Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی تو ملک آگے نہیں بڑھےگا، شاہد خاقان

    قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی تو ملک آگے نہیں بڑھےگا، شاہد خاقان

    کوئٹہ: سابق وزیراعظم اور سربراہ عوام پاکستان پارٹی شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے جب تک سیاسی انتشار کو ختم اور قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی تو ملک آگے نہیں بڑھےگا۔

    کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بلوچستان 10، 15 سالوں سے سانحات کا شکار ہے، آج بلوچستان کی شاہراہیں محفوظ نہیں، بلوچستان کی معیشت متاثر ہو رہی ہے اور نوجوان مایوس ہو رہےہیں، سوچنے کی ضرورت ہے کہ بلوچستان میں یہ معاملات کیوں ہیں؟

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جب تک ملک میں سیاسی انتشار کو ختم نہیں کیا جائےگا معاملات آگے نہیں بڑھیں گے، جب تک قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی ملک کے معاملات آگے نہیں بڑھیں گے، آئین میں رہ کر وسائل کی تقسیم کرنی ہے اور معاملات کو چلانا ہے، اس سے باہر جائیں گے تو معاملات خراب ہوں گے۔

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن: ’’ہم تیارہیں ، آزمانا نہیں‘‘ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ

    انہوں نے کہا یہ ممکن نہیں کہ پاکستان امیر ہو اور بلوچستان غریب رہ جائے، بلوچستان کو پاکستان کا امیر ترین صوبہ ہونا چاہیے، بلوچستان کے وسائل جب تک یہاں کے نوجوانوں کو نہیں ملیں گے، امن نہیں آئے گا دہشت گردی کا مقابلہ ہم پر لازم ہے لیکن یہ معاملات کیوں پیدا ہو رہےہیں اس کی جڑ تک جاناہوگا-

    بھارتی گیدڑبھپکیوں پر خاموشی،مشی خان پاکستانی اداکاروں پر پھٹ پڑیں

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ بلوچستان میں لوگ اغوا ہو رہےہوں، قتل ہو رہےہوں اورملک کے معاملات درست چل رہے ہوں، عوام کو حقیقی نمائندگی اور وسائل دینے سے ہی بلوچستان کے مسائل حل ہوں گے یہ ہمارا رسمی دورہ نہیں، آج پاکستان کی ضرورت ہے کہ لوگ جانیں کہ بلوچستان کےلوگ کیاسوچ رہےہیں۔

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن: ’’ہم تیارہیں ، آزمانا نہیں‘‘ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ

  • پاکستان کی ہندو برادری کا بھارت کیخلاف احتجاج

    پاکستان کی ہندو برادری کا بھارت کیخلاف احتجاج

    کوئٹہ: بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ہندو پنچایت کے زیر اہتمام بھارت مخالف ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ اس ریلی میں بھارت کی جارحیت اور جنگی جنون کی سخت مذمت کی گئی۔

    ریلی کا آغاز آریا مندر سے ہوا، جو مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے پریس کلب پہنچی۔ شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں پاکستان کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور بھارتی مظالم کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔اس موقع پر اقلیتی امور کے لیے پارلیمانی سیکرٹری سنجے کمار نے ریلی کی قیادت کی اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ سنجے کمار نے کہا کہ "پاکستان پر الزام لگانا بھارت کی پرانی عادت ہے، جو انتہائی قابل مذمت ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "وزیراعظم شہباز شریف نے پہلگام واقعے کی تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کرکے بھارت کو لاجواب کر دیا ہے۔”

    سنجے کمار نے بھارت کی جانب سے جنگی جنون اور جھوٹے الزامات عائد کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "اصل مجرموں کو تلاش کرنے کے بجائے بھارت کا جنگی جنون اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ واقعہ ایک فالس فلیگ آپریشن ہے۔”پارلیمانی سیکرٹری نے واضح کیا کہ "ہندو برادری سمیت تمام غیر مسلم پاکستانی اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر قیمت پر اپنے وطن عزیز کا دفاع کریں گے۔” انہوں نے بھارت کے اندر اقلیتی برادریوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "بھارت آج اقلیتوں اور بے گناہ انسانوں کی قتل گاہ بن چکا ہے، جبکہ پاکستان میں ہمیں مذہبی اور تمام شہری آزادیوں کا مکمل تحفظ حاصل ہے۔”

    انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ "پاکستان ہمارا گھر ہے اور ہم جان دے کر اس کی حفاظت کریں گے۔” ریلی کے دوران شرکاء نے "پاکستان زندہ باد، بھارت مردہ باد” اور "پاک فوج زندہ باد” کے فلک شگاف نعرے بھی لگائے۔ریلی میں شامل افراد نے بھارت کی بڑھتی ہوئی جارحیت کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے اور پاکستان کی سلامتی کے دفاع کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔

  • بھارت کا فالس فلیگ آپریشن، پنجاب وبلوچستان اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع

    بھارت کا فالس فلیگ آپریشن، پنجاب وبلوچستان اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع

    لاہور:حکمران جماعت کی رکن پنجاب اسمبلی عظمیٰ کاردار نے پہلگام میں بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کے حوالے سے مذمتی قرارداد جمع کرادی۔

    عظمیٰ کاردار کی جانب سے صوبائی اسمبلی میں جمع کرائی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان بھارت کے فالس فلیگ پہلگام آپریشن اور جنگی جنون کو یکسر مسترد کرتا ہے، پاکستان کی امن کی خواہش ہے لیکن اسے کمزوری نہ سمجھا جائے پاکستان کی افواج اور عوام اپنی حفا ظت کرنا جانتے ہیں، پاکستان بھارت کی ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا، پاکستانی عوام اپنی بہادر افواج کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔

    متن کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج ملک کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، ہماری آرمڈ فورس اور انٹیلیجنس اداروں سے بھارت خوف زدہ ہے کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور ہم نہتے کشمیریوں پر ایک ایک ظلم کا حساب لیں گے، پانی ہماری لائف لائن ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا،پوری دنیا بھارت کو ایک غیر ذمہ دار ملک کی حیثیت سے دیکھ رہی ہے۔

    علاوہ ازیں پاکستان پر بھارتی الزامات اور جارحیت کے خلاف بلوچستان اسمبلی میں قرار داد منظور کر لی گئی، اراکین اسمبلی نے بھارتی الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔

    بلوچستان اسمبلی میں بھارتی جارحیت کے خلاف قرارداد منظور کرلی گئی ملکی سلامتی پر حکومت اور اپوزیشن یک زبان ہو گئی اراکین نے جارحیت کی صورت میں بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ پہلے تو چائے پلائی اس بار کچھ اور ملے گا، پاکستان مضبوط ہاتھوں میں ہے بھارت کو دندان شکن جواب دیں گے، پاکستان کی سالمیت کےلئے بلوچستان وفاق کے ساتھ ہے۔

    بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت ہونے گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس میں مسلم لیگ ن کے رکن زرین مگسی نے بھارتی جارحیت کے خلاف مشترکہ قرارداد پیش کی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں یہ ایوان بھارتی الزامات کی مذمت کرتا ہے وفاقی حکومت بھارت کی جانب جارحیت کو عالمی برادری کے سامنے پیش کرے قرارداد پر بحث کے دوران اراکین نے بھارت الزامات پر شدید ردعمل دیا ہے۔

    مسلم لیگ نے رکن صوبائی اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا واقعے کے دس منٹ کے بعد پاکستان کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جاتی ہے پاکستان کی سالمیت کے حوالےسے ہم سب ایک پیج پر ہیں اقلیتی رکن سنجے کمار نے کہا کہ مودی سرکار بدحواسی کا شکار ہے اگر بھارت نے جنگ کا سوچا تو اقلیت اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔

    اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری نے کہا کہ بھارت کو پتھر کا جواب اینٹ سے دیں گے۔

    وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کا بھارتی جارحیت کے خلاف پیش کردہ قرارداد پر خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان کی سالمیت ہم سب یکجا ہیں جنگ اچھی چیز نہیں اگر مسلط ہوئی تو آخری حد تک جائیں گے پہلے تو چائے پلائی اس بار کچھ اور ملے گا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان مضبوط ہاتھوں میں ہے بھارت کو دندان شکن جواب دیں گے،پاکستان کی سالمیت کےلئے بلوچستان وفاق کے ساتھ ہے۔

    قرارداد پر دیگر حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے بھی یک زبان ہو کر بھارت کو جواب دیا، ایوان میں بھارتی جارحیت کے خلاف مشترکہ قرارداد منظور کرلی گئی جس کے بعد بلوچستان اسمبلی کا اجلاس دو مئی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

  • کوئٹہ کے رہائشی 23 سالہ آریان شاہ کی میت بھارت سے پاکستان پہنچ گئی

    کوئٹہ کے رہائشی 23 سالہ آریان شاہ کی میت بھارت سے پاکستان پہنچ گئی

    بھارت میں دوران علاج جاں بحق ہونے والے کوئٹہ کے رہائشی 23 آریان شاہ کی میت پاکستان پہنچ گئی۔

    ذرائع کے مطابق میت اور لواحقین ضروری کارروائی کے بعد کوئٹہ روانہ ہوں گے آریان کے والدین تمام مراحل میں معاونت پر بلوچستان حکومت کا تشکر کا اظہار کیا ہے،حکومت بلوچستان نے پاکستانی سفارتخانہ کے ذریعے اسپتال اور سفری اخراجات کی ادائیگی ممکن بنائی۔

    واضح رہے کہ کوئٹہ کا رہائشی آریان شاہ علاج کے لیے انڈیا کے شہر چنائی کے اسپتال میں دسمبر 2024سے زیر علاج تھا والدہ آریان نے بتایا کہ بلوچستان حکومت نے 3 کروڑ علاج کے لیے دیے جو کم پڑ گئے ، آریان کے علاج کے لئے مزید پیسوں کی اشد ضرورت تھی، اسپتال کے بقایا جات کی ادائیگی کے بعد ہی میرے بچے کی میت دی جائے گی اس مشکل وقت میں مدد کی جائے، مجھے میرے بچے کی میت کے ہمراہ واپس پاکستان لانے کا بندوبست کیا جائے، حکومت پاکستان،آرمی چیف سے اپیل سے اپیل کی تھی کہ میری مدد کریں۔

  • ماہ رنگ بلوچ سمیت 92 سے زائد کارکنوں کی رہائی کا حکم

    ماہ رنگ بلوچ سمیت 92 سے زائد کارکنوں کی رہائی کا حکم

    بلوچستان ہائیکورٹ نے تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیے گئے ماہ رنگ بلوچ سمیت 92 سے زائد بلوچ کارکنوں کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے-

    چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس اعجاز سواتی اور جسٹس عامر رانا پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی عدالت نے حکومت بلو چستا ن کو ہدایت دی کہ ایڈووکیٹ جنرل کے ذریعے عدالتی فیصلے پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔

    سماعت کے موقع پر وائس چیئرمین بار کونسل راہب بلیدی ایڈووکیٹ، سابق سیشن جج ظریف بلوچ ایڈووکیٹ، چنگیز بلوچ ایڈووکیٹ، نادیہ بلوچ ایڈووکیٹ اور دیگر وکلاء بھی عدالت میں موجود تھے۔

    پاریش راول کا علاج کیلئے 15 دن تک اپنا پیشاب پینے کا انکشاف

    سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان کی بیٹیوں اور سینکڑوں سیاسی کارکنوں کو غیر قانونی طور پر جیلوں میں قید رکھا گیا، مگر ہم انہیں اس مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے عدالت کے فیصلے سے ثابت ہو گیا ہے کہ قانو ن کی حکمرانی ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔

    عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی ہے، جب کہ تمام رہا ہونے والے افراد کو عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ ان کی رہائی کو قانونی طور پر مکمل کر کے مزید احکامات جاری کیے جا سکیں۔

    جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں دھماکہ، کم از کم 7 افراد زخمی

    واضح رہے کہ بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ کی جانب سے ان سیاسی کارکنوں کی رہائی کے لیے پٹیشن دائر کی گئی تھی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، ماما غفار اور دیگر کارکنوں کو تھری ایم پی او کے تحت غیر قانونی طور پر گرفتار کر کے جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے۔

  • کوئٹہ کاادبی منظر نامہ،علامہ اقبال صوبائی ایوارڈز کی تقریب.رپورٹ : شیخ فرید

    کوئٹہ کاادبی منظر نامہ،علامہ اقبال صوبائی ایوارڈز کی تقریب.رپورٹ : شیخ فرید

    وادیء کوئٹہ جو گذشتہ کئی ہفتوں سے گومگوں کیفیات سے دوچار تھی اور تمام علمی ، ادبی ، ثقافتی اور سماجی سرگرمیاں جمود کا شکار تھیں ، اب الحمد اللہ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے کے مصداق تمام سرگرمیاں بحال ہو چکی ہیں ۔اور دبستان ادب بلوچستان کے ادبی ریفرنس سے بھر پور آغاز ہوا ہے ۔
    قاریینِ کرام ادب کے معنیٰ گل و بلبل کی شاعری , لیلیٰ و مجنوں کی داستان ، اور ناولوں ، افسانوں اور ڈراموں کے کردار ہی نہیں ہوتے بلکہ یہ جیتے جاگتے آدمیوں کے باہمی تعلقات کی علامتیں ہوتی ہیں ۔ اگر آدمی زندہ ہے تو پھولوں کی خوشبو اور بلبل کے زمزوں سے حظ اْٹھائے گا ۔
    ادب زندگی سے عبارت ہے اور زندہ ادب ہی زندہ معاشرے کے زندہ اہلِ قلم کی نمائندگی کرتا ہے ۔
    ادب اور ادیب کو زندہ رکھنے کیلیے ادب کا فروغ اور ادیب کی پذیرائی کا تقاضاء ہے کہ اہلِ قلم کی ادبی صلاحیتوں کو سراہا جائے ۔
    اِسی لیۓ ادارہ نظامت ثقافت و سیاحت و آثارِ قدیمہ حکومتِ بلوچستان نے علامہ اقبال صوبائی ادبی ایوارڈز 2025ء کی ایک پْروقار تقریب نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس اسپنی روڈ منعقد کی ۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک اور حمد و نعت سے ہوا ۔
    علامہ اقبال صوبائی ادبی ایوارڈز کی تقریب میں معروف سیاسی رہنما رحمت بلوچ ، سابقبہ بیورو کریٹ عبدالکریم بریالی ، سرور جاوید ، اکادمی ادبیات کوئٹہ ڈائریکٹر ڈاکٹر قیوم بیدار ، بیرم غوری اور ڈاکٹر تاج رئیسانی سمیت کئی نامور شخصیات نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور اپنے دستِ مبارک سے اہلِ قلم کو اْن کی بہترین تصانیف پر ایوارڈز پیش کئیے۔
    علامہ اقبال ادبی ایوارڈ سال 2019ء شعبہ براہوئی میں پروفیسر عارف ضیاء ، صابر وحید ، شمس الدین شمنل ، شاہین برانزئی ، افضل مینگل ، عبدالوحید اور اکرم ساجد کو ایوارڈ کا حقدار ٹھہرایا گیا ۔
    بلوچی ادب میں منیر مومن ، تبسم مزاری ، نثار یوسف ، طاہر عبدالحکیم بلوچ ، زاہدہ رئیس راجی ، اصغر ظہیر ، اور پروفیسر طاہرہ احساس جتک کو بہترین تصنیف پر علامہ اقبال ادبی ایوارڈ پیش کیا گیا ۔
    شعبہ پشتو میں ڈاکٹر عصمت درانی ، ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی ، میر حسن خان اتل ، سّید۔لیاقت علی اور بی بی شفا کو اصنافِ نثر پر ایوارڈز دیئے گئے ۔
    ہزارگی لسان و ادب کے حوالے سے فارسی تصنیف پر عبدالخالق اور ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی کو ایوارڈز سے نوازا گیا ۔
    اردْو ادب 2019ء کیلیے جن اہلِ قلم کا ایوارڈز برائے شاعری انتخاب ہوا ۔ اْن کے اسمائےگرامی اس طرح ہیں
    ڈاکٹر عصمت اللہ درانی (انگاروں میں پھول) پروفیسر فیصل ریحان (تختِ سلیمان پر)
    ڈاکٹر عرفان احمد بیگ (صدائے عرفان) شعبہ تحقیق کیلیے ڈاکٹر انعام الحق کوثر (گورنمنٹ کالج کوئٹہ تاریخ کے آئینے میں) محمد پناہ بلوچ (بلوچ عورت تاریخی تناظر میں) پروفیسر سیّد خورشید افروز (بلوچستان میں نسائی ادب) نثری اصناف پر آغاگل (بولان کے آنسو) اور عابدہ رحمان کو (محبت کی گواہی) پر ایوارڈز دیئےگئے۔
    تقریب میں سال 2020ء میں لکھی جانے والی بہترین کتب پر بھی علامہ اقبال ادبی ایوارڈز پیش کئیے گئے تفصیلات کے مطابق ریاض ندیم نیازی (کن فیکون) اسراراحمد شاکر (آدھی ادھوری کہانیاں) عابدہ رحمان(جو کہا فسانہ تھا) اور طیّب محمود (غبارِ راہ) کےعلاوہ تحقیق کے شعبہ میں ڈاکٹر واحد بزدار اور ڈاکٹر عبدالرحمٰن براہوئی کو ایوارڈز پیش کئیےگئے ۔
    بلوچی میں نوید علی ، صبیحہ علی بلوچ ، امان اللہ گچکی ، بلال عاجز ، اور نثر میں ڈاکٹر فضل خالق کو ایوارڈ سے نوازا گیا ۔
    شعبہ براہوئی سال 2020ء کیلیے پروفیسر حسین بخش ساجد ، عبدالحمید ، عطاء اللہ ، سیّد علی محمد ہاشمی ، صلاح الدین مینگل ، افضل مراد ، نور خان محمد حسنی ، نور محمد پرکانی ، اور ڈاکٹر عنبرین مینگل کو علامہ اقبال ادبی ایوارڈ پیش کیاگیا ۔ پشتو ادب 2020ء کیلیے برملاخان ، مولوی رحمت اللہ مندوخیل ، ڈاکٹر لیاقت تاباں اور محمد نعیم کے علاوہ رحمت بی بی کو ایوارڈ۔کیلیے مستحق قراردیا گیا ۔ یا رہے ڈاکٹر انعام۔الحق کوثر کا ایوارڈ اْن کے بیٹے سلیم الحق ، ڈاکٹر ایم صلاح الدین مینگل جن کا انتقال اِسی برس ہوا ہے مرحوم کا ایوارڈ اْن کے بھائی مصلح الدین مینگل نے وصول کیا ، جبکہ ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی جو اقبال اکیڈمی لاہور میں ناظمِ اعلیٰ کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ، اْن کا ایوارڈ اْن کی اہلیہ نے حاصل کیا ۔
    اِس مرتبہ دو دو ایوارڈز پانے والوں میں ڈاکٹر لیاقت تابان ، پناہ بلوچ ، ڈاکٹرعرفان احمد بیگ ، ڈاکٹر روف رفیقی ، ڈاکٹر عصمت درانی اور ریاض ندیم نیازی شامل۔تھے ۔
    محکمہ نظامتِ ثقافت و سیاحت و آثارِ قدیمہ حکومتِ بلوچستان کی جانب سے اہلِ قلم کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی یٰقیناً خوش آئند امر ہے۔ تاہم ہماری رائے میں ادباء و شعراء کو ایک ہی ایوارڈ کیلیے منتخب کیا جائے ، جس کو کسی بھی شعبہ یا زبان میں ایواردیا جائے تو پھر کسی اور شعبہ یا اصناف میں نہ دیا جائے اسطرح زیادہ لکھاریوں کو ایوارڈز دیئےجاسکتے ہیں ۔ اردو سے عناد کی پالیسی کا خاتمہ کرتے ہوئے شعبہ اردو کے اہلِ قلم کی کیٹیگری کو شاعری ، افسانہ ، ناول ، تحقیق ، کالم نگاری اور سفر نامہ نگاروں کیلیے علحیدہ علحیدہ ایوارڈز رکھے جائیں اور بچوں کے ادب کو تو ہر سطح پر اولیّت دی جائے ۔
    ادبِ اطفال میں بھی کہانی اور نظم کے شعبے کو ترجیح دی جائے ۔۔۔۔
    کاش کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات ۔

  • کوئٹہ میں دھماکا، چار افراد کی موت، 3 زخمی

    کوئٹہ میں دھماکا، چار افراد کی موت، 3 زخمی

    کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے مارگٹ میں ایک بارودی سرنگ کے دھماکے کی اطلاعات ہیں، جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق اور 3 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق دھماکہ صبح کے وقت ہوا، جب یہ افراد علاقے میں معمول کے کام کاج کے لیے جا رہے تھے۔

    پولیس کے مطابق دھماکہ مارگٹ کے ایک گاؤں میں اس وقت ہوا جب بارودی سرنگ کو چلا دیا گیا۔ دھماکے میں 4 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ 3 افراد شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ دھماکے کے بعد علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ علاقے کو محفوظ بنایا جا سکے اور مزید تحقیقات کی جا سکیں۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے عملے کو بھی موقع پر طلب کر لیا گیا ہے تاکہ بارودی سرنگ کا مزید کوئی خطرہ نہ ہو۔زخمی افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت نازک ہے اور انہیں خصوصی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔

    پولیس نے اس دھماکے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے میں موجود دیگر مشتبہ مواد کو بھی فوراً برآمد کرنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے پیچھے دہشت گردی کا ہاتھ ہو سکتا ہے، تاہم اس وقت تک مزید تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکی ہیں۔دھماکے کے بعد بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی سیکورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مقابلہ کیا جا سکے۔

  • قلات میں بم دھماکہ، خواتین اور بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق

    قلات میں بم دھماکہ، خواتین اور بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق

    بلوچستان کے علاقے قلات میں سڑک کنارے نصب آئی ای ڈی دھماکے میںخواتین اور بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہوگئے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جاں بحق افراد میں عبداللہ، گل بانو بنت خیر محمد، بی بی حسینہ اور ایک بچہ شامل ہے جبکہ زخمیوں میں علی جان، محمد حیات، میر گل ، عزت خان ، محمد اسلم شامل ہیں۔لیویز ذرائع کے مطابق قلات کے علاقے امیری میں سڑک کنارے نصب دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے پک اپ گاڑی میں سوار 2 خواتین اور ایک بچے سمیت 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    دوسری جانب واقعہ کی اطلاع ملتے ہی لیویز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لیکر نعشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔لیویز حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کی لاشوں کو ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کردیا گیا ہے جبکہ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔

    اسلام آباد،مشتعل پاکستانی بھارتی ہائی کمیشن پہنچ گئے،داخلے کی کوشش

  • بلوچستان: چیئرمین کی متنازعہ تعیناتی، محکمہ تعلیم کا احتجاج وبائیکاٹ، انٹرمیڈیٹ امتحانات ملتوی

    بلوچستان: چیئرمین کی متنازعہ تعیناتی، محکمہ تعلیم کا احتجاج وبائیکاٹ، انٹرمیڈیٹ امتحانات ملتوی

    کوئٹہ (باغی ٹی وی) بلوچستان میں محکمہ تعلیم کی تنظیموں کے بائیکاٹ کے باعث انٹرمیڈیٹ کے امتحانات ملتوی کر دیے گئے۔

    بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (BBISE) کوئٹہ نے آج سے شروع ہونے والے انٹرمیڈیٹ (ایف اے، ایف ایس سی) کے سالانہ امتحانات محکمہ تعلیم سے وابستہ مختلف تنظیموں کی جانب سے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد ملتوی کر دیے ہیں۔ چیئرمین بورڈ کے ایک ترجمان کے مطابق، ملتوی شدہ امتحانات کی نئی ڈیٹ شیٹ کا اعلان آئندہ چند روز میں کر دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ محکمہ تعلیم سے وابستہ متعدد تنظیموں نے بورڈ کے چیئرمین کی مبینہ طور پر غیر قانونی تعیناتی کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ ان تنظیموں میں بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (BPLA)، آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (اپکا)، گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن (GTA)، سینئر ایجوکیشنل سٹاف ایسوسی ایشن (SESA)، گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن (آئینی)، وطن ٹیچرز ایسوسی ایشن اور جونیئر ٹیچرز ایسوسی ایشن شامل ہیں۔

    ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ میں منعقدہ ان تنظیموں کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ چیئرمین کی تعیناتی BBISE ایکٹ 2019 کی صریحاً خلاف ورزی ہے، جس کے خلاف نہ صرف انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا بلکہ میٹرک کے پرچوں کی مارکنگ کا عمل بھی معطل رکھا جائے گا۔ تنظیموں کے نمائندوں نے واضح کیا کہ ان کا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک چیئرمین کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن منسوخ نہیں کر دیا جاتا۔

    اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ ایک طرف صوبے میں گڈ گورننس اور تعلیمی ایمرجنسی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، تو دوسری جانب محکمہ تعلیم اور اصل اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر بیوروکریسی کے ایک غیر متعلقہ افسر کو چیئرمین تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس غیر قانونی اقدام سے صوبے کا واحد تعلیمی بورڈ تباہی سے دوچار ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں طلباء کا تعلیمی مستقبل تاریک ہو جائے گا اور محکمہ تعلیم میں مستقبل کے لیے بھی غیر قانونی اقدامات کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

    اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ کالج اور سکول اساتذہ کے ساتھ ساتھ کلریکل سٹاف بھی چیئرمین بورڈ کی تعیناتی کے خلاف احتجاج میں بھرپور شرکت کرے گا۔ تنظیموں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر چیئرمین بورڈ کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن واپس لے۔

  • ماہ رنگ بلوچ  کی نظربندی میں مزید 30 روز کی توسیع

    ماہ رنگ بلوچ کی نظربندی میں مزید 30 روز کی توسیع

    بلوچستان حکومت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بیبو بلوچ کی نظربندی میں مزید 30 روز کی توسیع کر دی.

    باغی ٹی وی کے مطابق بلوچستان حکومت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بیبو بلوچ کی 3 ایم پی او کے تحت 30 روزہ نظربندی مکمل ہونے کے بعد ان کی حراست میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق، نظربندی کی مدت میں توسیع کا فیصلہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے، جبکہ اس حوالے سے انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے.یہ توسیع ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ہوم) بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت عمل میں لائی گئی۔

    دونوں شخصیات کو قبل ازیں امن عامہ کے خدشات کے پیش نظر حراست میں لیا گیا تھا۔واضح رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو 22 مارچ کو 3 ایم پی او کے تحت کوئٹہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

    خیبر پولیس کی وردی تبدیل،شلوار قمیض کی جگہ،شرٹ پتلون کا حکم

    مصطفی عامر قتل کیس،پولیس مقابلے، غیر قانونی اسلحے سے متعلق اہم انکشافات

    فلسطین میں نسل کشی ، اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کیے،روسی قونصل جنرل

    وزیراعظم آج دورۂ ترکیہ کے لیے روانہ ہوں گے

    کراچی میں شدید گرمی ،اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک وارڈز قائم