Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • ہرنائی میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک

    ہرنائی میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک

    ہرنائی: بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے چار دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ہرنائی کے پہاڑی علاقے زندہ پیر کے قریب عمل میں لائی گئی، جہاں دہشتگردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ ٹھکانوں کو گھیرے میں لیا، جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ شدید جھڑپ کے نتیجے میں چار دہشتگرد مارے گئے، جبکہ علاقے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔آپریشن کے بعد سکیورٹی فورسز نے ہلاک دہشتگردوں کی لاشوں کو تحویل میں لے کر ان کی شناخت کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق شناخت مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے آئیں گی،

    سکیورٹی فورسز نے علاقے کا مکمل گھیراؤ کر کے سرچ آپریشن تیز کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشتگرد کے فرار کو روکا جا سکے۔ پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے،ذرائع کے مطابق یہ کارروائی علاقے میں امن و امان کو یقینی بنانے اور دہشتگردی کے خطرات کے مکمل خاتمے کے لیے کی گئی۔ سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت ایسی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔

  • کوئٹہ: مشرقی بائی پاس پر پولیس موبائل پر فائرنگ، راہگیر شہری شہید

    کوئٹہ: مشرقی بائی پاس پر پولیس موبائل پر فائرنگ، راہگیر شہری شہید

    کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس پر نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے پولیس موبائل پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں ایک بے گناہ راہگیر شہری موقع پر ہی شہید ہوگیا، جبکہ پولیس اہلکار معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق منظور شہید تھانے کی پولیس موبائل معمول کی گشت پر تھی کہ اچانک دہشتگردوں نے اس پر حملہ کردیا۔ حملہ آوروں نے پولیس موبائل پر 8 سے 9 فائر کیے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ فائرنگ کے دوران ایک راہگیر گولی کی زد میں آکر شدید زخمی ہوا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی شہید ہوگیا۔واقعے کے فوراً بعد ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔ شہید شہری کی لاش کو ضروری قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    پولیس حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کی کوششیں جاری ہیں۔سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے گشت میں اضافہ کردیا گیا ہے اور کسی بھی قسم کی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دینے کی اپیل کی گئی ہے۔

  • نئے سال پر بلوچستان میں خواتین کے لیے پنک بس سروس کا آغاز

    نئے سال پر بلوچستان میں خواتین کے لیے پنک بس سروس کا آغاز

    کوئٹہ: نئے سال کے موقع پر بلوچستان میں خواتین اور طالبات کے لیے خصوصی پنک بس سروس کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد صوبے میں خواتین کی روزمرہ آمد و رفت کو محفوظ، باوقار اور سہل بنانا ہے۔ پنک بس سروس کا افتتاح صوبائی حکومت کی جانب سے خواتین دوست اصلاحات کے سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ پنک بس سروس کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنا حکومت کی ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی مرحلے میں یہ سروس بڑے شہری علاقوں میں شروع کی گئی ہے جبکہ آئندہ مرحلے میں پنک بس سروس کا دائرہ دیگر اضلاع تک بھی توسیع دی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ پنک بس سروس خواتین کو تعلیم، روزگار اور صحت کی سہولیات تک آسان اور محفوظ رسائی فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے محفوظ ٹرانسپورٹ نظام صوبائی حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے اور اس سلسلے میں عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔میر سرفراز بگٹی کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے حکومت صرف اعلانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اور دیرپا اقدامات کر رہی ہے۔ پنک بس سروس خواتین کے اعتماد میں اضافے، معاشی سرگرمیوں میں شمولیت اور تعلیمی مواقع کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی۔

    صوبائی حکومت کے مطابق پنک بس سروس میں خواتین ڈرائیورز اور کنڈکٹرز کی تعیناتی، سکیورٹی انتظامات اور مناسب کرایہ نظام کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ خواتین اور طالبات بلا خوف و خطر سفر کر سکیں۔ عوامی حلقوں اور خواتین تنظیموں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ سروس بلوچستان میں خواتین کی سماجی و معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

  • ریاستی اداروں اور انسداد پولیو مہم کے خلاف سوشل میڈیا پر وڈیو نشر کرنے پر مقدمہ درج

    ریاستی اداروں اور انسداد پولیو مہم کے خلاف سوشل میڈیا پر وڈیو نشر کرنے پر مقدمہ درج

    ضلع چمن میں سوشل میڈیا کے ذریعے ریاستی اداروں اور حکومت پاکستان کے خلاف نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مواد پھیلانے کے الزام میں پولیس نے ایک شخص کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

    پولیس کے مطابق تھانہ سٹی چمن میں مقدمہ نمبر 129/25 درج کیا گیا ہے، جو پولیس فارم نمبر 24-5(1) کے تحت تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 504، 505، 153، 506 اور الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ (PECA) 2016 کی دفعات 11 اور 22 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ابتدائی اطلاعی رپورٹ کے مطابق، تھانہ سٹی چمن کے ایس آئی و ایس ایچ او محمد ولی کاکڑ نے سرکار کی جانب سے مدعیت کرتے ہوئے بتایا کہ مورخہ 23 دسمبر 2025 کو تقریباً 07:50 شام وہ دفتر میں موجود تھے اور سوشل میڈیا استعمال کر رہے تھے، اسی دوران انہیں ٹک ٹاک پر ایک اکاؤنٹ Haji Nanak @haji nanak کی جانب سے اپلوڈ کی گئی ویڈیو نظر آئی۔پولیس کے مطابق مذکورہ ویڈیو پشتو زبان میں تھی، جس میں ملزم نے حکومت پاکستان، ریاستی اداروں اور ان کے سربراہان کے خلاف نازیبا اور توہین آمیز زبان استعمال کی۔کہا گیا کہ ” ہم اور آپ لوگوں چاہیے کہ یہ پولیو کے قطرے بچوں کو نہ پلائے یہ امریکی لوگوں کا پیشاپ ہے یہ اپنے بچوں کو مت پلاو ” ویڈیو میں پولیو کے قطرے پلانے کے خلاف عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی اور اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے عوام میں نفرت اور بداعتمادی پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ ویڈیو میں نہ صرف ریاستی اداروں پر سنگین اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے بلکہ معاشرتی اقدار اور مذہبی جذبات کو بھی مجروح کیا گیا، جس سے عوامی امن و امان کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔پولیس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملزم کے اس عمل سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور قومی پولیو مہم کے خلاف منفی پروپیگنڈا پھیلایا گیا، جو قابلِ تعزیر جرم ہے۔

    مقدمہ درج کرنے کے بعد اس کیس کی تفتیش اے ایس آئی غزنی کے سپرد کردی گئی ہے، جبکہ اعلیٰ پولیس حکام کو بھی اس حوالے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور شواہد کی روشنی میں ملزم کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے اشتعال انگیز اور گمراہ کن مواد سے ہوشیار رہیں اور قانون کو ہاتھ میں لینے کے بجائے ایسے عناصر کی نشاندہی متعلقہ اداروں کو کریں۔

  • ریاست کو اپنی رٹ بحال کرنا آتی ہے،جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان

    ریاست کو اپنی رٹ بحال کرنا آتی ہے،جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ گمراہ لوگ ہتھیار ڈال دیں، ریاست کو اپنی رٹ بحال کرنا آتی ہے۔

    کوئٹہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ہمارا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے، بلوچ کو لاحاصل جنگ میں ڈالا گیا، بندوق کے ذریعہ کوئی مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا، ریاست کے دروازے آپ کے لیے کھلے ہیں، بندوق اٹھانے والے واپس آجائیں،جہاں ظلم ہوگا میں وہاں کھڑا ہوں گا، شہداء کے ورثاء کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، آزادی کی نام نہاد جنگ نے سب کچھ تباہ کیا۔

    دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کو بگٹی قوم کا 8واں چیف آف بگٹی منتخب کر لیا گیا،چیف کی دستاربندی کی تقریب ڈیرہ بگٹی میں وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی کے آبائی گھر پر ہوئی جس میں بگٹی قبائل کے عمائدین اور معزز شخصیات نے شرکت کی، بگٹی قوم کے سربراہ نواب میر عالی بگٹی کے بھائی نوابزادہ زامران بگٹی نے بلوچی روایات کے مطابق سرفراز بگٹی کو دستار پہنائی، چھ ذیلی قبائل کے چیفس اور دیگر قبائل کے سربراہان کی موجودگی میں وہ چیف آف بگٹی مقرر ہوئے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بگٹی قوم کی خدمت، انصاف اور اتفاقِ رائے ترجیحات اور ذمہ داری ہے، علاقے میں دانش اسکول کے لیے وزیراعظم کے مشکور ہیں، دانش اسکول کے ٹینڈرز ہو چکے ہیں، تکمیل جلد ہوگی، بلوچستان کے بچے بڑے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

  • بلوچستان میں انسدادِ پولیو مہم، 3 ہزار والدین کے انکار کا انکشاف

    بلوچستان میں انسدادِ پولیو مہم، 3 ہزار والدین کے انکار کا انکشاف

    بلوچستان میں بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے بچانے کے لیے جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوران قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کی تعداد سامنے آ گئی ہے۔

    ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) حکام کے مطابق صوبے بھر میں 15 سے 21 دسمبر تک جاری رہنے والی سات روزہ انسدادِ پولیو مہم کامیابی کے ساتھ مکمل کی گئی۔ای او سی حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کے دوران صوبے میں مقررہ ہدف کا 99 فیصد حاصل کر لیا گیا، جو مجموعی طور پر ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق پولیو ٹیموں نے دور دراز، حساس اور دشوار گزار علاقوں میں بھی گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے۔تاہم اس کامیابی کے باوجود ایک تشویشناک پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ ای او سی حکام کے مطابق بلوچستان میں مجموعی طور پر 3 ہزار والدین ایسے رپورٹ ہوئے جنہوں نے اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ انکاری والدین کی بڑی تعداد مختلف وجوہات کی بنا پر ویکسینیشن سے گریز کرتی ہے، جن میں غلط فہمیاں، افواہیں اور آگاہی کی کمی شامل ہیں۔

    صوبائی حکام کے مطابق انکاری کیسز پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور متعلقہ علاقوں میں علماء، مقامی عمائدین اور صحت کے ماہرین کے ذریعے آگاہی مہم تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ والدین کو پولیو ویکسین کی افادیت اور بچوں کی صحت پر اس کے مثبت اثرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ پولیو کے مکمل خاتمے تک انسدادِ پولیو مہمات جاری رکھی جائیں گی اور انکاری والدین کو قائل کرنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنائی جائے گی۔ حکام کے مطابق پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے بچاؤ کا واحد مؤثر ذریعہ بروقت ویکسینیشن ہے، اس لیے والدین کا تعاون نہایت ضروری ہے۔

  • یومِ قائد کی تقریب قائداعظم ریزیڈنسی زیارت میں شایانِ شان انداز میں منعقد

    یومِ قائد کی تقریب قائداعظم ریزیڈنسی زیارت میں شایانِ شان انداز میں منعقد

    بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کے یومِ قائد کے موقع پر زیارت میں واقع تاریخی قائداعظم ریزیڈنسی میں ایک پروقار اور شایانِ شان تقریب منعقد کی گئی۔

    تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم خان، آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل عاطف مجتبیٰ، اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی، قبائلی عمائدین، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے آئے ہوئے معزز مہمانوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کے دوران مقامی بچوں نے ملی نغمے اور تقاریر پیش کر کے بابائے قوم کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔

    اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے خطاب میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی بے مثال قومی خدمات، اصولی قیادت اور جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قائد کے افکار، ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط پر عمل پیرا ہو کر ہی پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ خیبرپختونخوا کے شہر کوہاٹ سے آئے ہوئے ایک شہری نے کہا “میں یومِ قائد کی اس تقریب میں شرکت کے لیے کوہاٹ سے آیا ہوں۔ بلوچستان کے عوام کی پاکستان سے محبت دیکھ کر دل خوش ہو گیا ہے۔آج ہم عظیم قائد بابائے قوم کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں جنہوں نے دنیا کو ایک آزاد اور عظیم اسلامی ریاست کا تحفہ دیا۔تقریب کا اختتام ملک کی سلامتی، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ ہوا۔

  • اینٹی نارکوٹکس فورس کی بلوچستان میں ایک اور بڑی کارروائی، منشیات اسمگلنگ ناکام

    اینٹی نارکوٹکس فورس کی بلوچستان میں ایک اور بڑی کارروائی، منشیات اسمگلنگ ناکام

    اینٹی نارکوٹکس فورس کی بلوچستان میں ایک اور بڑی کارروائی، منشیات اسمگلنگ ناکام بنا دی گئی

    اینٹی نارکوٹکس فورس نے کامیاب کارروائی میں پنجگور سے تربت منشیات کی بڑی اسمگلنگ ناکام بنادی،اے این ایف نے خفیہ اطلاعات پر ضلع کیچ میں سیٹلائٹ ٹاؤن کے قریب کارروائی کرتے ہوئے منشیات برآمد کی ،برآمد شدہ منشیات میں 99 کلو آئس، 50 کلو افیون اور 73 کلوگرام چرس شامل ہے،ضبط کی گئی منشیات کی مجموعی مالیت تقریباً 3 کروڑ 26 لاکھ روپے ہے، اے این ایف ٹیم نے ایک گاڑی کی تلاشی کے دوران پلاسٹک کے کینز میں چھپائی گئی منشیات کی بھاری مقدار برآمد کی ، کامیاب کارروائی میں ایک ملزم بھی گرفتار، مزید قانونی کارروائی کے لیے پولیس اسٹیشن اے این ایف منتقل کر دیا گیا، منشیات اسمگلنگ کے پورے نیٹ ورک کا سراغ لگانے اور اسے بے نقاب کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں

    مسلسل نگرانی، بروقت خفیہ معلومات کے حصول اور مؤثر کارروائیوں سے اے این ایف منشیات کی ترسیل کی کوششوں کو ناکام بنا رہے ہیں، یہ کامیاب کارروائی منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف اے این ایف کے فرنٹ لائن کردار کی عکاس ہے

  • بلوچستان کی ترقی کے سفر کا نیا باب،بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو، بھرپور انداز سے جاری

    بلوچستان کی ترقی کے سفر کا نیا باب،بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو، بھرپور انداز سے جاری

    بلوچستان کی ترقی کے سفر کا نیا باب ’’بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو‘‘ بھرپور انداز سے جاری ہے

    حکومت بلوچستان کا بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (بی ایس ڈی آئی) صوبہ میں پائیدار ترقی کا مؤثر ذریعہ بن گیا.بی ایس ڈی آئی کے تحت جنوبی بلوچستان کے پانچ اضلاع کیچ، خاران، واشک، چاغی اور پنجگُور میں 137 منصوبوں کیلئے پانچ ارب روپے مختص ہیں،اب تک بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے تحت 13 ترقیاتی منصوبے کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں ،10 ویں منصوبہ کے تحت خاران کے علاقوں مسکان، قلات اور کلی مبارک شلتاک میں دو جنازہ گاہوں کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے،11ویں منصوبہ کے تحت کے تحت ضلع واشک کے آر ایچ سی ناگ میں جدید سولر سسٹم نصب کر دیا گیا،12 منصوبہ میں واشک کے 10 رجسٹرڈ مدارس میں سولر سسٹمز کی تنصیب سے توانائی بحران میں نمایاں کمی واقع ہوئی ،13ویں منصوبہ میں واشک میں 40 سولر اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب عوامی سہولت اور سکیورٹی میں اضافہ کا باعث بنی ،بلوچستان ترقیاتی پروگرام کا مقصد دورافتادہ پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے ،بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو صوبہ کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کا ضامن ہے

  • ایف سی بلوچستان نارتھ کے زیر اہتمام ضلع نصیر آباد میں گرینڈ جرگہ،گورنر،وزیراعلیٰ کی شرکت

    ایف سی بلوچستان نارتھ کے زیر اہتمام ضلع نصیر آباد میں گرینڈ جرگہ،گورنر،وزیراعلیٰ کی شرکت

    ایف سی بلوچستان نارتھ کے زیر اہتمام ضلع نصیر آباد میں ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جس میں مہمانِ خصوصی گورنر بلوچستان جعفر خان مندو خیل ، وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی، کور کمانڈر 12 کور لیفٹینینٹ جنرل راحت نسیم احمد خان ،آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل محمد عاطف مجتبٰی،آئی جی پولیس، کمشنر نصیر آباد ڈویژن اور کثیر تعداد میں قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔

    جرگے کے دوران علاقے کی سلامتی، ہم آہنگی، قبائلی روابط اور ترقیاتی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ مقامی قبائل نے پاک فوج ،فرنٹیئر کور بلوچستان نارتھ کی جانب سے امن کے قیام اور بحالی کے لیے کی گئی عملی کوششوں کو سراہا.
    گورنر بلوچستان نے عمائدین سے خطاب میں کہا کہ قبائلی عوام ہمیشہ سے ریاستی اداروں کے مضبوط شراکت دار رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن کے تسلسل، ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔

    وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج اور فرنٹیئر کور خطے میں پائیدار امن، سماجی استحکام اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتی رہے گی۔ اور علاقے میں امن قائم رکھنے میں قبائلی عمائدین کا کردار نہایت اہم ہے ۔ کمانڈر 12 کور لیفٹینینٹ جنرل راحت نسیم احمد خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ، بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کا راستہ امن و اتحاد سے وابستہ ہے ۔ عوام نے دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانا ہے اور ہم سب نے مل کر وطن دشمن عناصر کی سازشوں کو شکست دینی ہے۔

    جرگے کے اختتام پر تمام قبائلی عمائدین نے حکومت بلوچستان ,پاک فوج اور فرنٹیئر کور بلوچستان کی جانب سے امن کے قیام بالخصوص کوہان سروے پروجیکٹ اور این 65 کی سیکیورٹی کو خوش ائند قرار دیا اور اس عزم کو دہرایا کہ وہ علاقائی امن، سماجی اتحاد اور ترقی کے سفر میں ریاستی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔