Baaghi TV

Category: سیالکوٹ

  • ڈسکہ: واپڈا کی غفلت سے کھمبے میں کرنٹ، تین کم سن بچے زخمی، ایک کی حالت تشویشناک

    ڈسکہ: واپڈا کی غفلت سے کھمبے میں کرنٹ، تین کم سن بچے زخمی، ایک کی حالت تشویشناک

    ڈسکہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک عمران)محکمہ واپڈا کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث ڈسکہ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں بارش کے دوران بجلی کے کھمبے میں کرنٹ آنے سے تین کم سن بچے زخمی ہو گئے۔ ایک بچے کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جسے لاہور ریفر کر دیا گیا ہے۔

    یہ افسوسناک واقعہ تھانہ سٹی ڈسکہ کے علاقہ محلہ رائے والہ، گلہ بابا بھولا پیر میں اس وقت پیش آیا جب بارش کے باعث گلی میں نصب بجلی کے کھمبے میں کرنٹ آ گیا۔ اسی دوران وہاں سے گزرنے والے تین کم سن بچے — 13 سالہ احمد، 10 سالہ عمران، اور 12 سالہ اکرم — کرنٹ لگنے سے جھلس گئے۔

    زخمی بچوں کو فوری طور پر سول ہسپتال ڈسکہ منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد 10 سالہ عمران اور 12 سالہ اکرم کو ڈسچارج کر دیا گیا، تاہم 13 سالہ احمد کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث اسے لاہور ریفر کر دیا گیا۔ متاثرہ بچے احمد کا تعلق گورنمنٹ ہائی سکول ڈسکہ سے ہے، اور وہ ساتویں جماعت کا طالبعلم ہے۔

    احمد کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک غریب محنت کش ہے، چاند گاڑی چلا کر روزی کماتا ہے اور کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ بیٹے کے مہنگے علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا۔

    واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، والدین نے بچوں کو گھروں سے نکلنے سے روک دیا ہے، جبکہ مکین سخت اضطراب کا شکار ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ محکمہ واپڈا کی سنگین غفلت اس واقعے کی بنیادی وجہ ہے، کیونکہ برسات کے موسم سے قبل کھمبوں کو ارتھ نہیں لگایا گیا تھا۔

    علاقہ مکینوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام محلوں میں لگے بجلی کے کھمبوں کو فوری طور پر ارتھ لگایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔ شہریوں نے واپڈا کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

  • سیالکوٹ: محرم الحرام کے انتظامات کا جائزہ، منشاء اللہ بٹ اور فیصل اکرام کا دورہ،

    سیالکوٹ: محرم الحرام کے انتظامات کا جائزہ، منشاء اللہ بٹ اور فیصل اکرام کا دورہ،

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی، صفائی و دیگر انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اراکین صوبائی اسمبلی محمد منشاء اللہ بٹ اور چودھری فیصل اکرام نے ساتویں محرم کے روز مرکزی امام بارگاہ مستری عبداللہ اور امام بارگاہ اڈہ پسروریاں کا دورہ کیا۔ انہوں نے جلوسوں کے روٹس، روشنی، نکاسی آب، ریسکیو خدمات، سیکیورٹی اور دیگر متعلقہ امور کا موقع پر جائزہ لیا اور منتظمین سے انتظامات پر تبادلہ خیال کیا۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اراکین اسمبلی نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں صوبہ بھر میں امن و امان، بین المذاہب ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دینے کے لیے تاریخی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ یکم سے 10 محرم تک دفعہ 144 نافذ ہے تاکہ کسی بھی قسم کی شرانگیزی، لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال اور اسلحے کی نمائش کی مؤثر روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

    محمد منشاء اللہ بٹ نے بتایا کہ محرم کے دوران صوبے بھر میں سیکیورٹی اداروں کے 79 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں، جبکہ 38 ہزار 375 مجالس و جلوسوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ حساس مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں اور صفائی، روشنی، نکاسی آب، ایمبولینس اور ریسکیو خدمات کو فعال رکھا گیا ہے۔ افواہوں اور فیک نیوز کی روک تھام کے لیے کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے جبکہ جلوسوں کے راستوں پر ڈرون کیمروں کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    دونوں اراکین اسمبلی نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو اداروں کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام ادارے شاندار کوآرڈینیشن سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے منتظمین کو یقین دلایا کہ حکومت پنجاب کے احکامات کے مطابق عوامی نمائندے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے تاکہ محرم الحرام کے ایام پُرامن، باوقار اور منظم انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔

    اراکین اسمبلی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم رکھیں، افواہوں پر کان نہ دھریں، 9 اور 10 محرم کے جلوسوں کے متبادل ٹریفک پلان پر عمل کریں اور پولیس و انتظامیہ سے مکمل تعاون کریں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  • سیالکوٹ: محرم سیکیورٹی کیلئے کنٹرول روم 24/7 فعال، ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی

    سیالکوٹ: محرم سیکیورٹی کیلئے کنٹرول روم 24/7 فعال، ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو)ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی نے کہا ہے کہ محرم الحرام کے دوران ضلع بھر میں امن و امان برقرار رکھنے اور فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے ڈی سی آفس میں قائم کنٹرول روم چوبیس گھنٹے فعال ہے، جو ڈی پی او آفس اور محکمہ داخلہ پنجاب کے مرکزی سسٹم سے منسلک ہے۔

    یہ بات انہوں نے دفتر ڈپٹی کمشنر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو اقبال سنگھیڑا اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ایوب بخاری بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ کنٹرول روم میں سیف سٹی کے 263 کیمروں کے علاوہ مزید 100 کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں تاکہ مجالس اور ماتمی جلوسوں کی مانیٹرنگ بہتر انداز میں کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت ڈرون کیمروں کے استعمال پر پابندی عائد ہے، اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ایک شخص کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے اور ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

    صبا اصغر علی نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے محرم کے دوران 23 سبیلیں قائم کی جا رہی ہیں جبکہ 5 موبائل ٹوائلٹس بھی ماتمی جلوسوں کے ساتھ متحرک ہوں گے۔ انہوں نے میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا امن و امان برقرار رکھنے میں اہم شراکت دار ہے، اور انتظامات میں اگر کوئی کمی ہو تو اس کی نشاندہی کی جائے تاکہ فوری اصلاح کی جا سکے۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ تمام مجالس و جلوسوں کے منتظمین سے ضلعی انتظامیہ مسلسل رابطے میں ہے۔ محکمہ صحت کی کلینک آن ویلز سروس، ریسکیو 1122 ٹیمیں، اور ستھرا پنجاب کے سینٹری ورکرز موقع پر موجود ہوں گے تاکہ صحت اور صفائی کے امور میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔

    بعد ازاں میڈیا نمائندگان کو کنٹرول روم کا دورہ بھی کرایا گیا، جہاں انہیں سیکیورٹی اور مانیٹرنگ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

  • سیالکوٹ: سانحہ سوات پر جماعت اسلامی خواتین ونگ کا اظہارِ تعزیت، حکومتی بے حسی پر کڑی تنقید

    سیالکوٹ: سانحہ سوات پر جماعت اسلامی خواتین ونگ کا اظہارِ تعزیت، حکومتی بے حسی پر کڑی تنقید

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر: مدثر رتو)سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق کی ہدایت پر جماعت اسلامی ضلع سیالکوٹ کی خواتین کے وفد نے ڈسکہ میں سانحہ سوات کے شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا۔ وفد نے شہداء کی بلندی درجات کے لیے دعا کی اور متاثرہ خاندان کو ڈاکٹر حمیرا طارق کا تعزیتی پیغام پہنچایا۔

    وفد کے ہمراہ اہلِ محلہ کی بڑی تعداد بھی موجود تھی، جنہوں نے جماعت اسلامی کی اس بھرپور یکجہتی کو سراہا۔ ملاقات کے دوران حلقہ خواتین جماعت اسلامی کے نمائندگان نے کہا کہ جماعت اسلامی غم کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے اور قانونی معاونت سمیت ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔

    اس موقع پر حکومتی بے حسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے وفد نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ جب ملک میں انسانی جانوں کے ضیاع پر قوم سوگوار ہے، تب بھی حکمران اپنے مشاغل میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ سوات وفاقی و صوبائی حکومتوں کی سنگ دلی اور نااہلی کی بدترین مثال ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکمران عوام کے دکھ درد میں شریک ہونے کے بجائے بے حسی کی چادر اوڑھے بیٹھے ہیں۔

    وفد نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام آنکھیں کھولیں اور سوچیں کہ انہوں نے کیسے بے حس عناصر کو اقتدار میں پہنچایا۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ مون سون کا موسم قریب ہے، مگر حکومتی سطح پر کسی قسم کی تیاری نظر نہیں آ رہی۔ جگہ جگہ جوہڑ، گڑھے اور نالوں کی ناقص صفائی سے حادثات جنم لے سکتے ہیں، جس کے ذمہ دار نااہل حکمران ہوں گے۔

    جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ وہ ماضی میں بھی آفات و سانحات کے دوران عوامی خدمت میں پیش پیش رہی ہے اور آئندہ بھی مظلوم اور متاثرہ افراد کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔

  • سیالکوٹ:ساتویں محرم کے جلوس اور مجالس کا پُرامن انعقاد، فول پروف سیکیورٹی انتظامات

    سیالکوٹ:ساتویں محرم کے جلوس اور مجالس کا پُرامن انعقاد، فول پروف سیکیورٹی انتظامات

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)ضلع سیالکوٹ میں ساتویں محرم الحرام کے موقع پر عزاداری کے جلوس اور مجالس کا سلسلہ پُرامن انداز میں جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے انتہائی سخت اور مؤثر انتظامات کیے گئے ہیں۔

    مرکزی جلوس امام بارگاہ دربتول اڈا پسروریاں سے برآمد ہوا جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا نمازِ فجر سے قبل اختتام پذیر ہوگا۔ جلوس میں عزاداروں کی بڑی تعداد شریک ہے جن کے لیے سبیلوں اور نیاز کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔

    پولیس ترجمان کے مطابق ضلع بھر میں آج مجموعی طور پر 73 جلوس اور 129 مجالسِ عزا کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے 2000 سے زائد پولیس افسران و اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جب کہ جلوس کے تمام راستوں کو خار دار تاروں سے سیل کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی نگرانی کے لیے 100 سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے کنٹرول روم سے منسلک کیے گئے ہیں۔

    داخلی و خارجی راستوں پر واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز نصب کیے گئے ہیں جبکہ اہم مقامات اور عمارتوں کی چھتوں پر ماہر نشانہ باز تعینات ہیں۔ پنجاب رینجرز کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹا جا سکے۔

    پولیس کے مطابق ضلع میں کیٹیگری "اے” کے 12، کیٹیگری "بی” کے 22 اور کیٹیگری "سی” کے 39 جلوس نکالے جا رہے ہیں۔ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستوں کا جامع پلان جاری کیا گیا ہے۔

    جلوس میں شرکت کرنے والے تمام افراد کو مکمل جامہ تلاشی کے بعد اندر داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ امن و امان کی فضا کو قائم رکھنے میں تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔

  • سیالکوٹ: حکومت پنجاب کا بڑا فیصلہ، اسسٹنٹ کمشنرز پیرا کے سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر مقرر

    سیالکوٹ: حکومت پنجاب کا بڑا فیصلہ، اسسٹنٹ کمشنرز پیرا کے سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر مقرر

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)حکومت پنجاب نے پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیشن اتھارٹی (پیرا) ایکٹ 2024 کے تحت اہم انتظامی اقدام اٹھاتے ہوئے صوبہ بھر میں مختلف تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز کو پیرا کے سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسرز (SDEO) مقرر کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ضلعی اور تحصیلی سطح پر انفورسمنٹ کو مزید مؤثر اور فعال بنانے کے لیے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    ڈائریکٹوریٹ جنرل پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، پیرا کے دوسرے اجلاس مورخہ 31 مئی 2025 کی روشنی میں، اور پہلے جاری کردہ نوٹیفکیشن (مورخہ 17 دسمبر 2024) میں ترامیم کے بعد، تمام اضلاع کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز جنرل (ADC-G) کو پیرا ایکٹ کی سیکشن 16، 17 اور 18 کے تحت ہیئرنگ آفیسر نامزد کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر تحصیل کے اسسٹنٹ کمشنر کو پیرا کا ایکس آفیشیو سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر مقرر کر دیا گیا ہے۔

    ضلع سیالکوٹ میں ہونے والی اہم تعیناتیاں درج ذیل ہیں:

    * تحصیل سیالکوٹ: اسسٹنٹ کمشنر، سیالکوٹ
    * تحصیل پسرور: اسسٹنٹ کمشنر، پسرور
    * تحصیل ڈسکہ: اسسٹنٹ کمشنر، ڈسکہ
    * تحصیل سمبڑیال: اسسٹنٹ کمشنر، سمبڑیال

    ان تمام تحصیلوں میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل سیالکوٹ (ADC-G) کو پیرا ایکٹ 2024 کے تحت ہیئرنگ آفیسر نامزد کیا گیا ہے۔

    اس فیصلے کا مقصد پیرا اتھارٹی کو ضلعی و تحصیلی سطح پر مؤثر بناتے ہوئے عوامی شکایات کا فوری ازالہ کرنا، اور تجاوزات، ذخیرہ اندوزی، غیر قانونی تعمیرات اور دیگر خلاف ورزیوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔ اس سے نہ صرف ضلعی انتظامیہ کو انفورسمنٹ کے عمل میں تقویت ملے گی بلکہ عوام کو بھی فوری انصاف اور ریلیف میسر آئے گا۔

  • سیالکوٹ: حاملہ بیوی کے قاتل کو دو بار سزائے موت، 5 لاکھ روپے دیت کا بھی حکم

    سیالکوٹ: حاملہ بیوی کے قاتل کو دو بار سزائے موت، 5 لاکھ روپے دیت کا بھی حکم

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)بڈیانہ کے نواحی گاؤں ڈھلم میں سات ماہ کی حاملہ بیوی کو قتل کرنے والے مجرم شاہد کو عدالت نے دو بار سزائے موت اور پانچ لاکھ روپے دیت ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

    تفصیلات کے مطابق، دو سال قبل گھریلو جھگڑے کے دوران مجرم شاہد نے اپنی سات ماہ کی حاملہ بیوی کو بے رحمی سے قتل کر دیا تھا۔ مقتولہ کے حاملہ ہونے کے سبب یہ واقعہ دو جانوں کے قتل کے مترادف تھا۔ عدالت نے مقدمے کی مکمل سماعت کے بعد جرم ثابت ہونے پر ملزم کو دو مرتبہ سزائے موت سنائی۔

    پراسیکیوشن کے مطابق ملزم کے خلاف ناقابل تردید شواہد اور گواہوں کے بیانات عدالت میں پیش کیے گئے، جن کی بنیاد پر عدالت نے فیصلہ سنایا۔ مقتولہ کے اہلخانہ نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ مظلوم خواتین کو انصاف دلانے کی سمت ایک اہم قدم ہے اور اس سے خواتین پر ہونے والے مظالم کی روک تھام میں مدد ملے گی۔

  • سانحہ سوات: حافظ طلحہ سعید کی لواحقین سے ملاقات، واٹر ریسکیو سنٹر کے قیام کا اعلان

    سانحہ سوات: حافظ طلحہ سعید کی لواحقین سے ملاقات، واٹر ریسکیو سنٹر کے قیام کا اعلان

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض) پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید نے سانحہ سوات میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے ڈسکہ میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور مرحومین کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ اس موقع پر انہوں نے دریائے سوات کنارے واٹر ریسکیو سنٹر قائم کرنے کا اعلان بھی کیا۔

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم اور دیگر رہنماؤں پر مشتمل وفد کے ہمراہ حافظ طلحہ سعید نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آنکھوں کے سامنے خاندان کے افراد کا سیلاب میں بہہ جانا انتہائی کربناک اور المناک لمحہ ہے، جو پوری قوم کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے تھا کہ پیشگی حفاظتی اقدامات کرتی، لیکن مجرمانہ غفلت کے باعث یہ اندوہناک سانحہ پیش آیا، جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    حافظ طلحہ سعید نے کہا کہ ہم سب پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگیں اور ان آزمائشوں کے وقت متاثرین کے ساتھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ ہر مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ ہے اور خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ اسی سلسلے میں دریائے سوات کے کنارے واٹر ریسکیو سنٹر قائم کیا جا رہا ہے جہاں 24 گھنٹے تربیت یافتہ عملہ تعینات ہو گا تاکہ آئندہ اس نوعیت کے سانحات سے بچا جا سکے۔

    انہوں نے زور دیا کہ سانحہ سوات پر سیاست کرنے کے بجائے حکمرانوں کو سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس سانحے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ آئندہ کسی کو ایسی مجرمانہ غفلت کی جرات نہ ہو۔

    حافظ طلحہ سعید نے بتایا کہ سانحہ میں ڈوبنے والوں میں ڈاکٹر عبدالرحمان کے خاندان کے 10 افراد شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل بیان اور ناقابل برداشت غم ہے، ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور پاکستان کو ایسے مزید سانحات سے محفوظ رکھے۔

  • ڈسکہ: صوبائی وزیر میاں ذیشان رفیق کا ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ، سڑکوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کی ہدایت

    ڈسکہ: صوبائی وزیر میاں ذیشان رفیق کا ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ، سڑکوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کی ہدایت

    سیالکوٹ/ڈسکہ (نمائندگان باغی ٹی وی)صوبائی وزیر بلدیات میاں ذیشان رفیق نے ڈسکہ سٹی میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا موقع پر جا کر جائزہ لیا اور متعلقہ محکموں کو ہدایت جاری کی کہ سڑکوں کی تعمیر میں رفتار اور معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی قسم کی کوتاہی یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

    زیر تعمیر سڑکوں میں پسرور روڈ، وزیرآباد روڈ، کالج روڈ اور بنک روڈ شامل ہیں، جب کہ جامکے روڈ پر ٹرنک سیور لائن بچھانے کا عمل جاری ہے، جس کے مکمل ہوتے ہی سڑک کی بحالی کا کام فوراً شروع کر دیا جائے گا۔ میاں ذیشان رفیق نے ہدایت کی کہ تمام منصوبے مقررہ وقت میں مکمل کیے جائیں تاکہ شہریوں کو دیرپا سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    انہوں نے زور دیا کہ تعمیراتی مقامات پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستے واضح کیے جائیں اور مناسب سائن بورڈز نصب ہوں تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    اس موقع پر صوبائی وزیر نے پنجاب سٹیز پروگرام کے تحت جاری سیوریج منصوبے کی جلد تکمیل اور نالوں کی صفائی کے عمل پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے مون سون کے پیش نظر میونسپل حکام کو ہدایت کی کہ تمام ڈسپوزل اسٹیشن فعال رکھے جائیں، بیک اپ جنریٹرز کی دستیابی یقینی بنائی جائے، اور ڈی واٹرنگ سیٹس و عملے کی ڈیوٹی کا تحریری شیڈول فوری جاری کیا جائے۔

    میاں ذیشان رفیق نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق مفاد عامہ کے تمام منصوبے بروقت اور معیاری انداز میں مکمل کیے جائیں گے اور کسی بھی غفلت یا تاخیر پر سخت ایکشن لیا جائے گا۔

  • ڈسکہ: گورنرز پنجاب و خیبرپختونخوا کی سانحہ سوات پر متاثرہ خاندان سے ملاقات، وزیراعلیٰ کے استعفے اور ایف آئی آر کا مطالبہ

    ڈسکہ: گورنرز پنجاب و خیبرپختونخوا کی سانحہ سوات پر متاثرہ خاندان سے ملاقات، وزیراعلیٰ کے استعفے اور ایف آئی آر کا مطالبہ

    سیالکوٹ،ڈسکہ (باغی ٹی وی،شاہد ریاض + ملک عمران)خیبرپختونخوا میں 13 سال سے ایک ہی سیاسی جماعت کی مسلسل حکومت ہونے کے باوجود انتظامی نااہلی اور وسائل کے فقدان کے باعث قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا، جس پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو فوری مستعفی ہونا چاہیے اور ان کے خلاف سانحہ سوات کی ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کندی نے ڈسکہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

    دونوں گورنرز سانحہ سوات میں جاں بحق ہونے والے خاندان سے تعزیت کے لیے ڈسکہ پہنچے، جہاں انہوں نے سوگواران سے ملاقات، فاتحہ خوانی اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ گورنر سلیم حیدر خان اور فیصل کریم کندی کچھ دیر غم زدہ خاندان کے ہمراہ رہے اور سانحہ پر افسوس کا اظہار کیا۔

    گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں طویل عرصے سے ایک ہی پارٹی برسراقتدار ہے، لیکن بدترین انتظامی نااہلی کے باعث سوات میں ہولناک سانحہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ سیلابی ریلے میں پھنسے افراد کو بروقت کارروائی کے ذریعے بچایا جا سکتا تھا، مگر ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے بے بس نظر آئے۔
    انہوں نے بتایا کہ متاثرین تقریباً دو گھنٹے تک پانی میں پھنسے رہے، ریسکیو 1122 ایک گھنٹہ قبل موقع پر پہنچی مگر ان کے پاس صرف رسیاں تھیں، کوئی مؤثر سہولت یا عملی منصوبہ نہیں تھا۔ گورنر نے کہا کہ یہاں تک کہ جنگ زدہ ممالک میں بھی انسانی جانیں بچانے کے لئے سسٹم ہوتا ہے مگر خیبرپختونخوا کی مشنری مکمل طور پر ناکام رہی، اور خاندان کے دس افراد اپنے پیاروں کے سامنے پانی میں بہہ گئے۔

    گورنر نے کہا کہ سوات کا سانحہ پوری قوم کے دل پر گہرا زخم ہے، ہر پاکستانی دل گرفتہ ہے اور آنکھیں اشکبار ہیں۔

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کندی نے کہا کہ وہ کے پی کی عوام کی طرف سے متاثرہ خاندان سے معافی مانگنے ڈسکہ آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے خلاف ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے کیونکہ وہ وزیر سیاحت بھی ہیں اور اس شعبے کی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔
    فیصل کریم کندی نے کہا کہ 13 سال سے ایک سیاسی پارٹی خیبرپختونخوا پر مسلط ہے، جس نے سیاحت کے فروغ کو اپنا نعرہ بنایا مگر سانحہ سوات نے ان کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ "قیدی نمبر 420” کو اس انسانی المیے کا جواب دینا ہو گا۔

    گورنر کندی نے اس موقع پر تین انسانی جانیں بچانے والے ریسکیو 1122 کے ڈرائیور کی جرات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کی خدمات کو باقاعدہ سرکاری طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔

    متاثرہ خاندان سے اظہار تعزیت اور میڈیا سے گفتگو کے دوران دونوں گورنرز کا لب و لہجہ افسردہ اور سخت گیر تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ سوات کے ذمہ داران کو کٹہرے میں لایا جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے المیوں سے بچا جا سکے۔