کوئٹہ شہر کے عین وسطی علاقے ملتانی محلے شاوکشاہ روڈ اور ملحقہ علاقوں میں گیس کی بندش گیس نہ ہونے علاقہ مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے دوپہر 2 بجے سے گیس بند ہے شدید سرد موسم میں گیس نہ ہونے سے بچوں اور بزرگوں کو مشکلات کا سامنا ہے گیس نہ ہونے کھانا پکانے سے بھی قاصر ہیں سوئی سدرن گیس کمپنی نے کسی پیشگی اطلاع کے بغیر گیس بند کی ہے اعلی حکام گیس کی غیر اعلانیہ بندش کا نوٹس لیں، علاقہ مکینوں کا مطالبہ
Category: کوئٹہ
بلوچستان کے تمام سرکاری اداروں میں بائیو میٹرک حاضری معطل
کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر بلوچستان کے تمام سرکاری اداروں میں بائیو میٹرک حاضری ایک ماہ کے لئے معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے ۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دیگر صوبوں کے زائرین کو بحفاظت متعلقہ صوبے کی سرحد تک پہنچاکر اس صوبے کی انتظامیہ کے حوالے کیا جائے گا۔
یہفیصلے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیئے گئے۔
اجلاس میں دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے زائرین کی ان کے صوبوں کو واپسی کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حافظ عبدالباسط نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ وہ دوسرے صوبوں کے داخلہ سیکریٹریوں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور دوسرے صوبے اپنے زائرین کی واپسی کے لئے تیار ہیں۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی سی آر ٹیسٹ کٹس کے حصول اورزائرین کی واپسی کے حوالے سے وزیراعظم اور دیگر صوبوں کے وزراءاعلیٰ سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کرونا کے چیلنج سے موثر طور پر نمٹنے کے لئے متعلقہ محکموں کو درکار فنڈز اور وسائل کی فوری فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں ڈویژنل اور ضلعی ہسپتالوں میں کم سے کم پچاس پچاس بستروں پر مشتمل قرنطینہ اور آئسولیشن مراکز کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ۔تہران سے آنے والے زائرین کے ایک خاندان کو مستونگ انتظامیہ نے روک کر نوشکی انتظامیہ کے حوالے کر دیا
نوشکی – تہران سے آنے والے زائرین کے ایک خاندان کو جس میں دو خواتین 3 بچے اور ایک مرد شامل ہے مستونگ انتظامیہ نے روک کر نوشکی انتظامیہ کے حوالے کر دیا زائرین پشاور کے رہائشی ہیں جو بذریعہ ٹیکسی تفتان سے نکلے تھے جنہیں نوشکی پولیس نے رات ڈیڑھ بجے بجے سول ہسپتال پہنچا دیا. جنہیں فوکل پرسن آئسولیشن وارڈ ڈاکٹر ظفر مینگل انچارج آئسولیشن وارڈ ڈاکٹر محمد ناصر خان نے اسکین کیا ایک بار پھر یہ سوال سامنے آ رہا ہے کہ تفتان سے بذریعہ ٹیکسی موٹر کار یہ خاندان ضلع مستونگ تک کیسے پہنچا چاغی اور نوشکی کے سیکورٹی چیک پوسٹوں سے یہ خاندان کیسے نکلا جو مستونگ تک پہنچا جبکہ اے سی نوشکی ثوبان سلیم دشتی نے آئسولیشن وارڈ سول ہسپتال میں میڈیا کو کوریج کرنے سے روکا مسافروں سے ڈیٹا لینے سے زبردستی منع کردیا انہوں نے کہا کہ یہ آفیشل لوگ ہیں جن کے لئے ہدایات ہمیں اوپر سے آئی ہیں. ان میں خواتین اور بچے شامل ہیں. مذکورہ خاندان کو آج رات نوشکی سرکٹ ہاوس میں رکھا گیا ہےاسسٹنٹ کمشنر کے مطابق کل صبح چیف سیکٹری کی ہدایات کی روشنی میں مذکورہ خاندان کو کوئٹہ جانے دیا جائے گا یا تفتان واپس کر دیا جائے گا زیر نظر گاڑی جسمیں تہران سے آیا ھوا خاندان سفر کر رہاتھا.

کرونا وائرس، حفاظتی اقدامات، پاک افغان بارڈر آج بھی بند،تجارتی سرگرمیاں معطل
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس سے بچاوَ،پاک افغان بارڈر آج بھی بند رہے گا
سرحد کی بندش سےنیٹو سپلائی،افغان ٹرانزٹ ٹریڈمعطل ہے،سرحدکی بندش سےسینٹرل ایشیائی ممالک کےساتھ تجارتی سرگرمیاں بھی معطل ہے،افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی بھی تعطل کا شکار ہے
محکمہ صحت کے مطابق پاک افغان سرحد کھلنے کے بعد بھی اسکرینگ کا عمل جاری رہےگا،
واضح رہے کہ پاکستان نے کروناوائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے دو دن قبل اگلے سات دنوں تک چمن میں پاک افغان سرحد کی بندش میں مزید سات دن کی توسیع کردی تھی ، پاک افغان سرحد اب 17 مارچ تک بند رہے گی جس کے بعد دوبارہ کوئی فیصلہ کیا جائے گا
کرونا وائرس، چین سے طالب علم پاکستان پہنچا تو اسکے ساتھ کیا ہوا؟
کرونا وائرس، مائیں رو رہی ہیں ،حکومت سو رہی ہے، مشاہد اللہ خان کی سینیٹ میں کڑی تنقید
گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران
بھارت میں کرونا کے 44 مریض، مندر میں بتوں کو بھی ماسک پہنا دیئے گئے
واضح رہے کہ پاک ایران تفتان بارڈر پر ایران سے صرف پاکستانیوں کو آنے کی اجازت ہے، اور تمام افراد کو قرنطینہ میں رکھا جا رہا ہے، کلیئر ہونے کے بعد مزید سفر کی اجازت دی جا رہی ہے، تفتان میں خیمہ بستی بھی قائم کی گئی ہے۔کرونا وائرس کے سلسلے میں ایران سے ملحقہ اضلاع گوادر، ماشکیل، مند اور پنجگور میں ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی۔ کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں تعلیمی ادارے بھی 15 مارچ تک بند ہیں۔24 فروری کو ایران میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے پاکستان الرٹ ہو گیا تھا اور تفتان بارڈر بند کر دیا گیا تھا، اس کے ساتھ ٹرانزٹ گیٹ، راہداری اور پاسپورٹ گیٹ بھی بند کر دیے گئے تھے
خیال رہے کہ اب تک ملک میں کورونا وائرس کے 20 کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں سے کراچی میں 15، اسلام آباد میں 2 جب کہ گلگت بلتستان 2 اور بلوچستان سے ایک کیس کی تصدیق ہوچکی ہے۔ان مریضوں میں سے سب سے پہلے سامنے آنے والے کراچی کے یحییٰ جعفری نامی نوجوان کو صحت یابی کے بعد اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے جب کہ باقی تمام متاثرہ افراد زیر علاج ہیں
بلوچستان میں گیس پریشر کا دم گھٹنے لگا
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مختلف علاقوں سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سردی کی شدت میں اضافہ سے گیس پریشر کا دم گھٹنے لگا ،سیٹلائٹ ٹائون ،عبداللہ ٹائون ،پشتون آباد سمیت مختلف علاقوں میں گیس پریشر کی کمی نے صارفین کے معاملات زندگی بری طرح متاثر کررکھے ہیں بلکہ پشین ،خانوزئی ،زیارت ،مستونگ ،قلات ،منگوچر سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں گیس پریشر کی کمی کا صارفین کو سامنا ہے ۔تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مختلف علاقوں سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں ایک مرتبہ پھر بارشوں اور پہاڑی علاقوں پر برف باری کے سلسلے کے ساتھ ہی سردی کی شدت میں اضافہ ہواہے بلکہ سردی کی شدت بڑھتے ہی گیس پریشر کا مسئلہ گھمبیر صورتحال اختیار کرگیاہے اکثر علاقوں میں گیس کے پھڑپھڑاتے چولہے صارفین کیلئے درد سر بن گئے ہیں بلکہ پریشر کی کمی اور لوڈشیڈنگ سے انسانی جانوں کے ضیاع کے بھی خدشات پیدا ہوچکے ہیں یوں تو ہر سال موسم سرما میں کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں گیس پریشر کی کمی کا صارفین کو سامنا کرنا پڑتاہے تاہم اس سال اس مسئلے نے مزید بھی گھمبیر صورت اختیار کرلی ہے اسی لئے حکومت اور اپوزیشن میں شامل جماعتوں کے منتخب نمائندوں کی جانب سے اس سلسلے میں احتجاج کیاگیا بلکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں بھی صارفین گیس پریشر کی کمی اور لوڈشیڈنگ کے خلاف سراپاحتجاج نظر آئے یہی نہیں گیس پریشر کی کمی ،بیشی اور لوڈشیڈنگ کے باعث صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں صارفین کو جانی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑاہے ،گیس پریشر کا مسئلہ گزشتہ دو ہفتے موسم گرم رہنے کے ساتھ ہی سلجھنا شروع ہوا تھا تاہم ایک مرتبہ پھر بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بارشوں اور برف باری کے نئے سلسلے کے ساتھ ہی سردی کی شدت میں اضافہ ہواہے جس کی وجہ سے گیس پریشر کی کمی کی بھی شکایات شروع ہوگئی ہے گزشتہ روز سیٹلائٹ ٹائون ،عبداللہ ٹائون ،پشتون آباد اور ملحقہ علاقوں میں گیس پریشر کی کمی اور لوڈشیڈنگ کے باعث صارفین کی گھریلو اور کاروباری زندگی بری طرح متاثر ہوکر رہ گئی ہے بلکہ پشین سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مختلف علاقوں میں سرے شام اور صبح سویرے گیس پریشر کی کمی تو کجا گیس لوڈشیڈنگ کردی جاتی ہے جس کی وجہ سے سردیوں کے موسم میں عوام کو سخت مشکلات کاسامنا کرناپڑاہے بلکہ اکثر صارفین گیس بلوں کے ساتھ ساتھ ایندھن کے طورپر لکڑیاں ،کوئلہ جلانے پر مجبور ہوچکے ہیں ان کاکہناہے کہ گیس کی ضرورت بلوچستان میں سردیوں میں ہی صارفین کو ہوتی ہے گرمیوں کے دوران گیس پریشر کی بحالی کا انہیں کوئی خاص فائدہ نہیں کیونکہ بلوچستان میں شدید سردی پڑتی ہے پشین کے علاوہ خانوزئی ،زیارت ،منگچر ،قلات ،مستونگ میں بھی گیس پریشر کی کمی پر لوگوں کو مشکلات کاسامناہے ۔صارفین کاکہناہے کہ گیس کمپنی گیس پریشر کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے پر کوئی توجہ نہیں دے رہی جس کی وجہ سے انہیں مشکلات درپیش ہیں دریںاثناء سوئی سدرن گیس کمپنی کوئٹہ کے اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ ضروری مرمت کے سلسلے میں 12مارچ2020ء بروز جمعرات صبح10بجے شام 5بجے تک موسیٰ کالونی ،خلجی کالونی ،قادری آباد ،مندوخیل آباد ،بھوسہ منڈی ،کلی تاجو،بخت سٹاپ ،بلوچ کالونی ،نورزئی ٹائون ،سریاب روڈ ،گوہر آباد ،کیچی بیگ ،فیض آباد، بارکزئی ٹائون اور ان سے ملحقہ علاقوں کو گیس کی سپلائی بند رہے گی ۔صارفین گیس سے گزارش ہے کہ اس دورانیہ میں متبادل ایندھن کاانتظام کرلیں ۔انتظامیہ سوئی سدرن گیس کمپنی اس زحمت پر معذرت خواہ ہے ۔
کھلی کچہری کا انعقاد
ہرنائی ایس پی ہرنائی/زیارت محمد صدیق کی جانب سے آیس پی آفس ہرنائی میں علاقے کو درپیش مسائل کے حوالے سے کھلی کچہری کا انعقاد۔ جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ علاقے کو درپیش اہم چیلنجز پر بات چیت۔
کھلی کچہری کی قیادت ایس پی ہرنائی/زیارت محمد صدیق نے کی۔ جبکہ اس موقع پر مذہبی شخصیات، ممتاز قبائلی شخصیات، تاجر برادری، میڈیا نمائندگان نے شرکت کی۔ جن میں پی ٹی آئی کے عبدالستار ترین ، ملک اکبر خان ترین، بلوچستان عوامی پارٹی کے شیر باز خان ترین، حاجی غلام جان ،عوامی نیشنل پارٹی کے سید یوسف شاہ، انجمن تاجران کے صدر فاضل خان ترین ، میڈیکل سٹور ایسوسیشن صدر ڈاکٹر عبدالصمد ترین ، سبزی منڈی جنرل سیکرٹری حاجی محمد رفیق ترین، اقلیتی برادری ،جمعیت کے قاری عارف شاہ ، نوجوان ایکشن کیمٹی کے عبدالحق میانی ، پولیس انتظامیہ اور دیگر نے شرکت کی۔
ہرنائی : موقع پر ایس پی ہرنائی/زیارت نے کہا۔ کہ امن امان، منشیات اور عوامی مسائل کے حوالے سے جو بھی مسلہ ہو۔ تو اس بابت ڈائریکٹ مجھے واٹس اپ کرسکتے ہو۔ یا پھر ایس پی آفس کے سامنے شکایت بکس لگا ہے اس میں احوال دے کیونکہ عوام کی تعاون کے بغیر پولیس ادھوری ہے۔
انشااللہ آپکی جان و مال کی حفاظت ہماری زمہ واری ہیں۔
آخر میں ایس پی پولیس نے کھلی کچہرے میں آئے عوام کا شکریہ ادا کیا اور ٹی پارٹی کی۔کورونا وائرس کا شکار پانچ مبینہ مریض
کوئٹہ میں کورونا وائرس کا شکار پانچ مبینہ مریضوں کو آئسولیشن وارڈ شیخ زید ہسپتال کوئٹہ شفٹ کردیا گیا ستم ظریفی اور حکومتی کاہلی کا یہ عالم ہے ضروری اشیاء ماسک ودیگر چیزیں نہ ہونے کے باعث ہسپتال کا عملہ مریضوں کا مزید علاج اور مرض کی مکمل تشخیص سے گریزاں ہے ہسپتال عملہ کا دعویٰ ہے کہ انہیں ابھی تک ماسک ودیگر اشیاء میسر ہی نہیں ہیں.
مذکورہ مشتبہ مریض زائرین ہیں جوکہ گزشتہ روز ایران سے آئے ہیں.کوئٹہ میں کرونا وائرس کا خدشہ
کرونا وائرس کا خدشہ،محکمہ پی ڈی ایم اے کی جانب سے میاں غنڈی کے مقام پر کورنٹائن سینٹر قائم کر دیا گیا
کوئٹہ: کورنٹائن سینٹر میں بیک وقت ایک ہزار سے زائد لوگوں کو رکھنے کی گنجائش ہے،ڈپٹی ڈائریکٹر فیصل طارق
کورنٹائن میں ایران سے آنے والے پاکستانی باشندوں کو رکھا جائے گا میاں غنڈی کورنٹائن سینٹر میں آنے والوں کو خوارک گرم کپڑےاور طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی وزیراعلی بلوچستان اور صوبائی وزیرداخلہ کی ہدایت پر سینٹر قائم کیا گیا ہے،ڈپٹی ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے
ڈی جی پی ڈی ایم اے عمران زرکون کی جانب سے سینٹر میں تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کے احکامات جاری کئے گئے تھے،کورنٹائن سینٹر میں 100خیمے 6کنٹینرز اور 22کمرے موجود ہیں ،ڈپٹی ڈائریکٹر فیصل طارق
ہندو برادری کو ہولی کے پرمسرت موقع پرمبارکباد
وزیراعلئ بلوچستان جام کمال خان نے ہندو برادری کو ہولی کے پرمسرت موقع پرمبارکباد پیش کرتے ہوئےکہاہےکے ہولی کاتہوار ہندوں کےلیۓ سچ اور حق کی فتح کادن اوراس میں رنگوں کا استعمال موسم بہار کی آمد کی علامت ہے. بلوچستان میں صدیوں سےآباد ہندو برادری ہماری روایات اورثقافت کاحصہ بن چکی ہے. بلوچستان میں صدیوں سے آباد ہندو برادری ہماری روایات اور ثقافت کا حصہ بن چکی ہے. اقلیتوں کو مزہبی آزادی اور مکمل اور یکساں حقوق حاصل ہیں. ہندوںرادری پاکستان اور بلوچستان کی ترقی میں ہمیشہ سے اہم کردار ادا کرتی چلی آئی ہے. دین اسلام تمام مزاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے حقوق کے تحفظ اور انکی مزہبی آزادی کی ضمانت فراہم کرتا ہے. گزشتہ دنوں ژوب میں قدیم مندر ہندوں کے حوالے کیا گیا جبکہ کوئیٹہ کا گردوارہ بھی سکھ برادری کے حوالے کیا گیا. مندر کی حوالگی بین المزاہب ہم آہنگی مزہبی رواداری اور احترام کی روشن مثال ہے. صوبائی حکومت اور مقامی آبادی کے اس جزبہ خیر سگالی کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے.
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پیغام
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ صوبائی حکومت خواتین کو تمام شعبوں میں شمولیت کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے لئے پر عزم ہے. پالیسیوں میں اصلاحات کے ذریعہ خواتین کی ترقی کو یقینی بناتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہونے کے باقاعدہ سفر کا آغاز کر دیا گیا ہے. خواتین کی ترقیاتی عمل میں شرکت یقینی بناکر پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول ممکن ہوسکے گا. وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ خواتین کی شرکت کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا ہم اصلاحات کے ایجنڈے کے تحت چادر اور چار دیواری کے تقدس کو برقرار رکھتے ہوۓ ہر شعبہ زندگی میں خواتین کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کے لئے اقدامات کر رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ یہ ان کے لئے باعث فخر ہے کہ وہ صنفی مساوات اور ترقی نسواں کی پالیسی کے حامی ہیں جس کا مقصد خواتین اور بچیوں کے لئے بامعنی اصلاحات کرتے ہوئے ان کو ایک بہتر، پائیدار اور موزوں ماحول دینا ہے، یہ حقیقتاً پہلی پالیسی ہے جو خواتین کو زندگی کے تمام شعبوں میں مساوی حقوق دیتی ہے. اس سے پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول بھی ممکن ہوگا اور خواتین کی تمام شعبوں میں شرکت کو بھی یقینی بنایا جاسکے گا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ تمام قومی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس پالیسی کو صحیح معنوں میں نافذ کرنا اہمیت کا حامل ہے،وہ اس پالیسی کو خواتین اداروں کے ساتھ وویمن پارلیمنٹیرین کاکس، محتسب، ورکنگ وومن میں ہراسگی سے تحفظ اور بلوچستان کمیشن اسٹیٹس آف وویمن کے ضمن میں ایک رہنما اصول کے طور پر دیکھتے ہیں. وزیراعلیٰ نے کہا کہ خواتین کے صوبے میں کلیدی کو کردار دیکھتے ہوئے مضبوط معیشت میں ان کی شراکت داری اہم ہے جس سے خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد کے واقعات گی روک تھام بھی ہو گی امید ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز صوبے میں صنفی مساوات اور ترقی نسواں کے لئے اس پالیسی کا بہتر استعمال کریں گے جس کے یقینا دوررس اثرات مرتب ہوں گے اور معاشرہ بلاکسی امتیاز اور تفریق کے بہتر اور تعمیری راہ پر گامزن ہو گا.
