Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • کسی بلیک میلنگ میں آکر قومی سلامتی داو پر نہیں لگا سکتے،وزیر داخلہ بلوچستان

    کسی بلیک میلنگ میں آکر قومی سلامتی داو پر نہیں لگا سکتے،وزیر داخلہ بلوچستان

    وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاءاللہ لانگو نے کہا ہے کہ احتجاج کرنے والوں عناصر کا اصل ایجنڈہ سامنے آگیا ہے تشدد کا راستہ اختیار کرکے ملک توڑنے کی سازشیں ناکامی سے دوچار ہوں گی،

    وزیرداخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں گورنر شپ بچانے کے لئے بلوچ خواتین کو پہنچانے سے انکار کرنے والے آج انہی بلوچ خواتین کو ہیرو گنوا رہے ہیں.حکومت نے پرامن احتجاج سے کبھی منع نہیں کیا لیکن قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے سکتے،عوام کو اشتعال دلا کر ریاست کے سامنے کھڑا کرنے والے عوام اور ملک کے خیر خواہ نہیں ہیں،خواتین کی آڑ میں سیکورٹی فورسز پر حملہ آور ہوکر مظلومیت کا ڈھونگ رچایا جارہا ہے،واضح تھریٹس الرٹ کے باوجود عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے،ہر شہری کا جانی و مالی تحفظ ریاست اور حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے،ایک منظم سازش کے تحت ریاست کے خلاف عام معصوم بلوچ کو اکسایا جاررہا ہے،ریاست اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے گی تشدد کا راستہ ہم نے نہیں مظاہرین نے اپنایا ہے،آئین پاکستان کے مطابق بات چیت کے لیے تیار ہیں،کسی بلیک میلنگ میں آکر قومی سلامتی داو پر نہیں لگا سکتے،بلوچستان کی قبائلی روایات کے مطابق خواتین کو قدر،عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے،خواتین سے یہی اپیل اور امید ہے کہ کسی بھی احتجاج کے دوران عزت واحترام کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے،احتجاج کے دوران فورسز کے ساتھ اپنی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے رویہ اختیار کیا جائے،ایسے کسی عمل کا اجازت نہیں دے سکتے کہ احتجاج کی آڑ میں ریاستی رٹ کو چیلنج،سرکاری املاک کو نقصان اورعام عوام کو تکلیف دی جائے،

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ہائی کورٹ نے بلوچ مظاہرین کی گرفتار ی کا کیس نمٹا دیا

    بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    دشمنوں کے ہاتھوں کھیلنے والی ،مسنگ پرسن کے نام پرملکی اداروں کیخلاف پروپیگنڈہ کرنیوالی ماہ رنگ بلوچ نے ایک بار پھر بلوچستان کے امن کے خلاف منصوبہ بندی کر لی ہے تا ہم بلوچستان کی عوام نے ماہ رنگ بلوچ کی ملک دشمن پالیسیوں کی وجہ سے اسے مسترد کر دیا ہے

    بلوچستان کے غیور عوام نے مسنگ پرسن کے نام پر گوادر میں ہونے والے مارچ کو مسترد کرتے ہوئے اسے پاکستان کے خلاف سازش قرار دیا ہے،اور کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی پاکستان کے خلاف مہم چلا رہی ہے، دنیا بھر میں مسنگ پرسن کے کیس ہیں، بلوچستان میں یہ لوگ کہتے ہیں کہ چھ ہزار کیس ہیں جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق ایک نام پانچ چھ چھ بار آ رہا تھا ،کچھ نواب سردار یورپ بیٹھے ہیں انکے پاس جو لوگ کام کرتے ہیں انکو بھی اس لسٹ میں ڈالا گیا، ماہ رنگ بلوچ کو حال میں ہی یورپ میں ایوارڈ دیا گیا ایوارڈ اس لئے دیا گیاکہ وہ پاکستان میں خانہ جنگی کرواتی ہے، پاکستان پرامن ملک ہے، ہم ملک کے ساتھ ہیں اداروں کے ساتھ ہیں، ماہ رنگ بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کر رہی ہے.

    گوادر اور مستونگ سے کنفرم اطلاعات آرہی ہیں کہ ماہ رنگ کی بلوچ یکیجھتی کمیٹی مارچ میں بلوچ دہشت گرد گروپوں اور اسمگلرز مافیا کے مسلح لوگوں نے شرکت کر لی ہے تاکہ ہجوم کے اندر سے کچھ لاشیں گرا کر حالات کو مشتعل بنایا جا سکے اور مزید لوگوں کو جو پہلے باہر نہیں نکلے انہیں باہر نکال کر اور بھڑکا کر سیکورٹی فورسز پر حملہ کیا جا سکے اور امن و عامہ کی صورت حال کو بگاڑا جا سکے اِس لیے عوام سے درخواست ہے کہ اس مارچ سے دور رہیں کیونکہ اِسی مارچ کو استعمال کر کے دشمن بلوچستان میں امن بگاڑنے کے درپے ہے ،یہ سب کچھ ایک پلان کے تحت ہو رہا ہے – پہلے پی ٹی ایم سے بنوں کروایا گیا اب بلوچستان میں ماہ رنگ کو لانچ کر دیا گیا ہے ملک دشمن عناصر نے پاکستان کے خلاف قمر کس لی ہے

    دوسری جانب گوادر کے عوام کی جانب سے عدم دلچسپی پر ماہرنگ بلوچ نے 28 جولائی کو ہونے والا بلوچ راجی مچی احتجاج کو بارشوں کا بہانہ بنا کر ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔اس ضمن میں اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مون سون بارشوں کے قبل از وقت آغاز کی وجہ سے پروگرام ملتوی کیا جاتا ہے.جلد نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف کا کہنا ہے کہ ماہرنگ بلوچ کے گوادر میں راجی مچی کا اصل مقصد پاکستان دشمن عناصر کی فنڈنگ کو ہضم کرنا ہے۔ وہ بلوچوں کی عزت اور غیرت کو بیرونی عناصر کے ہاتھوں بیچ رہی ہیں اور اپنی تجوریاں بھر رہی ہیں۔

    ہائی کورٹ نے بلوچ مظاہرین کی گرفتار ی کا کیس نمٹا دیا

    بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

    https://twitter.com/Sirhaaa_/status/1817208750132113517

  • لورالائی: ملتان سے کوئٹہ جانے والی مسافربس الٹ گئی،9افراد جاں بحق

    لورالائی: ملتان سے کوئٹہ جانے والی مسافربس الٹ گئی،9افراد جاں بحق

    لورالائی(باغی ٹی وی)ملتان سے کوئٹہ جانے والی مسافربس الٹ گئی،9افراد جاں بحق ہوگئے ،یہ حادثہ لورالائی کے علاقے ڈی جی خان روڈ پر مدینہ ہوٹل کے قریب پیش آیا جہاں ڈائیوو بس الٹ گئی۔

    خوفناک حادثے کے نتیجے میں 9 افردا جاں بحق جبکہ خاتون سمیت 6شدید زخمی ہو گئے۔

    جاں بحق اور زخمیوں کو ٹیچنگ ہسپتال لورالائی منتقل کر دیا گیا۔

    یاد رہے کہ ڈائیوو بس ملتان سے کوئٹہ جا رہی تھی۔

  • بلوچستان،ٹرکوں پر فائرنگ،دو ڈرائیور کی موت،تین زخمی

    بلوچستان،ٹرکوں پر فائرنگ،دو ڈرائیور کی موت،تین زخمی

    بلوچستان ،ٹرک ڈرائیوروں پر فائرنگ،دو کی موت تین زخمی ہو گئے

    واقعہ ہرنائی اور موسی خیل کے علاقوں میں پیش آیا، لیویز حکام کے مطابق ہرنائی میں سنجاوی روڈ طورخم تنگی کے مقام پر نامعلوم مسلح افراد نے چار ٹرکوں پر فائرنگ کی، اس دوران گولیاں لگنے سے ایک ڈرائیور کی موت ہو گئی جبکہ دو زخمی ہو گئے ہیں، ٹرکوں پر فائرنگ کے بعد شرپسند چار ٹرکوں کو آگ لگا کر فرار ہو گئے

    دوسرا واقعہ موسیٰ خیل اور بارکھان کے درمیان پیش آیا جہاں شرپسندوں کی فائرنگ سے ٹرک ڈرائیور جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا، جاں بحق اور زخمی ہونے والے ڈرائیوروں کا تعلق دُکی سے ہے، لیویز نے علاقے کی ناکہ بندی کردی ہے، اور سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے

    بلوچستان کی صوبائی وزارت داخلہ نے ٹرک ڈرائیوروں پر حملہ کے حوالہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے.دوسری جانب ہرنائی کی تاجر تنظیموں نے واقعہ کے خلاف احتجاج کی کال دی ہے اور کہا ہے کہ ٹرک ڈرائیوروں کو تحفظ فراہم کیا جائے.

  • جان جمالی نے پاکستان میں امریکی طرز پر سینیٹ انتخابات کی تجویز پیش کر دی

    جان جمالی نے پاکستان میں امریکی طرز پر سینیٹ انتخابات کی تجویز پیش کر دی

    کوئٹہ(آغا نیاز مگسی) بلوچستان کے سابق وزیر اعلی اور سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ میر جان محمد جمالی نے پاکستان میں امریکی طرز پر سینیٹ کے براہ راست انتخابات کی تجویز پیش کر دی ہے بقول ان کے موجودہ طرز انتخاب میں سینیٹ کی ایک نشست کے لیے ارکان اسمبلی کی کروڑوں روپے میں خرید و فروخت ہوتی ہے جو کہ بیرون دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث ہوتا ہے جبکہ منتخب ہونے والے ارکان کا عوام سے براہ راست کوئی تعلق بھی نہیں ہوتا .

    یہ بات انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ میں اپنی رہائش گاہ پر سینیئر صحافی اور کالم نگار آغا نیاز مگسی کی سربراہی میں نصیر آباد کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ،میر جان محمد خان جمالی نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان کے چین کے علاوہ تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہیں جس کے باعث پاکستان کو ہر محاذ پر ناکامی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں مثبت تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گوادر بندر گاہ کا زیادہ ٹیکس کی وجہ سے کامیاب ہونا ممکن نہیں ہےجبکہ اس کے مقابلے میں چاہ بندر گاہ کی کامیابی کےامکانات روشن نظر آتے ہیں کیوں کہ ایران میں بہت کم ٹیکس لگائےجاتے ہیں جس کی وجہ سے وہاں سرمایہ کاری بہت زیادہ ہوتی ہے اس کے مقابلے میں گوادر بندر گاہ کون آئے گا .

    میر جان محمد نے کہا کہ بلوچستان کو سی پیک کے ” ٹیل “ میں رکھا گیا ہے بلوچستان کے علاوہ پنجاب سمیت دیگر تمام صوبے سی پیک کے منصوبے سے مستفید ہوتے رہ ہیں لیکن بلوچستان کو ہمیشہ نظرانداز کیا گیا ہے

  • کوئٹہ:وزیرداخلہ بلوچستان میرضیاء اللہ لانگو کی زیرصدارت امن وامان سے متعلق اعلی سطحی اجلاس

    کوئٹہ:وزیرداخلہ بلوچستان میرضیاء اللہ لانگو کی زیرصدارت امن وامان سے متعلق اعلی سطحی اجلاس

    کوئٹہ،باغی ٹی وی (نامہ نگارزبیرخان )وزیرداخلہ بلوچستان میرضیاء اللہ لانگو کی زیرصدارت امن وامان سے متعلق اعلی سطحی اجلاس،اجلاس میں صوبائی وزراء میرشعیب نوشیروانی، بخت محمد کاکڑ کی شرکت ،ان کے علاوہ اجلاس میں آئی جی پولیس عبدالخالق شیخ،کمشنر حمزہ شفقات،ڈی جی لیویز نصیب اللہ کاکڑ،ڈی آئی سی ٹی ڈی اعتزاز گوریہ ،ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان،اسپیشل سیکرٹری داخلہ عبدالناصر دوتانی سمیت دیگرحکام بھی شریک ہوئے

    آئی جی پولیس عبدالخالق شیخ اور کمشنرکوئٹہ نے کوئٹہ امن اومان کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی،بتایا گیا کہ مظاہرین نے قانون میں ہاتھ لیتے ہوئے سرکاری املاک، سی سی ٹی وی کیمرےاور پولیس گاڑیوں کو نقصان پہنچایا،بریفنگ

    وزیرداخلہ میر ضیاء اللہ لانگو ن کہا کہ ظہیر زیب کے رشتے دارکئی روز سے سریاب روڈ بند کرکے بیٹھے ہیں، مگر وہ ہمارے کسی ادارے کے پاس نہیں ہے، ہم نے دس روز تک ان کو احتجاج پرکچھ نہیں کہا۔

    صوبائی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ پولیس نے آج مظاہرین کو ریڈ زون آنے سے روکا کیونکہ وہ حساس مقام ہے، مظاہرین کی جانب سے فائرنگ اور پتھراؤسے پانچ اہلکار زخمی ہوئے ، فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مظاہرین پولیس پر تشدد کررہے ہیں۔

    میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ انڈیا سے چلنے والی آئی ڈیز سے غلط پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، عوام کو دہشت گردی کے خاتمے کیلیے حکومت کا ساتھ دینا ہوگا۔

    اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ حکومت مزاکرات اور بات چیت پر یقین رکھتی ہے،احتجاج پر بیٹھے لوگوں کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرنے کو تیار ہے،
    مذاکرات کے لئے حکومت کی جانب سے تمام راستے کھلے ہے،الزامات سے کسی کا فائدہ نہیں ہوگا،

    اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ آج کوئٹہ میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں،دہشت گردی کی جنگ مین فورسزنے قربانیاں دی ہے،

    احتجاج کے شرکاء کو یہ دیکھنا ہوگا کہ احتجاج میں کچھ لوگ سرکاری املاک اورفورسز کو نشانہ بنارہے ہیں جو افسوسناک ہے،احتجاج کے دوران کچھ نقاب پوش شرپسند عناصر سے مظاہرین خبردار ہوں،

    وزیرداخلہ بلوچستان نے کہا کہ سیاسی حکومت ہے مذاکرات اور بات چیت سے کبھی انکار نہیں کیا،حکومت احتجاج کے حوالے سے پہلے ہی روز سے سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے،عجیب سی بات ہے کہ احتجاج کے دوران نقاب پوش لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے،

    وزیرداخلہ بلوچستان نے کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ ہو یا پھرکوئی اور مسائل حکومت کے دروازے بات چیت کے لئے کھلے ہے،مظاہرین امن اومان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرئے،امن اومان کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے،حکومت اپنی اس اہم ذمہ داری کسی صورت غافل نہیں،

    صوبائی وزیرشعیب نوشیروانی نے کہا کہ مسائل کا حل بات چیت اور مذاکرات ہے جس سے حکومت انکاری نہیں ہے،حکومت قانون کے دائرہ کار میں رہ کرہی مطالبات تسلیم کرنے کوحکومت تیار ہے،حکومت یہ نہیں کرسکتی کہ قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت دے،

    صوبائی وزیربخت محمد کاکڑ کاکہنا تھا کہ مظاہرین سے تین سے چار مرتبہ حکومتی ٹیم نے مذاکرات اور بات چیت کی ہے ،وزیراعلی بلوچستان کی ہدایت پر قانون ہاتھ میں لینے والی گرفتار 5خواتین کو اسی دن ہی رہا کردیا گیاتھا،

    صوبائی وزیربخت محمد کاکڑ نے کہا کہ علمائے کرام پرمشتمل وفدسے بھی بلوچ یکجہتی شرکاء کا مذاکرات کرنے سے انکار باعث افسوس ہے،بلوچ یکجہتی کمیٹی کے لوگوں کو علمائے کرام سے ملاقات ضرورکرنا چایئے تھی،

    آئی جی پولیس بلوچستان عبدالخالق شیخ نے کہا کہ مظاہرین پرامن انداز میں احتجاج ضرور کرئے پولیس تعاون کرے گی، مظاہرین اگرامن وامان کو سبوتاژکرنے کی کوشش کی تو قانون کے مطابق کارروائی ہوگی،عوام سے اپیل ہے کہ امن وامان کو سبوتاژ کرنے کی سازش کا حصہ نہ بنیں، محرم الحرام کے احترام میں احتجاج کرنا مناسب عمل نہیں ہے.

  • کوئٹہ: اختر آباد میں مغربی بائی پاس پر سڑک کنارے نصب بم دھماکا، ایف سی اہلکار شہید

    کوئٹہ: اختر آباد میں مغربی بائی پاس پر سڑک کنارے نصب بم دھماکا، ایف سی اہلکار شہید

    کوئٹہ (باغی ٹی وی) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گاڑی کے قریب دھماکے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوگیا ہے،ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکا کوئٹہ کے علاقے اختر آباد میں مغربی بائی پاس کے قریب پیش آیا۔

    پولیس، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور ایف سی کی بھاری نفری موقع پر پہنچ کر شواہد اکھٹے کیے اور تفتیش کا آغاز کردیا، بعد ازاں کوئٹہ پولیس نے بتایا کہ دھماکے میں 4 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔

    ایدھی انچارج کوئٹہ محمد ذیشان نےبتایا کہ کوئٹہ میں مغربی بائی پاس کے علاقے اختر آباد میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کی گاڑی کے قریب دھماکا ہوا ، سڑک کنارے نصب بم کا دھماکا اس وقت ہوا جب ایف سی کی گاڑی معمول کے مطابق گشت کررہی تھی،

    انہوں نے مزید بتایا کہ دھماکے کہ زد میں آکر گاڑی میں موجود ایف سی ڈرائیور زخمی ہوا جنھیں فوری طور پر بی ایم سی منتقل کردیا گیا۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے شخص اور زخمی کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

  • محکمہ ڈاک کا ملازم لاپتہ،سریاب روڈ کوئٹہ میں 5 روزسے خواتین کا احتجاج

    محکمہ ڈاک کا ملازم لاپتہ،سریاب روڈ کوئٹہ میں 5 روزسے خواتین کا احتجاج

    کوئٹہ(آغا نیاز مگسی) گزشتہ 6 روز سے موسی کالونی کے قریب سریاب روڈ پر اقراء بلوچ کی قیادت میں خواتین نے احتجاجی کیمپ قائم کر کے روڈ بلاک کر رکھا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک بند اور شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اقراء بلوچ محمد حسنی نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ دعوی کیا ہے کہ میرا ماموں ظہیر احمد محمد حسنی جو کہ محکمہ ڈاک میں ملازم ہے 9 روز قبل اچانک لاپتہ ہو گیا ہے وہ ایک شریف شہری ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں شک ہے کہ اسے لاپتہ کر دیا گیا ہے اقراء بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ظہیر احمد پرکوئی کیس ہے یا اس پر کسی قسم کا کوئی شک ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے ، اس موقع پر ظہیر کی 5 بہنیں و دیگر خواتین بھی موجود تھیں ۔

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

  • کوئٹہ میں ادارہ ثقافت کے زیر اہتمام ” خواتین مشاعرہ“ کا انعقاد

    کوئٹہ میں ادارہ ثقافت کے زیر اہتمام ” خواتین مشاعرہ“ کا انعقاد

    رپورٹ : آغا نیاز مگسی

    ادارہ ثقافت بلوچستان کے زیر اہتمام نوری نصیر خان کمپلیکس ہال کوئٹہ میں سینیئر شاعرہ طاہرہ احساس جتک کے زیر صدارت خواتین کی محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی سیکریٹری کلچرل ڈپارٹمنٹ بلوچستان نور محمد جوگیزئی اور ان کی اہلیہ محترہ تھیں جبکہ سینیئر شاعرہ تسنیم صنم اعزای مہمان تھیں نظامت کے فرائض انعم جاوید نے ادا کیے ۔

    جن شاعرات نے اپنا کلام اور اشعار پیش کیے ان میں طاہرہ احساس جتک، تسنیم صنم ، جہاں آراء تبسم، غزالہ تبسم ، غزالہ بٹ ، حمیرہ سدوزئی، سکینہ بابر ، آرزو زیارت والہ ، زیب لونی ، زکیہ بہروز ، فاریہ بتول، روما ہاشمی اور انعم جاوید شامل ہیں ۔ طاہرہ احساس نے اردو، بلوچی اور براہوی زبان میں اشعار پیش کیے جبکہ آرزو زیارت والہ نے پشتو شاعری پیش کی غزالہ تبسم نے ترنم میں گیت پیش کیا تسنیم صنم ، جہاں آراء تبسم اور غزالہ بٹ نے اردو میں اپنے خوبصورت کلام اور اشعار سے محفل کو خوب گرما دیا جس پر سامعین نے انہیں بھرپور داد وتحسین پیش کیا۔

    صدر مشاعرہ طاہرہ احساس جتک ، انجمن ادب بلوچستان کی صدر تسنیم صنم اور جہاں آراء تبسم نے خواتین مشاعرہ کےانعقاد پر سیکرٹری کلچرل ڈپارٹمنٹ نور محمد جوگیزئی کا شکریہ ادا کیا اور اس توقع کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی اس سلسلے کو جاری رکھا جائے گا جبکہ تسنیم صنم نے اپنے خطاب میں معروف محقق، شاعر و کالم نگار آغا نیاز مگسی و دیگر تمام شرکائے تقریب کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے خواتین کی محفل مشاعرہ میں شریک ہو کر ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی ہے ۔ تقریب میں ڈائریکٹر کلچر داؤد ترین، میجر” ر“ نذر حسین ، پروفیسر جوہر بنگلزئی ، شاہین بارانزئی ، سائر عزیز ، احمد وقاص کاشی ، علی اکبر ساسولی و خواتین و حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی اس سے قبل نور محمد جوگیزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت ادب و ثقافت کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامت کر رہی ہے.

  • دہشت گردی کے بیانئے کو شکست دینا ہوگی،بلاول

    دہشت گردی کے بیانئے کو شکست دینا ہوگی،بلاول

    چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں وزیراعلی ہاؤس کوئٹہ میں اجلاس ہوا،

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو صحت، تعلیم، امن و امان اور بجٹ سمیت مختلف فلیگ شپ پروگرام کے حوالے سے بریفنگ دی گئی،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی موجود تھے، بلاول بھٹو زرداری کو بلوچستان میں بینظیر بھٹو اسکالر شپ پروگرام، پیپلز ائیر ایمبولینس اور پیپلز گرین بس سروس کے قیام کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی، بلاول بھٹو زرداری کو کوئٹہ میں این آئی سی وی ڈی اور گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف لیور ٹرانسپلانٹ کے قیام، اسکل ورکرز کارڈ پروگرام اور ریسکیو 1122 سروس کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی،جس میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں تعلیم کے ترقیاتی بجٹ میں 300 فیصد اضافہ کیا گیا، بلوچستان میں صحت کے ترقیاتی بجٹ میں 129 فیصد اضافہ کیا گیا،بلوچستان کے دورافتادہ علاقوں میں صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے ہیلتھ آن وہیلز پروگرام کا آغاز کردیا گیا،بلوچستان میں کینسر کے مریضوں کے لئے مفت ادویات کی فراہمی کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے، بلوچستان میں 30 ہزار سے زائد زرعی ٹیوب ویلز کی سولر پر منتقلی کے منصوبے کا آغاز کردیا گیا ہے، زراعت کی ترقی کے لئے بلوچستان کے کاشت کاروں کو سبسڈی پر ٹریکٹر فراہم کئے جائیں گے، انٹرنیشنل ڈرائیونگ کی تربیت کے حوالے سے کچلاک میں مفت اسکول کے قیام کے حوالے سے بجٹ مختص کردیا گیا، دریائے سندھ سے آنے والی کچھی کینال کے نئے فیز کی تعمیر کے لئے 10 ارب روپے مختص کردئیے گئے، بلوچستان کے بیروزگار گریجویٹس کے لئے بلاسود قرضوں کی فراہمی کے لئے چار ارب روپے مختص کردئیے گئے، بلوچستان میں یوتھ اسکلز ڈولپمنٹ پروگرام کے تحت دو سالوں میں 30 ہزار نوجوانوں کو تربیت فراہم کرکے بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے، دنیا کی 200 سے زائد یونیورسٹیوں میں سائنس کے مضامین میں پی ایچ ڈی کرنے والے بلوچستان کے طلبہ کو صوبائی حکومت اسکالرشپ دے گی،

    بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ پی پی پی بلوچستان کے صدر چنگیز جمالی، رکن قومی اسمبلی اعجاز جاکھرانی اور پالیٹکل سیکریٹری جمیل سومرو موجودتھے،بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو امن کا مکمل گہوارہ بنانے کے لئے صوبے میں گراس روٹ لیول تک سیاسی عمل ضروری ہے،دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے دہشت گردی کے بیانئے کو شکست دینا ہوگی، بلوچستان کی پہلی یوتھ پالیسی خوش آئند ہے تاہم اس پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے تاکہ نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ مواقع ملیں، بلوچستان میں سندھ کی طرز پر صحت کے منصوبوں کی فوری تکمیل جلد از جلد کی جائے، بلوچستان میں 2022 کے سیلاب سے متاثرہ افراد کے لئے گھروں کی تعمیر کے منصوبے کی تکمیل میں تیزی لائی جائے، گوادر سے کوئٹہ اور سبی سے جعفر آباد تک پورے بلوچستان کے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں،

    بعد ازاں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اعزاز میں وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کی جانب سے وزیراعلی ہاؤس میں عشائیہ دیا گیا،عشائیے میں بلوچستان حکومت کے وزراء، اراکین اسمبلی، پی پی پی عہدیداران و کارکنان اور معززین نے شرکت کی، بلاول بھٹو زرداری نے عشائیے کے شرکاء سے بلوچستان کے عوام کے مسائل اور ان کے حل سے متعلق تجاویز کو سنا