Baaghi TV

Category: راولپنڈی

  • کیری بولان میں ڈلیوری کیس، شوکاز نوٹس، تین رکنی انکوائری کمیٹی قائم

    کیری بولان میں ڈلیوری کیس، شوکاز نوٹس، تین رکنی انکوائری کمیٹی قائم

    غفلت کے الزامات پر ایم ایس ٹی ایچ کیو گوجرخان کا فوری ایکشن، متعلقہ ڈاکٹر اور نرسنگ اسٹاف کو شوکاز نوٹس جاری وضاحت طلب
    گاڑی میں ڈلیوری کے واقعہ پر محکمہ صحت متحرک سی ای او ہیلتھ راولپنڈی نے حقائق جاننے کیلئے انکوائری کمیٹی قائم کر دی، رپورٹ طلب
    گوجرخان (قمرشہزاد) ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان سے ریفر کی جانے والی زچہ کی روات کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک کیری بولان میں ڈلیوری کے واقعہ کے بعد محکمہ صحت متحرک ہوگیا۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان ڈاکٹر عمر فاروق مرزا نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ڈیوٹی پر موجود ویمن میڈیکل آفیسر ڈاکٹر سارونہ اسحاق اور چارج نرس حفضہ رسول کو مبینہ غفلت، ناقص مریض نگہداشت اور گائنی یونٹ سے غیر ضروری ریفرل کے الزام میں شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ جاری نوٹس کے مطابق خاتون کو تشویشناک حالت میں مناسب طبی اور انتظامی پروٹوکول کے بغیر ریفر کیا گیا، جس کے نتیجے میں مریضہ نے راولپنڈی جاتے ہوئے نجی گاڑی میں بچے کو جنم دیا۔ نوٹس میں اس واقعہ کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے ماں اور نومولود کی جان خطرے میں پڑی جبکہ ہسپتال کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔ متعلقہ ڈاکٹر اور نرس کو تین روز کے اندر تحریری وضاحت جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، بصورت دیگر پیڈا رولز کے تحت مزید محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    دوسری جانب چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی ڈاکٹر احسان غنی نے بھی واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (میڈیکل سروسز) راولپنڈی کو کنوینر جبکہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوجرخان اور ٹی ایچ کیو ہسپتال کلر سیداں کی کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ ڈاکٹر عاصمہ صدف کو بطور اراکین شامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو شکایت، متعلقہ ریکارڈ، ڈیوٹی روسٹر، مریضہ کے اندراجات، ریفرل دستاویزات اور دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت تمام شواہد کا جائزہ لے کر واقعہ کے حقائق معلوم کرنے، ذمہ داریوں کا تعین کرنے اور تین روز کے اندر اپنی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں غفلت، بدانتظامی یا فرائض میں کوتاہی ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ ڈاکٹر نرسسز سٹاف کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

  • گوجرخان بلدیہ کی مبینہ لوٹ مار بے نقاب، لاکھوں کے فنڈز ہضم، معمولی بارش نے شہر ڈبو دیا

    گوجرخان بلدیہ کی مبینہ لوٹ مار بے نقاب، لاکھوں کے فنڈز ہضم، معمولی بارش نے شہر ڈبو دیا

    گوجرخان بلدیہ کی مبینہ لوٹ مار بے نقاب لاکھوں کے فنڈز ہضم، معمولی بارش نے شہر ڈبو دیا
    سابق سی او طارق ضیاء اور مخصوص ٹولے کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا مطالبہ نالوں کی صفائی کے نام پر آنے والی بھاری رقوم آخر کس کی جیب میں گئیں؟ شہریوں کی دہائی
    عوامی ٹیکسوں اور لوکل ریونیو کی مبینہ بندر بانٹ اہل گوجرخان کا وزیرِ اعلی مریم نواز سے بلدیہ کا فوری اسپیشل آڈٹ اور اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی بنانے کا مطالبہ
    گوجرخان (قمرشہزاد) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے احکامات اور نالوں کی صفائی ستھرائی کے واشگاف ویژن کی دھجیاں اڑانے میں بلدیہ گوجرخان کے افسران نے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ ذرائع کے مطابق سابق سی او بلدیہ طارق ضیاء کے دورِ تعیناتی میں شہر بھر کے چھوٹے بڑے نالوں کی صفائی کے نام پر حکومت پنجاب کی طرف سے جاری کیے گئے 60 لاکھ روپے کے فنڈز مبینہ طور پر کاغذوں کا پیٹ بھرنے کی نذر ہو گئے۔ بلدیہ کی جانب سے بنائی گئی نام نہاد خصوصی ٹیمیں اور بلند و بانگ دعوے حالیہ معمولی سی بارش کے پہلے ہی سپیل میں ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ بارش کیا ہوئی، پورا گوجرخان ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگا، جس نے بلدیہ کی کارکردگی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔عوامی حلقوں میں اس وقت شدید غم و غصہ اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جب لاکھوں روپے کی لاگت سے صاف کیے گئے نالوں نے پہلی ہی بارش میں ابلنا شروع کر دیا۔ شہر کے اہم تجارتی مراکز، گلی محلے، اور مرکزی بازار فٹوں گہرے پانی میں ڈوب گئے، جس سے تاجروں کا لاکھوں روپے کا نقصان ہوا اور شہریوں کا جینا محال ہو گیا۔ اس صورحال نے یہ تلخ سوال اٹھا دیا ہے کہ اگر فنڈز ایمانداری سے نالوں کی صفائی پر لگے تھے، تو شہر سیکنڈوں میں زیر آب کیوں آ گیا؟ عوام کا خون پسینا اور ٹیکس کا پیسہ نالوں کی گاد نکالنے پر خرچ ہوا یا افسران کی تجوریاں بھرنے میں استعمال ہوا؟ عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلدیہ گوجرخان کے اندر ہونے والی اس مبینہ لوٹ مار کا فوری نوٹس لیں۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ ایک اعلیٰ سطحی غیر جانبدار انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے جو سابق سی او بلدیہ طارق ضیاء اور ان کے منظورِ نظر افسران کے دور کا مکمل فرانزک آڈٹ کرے۔ اس بندر بانٹ میں شامل ہر چھوٹے بڑے مہرے کو بے نقاب کر کے پبلک منی کا ایک ایک پیسہ برآمد کیا جائے، تاکہ وزیر اعلیٰ کے ہاؤس کلیننگ ویژن کا مذاق اڑانے والے راشی افسران کو نشانِ عبرت بنایا جا سکے

  • گوجرخان معمولی بارش سے ندی میں تبدیل

    گوجرخان معمولی بارش سے ندی میں تبدیل

    بلدیہ کے کروڑوں کے فنڈز نالوں کی صفائی کے ٹھیکے کاغذی نکلے
    شہری حلقوں کا بلدیہ گوجرخان کو سفید ہاتھی قرار دیتے ہوئے ترقیاتی فنڈز اور ٹیکسوں کی رقم کے فوری آڈٹ کا مطالبہ
    صرف فوٹو سیشن اور ٹاوٹ کلچر نہیں چلے گا سی او، انجینئرز اور ٹھیکیداروں کا کڑا احتساب کر کے بندربانٹ کا حساب لیا جائے: عوامی حلقوں کا شدید احتجاج
    گوجرخان (قمرشہزاد مغل) گوجرخان شہر کا سیوریج سسٹم مکمل طور پر بیٹھ گیا، معمولی سی بارش نے بلدیہ کی کارکردگی کا پول کھولتے ہوئے شہر کے تجارتی مراکز اور گلیوں کو ندی نالوں میں تبدیل کر دیا۔ بازاروں کی حالتِ زار دیکھ کر ایسا گمان ہوتا ہے جیسے دکانیں کسی دریا کے آمنے سامنے بنی ہوں۔ اس سنگین صورتحال پر شہری حلقوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے بلدیہ گوجرخان کی انتظامیہ کے خلاف چارج شیٹ جاری کر دی گئی ہے۔ عوامی حلقوں نے تیکھے سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ بلدیہ گوجرخان کو ملنے والے کروڑوں روپے کے فنڈز اور عوام کے خون پسینے کی کمائی سے اکٹھے ہونے والے ٹیکس آخر کہاں استعمال ہو رہے ہیں؟ سابق چیف افسر کے دور میں نالوں کی صفائی کے نام پر دیے جانے والے مہنگے ٹھیکے زمین پر کہیں نظر نہیں آ رہے، جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹھیکے مبینہ طور پر صرف مخصوص جیبیں بھرنے کے لیے دیے گئے تھے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بلدیہ کے چیف افسر، انجینئرز اور سب انجینئرز آخر کس کام کی بھاری تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں؟ کیا ان افسران کا کام صرف ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھنا ہے؟ شہر کی کوئی ایک گلی، محلہ، بازار یا سروس روڈ ایسی نہیں بچی جو ہلکی سی بارش کے بعد جوہڑ کا منظر پیش نہ کر رہی ہو۔ بلدیہ گوجرخان اب ایک سفید ہاتھی بن چکی ہے جس کا کام صرف فنڈز کو ہڑپ کرنا رہ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، عوامی حلقوں نے موجودہ صورتحال کو فنڈز کی بندربانٹ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بلدیہ کے ترقیاتی فنڈز کا فوری طور پر اعلیٰ سطحی آڈٹ کرایا جائے تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ کس دور میں کس نے کتنا لوٹا اور کس کو نوازا گیا۔ شہریوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اب محض فوٹو سیشن اور ٹاوٹ کلچر کی سیاست نہیں چلے گی، جہاں ہر آنے والا افسر چند مخصوص کارندوں کو ساتھ ملا کر صرف تصویریں کھنچواتا ہے جبکہ عملی کام صفر ہوتا ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ غافل افسران، سب انجینئرز اور کام چور ٹھیکیداروں کا کڑا محاسبہ کیا جائے اور عوامی ٹیکس کے ایک ایک پیسے کا حساب لیا جائے۔

  • گوجرخان،ایل پی جی مافیا بے لگام، اوگرا کے نرخ ردی کا ڈھیر ،سلنڈر غریب کی پہنچ سے دور

    گوجرخان،ایل پی جی مافیا بے لگام، اوگرا کے نرخ ردی کا ڈھیر ،سلنڈر غریب کی پہنچ سے دور

    پلانٹ مالکان نے حکومتی رٹ ہوا میں اڑا دی 3643 والا سلنڈر 58سو سے 6 ہزار میں دھڑلے سے فروخت، غریبوں کی جیبوں پر سرعام ڈاکہ
    وزیراعظم اور چیئرمین اوگرا کی خاموشی پر سوالیہ نشان ضلعی انتظامیہ خواب خرگوش کے مزے لوٹنے لگی شہری سراپا احتجاج
    گوجرخان (قمرشہزاد) تحصیل گوجرخان اور گردونواح میں ایل پی جی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، جہاں سرکاری نرخنامے محض کاغذ کے ٹکڑے ثابت ہو رہے ہیں۔ ماہ جون کے لیے اوگرا کی جانب سے گھریلو سلنڈر کی قیمت 3643 روپے مقرر کیے جانے کے باوجود، پلانٹ مالکان اور ڈسٹری بیوٹرز نے ملی بھگت سے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق، گیس پلانٹس سے ایجنسی ہولڈرز کو سلنڈر 5400 روپے میں فراہم کیا جا رہا ہے، جو کہ خود سرکاری قیمت سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ یہی سلنڈر عام صارف تک پہنچتے پہنچتے 5800 سے 6000 روپے کی ریکارڈ سطح کو چھو رہا ہے۔ غریب اور متوسط دیہاڑی دار طبقہ، جو پہلے ہی کمر توڑ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے، اب لکڑیاں جلانے یا بھوکا سونے پر مجبور ہو گیا ہے۔ شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اوگرا اپنے ہی جاری کردہ نوٹیفکیشن پر عملدرآمد کروانے کی سکت نہیں رکھتا، تو ایسے ردی کے ٹکڑوں کو پبلش کر کے عوام کو بیوقوف بنانے کا کیا مقصد ہے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ریاست کی رٹ پلانٹ مالکان کے سامنے ختم ہو چکی ہے جو وہ سرکاری احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں؟ گوجرخان کے شہریوں نے وزیرِ اعظم پاکستان، وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم اور چیئرمین اوگرا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ان پلانٹس و ڈسٹری بیوٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن کریں جو کھلم کھلا قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر سرکاری نرخوں پر گیس کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو وہ احتجاجاً سڑکوں پر نکلنے میں حق بجانب ہوں گے۔

  • راولپنڈی،گیس لیکج سے گھر میں دھماکا،سات افراد زخمی

    راولپنڈی،گیس لیکج سے گھر میں دھماکا،سات افراد زخمی

    راولپنڈی: آفندی کالونی میں گھر کے اندر گیس لیکیج کے باعث ہونے والے دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت 7 افراد جھلس کر زخمی ہوگئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

    تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کے علاقے آفندی کالونی میں ایک رہائشی مکان میں گیس جمع ہونے کے باعث اچانک دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں گھر میں موجود 7 افراد جھلس کر زخمی ہوگئے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال منتقل کیا گیا۔ زخمیوں کا علاج اسپتال کے برن یونٹ میں جاری ہے۔زخمی ہونے والوں میں 7 سالہ مناہل، 14 سالہ حسنین، 12 سالہ بلال، 45 سالہ فریال، 32 سالہ مصطفیٰ، 36 سالہ عثمان اور 10 سالہ مریم شامل ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق بعض زخمیوں کے جسم کے مختلف حصے جھلسے ہیں جبکہ تمام متاثرین کو طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا گھر میں گیس لیکیج کے باعث پیش آیا، تاہم واقعے کی حتمی وجوہات جاننے کے لیے متعلقہ اداروں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ گیس کی تنصیبات اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ حادثے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گیس لیکیج کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے اور شہریوں میں آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ ایسے افسوسناک حادثات سے بچا جا سکے۔

  • پاک فوج نے برطانیہ میں انٹرنیشنل پیس اسٹکنگ مقابلہ 2026 جیت لیا،تمام بڑے اعزازات پاکستان کے نام

    پاک فوج نے برطانیہ میں انٹرنیشنل پیس اسٹکنگ مقابلہ 2026 جیت لیا،تمام بڑے اعزازات پاکستان کے نام

    پاک فوج نے برطانیہ میں انٹرنیشنل پیس اسٹکنگ مقابلہ 2026 جیت لیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج نے عالمی سطح پر ایک اور نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے برطانیہ میں منعقدہ باوقار انٹرنیشنل پیس اسٹکنگ مقابلہ 2026 جیت لیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سینڈ ہرسٹ میں ہونے والے مقابلے میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر پہلی پوزیشن حاصل کی، پاکستانی ٹیم نے نہ صرف مقابلہ جیتا بلکہ تمام بڑے اعزازات بھی اپنے نام کر لیے مقابلے میں بہترین پیس اسٹکر اور بہترین ڈرلر کے ایوارڈز بھی پاکستانی ٹیم نے حاصل کیے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق میجر حیدر گلزار کی قیادت میں 9 رکنی پاکستانی دستہ اس بین الاقوامی مقابلے میں شریک ہوا مقابلے میں مختلف ممالک کی 16 فوجی ٹیموں نے حصہ لیا، یہ کامیابی پاک فوج کی اعلیٰ پیشہ ورانہ تربیت، نظم و ضبط اور غیر معمولی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔

  • راولپنڈی جوڈیشنل کمپلیکس میں مبینہ ڈانس پارٹی، مقدمہ درج

    راولپنڈی جوڈیشنل کمپلیکس میں مبینہ ڈانس پارٹی، مقدمہ درج

    راولپنڈی کے نیو جوڈیشنل کمپلیکس میں مبینہ ڈانس پارٹی کے معاملے پر تھانہ سول لائن پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

    پولیس کے مطابق مقدمہ سیشن کورٹ کے چوکیدار تنویر حسین کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مدعی مقدمہ نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو دیکھی جو نیو جوڈیشنل کمپلیکس کی تھی۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق ویڈیو میں مرد و خواتین کو نازیبا حرکات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور ان کی شکلیں واضح طور پر پہچانی جا سکتی ہیں۔ مدعی نے مطالبہ کیا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کو تلاش کرکے قانون کے مطابق گرفتار کیا جائے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ وائرل ویڈیو کی چھان بین کا عمل جاری ہے اور اس میں شامل افراد کی شناخت کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

  • اڈیالہ جیل کا سزا یافتہ قیدی ہسپتال سے فرار

    اڈیالہ جیل کا سزا یافتہ قیدی ہسپتال سے فرار

    راولپنڈی: اڈیالہ جیل سے علاج کے لیے بینظیر بھٹو اسپتال منتقل کیا گیا ایک سزا یافتہ قیدی اسپتال سے فرار ہوگیا، جس کے بعد پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    پولیس حکام کے مطابق فرار ہونے والا قیدی جمیل منشیات کے مقدمے میں گرفتار اور عدالت سے سزا یافتہ تھا۔ اسے علاج کی غرض سے اڈیالہ جیل سے بینظیر بھٹو اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں سے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔پولیس نے واقعے کا مقدمہ تھانہ وارث خان میں درج کر لیا ہے۔ مقدمے میں ڈیوٹی پر تعینات اے ایس آئی عمران احمد اور کانسٹیبل قمر علی کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔مقدمے کے متن کے مطابق قیدی جمیل کو اس کا بیٹا عدنان اور ایک نامعلوم شخص وہیل چیئر پر وارڈ سے باہر لے گئے، جہاں سے اسے ایک گاڑی میں بٹھا کر فرار کروا دیا گیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے مجرم کو منشیات اسمگلنگ کا جرم ثابت ہونے پر عدالت نے 9 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

  • اربوں کے ٹراما سینٹر کا انتظار چھوڑیں، ٹی ایچ کیو کی اپ گریڈیشن ہی سستا اور فوری حل

    اربوں کے ٹراما سینٹر کا انتظار چھوڑیں، ٹی ایچ کیو کی اپ گریڈیشن ہی سستا اور فوری حل

    جی ٹی روڈ پر سسکتی زندگیوں کو ٹراما سینٹر نہیں، ہسپتال میں عملہ اور مشینری چاہیے نمائندگان خواب غفلت سے جاگیں
    ریفر کا ڈیتھ وارنٹ ختم کریں سی ایم پنجاب سے امیدِ سحر ہسپتال کی اپ گریڈیشن سیاسی وعدہ نہیں زندگی اور موت کا مسلہ بن گیا
    گوجرخان (قمرشہزاد)تحصیل گوجرخان کے لاکھوں عوام کے لیے صحت کی سہولیات کا حصول ایک ایسا خواب بن چکا ہے جس کی تعبیر حکومتی فائلوں میں گم ہے۔ جی ٹی روڈ پر واقع تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اس وقت شدید بحران کا شکار ہے، جہاں علاج کے نام پر مریضوں کو صرف ریفرل سلپ تھما دینا ڈاکٹرز کی مجبوری ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت کو ایک حقیقت پسندانہ تجویز دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اربوں روپے کے بجٹ کے محتاج ٹراما سینٹر کے فنکسنل ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے، اگر موجودہ ہسپتال کو ہی اپ گریڈ کر دیا جائے تو قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔ اہلیانِ گوجرخان کا کہنا ہے کہ ٹراما سینٹر کو فعال کرنے کے لیے جس خطیر رقم اور طویل وقت کی ضرورت ہے، وہ شاید موجودہ معاشی حالات میں ممکن نہیں۔ لیکن اگر حکومت موجودہ ٹی ایچ کیو ہسپتال میں ریڈیالوجسٹ، ایکسرے ٹیکنیشن اور نیورو سرجن کی خالی آسامیاں پر کر دے، اور ساتھ آئی سی یو، وینٹی لیٹر اور بچوں کی نرسری جیسی بنیادی سہولیات فراہم کر دی جائیں، تو ٹراما سینٹر کی ضرورت خود بخود ختم ہو جائے گی۔ ہسپتال کے انتظامی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے شہریوں نے بتایا کہ 2010 کے بعد سے لیبارٹری کے عملے میں ایک بھی اہلکار کا اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ کام کا بوجھ کئی سو گنا بڑھ چکا ہے۔ ہسپتال کے پاس وسیع و عریض رقبہ موجود ہے، جہاں نئی عمارتوں کی گنجائش بھی ہے، مگر ضرورت صرف منتخب عوامی نمائندوں کے اخلاص اور مخلصانہ کوششوں کی ہے۔ اگر ہمارے نمائندے ایوانوں میں آواز اٹھائیں تو ریفرل کے چکر میں راستے میں دم توڑنے والے مریضوں کے لواحقین کی بددعاؤں سے بچا جا سکتا ہے۔ گوجرخان کے باشعور شہریوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گوجرخان کو ضلع بنانے یا ٹراما سینٹر کے بڑے بجٹ جیسے طویل منصوبوں کے بجائے، فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کی اپ گریڈیشن کے لیے فنڈز جاری کریں۔ ہسپتال میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تعیناتی اور لیب کی جدید کاری سے نہ صرف جی ٹی روڈ کے حادثات میں زخمی ہونے والوں کو فوری طبی امداد ملے گی، بلکہ زچہ و بچہ کو بھی راولپنڈی کے ہسپتالوں کے دھکے نہیں کھانے پڑیں گے۔ اب گیند حکومت اور مقامی سیاستدانوں کے کورٹ میں ہے۔ کیا وہ محض سیاسی نعروں سے عوام کو بہلاتے رہیں گے یا واقعی ہسپتال کی اپ گریڈیشن کر کے گوجرخان کے عوام کے ساتھ اپنی محبت کا ثبوت دیں گے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب گوجرخان کا ہر شہری ڈھونڈ رہا ہے۔

  • پانی  بحران ختم کرنا اولین ترجیح غفلت برتنے والے اہلکار گھر جائیں گے،غلام قمر وڑائچ

    پانی بحران ختم کرنا اولین ترجیح غفلت برتنے والے اہلکار گھر جائیں گے،غلام قمر وڑائچ

    ٹیوب ویلز کی مانیٹرنگ اور وال مینوں کی حاضری یقینی بنانے کے لیے سرپرائز چیکنگ کا فیصلہ، ڈیوٹی سے غائب ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ
    شہریوں کو شدید گرمی میں پانی کی بلاتعطل فراہمی کے لیے خود فیلڈ میں رہوں گا سرکاری وسائل کا ضیاع برداشت نہیں کیا جائے گا، غلام قمر وڑائچ
    گوجرخان (قمر شہزاد) نو تعینات چیف آفیسر بلدیہ گوجرخان غلام قمر وڑائچ نے چارج سنبھالتے ہی شہر میں پانی کے سنگین بحران اور فنی خرابیوں کا نوٹس لیتے ہوئے ہنگامی اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور کرنا ان کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ سی او بلدیہ نے انکشاف کیا کہ شہر میں اکثر موٹریں جلنے کی بڑی وجہ متعلقہ عملے کی لاپرواہی ہے اہلکار موٹر چلا کر یا وال کھول کر غائب ہو جاتے ہیں جس سے نہ صرف سرکاری مشینری کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ عوام بھی پانی کی بوند بوند کو ترس جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب تمام ٹیوب ویلز کی کڑی مانیٹرنگ کی جائے گی اور وال مینوں کی ڈیوٹی کے اوقات میں موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے وہ خود کسی بھی وقت سرپرائز چیکنگ کریں گے۔ غلام قمر وڑائچ کا مزید کہنا تھا کہ مجھے چارج لیے ابھی تھوڑا وقت ہوا ہے لیکن میں نے عوامی مسائل کا ادراک کر لیا ہے۔ شدید گرمی کے اس موسم میں تمام وارڈز میں مساوی اور بلاتعطل پانی پہنچانا میرا مشن ہے۔ انہوں نے شہریوں کو یقین دلایا کہ پانی کی فراہمی کے نظام کو مرحلہ وار بہتر بنایا جا رہا ہے اور جو بھی سرکاری ملازم اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر پایا گیا، اس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ جلد ہی شہر کو پانی کے بحران سے نکال کر عوام کو ریلیف فراہم کریں گے۔