے 3 قرنطینہ سینٹرز میں 367 افراد مقیم ہیں جن کی اسکریننگ کا عمل جاری ہے

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

  • وزیر کے بیٹے، وزیراعلیٰ ہاؤس کے ملازم میں ہوئی کرونا کی تشخیص

    وزیر کے بیٹے، وزیراعلیٰ ہاؤس کے ملازم میں ہوئی کرونا کی تشخیص

    وزیر کے بیٹے، وزیراعلیٰ ہاؤس کے ملازم میں ہوئی کرونا کی تشخیص

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں صوبائی وزیر کے بیٹے میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے

    بلوچستان کے وزیراعلیٰ ہاؤس کے ملازم میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اسے قرنطینہ کر دیا گیا ہے، بلوچستان کے صوبائی وزیرکے بیٹے میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جو لندن سے واپس آیا تھا، وائرس کی تشخیص کے بعد اسے گھر میں قرنطینہ کر دیا گیا ہے

    واضح رہے کہ بلوچستان میں کرونا وائرس کے 158 کیسز ہیں،کوئٹہ میں کرونا وائرس سے اب تک 6 ڈاکٹرز متاثر ہوئے ہیں جن میں ڈاکٹرضیاءالحق ناصر. ڈاکٹر قیصرخان پانیزئی ،ڈاکٹر فضل الرحمٰن بابر.ڈاکٹر جہانزیب،ڈاکٹربصیرخان شامل ہیں.

    بلوچستان حکومت نے کورونا وائرس کے چیلنج سے نمٹنے کے ڈاکٹروں نرسوں اور پیر ا میڈکس کی خالی آسامیوں پر ہنگامی بنیادوں پر بھرتی کا فیصلہ کیا ہے، بلوچستان میں کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن جاری ہے، لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر پولیس قانونی کاروائی کر رہی ہے.

    بلوچستان بھر میں کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن نویں روز میں داخل ہو گیا ہے جس کے باعث کارباری مراکز، ہوٹلز اور مارکیٹس بند ہیں۔ چیف سیکریٹری بلوچستان فضیل اصغر کے مطابق بلوچستان میں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 158 ہوگئی ہے جبکہ متاثرہ 17 مریض صحتیاب ہو کر گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔

    پاک ایران تفتان سرحد 39 ویں روز جبکہ پاک افغان سرحد 31 ویں روز بھی بند ہے۔ بلوچستان کے 3 قرنطینہ سینٹرز میں 367 افراد مقیم ہیں جن کی اسکریننگ کا عمل جاری ہے.

    ملک بھر میں کرونا کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، مریضوں کی تعداد 2039 ہو گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 26 ہو گئی ہے

    کرونا وائرس کے سندھ میں 676 مریض، پنجاب میں 708، خیبرپختونخوا میں 253، گلگت بلتستان میں 184 مریض ہیں، بلوچستان میں کرونا وائرس کے 158، اسلام آباد میں 54، آزاد کشمیر میں 6 مریض ہیں،

    کرونا وائرس سے ملک بھر میں 26 ہلاکتیں ہو چکی ہیں ، سب سے زیادہ ہلاکتیں پنجاب میں 9 ہوئی ہیں، سندھ میں 8، کے پی میں 6، گلگت میں 2 اور بلوچستان میں ایک ہلاکت ہوئی ہے،پنجاب کے ضلع لاہور میں 4، راولپنڈی 3 جبکہ رحیم یار خان اور فیصل آباد میں ایک ایک ہلاکت ہوئی ہے۔ سندھ میں تمام ہلاکتیں کراچی میں ہوئی ہیں۔

     

    کرونا وائرس، بھارت میں 3 کروڑ سے زائد افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ

    بھارتی گلوکارہ میں کرونا ،96 اراکین پارلیمنٹ خوفزدہ،کئی سیاستدانوں گھروں میں محصور

    لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر کتنے عرصے کیلئے جانا پڑے گا جیل؟

    کرونا وائرس، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ، رکن اسمبلی کا بیٹا بھی ووہان میں پھنسا ہوا ہے، قومی اسمبلی میں انکشاف

    کرونا وائرس سے کس ملک کے فوج کے جنرل کی ہوئی موت؟

    ٹرمپ کی بتائی گئی دوائی سے کرونا کا پہلا مریض صحتیاب، ٹرمپ نے کیا بڑا اعلان

    کرونا کیخلاف منصوبہ بندی، پاکستان میں فیصلے کون کررہا ہے

    کرونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن جاری ہے، سندھ، کے پی، بلوچستان، پنجاب میں مارکیٹس، پبلک ٹرانسپورٹ بند ہیں، ریلوے سروس کو بھی تا حکم ثانی معطل کر دیا گیا ہے، فضائی سروس بھی معطل ہے،

  • تفتان سے آئے زائرین کی آمد سے کورونا میں اضافہ ہوا،ترجمان حکومت بلوچستان

    تفتان سے آئے زائرین کی آمد سے کورونا میں اضافہ ہوا،ترجمان حکومت بلوچستان

    تفتان سے آئے زائرین کی آمد سے کورونا میں اضافہ ہوا، :ترجمان حکومت بلوچستان

    باغی ٹی وی :ترجمان حکومت بلوچستان لیاقت شاہوانی کے مطابق تفتان سے آنے والے زائرین سے کورونا کی لوکل ٹرانسمیشن میں اضافہ ہوا اور صوبے میں لاک ڈاؤن کا مقصد اس کو روکنا ہے۔

    ترجمان بلوچستان حکومت کا کہنا تھا لوکل ٹرانسمیشن کو روکنے کےلیے قرنطینہ مراکز بنا رہے ہیں اور اس کےلیے بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ بھی کرنی ہوگی۔

    لیاقت شاہیوانی نے بتایا کہ بلوچستان حکومت کے پاس روزانہ 700سے800افراد کی ٹیسٹنگ کی صلاحیت موجود ہے اور ہم نے تاحال 1854ٹیسٹ کیے جن میں 154کی مثبت رپورٹ آئی ہے۔ بلوچستان میں کورونا کے مریضوں میں 16لوکل ٹرانسمیشن کے ہیں۔
    انہوں نے بتایا کہ لوکل ٹرانسمیشن روکنے کے لیے15ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ صوبائی حکومت نے مزید ماسکس، ٹیسٹنگ کٹس اور حفاظتی سامان خرید لیا ہے۔
    واضح‌رہے کہ پاکستان میں مریضوں کی تعداد 1865 ہو گئی ہے، سب سے زیادہ مریض پنجاب میں ہیں، پنجاب میں 652، سندھ میں 627، کے پی میں 221، بلوچستان میں 153، گلگت میں 148، اسلام آباد میں 58، آزاد کشمیر میں 6 کرونا وائرس کے مریض ہیں.

    پاکستان میں کرونا وائرس سے اموات 25 ہو چکی ہیں، سندھ میں مزید 61 افراد میں وائرس تصدیق ہونے کے بعد مریضوں کی تعداد بڑھ کر 627 ہوگئے۔ وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کے مطابق صوبے میں اب تک 41 افراد صحت یاب ہوئے، کراچی میں مزید 45 نئے کیسزسامنے آئے جس کے بعد تعداد 294 ہوگئی ہے۔

    سندھ میں ایک اور ہلاکت کے بعد سندھ میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 6 ہو گئی،کرونا وائرس سے پنجاب میں 9، خیبر پختو نخواہ میں 5، گلگت بلتستان میں 2 اور بلوچستان میں ایک ہلاکت ہو چکی ہے، پاکستان میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 25 ہو گئی.

  • لاک ڈاؤن، بچوں کو باہر نہ نکلنے دیں، ورنہ والدین جائیں گے جیل

    لاک ڈاؤن، بچوں کو باہر نہ نکلنے دیں، ورنہ والدین جائیں گے جیل

    لاک ڈاؤن، بچوں کو باہر نہ نکلنے دیں، ورنہ والدین جائیں گے جیل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان حکومت نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے پرسخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے

    خلاف ورزی کرنے والے بچوں کے والدین اور بلا ضرورت باہر نکلنے والوں کی گرفتاری کا فیصلہ کیا گیا ہے،حکومت بلوچستان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی کوئی حد نہیں یہ مشترکہ قومی چیلنج ہے،لاک ڈاؤن کا مقصد کورونا وائرس کاپھیلاؤ روک کر عوام کو محفوظ بنانا ہے اندرون شہر گلیوں،پہاڑوں کےدامن اور تفریحی مقامات پر اجتماع تشویشناک ہے،ایسی سرگرمیاں ،سماجی میل جول اور بے احتیاطی وائرس پھیلنے کا سبب بن سکتی ہیں ،

    حکومت بلوچستان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے دیں،عوامی ،قبائلی ،مذہبی اور سماجی رہنما اپنے اپنے علاقوں میں لوگوں کو آگاہی دیں

    واضح رہے کہ بلوچستان میں کرونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن نافذ ہے،بلوچستان میں کرونا کے 131 کیسز ہیں،

    وزیراعلیٰ بلوچستان نے بلوچستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر 78 قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری کر دیے گئے۔ آئی جی جیل خانہ جات بلوچستان کے اعلامیہ کے مطابق کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر مختلف جیلوں سے 78 قیدیوں کی سزا میں تخفیف کرتے ہوئے ان کی رہائی کے وزیراعلیٰ بلوچستان نے احکامات جاری کر دیے ہیں.

    صوبہ بلوچستان میں لاک ڈاون نافذ کرنے کے بعد کہا گیا ہے کہ تمام افراد اپنے گھروں پر رہیں گے۔ لاک ڈاون اور تمام نقل و حرکت پر پابندی 24 مارچ سہ پہر 12 بجے سے 7 اپریل سہ پہر 12 بجے تک ہوگا۔ تمام سرکاری و نجی دفاتر بند رہیں گے تاہم ضروری سروس کے حامل افراد اس پابندی سے مثتثنی ہونگے۔

    بلوچستان میں لاک ڈاون کا اطلاق شعبہ صحت، میڈیکل سٹور اور لیبارٹری سے منسلک افراد،قانون نافز کرنے والے افراد،وہ افراد جن کو طبی امداد کی ضرورت ہو بشمول ایک اٹینڈنٹ،وہ شخص جو گھر کے قریب سودا سلف اور ادویات خرید رہے ہوں پر نہیں ہو گا،نماز جنازہ کے لئے ایس ایچ او کو اطلاع دینے کا حکم بھی دیا گیا ہے،گھر سے باہر نکلنے کے لئے قومی شناختی کارڈ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے.

  • کوئٹہ لیب کو سیل کردیا گیا

    کوئٹہ میں آج سیکرٹری صحت مدثر وحید ملک اور ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر فہیم خان کی ہدایت پر وزیر اعلی سپیشل کمیٹی برائے صحت کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم کٹکیزئی کی سربراہی میں سینئر ڈرگ انسپکٹر سرور خان کاکڑ اور یعقوب وردگ کے ہمراہ کوئٹہ کی مشہور لیب کو غیر قانونی اور غیر تصدیق شدہ کورونا وائرس کے ٹیسٹ کرنے پر سیل کر دیا گیا۔اور لیب کے مالک کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کروائی جا رہی ھے لیب کورونا وائرس کے غیرتصدیق شدہ ٹیسٹ 6 ہزار روپے میں کر رہی تھی۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی مشینیں خصوصی طور پر باہر سے منگوائی ہیں ڈاکٹر نسیم کٹیکزئی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی سہولت کوئٹہ میں صرف فاطمہ جناح ھسپتال ٹی بی سینٹوریم میں موجود ھے۔اور روزانہ کی بنیاد پر وہاں ٹیسٹ ھو رھے ہیں.

  • بولان میڈیکل کمپلیکس اسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد سلیم ابڑو نے کہا وائرس سے بچاو کے لیے ڈاکٹرز پیرا میڈیکس اور نرسز  کی جانب سے ضروری حفاظتی طبی کٹس کی فراہمی کے مطالبات پر عمل درآمد شروع کردیا

    کوئٹہ( اے پی پی) بولان میڈیکل کمپلیکس اسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد سلیم ابڑو نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے بچاو کے لیے ڈاکٹرز پیرا میڈیکس اور نرسز کی جانب سے ضروری حفاظتی طبی کٹس کی فراہمی کے مطالبات پر عمل درآمد شروع کردیا گیا ہے رواں ہفتے حسب ضرورت مزید سامان بھی فراہم کیا جائے گا طب سے وابستہ کوئی اہلکار ہڑتال پر نہیں عوام ایسی افواہوں پر کان نہ دھریں کورونا وائرس سے بچاو کے لئے عوام احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اپنے گھروں میں آرام کریں اور ذرا برابر نہ گھبرائیں خوب نیند کریں ڈاکٹرز جاگ رہے ہیں پورے ملک میں صحت کا شعبہ متحرک ہے وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری صحت تمام سرگرمیوں کا ازخود باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں زرائع مواصلات ہوائی روٹس اور دیگر مشکلات کے باوجود صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے تمام متعلقین اپنی جائے تعیناتیوں پر موجود ہیں اس نازک وقت میں اپنے ملک عوام اور حکومت کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ایم ایس بی ایم سی ڈاکٹر محمد سلیم ابڑو نے کہا کہ ڈاکٹرز نے پیشہ ورانہ حلف (Hippocratic oath ) لیا ہوا کہ نہ کسی کو نقصان پہنچائیں گے اور نہ کسی کی تکلیف کو نظر انداز کریں گے انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں مطلوبہ چیزیں فراہم نہ بھی کی گئیں تو کسی سے کوئی گلہ نہیں کرینگے قربانی کے لیے تیار ہیں ہم پرعزم ہیں کہ دشمن کو شکست دیں گے اور اللہ تعالی کی مدد سے فتح ہماری ہی ہوگی.

  • اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ نے کیا پھر سے کریک ڈاون۔

    کوئٹہ اسسٹنٹ کمشنر ندا کاظمی نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف کریک ڈاون کیا اور خلاف ورزی کرنیوالے 41 افراد کو گرفتار بھی کرلیا گیا کریک ڈاون کے دوران متعدد گراں فروشوں اور خلاف قانون کھلی ہوئی دکانوں کو بھی سیل کیا گیا اور کہا کے لوگ دفعہ 144 کی خلاف ورزی نہ کرتے ہوئے گھروں میں رہیں خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائیگی،اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ.

  • عالمی ادارہ صحت سے وابستہ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کے ہسپتالوں میں داخل کورونا کے متاثرین میں سب کی حالت بہتر ہے۔

    کوئٹہ میں عالمی ادارہ صحت سے وابستہ ڈاکٹر داؤد ریاض نے بتایا کہ بلوچستان میں 110 میں سے صرف تین افراد میں بیماری کی علامات ظاہر ہوئیں
    بلوچستان میں منگل کی رات تک 110 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تاہم متاثرین میں سے97 فیصد میں بیماری کی علامات ظاہر ہوئیں اور نہ ہی ان کی صحت میں کوئی خرابی آئی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ متاثرین کی صحت زیادہ متاثر نہ ہونا جہاں اچھی بات ہے وہیں ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ علامات ظاہر نہ ہونے کی وجہ سے مقامی سطح پر وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس کے اثرات صرف خاندان میں ہی نہیں بلکہ بہت دور تک جا سکتے ہیں۔

    کوئٹہ میں عالمی ادارہ صحت سے وابستہ ڈاکٹر داؤد ریاض نے اردو نیوز کو بتایا کہ بلوچستان میں کورونا کے 110 کنفرم کیسز میں سے صرف تین افراد میں بیماری کی علامات ظاہر ہوئیں۔ باقی107 میں یا تو علامات ظاہر نہیں ہوئیں یا پھر بالکل ہلکی علامات تھیں۔

    اس بیماری کی علامات میں کھانسی، بخار، جسم میں درد اور سانس لینے میں دقت شامل ہیں۔ ان کے مطابق متاثرین میں دو کے سوا باقی سب کی ٹریول ہسٹری موجود ہے اور انہوں نے ایران کا سفر کیا۔

    صوبائی محکمہ صحت کے مطابق بلوچستان میں اب تک 1437 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کئے گئے ہیں ان میں سے بیشتر وہ زائرین ہیں جو ایران سے واپس آئے اور انہیں کوئٹہ اور تفتان کے قرنطینہ مراکز میں رکھا گیا ہے۔ 1437 افراد میں سے 110 میں مرض کی تشخیص ہوئی۔ 1111 افراد کے ٹیسٹ منفی آئے جبکہ باقی 216 ٹیسٹ کے نتائج ابھی آنا باقی ہیں۔

    ’دو ایسے افراد میں بھی مرض کی تشخیص ہوئی ہے جنہوں نے حالیہ دنوں میں بیرون ملک کا سفر نہیں کیا۔ یہ مقامی منتقلی کے پہلے کیسز ہیں۔‘

    محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق کوئٹہ کے شیخ زید ہسپتال میں موجود کورونا کے تصدیق شدہ 105 متاثرین میں خواتین، بچے، نوجوان اور بوڑھے ہرعمر کے لوگ شامل ہیں۔ ان میں 60 سال سے اوپر کے تقریباً بیس افراد بھی شامل ہیں مگر اب تک کورونا کی بیمار ی کی وجہ سے کسی کی حالت خراب نہیں ہوئی۔

    متاثرین میں 64 فیصد مرد اور46 فیصد عورتیں ہیں۔ دس سال سے کم عمر پانچ بچے، پندرہ سال سے کم عمر کے چار بچے جبکہ 18 سے 35 سال کے 28 افراد شامل ہیں۔

    فاطمہ جناح چیسٹ اینڈ جنرل ہسپتال کوئٹہ میں کورونا کے مریض کے لیے انتہائی نگہداشت یونٹ قائم کیا گیا ہے۔ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر نور اللہ موسیٰ خیل کے مطابق ہسپتال میں کورونا کے ایسے مریضوں کو لایا گیا جن کو باقی بیماریوں کی وجہ سے پیچیدگیاں لاحق تھیں مگر کسی میں کھانسی، بخاراورجسم میں شدید درد جیسی علامات موجود نہیں تھیں۔ ایک 65 سالہ شخص کی موت ہوئی مگر وہ بھی شوگر کا مریض تھا اور اس کے پاؤں میں لگنے والا زخم شوگر کی وجہ سے بگڑ چکا تھا۔ تھیلیسمیا کے شکار جس بارہ سالہ بچے میں کورونا کی تشخیص ہوئی تھی اسے بھی صحت بہتر ہونے پر دوبارہ شیخ زید ہسپتال بھیج دیا گیا۔

    ان کے مطابق ہسپتال میں اب تک ایسے کسی مریض کو نہیں لایا گیا جو پہلے صحت مند تھا اور کورونا کی تشخیص کے بعد اس کی طبعیت خراب ہوئی ہو۔

    شیخ زید ہسپتال کوئٹہ میں موجود علمدار روڈ کوئٹہ کے 49 سالہ رہائشی (س ح) میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے مگراب تک بیماری کی کوئی بھی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔

    س ح نے یہ بھی بتایا کہ ’ایران سے واپس آئے تقریباً چوبیس دن ہوگئے ہیں۔ دو ہفتے تفتان قرنطینہ مرکز جبکہ نو دن کوئٹہ کے میاں غنڈی قرنطینہ مرکز میں گزارے۔

    کرونا ٹیسٹ مثبت آنے پر حکومت نے شیخ زید ہسپتال منتقل کردیا ہے میرے ساتھ کمرے میں چھ دیگر افراد بھی ہیں جبکہ پورے وارڈ میں مجموعی طور پراکیس افراد ہیں۔ ان میں مجھ سے بڑی عمر کے افراد بھی شامل ہیں لیکن اب تک ہم میں سے کسی میں بھی کورونا کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔‘

    عالمی ادارہ صحت سے وابستہ ڈاکٹر داؤد ریاض کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کے ہسپتالوں میں داخل کورونا کے متاثرین میں سب کی حالت بہتر ہے

    شیخ زید ہسپتال میں ہی موجود مری آباد کوئٹہ کے رہائشی تینتیس سالہ (ح ) کی اہلیہ اور آٹھ سالہ بیٹی کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ’مجھے میری اہلیہ یا میری بیٹی میں سے کسی میں بھی علامات ظاہر نہیں ہوئیں اور بیس دن گزر جانے کے بعد بھی طبعیت میں کوئی خرابی محسوس نہیں ہوئی۔ ہمارے ساتھ تین سالہ بیٹی بھی تھی جس کا ٹیسٹ نیگٹیو آیا ہم نے انہیں گھر بھیج دیا۔‘

    عالمی ادارہ صحت سے وابستہ ڈاکٹر داؤد ریاض کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کے ہسپتالوں میں داخل کورونا کے متاثرین میں سب کی حالت بہتر ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہاں کے لوگوں کی قوت مدافعت مضبوط ہے اس لیے ان پر بیماری کا اثر کم ہوا۔ یہ نئی بیماری ہے اور پھیلنے کے ابتدائی مراحل میں ہے یہ وائرس اگر مقامی سطح پر پھیلا تو اپنا پیٹرن چینج کرسکتا ہے اس کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا کہ ہمارے لوگوں پر اس بیماری کا کتنا اثر ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو یہ بیماری پہلے سے بیمار اور ضعیف العمر افراد پر زیادہ اثرانداز ہوتی ہے۔

    ڈاکٹر داؤد ریاض کے مطابق اس وقت دنیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنے والے وہ لوگ ہیں جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ جن میں علامات ظاہر ہوجاتی ہیں وہ ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں تو ان کی نشاندہی ہوجاتی ہے اور انہیں علیٰحدہ بھی کردیا جاتا ہے مگر جن پر بیماری کا زیادہ اثر نہیں ہوتا اور علامات بھی ظاہر نہیں ہوتیں وہ انجانے میں بیماری پھیلاتے رہتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوام حکومتی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے گھروں میں رہیں۔