Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • بلوچستان کوئٹہ میں بچی کا گردہ نکالنے کے معاملے کا مقدمہ درج۔

    کوئٹہ کے نجی اسپتال میں بچی کا گردہ نکالنے کے معاملے پر پولیس نے 2ڈاکٹروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا پولیس کے مطابق پنجگور سے تعلق رکھنے والے رہائشی محمد طاہر نے گوالمنڈی تھانے میں رپورٹ درج کرائی ہے کہ جناح روڈ پر واقع نجی اسپتال کے 2 ڈاکٹروں نے میری 13سالہ بیٹی ثناء کے اپنڈکس کے آپریشن کے نام پر مبینہ طور پر گردہ نکال لیا ہے، وہ مجھے نکالا گیا گردہ بھی نہیں دکھاتے ہیں۔
    پولیس نے مقدمے میں اسپتال کے دو ڈاکٹر عالیہ ہاشمی اور ڈاکٹر عبدالکریم کو ملزمان نامزد کیا گیا، جن کے خلاف مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 334 اور 109 کے تحت درج کیا ہے۔
    وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے اس معاملے کا نوٹس لیا تھا اور وزیر اعلیٰ معائنہ کمیٹی کے چیئرمین کو واقعہ کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی تھی

  • جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے وفاقی حکومت کو اگست تک مہلت دیدی.

    کوئٹہ بلوچستان کے دارالحکومت میں ملین مارچ سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارا آخری ملین مارچ ہے اور اب ہمارا اگلا قدم اسلام آباد میں ہوگا انہوں نے حکومت کو مہلت دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اگست میں استعفیٰ دے تو مارچ سے بچ جائے گی، اگر اگست میں استعفیٰ نہ دیا تو اکتوبر میں اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے، پورا ملک اسلام آباد کی طرف مارچ کرےگا اور یہ آزادی مارچ ہوگا۔ان کا کہنا ہے کہ الیکشن دھاندلی زدہ ہیں اور اسے تسلیم نہیں کرتے، تمام سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ نئے انتخابات کرائے جائیں جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایک طرف کمر توڑ مہنگائی ہے تو دوسری طرف ٹیکسوں کی بھرمار ہے، 50 ہزار روپے کی خریداری پر بھی شناختی کارڈ دینا ہوگا، یہ دستاویزی معیشت نہیں بلکہ غیر ملکی ایجنڈا ہے اور عالمی مالیاتی ادارے ہر گلی کوچے کے دکانداروں کی جیب تک پہنچنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ نیب مشرف دور میں بھی احتساب کرتا رہا ہے اور ملک کے بچے بچے کو نیب کا کردار معلوم ہے، نیب کبھی ایسے بےنقاب نہیں ہوا جیسے موجودہ دور میں ہوا ہے۔

  • چین کی سرمایہ کاری کو ضائع کر دیا گیا، مولانا فضل الرحمن کا پی ٹی آئی حکومت پر الزام

    چین کی سرمایہ کاری کو ضائع کر دیا گیا، مولانا فضل الرحمن کا پی ٹی آئی حکومت پر الزام

    جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ریاست کی بقاءکادارومدار معیشت پرہوتاہے، ملکی معیشت کی کشتی ہچکولےکھارہی ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق کوئٹہ میں ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں‌نے کہاکہ چین کی سرمایہ کاری کوضائع کردیاگیا، ہم جمہوریت کےساتھ کھڑے ہیں، ہم پاکستان کو ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں،

    مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ مہنگائی نےعوام کاجیناحرام کردیاہے، ریاست کی بقاء کا دارومدار معیشت پرہوتا ہے، ملکی معیشت کی کشتی ہچکولےکھارہی ہے،

  • کوئٹہ ملین مارچ مشکلات پھر عوام کو۔

    کوئٹہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے زیر اہتمام آج ہاکی گراونڈ کےسامنے زرغون روڈ پر تحفظ ختم نبوت ملین مارچ کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں یاد رہے کہ اس ملین مارچ سے جمیعت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن خطاب کریں گے۔ جب کے ملین مارچ کے سلسلے میں کوئٹہ کے مین روڈ سریاب فلائی آور ڈبل روڈ چوک ٹریفک کیلیے مکمل بند ہیں اور متبادل راستہ یا ملین مارچ کا ٹریفیک پلان نا ہونے کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

  • کوئٹہ کا مشہور سرینا ہوٹل کو جرمانہ۔

    بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے
    سرینا ہوٹل کوئٹہ کی بیکری سیل جبکہ سرینا ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ کو 10لاکھ روپے جرمانہ کر دیا اور بیکری کو آئٹمز پر لیبلنگ ،تاریخ اجراء وتنسیخ اور اجزاء ترکیبی نہ ہونےجبکہ ملازمین کے دستانے ماسک اورہیڈ کور نہ ہونے کی بناء پر سیل کیا گیا ہے اور ریسٹورنٹ کو کچن ایریا میں ناقص صفائی کے انتظامات، کم روشنی،ناقص نکاسی آب کی سہولیات، زائد المیعاد اشیاء اورحشرات کی موجودگی، جھاڑو پونچے کی کچن میں موجودگی، ملازمین کے ہاتھ دھونے کی جگہ پر سینیٹا ئیزروغیرہ نہ ہونے اورخراب تیل کے استعمال سمیت مختلف وجوہات کی بناء پر جرمانہ کیا گیا
    فوڈ اتھارٹی حکام کی جانب سے ہوٹل انتظامیہ کو صفائی کی صورتحال جلد بہتر بنانے اور عوام کو معیاری اشیاء خورد نوش کی فروخت یقینی بنانے کی ہدایت۔

  • کوئٹہ سرینا ہوٹل بیکری سیل ریسٹورنٹ کو جرمانہ۔

    بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے سرینا ہوٹل کوئٹہ کی بیکری سیل جبکہ سرینا ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ کو 10لاکھ روپے جرمانہ کر دیا بیکری کو آئٹمز پر لیبلنگ ،تاریخ اجراء وتنسیخ اور اجزاء ترکیبی نہ ہونےجبکہ ملازمین کے دستانے ماسک اورہیڈ کور نہ ہونے کی بناء پر سیل کیا گیا اور ریسٹورنٹ کو کچن ایریا میں ناقص صفائی کے انتظامات، کم روشنی،ناقص نکاسی آب کی سہولیات، زائد المیعاد اشیاء اورحشرات کی موجودگی، جھاڑو پونچے کی کچن میں موجودگی، ملازمین کے ہاتھ دھونے کی جگہ پر سینیٹا ئیزروغیرہ نہ ہونے اورخراب تیل کے استعمال سمیت مختلف وجوہات کی بناء پر جرمانہ کیا گیا۔فوڈ اتھارٹی حکام کی جانب سے ہوٹل انتظامیہ کو صفائی کی صورتحال جلد بہتر بنانے اور عوام کو معیاری اشیاء خورد نوش کی فروخت یقینی بنانے کی ہدایت۔

  • کوئٹہ ،پولیو کیسز میں اضافہ کیوں ہوا؟ رپورٹ جان کر ہوں حیران

    کوئٹہ ،پولیو کیسز میں اضافہ کیوں ہوا؟ رپورٹ جان کر ہوں حیران

    بلوچستان کے علاقے کوئٹہ میں پولیو کیسز کے حوالہ سے انکشاف ہوا ہے کہ والدین نے بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلائے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے علاقے کوئٹہ میں نئے پولیو کیس کی تحقیقات مکمل ہو گئی ہیں، رپورٹ کے مطابق پروپیگنڈے کے شکار والدین کی ضد نے بچے کو قطروں سے محروم رکھا ،والدین بچے کی انگلی پر جعلی نشان لگاتے رہے ،پولیو وائرس سے معذوری کے بعد والدین نے ویکسین نہ پلانے کا اعتراف کیا

    خیبر پختونخواہ میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز، حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے انسداد پولیو بابر بن عطا کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں پولیو کیس کی تفصیلات جان کر دکھ ہوا،رواں سال 47 پولیو کیسز میں سے اکثریت کو قطرے نہیں پلائے گئے،پولیو ویکسین نے ساری دنیا بشمول مسلم ممالک سے وائرس کا خاتمہ کیا،والدین پروپیگنڈے پر کان نہ دھریں

    انسداد پولیو پروگرام کے ترجمان کے مطابق ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے گردی پنکئ کے 9 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے، جبکہ ضلع جعفر آباد کے علاقے شاہ پلال تحصیل گنداخہ کے 8 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق کے بعد بلوچستان میں اب تک دو کیسز سامنے آگئے ہیں، اس طرح ملک بھر میں رواں برس پولیو کیسز کی تعداد 41 ھوگئی۔

    خیبر پختونخواہ میں انسداد پولیو مہم میں رکاوٹ پولیو سٹاف بن گیا

    پولیو مہم کے خلاف پروپیگنڈہ، سات تعلیمی اداروں کے خلاف کاروائی

    سوشل میڈیا پر پولیو مخالف مواد، کتنے اکاونٹس بند ہوئے، حیران کن خبر

    انسداد پولیو مہم کی جانب سے سوشل میڈیا پر 495 اکاونٹ بند کرنے کی درخواست کی گئی تھی جن میں سے 257 اکاونٹ بند کر دئیے گئے. فیس بک پر 263 اکائونٹس بلاک کرنے کی درخواست پر 209 اکائونٹس بلاک کئیگئے۔ ٹویٹر پر 134 اکائونٹس بلاک کرنے کی درخواست پر 15 اکائونٹس بلاک کئے گئے ہیں. یو ٹیوب پر 88 بلاک کرنے کی درخواست پر اب تک 33 اکائونٹس بلاک کئے جا چکے ہیں۔ بابر بن عطا نے مزید کہا کہ جن اکائونٹس کو بند نہیں کیا گیا ان کے خلاف کارروائی کے لیے دوبارہ رابطہ کیا جائے گا۔

  • کوئٹہ پانی کی قلت انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے سیلابی پانی ضائع ہوجاتا۔

    کویٹہ شہر سے تقریباً 12 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک تفریح مقام جہاں پر دور دور سے لوگ آتے ہیں سیاحت کیلئے یہ جگہ سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے.جہاں پر مختلف پھلوں کے باغات ہیں اور پانی بھی بہت ہے،وادی ہونے کی وجہ سے یہاں پر بارش بھی توقع سے زیادہ ہوتی ہے وادی ہنہ کے مقام سے شمال کی طرف جانے والی سڑک کے اختتام پر ہنہ جھیل واقع ہے، یہ انگریز کے دور میں کویٹہ شہر اور اس کے مضافات میں پانی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ یہ ایک تفریح مقام ہے. کہا جاتا ہے کہ کہ اس کا تعمیر 1901 میں شروع ہوئی اور 1909 میں تکمیل کے بعد جھیل کی شکل میں وجود میں آیا.
    اس کو مقامی لوگ(نار تالاؤ) کہتے ہیں.
    اس کیلئے پانی پہاڑوں پر پگھلنے والی برف اور بارشوں کے پانی ایک مخصوص نالے کے ذریعے آتا ہے جس کی وجہ سے آس پاس علاقے کے علاوہ کلی ناصران، کلی الماس، چھاونی، کویٹہ شہر اور کہی جگوں پر پانی کے قلت کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے، اس پانی کو جھیل تک پہنچانے میں کلی عطا محمد کے قریب بنے ہوے ہیڈ ورکس کے شکل میں بند بنے ہوئے ہیں جو پانی کو ضائع ہونے سے بچاتا ہے یہ ہیڈ ورکس انگریز دور میں ایک خاص لوہے Dorman. Long& C.L,Middlesbrough,England کا استعمال ہوا ہے.
    ہیڈ ورکس سے تقریباً ایک کلومیٹر طویل نہر کے ذریعے ہنہ ندی کے پانی جھیل تک پہنچانے کا اہتمام کیا گیا ہے. یہ 1910 میں تعمیر کیا گیا ہے.
    اب صحیح انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے سیلابی پانی سارا ضائع ہورہا ہے اب حال ہی میں بہت ہی بڑا سیلابی ریلا آیا تھا جس کا پانی نہ ہونے کے برابر جھیل گیا باقی سارا پانی دوسرے نالے میں بہہ گیا جو کسی کام کا نہیں اور اس طرح پانی ضائع ہو رہا ہے، جو کہ علاقے کیلئے بہت نقصان دہ ہے علاقے کے باغات بھی سارے خشک ہوگیے.
    تو ہم موجودہ حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ اس کیلئے اقدامات کریں اور ان ہیڈ ورکس کو بحال کریں تاکہ علاقے والے اس جھیل سے فائدہ اٹھائیں.

  • علم کے زیور سے معاشرے کی نئی نسل کو آراستہ کرنا سب سے اچھا اور نیک اقدام ہے.

    صوبائی وزیر پی ایچ ای اینڈواسا حاجی نور محمد دمڑ نے کہا ہے کہ علم کے زیور سے ہمارے معاشرے کی نئی نسل کو آراستہ کرنا سب سے اچھا اور نیک اقدام ہے کیونکہ ہمارے بچے اس صوبے اور ملک کے مستقبل کے معمار ہوں گے، محکمہ تعلیم ہرنائی کے ضلعی آفیسران سرکاری سکولوں کو فعال بنانے کیلئے تمام تر وسائل کو بروئے کارلائیں، سرکاری سکولوں کی روزانہ کی بنیاد پر دورے کرکے غیر حاضر اور فرائض میں غفلت کرنے والے اساتذہ کے خلاف بلا تعصب کارروائی کریں، اساتذہ کی غیر حاضری کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، سرکاری سکولوں کو درپیش مسائل حل کریں گے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے بد ھ کو محکمہ تعلیم ضلع ہرنائی کے ضلعی آفیسران، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر مومن خان ترین، ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر کلیم اللہ کاکڑ سے بات چیت کے دوران کیا۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر مومن خان ترین نے صوبائی وزیر حاجی نورمحمد دمڑ کو محکمہ تعلیم ضلع ہرنائی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر کو آگا کیا گیا کہ تحصیل ہرنائی میں گرمیوں کی چھٹیاں ہیں جبکہ تحصیل شاہرگ کے سرکاری سکولوں میں درس وتدرس کا سلسلہ جاری ہے۔ صوبائی وزیر نے محکمہ تعلیم ضلع ہرنائی کے آفیسران کو سختی سے ہدایت دی کہ سرکاری سکولوں کی کڑی نگرانی کرے اور کسی بھی غیر حاضراستاد / استانی سے کسی قسم کی رعایت نہ کی جائے اور ساتھ یہ بھی ہدایت کہ غیر حاضر اساتذہ کے خلاف بلا تعصب کارروائی کریں۔ حاجی نورمحمد دمڑ کہاکہ صوبائی حکومت وزیراعلیٰ بلوچستان میرجام کمال خان صوبے میں سرکاری سکولوں کی بہتری کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کررہے ہیں اور سرکاری سکولوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کیلئے ہرممکن وسائل فراہم کررہے ہیں۔ صوبائی وزیر نے محکمہ تعلیم ضلع ہرنائی کے آفیسران سے کہاکہ ضلع ہرنائی میں کوئی سکول بند نہیں ہونا چاہے، اگر پہلے کوئی سکول غیر فعال ہے اسے فوری فعال کریں۔ انہوں نے کہاکہ جیسے ہی گرمی کی چھٹیاں ختم ہونگے تو وہ ضلع ہرنائی کے تمام سرکاری سکولوں کا تفصیلی دورہ کریں گے اور ضلع ہرنائی میں موجود ہر سکول کا دورہ کریں گے۔

  • حکومت پولیو کے خاتمے کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔

    ڈی ایچ اوجعفرآباد ڈاکٹر قدرت اللہ جمالی کے مطابق سول سوسائٹی میڈیا اور علماء کرام کا پولیو مہم میں اہم کردار ہے، پولیو کے خاتمے کیلئے سب کو جدوجہد کرنی ہوگی کیونکہ یہ ایک خطرناک مرض ہے جس سے بچے زندگی بھر کیلئے معذور ہوجاتے ہیں، حکومت پولیو کے خاتمے کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے،اس بارخصوصی 22سے 28جولائی سے مہم چلائی جارہی ہے، مہم کے دوران 139099بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے جس تحت 47 یوسی کیلئے 81ایریاانچارج،340 ٹیمیں،35 ٹرانزٹ پوائنٹ،08 فکسڈسینٹرزقائم کئے گئے ہیں۔ وہ بد ھ کو”ا ے پی پی“ سے بات چیت کررہے تھے۔ اس موقع پر سنیئر ڈاکٹر بھی موجود تھے۔ ڈی ایچ اوجعفرآباد ڈاکٹر قدرت اللہ جمالی نے کہا کہ اس مرض کا خاتمہ کئے بغیر صحت مند معاشرہ تشکیل نہیں پاسکتا، مستقبل کی نئی نسل کو بچانے کیلئے وائرس کا خاتمہ ضروری ہے اور یہ تب ممکن ہوگا جب تمام کمیونٹی سے وابستہ افراد ملکر عملی جدوجہد نہیں کرتے، کمیونٹی کو حکومت اور پولیو ورکرز کے ساتھ ملکر کام کرنا ہوگا، پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کو یقینی بناتے ہوئے اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے مرض سے پاکستان کو پاک کرنے کیلئے ہم سب پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں تاکہ ملک کی نئی نسل کو لاحق ہونے والے ایسے موذی مرض سے بچایا جاسکے۔ پولیو انسداد مہم میں افسران سمیت ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افرادکو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔