ساہیوال:پرنٹ میڈیا ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام مرحوم صحافی حضرات و ممبران پریس کلب کی یاد میں ”ہم لوگ ہیں یادگار“ سیمینار آج 4اگست کو منعقد ہوگا-سیمینار صبح ساڑھے 10بجے مجید امجد ہال آرٹس کونسل ساہیوال میں ہو گا جس کی صدارت ڈائریکٹر انفارمیشن محمد عقیل اشفاق کریں گے جبکہ مہمان خصوصی ڈائریکٹر ساہیوال آرٹس کونسل ڈاکٹر ریاض ہمدانی ہونگے- صدر پرنٹ میڈیا ایسوسی ایشن رانا وحید نے کہا کہ سیمینار کا مقصد ہم سے بچھڑ جانے والے صحافی بھائیوں کی شعبہ صحافت میں نمایاں خدمات کو سراہنا ہے-انہوں نے مزید کہا کہ پرویز طاہر خان،مرزا محمد علی انور،سجاد سرور عبداللہ،سید راغب علی شاہ،خالد محمود بٹ،ایم اے اشرف،رائے پرویز کھرل،اے ڈی اعجاز،عمران خان نیازی،اعجاز کھرل،عمر عبداللہ خان اور مرزا اشفاق جیسے نامور صحافیوں کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا-
Category: ساہیوال

ساہیوال:عیدالاضحیٰ اور یوم آزادی،کمشنر نے کیے اہم فیصلے
ساہیوال:کمشنر ساہیوال ڈویژن ندیم الرحمن نے کہا ہے کہ عید الاضحی اور یوم آزادی کے مبارک دنوں میں عوام کے جان ومال کی حفاظت،صفائی کو بہترین بنانے اور جانوروں کی آلائشوں کو فوری ٹھکانے لگانے کے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں اور متعلقہ ادارے کسی بھی عوامی شکایت پر فوری کارروائی کریں گے،انہوں نے یہ بات اپنے دفتر میں عیدالاضحیٰ اور یوم آزادی کے دوران سیکیورٹی اور صفائی کے حوالے سے ہونے والے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی جس میں تینوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز محمد زمان وٹو،احمد کمال مان اور مریم خان،ایڈیشنل کمشنر ایس ڈی خالد،ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ قاری خالد نذیر اور ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر صادق سلیم کے علاوہ متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی-انہوں نے کہا کہ عیدالاضحی کے موقع پر تمام عید گاہوں کے گرد صفائی اور سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرلیے گئے ہیں اور اس سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی-انہوں نے میونسپل اداروں کے افسران کو ہدایت کی کہ قربانی کی آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کے لئے ترتیب شدہ پلان کو جلد ازجلد حتمی شکل دی جائے تاکہ آلائشوں کو فوری اٹھایا جا سکے-کمشنر ندیم الرحمن نے صفائی سے متعلقہ عوامی شکایات پر فوری ایکشن لینے کی بھی ہدایت کی-انہوں نے ڈائریکٹر ہیلتھ کو ہدایت کی کہ تمام ہسپتالوں اور مراکز صحت پر ڈاکٹروں کی خصوصی ڈیوٹیاں لگائی جائیں اور خصوصی بیڈز بھی مختص کئے جائیں-انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور دوسرے افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ دونوں دنوں کے لئے جن سرکاری ملازمین کی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں ان کی حاضری کو سو فیصد یقینی بنایا جائے جبکہ ون ویلنگ کی روک تھام اور گاڑیوں کی مناسب پارکنگ پر بھی توجہ دی جائے-انہوں نے یوم آزادی کو قومی جوش و جذبے سے منانے کے لئے انتظامات کو حتمی شکل دینے کی بھی خصوصی ہدایت کی۔

ساہیوال:ناشتہ کرتے ہی متعدد افراد کی حالت غیر ہوگئی،کھانے میں ایسا کیا تھا؟
ساہیوال:شہر کے معروف مقام باہر والا اڈہ پر ایک سٹال سے ناشتہ کرتے ہی متعدد افراد کی حالت غیر ہوگئی،متائثرہ افراد قے کرنے لگے اور ان پر بے ہوشی طاری ہونا شروع ہوگئی،ریسکیو 1122 نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے متائثرین کو طبی امداد دی اور ہسپتال منتقل کیا،تفصیلات کے مطابق ساہیوال میں باہر والا اڈا کے مقام پر مسافروں نے ایک سٹال سے ناشتہ کیا لیکن جوں ہی وہ نوالے حلق سے اتارتے گئے ان کی حالت غیر ہونا شروع ہوگئی،سٹال پر موجود کھانے کو چیک کیا گیا تو اس میں سے چھپکلی برآمد ہوئی،تاہم ریسکیو1122نے فوری اور بروقت امدادی آپریشن کرتے ہوئے انہیں ابتدائی طبی امداد مہیا کی اور مریضوں کو ہسپتال منتقل کیا،ہسپتال منتقل کیے جانے والے گیارہ افراد میں سے 9 متائثرین کو ضروری علاج معالجے کے بعد ڈسچارج کردیا گیا جبکہ دو افراد کی حالت زیادہ خراب ہونے کی بنا پر ان کو روک لیا گیا تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے،
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی سمیت دیگر ادارے محض فوٹو سیشن تک محدود ہیں جبکہ شہر میں جابجا مضر صحت کھانا اور ناقص گوشت سرعام فروخت ہورہا ہے،دوسری طرف ڈپٹی کمشنر محمد زمان وٹو کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی کو تمام فوڈ پوائنٹس اور کھانے کی ریڑھیوں کی سخت چیکنگ کرنے کی ہدایات کردی گئیں ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچا جاسکے
ساہیوال:دو خواجہ سرا قتل،گھر سے بدبو آنے پر ہوا انکشاف،پولیس
صوبہ پنجاب کے ضلع ساہیوال میں 2 خواجہ سراؤں کو قتل کر دیا گیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب کے ضلع ساہیوال میں دو خواجہ سراؤں کو قتل کر دیا گیا ہے، خواجہ سراؤں کے قتل کا یہ واقعہ ساہیوال کے نواحی علاقے ہڑپہ کی کچی آبادی کے اس مکان میں پیش آیا جہاں یہ دونوں خواجہ سرا کافی عرصہ سے کرائے پر رہائش پذیر تھے،پولیس کے مطابق اشفاق عرف نادیہ اورسلمان عرف مسکان نامی دونوں خواجہ سراؤں کو گردن اورسر پرآہنی ہتھیار کے وار کرکے قتل کیا گیا ہفتے کی صبح گھرسے بدبو آنے پراہل محلہ کو شک گزرا اور انہوں نے پولیس کو اطلاع دی،پولیس تالا توڑ کرمکان میں داخل ہوئی تو دونوں خواجہ سرا مردہ حالت میں پائے گئے،عینی شاہدین کے بقول نعشوں کی حالت سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں دو یا تین روز قبل قتل کیا گیا،پولیس نے لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اینڈ ٹیچنگ ہسپتال ساہیوال منتقل کردی ہیں،تاہم ان کی تدفین کے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا اور نہ ہی ورثاء یا سرپرست کے طور پر کوئی سامنے آیا ہے، ڈی پی او ساہیوال محمد علی ضیاء کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اندھا قتل ہے لیکن جمع کیے جانے والے شواہد کی روشنی میں جدید وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے جلد قاتلوں تک پہنچ جائیں گے،واضح رہے کہ ساہیوال میں ہی چند ماہ بیشتر ایک خواجہ سرا کو نامعلوم افراد کی طرف سےسرعام آگ لگا کر زندہ جلادیا گیا تھا،شروع میں اس واقعہ کو پولیس نے دبانے کی کوشش کی تھی تاہم میڈیا پر خبریں آنے کے بعد پس و پیش سے کام لیتے ہوئے مقدمہ تو درج کرلیا گیا تھا لیکن اس کے بعد پراسرار خاموشی چھاگئی،یاد رہے کہخیبر پختونخواہ کے علاقے نوشہرہ میں بھی رواں ماہ ہی ایک خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا تھا سال 2015ء سے 2019ء تک چار سالوں میں بیسیوں خواجہ سراؤں کو قتل کیا جاچکا ہے،تاہم خواجہ سرا کمیونٹی کے لیے کوئی واضح قانون کی عدم موجودگی،پیروی اور مدعیت کے لیے کسی کی دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے بات صرف اندراج مقدمہ تک ہی محدود رہی
ساہیوال، شہری ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کے استعمال کویقینی بنائیں ، ڈی پی او
ساہیوال، شہری ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کے استعمال کویقینی بنائیں ، ڈی پی او
ساہیوال ۔ 22 جولائی (اے پی پی) ڈسٹرکٹ ٹریفک پولیس ;200;فیسر پیرریاض احمد نے شہریوں پر زوردیا ہے کہ وہ ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کے استعمال کویقینی بنائیں تاکہ حادثات کی صورت میں ان کی قیمتی جان کابچاءوہوسکے ۔ والدین اپنے کم عمربچوں کو موٹرسائیکلیں اور دیگرگاڑیاں ہرگز نہ دیں اورٹریفک پولیس کی طرف سے شروع کی جانیوالی مہم میں ان کابھرپور ساتھ دیں ۔ وہ یہاں روزانہ کی بنیاد پر ٹریفک ایجوکیشن مہم اورمختلف چوکوں میں ٹریفک ;200;گاہی پرمشتمل پمفلٹس تقسیم کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہارکررہے تھے ۔ اس موقع پر انچارج ٹریفک ایجوکیشن اینڈروڈ سیفٹی ونگ عامر چیمہ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے ۔ انہوں نے شہریوں پرزوردیتے ہوئے کہا کہ وہ ٹریفک قوانین پرعمل کرکے نہ صرف حادثات سے بچیں بلکہ مہذب شہری ہونے کاثبوت بھی دیں ۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ سلوموونگ گاڑیوں اورٹریکٹر ٹرالیوں پربیک لاءٹس نہ ہونے کے باعث رات کے وقت حادثات سے بچاءو کے لئے ریفلیکٹر سٹیکرز بھی لگائے جسے عوام نے قابل تحسین اقدام قراردیا ۔

ساہیوال:ہڑتال کے دوران کیا ہوتا رہا؟
ساہیوال :حکومتی نئی ٹیکس پالیسی کے خلاف تاجر تنظیموں کی اپیل پر شٹر ڈاؤن ہڑتال،دوکانیں اور کاروباری مراکز بند،بازار سنسان،کاروبار زندگی مفلوج،
تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر کی طرح ضلع ساہیوال میں بھی حکومت کی طرف سے عائد کردہ نئی ٹیکس پالیسی کے خلاف تاجر تنظیموں کی اپیل پر ہفتے کے روز شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی،ضلع کے اکثر مقامات پر تمام کاروباری مراکز اور بازار مکمل طور پر بند رہے اور کہیں کہیں ہڑتال کا اثر جزوی طور پر دیکھنے میں آیا،حکومت کی طرف سے اگرچہ اس ہڑتال کو ناکام قرار دیا جاتا رہالیکن آزاد اور غیرجانبدارانہ ذرائع کے مطابق شٹر ڈاؤن کا تناسب 95% کے قریب رہا،ساہیوال شہر کا سب سے بڑا صدر بازار شہر خموشاں کا منظر پیش کرتا رہا،اسی طرح دیگر بازاروں میں بھی تقریباً تمام دوکانیں بند رہیں،البتہ موبائل مارکیٹ جزوی طور پر کھلی نظر آئی،اس ہڑتال کی اپیل تو مبینہ طور پر تاجر تنظیموں کی طرف سے کی گئی تھی لیکن مبصرین کے بقول اس ہڑتال کے اصل محرکات میں اپوزیشن پارٹیوں کے وہ تاجر شامل تھے جو مختلف حکومتی ادوار میں تاجر تنظیموں کے عہدے دار رہے اور حکومتی سرپرستی کا فائدہ اٹھا کر اپنے کاروبار کو فروغ دیتے رہے،تاہم اس ہڑتال کے دوران کہیں پر بھی کوئی زور زبردستی نہیں کی گئی اور دوکانداروں نے اپنی مرضی سے دوکانیں بند رکھیں،بازاروں میں خریداری کے لیے آنے والے بھی اکا دکا ہی نظر آئے،جمعہ کی شام سے ہی حکومتی پارٹی کی ذیلی تاجر تنظیموں کی طرف سے ضلعی انتظامیہ سے کامیاب مذاکرات کے بعد ہڑتال کی منسوخی کی خبریں آنا شروع ہوگئی تھیں لیکن ہفتے کے دن کاروباری اوقات شروع ہوتے ہی تمام صورتحال واضح ہونا شروع ہوگئی،یاد رہے کہ یہ ہڑتال اس سال بجٹ میں منظور ہونے والی نئی ٹیکس پالیسی کے خلاف تاجر تنظیموں کی اپیل پر کی گئی تھی،لیکن اس کے اصل مقاصد ،ان کا درست یا غلط ہونا اور حاصل یا لاحاصل کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا البتہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبی عوام سوشل میڈیا پر اپنے تئیں ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے اور دینے میں مگن ضرور ہے،

ساہیوال:نجی ہاؤسنگ سکیم کے مکین مصیبت اور عذاب میں مبتلا۔
ساہیوال:شالیمار ٹاؤن گندے جوہڑ میں تبدیل،وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ،
راہگیروں اور عوام الناس کو سخت مشکلات کا سامنا،ڈویلپر اور متعلقہ حکام بے حسی اور چشم پوشی کا مظاہرہ کرنے لگے
تفصیلات کے مطابق ساہیوال بائی پاس پر واقع شالیمار ٹاؤن سیوریج کی خرابی اور نکاسی آب کا نظام نہ ہونے کے باعث گندے جوہڑ میں تبدیل ہوچکا ہے،سڑکوں اور پلاٹوں میں جگہہ جگہہ سیوریج کا پانی کھڑا ہے،جس سے ٹاؤن بھر میں تعفن پھیل چکا اور راہگیروں کا گزرنا محال ہوگیا ہے،جابجا کھڑا گندہ پانی مچھر اور دیگر موذی جانوروں کی افزائش کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ زمینی پانی کو آلودہ کررہا ہے،جس سے گیسٹرو،ہیضہ ملیریا اور دیگر کئی وبائی امراض پھوٹنے کا اندیشہ ہے،
سرکاری حکام کے مطابق سیوریج کے پانی کی نکاسی یا نظام کی درستگی ان کے دائرہ کار میں نہیں یہ ڈویلپر کا کام ہے جبکہ ڈویلپر اپنی جیب گرم کرنے کے بعد منظر سے ہی غائب ہوچکا ہے،شالیمار ٹاؤن میں سینکڑوں گھروں کے مکین اب مچھروں کے رحم و کرم پر کسی مسیحا کے منتظر ہیں
ساہیوال:کم سن بچے نشے کی لعنت کا شکار
ساہیوال(نمائندہ باغی ٹی وی)کم سن بچوں میں نشے کی لعنت تیزی سے پروان چڑھنے لگی،
حکام فوٹوسیشن کروا کر لمبی تانے سونے میں مشغول،ایڈز سمیت کئی مہلک بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ
ساہیوال شہر میں منشیات کی سرعام فروخت اور استعمال تو عرصے سے جاری ہے لیکن افسوسناک امر یہ سامنے آیا ہے کہ اب نشے کی لعنت کم سن اور نوعمر بچوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے،اور دھڑا دھڑ بچے نشے کی لت میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں لیکن حکام اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں،نشے کی لعنت میں منتلا بچوں میں زیادہ تر چائلڈ لیبر کا شکار ورکشاپس اور دوکانوں میں کام کرنے والے شامل ہیں،نشے کی لعنت میں مبتلا ان بچوں کو اکثر اوقات جنسی بدفعلی کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ غیر محفوظ اور استعمال شدہ سرنج کا دوبارہ استعمال ایڈز اور دیگر کئی مہلک بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث ہوسکتا ہے،یہ بچے اکثر شہر کے مختلف چوکوں، مزدور پلی،محلہ فرید گنج،پل بازار،بابے والا چوک ریلوے سٹیشن اور کچی آبادیوں میں عمر رسیدہ اور نوجوان نشئیوں کے ساتھ نشہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں،حد تو یہ ہے کہ ان بچوں کے ساتھ خواتین بھی اس لعنت میں مبتلا ہیں،لیکن خوفناک پہلو یہ ہے کہ یہ بچے روزانہ اپنے ساتھ کسی نئے بچے کو ورغلا پھسلا کر لاتے ہیں اور اسے نشے کا عادی بنادیتے ہیں،جسم فروشی،جیب تراشی اور ہر طرح کی چوری کرنا بھی ان کے ہاں عام سی بات ہے لیکن متعلقہ حکام اس سارے معاملے سے دانستہ چشم پوشی اختیار کئیے ہوئے ہیں جو کہ آنے والی نسل میں جرائم پیشہ افراد کے اضافے کا سبب ہوگی،
ساہیوال:خاتون پولیس آفیسر کے خلاف درخواست کیوں دائر کردی گئی؟
ساہیوال(نمائندہ باغی ٹی وی)خاتون پولیس افسر کے خلاف کارروائی کے لیے درخواست دائر،
اے ایس پی نے مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سائلہ کی داد رسی نہ ہونے دی،
تفصیلات کے مطابق 89/6R کی رہائشی ارم نے اے ایس پی سٹی سرکل انعم فریال کے خلاف کارروائی کے لیے ریجنل پولیس آفیسر ساہیوال کو درخواست گزاری ہے،درخواست میں سائلہ نے اے ایس پی انعم فریال پر الزام لگایا ہے کہ اس نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے متعلقہ تھانہ کو سائلہ کی درخواست پر عملدرآمد کرنے سے روکا اور سائلہ کو اپنے دفتر بلا کر توہین اور ہتک آمیز سلوک کا نشانہ بنایا،درخواست سے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ ڈالا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں،سائلہ کا موبائل فون چھینا اور اسے زدوکوب کرنے کی کوشش کی،ارم نامی سائلہ نے مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے بھائی عمر فاروق نے گھر پر ناجائز قابض ہو کر اسے گھر سے نکال دیا ہے اور سائلہ کے لاکھوں روپے مالیت کے سامان اور زیورات پر قبضہ کرلیا ہے جس کے خلاف کاروائی کے لیے تھانہ فرید ٹاؤن میں درخواست دی گئی لیکن اے ایس پی انعم فریال نے ملزم سے ساز باز ہوکر تھانہ فرید ٹاؤن کو سائلہ کی درخواست پر کارروائی سے روک دیا اور سائلہ کو اپنے دفتر بلاکر مذکورہ بالا ناجائز سلوک کا نشانہ بنایا،ارم شہزادی نے مزید بتایا کہ ملزم عمر فاروق اے ایس پی انعم فریال کا ہم جماعت اور دوست رہا ہے جس بنا پر اے ایس پی اس کے خلاف کسی قسم کی کاروائی نہیں ہونے دے رہی،سائلہ ارم شہزادی نے ریجنل پولیس آفیسر ساہیوال کو اے ایس پی کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے درخواست دیتے ہوئے افسران بالا اور وزیراعظم عمران خان سے اسے انصاف دلوانے کی اپیل کی ہے
ساہیوال:عوام کو لوٹنے والے قانون کے شکنجے میں۔۔۔
ساہیوال(نمائندہ باغی ٹی وی)غیرقانونی ہاؤسنگ کالونی سیل،ڈویلپرز کے خلاف مقدمہ درج،
تفصیلات کے مطابق ساہیوال شہر سے متصل نورشاہ روڈ پر گرین سٹی ہاؤسنگ سکیم کے نام سے رہائشی کالونی کی تعمیر جاری تھی،جس کے ڈویلپرز ضیاء الحق شیخ اور دیگر کی طرف سے عوام کو سبز باغ دکھائے جارہے تھے اور تشہیری مواد میں اسے ایک جدید اور پرتعیش ہاؤسنگ سکیم ظاہر کیا گیا تھا جبکہ حقیقت میں وہاں ایسا کچھ بھی نہیں تھا،صرف عوام کو جعلسازی کے ذریعے بےوقوف بنا کر لوٹا جارہا تھا،سڑکوں کی پیمائش بھی قوانین کے مطابق نہیں تھی جبکہ ہاؤسنگ سوسائٹی کا نقشہ بھی مجاز اتھارٹی سے منظور نہیں کروایا گیا تھا،جس پر انفورسمنٹ انسپکٹر ندیم نے کاروائی کرتے ہوئے متعلقہ تھانے میں درخواست دیکر سوسائٹی ڈویلپرز کے خلاف مقدمہ درج کروایا اور کالونی کو سیل کردیا گیا،
واضح رہے ساہیوال شہر میں افسر شاہی کی ملی بھگت سے ایسی بہت سی غیرقانونی رہائشی کالونیاں وجود میں آچکی ہیں جہاں پر عوام بنیادی سہولیات سے محروم اور ڈویلپرز کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں









