وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے لیے 10 ارب روپے کی معاونت کا اعلان کیا ہے۔ مریم نواز نے بلوچستان کا دورہ کیا اور کوئٹہ میں ایف سی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی، جہاں انہوں نے سکیورٹی فورسز کے لیے مالی معاونت کی منظوری دی۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کا حب الوطنی اور پاکستان سے وابستگی قابل ستائش ہے، اور حکومت پنجاب بلوچستان کو درپیش چیلنجز میں ہر ممکن تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن، استحکام اور خوشحالی دیکھنا چاہتے ہیں اور دہشت گردی کا خاتمہ قومی یکجہتی سے ممکن ہے۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ بلوچستان کو فتنہ نہیں بلکہ فتنہ الخوارج کا سامنا ہے اور اس کے خلاف آپریشن میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وسائل اور خدمات بلوچستان کے لیے حاضر ہیں اور دعا ہے کہ علاقے سے دہشت گردی کا جلد خاتمہ ہو۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بھی مریم نواز کے دورے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے لیے 10 ارب روپے کی معاونت مثبت اور قابل تحسین اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حکومت اور اپوزیشن عوامی فلاح کے لیے متحد ہیں۔
Category: کوئٹہ

وزیراعلیٰ پنجاب کا بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کیلئے 10 ارب روپےکی معاونت کا اعلان

مریم نواز ایک روزہ سرکاری دورے پر کوئٹہ پہنچ گئیں
کوئٹہ:وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ایک روزہ سرکاری دورے پر کوئٹہ پہنچ گئیں۔
کوئٹہ ایئرپورٹ پر گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے صوبائی وزراء کے ہمراہ ان کا پرتپاک استقبال کیا جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب گورنر ہاؤس پہنچیں جہاں ان کی گورنر بلوچستان سے ون ٹو ون ملاقات شیڈول ہےمریم نواز حالیہ دہشت گرد حملوں میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں سے ملاقات اور ان سے اظہار یکجہتی کریں گی، اس کے علاوہ ان کی بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی سے بھی ملاقات متوقع ہے گورنر ہاؤس میں کابینہ اراکین کے ساتھ بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورت بھی ہوگی۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کے ہمراہ صوبائی وزراء مریم اورنگزیب، عظمیٰ بخاری اور چیف سیکرٹری پنجاب بھی موجود ہیں، یہ دورہ بلوچستان کی موجودہ سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہے۔

چمن میں انسدادِ پولیو ٹیم پر فائرنگ، ایک پولیس اہلکار شہید، دوسرا زخمی
بلوچستان کے سرحدی ضلع چمن میں انسدادِ پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی پر مامور پولیس ٹیم پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔
واقعہ چمن کے علاقے روغانی میں پیش آیا جہاں پولیو ٹیم اپنے فرائض انجام دے رہی تھی۔پولیس کے مطابق حملہ اس وقت کیا گیا جب انسدادِ پولیو ٹیم علاقے میں بچوں کو قطرے پلانے کے لیے موجود تھی اور ان کی سیکیورٹی پر پولیس اہلکار تعینات تھے۔ نامعلوم موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے اچانک پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا اور موقع سے فرار ہو گئے۔فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گیا جبکہ دوسرا اہلکار زخمی ہو گیا جسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ خوش قسمتی سے واقعے میں پولیو ورکرز محفوظ رہے۔
واقعے کے فوراً بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے ناکہ بندی کر دی گئی ہے جبکہ شواہد بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

آپریشن رد الفتنہ بلوچستان میں خونریزی اور انتشار پھیلانے والوں کیلئے واضح پیغام ہے،سرفراز بگٹی
زیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی نے کہا ہے کہ آپریشن رد الفتنہ بلوچستان میں خونریزی اور انتشار پھیلانے والوں کیلئے واضح پیغام ہے-
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان اور ان کے سرپرستوں کو واضح اور دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ بی ایل اے ایک فتنہ ہے جو معصوم شہریوں اور مزدوروں کو نشانہ بناتا ہےیہ فتنہ بھارت کی ایماء پرپاکستان کی ترقی کے راستےمیں حائل ہے، پاکستان اپنی وحدت،ترقی اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، فتنہ انگیزی کی ہرکوشش کاموثر اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا ریاست الحمدللہ مضبوط اورقوم متحد ہے، پاکستان کے خلاف اٹھنے والا ہر ہاتھ قانون کے مطابق نہ صرف پوری طاقت سے روکا جائے گا بلکہ ہمیشہ کیلئے توڑ دیا جائے گا، انشاءاللہ، پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔
صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر،غیر مستند خبر کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے،شرجیل میمن
امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ ختم
امریکا کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہوں گے، ایرانی وزیر خارجہ

بلوچستان میں جعفر ایکسپریس اور پسینجر ٹرین بحال،بولان سروس تاحال معطل
محکمہ ریلویز کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے اندرون ملک ٹرین سروس کو بحال کر دیا ہے،جبکہ کراچی سے کوئٹہ کیلئے بولان میل 12 فروری تک منسوخ رہے گی۔
ریلوے حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باعث 31 جنوری کو ہونے والے حملوں کے بعد گزشتہ پانچ روز سے معطل ٹرین سروس کو بحال کر دیا گیا ہے، کوئٹہ سے اندرونِ صوبہ بلوچستان اور دیگر صوبوں کیلئے ٹرین آپریشن مرحلہ وار دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کوئٹہ سے چمن جانے والی چمن پسنجر ٹرین اپنے مقررہ وقت پر روانہ ہوگئی، جس کے بعد مسافروں نے سکھ کا سانس لیا، اسی طرح کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کی سروس بھی آج سے بحال کر دی گئی ہے۔
چینی شہریوں کو ہرممکن سکیورٹی فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے،محسن نقوی
ریلوے انتظامیہ کے مطابق کراچی اور کوئٹہ کے درمیان چلنے والی بولان میل ٹرین سروس آئندہ چند روز میں بحال کر دی جائے گی بلوچستان میں بد امنی کے واقعات کی وجہ سے اندورن ملک کے لئے ٹرین سروس 31 جنوری کو معطل کی گئی تھی۔
بلوچستان میں آپریشن رد الفتنہ ون کامیابی سے مکمل ،216 دہشتگرد جہنم واصل

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کوئٹہ دورہ، دہشت گردی کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا عزم
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آج کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہیں بلوچستان کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور جاری اندرونی سیکیورٹی آپریشنز پر جامع بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بھارت کے حمایت یافتہ، بین الاقوامی طور پر نامزد دہشت گرد گروہ فتنہ الہندوستان کی جانب سے حالیہ دہشت گرد حملوں اور سیکیورٹی فورسز کے فوری اور مؤثر ردعمل پر تفصیل سے آگاہ کیا گیا، جس کے باعث بلوچستان میں امن، استحکام اور ترقی کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ناکام بنائی گئیں۔
ریاست کی رِٹ کو مضبوط بنانے، عوام اور حساس تنصیبات کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واضح کیا کہ کسی بھی دہشت گرد اور اس کے سہولت کار کو نہیں بخشا جائے گا اور تشدد و دہشت گردی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، بہادری اور قربانیوں کو سراہا۔
بعد ازاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ سی ایم ایچ کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کے زخمی اہلکاروں سے ملاقات کی اور مادرِ وطن کے دفاع میں ان کے بلند حوصلے، جرات اور استقامت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
بلوچستان کے ضلع بارکھان میں پاکستان و پاک افواج زندہ باد ریلی کا انعقاد
بلوچستان کے ضلع بارکھان میں پاکستان و پاک افواج زندہ باد ریلی کا انعقاد کیا گیا
ریلی میں ہزاروں افراد پاکستان کے سبز ہلالی پرچم تھامے شریک ہوئے،ریلی کی قیادت صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کررہے تھے ،اس موقع پر صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ؛دور دراز سے لوگ افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی کیلئے سبزہلالی پرچم تھامےاس ریلی میں شریک ہیں،میں فیلڈ مارشل کی بات کی تائید کرتا ہوں کہ دہشت گردوں کی دس نسلیں بھی بلوچستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، بلوچستان کے عوام اس کی محافظ ہے،اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، یہ بلوچستان ہے،یہ ہمیشہ قائم و دائم رہے گا اور پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا، ریلی میں موجود لوگوں نے پاکستان زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے فلگ شگاف نعرے بھی لگائے

رکن بلوچستان اسمبلی علی مدد جتک وزیرداخلہ بلوچستان مقرر
بلوچستان کی صوبائی سیاست میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں رکن بلوچستان اسمبلی علی مدد جتک کو باضابطہ طور پر وزیرداخلہ بلوچستان مقرر کر دیا گیا ہے۔
علی مدد جتک نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا، گورنر بلوچستان نے ان سے حلف لیا۔حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقد ہوئی، جس میں صوبائی کابینہ کے اراکین، اعلیٰ سرکاری افسران اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران آئینی تقاضوں کے مطابق حلف لیا گیا اور نوٹیفکیشن کے اجراء کے بعد علی مدد جتک نے وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھال لیا۔ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ بلوچستان کا اہم قلمدان گزشتہ دو سال سے باقاعدہ وزیر کے بغیر تھا۔ اس عرصے کے دوران یہ ذمہ داری وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے پاس رہی، جو بطور وزیر داخلہ صوبے میں امن و امان، سیکیورٹی اور داخلی امور کی نگرانی کر رہے تھے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ علی مدد جتک کی بطور وزیرداخلہ تقرری ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب بلوچستان کو امن و امان، دہشت گردی، سرحدی سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں نئی تقرری کو صوبائی حکومت کی جانب سے انتظامی اور سیکیورٹی معاملات کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی یونیورسٹی آف تربت کے طلباء و اساتذہ کے ساتھ خصوصی نشست
کوئٹہ:ڈی جی آئی ایس پی آر نے یونیورسٹی آف تربت کا دورہ کیا جہاں اساتذہ، فیکلٹی ممبران اور طلباء نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔
دورے کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلباء اور اساتذہ کے ساتھ ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی، جس میں قومی سلامتی اور دیگر اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی،نشست کے دوران اساتذہ اور طلباء نے قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے خلاف مسلح افواج کے ساتھ متحد ہو کر مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اساتذہ نے اس موقع پر کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ ہونے والی نشست نہایت معلوماتی رہی اور پاکستان کا مستقبل نوجوان نسل ہے طلباء نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ نشست سے انہیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا، جبکہ یہ ملاقات ان کے خیالات اور رویوں میں مثبت تبدیلی کا باعث بنے گی۔
نشست کے اختتام پر شرکاء نے قومی یکجہتی، شعور اور مثبت بیانیہ کے فروغ کے لیے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت پر اتفاق کیا۔

ہم ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے، پاکستان ٹوٹنے کے لیے نہیں بنا،وزیراعلیٰ بلوچستان
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہعسکریت پسندوں کا خیال تھا کہ وہ پنجگور، شبان اور کوئٹہ کے شمالی مشرقی علاقوں میں حملے کریں گے، لیکن سیکیورٹی فرسز کی کوششوں کی وجہ سے وہاں حملے نہیں ہوئے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں دیگر حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گزشتہ دنوں پیش آنے والے دہشتگردی کے واقعات کی تفصیلات پیش کیں بتایا کہ ان واقعات کے بارے میں ہمیں پہلے سے خبر تھی، اس لیے ایک دن پہلے ہی آپریشنز شروع کیے، عسکریت پسندوں کا خیال تھا کہ وہ پنجگور، شبان اور کوئٹہ کے شمالی مشرقی علاقوں میں حملے کریں گے، لیکن سیکیورٹی فرسز کی کوششوں کی وجہ سے وہاں حملے نہیں ہوئے۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ 40 گھنٹوں میں 145 عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا ہے جن کی لاشیں بھی ہمارے پاس ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اتنے کم عرصے میں اتنی زیادہ ہلاکتیں ایک دن میں نہیں ہوئی تھیں، پورے سال میں 1500 سے زائد دہشتگرد مارے گئے تھے، نوشکی میں کلیئرنس آپریشن میں وقت لگا لیکن اب قابو میں آگیا ہے۔
پاکستان کا خوف :بھارت کے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافے کا مطالبہ
انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز کے 17 جوان ان حملوں میں شہید ہوئے جن میں پولیس اور ایف سی شامل ہیں، 31 سیویلینز شہید اور زخمی ہوئے، دہشتگرد جہاں گئے سیف سٹی کیمروں کو نشانہ بناتے رہےان واقعات میں سب سے دردناک واقعہ گوادر میں پیش آیا جہاں ایک خضدار سے تعلق رکھنے والے بلوچ گھرانے کو دہشتگردوں نے شہید کردیا، جن میں 5 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں، یہ قومیت کی جنگ نہیں دہشت کی جنگ ہے جس میں بلوچوں کو ایندھن بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے لیڈر نے اسے آزادی کی جنگ قرار دی لیکن ایک یونین کونسل کو بھی آزاد نہیں کراسکتے، اگر اتنی سکت نہیں تو بلوچوں کو ایندھن کیوں بناتے ہو؟ اس جنگ کو محرومی اور غیرمنصفانہ ترقی سے جوڑا جارہا ہے جو غلط ہے یہ ہمیں غیرمستحکم کرسکتے ہیں مگر ایک انچ بھی زمین نہیں لے سکتے، وہ ہم سے سرنڈر کرانا چاہتے ہیں مگر ہم ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے، پاکستان ٹوٹنے کے لیے نہیں بنا۔
عمران خان میں آنکھوں کی سنگین بیماری کی تشخیص
وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ یہ کہنے والے کہ طاقت سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، آئیں اور کسی دوسرے طریقے سے مسئلہ حل کرا کر دکھائیں، یہاں طاقت کا استعمال کبھی نہیں ہوا ہے، قوم پرستی کے نام پر تشدد کو جواز نہیں بخشا جاسکتا، سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو ریاست سے دور لے جایا جارہا ہے لیکن ہم کوشش کر رہے ہیں کہ نوجوانوں اور عوام کو ساتھ لے کر چلیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے واقعات میں افغانستان میں موجود اسلحہ استعمال ہوا، دہشتگرد افغانستان میں پناہ حاصل کرتے ہیں، کسی بھی جگہ ان کا قبضہ نہیں ہوا، کوئٹہ میں میں خود پھرتا رہا،صوبے میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں شہید ہونے والوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ان کے لواحقین کے دیکھ بھال کی ذمہ داری ہماری ہے۔
پاکستان ورلڈ کپ کھیلے گا یا نہیں، فیصلہ آج ہونے کا امکان ، پلان بی بھی تیار








