کوئٹہ اسسٹنٹ کمشنر ندا کاظمی نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف کریک ڈاون کیا اور خلاف ورزی کرنیوالے 41 افراد کو گرفتار بھی کرلیا گیا کریک ڈاون کے دوران متعدد گراں فروشوں اور خلاف قانون کھلی ہوئی دکانوں کو بھی سیل کیا گیا اور کہا کے لوگ دفعہ 144 کی خلاف ورزی نہ کرتے ہوئے گھروں میں رہیں خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائیگی،اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ.
Category: کوئٹہ
-
عالمی ادارہ صحت سے وابستہ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کے ہسپتالوں میں داخل کورونا کے متاثرین میں سب کی حالت بہتر ہے۔
کوئٹہ میں عالمی ادارہ صحت سے وابستہ ڈاکٹر داؤد ریاض نے بتایا کہ بلوچستان میں 110 میں سے صرف تین افراد میں بیماری کی علامات ظاہر ہوئیں
بلوچستان میں منگل کی رات تک 110 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تاہم متاثرین میں سے97 فیصد میں بیماری کی علامات ظاہر ہوئیں اور نہ ہی ان کی صحت میں کوئی خرابی آئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ متاثرین کی صحت زیادہ متاثر نہ ہونا جہاں اچھی بات ہے وہیں ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ علامات ظاہر نہ ہونے کی وجہ سے مقامی سطح پر وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس کے اثرات صرف خاندان میں ہی نہیں بلکہ بہت دور تک جا سکتے ہیں۔
کوئٹہ میں عالمی ادارہ صحت سے وابستہ ڈاکٹر داؤد ریاض نے اردو نیوز کو بتایا کہ بلوچستان میں کورونا کے 110 کنفرم کیسز میں سے صرف تین افراد میں بیماری کی علامات ظاہر ہوئیں۔ باقی107 میں یا تو علامات ظاہر نہیں ہوئیں یا پھر بالکل ہلکی علامات تھیں۔
اس بیماری کی علامات میں کھانسی، بخار، جسم میں درد اور سانس لینے میں دقت شامل ہیں۔ ان کے مطابق متاثرین میں دو کے سوا باقی سب کی ٹریول ہسٹری موجود ہے اور انہوں نے ایران کا سفر کیا۔
صوبائی محکمہ صحت کے مطابق بلوچستان میں اب تک 1437 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کئے گئے ہیں ان میں سے بیشتر وہ زائرین ہیں جو ایران سے واپس آئے اور انہیں کوئٹہ اور تفتان کے قرنطینہ مراکز میں رکھا گیا ہے۔ 1437 افراد میں سے 110 میں مرض کی تشخیص ہوئی۔ 1111 افراد کے ٹیسٹ منفی آئے جبکہ باقی 216 ٹیسٹ کے نتائج ابھی آنا باقی ہیں۔
’دو ایسے افراد میں بھی مرض کی تشخیص ہوئی ہے جنہوں نے حالیہ دنوں میں بیرون ملک کا سفر نہیں کیا۔ یہ مقامی منتقلی کے پہلے کیسز ہیں۔‘
محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق کوئٹہ کے شیخ زید ہسپتال میں موجود کورونا کے تصدیق شدہ 105 متاثرین میں خواتین، بچے، نوجوان اور بوڑھے ہرعمر کے لوگ شامل ہیں۔ ان میں 60 سال سے اوپر کے تقریباً بیس افراد بھی شامل ہیں مگر اب تک کورونا کی بیمار ی کی وجہ سے کسی کی حالت خراب نہیں ہوئی۔
متاثرین میں 64 فیصد مرد اور46 فیصد عورتیں ہیں۔ دس سال سے کم عمر پانچ بچے، پندرہ سال سے کم عمر کے چار بچے جبکہ 18 سے 35 سال کے 28 افراد شامل ہیں۔
فاطمہ جناح چیسٹ اینڈ جنرل ہسپتال کوئٹہ میں کورونا کے مریض کے لیے انتہائی نگہداشت یونٹ قائم کیا گیا ہے۔ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر نور اللہ موسیٰ خیل کے مطابق ہسپتال میں کورونا کے ایسے مریضوں کو لایا گیا جن کو باقی بیماریوں کی وجہ سے پیچیدگیاں لاحق تھیں مگر کسی میں کھانسی، بخاراورجسم میں شدید درد جیسی علامات موجود نہیں تھیں۔ ایک 65 سالہ شخص کی موت ہوئی مگر وہ بھی شوگر کا مریض تھا اور اس کے پاؤں میں لگنے والا زخم شوگر کی وجہ سے بگڑ چکا تھا۔ تھیلیسمیا کے شکار جس بارہ سالہ بچے میں کورونا کی تشخیص ہوئی تھی اسے بھی صحت بہتر ہونے پر دوبارہ شیخ زید ہسپتال بھیج دیا گیا۔
ان کے مطابق ہسپتال میں اب تک ایسے کسی مریض کو نہیں لایا گیا جو پہلے صحت مند تھا اور کورونا کی تشخیص کے بعد اس کی طبعیت خراب ہوئی ہو۔
شیخ زید ہسپتال کوئٹہ میں موجود علمدار روڈ کوئٹہ کے 49 سالہ رہائشی (س ح) میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے مگراب تک بیماری کی کوئی بھی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔
س ح نے یہ بھی بتایا کہ ’ایران سے واپس آئے تقریباً چوبیس دن ہوگئے ہیں۔ دو ہفتے تفتان قرنطینہ مرکز جبکہ نو دن کوئٹہ کے میاں غنڈی قرنطینہ مرکز میں گزارے۔
کرونا ٹیسٹ مثبت آنے پر حکومت نے شیخ زید ہسپتال منتقل کردیا ہے میرے ساتھ کمرے میں چھ دیگر افراد بھی ہیں جبکہ پورے وارڈ میں مجموعی طور پراکیس افراد ہیں۔ ان میں مجھ سے بڑی عمر کے افراد بھی شامل ہیں لیکن اب تک ہم میں سے کسی میں بھی کورونا کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔‘
عالمی ادارہ صحت سے وابستہ ڈاکٹر داؤد ریاض کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کے ہسپتالوں میں داخل کورونا کے متاثرین میں سب کی حالت بہتر ہے
شیخ زید ہسپتال میں ہی موجود مری آباد کوئٹہ کے رہائشی تینتیس سالہ (ح ) کی اہلیہ اور آٹھ سالہ بیٹی کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’مجھے میری اہلیہ یا میری بیٹی میں سے کسی میں بھی علامات ظاہر نہیں ہوئیں اور بیس دن گزر جانے کے بعد بھی طبعیت میں کوئی خرابی محسوس نہیں ہوئی۔ ہمارے ساتھ تین سالہ بیٹی بھی تھی جس کا ٹیسٹ نیگٹیو آیا ہم نے انہیں گھر بھیج دیا۔‘
عالمی ادارہ صحت سے وابستہ ڈاکٹر داؤد ریاض کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کے ہسپتالوں میں داخل کورونا کے متاثرین میں سب کی حالت بہتر ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہاں کے لوگوں کی قوت مدافعت مضبوط ہے اس لیے ان پر بیماری کا اثر کم ہوا۔ یہ نئی بیماری ہے اور پھیلنے کے ابتدائی مراحل میں ہے یہ وائرس اگر مقامی سطح پر پھیلا تو اپنا پیٹرن چینج کرسکتا ہے اس کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا کہ ہمارے لوگوں پر اس بیماری کا کتنا اثر ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو یہ بیماری پہلے سے بیمار اور ضعیف العمر افراد پر زیادہ اثرانداز ہوتی ہے۔
ڈاکٹر داؤد ریاض کے مطابق اس وقت دنیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنے والے وہ لوگ ہیں جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ جن میں علامات ظاہر ہوجاتی ہیں وہ ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں تو ان کی نشاندہی ہوجاتی ہے اور انہیں علیٰحدہ بھی کردیا جاتا ہے مگر جن پر بیماری کا زیادہ اثر نہیں ہوتا اور علامات بھی ظاہر نہیں ہوتیں وہ انجانے میں بیماری پھیلاتے رہتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوام حکومتی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے گھروں میں رہیں۔
-
وزیراعلی کا اچانک شہر کا دورہ
وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان کا اچانک شہر کا دورہ کیا جس پر وزیراعلی بلوچستان نے لاک ڈاون کی صورتحال اور انتظامات کا جائزہ لیا اور کہا کے لاک ڈاون کے دوران شہریوں کے تعاون کے مشکور ہیں لاک ڈاون چند دنوں کی سختی ہے پھر ریلیف بھی دیا جائے گا لاک ڈاون کا مقصد کرونا وائرس کے پھیلاو کو روکنا ہے دیہاڑی دار اور مستحق افراد کو راشن پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے شہر کو مکمل بند نہیں کرسکتے کوئٹہ شہر کے بیشتر صوبوں کو روز مرہ کی اشیاء ترسیل کرتا ہے وزیراعلی بلوچستان
-
چیف سیکرٹری بلوچستان فضیل اصغر کی پریس کانفرنس
کوئٹہ:- صوبے میں کورونا وائرس کے مزید4 کیسز سامنے آگئے ہیں نئے کیسز کے بعد صوبے میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 119 ہو گئی ہے صوبائی دارلحکومت کوئٹہ کو مکمل لاک ڈائون کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے لاک ڈائون کے بعد کوئٹہ میں داخل اور باہر جانے پر مکمل پابندی ہو گی ,چیف سیکرٹری
کوئٹہ کے دو علاقوں ہزارہ ٹائون اور مری آباد میں مزید سخت پابندیاں عائد ہونگی دونوں علاقوں کو مکمل طور پر بند کرکے سروے اور ٹیسٹنگ کاعمل شروع ہو گا منفی ٹیسٹ والے افراد مزید احتیاطی تدابیر اختیار کریں شہر کے 8 علاقوں میں سیکورٹی چیک پوسٹ قائم کی جائے گی چیک پوسٹوں کی مدد سے لوگوں کی نقل و حمل کو محدود کیا جائے گا بذریعہ جہاز شہر میں آنے والے افراد کا بھی ڈیٹا حاصل کر لیا گیا ہے
جی ائی ایس سسٹم لانچ کیا جارہا ہے تاکہ اسے دیگر لوگوں سے میل ملاپ کے حوالے سے ٹریس کیا جائے,صوبائی وزراء اور افسران و ملازمین کی مدد سے 37 کروڑ روپے کی رقم کورونا فنڈز میں جمع کرائی جائے گی اور ڈاکٹرز اور پیرامیڈک اسٹاف کو فوری طور پر بھرتی کیا جائے گا اور جن ڈاکٹرز نے کام کرنے سے انکار کیا ہے انکے خلاف انضباطی کارروائی ہو گی جب کے پاسکو سے ڈیڑھ لاکھ گندم کی بوریاں منگوائی جاچکی ہیں برائے مہربانی شہری اپنے گھروں میں مقیم رہیں
اس بیماری کو روکنے کے لئے حکومت کا ساتھ دیں لوگوں سے درخواست ہے کہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں کچھ لوگ اس صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھارہے ہیں,چیف سیکرٹری بلوچستان
-
حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی.ڈپٹی کمشنر کوئٹہ میجر (ر) اورنگزیب بادینی.
کوئٹہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ میجر (ر) اورنگزیب بادینی نے کہا ہے کہ حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی. خلاف ورز ی پر قانون ضرورحرکت میں آئے گا شہر میں کرونا وائرس کے ممکنہ پھیلاو کو روکنے کے لئے جزوی لاک ڈاون کے دوران انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے 1734 دکانوں کو سیل کرکے 89 دکاندروں کو گرفتار کیا ہے عوام کی سہولت کیلئے کال سینٹر قائم کر رہے ہیں جہاں پر شہری رابطہ کرکے کسی بھی مریض یا خاندان کے حوالے سے اطلاع دیکر سہولت حاصل کرسکیں گے اسوقت کوئٹہ میں دو کروناٹائن سینٹرموجود ہیں پی سی ایس آئی آر میں کوئی مریض نہیں جبکہ رورل ڈویلپمنٹ اکیڈمی مغربی بائی پاس پر 32 مریض زیرعلاج ہیں. ان خیالات کا اظہار انہوں نے جزوی لاک ڈاون کا جائزہ لینے کے موقع پر منان چوک پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا. اس موقع پرایڈمنسٹریٹر کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن طارق جاوید مینگل، ای پی آئی کے منیجر ڈاکٹر کمالان گچکی، ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز بلوچستان شہزادہ فرحت جان احمد زئی، ڈی ایچ او ڈاکٹر سعید خان، ایس پی سٹی ڈویژن عبداللہ جان آفریدی، ایس ایچ او سٹی عجب خان کاکڑاوردیگر بھی انکے ہمراہ موجود تھے. ڈپٹی کمشنر اورنگزیب بادینی کا کہنا تھا کہ ہم سے رضاکاروں کی ایک ٹیم نے رابطہ کیا ہے کہ اس مشکل وقت میں عوام کی مدد کیلئے ہم بھی رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دینے کیلئے تیار ہیں ان سے کیمپوں میں مینجمنٹ کی ذمہ داریاں لی جائیں گی اگر ہمیں مزید رضاکاروں کی ضرورت پڑی تو مزید رضاکار بھی لیں گے۔انہو ں نے کہا کہ جو بھی کرونا کے مریض ہیں انہیں تمام سہولیات اور مدد فراہم کی جارہی ہے دیہاڑی دار طبقے کی مدد اور کھانے پینے کی اشیاءکی فراہمی کیلئے سیلانی ٹرسٹ اپنی خدمات پیش کر رہا ہے مزدوروں اوراسکے اہل خانہ کو راشن فراہم کیا جائے گا. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جزوی لاک ڈاون کا مقصد شہریوں کو احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کراناہے ناکہ وہ پکنک پوائنٹ پر جاکر ہجوم بنائیں اور کرونا وائرس کے پھیلاو کا سبب بنیں انہو ں نے کہا کہ ا س حوالے سے تفریحی مقامات ہنہ اوڑک میں پولیس،لیویز کو سختی سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ہجوم کو اکٹھانہ ہونے دیں اسی طرح نواں کلی اور گردونواح میں موجود ہوٹلوں بھی سیل کیا گیا ہے اور لوگوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے بروری کے علاقے کرخسہ میں پکنک منانے کیلئے جانے والوں کو بھی علم ہے کہ اس حوالے سے حکومت نے پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی کریں گے. گراں فروشی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں اورنگزیب بادینی نے کہا کہ حکومت اورانتظامیہ گراں فروشی کی کسی کو اجازت نہیں دے گی ایسے غیرقانونی اقدامات کرنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا بارڈرسیل ہونے کی وجہ سے اشیاء خورد و نوش کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے انتظامیہ کی کوشش ہے کہ اشیاء خورد و نوش کی سپلائی کے حوالے سے چیک اینڈ بیلنس رکھیں. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ نے عوام کی سہولت کیلئے 11 رکنی ریپیڈ فورس قائم کی تھی جس نے اب تک عوام کی اطلا ع پر 2500 لوگوں کو طبی سہولیات فراہم کی ہیں اس فورس کا مقصد وائرس سے متاثرہ مریضوں کا ایگزامینیشن کرنا ہے عوام کی سہولت کو مد نظررکھتے ہوئے ٹیم کی تعداد کو 11 سے بڑھاکر 100 کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کو زیادہ سے ذیادہ سہولیات دیں اس حوالے سے ایک کال سینٹر بھی قائم کیا جا رہا ہے.
-
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ آج کا دن تدبر قائد و فکر اقبال کا مشترکہ عکاس ہے
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ 23 مارچ 1940ءبرصغیر کی تاریخ کا ایک ایسا عظیم دن ہے جو تمام پاکستانیوں کے لئے قابل فخرہے جس دن قرارداد پاکستان پیش کی گئی جو کہ مسلمانان ہند کی حصول پاکستان کی جانب جدوجہد کا سنگ میل ثابت ہوئی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم پاکستان کے موقع پر جاری اپنے ایک پیغام میں کیا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج کا دن تدبر قائد و فکر اقبال کا مشترکہ عکاس ہے۔یہ ایک ایسا سنہرا دن ہے کہ جس دن مسلمانان ہند نے اپنی منزل کا تعین کیا اور بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کی فہم و فراست، یقین محکم، سیاسی تدبر، اور عملی جدوجہد کی مکمل حمایت اور تائید کی جنہوں نے مسلمانوں کو ایک اقلیت نہیں بلکہ ایک الگ قوم قرار دیا جو اپنی ایک منفرد شناخت رکھتی ہے اور جو ایسے کسی آئین کو قبول نہیں کرسکتی جو مسلمانان ہند کے حقوق سے متصادم ہو۔اس کا عملی نمونہ 1945 کے انتخابات ہیں جس میں مسلمانوں کو واضح سیاسی برتری حاصل ہوئی ، وزیراعلیٰ نے کہا کہ قرارداد پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک علیحدہ مسلم ریاست کے قیام کی بنیاد اور یہاں آباد مختلف اقوام اور اکائیوں کے حقوق کے تعین اور تحفظ کی ضمانت فراہم کرتی ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج کا دن اس عہد کی تجدید کا دن بھی ہے کہ ہم اپنے پاک وطن کی حفاظت، استحکام اور ترقی کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور اس مقصد کے حصول کے لئے بحیثیت متحد قوم اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس وقت پاکستان کوکرونا وائرس کے جس چیلنج کا سامنا ہے اس سے نمٹنے کے لیے بھی ہمیں ایک باشعور متحد اور ذمہ دار قوم کے طور پر انفرادی اور مجموعی طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہونگی۔ وزیراعلیٰ نے اپنے پیغام میں دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن وسلامتی اور ترقی کا گہوارہ بنائے اور کروناوائرس جیسے وبائی امراض سے محفوظ رکھے۔
-

کرونا وائرس سے بلوچستان میں ہوئی پہلی ہلاکت
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں بھی کرونا وائرس کا پہلا مریض جاں بحق ہو گیا جس سے ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 5 ہو گئی
ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ شخص کورونا وائرس کا مصدقہ مریض تھا اور اسے شوگر کا مرض بھی لاحق تھا ۔کرونا سے ہلاک ہونے والا 65 سالہ متاثرہ مریض کوئٹہ کے فاطمہ جناح ہسپتال میں زیر علاج تھا۔
مریض کا تعلق کوئٹہ سے ہے جو ایران کے علاقے مشہد میں زیارت کرنے کے بعد تفتان قرنطینہ کیمپ آیا جہاں اس میں 12مارچ کو کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی مریض کو ابتدائی طور پر شیخ زید ہسپتال لے جایا گیا تھا جہاں سے اسے فاطمہ جناح چیسٹ ہسپتال منتقل کیاگیا مریض کی لاش کی حوالگی اور تدفین طبی ماہرین کی رائے اور ضابطہ کار کے مطابق کی جائےگی.
بلوچستان میں کرونا سے ہلاکت کے بعد ملک بھر میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی، دو ہلاکتیں خیبر پختونخواہ، ایک سندھ اور ایک گلگت بلتستان میں ہوئی ہے.
بلوچستان حکومت نے صوبے بھر میں 21 دن تک جزوی لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیاہے۔ محکمہ داخلہ نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کوئٹہ میں تمام بڑے شاپنگ مال، مارکیٹس 3 ہفتوں کے لئے بند رہیں گی، اس کے علاوہ تمام ریسٹورنٹس 3 ہفتوں تک صرف گھروں کیلئے کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرسکیں گے۔ نوٹیفکشن کے مطابق بین الصوبائی اور انٹر سٹی پبلک ٹرانسپورٹ بھی 3 ہفتوں کے لئے بند رہے گی، شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے زیادہ سے زیادہ احتیاط برتیں اور کوشیش کریں کہ اپنے گھروں میں رہی
-
اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ نے کی کاروئی
ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں کرونا وائرس کے پیش نظر دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والے 23 بڑے مارکیٹس اور سینکڑوں دکانوں کو سیل کر کے 52 دکانداروں کو گرفتار کر لیا اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ سیدہ ندا کاظمی نے کہا۔کہ کرونا وائرس ایک جان لیوا وائرس ہے۔حکومت کی طرف سے جو بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔سارے اقدامات وسیع تر عوامی مفاد کیلئے اٹھائے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ صحت عوام کے بنیادوں حقوق میں سے ایک ہے۔
اور کسی کو بھی عوام کے صحت کے ساتھ کھیلنے نہیں دینگے۔انشاءاللہ آئندہ بھی عوام کی خاطر اسی طرح کاروائیاں جاری رکھیں گے۔ -
کوئٹہ جزوی لاک داؤن/ہڑتال
رپوٹ باغی ٹی وی:- بلوچستان حکومت کے لاک داؤن کے فیصلہ کے بعد اکثر بازار کھلے تھے تاہم اب انجمن تاجران بلوچستان کی حمایت اور آج بروز اتوار سے تاحکم ثانی ہڑتال کی کال پر تمام چھوٹے بڑھے کاروباری مراکز فلوقت بند ہیں جب کے مارکیٹ اور کچھ مالز کو سیل بھی کیا گیا تھا اور اب تمام فوڈ اسٹریٹ بند ہیں اس کے علاوہ کچھ ڈلیوری والے صرف گھر پر کھانا پہنچا رہے ہیں اور ہوٹل میں پابندی ائد ہے اس کے علاوہ صرف میڈیکل اسٹور کو استصنہ حاصل ہے اور تمام لوکل بس سروس بھی اکیس روز کے لئے بند ہے اور تمام شاہراوں پر ٹرافیک بھی معمول سے کم ہے۔
-
سلام کوئٹہ کے تاجروں کو
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ کے علاقہ قلندر مکان قلندر مارکیٹ کاسی روڈ /شالدرہ کے مالک نے کرایہ داروں پر آدھا کرایہ معاف کردیا اس کے علاوہ کئی مارکیٹ مالکان نے بھی کرایہ داروں کو 15 دن کا کرایہ معاف کردیا،مالکان کے مطابق یہ فیصلہ انہوں نے موجودہ صورتحال اور کرایہ داروں کی مشکلات کے پیش نظر کیا ہے ابتدائی طور دو ماہ کے لیے کرایہ میں رعایت دی ہے اگر صورتحال یکساں رہی تو وہ مستقبل میں بھی اپنے کرایہ داروں کے ساتھ تعاون کرینگے اس کے علاوہ کوئٹہ شہر کے تاجروں نے عوام میں آگاہی اور احتیاطی تدبیر کے پیش نظر اپنی مدد آپ کے تحت لوگو میں ماسک کی فری تقسیم بھی کی اور ساتھ ہی ساتھ اکثر تاجروں نے ہاتھ دھلوانے کی موہم بھی شرو کی سلام ہے کوئٹہ کے ایسے غیور تاجروں کو کہ 20 سال سے کویٹہ شہر کی بد امنی اور دیگر مصیبتوں کا سامنا حکومتی امداد اور تعاون کے بغیر کر رہے ہیں۔