Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • کوئٹہ میں جعلی اور پلاسٹک نماانڈوں کی فروخت کا انکشاف.

    ڈائریکٹر جنرل بی ایف اے ابراھیم بلوچ کی ہدایت پر کاروائی کی گئی فوڈ اتھارٹی کی ٹیم کا طوغی روڑ عمدار روڈ سرکی روڈ مسجد روڈ پر قائم انڈوں کے دوکانوں پر چھاپے مارے ہیں کارروائی کے دوران ایک انڈے کی دوکان کو سیل کردیا گیا

    مسجد روڈ پر قائم دوکانوں سے انڈے صوبے بھر اور شہر میں سپلائی کی جاتی تھی ،ڈپٹی ڈائریکٹر سرفراز مغل

    انڈوں کے نمونے حاصل کرکے لیبارٹری ٹیسٹ کے لئے بھجوادیا ہے شہر کے مخلتف علاقوں میں کارروائیاں کا سلسلہ جاری ہے،ڈائریکٹر آپریشن غلام مرتضی

    مضر صحت اشیا اور صفائی ستھرائی پر کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی،ڈی جی فوڈ اتھارٹی

  • کوئٹہ کوگیس نہ ملی توپورے ملک سے گیس بند کردینگے

    کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے سوئی سدرن گیس کمپنی اور کیسکو سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں گیس اور بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائی جائے ورنہ سوئی میں گیس کی سپلائی بند کرکے ملک بھر کو گیس فراہم نہیں دی جائیگی جبکہ گیس اور بجلی دفاتر کا گھیراؤ کرینگے جس میں کوئٹہ کے ایم پی ایز خود شرکت کرینگے

    ان خیالات کااظہار بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرملک سکندر خان ایڈووکیٹ،صوبائی مشیرکھیل عبدالخالق ہزارہ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئر مین اختر حسین لانگو،اراکین اسمبلی نصراللہ زیرے،احمدنواز بلوچ،مبین خان خلجی اور قادر علی نائل نے کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا

    انہوں نے کہاکہ اگر 19جنوری تک کوئٹہ میں گیس پریشر بحال نہ ہوئی اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کاسلسلہ ختم نہ ہوا تو عوام کیساتھ ملکر بھر پور احتجاج کیا جائے گا 19جنوری کے بعد کوئٹہ کوگیس نہ ملی توسوئی میں گیس کی سپلائی بندکر کے پوری پاکستان کو گیس فراہم نہیں کی جائے گی عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے بلوچستان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ختم ہونا چاہیے ملک سکندرایڈووکیٹ نے کہا کہ شدید برفباری اور سردی کے بعد جس کرب سے کوئٹہ کے عوام گزرے ہیں

    ان کا کوئی تصور نہیں کرسکتا گیس پریشر میں کمی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے اہم اجلاس کوئٹہ کے نو ایم پی ایز نے سوئی سدرن گیس اور کیسکوحکام کیساتھ ڈپٹی کمشنرآفس میں طویل ملاقات کی اورتمام امور پر غور وغوض کیا گیا کیونکہ کوئٹہ بلوچستان کادارالحکومت ہے اور جب کوئٹہ میں عوام کوگیس اور بجلی جیسے سہولیات فراہم نہیں کی جاتی تو باقی صوبے کا کیا حال ہوگا

    اجلاس میں حکومتی اور ا پوزیشن اراکین نے شرکت کی کیسکو کی جانب سے غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ اور برفباری کے بعد ٹرانسفارمر کی خرابی سے لوگوں کومشکلات کاسامنا کرنا پڑا کیسکو کی جانب سے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ عوام کے ساتھ ظلم وزیادتی ہے اگر لوڈشیڈنگ کی ضرورت ہوتی ہے توپہلے لوگوں کو اعتماد میں لیا جائے

    جب بجلی نہیں ہوتی توپانی بھی نہیں ہوتی لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا ہے اگر کہیں بھی ٹرانسفارمر خراب ہوتی ہے تومتباد ٹرانسفارمر لگا یا جا ئے یہاں بد قسمتی سے ٹرانسفارمر خراب ہوتے ہیں دو مہینے میں ٹرانسفارمر ٹھیک نہیں ہوتی کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے نو ایم پی ایز اور کیسکو کے درمیان معاہدہ ہوا کہ دو ماہ کے اندر 10فیڈر لگائے جائینگے

    اور برفباری سے خراب ہونے والے ٹرانسفارمر کی مرمت ایک ہفتے میں کردی جائے گی مستقبل میں کوئی ٹرانسفارمرخراب ہوئی تو دن میں ٹرانسفارمر کوٹھیک کیا جائے گا اس کے علاوہ گیس حکام سے بھی بات چیت ہوئی اور کہا کہ گیس حکام پرواضح کردیاکہ گیس فراہم کرنا آپ کی ذمہ داریوں میں سے ہے اگرلوگوں کوگیس کی فراہمی نہیں کی جاتی تو سوئی سدرن گیس کے دفتر یہاں ہونا ضروری نہیں ہے

    اسمبلی نے قرار داد پاس کی تھی کہ سالانہ فی گھر 25ہزار روپے جمع کرائینگے گیس پریشر کی کمی کی وجہ سے لوگوں کومشکلات کا سامنا ہے انہوں نے کہا کہ گیس حکام نے واضح کیاکہ19جنوری سے گیس کا شارٹ فالٹ دور کرینگے اور گیس کی سپلائی میں بہتری آئے گی
    اگر 19جنوری تک گیس کی سپلائی بہتر نہیں ہوئی تو حکومتی اور اپوزیشن اراکین سوئی سدرن گیس دفتر کے سامنے احتجاج کرینگے یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گاجب تک گیس کا مسئلہ حل نہیں ہوتا صوبائی مشیرکھیل عبدالخالق ہزارہ نے کہا کہ جب وفاقی وزیر عمرایوب اور جہانگیرترین کوئٹہ آئے تھے تو تین دن تک گیس پریشرٹھیک تھااب اچانک غائب ہوجاتا ہے انہوں نے کہا کہ ہم سب کوئٹہ کے عوام کے مسائل پر ایک ساتھ ہیں جب کوئٹہ کے عوام پریشان ہونگے تو ہمیں بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اختر حسین لانگو نے کہا کہ کوئٹہ کے تمام مسائل ومشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومتی و اپوزیشن اراکین نظریاتی وسیاسی اختلاف کو بالائے طاق رکھ کرشہریوں کے مسائل حل کرنے کیلئے اکھٹے ہوئے ہیں

    اگر 19جنوری کے بعد گیس پریشر بحال نہیں کیاگیا تو ہم سوئی سدرن گیس دفتر کے سامنے احتجاج کرینگے اور اس کے بعد سوئی سے ملک بھر کیلئے گیس کی سپلائی بندکرینگے ملک میں شارٹ فالٹ کوپورا کرنے کیلئے ہماری گیس کووہاں استعمال کی جارہی ہے

    جس کی ہم ہرگز اجازت نہیں دینگے نصرا للہ زیرے نے کہا کہ برفباری اورسردی کے بعدکوئٹہ میں صورتحال بہت گھمبیر ہے گیس زندگی بچانے کیلئے استعمال کررہے ہیں سریاب سے لیکر کچلاک تک تمام علاقوں میں گیس نہ ہونے کے برابر ہے گیس حکام کی نااہلی سے ایک ہفتے میں 20کے قریب لوگ مر گئے عوام کی حقوق پر کوئی سو دا بازی نہیں کرینگے.

  • کوئٹہ کی تاریخ

    ابتدائی تاریخ ترميم
    کوئٹہ شال کوٹ ایک پرانا شہر ہے جس کے نام کا لغوی معنیٰ ‘قلعہ’ کے ہیں۔ خیال ہے کہ یہ نام کسی قلعہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے پڑا کہ کوئٹہ چاروں طرف سے پہاڑوں سے گھرا ہوا شہر ہے جس سے وہ ایک قدرتی قلعہ ہے۔ اس کے اطراف میں جو پہاڑ ہیں ان کے نام چلتن، زرغون اور مہردار ہیں۔ سب پہاڑ بنیادی طور پر خشک ہیں۔ کوئٹہ قدیم شہر ہے جس کے وجود کا ثبوت چھٹی صدی عیسوی سے ملتا ہے۔ اس وقت یہ ایران کی ساسانی سلطنت کا حصہ تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب مسلمانوں نے ایران فتح کیا تو یہ اسلامی سلطنت کا حصہ بن گیا۔ گیارہویں صدی عیسوی میں محمود غزنوی کی فتوحات میں کوئٹہ کا ذکر ملتا ہے۔ اس کے بعد ایک خیال کے مطابق کانسی قبیلہ کے افراد نے تخت سلیمان سے آکر کوئٹی میں بڑی تعداد میں سکونت اختیار کی۔ 1543ء میں مغل شہنشاہ ہمایوں جب شیر شاہ سوری سے شکست کھا کر ایران کی طرف فرار ہو رہا تھا تو یہاں کچھ عرصہ قیام کیا تھا اور جاتے ہوئے اپنے بیٹے اکبر کو یہیں چھوڑ گیا جو دو سال تک یہیں رہا۔ 1556ء تک کوئٹہ مغل سلطنت کا حصہ رہا جس کے بعد ایرانی سلطنت کا حصہ بنا۔ 1595ء میں دوبارہ شہنشاہ اکبر نے کوئٹہ کا اپنی سلطنت کا حصہ بنا لیا۔ 1730ء کے بعد یہ ریاست قلات میں شامل رہا۔ 1828ء میں ایک یورپی مسافر کے مطابق کوئٹہ کے اردگرد مٹی کی ایک بڑی دیوار تھی جس نے اسے ایک قلعہ کی شکل دے دی تھی اور اس میں تقریباً تین سو گھر آباد تھے۔ 1828ء اور اس کے بعد کوئٹہ کا جائزہ لینے کے لیے کئی انگریز مسافر کوئٹہ آئے جن کا مقصد انگریزوں کو معلومات مہیا کرنا تھا۔ 1839ء کی پہلی برطانوی و افغان جنگ کے دوران انگریزوں نے کوئٹہ پر قبضہ کر لیا۔ 1876ء میں اسے باقاعدہ برطانوی سلطنت میں شامل کر لیا گیا اور رابرٹ گروو سنڈیمن کو یہاں کا نمائندۂ سیاسی (پولیٹیکل ایجنٹ) مقرر کیا گیا۔ اس دوران بلوچ قبائل کے افراد بڑی تعداد میں کوئٹہ میں آباد ہوئے۔ انگریزوں نے کوئٹہ کو ایک فوجی اڈا میں تبدیل کر دیا چنانچہ اس دور میں کوئٹہ کی آبادی میں کافی اضافہ ہوا جو 1935ء کے مشہور زلزلہ تک جاری رہا۔

    بیسویں صدی اور کوئٹہ کا زلزلہ ترميم

    جناح روڈ (پرانا نام بروس سٹریٹ) زلزلہ کے بعد
    31 مئی 1935ء کو کوئٹہ میں ایک بڑا زلزلہ آیا جس نے پورے شہر کو آناً فاناً مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا اور ایک اندازہ کے مطابق 40،000 افراد چند دقیقوں میں ہلاک ہو گئے۔ اس قیامت خیز زلزلہ نے کوئٹہ کو بالکل تباہ کر دیا اور شہر میں کوئی عمارت نہ چھوڑی۔ یہ زلزلہ رچرڈ کے معیار کے مطابق 7.1 کی شدت کا تھا۔ اس کا شمار جنوبی ایشیا کی تاریخ کے چار بڑے ترین زلزلوں میں کیا جاتا ہے جس کے بغیر کوئٹہ کی تاریخ نامکمل ہے۔ اس زلزلہ کے بعد کوئٹہ کی تعمیرِ نو ہوئی مگر تمام عمارات یک منزلہ تھیں۔ اس کے علاوہ برطانوی لوگوں نے چونکہ اپنے فوجی اڈے افغانستان کی سرحد کے ساتھ بنا لیے تھے اس لیے انہوں نے کوئٹہ کی تعمیرِ نو میں کوئی دلچسپی نہ لی۔ لیکن کوئٹہ چونکہ افغانستان اور ایران کے تجارتی راستے پر تھا اس لیے آہستہ آہستہ اس نے اپنی حیثیت دوبارہ مستحکم کر لی۔ اس کی تجارت افغانستان کے ساتھ چمن کے راستے اور ایران کے ساتھ نوشکی، دالبندین اور تفتان کے راستے دوبارہ شروع ہو گئی۔

  • سینیٹر سرفراز بگٹی کی درخواست ضمانت پر بلوچستان ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ

    سینیٹر سرفراز بگٹی کی درخواست ضمانت پر بلوچستان ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ

    سینیٹر سرفراز بگٹی کی درخواست ضمانت پر بلوچستان ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان ہائیکورٹ نے سینیٹر سرفراز بگٹی کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی۔ عدالت نے سینیٹر کو 3 لاکھ کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا

    خیال رہے گزشتہ روز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوئٹہ سید منیر احمد آغا نے بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر میر سرفراز بگٹی سے متعلق درج مقدمے میں ان کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری خارج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا۔

    سرفراز بگٹی کے خلاف ایک ماہ قبل بچی کے اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا تھا،سنیٹر میر سرفراز بگٹی کو حاجی توکلی بگٹی اور سسرال کے درمیان بیٹی کی جانشینی کے کیس میں حاجی توکلی بگٹی کا ساتھ دینے پر ان کے سسرال نے ایف آئی آر میں نامزد کیا تھا .

    مدعی کا دعوی ہے کہ حاجی توکلی بگٹی نے انکی بھانجی کو اغوا کرلیا ہے جبکہ حاجی توکلی بگٹی نے اپنے ویڈیو پیغام میں ان دعوں کی تردید کی کہ عدالت نے انھیں اپنی بیٹی ساتھ لے جانے کی اجازت دی ہے ویڈیو میں بچی بھی خوش خرم اپنے باپ کے ساتھ کھیلتی ہوئی نظر آتی ہے

  • عدالت کا سینیٹر سرفراز بگٹی کوگرفتار کرنے کا حکم

    عدالت کا سینیٹر سرفراز بگٹی کوگرفتار کرنے کا حکم لیکن سرفراز بگٹی گرفتاری دئیے بغیر روانہ ہوگئے بچی کے اغواء میں معاونت سے متعلق کیس میں عدالت نے سابق وزیر داخلہ بلوچستان اور سینیٹر سرفراز بگٹی کو گرفتار کرنے کا حکم صادر فرما دیا۔ایڈیشنل سیشن کورٹ نے بچی کے اغواء میں معاونت سے متعلق کیس میں سینیٹر سرفراز بگٹی کی ضمانت کی درخواست خارج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ جس وقت عدالت نے گرفتاری کا حکم دیا تو بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر سرفرار بگٹی عدالت میں موجود تھے تاہم سرفراز بگٹی گرفتاری دیئے بغیر ہی عدالت سے روانہ ہو گئے۔خیال رہے کہ بچی ماریہ کی نانی نے بچی کے والد کے خلاف اغواء اور سرفراز بگٹی پر معاونت کا مقدمہ درج کرایا تھا، فیملی کورٹ نے بچی کی والدہ کی وفات کے بعد نانی کو بچی حوالے کی تھی۔

  • بلوچستان کے سابق صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی گرفتار

    بلوچستان کے سابق صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی گرفتار

    بلوچستان کے سابق صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی گرفتار
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے سابق صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کی عبوری ضمانت منسوخ کر دی گئی، سیشن کورٹ نے میر سرفراز بگٹی کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دے دیا.

    پولیس نے سرفراز بگٹی کو حراست میں لے کر تھانہ بجلی روڈ منتقل کر دیا ۔بچی اغواء کیس میں سرفراز بگٹی ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت پہنچے اور درخواست ضمانت دی ، عدالت کی جانب سے درخواست ضمانت مسترد کردی گئی

    سرفراز بگٹی کے وکیل کا کہنا ہے کہ ہم عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے.

    سرفراز بگٹی کے خلاف ایک ماہ قبل بچی کے اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا تھا،سنیٹر میر سرفراز بگٹی کو حاجی توکلی بگٹی اور سسرال کے درمیان بیٹی کی جانشینی کے کیس میں حاجی توکلی بگٹی کا ساتھ دینے پر ان کے سسرال نے ایف آئی آر میں نامزد کیا تھا .

    مدعی کا دعوی ہے کہ حاجی توکلی بگٹی نے انکی بھانجی کو اغوا کرلیا ہے جبکہ حاجی توکلی بگٹی نے اپنے ویڈیو پیغام میں ان دعوں کی تردید کی کہ عدالت نے انھیں اپنی بیٹی ساتھ لے جانے کی اجازت دی ہے ویڈیو میں بچی بھی خوش خرم اپنے باپ کے ساتھ کھیلتی ہوئی نظر آتی ہے

  • برف باری سے متاثرہ علاقوں میں بھرپور طریقے سے ریلیف کی سرگرمیوں کا آغاز

    بلوچستان میں تین دن بعد موسم میں بہتری آنے پر آج سے برف باری سے متاثرہ علاقوں میں بھرپور طریقے سے ریلیف کی سرگرمیوں کا آغاز ہوگا اور دور دراز کے علاقوں تک زمینی اور فضائی رسائی کو یقینی بنایا جاۓ گا۔حکومت بلوچستان کے ہیلی کاپٹر کے زریعہ متاثرہ افراد تک خوراک اور دیگر امدادی اشیاء پہنچائی جائیں گی۔

    پی ڈی ایم اے نے خوراک اور امدادی اشیاء پر مشتمل پیک تیار کر لیۓ ہیں قومی شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی بحالی کے کام کو مزید تیز کیا جاۓ گا

    متاثرہ علاقوں میں محکمہ مواصلات نے بھاری مشنری منتقل کردی ہے اور وزیراعلیٰ جام کمال خان کی ریلیف آپریشن اور سڑکوں کی بحالی کے لیۓ تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت بھی کردی ہے ہر متاثرہ علاقے گاؤں اور دیہات تک رسائی ممکن بنائک جائے۔وزیراعلیٰ بلوچستان۔

  • بلوچستان کے 7 اضلاع میں اسنو ایمرجنسی نافذ، 15 جاں بحق

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 2 روز سے جاری برف باری اور بارشوں نے تباہی مچادی، 15 افراد جان کی بازی ہار گئے ، صوبائی حکومت نے 7 اضلاع میں اسنو ایمرجنسی نافذ کردی۔
    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے سڑکیں کھلوانے اور عوام کو ہرممکن امداد پہنچانے کےلیے صوبائی حکومت مکمل متحرک ہے، نوکنڈی کے علاقے میں سیلابی ریلے میں پھنسے افراد کو نکالنے کےلیے آرمی سے مدد مانگی ہے ۔
    کوئٹہ میں برف باری کے باعث 10فیڈر بند ہونے سے شہر کے بیشترعلاقوں میں بجلی غائب ہے، کوئٹہ آنے اور جانے والی تمام پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں ۔
    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیش تراضلاع میں برف باری اور بارشوں سے نظام زندگی درہم برہم ہے، صوبے کے بالائی علاقوں میں 3 سے 4 فٹ تک برف پڑچکی ہے اور یہاں کا دیگر صوبوں سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔
    شدید برف باری سے زیارت، مستونگ، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، ہرنائی اور بولان میں کئی جگہ رابطہ سڑکیں بند ہیں، شدید برف باری کے باعث صوبائی حکومت نے 7 اضلاع میں اسنو ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔
    مکران کےعلاقوں تمپ ، مند، زعمران اور بلیدہ سمیت ملحقہ علاقوں میں موسلادھار بارشوں اور ندی نالوں میں طغیانی آنے سے کئی مکانوں اور فصلوں کو نقصان پہنچا ہے اور زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔
    تربت اور گرد و نواح میں شدید بارشوں سے سیلابی ریلا دریائے کیچ میں داخل ہوگیا ، جبکہ ندی نالوں میں طغیانی سے سیلابی ریلے نے قریبی آبادیوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
    دوسری جانب شدید برف باری اور بارشوں کے باعث صوبے کے 3 اضلاع ہرنائی ، سبی اور مستونگ میں انسداد پولیو کی خصوصی مہم دو روز کےلیے ملتوی کردی گئی ہے۔
    پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق مختلف حادثات میں قلعہ عبداللہ میں 6 ، ژوب میں 6 جبکہ پشین میں 3 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

  • کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں بارش و برفباری کا سلسلہ شروع ہوگیا

    وادی کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سردی کی شدت برقرار ایران سے بارش اور برفباری کا نیا سسٹم داخل ہوگیا آج سے پیر تک بارش اور برفباری کا امکان ہے، پی ڈی ایم اے نے بارش اور برفباری ہونے کے امکان کے باعث بلوچستان کے تمام اضلاع کے ضلعی ا ٓفیسران کو ہائی الرٹ کر دیا۔محکمہ موسمیات بلوچستان نے آج سے بلوچستان کے مختلف علاقوں کوئٹہ قلات مستونگ سوراب قلعہ سیف اللہ قلعہ عبداللہ زیارت خضدار، مکران ڈویژن اور دیگر علاقوں میں شدید بارش اور برف باری کی پیشنگوئی کی ہے۔

    وادی کوئٹہ سمیت قلات،زیارت اور کان مہترزئی میں بدستور سردی کی شدت برقرار ہے جس کی وجہ سے زیارت میں منفی 9،قلات منفی 8اور کان مہترزئی منفی 7سینٹی گریڈ ریکارڈ کی گئی سسٹم کے تحت بلوچستان کے بیشترعلاقوں قلات،سوراب، مستونگ، زیارت،کان مہترزئی میں ہفتے سے پیر تک برفباری جبکہ گوادر،آواران،کیچ،پنجگور، واشک،خاران، پشین، ہرنائی میں موسلادھاربارش متوقع ہے۔

    دوسری جانب پی ڈی ایم اے بلوچستان نے آج سے بلوچستان بھر میں تیز بارش جبکہ زیارت،کان مہترزئی،توبہ اچکزئی،توبہ کاکڑی،خانوزئی سمیت دیگر علاقوں میں شدیدبرفباری کے پیش نظرتمام سرکاری عملے کو الرٹ کرنے اور کسی بھی جانی ومالی نقصانات سے بچنے کیلئے فوری ا مدادی سرگرمیاں شروع کرنے کی تاکید کی ہے۔

    ادھر ضلع قلات کے ڈپٹی کمشنر شہیک بلوچ نے ضلع قلات کے تمام سرکاری و نیم سرکاری اداروں کو کس بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیئے تیار رہنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے اورتمام آفیسران کی چھٹیاں منسوخ کیا ہے انہوں نے کہا ہیکہ بارش اور بارف باری کے دوران ضلعی آفیسران اور اہلکار ہیڈکوارٹر میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں۔

  • کوئٹہ دھماکے میں طالبان کی انتہائی اہم شخصیت کے مارے جانے کی اطلاعات

    کوئٹہ دھماکے میں طالبان کی انتہائی اہم شخصیت کے مارے جانے کی اطلاعات

    کوئٹہ دھماکے میں طالبان کی انتہائی اہم شخصیت کے مارے جانے کی اطلاعات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ دھماکے میں افغان طالبان کے جج مارے گئے، غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق کوئٹہ دھماکے میں افغان طالبان کے چیف جسٹس شیخ عبدالحکیم بھی مارے گئے جبکہ ان کے دو بیٹے زخمی ہوئے،

    دوسری جانب طالبان کے ترجمان قاری یوسف کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں طالبان کا کوئی عہدیدار موجود نہیں تھا.

    واضح رہے کہ کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاﺅن میں مسجد میں دھماکے سے ڈی ایس پی اور امام مسجد سمیت 14افراد شہید جبکہ 19افراد زخمی ہوگئے،پولیس کے مطابق جمعہ کی شام سیٹلائٹ ٹاﺅن کے علاقے غوث آباد کے مسجد کے اندر نماز مغرب کے وقت ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی امان اللہ اور مسجد کے امام سمیت 14افراد شہید ہوگئے جبکہ 19زخمی ہوگئے۔

    دھماکے میں شہید ہونے والوں کی شناخت ڈی ایس پی امان اللہ ،حافظ الرحمن،رفیع اللہ،اللہ محمد،حمد اللہ ،کاکا ،مطیع اللہ ،جہانگیر کے ناموں سے ہوئی ہیں جبکہ6افراد کے ناموں کی تاحال شناخت نہ ہوسکی ،دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی شناخت ،عظمت اللہ ،عبدالہادی ،معاذ اللہ،حکمت خان،شمس اللہ،انعام اللہ ،قدرت اللہ ،جنید ،مطیع اللہ ،ذاکراللہ ،مغفور اللہ ،مولوی محمد ،جمیل احمد ،عبداللہ ،عزیزاللہ،عبدالغفور ،عبداللہ جان ،اکبر خان ،سیف اللہ سے ہوئی ہے ۔

    کوئٹہ دھماکہ میں شہید اور زخمی افراد کے نام جاری، صدر مملکت، نیول چیف، وزیر خارجہ کی مذمت