Baaghi TV

Category: ساہیوال

  • ساہیوال:قاتل آزاد،مقتول کے ورثاء انصاف کے لیے دربدر

    ساہیوال:قاتل آزاد،مقتول کے ورثاء انصاف کے لیے دربدر

    ساہیوال:رقم واپسی کے تقاضے پر نوجوان کا مبینہ قتل،مقتول کے ورثاء انصاف کے لیے دربدر،کئی روز گزرجانے کے باوجود تاحال مقدمہ درج نہ ہوسکاتفصیلات کے مطابق ساہیوال کے نواحی گاؤں91/9L کا رہائشی ندیم جوکہ لکڑی اور زرعی اجناس کا کاروبار کرتا تھا سے اس کے قریبی دوستوں دلدار راجہ اور بہادر پہلوان پسران گلزار احمد نائی ساکن عنائیت الہی کالونی90/9ایل نے کچھ رقم بطور قرض لے رکھی تھی جس کی واپسی کے تقاضے پر انہوں نے ندیم کو بلا کر مبینہ طور پر قتل کردیا اور اسکی نعش کو قریبی راجباہ 9/ایل میں بہادیا،جسے تھانہ ڈیرہ رحیم پولیس نے اپنی موجودگی میں وہاں سے نکالا اور پوسٹ مارٹم کروایا،مقتول کے ورثا اطلاع ملنے پر تھانہ میں اندراج مقدمہ کی درخواست لے کر گئے لیکن انہیں یہ کہہ کر دھتکار دیا گیا کہ آپ کا وقوعہ تھانہ غلہ منڈی کی حدود میں پیش آیا لہذا مقدمہ تھانہ غلہ منڈی میں درج ہوگا،دوسری طرف تھانہ غلہ منڈی اسے تھانہ ڈیرہ رحیم کا وقوعہ قرار دے کر کاروائی سے گریزاں ہیں،
    طرفہ تماشہ یہ کہ فرنٹ ڈیسک کے اہلکار مقتول کے ورثا سے درخواست تک وصول نہیں کررہے اور انہیں بار بار ایک سے دوسرے تھانے کے چکر لگوائے جارہے ہیں،مقتول کے ورثاء تو انصاف کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں لیکن قاتل سرعام آزادی سے گھوم پھر رہے ہیں،مقتول کے ورثاء نے حکام بالا سے سارے معاملے کا نوٹس لیکر انصاف مہیا کرنے کی اپیل کی ہے

  • سانحہ ساہیوال، انسداد دہشت گردی عدالت میں سماعت جاری

    سانحہ ساہیوال، انسداد دہشت گردی عدالت میں سماعت جاری

    انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں سانحہ ساہیوال کیس پر سماعت جاری ہے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقتول ذیشان کا بھائی احتشام اپنا بیان قلمبند کرارہا ہے ،اس سے قبل سانحہ ساہیوال کے مقتول خلیل کے بچے عمیر، منیبہ اور بھائی جلیل سمیت دیگر اپنا بیان قلمبند کروا چکے ہیں ،مقتول خلیل کے بچوں اور بھائی نے ملزموں کو پہچاننے سے انکار کیا تھا

    مقتول خلیل کے بھائی نے بیان دیا تھا کہ میں موقع پر موجود نہیں لہذا نہیں پتہ کہ واقع میں کون سے اہلکار ملوث ہیں، بچوں بچے عمیراور منیبہ نے کہا تھا کہ ہمیں نہیں پتا کہ ہمارے والد پر فائرنگ کس نے کی ،

    سانحہ ساہیوال جے آئی ٹی رپورٹ غلط، جودییشیل کمیشن کیلئے درخواست دائر

    انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر 1 کے جج ارشد حسین بھٹہ کیس پر سماعت کر رہے ہیں ،سانحہ ساہیوال کے ملزمان صفدر حسین ، احسن خان ، رمضان ، سیف اللہ، حسنین اور ناصر نواز کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے

    واضح رہے کہ سی ٹی ڈی نے ساہیوال میں کارسواروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا جس میں ایک فیملی سوار تھی ،کمسن بچوں کے سامنے ان کے والدین کو گولیاں ماری گئی تھیں، سی ٹی ڈی اہلکاروں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے.

    سانحہ ساہیوال، وکلاء نے عدالت میں ایسا مطالبہ کیا کہ لواحقین پریشان ہو گئے

     

    سانحہ ساہیوال کی جے آئی ٹی رپورٹ کو مقتول خیل کے بھائی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھا ہے،سپریم کورٹ میں مقتول خلیل کے بھائی جلیل کی جانب سے دائر درخواست میں وفاق، وزارت داخلہ، وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی تحقیقات نے کیس کی شکل بدل دی، سانحہ ساہئوال کی تفتیش حقائق کو مدنظر رکھ کی نہیں کی گئی۔ جے آئی ٹی نے ویڈیوز سمیت دیگر شواہد ملحوظ خاطر نہیں رکھا، اہم گواہوں کو بھی زیر غور نہیں لایا گیا۔ سپریم کورٹ میں مقتول کے بھائی کی جانب سے دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ ا استعمال شاہد اسلحہ گولیوں کے خول قبضے میں نہیں لیے گئے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ آف پاکستان واقعے کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن قائم کرے۔

  • ساہیوال:معروف کاروباری مرکز میں خوفناک آتشزدگی،کروڑوں کا سامان جل کر خاکستر

    ساہیوال:معروف کاروباری مرکز میں خوفناک آتشزدگی،کروڑوں کا سامان جل کر خاکستر

    ساہیوال:خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں کروڑوں روپے مالیت کا سامان جل کر خاکستر ہوگیا،آتشزدگی کا یہ خوفناک واقعہ ضلع ساہیوال کی نواحی تحصیل چیچہ وطنی کے کمبوہ چوک میں واقع مشہور کاروباری مرکز سرمہ والا کارپوریشن میں پیش آیا،تفصیلات کے مطابق آج منگل کے روز علی الصبح ہی چیچہ وطنی کے مشہور کاروباری مرکز سرمہ والا کارپوریشن کی بالائی منزل پر مبینہ طور پر بجلی کے شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ہی پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں اور آگ بجھانے والی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے کا عمل شروع کردیا گیا،تاہم شدید محنت اور کوشش کے باوجود  آگ پر قابو پانے میں کم و بیش ڈیڑھ گھنٹا لگ گیا جس دوران عمارت میں موجود کروڑوں روپے مالیت کا سامان جل کر راکھ ہوگیا،

    واضح رہے کہ سرمہ والا کارپوریشن کے نام سے پاکستان کے کئی شہروں میں اقساط پر ضروریات زندگی کا سامان فروخت کیا جاتا ہے جو کہ زیادہ تر بیش قیمت ہوتا ہے،اس سامان میں الیکٹرانک و الیکٹرک کی مشہور کمپنیوں کی مختلف اشیاء، ریفریجیٹر،ایئرکنڈیشنر،ایل ای ڈیز،مائیکروویو اوونز اور موٹرسائیکلز وغیرہ شامل ہیں،
    یاد رہے کہ سرمہ والا کارپوریشن میں یہ کم عرصے کے دوران پیش آنے والا آتشزدگی کا دوسرا واقعہ ہے،
    یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے عموماً ایسی عمارتوں میں فائر سیفٹی کا کوئی باقاعدہ انتظام نہیں ہوتا اور نہ ہی بجلی کی وائرنگ حفاظتی معیار کے مطابق ہوتی ہے،اکثر اوقات یہی عوامل آتشزدگی کا سبب ہونے کے ساتھ ساتھ آگ کو بھڑکانے کا باعث بھی بنتے ہیں،
    لیکن سول ڈیفنس سمیت متعلقہ ادارے اس معاملے سے چشم پوشی برتتے چلے آئے ہیں اور چند ایک نمائشی پروگرامات یا فوٹو سیشن کروانے کو ہی اعلی کارکردگی سمجھ لیا جاتا ہے

  • ساہیوال:ہم لوگ ہیں یادگار،مرحوم صحافیوں کی یاد میں سیمینار

    ساہیوال:ہم لوگ ہیں یادگار،مرحوم صحافیوں کی یاد میں سیمینار

    ساہیوال:پرنٹ میڈیا ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام مرحوم صحافی حضرات و ممبران پریس کلب کی یاد میں ”ہم لوگ ہیں یادگار“ سیمینار آج 4اگست کو منعقد ہوگا-سیمینار صبح ساڑھے 10بجے مجید امجد ہال آرٹس کونسل ساہیوال میں ہو گا جس کی صدارت ڈائریکٹر انفارمیشن محمد عقیل اشفاق کریں گے جبکہ مہمان خصوصی ڈائریکٹر ساہیوال آرٹس کونسل ڈاکٹر ریاض ہمدانی ہونگے- صدر پرنٹ میڈیا ایسوسی ایشن رانا وحید نے کہا کہ سیمینار کا مقصد ہم سے بچھڑ جانے والے صحافی بھائیوں کی شعبہ صحافت میں نمایاں خدمات کو سراہنا ہے-انہوں نے مزید کہا کہ پرویز طاہر خان،مرزا محمد علی انور،سجاد سرور عبداللہ،سید راغب علی شاہ،خالد محمود بٹ،ایم اے اشرف،رائے پرویز کھرل،اے ڈی اعجاز،عمران خان نیازی،اعجاز کھرل،عمر عبداللہ خان اور مرزا اشفاق جیسے نامور صحافیوں کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا- 

  • ساہیوال:عیدالاضحیٰ اور یوم آزادی،کمشنر نے کیے اہم فیصلے

    ساہیوال:عیدالاضحیٰ اور یوم آزادی،کمشنر نے کیے اہم فیصلے

    ساہیوال:کمشنر ساہیوال ڈویژن ندیم الرحمن نے کہا ہے کہ عید الاضحی اور یوم آزادی کے مبارک دنوں میں عوام کے جان ومال کی حفاظت،صفائی کو بہترین بنانے اور جانوروں کی آلائشوں کو فوری ٹھکانے لگانے کے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں اور متعلقہ ادارے کسی بھی عوامی شکایت پر فوری کارروائی کریں گے،انہوں نے یہ بات اپنے دفتر میں عیدالاضحیٰ اور یوم آزادی کے دوران سیکیورٹی اور صفائی کے حوالے سے ہونے والے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی جس میں تینوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز محمد زمان وٹو،احمد کمال مان اور مریم خان،ایڈیشنل کمشنر ایس ڈی خالد،ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ قاری خالد نذیر اور ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر صادق سلیم کے علاوہ متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی-انہوں نے کہا کہ عیدالاضحی کے موقع پر تمام عید گاہوں کے گرد صفائی اور سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرلیے گئے ہیں اور اس سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی-انہوں نے میونسپل اداروں کے افسران کو ہدایت کی کہ قربانی کی آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کے لئے ترتیب شدہ پلان کو جلد ازجلد حتمی شکل دی جائے تاکہ آلائشوں کو فوری اٹھایا جا سکے-کمشنر ندیم الرحمن نے صفائی سے متعلقہ عوامی شکایات پر فوری ایکشن لینے کی بھی ہدایت کی-انہوں نے ڈائریکٹر ہیلتھ کو ہدایت کی کہ تمام ہسپتالوں اور مراکز صحت پر ڈاکٹروں کی خصوصی ڈیوٹیاں لگائی جائیں اور خصوصی بیڈز بھی مختص کئے جائیں-انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور دوسرے افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ دونوں دنوں کے لئے جن سرکاری ملازمین کی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں ان کی حاضری کو سو فیصد یقینی بنایا جائے جبکہ ون ویلنگ کی روک تھام اور گاڑیوں کی مناسب پارکنگ پر بھی توجہ دی جائے-انہوں نے یوم آزادی کو قومی جوش و جذبے سے منانے کے لئے انتظامات کو حتمی شکل دینے کی بھی خصوصی ہدایت کی۔ 

  • ساہیوال:ناشتہ کرتے ہی متعدد افراد کی حالت غیر ہوگئی،کھانے میں ایسا کیا تھا؟

    ساہیوال:ناشتہ کرتے ہی متعدد افراد کی حالت غیر ہوگئی،کھانے میں ایسا کیا تھا؟

    ساہیوال:شہر کے معروف مقام باہر والا اڈہ پر ایک سٹال سے ناشتہ کرتے ہی متعدد افراد کی حالت غیر ہوگئی،متائثرہ افراد قے کرنے لگے اور ان پر بے ہوشی طاری ہونا شروع ہوگئی،ریسکیو 1122 نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے متائثرین کو طبی امداد دی اور ہسپتال منتقل کیا،تفصیلات کے مطابق ساہیوال میں باہر والا اڈا کے مقام پر مسافروں نے ایک سٹال سے ناشتہ کیا لیکن جوں ہی وہ نوالے حلق سے اتارتے گئے ان کی حالت غیر ہونا شروع ہوگئی،سٹال پر موجود کھانے کو چیک کیا گیا تو اس میں سے چھپکلی برآمد ہوئی،تاہم ریسکیو1122نے فوری اور بروقت امدادی آپریشن کرتے ہوئے انہیں ابتدائی طبی امداد مہیا کی اور مریضوں کو ہسپتال منتقل کیا،ہسپتال منتقل کیے جانے والے گیارہ افراد میں سے 9 متائثرین کو ضروری علاج معالجے کے بعد ڈسچارج کردیا گیا جبکہ دو افراد کی حالت زیادہ خراب ہونے کی بنا پر ان کو روک لیا گیا تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے،
    یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی سمیت دیگر ادارے محض فوٹو سیشن تک محدود ہیں جبکہ شہر میں جابجا مضر صحت کھانا اور ناقص گوشت سرعام فروخت ہورہا ہے،دوسری طرف ڈپٹی کمشنر محمد زمان وٹو کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی کو تمام فوڈ پوائنٹس اور کھانے کی ریڑھیوں کی سخت چیکنگ کرنے کی ہدایات کردی گئیں ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچا جاسکے

  • ساہیوال:دو خواجہ سرا قتل،گھر سے بدبو آنے پر ہوا انکشاف،پولیس

    ساہیوال:دو خواجہ سرا قتل،گھر سے بدبو آنے پر ہوا انکشاف،پولیس

    صوبہ پنجاب کے ضلع ساہیوال میں 2 خواجہ سراؤں کو قتل کر دیا گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبہ  پنجاب کے ضلع ساہیوال میں دو خواجہ سراؤں کو قتل کر دیا گیا ہے، خواجہ سراؤں کے قتل کا یہ واقعہ ساہیوال کے نواحی علاقے ہڑپہ کی  کچی آبادی کے اس  مکان میں پیش آیا جہاں یہ دونوں خواجہ سرا کافی عرصہ سے  کرائے پر رہائش پذیر تھے،پولیس کے مطابق اشفاق عرف نادیہ اورسلمان عرف مسکان نامی دونوں خواجہ سراؤں  کو گردن اورسر پرآہنی ہتھیار کے وار کرکے قتل کیا گیا ہفتے کی صبح گھرسے بدبو آنے پراہل محلہ کو شک گزرا  اور انہوں نے پولیس کو اطلاع دی،پولیس تالا توڑ کرمکان میں داخل ہوئی تو دونوں خواجہ سرا مردہ حالت میں پائے گئے،عینی شاہدین  کے بقول نعشوں کی حالت سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں دو یا تین روز قبل قتل کیا گیا،پولیس نے لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اینڈ ٹیچنگ ہسپتال ساہیوال منتقل کردی ہیں،تاہم ان کی تدفین کے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا اور نہ ہی ورثاء یا سرپرست کے طور پر کوئی سامنے آیا ہے، ڈی پی او ساہیوال محمد علی ضیاء کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اندھا قتل ہے لیکن جمع کیے جانے والے شواہد کی روشنی میں   جدید وسائل  کو بروئے کار لاتے ہوئے جلد قاتلوں تک  پہنچ جائیں گے،واضح رہے کہ ساہیوال میں ہی چند ماہ بیشتر ایک خواجہ سرا کو نامعلوم افراد کی طرف سےسرعام آگ لگا کر زندہ جلادیا گیا تھا،شروع میں اس واقعہ کو پولیس نے دبانے کی کوشش کی تھی  تاہم میڈیا پر خبریں آنے کے بعد پس و پیش سے کام لیتے ہوئے مقدمہ تو درج کرلیا گیا تھا لیکن اس کے بعد پراسرار خاموشی چھاگئی،یاد رہے  کہخیبر پختونخواہ کے علاقے نوشہرہ میں بھی رواں ماہ ہی ایک خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا تھا سال 2015ء سے 2019ء تک چار سالوں میں بیسیوں خواجہ سراؤں کو قتل کیا جاچکا ہے،تاہم خواجہ سرا کمیونٹی کے لیے کوئی واضح قانون کی عدم موجودگی،پیروی اور مدعیت کے لیے کسی کی دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے بات صرف اندراج مقدمہ تک ہی محدود رہی

  • ساہیوال، شہری ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کے استعمال کویقینی بنائیں ، ڈی پی او

    ساہیوال، شہری ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کے استعمال کویقینی بنائیں ، ڈی پی او

    ساہیوال، شہری ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کے استعمال کویقینی بنائیں ، ڈی پی او

    ساہیوال ۔ 22 جولائی (اے پی پی) ڈسٹرکٹ ٹریفک پولیس ;200;فیسر پیرریاض احمد نے شہریوں پر زوردیا ہے کہ وہ ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کے استعمال کویقینی بنائیں تاکہ حادثات کی صورت میں ان کی قیمتی جان کابچاءوہوسکے ۔ والدین اپنے کم عمربچوں کو موٹرسائیکلیں اور دیگرگاڑیاں ہرگز نہ دیں اورٹریفک پولیس کی طرف سے شروع کی جانیوالی مہم میں ان کابھرپور ساتھ دیں ۔ وہ یہاں روزانہ کی بنیاد پر ٹریفک ایجوکیشن مہم اورمختلف چوکوں میں ٹریفک ;200;گاہی پرمشتمل پمفلٹس تقسیم کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہارکررہے تھے ۔ اس موقع پر انچارج ٹریفک ایجوکیشن اینڈروڈ سیفٹی ونگ عامر چیمہ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے ۔ انہوں نے شہریوں پرزوردیتے ہوئے کہا کہ وہ ٹریفک قوانین پرعمل کرکے نہ صرف حادثات سے بچیں بلکہ مہذب شہری ہونے کاثبوت بھی دیں ۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ سلوموونگ گاڑیوں اورٹریکٹر ٹرالیوں پربیک لاءٹس نہ ہونے کے باعث رات کے وقت حادثات سے بچاءو کے لئے ریفلیکٹر سٹیکرز بھی لگائے جسے عوام نے قابل تحسین اقدام قراردیا ۔

  • ساہیوال:ہڑتال کے دوران کیا ہوتا رہا؟

    ساہیوال:ہڑتال کے دوران کیا ہوتا رہا؟

    ساہیوال :حکومتی نئی ٹیکس پالیسی کے خلاف تاجر تنظیموں کی اپیل پر شٹر ڈاؤن ہڑتال،دوکانیں اور کاروباری مراکز بند،بازار سنسان،کاروبار زندگی مفلوج،

    تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر کی طرح ضلع ساہیوال میں بھی حکومت کی طرف سے عائد کردہ نئی ٹیکس پالیسی کے خلاف تاجر تنظیموں کی اپیل پر ہفتے کے روز شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی،ضلع کے اکثر مقامات پر تمام کاروباری مراکز اور بازار مکمل طور پر بند رہے اور کہیں کہیں ہڑتال کا اثر جزوی طور پر دیکھنے میں آیا،حکومت کی طرف سے اگرچہ اس ہڑتال کو ناکام قرار دیا جاتا رہالیکن آزاد اور غیرجانبدارانہ ذرائع کے مطابق شٹر ڈاؤن کا تناسب 95% کے قریب رہا،ساہیوال شہر کا سب سے بڑا صدر بازار شہر خموشاں کا منظر پیش کرتا رہا،اسی طرح دیگر بازاروں میں بھی تقریباً تمام دوکانیں بند رہیں،البتہ موبائل مارکیٹ جزوی طور پر کھلی نظر آئی،اس ہڑتال کی اپیل تو مبینہ طور پر تاجر تنظیموں کی طرف سے کی گئی تھی لیکن مبصرین کے بقول اس ہڑتال کے اصل محرکات میں اپوزیشن پارٹیوں کے وہ تاجر شامل تھے جو مختلف حکومتی ادوار میں تاجر تنظیموں کے عہدے دار رہے اور حکومتی سرپرستی کا فائدہ اٹھا کر اپنے کاروبار کو فروغ دیتے رہے،تاہم اس ہڑتال کے دوران کہیں پر بھی کوئی زور زبردستی نہیں کی گئی اور دوکانداروں نے اپنی مرضی سے دوکانیں بند رکھیں،بازاروں میں خریداری کے لیے آنے والے بھی اکا دکا ہی نظر آئے،جمعہ کی شام سے ہی حکومتی پارٹی کی ذیلی تاجر تنظیموں کی طرف سے ضلعی انتظامیہ سے کامیاب مذاکرات کے بعد ہڑتال کی منسوخی کی خبریں آنا شروع ہوگئی تھیں لیکن ہفتے کے دن کاروباری اوقات شروع ہوتے ہی تمام صورتحال واضح ہونا شروع ہوگئی،یاد رہے کہ یہ ہڑتال اس سال بجٹ میں منظور ہونے والی نئی ٹیکس پالیسی کے خلاف تاجر تنظیموں کی اپیل پر کی گئی تھی،لیکن اس کے اصل مقاصد ،ان کا درست یا غلط ہونا اور حاصل یا لاحاصل کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا البتہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبی عوام سوشل میڈیا پر اپنے تئیں ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے اور دینے میں مگن ضرور ہے،

  • ساہیوال:نجی ہاؤسنگ سکیم کے مکین مصیبت اور عذاب میں مبتلا۔

    ساہیوال:نجی ہاؤسنگ سکیم کے مکین مصیبت اور عذاب میں مبتلا۔

    ساہیوال:شالیمار ٹاؤن گندے جوہڑ میں تبدیل،وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ،
    راہگیروں اور عوام الناس کو سخت مشکلات کا سامنا،ڈویلپر اور متعلقہ حکام بے حسی اور چشم پوشی کا مظاہرہ کرنے لگے
    تفصیلات کے مطابق ساہیوال بائی پاس پر واقع شالیمار ٹاؤن سیوریج کی خرابی اور نکاسی آب کا نظام نہ ہونے کے باعث گندے جوہڑ میں تبدیل ہوچکا ہے،سڑکوں اور پلاٹوں میں جگہہ جگہہ سیوریج کا پانی کھڑا ہے،جس سے ٹاؤن بھر میں تعفن پھیل چکا اور راہگیروں کا گزرنا محال ہوگیا ہے،جابجا کھڑا گندہ پانی مچھر اور دیگر موذی جانوروں کی افزائش کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ زمینی پانی کو آلودہ کررہا ہے،جس سے گیسٹرو،ہیضہ ملیریا اور دیگر کئی وبائی امراض پھوٹنے کا اندیشہ ہے،
    سرکاری حکام کے مطابق سیوریج کے پانی کی نکاسی یا نظام کی درستگی ان کے دائرہ کار میں نہیں یہ ڈویلپر کا کام ہے جبکہ ڈویلپر اپنی جیب گرم کرنے کے بعد منظر سے ہی غائب ہوچکا ہے،شالیمار ٹاؤن میں سینکڑوں گھروں کے مکین اب مچھروں کے رحم و کرم پر کسی مسیحا کے منتظر ہیں