ساہیوال(نمائندہ باغی ٹی وی)سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے نقصان پہنچانے کا الزام،میونسپل کارپوریشن کے ملازمین سمیت معروف شادی ہال کے مالک اور پروپرائٹر کے خلاف اینٹی کرپشن میں مقدمہ درج،
تفصیلات کے مطابق محکمہ اینٹی کرپشن نے ساہیوال کی مشہور کاروباری شخصیت رانا اکرام اور محمد اشرف سمیت میونسپل کارپوریشن کے تین ملازمین چیف آفیسر آغا ہمایوں،محمد رفیق سپرنٹنڈنٹ بلڈنگ(سابقہ) اور آصف جاوید بلڈنگ انسپکٹر کے خلاف سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے نقصان پہنچانے اور اختیارات کےناجائز استعمال کے الزمات کے تحت مقدمہ درج کرلیا،ملزمان مذکورہ پر الزام ہے کہ انہوں نے دس کنال پر محیط معروف شادی ہال آر اے کے مارکی کا نقشہ مالک محمد اشرف اور پروپرائٹر رانا اکرام سے مبینہ طور پر لاکھوں روپے رشوت لیکر بغیر کمرشلائزیشن فیس وصول کیے منظور کیا،جبکہ مذکورہ جگہہ کی کمرشلائزیشن فیس چار کروڑ 35 لاکھ روپے بنتی ہے،یوں سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا اور ملازمین نے اپنی جیبیں گرم کیں،علاوہ ازیں پروپرائٹر پر الزام ہے کہ اس نے سیل شدہ مارکی کو بغیراجازت کے کھولا اور وہاں غیرقانونی تعمیر شروع کی،ان تمام معاملات کی انکوائری کے لیے شہری نے اینٹی کرپشن میں درخواست دی تھی،انکوائری میں تمام الزامات درست پائے گئے اور ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا،جبکہ واقعہ میں ملوث چار دیگر بلدیہ ملازمین جہانگیرانجم سپرنٹنڈنٹ میونسپل کارپوریشن،بلڈنگ انسپکٹرز قسور ریاض،حسنین حیدر اور ریکارڈ کیپر اصغر اقبال
کے خلاف مزید تفتیش کرتے ہوئے انکے کردار اور قصور کا تعین کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے،واضح رہے کہ میونسپل کارپوریشن ملازمین کے خلاف مبینہ طور پر کرپشن،غبن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے کئی الزامات اس سے پہلے بھی سامنے آچکے ہیں۔
Category: ساہیوال

ساہیوال:کڑا احتساب شروع ہوگیا

ساہیوال:ورلڈ کپ کے دوران شرفاء پریشان،مگر کیسے؟؟
ساییوال(نمائندہ باغی ٹی وی)ورلڈ کپ کے میچوں پر سرعام جوا اور مے نوشی جاری،پولیس خاموش تماشائی،منع کرنے پرجواری شرفا کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے لگے،
تفصیلات کے مطابق حالیہ جاری ورلڈ کپ کے میچوں پر ساہیوال شہر کے مختلف علاقوں،گجراحاطہ،عیسی نگری،مزدور پلی،بوہڑوالا چوک،محلہ فرید گنج،بابے والا چوک،دھوبی محلہ،غلہ منڈی،ڈسپنسری روڈ،عنایت الہی کالونی،جہاز گراؤنڈ،بھٹونگر،کوٹ خادم علی شاہ،فرید ٹاؤن میں سرعام جوا جاری ہے،شراب کے نشے میں دھت جواری دن رات جوئے بازی کی محافل گرم کیے ہوئے ہیں،شور شرابہ اور غل غپاڑہ بھی روزمرہ کا معمول بن چکا ہے،جبکہ ہار جیت کے تنازعہ پر لڑائی جھگڑے اور گالم گلوچ کے شور سے شرفاء کی زندگیاں اجیرن اور سکون برباد ہوچکا ہے،صرف یہی نہیں بلکہ سمجھانے اور منع کرنے پر جوا مافیا کی طرف سے شرفاء اور اہل علاقہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں ذرائع کے مطابق جوا مافیا کو بعض مقامی سیاسی افراد کی سرپرستی و حمایت حاصل ہے،حیرت کی بات یہ ہے کہ پولیس اس سارے معاملے پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے ہوئے کسی بڑے سانحے کی منتظر ہے،ساہیوال شہر کے علاوہ نواحی قصبہ جات،کمیر ہڑپہ اور دیگر اڈوں پر بھی جوئے بازی کی یہی صورتحال نظر آتی ہے،اہل علاقہ نے آر پی او،ڈی پی او اور دیگر متعلقہ حکام سے بگڑتی ہوئی صورتحال کا نوٹس لیکر جوئے جیسے قبیح عمل کے مرتکبین اور ان کی پشت پناہی کرنے والے سیاسی رہنماؤں کے خلاف سخت کاروائی کی اپیل کی ہے،
ساہیوال:سرکاری یونیورسٹی میں طلباء وطالبات کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔۔۔؟؟؟؟
ساہیوال:یونیورسٹی آف ساہیوال میں ریسرچ کلچر کے فروغ کے لئے فکیلٹی اور سٹوڈنٹس کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جس سے طلبا و طالبات میں ریسرچ کا رحجان پیدا ہو گا اور وہ اپنی صلاحیتوں میں بہتری اور نکھار لا سکیں گے -ان خیالات کا اظہار شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر وارث علی نے سوشل سائنسز میں ریسر چ کے حوالے سے ہونے والی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں یونیورسٹی آف ساہیوال کے اساتذہ اور طلباوطالبات کے علاوہ دوسری یونیورسٹیوں سے بھی فیکلٹی ممبران نے شرکت کی-

ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ یونیورسٹی میں ریسرچ کے فروغ کے لئے پہلی بار منظم کوششیں کی جا رہی ہیں جن کا سہرا وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ناصر افضل کے سر جاتا ہے،ان کوششوں کے مثبت اثرات برآمد ہونگے اور ملکی ترقی میں یونیورسٹی آف ساہیوال بھی اہم کردار ادا کر سکے گی-انہوں نے بتایا کہ ایسی مزید ورکشاپس کا انعقاد بھی کیا جائے گا تاکہ تمام شعبوں کے طلبا و طالبات کو ریسرچ کی اہمیت اور اسے پایہ تکمیل تک پہچانے کے بارے میں مکمل رہنمائی فراہمی کی جائے-ورکشاپ کے اختتام پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ناصرافضل کے ہاتھوں شرکاءمیں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کئے گئے

ساہیوال:عوام بڑی مشکل میں پھنس گئی۔۔۔۔۔
ساہیوال:500 کے وی گرڈ اسٹیشن یوسف والا سے شہر کے تمام میپکو گرڈ سٹیشنز کو بجلی کی فراہمی معطل،بروقت پیشگی اطلاع جاری نہ ہوسکنے کی بناء پر عوام شدید مشکلات کا شکار،معمولات زندگی درہم برہم،بجلی کی فراہمی مرمتی کام کی وجہ سے معطل کی گئی،گرڈ حکام
تفصیلات کے مطابق آج علی الصبح ہی ساہیوال کے نواحی علاقے یوسف والا میں قائم 500کے وی گرڈ اسٹیشن سے ساہیوال کے تمام 132کےوی گرڈ اسٹیشنز کو بجلی کی فراہمی یکدم معطل کردی گئی،جس کی وجہ سے عوام الناس کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،گھروں میں پانی ناپید ہوگیا،لوگ سب کچھ بھول کر پانی کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہے گھروں میں خواتین ناشتہ تیار کرنے سے قاصر رہیں،اسی وجہ سے بہت سے ملازمین دفاتر میں جانے سے رہ گئے یا تاخیر سے پہنچے،جبکہ ڈی اے ای کے سالانہ امتحانات میں شرکت کرنے والے طلباء بھی شدید متاثر ہوئے،جمعہ کے دن بجلی بند ہونے سے عوام الناس نہانے دھونے سے بھی رہ گئے،گرڈ حکام کے مطابق معمول کے مرمتی کام کی وجہ سے ہونے والی بجلی کی یہ بندش طے شدہ تھی اور اس سے میپکو حکام کو آگاہ کردیا گیا تھا تاہم عوام الناس کے بقول انہیں نہ تو کسی بھی طرح سے کوئی پیشگی اطلاع دی گئی اور نہ ہی کوئی متبادل انتظام کرنے کا کہا گیا،جبکہ مقامی صحافیوں کو بھی بار بار پوچھنے پر ایس ڈی او نے انتہائی تاخیر کے ساتھ صورتحال کے متعلق آگاہ کیا،ان کا کہنا تھا کہ بس بار کنڈیکٹر کی تبدیلی کے پیش نظر یہ تعطل لگ بھگ 17 گھنٹے جاری رہے گا،این ٹی ڈی سی کی ٹیم جانفشانی سے کام کر رہی ہے اور کوشش ہے کہ کم سے کم وقت میں سارا کام مکمل ہوجائے،اس دوران شہر کو متبادل ذرائع سے وقفے وقفے سے بجلی کی فراہمی کی جاتی رہے گی،واضح رہے کہ بجلی کی تقسیم کار ان کمپنیوں کے پاس ایسی صورتحال میں عوام الناس کو قبل ازوقت اطلاع نہ دینا معمول بنتا جارہا ہے،آج پیدا ہونے والی ساری صورتحال کے ذمہ دار این ٹی ڈی سی حکام ہیں یا میپکو کے ذمہ داران یہ تو شاید معلوم نہ ہوسکے لیکن بجلی کی اس عارضی بندش نے عوام الناس کو شدید مشکلات کا سامنے کرنے پر مجبور کرکے بجلی اور واپڈا کی قدر و قیمت ضرور اجاگر کردی ہے
ساہیوال:ایک اور خاندان موت کی آغوش میں جا سویا
ساہیوال:تھانہ یوسف والا کی حدود میں نیشنل ہائی وے پر حادثہ،حادثے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک،حادثہ ڈرائیور کو نیند آنے کی وجہ سے پیش آیا،تفصیلات کے مطابق تھانہ یوسف والا کی حدود میں نیشنل ہائی وے پر لاہور سے ملتان جانے والا ٹرک مزدے سے جاٹکرایا،جس کے نتیجے میں ٹرک میں سوار تین افراد ارشد،خضر اور عثمان موقع پر ہی چل بسے،حکام کے مطابق حادثہ ڈرائیور کو نیند آنے کے باعث پیش آیا،ہلاک شدگان کا تعلق ضلع خانیوال کی تحصیل جہانیاں کے نواحی گاؤں سے بتایا جا رہا ہے

ساہیوال:پولیس نے منشیات فروش کے ساتھ کیا کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جانیے
ساہیوال:پولیس تھانہ یوسف والا کی کامیاب کاروائی،منشیات فروش رنگے ہاتھوں گرفتار،چرس کی بھاری مقدار برآمد،
تفصیلات کے مطابق پولیس کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ نواحی گاؤں 65/5L کے قریب واقع دربار بابا سرور شاہ کے آس پاس منشیات فروشی جاری ہے،جس پر ایس ایچ او تھانہ یوسف والا نے اپنی زیرنگرانی چھاپہ مار ٹیم تشکیل دی جس نے کامیاب کاروائی کرتے ہوئے مذکورہ جگہہ سے عنصر اقبال کھوکھر نامی بدنام زمانہ منشیات فروش کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرکے اس کے قبضے سے 1230گرام چرس برآمد کرلی،جبکہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش بھی شروع کردی گئی ہے
واضح رہے کہ ڈی پی او ساہیوال کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد علی ضیا کی ہدایات پر ساہیوال میں منشیات فروشوں کے خلاف آپریشن جاری ہے اور متعدد منشیات فروشوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے
ساہیوال:ایک اور سانحہ،متعدد نو مولود جاں بحق،عوام سراپا احتجاج
ساہیوال:ڈسٹرکٹ اینڈ ٹیچنگ ہسپتال کے بچگانہ وارڈ میں اے سی خراب ہونے پر انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور گرمی کی وجہ سے متعدد نو مولود بچوں کی ہلاکت،میڈیا پر خبریں آنے کے بعد انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئیں،وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کرلی،
وزیر صحت نے بھی کہا ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہوگی،
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ ٹیچنگ ہسپتال ساہیوال میں بچگانہ وارڈ کے اے سی کی خرابی پر انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور گرمی بڑھ جانے کی وجہ سے یکے بعد دیگرے متعدد نو مولود بچے زندگی کی بازی ہار گئے جس پر لواحقین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے فیصل آباد روڈ کو ہرقسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا،ہسپتال انتظامیہ نے پہلے پہل تو لواحقین پر دباؤ ڈال کر واقعہ کو دبانے کی روائتی کوششیں کی لیکن جیسے ہی یہ خبریں میڈیا پر آئیں،انتظامیہ کے مردہ گھوڑے میں گویا جان ہی نہیں بلکہ بجلی عود کر آئی،ڈپٹی کمشنر ساہیوال فوری طور پر ہسپتال پہنچے اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے دفتر کا اے سی ہنگامی طور پر چلڈرن وارڈ میں لگا دیا گیا،دوسری طرف وزیراعلی پنجاب اور اور صوبائی وزیر صحت نے بھی واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انکوائری رپورٹ طلب کرلی،ڈپٹی کمشنر ساہیوال زمان وٹو کی طرف سے حکام بالا کو بھجوائی جانے والی رپورٹ میں بائیو میڈیکل انجینئر لقمان تابش کو اے سی کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیکر معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور غفلت کے مرتکب دیگر عملہ کے خلاف کاروائی کرنے کا کہا گیا ہے،اس وقت ایڈیشنل سیکریٹری صحت رفاقت علی ہسپتال پہنچ چکے ہیں اور ان کی زیرنگرانی تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس ڈسٹرکٹ اینڈ ٹیچنگ ہسپتال کے ایم ایس آفس میں جاری ہے ایڈیشنل سیکریٹری صحت کا کہنا ہے کہ شام تک تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ جائے گی اور ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے گی
واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ ٹیچنگ ہسپتال ساہیوال ڈویژن بھر میں اپنی نوعیت کا واحد ہسپتال ہے جہاں ڈویژن کے اضلاع کے علاوہ دیگر شہروں سے بھی ہزاروں مریض روزانہ کی بنیاد پر علاج کے لیے تشریف لاتے ہیں کی گائنی وارڈ میں صرف 18 بیڈز ہیں اور اس وقت 44 کے لگ بھگ بچے زیر علاج ہیں،یاد رہے کہ اس ہسپتال میں بدانتظامی اور ڈاکٹرز کی طرف سے ڈیوٹی میں عدم دلچسپی کی بازگشت اکثر اوقات سنائی دی جاتی رہی ہے،عوامی حلقوں میں تحقیقاتی کمیٹی اور اس کی رپورٹس پر عدم اعتماد اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ اس سے قبل سانحہ ساہیوال کے معاملے پر بھی ایسے ہی کئی اعلانات کیے گئے اور کمیٹیاں بنائیں گئیں تھیں لیکن ابھی تک لواحقین انصاف کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں
ساہیوال:محکمہ لائیوسٹاک نے کیا کارنامہ سر انجام دیا؟؟
ساہیوال:ڈائریکٹر لائیو سٹاک ڈاکٹر غلام مصطفٰی نے کہا ہے کہ منہ کْھر جانوروں کی موذی اور وبائی مرض ہے جس سے کسانوں کو بہت زیادہ مالی نقصان پہنچتا ہے. محکمہ لائیوسٹاک اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے اشتراک سے منہ کھْر کے خاتمہ کیلئے مستعدی سے عمل پیرا ہے اوراس پراجیکٹ کے تحت ضلع ساہیوال میں منہ کھْرکے حفاظتی ٹیکوں کی چوتھی اور آخری مہم مکمل ہو چکی ہے.ان خیالات کا اظہار انہوں نے FAO پاکستان کے نمائندہ ڈاکٹر ارشد محمود کی جانب سے منہ کھْر کی ویکسین کی چوتھی مہم سے متعلقہ امور کا جائزہ لینے بارے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا.اس موقع پر ڈاکٹر ثمرین کوثر ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیوسٹاک ساہیوال،ڈاکٹر رفاقت علی ڈپٹی ڈائریکٹر لائیوسٹاک تحصیل چیچہ وطنی اور ڈاکٹر شفاقت علی ڈپٹی ڈائریکٹر لائیوسٹاک تحصیل ساہیوال بھی موجود تھے.ڈاکٹر ارشد محمود نے ویکسین کی آمد اور پھر تحصیل سٹور سے کولیکشن سنٹرز تک ترسیل کے نظام،کولڈچین،ویکسین ریکارڈ کی دستیابی،دوران مہم انسپکشن کے طریقہ کار, حفاظتی ٹیکہ جات کی مہم کے آغاز سے پہلے اور دوران مہم منہ کھْر بارے آگاہی,لوگوں کے پراجیکٹ بارے تاثرات اور دیگر متعلقہ امور بارے تفصیلی گفتگو کی. اس موقع پر ڈاکٹر ثمرین کوثر کا کہنا تھا کہ منہ کھْر کی بیماری جانوروں کی اچھی صحت اور زیادہ پیداوار کی دشمن ہے.اور الحمدللہ اس پراجیکٹ کے تحت ہر چھ ماہ بعد جانوروں کو منہ کھْر کا حفاظتی ٹیکہ لگنے سے ساہیوال ڈویژن بالخصوص ضلع ساہیوال سے اس وبائی مرض کا خاتمہ ہو گیا ہے.اور اس طرح یقیناً محکمہ لائیوسٹاک جانوروں کو منہ کھْر سے بچا کر اپنے کسانوں کے مالی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنا رہا ہے.میٹنگزکے بعد نمائندہ FAO ڈاکٹر ارشد محمود نے ڈپٹی ڈائریکٹر لائیوسٹاک تحصیل ساہیوال ڈاکٹر شفاقت علی کے ہمراہ سول ویٹرنری ہسپتال ہڑپہ,سول ویٹرنری ڈسپنسری آر-96/6 اور سول ویٹرنری ڈسپنسری آر-99/6 کا دورہ کرکے وہاں موجود منہ کھْر ویکسین سے متعلقہ تمام ریکارڈ اور ویکسین سٹوریج کا تنقیدی جائزہ لیا.اس کے بعد انہوں نے ویکسین کی مزید تصدیق کیلئے فیلڈ انسپکشن کی اور کسانوں کے تاثرات بھی نوٹ کیے.اس دورہ کے اختتام پر ڈاکٹر ارشد محمود کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں مکمل ویکسین ریکارڈ کی موجودگی اور فیلڈ انسپکشن کے دوران کسانوں کی جانب سے منہ کھْر کے ٹیکے لگنے کی تصدیق اس بات کا ثبوت ہے کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیوسٹاک ساہیوال ڈاکٹر ثمرین کوثر کی تمام ٹیم نے اس پراجیکٹ کے ثمرات کو کسانوں تک باہم پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔

ساہیوال:محکمہ صحت کے ملازمین کٹہرے میں۔۔۔۔۔
ساہیوال:وزیراعظم سٹیزن پورٹل سے شکایت موصول ہونے پر شفقت اللہ مشتاق ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ساہیوال نے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ،اکاؤٹنٹ محمد ارشد اور دیگر الزام علیہان محکمہ صحت ساہیوال کو پنشن کیس دبائے جانے کے الزام پر طلب کر کے تفصیلاً سماعت کیا اور بعد از سماعت رانا زاہد انسپکٹر ہیڈ کوارٹر اینٹی کرپشن ساہیوال کو حکم دیا کہ وہ اس معاملے کی مکمل چھان بین کرے کہ آیا کتنے لوگوں کے پنشن کے کیس بلا جواز تاخیر کا شکار یا دبائے گئے ہیں اور متعلقہ لوگوں کے بیانات قلمبند کر کے مفصل رپورٹ جلد از جلد دے.

ساہیوال:ڈپٹی کمشنر کی طرف سے کسانوں کے لیے خوشخبری
ساہیوال:ڈپٹی کمشنر ضلع ساہیوال محمد زمان وٹو نے کہاہے کہ زراعت کی ترقی سے ہی ملک کی اقتصادی ترقی اور عوام کی خوشحالی ممکن ہے جس کے لئے دوررس اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں،چھوٹے کسانوں کے مسائل حل کرنے اور انہیں معیاری زرعی ادویات،بیج اور کھادوں کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا رہی ہے جس کے لئے ہر سطح پر چیکنگ کا عمل تیز کیا گیاہے-انہوں نے یہ بات اپنے دفتر میں ڈسٹرکٹ ایگریکلچر ایڈوائزری کمیٹی کے اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں محکمہ زراعت کے ضلعی افسران،کسان تنظیموں کے نمائندوں اور متعلقہ شعبوں کے افسران نے شرکت کی-انہوں نے محکمہ زراعت کی فیلڈ فارمیشنرز پر زور دیا کہ وہ کسانوں سے قریبی رابطہ رکھیں اور ان کے مسائل کو فوری حل کریں -اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے کسانوں کو سہولت کارڈز کے ہدف میں سے اب تک 22ہزار616کسانوں کو کارڈجاری کئے جا چکے ہیں،ڈپٹی کمشنر محمد زمان وٹو نے مہم کو تیز کرنے کی ہدایت کی تاکہ تمام اہل کسانوں کو کارڈز جاری ہو سکیں اور ان کو سستے قرضوں کی سہولت دستیاب ہو-انہوں نے زرعی ادویات اور کھادوں کی سمپلنگ کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ جن دوکانداروں کے سمپل فیل ہوئے ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی بھر پور پیروی کی جائے تاکہ انہیں سزا دی جا سکے اور زمیندار نقصان سے بچ جائیں










