بلوچستان کی خواتین پارلیمنٹیرینز نے نوشکی میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی جانب سے گھر میں گھس کر ماں اور بیٹی کو شہید کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور بلوچ روایات کے منافی ہے۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس میں مشیر کھیل مینا مجیدکا کہنا تھا کہ نوشکی میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بی بی حنیفہ اور حفصہ کوشہید کیا، ان کا کیا قصور تھا ؟ اب عام بلوچ لوگ اورخواتین فتنہ الہندوستان کے دہشت گروں کے نشانے پر ہیں۔مینابلوچ نےکہا کہ حکومت اور سکیورٹی فورسزکی فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور اس واقعے میں ملوث دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائےگا۔ڈپٹی اسپیکر غزالہ کا کہنا تھا کہ نوشکی کے افسوسناک واقعہ پر خواتین پارلیمنٹیرینزخاموش نہیں بیٹھیں گی، خواتین کو ہر جگہ اور ہرحال میں تحفظ دیاجانا چاہیے۔صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ درانی کا کہنا تھا کہ بلوچ خواتین کو قتل کرکے بلوچستان کے بارے میں کیا تاثر دیا گیا۔
