Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • کوئٹہ پریس کلب میں  کوئی بھی تقریب ضلعی انتظامیہ کے این او سی سے مشروط

    کوئٹہ پریس کلب میں کوئی بھی تقریب ضلعی انتظامیہ کے این او سی سے مشروط

    ڈی سی کوئٹہ نےصدر کوئٹہ پریس کلب کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ پریس کلب میں کانفرنسز اور سیمینار کا انعقاد ضلعی انتظامیہ کے این او سی سے مشروط ہو گا

    ڈی سی کوئٹہ نے ہدایت کی کہ ضلعی انتظامیہ کے این او سی کے بغیر کسی کو کانفرنس یا سیمینار کی اجازت نہ دیں ،کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) نے صدر کوئٹہ پریس کلب کو مراسلہ ارسال کیا جس میں کوئٹہ پریس کلب میں کانفرنسز یا سیمینار سے قبل ڈپٹی کمشنر کا این او سی لازمی قرار دیا گیا ،مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت اور تنظیم کو بغیر این او سی کے کانفرنس یا سیمینار کی اجازت نہ دی جائےیہ فیصلہ امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا۔

    کوئٹہ پریس کلب بارے انتظامی حکمنامے سے آزادی اظہار پر کاری ضرب لگانے کی کوشش کی گئی ،صدر لاہور پریس کلب
    لاہورپریس کلب کے صدر ارشد انصاری ، سینئر نائب صدر شیرازحسنات ، نائب صدر امجد عثمانی ، سیکرٹری زاہد عابد ، جوائنٹ سیکرٹری جعفربن یار ،فنانس سیکرٹری سالک نواز اور اراکین گورننگ باڈی نے کوئٹہ پریس کلب کو عملی طور پر ضلعی انتظامیہ کے ماتحت کرنے کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے ۔حکام کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کو اس امر کا پابند کرنا کہ کلب میں کوئی بھی پریس کانفرنس،سیمینار یا تقریب کی ڈپٹی کمشنر سے پیشگی اجازت لینی ہو گی۔ لاہور پریس کلب کی گورننگ باڈی کوئٹہ پریس کلب پر اس قسم کی پابندی پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے اورحکام بالاسے مطالبہ کرتے ہیں کہ آمرانہ دور طرزکی یہ پابندی ختم کی جائے۔ صدرارشدانصاری کا کہنا ہے کہ ہر پریس کلب انتظامیہ پہلے ہی اس امر کو یقینی بناتی ہے کہ ریاست یا اداروں کے خلاف اس کا پلیٹ فارم کسی طور استعمال نہ ہو لیکن کوئٹہ پریس کلب بارے انتظامی حکمنامے سے آزادی اظہار پر کاری ضرب لگانے کی کوشش کی گئی ہے جس کو لاہور پریس کلب کی گورننگ باڈی یکسر مسترد کرتی ہے اور کوئٹہ پریس کلب سے مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اس پابندی کو ختم کرانے کے لئے ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھائی جائے گی اور توقع کرتے ہیں کہ حکام بالا ان احکامات کو فوری واپس لیں گے۔

    صحافی کی تعریف کیا ہے؟ قائمہ کمیٹی نے بریفنگ مانگ لی

    آدھی سے زیادہ عوام بھوک سے مر رہی مگر آبادی پر کنٹرول نہیں کرنا چاہتے،وزیر قانون

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    گوادر میں پر تشدد ہجوم کا سیکیورٹی فورسز پر حملہ،ایک شہید،افسر سمیت 16 فوجی جوان زخمی

    کسی بلیک میلنگ میں آکر قومی سلامتی داو پر نہیں لگا سکتے،وزیر داخلہ بلوچستان

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • وزیر داخلہ کوئٹہ پہنچ گئے،وزیراعلیٰ سے ملاقات

    وزیر داخلہ کوئٹہ پہنچ گئے،وزیراعلیٰ سے ملاقات

    وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر داخلہ محسن نقوی کوئٹہ پہنچ گئے

    وزیر داخلہ محسن نقوی کی کوئٹہ میں وزیر اعلی ہاوس بلوچستان آمد ہوئی، اس موقع پر وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے خیر مقدم کیا، دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے دوران تفصیلی ملاقات ہوئی، بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، وزیر داخلہ اور وزیراعلیٰ کی ملاقات کے دوران حالیہ دہشتگردی کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیااور ان کے ایصال ثواب کے لیے دعا کی، دونوں رہنماؤں نے شہداء کے خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات اٹھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ چند مٹھی بھر عناصر تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہیں، مگر یہ جنگ ہر پاکستانی کی جنگ ہے،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کا یقین دلایا۔

    دہشتگرد ایک ایس ایچ او کی مار، کسی آپریشن کی ضرورت نہیں،ان کا بندوبست ہو گا، وزیر داخلہ
    وزیر داخلہ محسن نقوی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت جو فیصلہ کرے گی، ہم ساتھ دیں گے، آج کابینہ کی میٹنگ تھی، وزیراعظم نے کہا میٹنگ چھوڑ کر بلوچستان جائیں، بہت سی چیزیں آپ کے سامنے آئیں گی، جو بھی بلوچستان کو سپورٹ چاہئے ہو گی وہ ملے گی، ہم ساتھ کھڑے ہیں، جو واقعات ہوئے ہم سب غمگین ہیں، ایسے واقعات قابل برداشت نہیں ہیں، سب ملکر اس چیزوں کا سدباب کریں گے، ان واقعات سے ہمیں ڈرایا نہیں جا سکتا، ان لوگوں کو جلد پیغام مل جائے گا، دہشت گردوں نے حملہ کیا، چھپ کر کیا، سامنے آتے مقابلہ کرتے، ہم آپریشن کی بات کر رہے تھے ،کسی آپریشن کی ضرورت نہیں،یہ ایک ایس ایچ او کی مار ہیں، یہ دہشت گرد ہیں ،ان کا بندوبست ہو گا، ہماری فورسز مقابلہ کرنا جانتی ہیں.

    سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈے کے تدارک کےلیے ایف آئی اے مؤثر کارروائی کرے گی،فیصلہ
    دوسری جانب کوئٹہ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی زیر صدارت امن و امان پر اجلاس ہوا،اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ، آئی جی پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کے نمائندے شریک ہوئے،اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کےلیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مؤثر حکمت عملی پر اتفاق کیا،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان پولیس اور لیویز کی پیشہ وارانہ استعدادکار میں اضافہ کیا جائے گا، بلوچستان پولیس کو جدید آلات اور سامان فراہم کیا جائے گا،پولیس افسران کی کمی دور کرنے کےلیے نئے اے ایس پیز بلوچستان میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال کی بہتری کےلیے درکار فنڈز کی اپیکس کمیٹی سے منظوری لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے،اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ چمن میں پاسپورٹ کے مسائل حل کرنے کے لیے اسٹاف اور سہولیات میں اضافہ کیا جائے گا، سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈے کے تدارک کےلیے ایف آئی اے مؤثر کارروائی کرے گی۔

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    گوادر میں پر تشدد ہجوم کا سیکیورٹی فورسز پر حملہ،ایک شہید،افسر سمیت 16 فوجی جوان زخمی

    کسی بلیک میلنگ میں آکر قومی سلامتی داو پر نہیں لگا سکتے،وزیر داخلہ بلوچستان

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

    بلوچستان میں دہشت گردی،ایران،چین کی مذمت
    دوسری جانب بلوچستان کے علاقوں قلات اور موسیٰ خیل میں دہشت گردی کے واقعات پر چین اور ایران کی جانب سے سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے،چینی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گے۔ ایرانی سفارت خانے نے بھی کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، یہ حملے موسیٰ خیل اور قلات میں 33 شہریوں اور پولیس اہلکاروں کی شہادت کا باعث بنے، ہم حکومت پاکستان، عوام اور پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کرتے ہیں، اللّٰہ تعالیٰ شہداء پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے

  • بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے لیہ کے رہائشی 4 ڈرائیورز قتل ہو گئے

    2 بھائیوں سمیت مرنے والے چاروں افراد کا تعلق لیہ کے مختلف علاقوں سے ہے،قتل ہونے والے 2 بھائی غلام مرتضیٰ اور محمد ضمیر چک نمبر 125 ٹی ڈی اے کے رہائشی ہیں ،اللہ بخش چک نمبر 140 ٹی ڈی اے اور محبوب حسین چک نمبر 165 ٹی ڈی اے کا رہائشی ہے،چاروں ڈرائیورز لورا لائی سے پھل اور سبزیاں لے کر واپس آ رہے تھے کہ مارے گئے،ورثاء لاشوں کے حصول کے لئے ریسکیو کے ہمراہ ضلع موسیٰ خیل روانہ ہو گئے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    واضح رہے کہ راڑہ شم کے مقام پر رات گئے فائرنگ ،23افرادجاں بحق ہو گئے ہیں،تمام افراد کو بسوں سے اتار کرفائرنگ کرکے قتل کیاگیا ،ملزمان نےراڑہ شم شاہراہ پر ناکہ لگا کر مسافروں کو بسوں سے اتارا ،ملزمان نے 24 گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا ،جاں بحق تمام افراد کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہے موسی خیل میں مارے جانیوالے افراد کی مکمل فہرست سامنے آ گئی،مارے جانے والے افراد میں ملتان، وہاڑی، لاہور ، فیصل آباد، ساہیوال و دیگر شہروں کے افراد شامل ہیں.

  • بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    بلوچستان سیکورٹی فورسز کی کاروائیوں میں 12 دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے ہیں

    بلوچستان کے کئی علاقوں میں گزشتہ شب دہشت گردوں نے بزدلانہ حملوں کا دعویٰ کیا، سیکورٹی فورسز نے جوابی کاروائی کی اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 12 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا،باخبر ذرائع کے مطابق بلوچستان کے علاقوں میں دہشتگردوں کے حملوں کا سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اِن حملوں کا مؤثر جواب دے رہے ہیں، جوابی کارروائیوں میں اب تک 12 دہشتگرد جہنم واصل کیے جا چکے ہیں جبکہ متعدد دہشتگرد زخمی بھی ہوئے ہیں دہشتگردوں کے خاتمے تک سکیورٹی فورسز کے آپریشن جاری رہیں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ رات بھی دہشتگردوں نے بلوچستان کے علاقوں قلات اور موسیٰ خیل میں بزدلانہ حملے کر کے معصوم شہریوں اور فورسز کے جوانوں کو شہید کیا،موسیٰ خیل میں 23 افراد کو گاڑیوں سے اتار کر شہید کیا گیا اور متعدد گاڑیوں کو نذر آتش بھی کیا گیا جبکہ قلات میں فائرنگ کر کے پولیس اور لیویز سمیت 10 افراد کو شہید کیا گیا

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

  • بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،24 گاڑیاں نذر آتش

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،24 گاڑیاں نذر آتش

    بلوچستان لہو لہان ، ایک ہی دن میں مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے ہاتھوں 39 افراد کی موت ہوگئی، جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے

    بارکھان ،راڑہ شم کے مقام پر رات گئے فائرنگ ،23افرادجاں بحق ہو گئے ہیں،تمام افراد کو بسوں سے اتار کرفائرنگ کرکے قتل کیاگیا ،ملزمان نےراڑہ شم شاہراہ پر ناکہ لگا کر مسافروں کو بسوں سے اتارا ،ملزمان نے 24 گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا ،جاں بحق تمام افراد کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہے ،بلوچستان کے ضلع موسی خیل کے علاقے راڑہ شم میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا،یہ جگہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان سے متصل بلوچستان کے ضلع بارکھان اور موسیٰ خیل کے درمیان واقع ہے۔اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری و ریسکیو ٹیمیں موقع پرپہنچ گئیں،لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے.

    ایس ایس پی موسیٰ خیل ایوب اچکزئی کے مطابق تمام افراد کو ٹرکوں اور مسافر بسوں سے اتار کر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا،مسلح افراد نے بین الصوبائی شاہراہ پر ناکہ لگاکر مسافروں کو بسوں سے اتارا،واقعہ کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، اطلاعات کے مطابق دہشتگردوں نے 24 گاڑیاں جلا دیں، جن میں 2 کاریں، 6 ٹرک، 10 مزدا، 4 پک اپ، 2 ویگن شامل ہیں،علاوہ ازیں قلات میں فائرنگ کر کے پولیس اور لیویز سمیت 10 افراد کو شہید کیا گیا ہے.

    موسیٰ خیل میں دہشت گردوں کے ہاتھوں گاڑیوں سے اتار کر مارے گئے افراد کی فہرست
    موسیٰ خیل میں دہشتگردی کا افسوسناک واقعہ،اندوہناک واقعہ میں لیہ کے رہائشی دو سگے بھائی بھی قتل کر دیئے گئے ،دہشتگردوں نے غلام مرتضیٰ اور محمد ضمیر کو فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتارا،دونوں بھائیوں کا تعلق 125 ٹی ڈی اے ضلع لیہ سے تھا،پھلوں کا کاروبار کرتے تھے،موسی خیل میں مارے جانیوالے افراد کی مکمل فہرست سامنے آ گئی،مارے جانے والے افراد میں ملتان، وہاڑی، لاہور ، فیصل آباد، ساہیوال و دیگر شہروں کے افراد شامل ہیں.

    دہشت گردوں نے رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھایا، 2 سے 3 جگہوں پر حملہ کیا، ترجمان بلوچستان حکومت
    ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے موسیٰ خیل کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ موسیٰ خیل کا علاوہ ڈیرہ غازی خان سے ملتا ہے اور چھوٹی شاہراؤں پر عموما اتنی زیادہ سکیورٹی نہیں ہوتی، دہشتگردوں نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسافروں کو قتل کیا، دہشت گردوں نے رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھایا، 2 سے 3 جگہوں پر حملہ کیا، موسیٰ خیل کے علاقے راڑہ شم میں دہشت گردوں نے کچھ مسافروں کو شناخت کر کے گاڑیوں سے اتارا، وزیر اعلیٰ بلوچستان نے حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر اہم اجلاس طلب کر لیا ہے، ان واقعات کے خلاف سب کو مل کر کوشش کرنی ہو گی،دھماکے سے متاثرہ ریلوے پل کی تعمیر میں وقت لگے گا، ابتدائی طور پر لگتا ہے ڈیوائس کے ذریعے ریلوے پل دھماکا کیا گیا،

    کولپور اور مچھ ریلوے اسٹیشن کے درمیان پل دھماکے سے تباہ ، پنجاب سندھ ریلوے سروس معطل
    بولان کے علاقے دوزان میں کولپور اور مچھ ریلوے اسٹیشن کے درمیان پل تباہ ، پنجاب سندھ ریلوے سروس معطل ہو گئی ہے،درۂ بولان کے علاقے دوزان میں ریلوے پل پر نامعلوم ملزمان نے دھماکا کیا ،دھماکے کے نتیجے میں دوزان میں ریلوے پل گر گیا،بولان پولیس کے مطابق واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ اور ریلوے حکام موقع پر پہنچ گئے ہیں،ریلوےحکام کے مطابق ریلوے پل کے گرنے سے پنجاب اور سندھ کے لیے ریل سروس معطل ہو گئی ہے۔

    بولان، قومی شاہراہ کولپور کے مقام پر سے6 لاشیں برآمد
    بولان، قومی شاہراہ کولپور کے مقام پر سے6 لاشیں برآمد ہوئی ہیں، ایس ایس پی کچھی کے مطابق 2 لاشیں تباہ ہونے والے پل کے نیچے دبی ہوئی تھیں 4لاشیں قومی شاہراہ کولپور کے مقام سے برآمد ہوئیں چاروں افراد کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا، حکام نے بتایا کہ 4 افراد کی لاشیں سول اسپتال منتقل کر دی ہیں لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے

    موسیٰ خیل واقعے کے ذمہ دار دہشتگردوں کو سزائیں دی جائیں گی،وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے علاقے موسیٰ خیل میں مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر قتل کرنے کے دہشتگرانہ فعل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے،وزیراعظم شہباز شریف نے موسیٰ خیل میں مسافر بس پر دہشتگرد حملے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کیلیے دعائے مغفرت کی اور شہداء کے لواحقین کیلیے صبر جمیل کی دعا کی،وزیراعظم شہباز شریف نے مقامی انتظامیہ کو لواحقین سے مکمل تعاون اور زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی کی ہدایت کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واقعے کی فوری تحقیقات کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ ملک میں کسی بھی قسم کی دہشتگردی قطعاً قبول نہیں، موسیٰ خیل واقعے کے ذمہ دار دہشتگردوں کو سزائیں دی جائیں گی،ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک دہشتگردوں کے خلاف جنگ جاری رہےگی۔

    سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی سید نیر بخاری کی موسیٰ خیل بلوچستان میں مسافروں کے بہیمانہ قتل کی شدید مزمت کرتے ہوئے کہا کہ مسافروں کی شناخت کرکے قتل کرنے والے مجرمین کو تلاش کرکے نشان عبرت بنانا ہوگا، دہشتگردوں کے سہولت کاروں کے مددگاروں کو ڈھونڈ نکال کر قانون کے کٹہرے میں لایا جانا ضروری ہے،

    دہشتگرد اور سہولت کار عبرتناک انجام سے بچ نہیں پائیں گے.وزیر داخلہ
    وزیرداخلہ محسن نقوی نے موسیٰ خیل کے قریب دہشتگردی کے بدترین واقعہ کی شدید مذمت کی ہے،وزیرداخلہ محسن نقوی نے انسانی جانوں کے ضیاع پرگہرے دکھ اور افسوس کااظہار کیا، وزیرداخلہ نےبزدلانہ کارروائی میں جاں بحق افراد کے لواحقین سےاظہارتعزیت وہمدری کی اور کہا کہ موسی ٰخیل میں دہشتگردوں نے معصوم لوگوں کو نشانہ بناکر بربریت کا مظاہرہ کیا. سفاکیت اور ظلم کی انتہا کی گئی.دہشتگرد اور سہولت کار عبرتناک انجام سے بچ نہیں پائیں گے.دہشتگردی کیخلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز اورزندگی کے ہر طبقے نے لازوال قربانیاں دیں،

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے موسیٰ خیل میں بسوں،گاڑیوں سے مسافروں کو اتار کر ہلاک کرنے کی شدید مذمت کی ہے،اسپیکر نےحملے میں 23 مسافروں کےجانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردی کی یہ کارروائی انتہائی شرمناک ہے جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے،نہتے لوگوں کو نشانہ بنانا انتہائی بزدلانہ فعل ہے،دہشت گردی کی کاروائیاں ہمارے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں ، قوم اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پر عزم ہیں،

    آفتاب خان شیر پاؤ کا کہنا ہے کہ موسٰی خیل میں 23 افراد کو شناخت کے بعد بہیمانہ طریقے سے قتل اور دہشت پھیلانے کی خاطر 10 گاڑیوں کو آگ لگانے کی واقعہ نے دہلا کر رکھ دیا۔ دہشتگرد ملک بھر میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ خوف کی فضا نے سماجی و معاشی سرگرمیوں کو تباہ کردیا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو امن و امان کے قیام اور دہشتگردی کے مکمل خاتمہ کے لیے فوری اور سخت ترین اقدامات کرنا ہونگے

    جس لرزہ خیز انداز میں 23 شہریوں کو قتل کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت اور سخت تکلیف دہ ہے۔حافظ نعیم الرحمان
    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہناہے کہ موسیٰ خیل بلوچستان میں جس لرزہ خیز انداز میں 23 شہریوں کو قتل کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت اور سخت تکلیف دہ ہے۔ یہ ہمارے سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پرسوالیہ نشان ہے،حکومت اپنے شہریوں کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوتی نظر آرہی ہے۔ سندھ اورجنوبی پنجاب میں کچے کے ڈاکوؤں کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے تو بلوچستان اور کے پی میں دہشت گرد جب جسے چاہے نشانہ بنالیتے ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک صارف نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بیرونی آقاؤں کے پیسے پر پلنے والے دہشت گردوں نے گزشتہ شب بلوچستان کے اضلاع کی مختلف شاہراہوں پر عام شہریوں کو روک کر انکی گاڑیوں کو جلا دیا اور 23 نہتے بے گناہ افراد کو شہید کر دیا گیا کیا یہ دہشت گرد تنظیمیں بلوچ حقوق کی محافظ ہوسکتی ہیں؟ ان کو صرف اپنے مفادات عزیز ہیں،جس کے حصول کے لیے بے یہ انسانیت کا قتل کررہے ہیں!!

    ایک صارف نے لکھا کہ آپریشن گولڈسمتھ بینقاب ہوتےہی دشمن کی اصلیت سامنےآگئی۔را کے زرخرید غلاموں نے بلوچستان میں ایکساتھ پانچ مقامات پرحملے کرکے بدامنی پھیلانےکی کوشش کی،مگر الحمدللہ پاک فوج کی بروقت کارروائی نےان کےعزائم خاک میں ملادیےاپنی ناکامی چھپانےکیلئےبزدل دہشتگردوں نے ایک مسافربس کونشانہ بنایا۔

    https://twitter.com/manal_ahmed04/status/1827994161070420332

    ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کسی کے لاپتہ ہونے پر آسمان سر پر اٹھانے والے سرخوں اور لبرل سے سوال،بی ایل اے کے دہشت گردوں کے ہاتھوں نہتے شہریوں کے قتل پر کوئی مذمت یا ہمدردی کا اظہار کیا جائے گا؟یا یہ سہولت صرف دہشت گردوں کے لیے دستیاب ہے اور آپ صرف اداروں اور ریاست پر بہتان تراشیوں کی ذمہ داری پوری کریں گے؟

    صحافی امجد حسین بخاری نے ایکس پر لکھا کہ موسی خیل میں بے سدھ پڑے یہ پاکستانی حجام، نان بائی، دیہاڑی دار مزدور اور سرکاری ملازمین شکوہ کناں ہیں کہ انہیں کس جرم کی سزا ملی؟ یہ 23کمزور ، نہتے اور اپنوں کے رزق کی تلاش میں زندگی کی بازی ہار گئے، لیکن میں حیران ہوں کہ سمگلنگ رکنے کے بعد ہی انہیں گولیوں کا نشانہ کیوں بنایا گیا؟ میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ بنگلہ دیش میں را کی ناکامی کے بعد ہی ایسا کیوں ہوا؟ میں سوچ میں پڑ گیا ہوں کہ اس سانحے سے قبل لاپتہ افراد پر بار بار ٹوئٹس کرکے بیانیہ کیوں بنایا گیا؟ میں بین الاقوامی نشریاتی اداروں پر کل سے بلوچستان کی مسلسل کوریج دیکھ کر بھی سمجھ نہیں پارہا۔ گوادر کی ترقی، بلوچستان کی خوشحالی کسے ہضم نہیں ہورہی؟ اب ان ڈاٹس کو ملائیں تو آپکو ان 23نہتے پاکستانیوں کے قاتلوں کا سراغ مل جائے گا۔

    جب تک آخری دہشت گرد زندہ ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی، بلاول
    پی پی پی چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان میں دہشت گردوں اور ریاست مخالف عناصر کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں کے قتل کی شدید مذمت کی ہے،بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ شناختی کارڈز چیک کر کے بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک ہے،ان دہشت گردوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے، تمام شعبہ زندگی کے لوگوں کو اس دہشتگردی کے خلاف متحد ہوکر آواز اٹھانی ہوگی، بلوچستان حکومت ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لائے، جب تک آخری دہشت گرد زندہ ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی،

  • قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بلوچستان کے شہر قلات میں مسلح افرادکی فائرنگ سے پولیس اور لیویز اہلکاروں سمیت 10 افرادکی موت ہو گئی ہے

    ایس ایس پی قلات دوستین دشتی کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ سے پولیس کاسب انسپکٹر، 4 لیویز اہلکار اور 5 شہریوں کی موت ہوئی ہے، فائرنگ کے بعد ملزمان فرار ہو گئے ہیں، پولیس نے جوابی کاروائی بھی کی ہے،قلات میں قومی شاہراہ اورشہر میں گزشتہ رات سے پولیس اور مسلح افراد میں فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا۔

    دوسری جانب بلوچستان کے ضلع قلات میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جب دہشت گردوں نے قلات کے مہلبی کے قریب قومی شاہراہ پر لیویز فورس کی ایک موبائل پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں دو لیویز اہلکار شدید زخمی ہو گئے ، دہشت گردوں نے اچانک لیویز موبائل پر فائرنگ شروع کر دی جس کے بعد دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔پولیس اور لیویز فورس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے قلات میں دہشتگردی کے واقعہ کی شدیدمذمت کی ہے، وزیرداخلہ نےشہید ہونے والے پولیس و لیویز اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا،حملے میں 5 شہریوں کی شہادت پر اظہار افسوس کیا، وزیرداخلہ محسن نقوی نے شہید اہلکاروں اور شہریوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا،

  • سیلاب میں پھنسے   افراد کو ریسکیو کرنے والے شہری محب اللہ کو ملا انعام

    سیلاب میں پھنسے افراد کو ریسکیو کرنے والے شہری محب اللہ کو ملا انعام

    بلوچستان میں سیلاب میں پھنسے خاندان کے 5 افراد کو ریسکیو کرنے والے شہری محب اللہ کو انعام دے دیا گیا

    ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللّٰہ ڈاکٹر فاروق نے سیلاب میں پھنسی فیملی کو ریسکیو کرنے والے ایکسکیویٹر ڈرائیور محب اللّٰہ کو تعریفی اسناد اور نقد انعام دیا ہے،ڈپٹی کمشنر نے محب اللّٰہ کو وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے شاباش دیتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے آپ کے جذبے کو سراہا ہے اور وہ آپ سے مل کر آپ کو اپنے ہاتھ سے سرٹیفکیٹ بھی دیں گے، ڈرائیور محب اللّٰہ نے ڈپٹی کمشنر سے کہا کہ میں نے سیلاب میں پھنسی فیملی کو ریسکیو کرنا فرض سمجھا اور اللّٰہ کی رضا کے لیے اس فیملی کی مدد کی، مصیبت میں گھرے افراد کی مدد ہمارے دین کی تعلیمات اور روایات کا خاصہ ہے، وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کا مشکور ہوں، ان کی حوصلہ افزائی باعث فخر ہے، پوری قوم کا بھی شکر گزار ہوں کہ مجھے اتنی محبت دی۔

    ایک ویڈیو بیان میں محب اللہ کا کہنا تھا کہ کار میں سوار فیملی کو بچانے کیلئے گھر سے ایکسیویٹر لے کر آیا،،’لوگوں کا ہجوم کھڑا تھا کہہ رہا تھا کہ ایک گاڑی آئی جس میں خاتون اور بچے سوار تھے جو سیلابی پانی میں پھنس گئی ہے، پھر میں نے لوگوں سے پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کیلئے کوشش کرنے کا کہا موقع پر کھڑے لوگوں نے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ ہماری گاڑی بھی پھنس جائے میں جلدی سے بھاگا کسی موٹر سائیکل سوار کے ساتھ بیٹھ کر وہاں پہنچ کر ایکسیویٹر اسٹارٹ کرکے سیلابی ریلے کے مقام پر دوبارہ پہنچا اور کوشش کر کے بچوں اور خاتون کو بحفاظت نکال لیا‘‘

    گزشتہ روز قلعہ عبداللہ کے ارمبی ندی میں پھنسے والداور تین بچوں کو ریسکیو کرنے والے ایکسیوٹر ڈرائیور محب اللہ نے آج متاثرہ خاندان سے ملاقات کی ہے،

    پولیس کا ناروا سلوک،نوجوان نے پٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگالی

    پرویز الہی نے پی ٹی آئی چھوڑ کر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی

    رہائی کے چند دن بعد پرویز الہیٰ پھر مشکل میں پھنس گئے

    میرے ساتھ” زیادتی” کرنے میں سب سے زیادہ اہم کردار محسن نقوی کا رہا ،پرویز الہیٰ

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    تصاویر:سعودی عرب میں سوئمنگ سوٹ فیشن شو،خواتین ماڈلز کی نیم عریاں کیٹ واک

  • سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر کو عہدہ سے ہٹادیا گیا

    سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر کو عہدہ سے ہٹادیا گیا

    سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر کو عہدہ سے ہٹادیا گیا

    ڈاکٹرساجدہ نورین کو بدعنوانی کے الزامات پر عہدہ سے ہٹایا گیا ہے،ڈاکٹر ساجدہ کو ہٹانے کا فیصلہ گزشتہ روز صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا تھا،ایس بی کے یونیورسٹی کی سابقہ وی سی کا دفتر سیل کردیا گیا ،ڈاکٹر ساجدہ نورین کی ٹیم کے ہمراہ رات گئے دفتر میں موجودگی،اطلاع ملنے پر پولیس اور انٹی کرپشن کی ٹیم یونیورسٹی پہنچ گئی ،محکمہ اینٹی کرپشن، انٹیلی جنس بیورو، پولیس سمیت دیگر اداروں نے تحقیقات کا آغاز کردیا، انسداد بدعنوانی کی ٹیم نے سابقہ وی سی کی سرکاری گاڑی اور دفتر سے سیکریٹ فائلیں برآمد کر لیں۔

  • ژوب: قومی پرچم جلانے والے دو ملزمان گرفتار

    ژوب: قومی پرچم جلانے والے دو ملزمان گرفتار

    ژوب (باغی ٹی وی رپورٹ): ژوب میں قومی پرچم جلانے کے سنگین جرم میں ملوث دو ملزمان اسد خان شیرانی اور امین شاہ حریفال کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کے دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    پولیس کے مطابق، ملزمان نے گذشتہ رات ایک موٹر سائیکل پر لگی قومی پرچم کو آگ لگائی اور اس کی ویڈیو بھی بنائی۔ سٹی پولیس تھانہ کی گشت پر مامور ٹیم نے ملزمان کو فرار ہوتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔

    ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ ملزمان نے قومی پرچم کی بے حرمتی کرکے عوام میں خوف و ہراس پھیلا کر قانون و نظم کو بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔ ملزمان کے قبضے سے موٹر سائیکل اور موبائل فون بھی برآمد کر لیے گئے ہیں۔

    سی ٹی ڈی تھانہ میں ایڈیشنل ایس ایچ او سٹی پولیس تھانہ اختر گل کی مدعیت میں انسداد دہشت گردی کے مختلف دفعات 34-123-B ت پ 7/ATAکے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

  • کوئٹہ میں دھماکہ،ایک جاں بحق، 6 افراد زخمی

    کوئٹہ میں دھماکہ،ایک جاں بحق، 6 افراد زخمی

    کوئٹہ (باغی ٹی وی رپورٹ): کوئٹہ کے لیاقت بازار کے قریب ایک دکان میں دھماکا ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق دھماکے کی نوعیت اور اس سے ہونے والے نقصان کا تعین کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    پولیس ذرائع کے مطابق، لیاقت بازار کے قریب مارکیٹ میں ہونے والے اس دھماکے میں کم از کم 6 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    کوئٹہ لیاقت بازار دھماکہ کے 06 زخمی سول ہسپتال / ٹراما سینٹر میں زیر علاج ہیں زخمی میں محمد ولد عظیم ،زین اللہ ولد حاجی امان اللہ،حبیب الرحمن ولد میر حاجی ،ساگر ولد گووند،یوسف مسیح ولد نذیر مسیح،شبیر ولد محمد ہاشم شامل ہیں جاں بحق ہونے والے کی شناخت عرفان اللہ ولد حاجی امان اللہ کے نام سے ہوئی ہے

    دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور علاقے میں داخلے اور نکلنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور وہ دھماکے کی وجوہات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہیں۔