Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ، طلبا و فیکلٹی سے خطاب

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ، طلبا و فیکلٹی سے خطاب

    چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے آج کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اسٹوڈنٹ افسران اور فیکلٹی سے خطاب کیا۔اس موقع پر کوئٹہ پہنچنے پر آرمی چیف کا استقبال کور کمانڈر کوئٹہ اور کمانڈنٹ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج نے کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق آرمی چیف نے آپریشن "بنیان مرصوص” کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی قیادت کے تحت پاکستانی عوام مادرِ وطن کے دفاع کے لیے فولادی دیوار بن گئے۔ انہوں نے مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "معرکۂ حق” میں کامیابی ہماری قومی عزم، اتحاد، اور قومی طاقت کے تمام عناصر کی ہم آہنگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    علاقائی اور عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارت کی جانب سے بلااشتعال جارحیت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور دشمن کی ہر چال کو ناکام بنایا جائے گا۔

    انہوں نے جنوبی ایشیا میں اسٹریٹیجک استحکام کے لیے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا اور بھارت کی جانب سے آبی دہشت گردی کو غیرقانونی اور ناقابل قبول قرار دیا۔آرمی چیف نے پاکستان کے اندر دہشتگردی کی کارروائیوں میں بھارتی ریاستی کردار کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشتگردی مہم کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر اعتماد ظاہر کیا کہ قوم دہشتگردی کی تمام اقسام کے خلاف کامیابی حاصل کرے گی۔

    قیادت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے طلباء افسران کو اپنے فرائض جذبے، عزم اور دیانتداری سے ادا کرنے کی نصیحت کی۔ انہوں نے تخلیقی سوچ اور تحقیق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کو مستقبل کے عسکری رہنما تیار کرنے پر سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری تربیت موجودہ حالات کی عکاسی کے ساتھ ساتھ مستقبل کے میدانِ جنگ کے لیے بھی ہمیں تیار کرے — جو چُستی، جدت اور ناقابل شکست عزم کا تقاضا کرتا ہے۔”

    بلوچستان کے شہر سوراب پر بی ایل اے کا حملہ، سیکیورٹی فورسز کا کامیاب جوابی آپریشن

    دفاع اور وفا کرنے والوں کی کردار کشی بدترین جرم ہے۔ ملی ادبی پنچائیت

    بلوچستان میں تخریب کاری نہیں، دہشت گردی ہے: پاکستان کا بی ایل اے کے خلاف دوٹوک مؤقف

    غزہ کی پوری آبادی قحط کے خطرے میں مبتلا ہے، اقوام متحدہ

    لیہ: مریم نواز کا لیپ ٹاپ و اسکالرشپ اسکیم کا آغاز، طلبہ کا پرتپاک استقبال

  • بلوچستان کے شہر سوراب پر بی ایل اے کا حملہ، سیکیورٹی فورسز کا کامیاب جوابی آپریشن

    بلوچستان کے شہر سوراب پر بی ایل اے کا حملہ، سیکیورٹی فورسز کا کامیاب جوابی آپریشن

    کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک درجنوں مسلح دہشتگردوں نے بلوچستان کے شہر سوراب پر حملہ کر کے مختصر وقت کے لیے مختلف سرکاری اداروں اور شاہراہوں پر قبضہ کر لیا، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ پسپا کر دیا اور دو دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق 30 مئی کی صبح 100 کے قریب مسلح شدت پسندوں نے شہر کے اہم انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنایا، جن میں لیویز چوکیاں، بینک، سرکاری دفاتر، قومی شاہراہ N-25، اور شہر کے داخلی و خارجی راستے شامل ہیں۔ حملہ آوروں نے شہر میں گشت اور اسنیپ چیکنگ بھی کی، لیویز و پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا، اور سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں کو نذر آتش کیا۔

    کالعدم بی ایل اے نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس حوالے سے ویڈیوز اور تصاویر بی ایل اے سے منسلک ٹیلیگرام چینل "ساگر میڈیا” کے ذریعے جاری کیں۔ڈپٹی کمشنر سوراب کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے علاقے کا کنٹرول بحال کر لیا ہے اور آپریشن کے دوران دو دہشتگرد مارے گئے۔ شہر میں اب حالات معمول پر آ رہے ہیں۔

    اس واقعے پر بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے مبینہ طور پر پروپیگنڈا پھیلایا گیا، جس کا مقصد ملک دشمن عناصر کے بیانیے کو تقویت دینا بتایا جا رہا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کا مقصد بلوچستان میں خوف و ہراس پھیلانا اور ترقیاتی عمل کو روکنا ہے، تاہم ریاست دشمن عناصر کو ہر محاذ پر شکست دی جائے گی۔

    بلوچستان میں تخریب کاری نہیں، دہشت گردی ہے: پاکستان کا بی ایل اے کے خلاف دوٹوک مؤقف

    غزہ کی پوری آبادی قحط کے خطرے میں مبتلا ہے، اقوام متحدہ

    بلنک کیپیٹل مینجمنٹ کے سی ای او حسن مقصود مبینہ طور پر خودکشی کر کے جاں بحق

    وزیرِ اعظم کا کوئٹہ کا دورہ طے، قبائلی جرگے میں شرکت کریں گے

    لاہور میں دوسرا ٹی20؛ پاکستان کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

  • بلوچستان میں تخریب کاری نہیں، دہشت گردی ہے: پاکستان کا بی ایل اے کے خلاف دوٹوک مؤقف

    بلوچستان میں تخریب کاری نہیں، دہشت گردی ہے: پاکستان کا بی ایل اے کے خلاف دوٹوک مؤقف

    کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے سڑکیں بند کرنے، تعلیمی ادارے جلانے، اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے اقدامات کو پاکستان نے دہشت گردی قرار دیتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق بی ایل اے آزادی کے نام پر بلوچستان میں دہشت و خوف کی فضا قائم کر رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تنظیم عوام کے نہیں بلکہ غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے سرگرم ہے۔ترجمان کے مطابق سوراب پر کنٹرول کا دعویٰ دراصل یرغمالی بنانے، سرکاری املاک کو آگ لگانے، اور مقامی آبادی کو ہراساں کرنے کا کھلا اعتراف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی ایل اے کی یہ بوکھلاہٹ دراصل ان کی ناکامی کا اظہار ہے۔

    جب پاکستان حکومت بلوچستان میں اسکولز، سڑکیں اور انفرا اسٹرکچر تعمیر کر رہی ہے، تو بی ایل اے انہیں تباہ کر کے عوام دشمنی کا ثبوت دے رہی ہے۔ یہ بغاوت نہیں بلکہ کھلی تخریب کاری ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ بی ایل اے کسی آزادی تحریک کا حصہ نہیں بلکہ بھارت کی پراکسی ملیشیا ہے، جو فتنہ و فساد پھیلانے میں مصروف ہے۔ "فتنۃ الہند” کو نہ صرف زمین پر بلکہ دلوں اور تاریخ میں بھی شکست دی جائے گی۔

    ترجمان نے کہا کہ بی ایل اے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز دہشتگردی کے کھلے اعترافات پر مشتمل ہیں، جن میں پولیس اسٹیشنز پر قبضے، عوامی راستوں کی بندش اور شہریوں کو نقصان پہنچانا شامل ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی ادارے علاقے کا کنٹرول بحال کر رہے ہیں، اور بی ایل اے کے مسلح عناصر راہِ فرار اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان دہشتگردوں کو فرار نہ ہونے دیں۔

    پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی سرزمین پر صرف امن، ترقی اور قومی پرچم کا راج ہو گا۔ جہاں پاکستان کا پرچم لہرائے گا، وہاں بی ایل اے کا جھوٹ دفن ہو گا۔

  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں،  فتنہ الہندوستان کے 5 دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 5 دہشت گرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے دو مختلف اضلاع، لورالائی اور کیچ میں کارروائیوں کے دوران بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم "فتنہ الہندوستان” کے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، 28 مئی کو بلوچستان میں انٹیلیجنس بیسڈ دو علیحدہ آپریشنز کیے گئے۔ ضلع لورالائی میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا گیا، جس میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد چار دہشت گرد مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق، ہلاک دہشت گردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔ یہ دہشت گرد 26 اگست 2024 اور 18 فروری 2025 کو کیے گئے دہشت گرد حملوں میں ملوث تھے، جن میں 30 معصوم شہری شہید ہوئے تھے۔ یہ تمام عناصر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھے۔دوسری کارروائی ضلع کیچ میں کی گئی، جہاں ایک اور دہشت گرد مارا گیا.

    فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، اور ملک دشمن عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے عزم کو دہراتی ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
    وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارتی پراکسیز کے ذریعے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ہماری سیکیورٹی فورسز شب و روز سرگرم ہیں۔

    کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، کبھی دستبردار نہیں ہونگے، فیلڈ مارشل عاصم منیر

  • بولان بس حادثہ: ڈرائیور کی غفلت سے 4 افراد جاں بحق، 28 مسافر زخمی

    بولان بس حادثہ: ڈرائیور کی غفلت سے 4 افراد جاں بحق، 28 مسافر زخمی

    بولان/تنگوانی (باغی ٹی وی، نامہ نگار منصور بلوچ) بلوچستان کے ضلع بولان میں قومی شاہراہ پر افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا جس میں صادق آباد سے کوئٹہ جانے والی "سدا بہار” مسافر کوچ دوسا چوکی کے قریب بے قابو ہو کر الٹ گئی۔ حادثے میں چار مسافر موقع پر جاں بحق جبکہ 28 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی علاقہ سوگ میں ڈوب گیا، خاص طور پر تنگوانی میں اس وقت کہرام مچ گیا جب معلوم ہوا کہ جاں بحق ہونے والوں میں مقامی نوجوان نظام الدین ولد غلام سرور بھی شامل ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ کوچ صادق آباد سے کوئٹہ جا رہی تھی، جس کے دوران ڈرائیور کی غفلت، تیز رفتاری اور ممکنہ طور پر نیند کی حالت میں گاڑی چلانے کے باعث دوسا چوکی کے قریب گاڑی بے قابو ہو کر اُلٹ گئی۔ حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر چیخ و پکار مچ گئی اور ہر طرف انسانی لاشیں، زخمی مسافر اور تباہ شدہ سامان بکھرا ہوا تھا۔

    حادثے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں، ایف سی اہلکار، لیویز فورس اور ہائی وے پولیس موقع پر پہنچ گئیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر سول ہسپتال سبی منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ سول ہسپتال کے ایم ایس کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جنہیں کوئٹہ ریفر کیا جا سکتا ہے۔

    اس حادثے میں اب تک چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں امداد علی ولد غوث بخش (ٹھل سے کوئٹہ جانے والا)، نظام الدین ولد غلام سرور (کشمور کے علاقے تنگوانی کا رہائشی) شامل ہیں جبکہ دو دیگر جاں بحق افراد کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔ تنگوانی میں جب نظام الدین کی ہلاکت کی خبر پہنچی تو گھر میں کہرام مچ گیا، والدین پر غشی کے دورے پڑے اور اہلِ محلہ سوگ میں ڈوب گئے۔

    حادثے میں زخمی ہونے والے 28 مسافروں کا تعلق سندھ اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہے۔ صادق آباد سے خیر احمد، عبداللہ اور امتیاز زخمی ہوئے. ٹھل سے شیر احمد، گل میر، غلام مصطفی، گلزار، نیاز احمد، غفار، خادم حسین، انور، ابوبکر اور منیر شامل ہیں. کندھ کوٹ سے سلیمان، کشمور سے یاسر، سکھر سے نعمان، گمبٹ سے محمد عامر اور عنایت اللہ، رحیم یار خان سے روحیل، محمد عارف اور ماجد جبکہ علی آباد سے ثناء اللہ، سجاد علی، حبیب خان، گنج بخش، انور اور محمد اکرم زخمی ہوئے۔ ایک مسافر مینگل ولد عمر دین کا علاقہ درج نہیں ہو سکا۔ زخمیوں میں بعض کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

    انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ لیویز فورس بالاناڑی اس حادثے کی تمام تفصیلات جمع کر رہی ہے اور قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔ مقامی حکام نے ڈرائیور کی غفلت کو ابتدائی وجہ قرار دیا ہے، تاہم کوچ کی فٹنس، کمپنی کی نگرانی اور ممکنہ تکنیکی خرابی کے پہلوؤں پر بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔

    حادثے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے علاقے میں پھیل گئی۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے فوری مالی امداد، زخمیوں کے بہتر علاج اور جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہری حلقوں نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور مسافر کوچز کی ناقص نگرانی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر کچھ عرصے بعد ایسے حادثات معمول بن چکے ہیں، جن پر حکومت اور متعلقہ ادارے فوری توجہ دیں۔

    یہ حادثہ ایک بار پھر بین الصوبائی شاہراہوں پر جاری ٹریفک نظم و ضبط کی بدترین صورتحال، غیر ذمہ دار ڈرائیونگ اور سڑکوں کی حالتِ زار کو عیاں کرتا ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ایسے سانحات روز کا معمول بن جائیں گے اور معصوم جانوں کا ضیاع جاری رہے گا۔

  • بلوچستان لیویز میں بڑی کارروائی: 18 اضلاع کے 62 اہلکار معطل

    بلوچستان لیویز میں بڑی کارروائی: 18 اضلاع کے 62 اہلکار معطل

    ڈائریکٹر جنرل بلوچستان لیویز عبدالغفار مگسی نے بدعنوانی اور چیک پوسٹوں پر رشوت لینے میں ملوث پائے جانے والے 62 لیویز اہلکاروں کو معطل کر دیا۔

    ڈی جی لیویز کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ اہلکار صوبے کے 18 مختلف اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں۔
    ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی شفاف تحقیقات کے بعد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیویز فورس میں کرپشن کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور احتساب کا عمل ہر سطح پر جاری رہے گا۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ اس معاملے کی مکمل چھان بین کے لیے ڈائریکٹر ایڈمن لیویز فورس میر واعظ خان کو انکوائری افسر مقرر کر دیا گیا ہے، جو پندرہ روز کے اندر اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں بلوچستان میں لیویز فورس کے مستقبل سے متعلق کئی اہم فیصلے سامنے آئے ہیں، جن میں تین اضلاع کی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کا اعلان بھی شامل ہے۔

    ایران پر حملہ نہ کریں، ہم جنگ نہیں، نتیجہ چاہتے ہیں،ٹرمپ کا نیتن یاہو کو پیغام

    آزادکشمیر: تولی پیر میں پولیس وین کھائی میں گرنے سے 5 اہلکار جاں بحق

    چترال: نوجوان نے ایک ہی وقت میں دو لڑکیوں سے نکاح کر کے نئی مثال قائم کر دی

    چترال: نوجوان نے ایک ہی وقت میں دو لڑکیوں سے نکاح کر کے نئی مثال قائم کر دی

    مانع حمل انجیکشن اور خواتین کی صحت ،ایک اہم وارننگ

  • سکیورٹی فورسز کی کارروائی؛موسیٰ خیل میں  کالعدم تنظیم کے 4  دہشتگرد ہلاک

    سکیورٹی فورسز کی کارروائی؛موسیٰ خیل میں کالعدم تنظیم کے 4 دہشتگرد ہلاک

    کوئٹہ:بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی ایک بڑی کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم کے 4 مسلح دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

    ضلع موسیٰ خیل کے علاقے راڑہ شم کے علاقے میں سکیورٹی فورسز نے ایک اہم کارروائی کی، جس کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں کالعدم تنظیم کے 4 مسلح دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہلاک دہشت گرد راڑہ شم میں ہائی وے پر بم نصب کررہے تھے ہلاک ہونے والے ان دہشت گردوں اسلحہ اور بم بھی برآمد ہوئے ہیں، ہلاک دہشت گرد راڑہ شم اور رڑکن کے علاقوں میں مسافر بسوں پر حملوں میں ملوث تھے ، سکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ چاروں ہلاک دہشت گرد مختلف واقعات میں ملوث تھے۔

  • سانحہ خضدار: بلوچستان اسمبلی میں دہشتگردی کے خلاف مشترکہ مذمتی قرارداد منظور

    سانحہ خضدار: بلوچستان اسمبلی میں دہشتگردی کے خلاف مشترکہ مذمتی قرارداد منظور

    بلوچستان اسمبلی نے سانحہ خضدار میں اسکول بس پر ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک مشترکہ قرارداد منظور کر لی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق قرارداد میں 21 مئی کے المناک واقعے کو "بزدلانہ، انسانیت سوز اور سفاکانہ” قرار دیا گیا ہے۔یہ قرارداد رکن اسمبلی رحمت صالح بلوچ نے پیش کی، جس میں کہا گیا کہ 21 مئی 2025 کو آرمی پبلک اسکول خضدار کے بچوں کی بس پر خودکش حملے میں 8 نہتے اور معصوم طلبہ شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ ایوان اس بہیمانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور شہدا کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کرتا ہے۔”

    زرک مندوخیل نے کہا کہ یہ حملہ نہ صرف ظلم و بربریت کی انتہا ہے بلکہ پاکستان کے روشن مستقبل، نئی نسل اور علم کے نور پر حملہ ہے۔”فرح عظیم شاہ نے دعویٰ کیا کہ "اب ثبوت کے ساتھ واضح ہو چکا ہے کہ المناک واقعے کو "بزدلانہ، انسانیت سوز اور سفاکانہ” قرار کرنے والے بھارت کے آلہ کار ہیں۔سلیم کھوسہ (مسلم لیگ ن) نے کہا کہ "بچوں کی شہادت نے بلوچستان کو توڑنے کے خواب دیکھنے والوں کے عزائم خاک میں ملا دیے ہیں۔ ان کے چپٹر کو بند کر دیا گیا ہے۔”

    یاد رہے کہ 21 مئی کو خضدار میں آرمی پبلک اسکول کی بس کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ابتدائی طور پر 5 افراد شہید ہوئے تھے، تاہم بعد ازاں مزید دو طالبات زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔بلوچستان اسمبلی نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان، خصوصاً بلوچستان میں بیرونی مداخلت اور دہشتگردی کا نوٹس لے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قرارداد بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے عوامی نمائندوں کے اتفاق رائے اور دشمن قوتوں کے خلاف قومی بیانیے کی عکاس ہے۔

    نوشکی آئل ٹینکر حادثہ، جاں بحق افراد کی تعداد 34 ہوگئی

    بھارت، لالو پرساد یادیو نے بیٹے کو خاندان اور پارٹی سے نکال دیا

    بھارت، لالو پرساد یادیو نے بیٹے کو خاندان اور پارٹی سے نکال دیا

    مورو احتجاج: شرجیل میمن نے مظاہرین کے تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کی ویڈیوز پیش کردیں

    وزیراعظم کی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات

  • نوشکی آئل ٹینکر حادثہ، جاں بحق افراد کی تعداد 34 ہوگئی

    نوشکی آئل ٹینکر حادثہ، جاں بحق افراد کی تعداد 34 ہوگئی

    بلوچستان کے ضلع نوشکی میں 28 اپریل کو پیش آنے والے افسوسناک آئل ٹینکر آتشزدگی واقعے میں ایک اور زخمی کی ہلاکت کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 34 تک پہنچ گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق واقعے میں 80 سے زائد افراد جھلس کر زخمی ہوئے تھے، جن میں سے کئی تاحال کوئٹہ اور کراچی کے اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔28 اپریل کو نوشکی کے ٹرک اڈے میں ایک آئل ٹینکر کی وائرنگ درست کرتے ہوئے اچانک آگ بھڑک اٹھی۔آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے ٹینکر کو لپیٹ میں لے لیا۔

    ڈرائیور نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلتے ہوئے ٹینکر کو قریبی کھیت کی طرف لے جانے کی کوشش کی تاکہ انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔تاہم وہاں موجود شہریوں کی بڑی تعداد ٹینکر کے پھٹنے سے شدید جھلس گئی۔متاثرین میں علاقہ مکین، مزدور اور راہگیر شامل ہیں جو حادثے کے وقت جائے وقوعہ پر موجود تھے۔

    جھلسنے والے افراد کو شدید نوعیت کے زخم آئے، جن میں سے متعدد کی حالت تشویشناک رہی۔جاں بحق افراد کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد نے واقعے کو بلوچستان کی حالیہ تاریخ کے المناک ترین حادثات میں شامل کر دیا ہے۔ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا تھا۔

    واضح رہے کہ سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع ابلاغ میں واقعے کو ناقص حفاظتی انتظامات اور تربیت کے فقدان کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے۔یہ واقعہ نہ صرف ریاستی مشینری کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے بلکہ عوامی آگاہی اور ہنگامی حالات میں تربیت کی اشد ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

    نوشکی آئل ٹینکر حادثہ، جاں بحق افراد کی تعداد 34 ہوگئی

    بھارت، لالو پرساد یادیو نے بیٹے کو خاندان اور پارٹی سے نکال دیا

    بھارت، لالو پرساد یادیو نے بیٹے کو خاندان اور پارٹی سے نکال دیا

    مورو احتجاج: شرجیل میمن نے مظاہرین کے تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کی ویڈیوز پیش کردیں

  • کوئٹہ سے تونسہ شریف جانے والی مسافر بس مسلح افراد لے گئے، مسافر محفوظ

    کوئٹہ سے تونسہ شریف جانے والی مسافر بس مسلح افراد لے گئے، مسافر محفوظ

    کوئٹہ سے تونسہ شریف جانے والی ایک مسافر بس کو مسلح افراد اپنے ساتھ لے گئے۔

    لیویز حکام کے مطابق مسلح افراد نے مسافروں کو بس سے اتار کر انہیں محفوظ مقام پر چھوڑ دیا، جبکہ خالی بس کو ساتھ لے گئے۔حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ معاملہ لین دین کا تنازع معلوم ہوتا ہے، تاہم واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

    لیویز فورس نے بتایا کہ بس اور عملے کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ابھی تک کسی گروہ نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    ماہرہ خان کو لندن میں فلم کی تشہیر کے دوران ہراسانی کا سامنا، ویڈیو وائرل

    کراچی میں پانی اور بجلی کی بندش پر شہریوں کا شدید احتجاج، اہم سڑکیں بند

    پی ایس ایل 10، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

    وزیراعظم شہباز شریف 2 روزہ دورے پر ترکیہ پہنچ گئے