کوئٹہ کی تاجر برادری کل بروز اتوار سے کورونا وائرس کو شکست دینے کیلیٔے اپنا کاروبار مکمل طور پر بند رکھیں میڈیکل ھوٹل اشیائے خوردونوش قصاب سبزی فروش دودھ دھی کی دکانیں شٹرڈاؤن سے مستسنٰی ھونگی عوام الناس گھروں میں رھیں غیرضروری طور پر گھروں سے نکلنے سے گریز کریں تاکہ وائرس پھیلنے کا اندیشہ نہ ھو اور صورت حال بہتر بنائی جاسکے
اللہ داد ترین ترجمان مرکزی انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ.
Category: کوئٹہ
اپنا کاروبار مکمل طور پر بند رکھیں

بلوچستان میں کرونا وائرس کے مزید کیس،چیف سیکرٹری نے کی شہریوں سے اپیل
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں کرونا کے 11 نئے کیسز سامنے آ گئے جس کے بعد بلوچستان میں مریضوں کی مجموعی تعداد 103 ہو گئی
چیف سیکرٹری بلوچستان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں کرونا وائرس کے کیس کوئٹہ میں سامنے آئے،یہ وائرس میل جول سے پھیلتاہے،عوام سے اپیل ہے وہ گھروں میں محدود رہیں.
دوسری جانب بلوچستان کے محکمہ داخلہ نے تین ہفتوں تک صوبے بھر کے تمام شاپنگ مال، ریستوران اور بازاربند کردیئے۔ ریسٹورینٹس سے کھانا لے جانے اور گھر پہنچانے کی اجازت ہوگی۔ حکم نامے کے مطابق شہروں میں چلنے والے بسیں اوربلوچستان سے چلنے والی بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بھی تین ہفتوں کیلئے بند رہیں گی۔
وزیراعظم پرتنقید کا وقت نہیں، کرونا وائرس کا پاکستان مقابلہ کر سکتا ہے، بلاول
کرونا وائرس، سندھ حکومت نے انتہائی اقدامات کا فیصلہ کر لیا،بین الصوبائی بارڈر ہوں گے بند
گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران
بھارت میں کرونا کے 44 مریض، مندر میں بتوں کو بھی ماسک پہنا دیئے گئے
محکمہ داخلہ بلوچستان نے 3 ہفتوں کےلئے صوبے بھر میں دربار، پارک اور کھیلوں کے کلب بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے. ان مقامات کو کروناواوئرس کے خطرے کے پیش نظر بند کیا گیا ہے.
بھوک ہڑتال ختم کر دی گئی
کوئٹہ میں کل میاں غنڈی کے قرنطینہ سینٹر میں موجود زائرین نے جو کہی دنوں سے بھوک ہڑتال کیا ہوا تھا، آغا رضا صاحب، سابقہ وزیر قانون و رکن شوریٰ عالی، مجلس وحدت مسلمین، پاکستان کی باتوں کو سننے کے بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ زائرین نے آغا رضا صاحب سے مخاطب ہو کر کہا کہ چونکہ آپ (آغا رضا) اسوقت وزیر اعلیٰ صاحب کے رکن کابینہ بھی نہیں ہو اور نہ ہی ممبر صوبائی حکومت، لیکن پھر بھی آپ اس قدر پرخلوص کوشش کر رہے ہیں ہر حوالے سے (کھانے، پینے، صفائی، ستھرائی، میڈیکل ٹیسٹ، زائرین کی گھر واپسی و دیگر) جسکو جھٹلایا نہیں جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں زائرین نے کہا کہ آغا رضا صاحب شروع کے دنوں سے اور ہمیشہ سے دین و قوم کی خدمت سچے انداز میں کی ہے اور جھوٹ کہتے ہوئے نہیں سُنا ہے اور آغا رضا صاحب اقدار قومی و دینی کے مکمل پابند شخصیت ہیں، اسوجہ سے ہڑتال کو ختم کر رہے ہیں۔
کوئٹہ میڈیسن ھولسیلرز نے سٹاکنگ شروع کردی
کرونا وائرس کا علاج ریسوچن ٹیبلیت یعنی کلوروکوین سے کنٹرول ہوجاتا ہے یہ خبر سنتے ھی میڈیسن ھولسیلرز نے سٹاکنگ شروع کردیا ۔ ظاھر سی بات جیسے 90 روپے والا ماسک کا ڈبہ 1200 کا ھوگیا اب یہ 750 والے ریسوچن ٹیبلیت پتہ نھیں کتنا اوپر جائیگا۔۔
اسسٹنٹ کمشنر سید ندا کازمی سے گزارش ھیں کہ پھلے کی طرح ایک بار پھر میڈیسن مارکیٹ کا دورہ کرے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔
کوئٹہ میں کوئلے کی کان میں دھماکہ
کوئٹہ میں کوئلے کی کان میں دھماکہ
باغی ٹی وی : کوئٹہ میں کوئلے کی کان میں دھماکہ سے کم سے کم 7 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہوگئے۔
باغی ٹی وی :چیف انسپکٹر مائنز شفقت فیاض کے مطابق دھماکہ کوئلے کی کان میں گیس بھرنے کے باعث ہوا۔ حادثے میں جاں بحق افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔
چیف انسپکٹر مائنز کا کہنا ہے کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشیں آبائی علاقوں کو روانہ کردی گئی ہیں۔ حادثے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں .دوسری جانب جنرل سیکریٹری مائنز اینڈ لیبر سلطان خان نے الزام لگایا ہے کہ جمعہ کے دن چھٹی ہونے کے باوجود کان کنوں کو کام پر بھیجا گیا۔
ذرائع کے مطابق جمعہ کی چھٹی ہونے کے باوجود کان کنوں کو کوئلہ نکالنے کیلئے بھیجا گیا۔ کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھر جانے سے دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں کان منہدم ہوگئی۔دھماکے سے کان میں موجود 7 کان کن جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہو گئے۔ کئی گھنٹوں کی امدادی کارروائیوں کے بعد کان کنوں کی لاشیں نکالی کر آبائی علاقوں کو روانہ کر دیا گیا ہے۔
جاں بحق کان کنوں میں 4 کا تعلق ہزارہ برادری اور تین کا ڈیگاری سے بتایا جاتا ہے۔

تفتان بارڈر پر زائرین کی حالت زار، حالات وزیراعظم کے دعووں کے برعکس
تفتان بارڈر پر زائرین کی حالت زار، حالات وزیراعظم کے دعووں کے برعکس
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے پاکستان نے ایران کے ساتھ بارڈر بند کر دیا ہے، ایران سے آنے والے زائرین کو تفتان بارڈر پر رکھا گیا ہے، جہاں کی ایک ویڈیو باغی ٹی وی کو موصول ہوئی ہے، ویڈیو سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تفتان بارڈر پر متاثرین کی حالت زار ہیں، سینکڑوں کی تعداد میں زائرین ایک ہی چھت کے نیچے جمع ہیں.تفتان بارڈر پر شہریوں کے انتظامات کے حوالہ سے شہریوں میں خدشات پائے جائے ہیں ، شہریوں کا کہنا ہے کہ وفاق نے ہمیشہ بلوچستان کو نظر انداز کیا تفتان قرنطینہ سینٹر پر انتہائی گندگی کے ڈیر لگے ہے۔ اچھے لوگ بھی کرونا وائرس کا شکار ہو رہے ہیں، انتظامات ناکافی ہیں، کرونا کا مریض کون ہے کوئی پتہ نہیں چل رہا، شہری ایک دوسرے کے اوپر چڑھے ہوئے ہیں، شہریوں کو اپنے سامان کی بھی فکر ہے، کوئی بیٹھا تو کوئی لیٹا نظر آتا ہے، زائرین کی حالت زار پر صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت مطمئن ہے لیکن شہری شکایات کے انبار لگا رہے ہیں
تافتان بارڈ پر یہ ہیں بلوچستان گورنمنٹ کے انتظامات جن کی وزیر اعظم عمران خان نے تعریف کی ہے۔ #PakistanFightsCorona @jam_kamal @ImranKhanPTI#CoronaInPakistan #CoronaVirusUpdate pic.twitter.com/Bo9r3G7YiQ
— Baaghi TV باغی ٹی وی (@BaaghiTV) March 19, 2020
تفتان سے اگر کرونا مزید پھیلا تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا وفاقی حکومت یا صوبائی حکومت؟ یہ ہے ایسا سوال جس کا کوئی جواب نہیں دے رہا، وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز تفتان بارڈر پر زائرین کے کیمپ کی تعریف کی تھی لیکن اصل صورتحال کچھ اور ہے، متاثرین مشکل کا سامنا کر رہے ہین، سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بھی اس حوالہ سے نوٹس لینے کا فیصلہ کیا ہے، اس مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار کون ہے، کوئی ذمہ داری نہیں لے گا ، پاکستان میں کرونا کے مریض مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں اور زیادہ مریضوں کی تعداد تفتان سے واپس آنے والے زائرین کی ہی ہے
بولان میڈیکل کے طالبات روڈ پر
کوئٹہ بولان میڈیکل کے طالبات میں کرونا کا حملہ کے بعد طالبات روڈ پر نکلے جب حفاطتی کٹس نہیں تو چھٹی کیوں نہیں دے رہے ہیں
بی ایم سی نرسنگ اسکول کے دو طالبات میں کرونا وئرس پایا گیا ھے ڈاکٹر بچیوں سے بغیر ماسک حفاطتی کٹس بغیر دوسرے سہولیات سے ان کو مریضوں کے ٹریٹ منٹ کیلئے کہتے ہے سارے تعلیمی ادارے بند ہیں۔ سفارشی طالبات گھر جا چکے ہیں۔ ھاسٹل میں سختی کر رہے ھین اور پرینسیپل ڈاکٹر منظور نے اپنے جاننے والے اور کچھ طالبات کو چھٹی دی چکے ہیں اور اپنا نمبر بھی بند کیا ھے۔ اور جو ماسک دی گئی ھیں وہ بھی کرونہ پروف نہیں اکسپائر بھی ہیں اور نا حفاطتی کٹس دی ہیں۔ کرونا وائرس کے مریضوں کو علاج بھی کر رہے ہیں۔ تو کیسے ان پر وئرس کے اثرات نہیں آتے۔
کوئٹہ شیخ زاید ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں زیرعلاج شخص کا انتقال
شیخ زاید ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں زیرعلاج شخص انتقال کرگیا ہے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیخ زاید ہسپتال ڈاکٹر عبدالغفار کے مطابق متوفی گزشتہ روز تفتان سے کوئٹہ پہنچا تھا جہاں اسے کورونا کے شبے میں آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا تھا۔
ڈاکٹر عبدالغفار نے بتایا کہ انتقال کرنے والے شخص میں کوروناکی تصدیق نہیں ہوئی تھی دوسری جانب متوفی کی بیٹی نے الزام لگایا کہ میرےوالد کی حالت خراب تھی لیکن اسپتال میں کوئی ڈاکٹر اور عملہ موجود نہیں تھا جب کہ ہسپتال میں انتظامات انتہائی ناقص تھے، پینے کا پانی بھی میسر نہیں تھا۔کوئٹہ میں کرونا وائرس کے خلاف آرچر روڈ پر تاجر کا اقدام
کوئٹہ میں لوگوں کے ہاتھ صاف پانی ہیند واش ہند سنیٹئیزر سے دہلوانے کی مہم آرچر روڈ پے تاجر نے سٹال لگا دیا عوامی خدمت کا عزم تاجر کا کہنا ہے کے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے عوامی آگاہی کے لئے اپنے دستیاب وسائل میں دکان کے باہر ہی انٹی بکٹیریا صابن ہند واش ہند سیٹائیزر سے ہاتھ دہلوانے کا مفت سٹال لگایا ہے کیوں کے یہ ایک وبا ہے جس سے اس وقت تقریبن پوری دنیا متاثر ہے تو ہمیں اس کا ہر حال میں مقابلہ کرنا ہے ملک اور عوام کے لئے جو کر سکھتے ہیں کرینگے اور یہ سٹال لگایا ہے اور تاجر اور عوام کے ساتھ مدد کر کے اس کے علاوہ بھی بازار میں کچھ پوائنٹس پر سٹال لگانے کا خوائش مند ہوں۔اس کے علاوہ عوام نے ہاتھ دھوے اور تاجر کے اس اقدام کو سراہا اور کہا کے یہ ایک اچھا اقدام ہے جس سے بازار میں آئے عوام کو ہاتھ دھونے کے ساتھ ساتھ ایک آگاہی بھی ہوگی کیوں کے اس وقت اس وبا سے بچاؤ احتیاط ہی ہے۔
قرنطینہ نہیں بلکہ سیلاب متاثرین کی ایک بستی ہے تفتان میں
بلوچستان حکومت کی جانب سے تفتان میں بنائی گئ قرنطینہ کے مناظردیکھ کرلگتاہے یہ قرنطینہ نہیں بلکہ سیلاب متاثرین کی ایک بستی ہے تفتان میں آبادکی گئ خیمہ بستی میں ہزاروں افرادموجودہیں ایک خیمے میں پانچ سےچھ افراد رہنے پرمجبورہیں، پینے کے لیے بستی کے بیچوں ایک نیلے رنگ کے ڈرم پڑئے ہے، بستی کے لوگ اس ڈرم سے پانی کوک پیپسی اور پانی کی خالی استعمال شدہ خالی بوتلوں میں پانی بھررہے ہیں اور اسی ایک ہی بوتل سے سب منہ لگارکر پانی پی رہے ہیں، عورتیں آپس میں بیٹھ کر بات چیت کررہی ہیں مردحضرات ایک گروپ کی شکل میں بیٹھ کر حالاتءحاضرہ پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔
کھانے پینے کاکوئی انتظام موجودنہیں لوگ کھاناخریدکرکھانے پرمجبورہیں۔ قرنیطہ میں بسترکرائے پردستیاب ہیں پیسہ دیں بسترلیں کوئی ڈاکٹرموجودنہیں کوئی دوا دستیاب نہیں یہ سیلاب متاثرین کی بستی ہے یاقرنطینہ۔
لوگ چوری چھپے قرنطینہ سے فرار ہوکر شہروں میں پہنچ رہے ہیں جن کاکوئی ریکارڈبھی موجودنہیں ان کی وجہ سے دوسرے لوگ بھی متاثر ہوگے جو لوگ قرنطینہ میں موجودہیں اور انہیں جس حال میں رکھاگیاہے اس سے ان سب کے متاثر ہونے کا سنگین خدشہ ہے اب تک جتنے زائرین تفتان قرنطینہ میں رہ کر آئے ہیں ان میں وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔
تفتان قرنطینہ میں بلوچستان حکومت کی سنگین مجرمانہ غفلت نے پورے ملک کو سنگین خطرات سے لاحق کردیاہے تفتان قرنطینہ کے زائرین خودکش بمباروں کی طرح پورے ملک میں پھیل گئے ہیں اب اللہ خیر کرے۔محبوب ندیم۔


