Baaghi TV

Category: راولپنڈی

  • آپریشن شعبان: مزید 5 خارجی دہشتگرد ہلاک،تعداد 95 ہو گئی

    آپریشن شعبان: مزید 5 خارجی دہشتگرد ہلاک،تعداد 95 ہو گئی

    پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کے مشترکہ آپریشن شعبان کے نتیجے میں مزید 5 خارجی دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کی فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کیخلاف موثر کارروائیاں جاری ہیں بلوچستان کے پہاڑوں میں چھپے خارجیوں کو فضائی اور زمینی کارروائی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، آپریشن شعبان میں ہلاک خارجی دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 57 ہو گئی 5 جولائی سے اب تک آپریشن شعبان اور دیگرکارروائیو ں میں 95 خارجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے آخری دہشتگرد کے خاتمے تک بلوچستان میں آپریشن شعبان جاری رکھنے کا اعلا ن کیا ہے۔

    گزشتہ روز سکیورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 17 دہشتگرد ہلاک کیے گئے، ذرائع کے مطابق 6 اور 7 جولائی کو بھی مختلف کاررو ائیو ں میں 26 دہشتگرد ہلاک کیے گئے تھے، جس سے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو نمایاں نقصان پہنچا آپریشن میں جدید انٹیلی جنس، فضائی نگرانی اور زمینی دستو ں کی مشترکہ حکمت عملی کے تحت کارروائیاں کی گئیں۔ پہاڑی علاقوں میں دہشتگردوں کے ممکنہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

    گزشتہ روز خضدار کے زیدی علاقے میں دہشتگردوں کی جانب سے پولیس اسٹیشن پر کیے گئے حملے کو بھی سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا تھا-

  • حوالدار لالک جان شہید نشان حیدر کا 27 واں یوم شہادت، پاک فوج کا خراجِ عقیدت

    حوالدار لالک جان شہید نشان حیدر کا 27 واں یوم شہادت، پاک فوج کا خراجِ عقیدت

    حوالدار لالک جان شہید نشان حیدر کی آج 27 ویں برسی منائی جارہی ہے۔

    حوالدار لالک جان شہید کی 27 ویں برسی کے موقع پر شہید کے مزار پر پر وقار تقریب منعقد ہوئی جس میں پاک فوج کے چاک و چوبند دستے کی جانب سے سلامی پیش کی گئی مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے مطابق برسی کے موقع پر افواج پاکستان، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف، چیف آف ایئر سٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور پاکستان کی مسلح افواج نے حوالدار لالک جان شہید کے یومِ شہادت پر انہیں انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

    7 جولائی 1999 کو کارگل کے معرکے کے دوران حوالدار لالک جان شہید نے دشمن کے مسلسل حملوں کے باوجود اپنی چوکی کا جرات و استقامت سے دفاع کیا اور شدید زخمی ہونے کے باوجود حوالدار لالک جان نے انخلا سے انکار کیاآخری سانس تک اپنے ساتھیوں کی قیادت کرتے ہوئے لالک جان نے دشمن کا مقابلہ کیا اور جام شہادت نوش کیاحوالدار لالک جان شہید کی لازوال قربانی بہادری، ثابت قدمی اور بے لوث خدمت کی روشن علامت ہے۔

    صدر آصف علی زرداری نے نشانِ حیدر پانے والے حوالدار لالک جان شہید کے یومِ شہادت پر ان کی عظیم قربانی اور بہادری کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے کہا کہ شہداء کا خون پاکستان کے محفوظ، مضبوط اور باوقار مستقبل کی ضمانت ہےشہداء کی عظیم روایات ہماری قومی شناخت کا ایک قابلِ فخر اثاثہ ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ قوم اپنے شہداء کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ عزت، احترام اور فخر کے ساتھ یاد رکھے گی۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی حوالدار لالک جان شہید کو ان کے یومِ شہادت پر زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ کارگل کے معرکے میں حوالدار لالک جان شہید کی شجاعت، بہادری اور وطن کے دفاع کے لیے دی جانے والی عظیم قربانی پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود دشمن کے سامنے ڈٹے رہنا ان کے بے مثال جذبۂ حب الوطنی کا ثبوت ہےقوم اپنے اس عظیم سپوت اور تمام شہدائے پاکستان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔

  • گوجر خان،مون سون سے قبل نالوں کی ابتر صورتحال، بڑے سانحے  کا خطرہ

    گوجر خان،مون سون سے قبل نالوں کی ابتر صورتحال، بڑے سانحے کا خطرہ

    مون سون سے قبل نالوں کی ابتر صورتحال بڑے سانحے اور آبادی کے شدید نقصان کا خطرہ
    96 لاکھ کا ٹھیکہ صرف فوٹو سیشن نکلا سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر نے بلدیہ اور ٹھیکیدار کے مبینہ گٹھ جوڑ کا بھانڈا پھوڑ دیا
    شہریوں کا وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر بلدیاتی فنڈز کا فوری آڈٹ اور ہائی پروفائل انکوائری عمل میں لائی جائے

    گوجرخان (قمرشہزاد) بلدیہ گوجرخان کی نااہلی، غفلت اور کرپشن کی مبینہ داستانیں ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔ مون سون کا سیزن سر پر ہے، مگر شہر کے مین نالے کی تباہ کن حالت زار کسی بھی وقت بڑے جانی و مالی سانحے کا موجب اور مقامی آبادی کے لیے ہولناک نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ سابق سی او بلدیہ کے دور میں چند ماہ قبل اس مین نالے کی صفائی کے نام پر 96 لاکھ روپے کا جو بھاری ٹھیکہ دیا گیا تھا، وہ زمینی حقائق کے بجائے صرف مبینہ کاغذی کارروائیوں اور فوٹو سیشن تک محدود نکلا ہے۔ سوشل میڈیا پر شہریوں کی جانب سے جاری کردہ نالے کی تازہ ترین ہولناک تصاویر نے صفائی کے تمام سرکاری دعووں کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ گزشتہ دنوں ہونے والی بارش نے بلدیہ کے بلند و بانگ دعووں کا جنازہ نکال دیا تھا، جب سٹی نالوں کے لیے مختص 60 لاکھ روپے کے فنڈز کے باوجود سروس روڈز، تجارتی مراکز اور گلی محلوں کے نالے ابل پڑے تھے جس سے بازار گلیاں محلے ندی کے مناظر پیش کر رہے تھے۔ وائرل تصاویر سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مین نالا کچرے اور گاد سے اٹا پڑا ہے، جو بلدیہ حکام اور ٹھیکیدار کی مبینہ ملی بھگت اور عوامی ٹیکس کے پیسوں پر ڈاکے کی واضح تصویر ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مون سون کی ہولناک بارشوں میں یہ نالا پورے شہر کو ڈبو سکتا ہے اور کسی بڑے حادثے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری بلدیہ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ شہریوں اور تاجر برادری نے اس شدید ترین سنگین صورتحال پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور اینٹی کرپشن حکام سے فوری ہائی پروفائل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ عوام کا دوٹوک مؤقف ہے کہ بلدیہ گوجرخان کے تمام جاری فنڈز اور ٹھیکوں کا فوری فارنزک آڈٹ کروایا جائے، سرکاری خزانے کو مبینہ طور پر کھو کھاتے میں ڈالنے والے لٹیروں کا کڑا احتساب کیا جائے اور عوام کے پیسے کا ضیاع کسی صورت برداشت نہ کیا جائے۔

  • گوجرخان بجلی گیس اور پانی نایاب ہسپتال علاج کے نام پر ذلت گاہ عوامی نمائندے تماشائی

    گوجرخان بجلی گیس اور پانی نایاب ہسپتال علاج کے نام پر ذلت گاہ عوامی نمائندے تماشائی

    بجلی کے بھاری بھرکم بلوں کے باوجود رات بھر قہر ڈھاتی گرمی میں فورسڈ لوڈشیڈنگ سے معصوم بچوں بزرگوں اور مریضوں کا جینا محال
    خود ساختہ مہنگائی اور ایل پی جی مافیا کی لوٹ مار عروج پر عوام دورِ جدید میں بھی پتھر کے زمانے کی زندگی گزارنے پر مجبور
    گوجرخان (قمرشہزاد) جدید دور کا پسماندہ ترین خطہ، گوجرخان مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے جہاں بنیادی انسانی ضرورتیں بھی خواب بن کر رہ گئی ہیں۔ واپڈا کی جانب سے رات کے وقت کی جانے والی بدترین اور غیر اعلانیہ فورسڈ لوڈشیڈنگ نے شدید حبس، گھٹن اور قہر ڈھاتی گرمی میں شہریوں سے راتوں کا سکون چھین لیا ہے۔ معصوم بچے، بوڑھے اور تڑپتے ہوئے مریض رات بھر بستروں پر تڑپنے پر مجبور ہیں، جبکہ دوسری جانب بھاری بھرکم بجلی کے بل غریب عوام کی کھال اتار رہے ہیں۔ بجلی غائب تو گیس بھی ناپید ہو چکی ہے، اور رہی سہی کسر پانی کے شدید بحران نے پوری کر دی ہے جہاں سرکاری پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کو عوام ترس چکے ہیں۔ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرخان شفاخانے کے بجائے ذلت اور رسوائی کا گڑھ بن چکا ہے، جہاں علاج معالجے کی بنیادی سہولیات تک دستیاب نہیں اور مریض سسکتے ہوئے دم توڑنے پر مجبور ہیں۔ جبکہ دوسری جانب ایل پی جی مافیا نے اوگرا کے سرکاری نوٹیفیکیشن کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے اور غریب شہری مہنگے داموں سلنڈر خریدنے پر مجبور ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات میں نمایاں کمی کے باوجود اشیائے خوردونوش، پھلوں اور سبزیوں، بیف، مٹن، چکن کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں، عوامی جیبوں پر ڈاکا ڈالنے کے لیے لینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں مبینہ کرپشن کا ناسور عروج پر ہے، جہاں رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ ان تمام روح فرسا مسائل، لٹتے ہوئے عوام اور سسکتی ہوئی زندگیوں کے باوجود مقامی سیاسی رہنماؤں کی مجرمانہ چشم پوشی اور عدم دلچسپی حکومتی ایوانوں پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ عوامی مینڈیٹ لے کر اسمبلیوں کی زینت بننے والے نمائندے آج اسمبلی فلورز پر گوجرخان کی آواز اٹھانے سے بالکل قاصر ہیں اور اہلیانِ گوجرخان اس بدترین دور میں بے یار و مددگار کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔ حکومتِ وقت اور اعلیٰ حکام فوری طور پر اس ظلم کا نوٹس لیں، ورنہ عوامی صبر کا پیمانہ لبریز ہونے پر لگنے والی آگ ایوانوں تک پہنچ جائے گی۔

  • کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی 27ویں برسی، مسلح افواج کا شاندار خراجِ عقیدت

    کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی 27ویں برسی، مسلح افواج کا شاندار خراجِ عقیدت

    پاک فوج نے نشانِ حیدر پانے والے کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی 27ویں برسی کے موقع پر انہیں شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے-

    آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز، چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف، چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور پاکستان کی مسلح افواج نے کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی 27ویں برسی پر ان کی لازوال خدمات اور قربانی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 1999 کی کارگل جنگ کے دوران کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے دشمن کے شدید دباؤ کے باوجود غیر معمولی بہادری، جرات اور قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے مادرِ وطن کا دفاع کیا،انہوں نے اگلے مورچوں پر رہ کر اپنے ساتھیوں کی قیادت کی اور پاک فوج کی اعلیٰ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیاکیپٹن کرنل شیر خان شہید کی عظیم قربانی آج بھی پاکستانی قوم کے لیے جرات، حب الوطنی اور وطن کے دفاع کے غیر متزلزل عزم کی علامت ہے، ان کی قربانی آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔

    مسلح افواج نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے جن اعلیٰ قومی اقدار اور نظریات کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، ان کی حفاظت اور پاسداری ہر قیمت پر جاری رکھی جائے گی، جبکہ ان کی لازوال قربانی ہمیشہ قومی تاریخ کا روشن باب رہے گی۔

  • قانون کا بلڈوزر صرف غریب کے کھوکھے پر کیوں،عوامی حلقوں کا تشویش کا اظہار

    قانون کا بلڈوزر صرف غریب کے کھوکھے پر کیوں،عوامی حلقوں کا تشویش کا اظہار

    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان میں ترقیاتی منصوبوں اور انڈر پاسز کی تعمیر کے نام پر انتظامیہ کی جانب سے حالیہ کارروائی نے قانون کے یکساں نفاذ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سروس روڈ اور کھوکھا بازار میں غریب ریڑھی بانوں اور دکانداروں کے روزگار کو سیکنڈوں میں مسمار کر دیا گیا، اور قومی خزانے سے بنی سرکاری املاک پر بھی بلڈوزر چلا دیا گیا۔ تاہم، ذرائع کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان خضر ظہور گورائیہ کے آفس میں آج ہونے والی حالیہ میٹنگ نے انتظامیہ کے دہرے معیار کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک طرف غریب کا چولہا اجاڑ دیا گیا، تو دوسری طرف بااثر نجی بلڈنگ مالکان اور تاجروں کو یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ ان کے نشان زدہ انفراسٹرکچر کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

    شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ کھلا دوہرا معیار ناقابل قبول ہے۔ اگر قانون غریب کے کھوکھے اور سرکاری املاک کے لیے سخت ہو سکتا ہے، تو بااثر نجی املاک کے سامنے بے بس کیوں دکھائی دیتا ہے؟ انصاف کا تقاضا ہے کہ تجاوزات اور ترقیاتی کاموں کے نام پر آپریشن بلاامتیاز ہونا چاہیے، نہ کہ صرف کمزور کو نشانہ بنا کر اشرافیہ کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

  • پاک فوج نے افغان طالبان کے 4 ڈرون مار گرائے ، آئی ایس پی آر

    پاک فوج نے افغان طالبان کے 4 ڈرون مار گرائے ، آئی ایس پی آر

    آئی ایس پی آر کے مطابق افغان طالبان حکومت کی جانب سے بلوچستان میں سرحد پار ڈرون پروازوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغانستان سے آنے والے 4 ڈرونز مار گرائے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغان طالبان رجیم نے 30 جون کو بلوچستان کی سرحد پر 4 ڈرونز بھیجے، افغان طالبان رجیم نےاپنے زیرِکنٹرول علاقوں سےسرگرم دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی میں یہ ڈرونز پاکستان بھیجے،پاکستان کا فضائی دفاعی نیٹ ورک متحرک ہے، مؤثرجوابی کارروائی کے نتیجے میں ڈرونز مار گرائے سکیورٹی فورسز نے چاروں آنے والے ڈرونز کو کامیابی سے ناکارہ بنا دیا پاکستان کے مضبوط فضائی دفاعی نظام نے تمام ڈرونز کی فوری نشاندہی کی اور مار گرایا، سکیورٹی فورسز نے جدید دفاعی نظام کے ذریعے چاروں ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کردیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اعلیٰ پیشہ ورانہ تیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے تمام مذموم عزائم ناکام بنا دیے، افغان طالبان کے ہتھکنڈے افغان عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ہیں، افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی سرپرستی ترک کرے،افغان طالبان کا غیرذمہ دارانہ طرزِ عمل افغان عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہاہے، افغان طالبان کو پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں خبردار کیا گیا کہ افغان طالبان نے پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری رکھا تو انہیں ایسا مؤثر جواب دیا جائے گا جس کی بھاری قیمت چکانا پڑےگی پاکستان کی مسلح افواج ہر وقت مکمل طور پر چوکس ہیں، مسلح افواج وطنِ عزیز کے ایک ایک انچ کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، سرحد پارکسی بھی جارحیت کا آپریشن غضبُ الحق کے تحت فوری، فیصلہ کن اور بھرپورجواب دیا جاتا رہے گا۔

  • گوجرخان،لاکھوں کی آبادی کی واحد علاج گاہ ریڈیالوجسٹ سے محروم

    گوجرخان،لاکھوں کی آبادی کی واحد علاج گاہ ریڈیالوجسٹ سے محروم

    سرجن موجود الٹراساؤنڈ بند، زچہ بچہ و ایمرجنسی کے مریض نجی ہسپتالوں کے رحم و کرم پر ہیلتھ حکام کی ہٹ دھرمی پر کئی سوالات کھڑے ہو گے
    کروڑوں کی مشینیں دھول چاٹنے لگیں سی ایم کے ہیلتھ ویژن کو مقامی نمائندوں کا تمانچہ لاکھوں کی تحصیل کا بڑا ہسپتال ایکسرے ٹیکنیشن کو ترس گیا
    گوجرخان (قمرشہزاد) تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوجرخان حکام بالا کی عدم توجہی، چشم پوشی اور مقامی منتخب نمائندوں کی مبینہ ہٹ دھرمی کے باعث سفید ہاتھی بن گیا۔ لاکھوں کی آبادی کے حامل اس علاقے کی سب سے بڑی سرکاری علاج گاہ میں ریڈیالوجسٹ اور ایکسرے ٹیکنیشن کی آسامیاں عرصہ دراز سے خالی پڑی ہیں، جس کے نتیجے میں کروڑوں روپے مالیت کا الٹراساؤنڈ ڈیپارٹمنٹ اور جدید مشینری بند پڑی دھول چاٹ رہی ہے۔ شعبہ صحت کے اعلیٰ حکام، وزیر صحت اور سیکریٹری ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو بارہا اس دیرینہ مسئلے کی طرف متوجہ کیا گیا، مگر افسوس کہ اربابِ اختیار کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ مقامی شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس صورتحال کو حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں سرجن ڈاکٹرز تو موجود ہیں، لیکن الٹراساؤنڈ کی سہولت نہ ہونے کے باعث معدے، گردے، پتے کی پتھری اور ہرنیا کے مریض رُل گئے ہیں۔ سب سے زیادہ ابتر صورتحال گائنی زچہ و بچہ کے شعبے کی ہے، جہاں غریب حاملہ خواتین کو بڑے الٹرساونڈ کے لیے نجی ہسپتالوں اور نجی تشخیصی مراکز کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ نجی ہسپتالوں کی چاندی ہو چکی ہے اور وہ غریب مریضوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ شہریوں نے مقامی اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان نمائندوں کو عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ ایک طرف وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صوبے میں ہیلتھ ریفارمز کے دعوے کر رہی ہیں، تو دوسری طرف گوجرخان کے منتخب نمائندے اس اہم ترین مسئلے پر اسمبلی فلور پر آواز اٹھانے سے بھی قاصر ہیں۔ کیا یہ عوامی نمائندے وزیر اعلیٰ کے ویژن کو سبوتاژ کر رہے ہیں یا پھر غریب عوام کو ذلیل و خوار ہوتا دیکھنا ان کا مشغلہ بن چکا ہے؟ طبی سہولیات کے اس فقدان نے لڑائی جھگڑوں کے کیسز میں میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ (MLC) کی رپورٹ حاصل کرنے والے سائلین کو بھی در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ مہنگائی کے اس پپسے ہوئے دور میں نجی ہسپتالوں کے بھاری اخراجات اٹھانا غریب عوام کے بس سے باہر ہو چکا ہے۔ گوجرخان کے شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، صوبائی وزیر صحت اور سیکریٹری صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مجرمانہ غفلت کا فوری نوٹس لیا جائے، ہسپتال میں ریڈیالوجسٹ اور ایکسرے ٹیکنیشن کی فوری تعیناتی کر کے الٹراساؤنڈ شعبے کو ہنگامی بنیادوں پر فعال کیا جائے تاکہ عوام کو نجی مافیا کے چنگل سے نجات مل سکے۔

  • شدید گرمی حبس میں واپڈا کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ گوجرخان جہنم زار بن گیا

    شدید گرمی حبس میں واپڈا کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ گوجرخان جہنم زار بن گیا

    کمر توڑ بلز اور رنگ برنگے ٹیکسز کی بھرمار، بجلی غائب شہریوں کا حکومت سے مستعفی ہونے اور واپڈا کو چائنہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ
    عوام کا خون پسینے کا پیسہ اور حکمرانوں کی عیاشیاں راتوں کا سکون غارت ہونے پر عوامی صبر کا پیمانہ لبریز، شہریوں میں شدید غم و غصہ
    گوجرخان (قمرشہزاد) جھلساتی ہوئی شدید گرمی، سوا نیزے پر چمکتا ہوا سورج اور دم گھٹتا ہوا حبس ان انتہائی کٹھن حالات میں بھی محکمہ واپڈا نے عوام پر رحم کھانے کے بجائے فورسڈ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ دراز کر کے شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ گوجرخان اور اس کے گردونواح میں دن اور رات کے چوبیس گھنٹوں میں کئی کئی گھنٹوں کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ اب ایک معمول بن چکی ہے، جس نے معصوم بچوں، بیمار بوڑھوں اور خواتین کو جیتے جی مصلوب کر دیا ہے۔ ایک طرف کمر توڑ مہنگائی نے غریب کا جینا دوبھر کر رکھا ہے، تو دوسری طرف محکمہ واپڈا نے بجلی کے بلوں میں رنگ برنگے ٹیکسز کی بھرمار، ظالمانہ سلیب سسٹم کے نفاذ اور دنیا کی مہنگی ترین بجلی کے یونٹس فروخت کرنے کے باوجود صارفین کو بلاتعطل بجلی فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکامی کا اعتراف کر لیا ہے۔ اس ابتر صورتحال پر گوجرخان کے شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واپڈا نے ہمارا جینا محال کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ نہ دن کو سکون ہے اور نہ رات کو چین۔ قدرت نے رات آرام کے لیے بنائی تھی، مگر واپڈا کی سفاکانہ لوڈشیڈنگ نے راتوں کا سکون بھی غارت کر دیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے بھاری بھرکم بلز اور ٹیکسز باقاعدگی سے وصول کرنے کے باوجود بجلی فراہم نہ کرنا اور ہر بار شارٹ فال کا راگ الاپنا سمجھ سے بالاتر اور سراسر دھوکہ دہی ہے۔ شہریوں نے واپڈا کی نااہلی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے دوٹوک مطالبہ کیا ہے کہ اگر یہ سفید ہاتھی عوام کو بجلی فراہم نہیں کر سکتا تو اس محکمے کو فوری طور پر چائنہ کے سپرد، آؤٹ سورس کر دیا جائے تاکہ عوام کو اس ذہنی اور جسمانی عذاب سے نجات مل سکے۔حکمران طبقے کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے گوجرخان کے غیور شہریوں نے کہا کہ اگر آپ لوگ عوام کو بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں کر سکتے، تو آپ کو عوام پر حکمرانی کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ عوام کے خون پسینے کے ٹیکسوں پر پلنے والے اور شاہانہ مراعات حاصل کرنے والے طبقے کو تڑپتی ہوئی عوام، بلکتے ہوئے معصوم بچوں اور بسترِ مرگ پر پڑے مریضوں کی تکلیف کا ذرا برابر بھی احساس نہیں ہے۔ شہریوں نے مقتدر حلقوں کو وارننگ دی ہے کہ اگر فورسڈ لوڈشیڈنگ کا یہ ظالمانہ سلسلہ فوری بند نہ کیا گیا تو عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری حکام بالا پر ہو گی۔

  • گوجرخان، پانی کا بحران ختم کرنے کے لیے نئے ٹیوب ویل کی تنصیب کا کام جاری

    گوجرخان، پانی کا بحران ختم کرنے کے لیے نئے ٹیوب ویل کی تنصیب کا کام جاری

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے تحت بلدیہ گوجرخان میں اوپن ڈور پالیسی نافذ، جائز کام بغیر سفارش کرنے کی ہدایات
    مون سون سے قبل نالوں کی صفائی کا آغاز تاجر اور شہری کچرا نالوں میں پھینکنے کے بجائے کوڑے دان استعمال کریں، غلام قمر وڑائچ
    گوجرخان (قمرشہزاد)وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ستھرا پنجاب اور عوامی خدمت کے ویژن پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان خضر ظہور گورائیہ اور چیف آفیسر بلدیہ غلام قمر وڑائچ نے شہریوں کے مسائل کے فوری حل کے لیے کمر کس لی ہے۔ شہر میں بلاتفریق عوامی ریلیف کی فراہمی کے لیے بلدیہ گوجرخان میں ‘اوپن ڈور پالیسی’ نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت ہر شہری کا جائز کام کسی بھی سفارش کے بغیر ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے گا۔میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سی او بلدیہ غلام قمر وڑائچ نے بتایا کہ شہر میں پینے کے پانی کے بحران پر قابو پانا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ اس سلسلے میں معروف سماجی شخصیت خالد شیشے والے کے تعاون سے وارڈ نمبر 19 میں ٹیوب ویل کے لیے جگہ حاصل کر لی گئی ہے، جہاں نئے ٹیوب ویل کی تنصیب کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی شہر بھر میں پانی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے خراب اور لیک ہونے والے واٹر والز کی مرمت کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کر دیا گیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پانی چوروں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ شہر میں پانی کے غیر قانونی کنکشنز کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے اب تک سینکڑوں غیر قانونی کنکشن منقطع کیے جا چکے ہیں، جبکہ ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔سی او بلدیہ نے مزید بتایا کہ تاجر برادری کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کر کے ان کے کاروباری مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ مون سون کے آئندہ سیزن کے پیش نظر شہر کے تجارتی مراکز سمیت تمام چھوٹے بڑے نالوں کی مرحلہ وار صفائی کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے تاکہ بارشوں کے دوران ندی نالوں میں طغیانی یا گلیوں میں پانی جمع ہونے کا خطرہ نہ رہے۔غلام قمر وڑائچ نے شہریوں اور تاجر برادری کے نام ایک اہم پیغام میں اپیل کی کہ وہ شاپر بیگز اور دیگر کچرا نالوں یا کھلی جگہوں پر پھینکنے سے مکمل گریز کریں۔ انہوں نے تاکید کی کہ دکاندار اپنی دکانوں کے اندر کوڑے دان کا استعمال یقینی بنائیں اور سارا کچرا ‘ستھرا پنجاب’ کے صفائی ورکرز کے حوالے کریں یا مخصوص ڈمپنگ پوائنٹس پر ڈالیں، تاکہ گوجرخان کو ایک خوبصورت اور مثالی شہر بنایا جا سکے۔