Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • کوئٹہ کاادبی منظر نامہ،علامہ اقبال صوبائی ایوارڈز کی تقریب.رپورٹ : شیخ فرید

    کوئٹہ کاادبی منظر نامہ،علامہ اقبال صوبائی ایوارڈز کی تقریب.رپورٹ : شیخ فرید

    وادیء کوئٹہ جو گذشتہ کئی ہفتوں سے گومگوں کیفیات سے دوچار تھی اور تمام علمی ، ادبی ، ثقافتی اور سماجی سرگرمیاں جمود کا شکار تھیں ، اب الحمد اللہ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے کے مصداق تمام سرگرمیاں بحال ہو چکی ہیں ۔اور دبستان ادب بلوچستان کے ادبی ریفرنس سے بھر پور آغاز ہوا ہے ۔
    قاریینِ کرام ادب کے معنیٰ گل و بلبل کی شاعری , لیلیٰ و مجنوں کی داستان ، اور ناولوں ، افسانوں اور ڈراموں کے کردار ہی نہیں ہوتے بلکہ یہ جیتے جاگتے آدمیوں کے باہمی تعلقات کی علامتیں ہوتی ہیں ۔ اگر آدمی زندہ ہے تو پھولوں کی خوشبو اور بلبل کے زمزوں سے حظ اْٹھائے گا ۔
    ادب زندگی سے عبارت ہے اور زندہ ادب ہی زندہ معاشرے کے زندہ اہلِ قلم کی نمائندگی کرتا ہے ۔
    ادب اور ادیب کو زندہ رکھنے کیلیے ادب کا فروغ اور ادیب کی پذیرائی کا تقاضاء ہے کہ اہلِ قلم کی ادبی صلاحیتوں کو سراہا جائے ۔
    اِسی لیۓ ادارہ نظامت ثقافت و سیاحت و آثارِ قدیمہ حکومتِ بلوچستان نے علامہ اقبال صوبائی ادبی ایوارڈز 2025ء کی ایک پْروقار تقریب نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس اسپنی روڈ منعقد کی ۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک اور حمد و نعت سے ہوا ۔
    علامہ اقبال صوبائی ادبی ایوارڈز کی تقریب میں معروف سیاسی رہنما رحمت بلوچ ، سابقبہ بیورو کریٹ عبدالکریم بریالی ، سرور جاوید ، اکادمی ادبیات کوئٹہ ڈائریکٹر ڈاکٹر قیوم بیدار ، بیرم غوری اور ڈاکٹر تاج رئیسانی سمیت کئی نامور شخصیات نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور اپنے دستِ مبارک سے اہلِ قلم کو اْن کی بہترین تصانیف پر ایوارڈز پیش کئیے۔
    علامہ اقبال ادبی ایوارڈ سال 2019ء شعبہ براہوئی میں پروفیسر عارف ضیاء ، صابر وحید ، شمس الدین شمنل ، شاہین برانزئی ، افضل مینگل ، عبدالوحید اور اکرم ساجد کو ایوارڈ کا حقدار ٹھہرایا گیا ۔
    بلوچی ادب میں منیر مومن ، تبسم مزاری ، نثار یوسف ، طاہر عبدالحکیم بلوچ ، زاہدہ رئیس راجی ، اصغر ظہیر ، اور پروفیسر طاہرہ احساس جتک کو بہترین تصنیف پر علامہ اقبال ادبی ایوارڈ پیش کیا گیا ۔
    شعبہ پشتو میں ڈاکٹر عصمت درانی ، ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی ، میر حسن خان اتل ، سّید۔لیاقت علی اور بی بی شفا کو اصنافِ نثر پر ایوارڈز دیئے گئے ۔
    ہزارگی لسان و ادب کے حوالے سے فارسی تصنیف پر عبدالخالق اور ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی کو ایوارڈز سے نوازا گیا ۔
    اردْو ادب 2019ء کیلیے جن اہلِ قلم کا ایوارڈز برائے شاعری انتخاب ہوا ۔ اْن کے اسمائےگرامی اس طرح ہیں
    ڈاکٹر عصمت اللہ درانی (انگاروں میں پھول) پروفیسر فیصل ریحان (تختِ سلیمان پر)
    ڈاکٹر عرفان احمد بیگ (صدائے عرفان) شعبہ تحقیق کیلیے ڈاکٹر انعام الحق کوثر (گورنمنٹ کالج کوئٹہ تاریخ کے آئینے میں) محمد پناہ بلوچ (بلوچ عورت تاریخی تناظر میں) پروفیسر سیّد خورشید افروز (بلوچستان میں نسائی ادب) نثری اصناف پر آغاگل (بولان کے آنسو) اور عابدہ رحمان کو (محبت کی گواہی) پر ایوارڈز دیئےگئے۔
    تقریب میں سال 2020ء میں لکھی جانے والی بہترین کتب پر بھی علامہ اقبال ادبی ایوارڈز پیش کئیے گئے تفصیلات کے مطابق ریاض ندیم نیازی (کن فیکون) اسراراحمد شاکر (آدھی ادھوری کہانیاں) عابدہ رحمان(جو کہا فسانہ تھا) اور طیّب محمود (غبارِ راہ) کےعلاوہ تحقیق کے شعبہ میں ڈاکٹر واحد بزدار اور ڈاکٹر عبدالرحمٰن براہوئی کو ایوارڈز پیش کئیےگئے ۔
    بلوچی میں نوید علی ، صبیحہ علی بلوچ ، امان اللہ گچکی ، بلال عاجز ، اور نثر میں ڈاکٹر فضل خالق کو ایوارڈ سے نوازا گیا ۔
    شعبہ براہوئی سال 2020ء کیلیے پروفیسر حسین بخش ساجد ، عبدالحمید ، عطاء اللہ ، سیّد علی محمد ہاشمی ، صلاح الدین مینگل ، افضل مراد ، نور خان محمد حسنی ، نور محمد پرکانی ، اور ڈاکٹر عنبرین مینگل کو علامہ اقبال ادبی ایوارڈ پیش کیاگیا ۔ پشتو ادب 2020ء کیلیے برملاخان ، مولوی رحمت اللہ مندوخیل ، ڈاکٹر لیاقت تاباں اور محمد نعیم کے علاوہ رحمت بی بی کو ایوارڈ۔کیلیے مستحق قراردیا گیا ۔ یا رہے ڈاکٹر انعام۔الحق کوثر کا ایوارڈ اْن کے بیٹے سلیم الحق ، ڈاکٹر ایم صلاح الدین مینگل جن کا انتقال اِسی برس ہوا ہے مرحوم کا ایوارڈ اْن کے بھائی مصلح الدین مینگل نے وصول کیا ، جبکہ ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی جو اقبال اکیڈمی لاہور میں ناظمِ اعلیٰ کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ، اْن کا ایوارڈ اْن کی اہلیہ نے حاصل کیا ۔
    اِس مرتبہ دو دو ایوارڈز پانے والوں میں ڈاکٹر لیاقت تابان ، پناہ بلوچ ، ڈاکٹرعرفان احمد بیگ ، ڈاکٹر روف رفیقی ، ڈاکٹر عصمت درانی اور ریاض ندیم نیازی شامل۔تھے ۔
    محکمہ نظامتِ ثقافت و سیاحت و آثارِ قدیمہ حکومتِ بلوچستان کی جانب سے اہلِ قلم کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی یٰقیناً خوش آئند امر ہے۔ تاہم ہماری رائے میں ادباء و شعراء کو ایک ہی ایوارڈ کیلیے منتخب کیا جائے ، جس کو کسی بھی شعبہ یا زبان میں ایواردیا جائے تو پھر کسی اور شعبہ یا اصناف میں نہ دیا جائے اسطرح زیادہ لکھاریوں کو ایوارڈز دیئےجاسکتے ہیں ۔ اردو سے عناد کی پالیسی کا خاتمہ کرتے ہوئے شعبہ اردو کے اہلِ قلم کی کیٹیگری کو شاعری ، افسانہ ، ناول ، تحقیق ، کالم نگاری اور سفر نامہ نگاروں کیلیے علحیدہ علحیدہ ایوارڈز رکھے جائیں اور بچوں کے ادب کو تو ہر سطح پر اولیّت دی جائے ۔
    ادبِ اطفال میں بھی کہانی اور نظم کے شعبے کو ترجیح دی جائے ۔۔۔۔
    کاش کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات ۔

  • کوئٹہ میں دھماکا، چار افراد کی موت، 3 زخمی

    کوئٹہ میں دھماکا، چار افراد کی موت، 3 زخمی

    کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے مارگٹ میں ایک بارودی سرنگ کے دھماکے کی اطلاعات ہیں، جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق اور 3 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق دھماکہ صبح کے وقت ہوا، جب یہ افراد علاقے میں معمول کے کام کاج کے لیے جا رہے تھے۔

    پولیس کے مطابق دھماکہ مارگٹ کے ایک گاؤں میں اس وقت ہوا جب بارودی سرنگ کو چلا دیا گیا۔ دھماکے میں 4 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ 3 افراد شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ دھماکے کے بعد علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ علاقے کو محفوظ بنایا جا سکے اور مزید تحقیقات کی جا سکیں۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے عملے کو بھی موقع پر طلب کر لیا گیا ہے تاکہ بارودی سرنگ کا مزید کوئی خطرہ نہ ہو۔زخمی افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت نازک ہے اور انہیں خصوصی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔

    پولیس نے اس دھماکے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے میں موجود دیگر مشتبہ مواد کو بھی فوراً برآمد کرنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے پیچھے دہشت گردی کا ہاتھ ہو سکتا ہے، تاہم اس وقت تک مزید تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکی ہیں۔دھماکے کے بعد بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی سیکورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مقابلہ کیا جا سکے۔

  • قلات میں بم دھماکہ، خواتین اور بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق

    قلات میں بم دھماکہ، خواتین اور بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق

    بلوچستان کے علاقے قلات میں سڑک کنارے نصب آئی ای ڈی دھماکے میںخواتین اور بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہوگئے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جاں بحق افراد میں عبداللہ، گل بانو بنت خیر محمد، بی بی حسینہ اور ایک بچہ شامل ہے جبکہ زخمیوں میں علی جان، محمد حیات، میر گل ، عزت خان ، محمد اسلم شامل ہیں۔لیویز ذرائع کے مطابق قلات کے علاقے امیری میں سڑک کنارے نصب دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے پک اپ گاڑی میں سوار 2 خواتین اور ایک بچے سمیت 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    دوسری جانب واقعہ کی اطلاع ملتے ہی لیویز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لیکر نعشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔لیویز حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کی لاشوں کو ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کردیا گیا ہے جبکہ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔

    اسلام آباد،مشتعل پاکستانی بھارتی ہائی کمیشن پہنچ گئے،داخلے کی کوشش

  • بلوچستان: چیئرمین کی متنازعہ تعیناتی، محکمہ تعلیم کا احتجاج وبائیکاٹ، انٹرمیڈیٹ امتحانات ملتوی

    بلوچستان: چیئرمین کی متنازعہ تعیناتی، محکمہ تعلیم کا احتجاج وبائیکاٹ، انٹرمیڈیٹ امتحانات ملتوی

    کوئٹہ (باغی ٹی وی) بلوچستان میں محکمہ تعلیم کی تنظیموں کے بائیکاٹ کے باعث انٹرمیڈیٹ کے امتحانات ملتوی کر دیے گئے۔

    بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (BBISE) کوئٹہ نے آج سے شروع ہونے والے انٹرمیڈیٹ (ایف اے، ایف ایس سی) کے سالانہ امتحانات محکمہ تعلیم سے وابستہ مختلف تنظیموں کی جانب سے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد ملتوی کر دیے ہیں۔ چیئرمین بورڈ کے ایک ترجمان کے مطابق، ملتوی شدہ امتحانات کی نئی ڈیٹ شیٹ کا اعلان آئندہ چند روز میں کر دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ محکمہ تعلیم سے وابستہ متعدد تنظیموں نے بورڈ کے چیئرمین کی مبینہ طور پر غیر قانونی تعیناتی کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ ان تنظیموں میں بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (BPLA)، آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (اپکا)، گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن (GTA)، سینئر ایجوکیشنل سٹاف ایسوسی ایشن (SESA)، گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن (آئینی)، وطن ٹیچرز ایسوسی ایشن اور جونیئر ٹیچرز ایسوسی ایشن شامل ہیں۔

    ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ میں منعقدہ ان تنظیموں کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ چیئرمین کی تعیناتی BBISE ایکٹ 2019 کی صریحاً خلاف ورزی ہے، جس کے خلاف نہ صرف انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا بلکہ میٹرک کے پرچوں کی مارکنگ کا عمل بھی معطل رکھا جائے گا۔ تنظیموں کے نمائندوں نے واضح کیا کہ ان کا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک چیئرمین کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن منسوخ نہیں کر دیا جاتا۔

    اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ ایک طرف صوبے میں گڈ گورننس اور تعلیمی ایمرجنسی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، تو دوسری جانب محکمہ تعلیم اور اصل اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر بیوروکریسی کے ایک غیر متعلقہ افسر کو چیئرمین تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس غیر قانونی اقدام سے صوبے کا واحد تعلیمی بورڈ تباہی سے دوچار ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں طلباء کا تعلیمی مستقبل تاریک ہو جائے گا اور محکمہ تعلیم میں مستقبل کے لیے بھی غیر قانونی اقدامات کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

    اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ کالج اور سکول اساتذہ کے ساتھ ساتھ کلریکل سٹاف بھی چیئرمین بورڈ کی تعیناتی کے خلاف احتجاج میں بھرپور شرکت کرے گا۔ تنظیموں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر چیئرمین بورڈ کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن واپس لے۔

  • ماہ رنگ بلوچ  کی نظربندی میں مزید 30 روز کی توسیع

    ماہ رنگ بلوچ کی نظربندی میں مزید 30 روز کی توسیع

    بلوچستان حکومت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بیبو بلوچ کی نظربندی میں مزید 30 روز کی توسیع کر دی.

    باغی ٹی وی کے مطابق بلوچستان حکومت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بیبو بلوچ کی 3 ایم پی او کے تحت 30 روزہ نظربندی مکمل ہونے کے بعد ان کی حراست میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق، نظربندی کی مدت میں توسیع کا فیصلہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے، جبکہ اس حوالے سے انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے.یہ توسیع ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ہوم) بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت عمل میں لائی گئی۔

    دونوں شخصیات کو قبل ازیں امن عامہ کے خدشات کے پیش نظر حراست میں لیا گیا تھا۔واضح رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو 22 مارچ کو 3 ایم پی او کے تحت کوئٹہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

    خیبر پولیس کی وردی تبدیل،شلوار قمیض کی جگہ،شرٹ پتلون کا حکم

    مصطفی عامر قتل کیس،پولیس مقابلے، غیر قانونی اسلحے سے متعلق اہم انکشافات

    فلسطین میں نسل کشی ، اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کیے،روسی قونصل جنرل

    وزیراعظم آج دورۂ ترکیہ کے لیے روانہ ہوں گے

    کراچی میں شدید گرمی ،اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک وارڈز قائم

  • سی ٹی ڈی کی کاروائی،دکی میں پانچ دہشتگرد ہلاک

    سی ٹی ڈی کی کاروائی،دکی میں پانچ دہشتگرد ہلاک

    دکی،سیکورٹی فورسز نے سی ٹی ڈی کے ہمراہ بی ایریا میں ڈبر پہاڑ کے مقام پر کاروائی کی ہے،

    کاروائی کے دوران پانچ دہشتگرد ہلاک ہو گئے،کاروائی انٹلیجنس بنیاد پر کی گئی ہے۔ ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی لاشیں سول ہسپتال دکی منتق لکی گئیں بعد ازاں لاشیں ضروری کاروائی کے بعد کوئٹہ روانہ کردی گئی،ہلاک ہونے والے افراد کے حوالے سے تفتیش شروع کر دی گئی ہےجبکہ علاقے میں مزید دہشت گردوں کے حوالہ سے آپریشن جاری ہے

    سیکورٹی فورسز بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے پرعزم ہیں، بلوچستان میں ملک دشمنوں‌کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے،دہشت گردوں و سہولت کاروں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہئے.

  • اختر مینگل کی بی این پی نے 20 روز سے جاری دھرنا ختم کردیا

    اختر مینگل کی بی این پی نے 20 روز سے جاری دھرنا ختم کردیا

    سنئیر سیاستدان اختر مینگل کی بی این پی نے 20 روز سے جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ اختر مینگل نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم پرامن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، ہم نے دھرنا ختم کیا لیکن تحریک جاری رہے گی۔ آج سے عوامی رابطہ مہم کا آغاز کررہےہیں۔ بی این پی اب اپنے جلسوں اور عوامی احتجاج کا آغاز کررہی ہے۔ اس سلسلے میں پہلے مستونگ، خضدار، قلات، سوراب میں جلسے منعقد کیے جائیں گے، اس کے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہوگا، جس میں تربت، مکران اور گوادر کے علاقوں میں احتجاجی جلسے منعقدہ وں گے۔

    اختر مینگل کا کہنا تھا کہ مہم کے تیسرے مرحلے میں نصیر آباد، جعفر آباد، ڈیرہ مراد جمالی و دیگر علاقوں میں جلسے ہوں گے۔دوسری جانب سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سردار اخترمینگل سے ٹیلیفونک رابط کیا اور دھرنا ختم کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے کوپرامن طریقے سے ختم کرنا بہترین فیصلہ ہے۔

    منشیات کا باپ، آئس کا نشہ

    ایران میں قتل ہونیوالے 8 پاکستانیوں کی میتیں آج رات فوجی طیارے سے وطن روانہ ہوں گی

    ایرانی اور پاکستانی وزرائے خارجہ کا رابطہ،8 پاکستانیوں کے قتل پر تبادلہ خیال

  • ماہ رنگ بلوچ کی درخواست  ضمانت  مسترد، محفوظ فیصلہ جاری

    ماہ رنگ بلوچ کی درخواست ضمانت مسترد، محفوظ فیصلہ جاری

    بلوچستان ہائیکورٹ میں دو رکنی بینچ نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ماہ رنگ بلوچ کی نقاص امن اور 3 ایم پی او کے تحت گرفتاری کیخلاف دائر آئینی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے درخواست مسترد کردی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہ رنگ بلوچ کے وکیل کامران مرتضیٰ نے بتایا ہے کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کیخلاف دائر آئینی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔بلوچستان ہائیکورٹ کے قائمقام چیف جسٹس اعجاز سواتی اور جسٹس محمد عامر رانا پر مشتمل بینچ نے گزشتہ جمعرات کو ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کیخلاف دائر آئینی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    یاد رہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کیخلاف آئینی درخواست کی سماعت میں دلائل مکمل ہونے پر جمعرات کو فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا، مذکورہ آئینی درخواست میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو رہا کرنے اور 3 ایم پی او کے تحت احکامات کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

    امریکا کے ساتھ مذاکرات نتیجہ خیز بھی ہوسکتے ہیں اور بے نتیجہ بھی، ایرانی سپریم لیڈر

    مالدیپ میں اسرائیلی پاسپورٹ کے حامل افراد کے داخلے پر پابندی عائد

    اوچ شریف کی اُمِ ایمن کا تاریخی کارنامہ، نیشنل آرٹ مقابلے میں پہلی پوزیشن اپنے نام کرلی

  • کوئٹہ،پولیس موبائل پر حملے میں 3 اہلکار شہید

    کوئٹہ،پولیس موبائل پر حملے میں 3 اہلکار شہید

    کوئٹہ،نیوسریاب تھانے کی پولیس موبائل پر دہشت گردوں کے حملے میں تین پولیس اہلکار شہید ہوگئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق، دہشت گردوں نے پولیس موبائل پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں تین اہلکاروں کی شہادت ہوئی، جبکہ ایک اہلکار شدید زخمی ہوگیا۔

    پولیس کے مطابق شہید ہونے والے اہلکاروں میں ایک سب انسپکٹر اور دو کانسٹیبل شامل ہیں۔ دہشت گردوں کی فائرنگ کے بعد علاقے میں پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا کہ دہشت گردوں کا یہ بزدلانہ حملہ بلوچستان کے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتا۔ انہوں نے دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کسی صورت کمزور نہیں ہے، اور دشمنوں کو بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    مزید برآں، مرکزی مسلم لیگ بلوچستان کے صدر حافظ محمد امجد نے بھی اس دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے اور شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔

  • افغان  سرحد پر  دراندازی کی کوشش ناکام، 8 خوارج ہلاک

    افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، 8 خوارج ہلاک

    پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر خوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا تے ہوئے 8 خوارج ہلاک کردیے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق خوارج کے ایک گروپ کی پاکستان-افغان سرحد کے ذریعے دراندازی کی کوشش کی۔ سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے ضلع حسن خیل کے علاقے میں دراندازی کی کوشش کو ناکام بنایا ۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 8 خوارج ہلاک جبکہ 4 خوارج زخمی ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان مستقل طور پر عبوری افغان حکومت سے کہتا رہا ہے کہ وہ سرحد کے اطراف میں موثر بارڈر مینجمنٹ کو یقینی بنائے۔ توقع ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور خوارج کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے افغان سرزمین کے استعمال سے انکار کرے گی۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پرعزم ہونے کے باعث علاقے میں پائے جانے والے کسی اور خارجی کو ختم کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن کیا جا رہا ہے اور اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    وزیر اعظم کی سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پذیرائی:
    وزیراعظم شہباز شریف نے حسن خیل کے علاقے میں پاکستان-افغانستان سرحد سے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کی کوشش ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پزیرائی کی۔انہوں نے 8 خارجیوں کو جہنم رسید کرنے اور 4 کو زخمی حالت میں گرفتار کرنے پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی.وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں نے فتنہ الخوارج کے پاکستان میں شر انگیزی کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا.افواج پاکستان کے افسران و جوان ملکی سرحدوں سے کسی بھی قسم کی شر انگیزی کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے دن رات مصروف عمل ہیں.

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین:
    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے پاک افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے ہمیشہ کی طرح آج بھی بر وقت کارروائی کرکے خوارجی دہشتگردوں کی شمالی وزیرستان میں دراندازی کو ناکام بنایا۔پاکستان کی بہادر سیکیورٹی فورسز نے دراندازی کرنے والے 8 خوارجی دہشتگردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچایا۔خوارجی دہشتگردوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملانے پر سیکیورٹی فورسز کو سلام پیش کرتے ہیں۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ قوم دراندازی کرنے والے خوارجی دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔قوم کو سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ مہارت اور جرات پر فخر ہے۔قوم سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

    فلسطین اور امت مسلمہ کی بے حسی .تحریر: ارم ثناء

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا "غزہ لہو لہو” مہم کے تحت ہفتہ یکجہتی فلسطین کا اعلان

    امریکا سمیت مختلف ممالک میں ٹرمپ کیخلاف مظاہرے

    سی آئی ڈی کے مرکزی کردار اے سی پی پردیومن اب اس دنیا میں نہیں رہے