Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • بنیان مرصوص کی کامیابی،گوادر میں ریلی،سبز ہلالی پرچموں کی بہار

    بنیان مرصوص کی کامیابی،گوادر میں ریلی،سبز ہلالی پرچموں کی بہار

    بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ضلعی انتظامیہ اور عوام نے بھارتی جارحیت کے خلاف اور پاکستان کی حمایت میں ایک تاریخی ریلی اور مظاہرہ کیا۔ اس ریلی کی قیادت ڈپٹی کمشنر حمود الرحمٰن اور ضلع کونسل کے وائس چیئرمین نعت اللہ ہوت بلوچ نے کی۔ ریلی میں ضلع گوادر کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی، جن میں خواتین، نوجوان، سول سوسائٹی کے اراکین اور عام شہری شامل تھے۔

    ریلی میں شریک افراد نے ہاتھوں میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم تھام رکھا تھا اور ان کے پاس پلے کارڈز تھے جن پر بھارت کی حالیہ جارحیت کی مذمت کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ، پاک افواج کی جانب سے بھارت کو دی جانے والی تاریخی شکست کے حوالے سے پیغامات بھی درج تھے۔ ریلی کے شرکاء کے پرجوش نعرے "پاکستان زندہ باد” اور "پاک افواج زندہ باد” گوادر شہر اور اس کے ساحلی علاقے میں گونج اٹھے۔ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بلوچستان کے عوام ہمیشہ پاکستان اور پاک افواج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں اور ہر محاذ پر اپنے ملک کا دفاع کریں گے۔ انہوں نے بھارت کی بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے کی سازشوں کو بھی بے نقاب کیا اور اس پر شدید تنقید کی۔ مقررین نے کہا کہ بھارت کا مقصد ہمیشہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا اور پاکستان کے استحکام کو متاثر کرنا رہا ہے، لیکن بلوچستان کے عوام بھارت کے ان مذموم عزائم کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔

    اس موقع پر نعت اللہ ہوت بلوچ نے کہا کہ "ہماری سرحدوں کی حفاظت اور اپنے ملک کا دفاع ہر قیمت پر کیا جائے گا۔ بھارتی جارحیت کا ہر سطح پر مقابلہ کیا جائے گا اور ان کے عزائم کو شکست دی جائے گی۔” ڈپٹی کمشنر حمود الرحمٰن نے اپنے خطاب میں کہا کہ "گوادر اور بلوچستان کے عوام اپنے وطن کے ساتھ وفادار ہیں اور اپنے دشمنوں کا ہر سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔”ریلی کے اختتام پر شرکاء نے بھارت کی حالیہ شکست پر خوشی کا اظہار کیا اور عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے وطن کی سلامتی کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

  • کوئٹہ،دھماکے میں چھ افراد زخمی، پی پی رکن اسمبلی محفوظ

    کوئٹہ،دھماکے میں چھ افراد زخمی، پی پی رکن اسمبلی محفوظ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سریاب روڈ پر دھماکا ہوا ہے

    پولیس کا کہنا ہے کہ سریاب روڈ پر پیپلز پارٹی کے رکنِ صوبائی اسمبلی علی مدد جتک کے قافلے کے قریب دھماکا ہوا ہے، جس میں 6 افراد زخمی ہوئے ہیں جن کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، دھماکے میں علی مدد جتک محفوظ رہے ہیں. پولیس کے مطابق سریاب سے نکلنے والی پیپلز پارٹی کی ریلی پر دستی بم حملہ اور فائرنگ ہوئی، ایک گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا،

  • کوئٹہ اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    کوئٹہ اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    کوئٹہ اور اس کے گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے-

    کوئٹہ اور اس کے گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے،جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا لوگ گھروں اور دفاتر سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر نکل آئے،تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، حکام نے شہریوں سے کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ہیلپ لائن سے رابطے کی اپیل کی ہے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 4.9 ریکارڈ کی گئی، جب کہ اس کا مرکز کوئٹہ سے 125 کلومیٹر شمال مغرب میں تھا اور زیرزمین گہرائی 21 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔

  • ہنگلاج مندر ، لسبیلہ بلوچستان مذہبی رواداری کی اعلی مثال

    ہنگلاج مندر ، لسبیلہ بلوچستان مذہبی رواداری کی اعلی مثال

    ہنگلاج مندر ، لسبیلہ بلوچستان مذہبی رواداری کی اعلی مثال سامنے آئی ہے

    قائد اعظم نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ: آپ سب آزاد ہیں اپنی مسجدوں ، مندروں یا کسی اور عبادت گاہ میں جانے کے لئے، پاکستان مذہبی رواداری کے بتائے ہوئے اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر تمام مذاہب کے پیروکاروں بشمول سکھ اور ہندوؤں کو خصوصی سہولت فراہم کرتا ہے، ہر سال دنیا بھر سے پاکستان میں سکھ اور ہندو اپنے مقدس مقامات کا دورہ کرتے ہیں اور عبادات کرتے ہیں،

    ہنگلاج مندر کی یاترا ہندو مذہب میں ایک اہم یاترا ہے،لسبیلہ کے قریب بلوچستان میں واقع ہنگلاج مندر کی یاترا کرنے ہر سال لاکھوں یاتری آتے ہیں، پاکستان کی حکومت، فوج اور تمام ادارے مل کر اس یاترا کو کامیابی سے منعقد کرتے ہیں،بھارت میں ہندو انتہا پسند حکومت بی جے پی اقلیتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے، ہنگلاج کی یاترا پاکستان میں مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کا مظہر ہے،پاکستان مستقبل میں بھی اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے تمام اقلیتوں کے لئے دروازے کھلے رکھے گا ،

  • پہلگام فالس فلیگ، بلوچستان قبائل کی پاک فوج سے اظہار یکجہتی ریلی

    پہلگام فالس فلیگ، بلوچستان قبائل کی پاک فوج سے اظہار یکجہتی ریلی

    بلوچستان متحدہ قبائل کی طرف سے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی مذمت اور پاک فوج سے اظہار یکجہتی ریلی

    بلوچستان کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے قبائل نے ایک بڑی ریلی نکالی، جس میں انہوں نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی سخت مذمت کی اور پاک فوج سے مکمل یکجہتی کا عزم ظاہر کیا۔ یہ ریلی بلوچستان کے مختلف قبائل کے رہنماؤں کی قیادت میں منعقد ہوئی، جس میں قبائل کے غیور افراد نے بھرپور شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق، اس موقع پر شرکاء نے بھارت کی جانب سے کیے گئے فالس فلیگ حملے اور آبی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

    ریلی کے شرکاء نے بھارت اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی اور اپنی بھرپور حمایت کا پیغام دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان کے اندر تخریب کاری کے لیے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کیا اور بلوچستان کے قبائل ایسے حملوں کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔متحدہ قبائل کے چیف امان اللہ کاکڑ نے اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "بھارت نے پہلگام میں فالس فلیگ حملہ کیا، جس کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔ ہم بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف بھرپور احتجاج کرتے ہیں اور اس کے تمام اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے قبائل کے لیے یہ ایک فخر کا مقام ہے کہ وہ اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی تخریب کاری کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

    ریلی کے شرکاء نے نہ صرف بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کی مذمت کی بلکہ بلوچستان کے قبائل کی یکجہتی اور پاکستان کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے قبائل کا اس طرح کا عزم اور حوصلہ افزائی کرنا نہ صرف پاکستان کی قومی یکجہتی کا مظہر ہے بلکہ یہ خطے میں بھارت کی تخریبی سرگرمیوں کے خلاف ایک مضبوط پیغام بھی ہے۔

    ریلی میں شامل افراد نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور پاکستان کی سالمیت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچستان کے قبائل کی متحد آواز بھارت کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ کسی بھی تخریب کاری یا جارحیت کی کوشش کرے گا تو اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی تو ملک آگے نہیں بڑھےگا، شاہد خاقان

    قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی تو ملک آگے نہیں بڑھےگا، شاہد خاقان

    کوئٹہ: سابق وزیراعظم اور سربراہ عوام پاکستان پارٹی شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے جب تک سیاسی انتشار کو ختم اور قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی تو ملک آگے نہیں بڑھےگا۔

    کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بلوچستان 10، 15 سالوں سے سانحات کا شکار ہے، آج بلوچستان کی شاہراہیں محفوظ نہیں، بلوچستان کی معیشت متاثر ہو رہی ہے اور نوجوان مایوس ہو رہےہیں، سوچنے کی ضرورت ہے کہ بلوچستان میں یہ معاملات کیوں ہیں؟

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جب تک ملک میں سیاسی انتشار کو ختم نہیں کیا جائےگا معاملات آگے نہیں بڑھیں گے، جب تک قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی ملک کے معاملات آگے نہیں بڑھیں گے، آئین میں رہ کر وسائل کی تقسیم کرنی ہے اور معاملات کو چلانا ہے، اس سے باہر جائیں گے تو معاملات خراب ہوں گے۔

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن: ’’ہم تیارہیں ، آزمانا نہیں‘‘ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ

    انہوں نے کہا یہ ممکن نہیں کہ پاکستان امیر ہو اور بلوچستان غریب رہ جائے، بلوچستان کو پاکستان کا امیر ترین صوبہ ہونا چاہیے، بلوچستان کے وسائل جب تک یہاں کے نوجوانوں کو نہیں ملیں گے، امن نہیں آئے گا دہشت گردی کا مقابلہ ہم پر لازم ہے لیکن یہ معاملات کیوں پیدا ہو رہےہیں اس کی جڑ تک جاناہوگا-

    بھارتی گیدڑبھپکیوں پر خاموشی،مشی خان پاکستانی اداکاروں پر پھٹ پڑیں

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ بلوچستان میں لوگ اغوا ہو رہےہوں، قتل ہو رہےہوں اورملک کے معاملات درست چل رہے ہوں، عوام کو حقیقی نمائندگی اور وسائل دینے سے ہی بلوچستان کے مسائل حل ہوں گے یہ ہمارا رسمی دورہ نہیں، آج پاکستان کی ضرورت ہے کہ لوگ جانیں کہ بلوچستان کےلوگ کیاسوچ رہےہیں۔

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن: ’’ہم تیارہیں ، آزمانا نہیں‘‘ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ

  • پاکستان کی ہندو برادری کا بھارت کیخلاف احتجاج

    پاکستان کی ہندو برادری کا بھارت کیخلاف احتجاج

    کوئٹہ: بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ہندو پنچایت کے زیر اہتمام بھارت مخالف ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ اس ریلی میں بھارت کی جارحیت اور جنگی جنون کی سخت مذمت کی گئی۔

    ریلی کا آغاز آریا مندر سے ہوا، جو مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے پریس کلب پہنچی۔ شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں پاکستان کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور بھارتی مظالم کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔اس موقع پر اقلیتی امور کے لیے پارلیمانی سیکرٹری سنجے کمار نے ریلی کی قیادت کی اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ سنجے کمار نے کہا کہ "پاکستان پر الزام لگانا بھارت کی پرانی عادت ہے، جو انتہائی قابل مذمت ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "وزیراعظم شہباز شریف نے پہلگام واقعے کی تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کرکے بھارت کو لاجواب کر دیا ہے۔”

    سنجے کمار نے بھارت کی جانب سے جنگی جنون اور جھوٹے الزامات عائد کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "اصل مجرموں کو تلاش کرنے کے بجائے بھارت کا جنگی جنون اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ واقعہ ایک فالس فلیگ آپریشن ہے۔”پارلیمانی سیکرٹری نے واضح کیا کہ "ہندو برادری سمیت تمام غیر مسلم پاکستانی اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر قیمت پر اپنے وطن عزیز کا دفاع کریں گے۔” انہوں نے بھارت کے اندر اقلیتی برادریوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "بھارت آج اقلیتوں اور بے گناہ انسانوں کی قتل گاہ بن چکا ہے، جبکہ پاکستان میں ہمیں مذہبی اور تمام شہری آزادیوں کا مکمل تحفظ حاصل ہے۔”

    انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ "پاکستان ہمارا گھر ہے اور ہم جان دے کر اس کی حفاظت کریں گے۔” ریلی کے دوران شرکاء نے "پاکستان زندہ باد، بھارت مردہ باد” اور "پاک فوج زندہ باد” کے فلک شگاف نعرے بھی لگائے۔ریلی میں شامل افراد نے بھارت کی بڑھتی ہوئی جارحیت کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے اور پاکستان کی سلامتی کے دفاع کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔

  • بھارت کا فالس فلیگ آپریشن، پنجاب وبلوچستان اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع

    بھارت کا فالس فلیگ آپریشن، پنجاب وبلوچستان اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع

    لاہور:حکمران جماعت کی رکن پنجاب اسمبلی عظمیٰ کاردار نے پہلگام میں بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کے حوالے سے مذمتی قرارداد جمع کرادی۔

    عظمیٰ کاردار کی جانب سے صوبائی اسمبلی میں جمع کرائی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان بھارت کے فالس فلیگ پہلگام آپریشن اور جنگی جنون کو یکسر مسترد کرتا ہے، پاکستان کی امن کی خواہش ہے لیکن اسے کمزوری نہ سمجھا جائے پاکستان کی افواج اور عوام اپنی حفا ظت کرنا جانتے ہیں، پاکستان بھارت کی ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا، پاکستانی عوام اپنی بہادر افواج کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔

    متن کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج ملک کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، ہماری آرمڈ فورس اور انٹیلیجنس اداروں سے بھارت خوف زدہ ہے کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور ہم نہتے کشمیریوں پر ایک ایک ظلم کا حساب لیں گے، پانی ہماری لائف لائن ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا،پوری دنیا بھارت کو ایک غیر ذمہ دار ملک کی حیثیت سے دیکھ رہی ہے۔

    علاوہ ازیں پاکستان پر بھارتی الزامات اور جارحیت کے خلاف بلوچستان اسمبلی میں قرار داد منظور کر لی گئی، اراکین اسمبلی نے بھارتی الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔

    بلوچستان اسمبلی میں بھارتی جارحیت کے خلاف قرارداد منظور کرلی گئی ملکی سلامتی پر حکومت اور اپوزیشن یک زبان ہو گئی اراکین نے جارحیت کی صورت میں بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ پہلے تو چائے پلائی اس بار کچھ اور ملے گا، پاکستان مضبوط ہاتھوں میں ہے بھارت کو دندان شکن جواب دیں گے، پاکستان کی سالمیت کےلئے بلوچستان وفاق کے ساتھ ہے۔

    بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت ہونے گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس میں مسلم لیگ ن کے رکن زرین مگسی نے بھارتی جارحیت کے خلاف مشترکہ قرارداد پیش کی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں یہ ایوان بھارتی الزامات کی مذمت کرتا ہے وفاقی حکومت بھارت کی جانب جارحیت کو عالمی برادری کے سامنے پیش کرے قرارداد پر بحث کے دوران اراکین نے بھارت الزامات پر شدید ردعمل دیا ہے۔

    مسلم لیگ نے رکن صوبائی اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا واقعے کے دس منٹ کے بعد پاکستان کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جاتی ہے پاکستان کی سالمیت کے حوالےسے ہم سب ایک پیج پر ہیں اقلیتی رکن سنجے کمار نے کہا کہ مودی سرکار بدحواسی کا شکار ہے اگر بھارت نے جنگ کا سوچا تو اقلیت اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔

    اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری نے کہا کہ بھارت کو پتھر کا جواب اینٹ سے دیں گے۔

    وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کا بھارتی جارحیت کے خلاف پیش کردہ قرارداد پر خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان کی سالمیت ہم سب یکجا ہیں جنگ اچھی چیز نہیں اگر مسلط ہوئی تو آخری حد تک جائیں گے پہلے تو چائے پلائی اس بار کچھ اور ملے گا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان مضبوط ہاتھوں میں ہے بھارت کو دندان شکن جواب دیں گے،پاکستان کی سالمیت کےلئے بلوچستان وفاق کے ساتھ ہے۔

    قرارداد پر دیگر حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے بھی یک زبان ہو کر بھارت کو جواب دیا، ایوان میں بھارتی جارحیت کے خلاف مشترکہ قرارداد منظور کرلی گئی جس کے بعد بلوچستان اسمبلی کا اجلاس دو مئی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

  • کوئٹہ کے رہائشی 23 سالہ آریان شاہ کی میت بھارت سے پاکستان پہنچ گئی

    کوئٹہ کے رہائشی 23 سالہ آریان شاہ کی میت بھارت سے پاکستان پہنچ گئی

    بھارت میں دوران علاج جاں بحق ہونے والے کوئٹہ کے رہائشی 23 آریان شاہ کی میت پاکستان پہنچ گئی۔

    ذرائع کے مطابق میت اور لواحقین ضروری کارروائی کے بعد کوئٹہ روانہ ہوں گے آریان کے والدین تمام مراحل میں معاونت پر بلوچستان حکومت کا تشکر کا اظہار کیا ہے،حکومت بلوچستان نے پاکستانی سفارتخانہ کے ذریعے اسپتال اور سفری اخراجات کی ادائیگی ممکن بنائی۔

    واضح رہے کہ کوئٹہ کا رہائشی آریان شاہ علاج کے لیے انڈیا کے شہر چنائی کے اسپتال میں دسمبر 2024سے زیر علاج تھا والدہ آریان نے بتایا کہ بلوچستان حکومت نے 3 کروڑ علاج کے لیے دیے جو کم پڑ گئے ، آریان کے علاج کے لئے مزید پیسوں کی اشد ضرورت تھی، اسپتال کے بقایا جات کی ادائیگی کے بعد ہی میرے بچے کی میت دی جائے گی اس مشکل وقت میں مدد کی جائے، مجھے میرے بچے کی میت کے ہمراہ واپس پاکستان لانے کا بندوبست کیا جائے، حکومت پاکستان،آرمی چیف سے اپیل سے اپیل کی تھی کہ میری مدد کریں۔

  • ماہ رنگ بلوچ سمیت 92 سے زائد کارکنوں کی رہائی کا حکم

    ماہ رنگ بلوچ سمیت 92 سے زائد کارکنوں کی رہائی کا حکم

    بلوچستان ہائیکورٹ نے تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیے گئے ماہ رنگ بلوچ سمیت 92 سے زائد بلوچ کارکنوں کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے-

    چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس اعجاز سواتی اور جسٹس عامر رانا پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی عدالت نے حکومت بلو چستا ن کو ہدایت دی کہ ایڈووکیٹ جنرل کے ذریعے عدالتی فیصلے پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔

    سماعت کے موقع پر وائس چیئرمین بار کونسل راہب بلیدی ایڈووکیٹ، سابق سیشن جج ظریف بلوچ ایڈووکیٹ، چنگیز بلوچ ایڈووکیٹ، نادیہ بلوچ ایڈووکیٹ اور دیگر وکلاء بھی عدالت میں موجود تھے۔

    پاریش راول کا علاج کیلئے 15 دن تک اپنا پیشاب پینے کا انکشاف

    سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان کی بیٹیوں اور سینکڑوں سیاسی کارکنوں کو غیر قانونی طور پر جیلوں میں قید رکھا گیا، مگر ہم انہیں اس مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے عدالت کے فیصلے سے ثابت ہو گیا ہے کہ قانو ن کی حکمرانی ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔

    عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی ہے، جب کہ تمام رہا ہونے والے افراد کو عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ ان کی رہائی کو قانونی طور پر مکمل کر کے مزید احکامات جاری کیے جا سکیں۔

    جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں دھماکہ، کم از کم 7 افراد زخمی

    واضح رہے کہ بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ کی جانب سے ان سیاسی کارکنوں کی رہائی کے لیے پٹیشن دائر کی گئی تھی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، ماما غفار اور دیگر کارکنوں کو تھری ایم پی او کے تحت غیر قانونی طور پر گرفتار کر کے جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے۔