Baaghi TV

Category: سرگودھا

  • وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے سرگودھا پریس کلب کے لئے 50 لاکھ روپے کی گرانٹ

    وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے سرگودھا پریس کلب کے لئے 50 لاکھ روپے کی گرانٹ

    سرگودھا،باغی ٹی وی(نامہ نگارملک شاہنواز جالپ )وزیر اعلیٰ پنجاب سیدمحسن نقوی کی جانب سے سرگودھا پریس کلب کے لئے 50 لاکھ روپے کی گرانٹ،صدر پریس کلب، عہدیداران و ارکان کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے زبردست اظہار تشکر

    نگران وزیر اعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی نے سرگودھا پریس کلب کے لیے 50 لاکھ روپے کی گرانٹ جاری کر دی ہے۔گرانٹ کا چیک گذشتہ روز صدر سرگودھا پریس کلب مہر آصف حنیف اور جنرل سیکرٹری راناساجداقبال نے وزیر اعلیٰ ہاو¿س لاہور میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران وصول کیا۔اس موقع پروفاقی وزیر اطلاعات مرتضے سولنگی اور صوبائی وزیر اطلاعات عامر میر بھی موجود تھے۔

    مہر آصف حنیف اور رانا ساجد اقبال نے وزیراعلیٰ کو سرگودھا میں صحافی کالونی کے قیام کے لئے درخواست پیش کی جس پر وزیر اعلیٰ نے وعدہ کیا کہ صحافی کالونی سرگودھا کے صحافیوں کا حق ہے اور اس کے قیام کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

    اس موقع پر پنجاب کے دیگر پریس کلبوں کے عہدیدار بھی موجود تھے۔وزیر اعلیٰ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافی دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر آگے بڑھیں اور ملکی سلامتی، معاشی ترقی اور جمہوریت کے استحکام کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔آنے والا دور ڈیجیٹل میڈیا کا ہے اب اخبار اور ٹی وی کا دور ختم ہو رہا ہے۔صحافی ڈیجیٹل میڈیا کی تربیت حاصل کریں۔

    انہوں نے کہا کہ ان گرانٹس سے پریس کلبوں میں جدید طرز کے سٹوڈیو اور الیکٹرونکس انسٹرومنٹ وغیرہ خریدے جائیں۔اس سے نہ صرف انہیں اپنی آواز بلند کرنے اور مسائل کی نشاندہی کا موقع ملے گابلکہ انہیں خدمات کا بہتر معاوضہ مل سکے گا۔

    وزیراعلیٰ نے مجموعی طور پر پنجاب بھر کے پریس کلبوں میں 9کروڑ 45 لاکھ روپے گرانٹ کے چیک تقسیم کئے۔ صدر مہر آصف حنیف اور جنرل سیکرٹری راناساجداقبال نے وفاقی وزیر مرتضے سولنگی اور صوبائی وزیر اطلاعات حامد میر کو سرگودھا پریس کلب آمد کی دعوت دی۔انہوں نے یہ دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہہ وہ جلد یہ دورہ کریں گے۔

    صدر کلب نے سرگودھا پریس کلب کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور صحافیوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی پر ڈائریکٹر تعلقات عامہ سرگودھا ڈویژن احمد نعیم ملک کے تعاون کو بھی سراہا۔

    سرگودھا پریس کلب کے لئے 50 لاکھ کی گرانٹ کا چیک موصول ہونے پر عہدیداران اور ممبران کلب نے وزیر اعلیٰ اوروفاقی و صوبائی وزیر اطلاعات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں پہلی دفعہ کسی وزیر اعلیٰ نے صحافیوں کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔

  • آر او آفس میں جھگڑا،ن لیگ نے پی ٹی آئی والوں پر مقدمہ کروا دیا

    آر او آفس میں جھگڑا،ن لیگ نے پی ٹی آئی والوں پر مقدمہ کروا دیا

    عام انتخابات،سرگودھا میں آر او آفس میں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی وکلا کے درمیان جھگڑے کا معاملہ،ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    پی ٹی آئی امیدوارشفقت اعوان اور اس کے حامی وکلا کے خلاف مقدمہ تھانہ کینٹ میں ن لیگی کارکن غلام محمد کی مدعیت میں درج کرایاگیاہے۔ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا کہ پی پی 74 کے لیے برائے کاغذات نامزدگی موجود تھے پی ٹی آئی کے امیدوار شفقت عباس اعوان نے 30مسلح ساتھیوں کے ساتھ حملہ کردیااورلیگی کارکنوں نے کمشنر آفس کے کمروں میں گھس کر بڑی مشکل سے جان بچائی،گزشتہ روز پی پی 74 کے آرو آفس میں پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکنوں میں ہاتھا پائی ہوئی تھی جس کے بعد پی ٹی آئی کارکنوں پر مقدمہ درج کر لیاگیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ریٹرننگ آفیسر سرگودھا کے دفتر میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان میں تصادم ہوگیا تھا،تصادم کے دوران سیاسی کارکنوں نے ایک دوسرے پر تھپڑوں اور مکوں کی بارش کردی، تحریک انصاف کے کارکنان نے محسن شاہ نواز رانجھا کی گاڑی کو روک لیاوہ کاغذات نامزدگی جمع کروانے آئے تھے،اس دوران محسن شاہنواز رانجھا اور پی ٹی آئی کے رہنما شفقت عباس بلوچ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا،واقعہ کے بعد محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی وکلا نے گالم گلوچ میں پہل کی لیگی کارکنوں کا غصہ ٹھنڈا کیا ورنہ بات بڑھ جاتی، میں خود وکیل ہوں وکیل میرے بھائی ہیں ان کا احترام کرتا ہوں۔

    شفقت اعوان ،امیدوار کا کہنا تھا کہ میری عمران خان سے پانچ چھ بار ملاقات ہوئی، ان ملاقاتوں میں عمران خان نے ہمیشہ اداروں کے احترام کی بات کی، نو مئی کے واقعات پاکستان کے خلاف سازش ہیں،یہ سازش جلد بے نقاب ہو گی،میں تحریک انصاف سے الیکشن لڑنے کا خواہشمند ہوں، اس بیان کے بعد اگر میرا کوئی اور بیان آئے تو وہ میرا اپنا نہیں ہو گا،

    دوسری جانب،سرگودھا سے پی ٹی آئی کے امیدوار کو کاغذات نامزدگی نہ دینے کا معاملہ،لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر یا الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی،جسٹس علی باقر نجفی نے اسامہ احمد میلہ کی درخواست پر سماعت کی،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار پی ٹی آئی کا امیدوار ہے،وہ کاغذات نامزدگی لینا چاہتا ہے، پولیس اور سیکورٹی ادارے اسکو کاغذات نامزدگی لینے نہیں دے رہے۔ متعلقہ آر او بھی کاغذات نامزدگی نہیں فراہم کر رہے ۔عدالت اسکو کاغذات نامزدگی فراہم کرنے کا حکم دے،

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

  • نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی زیادتی کا شکار ڈھائی سالہ بچی کی عیادت

    نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی زیادتی کا شکار ڈھائی سالہ بچی کی عیادت

    سرگودھا میں زیادتی کا شکار ڈھائی سالہ بچی کی نگراں وزیراعلیٰ پنجاب نے اسپتال جاکر متاثرہ کی عیادت اور والدین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی متاثرہ بچی حلیمہ فاطمہ کی عیادت کیلیے ڈی ایچ کیو سرگودھا اسپتال پہنچے اور والدین و متاثرہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیامحسن نقوی نے انتظامی افسران کو بچی کی ہر ممکن مدد کی فراہمی کی ہدایت کی بچوں کے خلاف زیادتی کے واقعات ہونا افسوسناک ہے، پنجاب پولیس بہترین اندازمیں کام کررہی ہے کوشش ہےکہ ملزم کو سخت سے سخت سزاملے، قانون پرعمل درآمد یقینی بنایا جارہا ہے، ملزم کوایسی سزادی جائےکہ کوئی دوبارہ ایسےجرم کا نہ سوچے،ساتھ وزیراعلیٰ نے اسپتال کے مختلف وارڈز کا معائنہ کیا اور مریضوں اور ان کے لواحقین سے فراہم سہولیات کے بارے معلومات حاصل کیں –

    لون ایپلیکیشن کی آڑ میں خواتین کو بلیک میل کرنے والا گروہ پکڑا گیا

    sargodha
    واضح رہے کہ سال 2021 میں بھی سرگودھا ریجن کے علاقہ میانوالی کے علاقہ میں اڑھائی سالہ بچی کو اوباش نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا تھا جس کی اطلاع پر تھانہ صدر پولیس نے واقعہ رپورٹ کر کے متاثرہ بچی کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا تھا اور واردات میں ملوث ملزم کو حراست میں لے کر کارروائی کی تھی، پولیس کا کہنا تھا کہ واقعہ کی میرٹ پر تفتیش کرتے ہوئے مقدمہ کو حقائق کی روشنی میں یکسو کیا جائے گا ڈی پی او میانوالی کا کہنا تھا کہ ملزم کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کئے جائیں گے۔

    انسانی اسمگلنگ میں ملوث ملزم چین سے واپسی پر ایئرپورٹ سے گرفتار

    ہسپتال یا ریپ کا مرکز،خاتون کے ساتھ ڈاکٹر سمیت طبی عملے کی زیادتی،ویڈیو بھی …

  • سرگودھا میں 5 شادی ہالز پر جرمانہ عائد

    سرگودھا میں 5 شادی ہالز پر جرمانہ عائد

    سرگودھا میں ون ڈش کی خلاف ورزی پر 5 شادی ہالز مالکان پر جرمانہ عائد کردیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق شاہپور میں 6، سرگودھا میں 16 اور چھوٹا ساہیوال میں 5 شادی ہالز کا معائنہ کیا گیا۔جس میں ون ڈش کے خلاف ورزی کرتے ہوئے شادی ہالز پر 2 لاکھ 50 ہزار روپے کا جرمانی عائد کر دیا،
    ڈپٹی کمشنر کے مطابق کوٹ مومن، بھلوال اور بھیرہ میں ایک ایک شادی ہال کو جرمانہ کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق سرگودھا میں ون ڈش کی خلاف ورزی پر 2 شادی ہالز پر جرمانے کیے گئے۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق سلانوالی میں 5، کوٹ مومن 4، بھلوال 11 اور بھیرہ میں 6 شادی ہالز کا جائزہ لیا گیا۔

  • ممتاز مذہبی شخصیت محمد حسین نجفی 91 سال کی عمرمیں انتقال کرگئے

    ممتاز مذہبی شخصیت محمد حسین نجفی 91 سال کی عمرمیں انتقال کرگئے

    سرگودھا: ممتاز مذہبی شخصیت آیت اللہ العظمی علامہ محمد حسین نجفی 91 سال کی عمر میں اسلام آباد میں انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی : علامہ محمد حسین نجفی کے انتقال کی تصدیق ان کے اہلخانہ کی جانب سے کی گئی اور مرحوم کی نماز جنازہ آج شام 6 بجےمدرسہ سلطان المدارس میں اداکی جائےگی،آیت اللہ العظمی علامہ محمد حسین نجفی کا انتقال اسلام آباد کے اسپتال میں ہوا، ان کا تعلق سرگودھاکےنواحی گاؤں زاہدکالونی سے تھا وہ ان 1932 میں پاکستان میں پیدا ہوئے، پاکستان کے شیعہ مرجع مجتہد تھے اور برِصغیر کے شیعہ مراجع میں آیت اللہ سید علی نقی نقوی لکھنوی کے بعد مقامِ مرجعیت پر فائز ہوئے –

    الیکشن کمیشن کا نئی حلقہ بندیاں کرانے کا نوٹیفکیشن لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

    علامہ محمد حسین نجفی کو محمد حسین ڈھکو کے نام سے جانا جاتا تھا ان کی تحریر کردہ کتب میں اثبات الامامۃ، تفسیر فیضان الرحمن شامل ہیں،مسائل الشریعہ اردو ترجمہ وسائل الشیعہ، شرح اردو اعتقادات شیخ صدوق بھی ان کی تصنیفات میں شامل ہیں علامہ محمد حسین نجفی نے مدرسہ سلطان المدارس الاسلامیہ اور جامعہ علمیہ عقیلہ بنی ہاشم کی بنیادیں رکھیں،محمد حسین نجفی سرگودھا اور پنجاب کے دیگر شہروں میں مدارس کی سرپرستی کر رہے تھے-

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کیلئےاسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم

    ان کے انتقال پرعلامہ ساجد حسین نقوی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ محمد حسین نجفی کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

  • کمسن ملازمہ پر تشدد ، ٹانگیں اور بازو توڑ دیئے

    کمسن ملازمہ پر تشدد ، ٹانگیں اور بازو توڑ دیئے

    سرگودھا: مبینہ طور پر جوڈیشل افسر اسلام آباد کی اہلیہ نے14 سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد کیا ہے

    واقعہ کی اطلاع ملنے پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سرگودھا، ایس پی انوسٹی گیشن، اے ایس پی سٹی سرگودھا خود ہسپتال پہنچ گئے، چک 88 شمالی کی 14 سالہ رضوانہ کو اس کے والدین نے مختار نامی شخص کے ذریعے اسلام آباد میں ملازمت دلوائی، مضروب لڑکی کے والدین کے مطابق اس کو جوڈیشل افسر اسلام آباد کی اہلیہ نے زیور چوری کا الزام لگا کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا، ہسپتال ذرائع کے مطابق بچی کے سر، چہرے اور جسم پر تشدد سے بنے ہونے زخم اور نشانات موجود ہیں مبینہ طور پر بچی کی تشدد سے حالت غیر ہونے پر جوڈیشل افسر کی اہلیہ نے اس کے والدین کو بلا کر بچی ان کے حوالے کی

    تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی، بچی کو DHQ سرگودھا میں ہر ممکن طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے،مزید اچھی طبی سہولیات کے لئے دیگر ہسپتال منتقلی کے لئے ایمبولینس کی سہولت بھی مہیا کر دی گئی ہے،ڈی پی او سرگودھا کی ہدایت پر ایس پی انوسٹی گیشن، اسلام آباد پولیس سے رابطے میں رہ کر قانونی تقاضے پورے کر رہے ہیں،سرگودھا پولیس اس سارے معاملے میں مضروب لڑکی اور اس کے ورثاء کو مکمل قانونی معاونت فراہم کر رہی ہے۔

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    قبل ازیں ایک اور واقعہ میں اقبال ٹاؤن کے علاقے میں 10 سالہ بچی فاطمہ فرحان نامی شخص کے گھر پر تین ماہ سے گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھی۔ ظالم مالکن اور اسکا شوہر فرحان بچی پر تشدد کرتے تھے۔اطلاع ملنے پر پولیس نے بچی کو بازیاب کر کے تشدد کرنے والے میاں بیوی کو حراست میں لے لیا، متاثرہ بچی فاطمہ کا کہنا تھا کہ مالکن اس پر تشدد کرتی اور والدین سے بات نہیں کرواتی تھی۔پولیس کا کہنا ہے گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے

  • ہم کو شاہوں کی عدالت کی توقع تو نہیں، آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلا دیتے ہیں

    ہم کو شاہوں کی عدالت کی توقع تو نہیں، آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلا دیتے ہیں

    ہم کو شاہوں کی عدالت کی توقع تو نہیں
    آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلا دیتے ہیں

    احمد ندیم قاسمی

    احمد ندیم قاسمی کا خاندانی نام احمد شاہ جو پیر غلام نبی شاہ کے صاحبزادے تھے ۔ 20 نومبر 1916 ء کو انگہ تحصیل خوشاب ، ضلع سرگودھا ، پنجاب (پاکستان) میں پیدا ہوئے ۔ خشونت سنگھ بھی خوشاب کے رہنے والے تھے ۔ ان کے قبیلے کو اعوان کہا جاتا ہے ۔ جب احمد ندیم 8 سال کے ہی تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا ۔ انہوں نے والد کے انتقال کے ایک سال بعد انگہ کی مسجد میں قرآن کی تعلیم حاصل کی اور وہیں سے پرائمری اسکول کا امتحان پاس کیا ۔ بی اے کرنے کے بعد ان کی پہلی نظم محمد علی جوہر شائع ہوئی تھی ۔ کئی لوگوں نے اس نظم کے بارے میں لکھا ہے کہ 15 سال کی عمر میں لکھی گئی ہے لیکن غلط ہے ۔

    یتیمی نے انہیں زندگی کی چکی میں پسنے کے لئے اس طرح مجبور کردیا کہ انہیں جو بھی کام ملتا گیا ، کرتے گئے ۔ اس کے آگے کا راستہ ڈھونڈتے رہے ۔ ایسی حالت نے ان کے جینے کے انداز کو نیا کردیا ۔ ندیم کی زندگی جی کر اس سے جو تلخ تجربات حاصل کئے ، اس کو زمانے کے سامنے اپنی تحریر سے ظاہر کرتے رہے ۔

    پہلی نوکری احمد ندیم قاسمی نے لاہور میں ریفارم کمشنر کے دفتر میں محرر کے طور پر کی ۔ اس وقت انھیں وہاں سے صرف 20 روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی ۔ٹیلی فون آپریٹر کا بھی کام کیا ۔ چند سال کسٹم میں بھی رہے ۔ اس کے بعد پشاور ریڈیو اسٹیشن پر اسکرپٹ رائٹرکی حیثیت سے بھی کام کیا۔ ایک خاص بات 14 اگست 1947ء کو جب پاکستان آزاد ہوا تو اس وقت وہ اسی ریڈیو اسٹیشن پر تھے ۔ پشاور ریڈیو نے اپنے پروگرام کا آغاز احمد ندیم قاسمی کے لکھے ترانے سے کیا ۔

    انہوں نے ادب کے تمام صنفوں میں طبع آزمائی کی ، غزلیں لکھیں ، افسانے لکھے ، صحافی کا کام کیا ۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے آخری جنرل سکریٹری رہے ۔ تحقیق و تنقید میں بھی بڑا نام کیا ۔ بچوں کے ادب میں کام کیا ۔ ان کی موت تک 17 افسانوی مجموعے ، 8 شعری مجموعے ، 3 تحقیق و تنقید ، 6 ترجمے اور 3 بچوں کے لئے کتابیں لکھیں ۔ اخبار کے کالم اور اداریہ کی تعداد تو بے شمار ہیں جو شائع ہونے سے رہ گئے ۔

    اس سلسلے میں ان کا خاص کام ’’فنون‘‘ کی ادارت تھی جو ملک کیا بیرون ملک میں بھی پڑھا جاتا تھا ۔ اس کی آخری عمر تک سرپرستی کی ، مختلف روزناموں میں کالم لکھا ۔ امروز ، ہلال پاکستان ، لاہور ، احسان ، جنگ کراچی میں مختلف عنوانات سے کالم لکھتے رہے ۔ انہوں نے فرضی نام سے مختلف سیاسی کالم لکھے ۔ اس دوران انہوں نے پاکستان کی کئی نسلوں کی رہنمائی کی ۔ ابتداء میں مسلم لیگ سے جڑے رہے ، پھر ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوئے ۔ لیکن ان کے خیالات جب ترقی پسندوں سے میل نہیں کھانے لگے تو اسے بھی چھوڑ دیا ۔ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کو بھی ناپسند کیا ۔ 1951 ء میں آپ کو نظر بند رکھا گیا ۔

    فلموں کے ڈائیلاگ اور گانے بھی لکھے ۔ مختلف اعزازات اور انعام سے انہیں نوازا گیا جس میں پاکستانی ادب کا انعام ’ستارہ امتیاز‘ پاکستان اور آدم جی ایوارڈ بھی انہیں ملا ۔ شاعری کے میدان میں بہت اچھے اچھے اشعار کے خالق بنے ۔ انھوں نے پاکستان ، سعودی عرب ، عرب امارات اور مغربی ممالک کے سینکڑوں مشاعروں اور سمیناروں میں شرکت کرکے اپنے ملک کا نام روشن کیا ہے ۔ میں نے ان کی شاعری کے برمحل اشعار کا انتخاب کیا ہے جو میری مستقبل میں آنے والی کتاب برمحل اشعار (حصہ دوم) میں شامل ہیں ۔
    انداز ہو بہو تری آوازِ پا کا تھا
    دیکھا اسے پلٹ کے تو جھونکا ہوا کا تھا
    (جدید اردو غزل بخط شاعر خود ص 79)
    آپ سے جھک کے جو ملتا ہوگا
    اس کا قد آپ سے اونچا ہوگا
    (جدید اردو غزل بخط شاعر خود ص 13)
    کون کہتا ہے موت آئی تو مرجاؤں گا
    میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
    (جدید اردو غزل بخط شاعر خود ص 20)
    شب وصال ہے گل کردو ان چراغوں کو
    خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا
    (مشہور اشعار ص 206)
    دائم آباد رہے گی دنیا
    ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا
    (مشہور اشعار ص 206)
    ہم کو شاہوں کی عدالت کی توقع تو نہیں
    آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلادیتے ہیں
    (اردو غزل ص 294)
    عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
    یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
    (ضرب المثل ص 51)
    اور یہ شعر ہمارے ذہن میں برسوں سے محفوظ ہے لیکن مآخذ نہیں ملا ۔ پاکستانی شعراء کے مجموعے یہاں دستیاب نہیں ہیں ۔ اس لئے میں انہیں پڑھ نہیں سکا ۔ ہاں پاکستان میں ان کے مجموعے جلال و کمال ، محیط ، دوام ، رم جھم ، شعلہ گل ، دشت وفا ، لوح خاک ، کے نام سے شائع ہو کر مقبول ہوچکے ہیں ۔ ان کے تبصرے میں نے پڑھے ہیں ۔ ان کے چیدہ چیدہ اشعار ہمارے مطالعے میں رہے ۔ رسالوں میں غزلیں بھی پڑھیں ہیں۔ ٹی وی پر مشاعرے میں نے پڑھتے ہوئے سنا بھی ہے۔

    یاد رکھو تو دل کے پاس ہیں ہم
    بھول جاؤ تو فاصلے ہیں بہت

    ان کے ان اشعار کی خاص حوبی لفظیات کی برکھارت کی ٹھنڈی بجلیاں ہیں ،جس سے پڑھنے والوں کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ جاتی ہے ۔ حقائق کی پردہ کشائی بڑی احتیاط سے کرتے ہیں ۔ کبھی معنی کو ننگا نہیں ہونے دیتے ۔ یہ سننے والوں کے دل میں گھر کرجاتی ہے ۔

    احمد ندیم قاسمی ترقی پسندوں کی نسل سے ابھرنے والے شاعروں میں کافی تیز و طرار تھے ۔ انہوںنے بدلتے رجحانات سے پیدا ہونے والے کرب کو اپنی شاعری میں شامل ہونے نہیں دیا جس کی وجہ سے محرومی اور نارسائی نے اس جدید نسل کو اپنی ذات کے غم سمیٹنے پر مجبور کردیا تھا ۔ کسی نے شراب پینے میں زندگی تباہ کردی ۔ کوئی ریل کے آگے آکر مرگیا ۔ کسی نے دنیاسے علحدگی حاصل کرلی ۔
    احمد ندیم قاسمی بہت دنوں تک دمے کے مرض سے پریشان رہے ۔ موت سے دو روز قبل پتہ چلا کہ انہیں انجائنا ہوگیا ہے ۔ لاہور کے اسپتال میں لے جائے گئے مگر وہ بچ نہیں سکے ۔ پاکستان کا یہ شاعر اپنے ہزاروں شیدائی اور علمائے ادب کو چھوڑکر 10 جولائی 2006 ء کو اس دار فانی سے کوچ کرگیا۔ ان کی خواہش کے مطابق مرکر بھی ان کی موت بے کار نہیں جائے گی ۔ ندیم ہم جیسے لاکھوں ادب نوازوں کو ایک نئی راہ دکھاتے رہیں گے ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
    میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
    تیرا در چھوڑ کے میں اور کدھر جاؤں گا
    گھر میں گھر جاؤں گا صحرا میں بکھر جاؤں گا
    تیرے پہلو سے جو اٹھوں گا تو مشکل یہ ہے
    صرف اک شخص کو پاؤں گا جدھر جاؤں گا
    اب ترے شہر میں آؤں گا مسافر کی طرح
    سایۂ ابر کی مانند گزر جاؤں گا
    تیرا پیمان وفا راہ کی دیوار بنا
    ورنہ سوچا تھا کہ جب چاہوں گا مر جاؤں گا
    چارہ سازوں سے الگ ہے مرا معیار کہ میں
    زخم کھاؤں گا تو کچھ اور سنور جاؤں گا
    اب تو خورشید کو گزرے ہوئے صدیاں گزریں
    اب اسے ڈھونڈنے میں تا بہ سحر جاؤں گا
    زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیمؔ
    بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    انداز ہو بہو تری آواز پا کا تھا
    دیکھا نکل کے گھر سے تو جھونکا ہوا کا تھا
    اس حسن اتفاق پہ لٹ کر بھی شاد ہوں
    تیری رضا جو تھی وہ تقاضا وفا کا تھا
    دل راکھ ہو چکا تو چمک اور بڑھ گئی
    یہ تیری یاد تھی کہ عمل کیمیا کا تھا
    اس رشتۂ لطیف کے اسرار کیا کھلیں
    تو سامنے تھا اور تصور خدا کا تھا
    چھپ چھپ کے روؤں اور سر انجمن ہنسوں
    مجھ کو یہ مشورہ مرے درد آشنا کا تھا
    اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر
    عادی فنا کا تھا تو پجاری بقا کا تھا
    ٹوٹا تو کتنے آئنہ خانوں پہ زد پڑی
    اٹکا ہوا گلے میں جو پتھر صدا کا تھا
    حیران ہوں کہ وار سے کیسے بچا ندیمؔ
    وہ شخص تو غریب و غیور انتہا کا تھا

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جس بھی فن کار کا شہکار ہو تم
    اس نے صدیوں تمہیں سوچا ہوگا

    آخر دعا کریں بھی تو کس مدعا کے ساتھ
    کیسے زمیں کی بات کہیں آسماں سے ہم

    کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
    میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

    کچھ کھیل نہیں ہے عشق کرنا
    یہ زندگی بھر کا رت جگا ہے

    میں نے سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے
    تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی

    مر جاتا ہوں جب یہ سوچتا ہوں
    میں تیرے بغیر جی رہا ہوں

    مسافر ہی مسافر ہر طرف ہیں
    مگر ہر شخص تنہا جا رہا ہے

    اس وقت کا حساب کیا دوں
    جو تیرے بغیر کٹ گیا ہے

    صبح ہوتے ہی نکل آتے ہیں بازار میں لوگ
    گٹھریاں سر پہ اٹھائے ہوئے ایمانوں کی

    خدا کرے کہ تری عمر میں گنے جائیں
    وہ دن جو ہم نے ترے ہجر میں گزارے تھے

    زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیمؔ
    بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا

    اک سفینہ ہے تری یاد اگر
    اک سمندر ہے مری تنہائی

    آج کی رات بھی تنہا ہی کٹی
    آج کے دن بھی اندھیرا ہوگا

    تجھ سے کس طرح میں اظہار تمنا کرتا
    لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی

    انداز ہو بہ ہو تری آواز پا کا تھا
    دیکھا نکل کے گھر سے تو جھونکا ہوا کا تھا

    اتنا مانوس ہوں سناٹے سے
    کوئی بولے تو برا لگتا ہے

    میں کشتی میں اکیلا تو نہیں ہوں
    مرے ہم راہ دریا جا رہا ہے

    اک عمر کے بعد مسکرا کر
    تو نے تو مجھے رلا دیا ہے

    ساری دنیا ہمیں پہچانتی ہے
    کوئی ہم سا بھی نہ تنہا ہوگا

    دل گیا تھا تو یہ آنکھیں بھی کوئی لے جاتا
    میں فقط ایک ہی تصویر کہاں تک دیکھوں

    کس توقع پہ کسی کو دیکھیں
    کوئی تم سے بھی حسیں کیا ہوگا

    جنت ملی جھوٹوں کو اگر جھوٹ کے بدلے
    سچوں کو سزا میں ہے جہنم بھی گوارا

    بھری دنیا میں فقط مجھ سے نگاہیں نہ چرا
    عشق پر بس نہ چلے گا تری دانائی کا

    مجھ کو دشمن کے ارادوں پہ بھی پیار آتا ہے
    تری الفت نے محبت مری عادت کر دی

    پا کر بھی تو نیند اڑ گئی تھی
    کھو کر بھی تو رت جگے ملے ہیں

    ان کا آنا حشر سے کچھ کم نہ تھا
    اور جب پلٹے قیامت ڈھا گئے

    میں تیرے کہے سے چپ ہوں لیکن
    چپ بھی تو بیان مدعا ہے

    فریب کھانے کو پیشہ بنا لیا ہم نے
    جب ایک بار وفا کا فریب کھا بیٹھے

    مرے خدا نے کیا تھا مجھے اسیر بہشت
    مرے گنہ نے رہائی مجھے دلائی ہے

    مجھے منظور گر ترک تعلق ہے رضا تیری
    مگر ٹوٹے گا رشتہ درد کا آہستہ آہستہ

    تو نے یوں دیکھا ہے جیسے کبھی دیکھا ہی نہ تھا
    میں تو دل میں ترے قدموں کے نشاں تک دیکھوں

    عجب تضاد میں کاٹا ہے زندگی کا سفر
    لبوں پہ پیاس تھی بادل تھے سر پہ چھائے ہوئے

    مرا وجود مری روح کو پکارتا ہے
    تری طرف بھی چلوں تو ٹھہر ٹھہر جاؤں

    خود کو تو ندیمؔ آزمایا
    اب مر کے خدا کو آزماؤں

    لوگ کہتے ہیں کہ سایا ترے پیکر کا نہیں
    میں تو کہتا ہوں زمانے پہ ہے سایا تیرا

    عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
    یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ

    شام کو صبح چمن یاد آئی
    کس کی خوشبوئے بدن یاد آئی

    آغوش میں مہکوگے دکھائی نہیں دو گے
    تم نکہت گلزار ہو ہم پردۂ شب ہیں

    کس دل سے کروں وداع تجھ کو
    ٹوٹا جو ستارہ بجھ گیا ہے

    جکڑی ہوئی ہے ان میں مری ساری کائنات
    گو دیکھنے میں نرم ہے تیری کلائیاں

    ہر لمحہ اگر گریز پا ہے
    تو کیوں مرے دل میں بس گیا ہے

    تم مرے ارادوں کے ڈولتے ستاروں کو
    یاس کے خلاؤں میں راستہ دکھاتے ہو

    غم جاناں غم دوراں کی طرف یوں آیا
    جانب شہر چلے دختر دہقاں جیسے

    یکساں ہیں فراق وصل دونوں
    یہ مرحلے ایک سے کڑے ہیں

  • باپ نے ایک ماہ کا بچہ ایک لاکھ میں فروخت کر کے اغوا کا درج کروایا مقدمہ

    باپ نے ایک ماہ کا بچہ ایک لاکھ میں فروخت کر کے اغوا کا درج کروایا مقدمہ

    غربت سے تنگ نوجوان نے ایک ماہ 8 دن کا بچہ ایک لاکھ 20 ہزار روپے میں فروخت کر کے بیوی کو مطمئن کرنے کیلئے تھانہ میں بچے کے اغواءکا مقدمہ درج کروا دیا، ڈی پی او فیصل کامران نے نومولود کے مبینہ اغواءپر پولیس کی اعلیٰ سطحی ٹیم تشکیل دے دی، جس نے جدید بنیادوں پر تفتیش کرتے ہوئے 34 روز بعد مبینہ مغوی بچہ بازیاب کروا کر والدہ کے حوالے کر دیا، جبکہ کے بچے کے والد عدنان، سہولت کار محمد منشاءکو گرفتار کر لیا ہے، واقعہ میں ملوث خاتون کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں،

    ستار کالونی سرگودھا کے رہائشی عدنان ظفر نے 29 مارچ کو تھانہ فیکٹری ایریا پولیس کو رپورٹ کی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کی دوائی لینے کیلئے اپنی بیوی کے ہمراہ ہلال احمر ہسپتال آئے، بیٹی کی گود میں بیٹے کو بٹھا کر میں اور میری بیوی ڈاکٹر سے دوائی پکڑنے کیلئے کمرے میں گئے، واپس آئے تو نا معلوم عورت میرے نومولود بیٹے کو لے گئی، ڈی پی او فیصل کامران نے اے ایس پی سٹی عثمان عزیز میر کی قیادت میں ایس ایچ او فیکٹری ایریا انصر جوڑا، عمار اے ایس آئی سمیت دیگر اہلکاروں پر مشتمل بچے کی بازیابی کیلئے ٹیم تشکیل دے دی، جنہوں نے دن رات محنت کر کے 34 روز بعد بچے کو بازیاب کرا لیا،

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    ہیلتھ لیوی – کیا؟ کیوں؟ اور کیسے؟ — طوبہ نعیم

    ہیلتھ لیوی کیا ہے اور اس کے کیا فواٸد ہیں:

    اے ایس پی سٹی عثمان عزیز میر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ عدنان ولد ظفر قوم ونی ساکن 79 شمالی نے 2018ءمیں صبا بی بی سے پسند کی شادی کی، جس سے ایک بچی ڈیڑھ سالہ خدیجہ بی بی اور 1 ماہ 8 دن کا دیان علی ہیں، اغواءکی رپورٹ پر سی سی ٹی وی کیمرہ کے فوٹیج کا بغور ملاحظہ کیا گیا، وقوعہ کی جیو فینسنگ کروائی گئی، مغوی کی بازیابی کیلئے بچے کے والد کے فیملی ممبران کی سی ڈی آرز حاصل کی گئیں، ستار کالونی و گردونواح میں خفیہ تفتیش کی گئی، جدید بنیادوں پر کی جانے والی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ بچے کے والد عدنان کی نیت میں فتوراور لالچ تھا، جس نے محمد منشاءولد بشیر احمد قوم مسلم شیخ ساکن نیو سیٹلائٹ ٹاﺅن اور شہناز بی بی سکنہ غنی پارک سے مل کر نومولود دیان علی کو 34 جنوبی کے شاہد مقصود ولد علی احمد راجپوت جو کہ قینچی موڑ سرگودھا پر رہائش پذیر ہے کو ایک لاکھ 20 ہزار روپے میں فروخت کیا اور رقم آپس میں تقسیم کر لی، بچے کی ماں کو مطمئن کرنے کیلئے تھانہ میں اغواءکا مقدمہ درج کروایا، پولیس نے بچے کو بازیاب کرنے کے بعد بچے کے والد عدنان، سہولت کار محمد منشاءکو گرفتار کر لیا

  • سابق خاتون رکن اسمبلی کا بھائی کرپشن کے الزام میں گرفتار

    سابق خاتون رکن اسمبلی کا بھائی کرپشن کے الزام میں گرفتار

    سابق خاتون رکن اسمبلی کا بھائی کرپشن کے الزام میں گرفتار

    اینٹی کرپشن سرگودھا نے نادیہ عزیزسابقہ ایم پی اے کے بھائی کو خزانہ سرکار کو 91لاکھ56ہزار5سو82روپے کا نقصان پہنچانے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

    ملزم ذوالفقار علی نے نادیہ عزیز سابقہ ایم پی اے کا اثر روسوخ استعمال کرتے ہوئے بغیر نقشہ پاس کروائے پرائیویٹ میڈیکل کالج تعمیر کرکے خزانہ سرکار کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا تھا۔ ملزم نے سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے پرائیویٹ میڈیکل کالج کی تعمیر کے لیے نقشہ کی منظوری کے لیے کمرشل فیس کی بجائے رہائشی سکیم کے ریٹ لگوائے اور بغیر منظوری کے کمرشل بلڈ نگ تعمیر کی تھی۔

    چک نمبر41 شمالی جو کہ رہائشی سکیم کے لیے منظور کیا گیا تھاجہاں پرڈاکٹر نادیہ عزیز، سابقہ ایم پی اے نے اپنا سیاسی اثر و رسوخ استعال کرتے ہوئے اپنے بھائی ذوالفقار علی کے لیے ضلع کونسل کے افسران و اہلکاران کی ملی بھگت سے 83 کنال 4 مرلے پر مشتمل ایک غیر قانونی کمرشل بلڈنگ (میڈیکل کالج) تعمیر کر وائی۔ جبکہ فیس رہائشی سکیم کے ریٹ کے مطابق جمع کروائی گئی جس سے جس سے خزانہ سرکار کو91 لاکھ 56 ہزار5 سو82 روپے کا نقصان پہنچایا گیا تھا۔ جس پر اینٹی کرپشن سرگودھا نے ایکشن لیتے ہوئے انکوائر ی کے احکامات دئیے، انکوائری میں الزامات ثابت ہونے پر ملزم ذوالفقار علی ولد عزیز الحق اور دیگر ملزمان کے خلاف خزانہ سرکار کو نقصان پہنچانے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا تھا اور مقدمہ کی تفتیش ڈپٹی ڈائریکٹر (تفتیش) اینٹی کرپشن سرگودھا کے سپرد کی، جنہوں نے تفتیش کے دوران الزام ثابت ہونے پر ملزم ذوالفقار علی ولد عزیز الحق کو گرفتار کر لیا جبکہ باقی ملزمان کی گرفتار ی کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے والدین بھی عدالت پہنچ گئے

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے ریمانڈ میں توسیع

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، وزیراعظم نے بڑا اعلان کر دیا

  • سرگودھا میں احمدیوں کی 118 سال پرانی عبادت گاہ پر مشتعل ہجوم کا حملہ

    سرگودھا میں احمدیوں کی 118 سال پرانی عبادت گاہ پر مشتعل ہجوم کا حملہ

    سرگودھا کی تحصیل بھیرہ کے گاؤں گھوگھیاٹ میں ہجوم نے احمدی برادری کی 118 سال پرانی عبادت گاہ میں توڑ پھوڑ کی۔

    باغی ٹی وی: ترجمان احمدیہ کمیونٹی عامرمحمود کے مطابق 16 اپریل کی شب 11 بجے کےقریب ہجوم گُھگھیات میں احمدیوں کی عبادت گاہ کے میناروں اور گنبد کو توڑنے آئے یہ سب اس وقت ہوا جب پولیس وہاں موجود تھی تاہم پولیس اہلکاروں نے مشتعل ہجوم کو روکنے کی کوشش نہ کی۔

    ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

    تاہم سرگودھا کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر فیصل کامران کا کہنا ہے کہ پولیس حالات کی نزاکت کوسمجھتے ہوئےکوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتی جس سے حالات کشیدہ ہوں ، تاہم ایک مذہبی جماعت کے جن کارکنوں نے احمدیوں کی عبادت گاہ پر توڑ پھوڑ کی حملہ آوروں کے خلاف درخواست موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں پولیس سختی سے قانون پر عملدرآمد یقینی بنائے گی-

    عامرمحمود نے کہا کہ یہ عبادت گاہ کافی قدیم ہےیہ 1905 میں تعمیر کی گئی تھی اوریہاں بسنے والے احمدیوں کے مقامی مکینوں کے ساتھ تعلقات ہمیشہ مثالی رہے ہیں،حملہ آور کون ہیں اور کہاں سےآئے ہیں یہ بات پولیس بھی جانتی ہےلیکن یوں معلوم ہوتا ہےکہ پولیس ان لوگوں کے زیر اثر ہے اور ان کے خلاف کارروائی نہیں کرنا چاہتی۔

    طور خم بارڈر پر پہاڑی تودہ گرنے سے متعدد کنٹینرز اور مال بردارگاڑیاں ملبے تلے دب گئیں

    عمار محمود نے کہا کہ ہجوم اور سرکاری اہلکاروں کی طرف سے احمدیوں کی عبادت گاہوں پر حملہ اور مسمار کرنا پاکستان کے آئین اور جسٹس تصدق حسین جیلانی کے 2014 کے فیصلے کی صریح خلاف ورزی ہےانہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ سب فوری طور پر بند ہونا چاہئے اور مذہبی اقلیتوں کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیئے-

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق گھوگھیاٹ کی مرکزی جامع مسجد کے امام قاری خلیل الرحمٰن نے پولیس کو جو درخواست دی ہے اس میں الزام لگایا گیا کہ قادیانی عبادت گاہ کے اندر بچوں کو قرآن پڑھایا جا رہا تھا جس کی تعلیم وہ شرعی و قانونی طور پر نہیں دے سکتے۔

    سی ٹی ڈی کا راجن پور میں آپریشن، کالعدم تنظیم کے 2 دہشتگرد اپنے ہی …

    انہوں نے کہا کہ موقع پر موجود پولیس گارڈ کو اس بارے آگاہ کیا گیا تو اس نے معلم کو منع کیا ، مگر معلم باز نہ آیا اور اس نے عبادت گاہ سے باہر آکر مبینہ طور پر مجھے قتل کی دھمکیاں دیں۔

    سرگودھا ضلعی انتظامیہ کے ترجمان نے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ ایک حساس ایشو ہے جوکہ قبل ازیں ڈسٹرکٹ امن کمیٹی کے اجلاس میں زیرِ بحث آ چکا ہے اور ضلعی امن کمیٹی نے ہی متفقہ طور پر احمدیوں کی عبادت گاہ کے باہر بورڈ لگانے کی منظوری دی تھی۔