Baaghi TV

Category: سکھر

  • 27ویں آئینی ترمیم صوبوں کے حقوق پر حملہ ہے، خطرناک سازش کو ناکام بنائیں. ڈاکٹر نیاز کالانی

    27ویں آئینی ترمیم صوبوں کے حقوق پر حملہ ہے، خطرناک سازش کو ناکام بنائیں. ڈاکٹر نیاز کالانی

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگارمشتاق علی لغاری)جسقم (شہید بشیر خان گروپ) کے سربراہ ڈاکٹر نیاز کالانی نے کہا ہے کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم صوبوں کے آئینی و جمہوری حقوق کے خلاف ایک خطرناک سازش ہے، جس کے ذریعے صوبوں کے اختیارات چھین کر مرکز کے حوالے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    میرپورماتھیلو بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر کالانی نے کہا کہ اگر یہ ترمیم منظور ہو گئی تو مرکزی حکمران اپنی مرضی سے صوبے توڑ کر نئے صوبے بنا سکیں گے، جس سے انتظامی و سیاسی انتشار پیدا ہوگا اور وفاقی نظام کمزور ہو جائے گا۔

    انہوں نے واضح کیا کہ سندھ کے عوام اپنے وسائل اور حقوق کے تحفظ کیلئے مزید خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ سندھ کی زمین، پانی، گیس اور دیگر وسائل پر سب سے پہلا حق سندھ کے عوام کا ہے، جسے کسی صورت غصب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    ڈاکٹر نیاز کالانی نے کہا کہ سندھ ایکشن کمیٹی کی جانب سے 11 نومبر کو صوبے بھر میں بھرپور احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں تمام سیاسی و سماجی تنظیموں، باشعور عوام اور قومی کارکنوں سے شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔

    انہوں نے اس موقع پر کہا کہ سندھ کی وحدت، وسائل اور خودمختاری کے تحفظ کیلئے مشترکہ جدوجہد وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔
    ڈاکٹر کالانی نے وکلا برادری سے اپیل کی کہ وہ آئینی و قانونی بنیادوں پر اس مجوزہ ترمیم کی مخالفت میں پیش پیش کردار ادا کریں۔

  • گھوٹکی: سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز ویڈیو شیئر کرنے والے ملزم کیخلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج

    گھوٹکی: سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز ویڈیو شیئر کرنے والے ملزم کیخلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج

    گھوٹکی (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)گھوٹکی پولیس نے شر، سیلرا اور دوندھو برادری کے درمیان جاری تنازع کو سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا دینے والے ملزم کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    پولیس ترجمان کے مطابق، ملزم وزیر بلو نے اپنی فیس بک آئی ڈی "King of Ronati Kacha” کے نام سے ایک ویڈیو وائرل کی، جس میں اس نے مبینہ طور پر ڈاکوؤں کی تعریف کرتے ہوئے فریقین کے درمیان اختلافات کو مزید بھڑکانے کی کوشش کی۔

    پولیس نے بتایا کہ اس عمل سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ تھا، جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے تھانہ میرپور ماتھیلو میں کرائم نمبر 237/2025 کے تحت دفعہ 153-A ت پ (مختلف برادریوں میں نفرت یا دشمنی پھیلانے کی کوشش) اور دفعہ 21، 22 پیکا ایکٹ 2016 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

    گھوٹکی پولیس نے اس موقع پر شہریوں کو ایک بار پھر متنبہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسی ویڈیوز یا پوسٹس اپ لوڈ نہ کریں جو کسی بھی برادری یا گروہ کے درمیان اشتعال یا تنازع پیدا کرنے کا باعث بنیں۔

    پولیس کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں۔
    ذرائع کے مطابق، پولیس کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

  • گھوٹکی:سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی خانگڑھ آمد، سردار علی گوہر مہر کی والدہ کے انتقال پر اظہارِ تعزیت

    گھوٹکی:سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی خانگڑھ آمد، سردار علی گوہر مہر کی والدہ کے انتقال پر اظہارِ تعزیت

    گھوٹکی(باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق خانگڑھ پہنچے، جہاں انہوں نے سردار علی گوہر مہر کی والدہ محترمہ کے انتقال پر اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا۔

    اس موقع پر سردار ایاز صادق نے مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی اور کہا کہ وہ سردار علی گوہر مہر اور ان کے خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے۔

  • گھوٹکی کے کچے میں پولیس اور رینجرز کا بڑا آپریشن، 12 ڈاکو ہلاک، 14 زخمی

    گھوٹکی کے کچے میں پولیس اور رینجرز کا بڑا آپریشن، 12 ڈاکو ہلاک، 14 زخمی

    سندھ کے ضلع گھوٹکی کے کچے کے علاقے میں پولیس اور رینجرز نے مشترکہ طور پر ڈاکوؤں کے خلاف بڑا آپریشن کیا، جس میں اب تک 12 ڈاکو ہلاک اور 14 زخمی ہوگئے ہیں، جب کہ ایک پولیس اہلکار شہید اور دو اہلکار زخمی ہوئے۔

    تفصیلات کے مطابق گھوٹکی کے علاقے رونتی کچا میں رات گئے پولیس کو اطلاع ملی کہ شر گینگ کے مسلح ڈاکوؤں نے مقامی افراد پر فائرنگ کی ہے۔ فائرنگ کے نتیجے میں 6 شہری ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی تو ڈاکوؤں نے پولیس پارٹی پر شدید فائرنگ شروع کردی۔جوابی کارروائی میں پولیس نے رینجرز کی مدد سے بڑے پیمانے پر کچا آپریشن کا آغاز کیا۔ آپریشن میں گھوٹکی، شکارپور اور کشمور اضلاع کی پولیس حصہ لے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس ٹیم کو بکتر بند گاڑیوں، ڈرونز اور ہیوی ہتھیاروں کی مدد حاصل ہے تاکہ ڈاکوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔آپریشن کے دوران پولیس اور رینجرز نے کئی ٹھکانوں کا محاصرہ کیا اور فائرنگ کے تبادلے میں 12 ڈاکو مارے گئے جبکہ 14 زخمی ہوئے۔ پولیس نے ہلاک ڈاکوؤں میں سے 6 کی لاشیں اسپتال منتقل کردی ہیں جبکہ اطلاعات ہیں کہ 3 لاشیں ڈاکو اپنے ساتھ لے گئے۔

    پولیس حکام کے مطابق علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور کچے کے داخلی و خارجی راستے مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ ڈرون نگرانی کے ذریعے ڈاکوؤں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ڈی آئی جی سکھر نے بتایا کہ آپریشن کا مقصد علاقے سے جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ اور امن بحال کرنا ہے۔ حکام کے مطابق آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک علاقے کو ڈاکوؤں سے مکمل طور پر کلیئر نہیں کر دیا جاتا۔

    ذرائع کے مطابق رونتی کے کچے میں شر گینگ اور دیگر گروہوں کی سرگرمیاں کافی عرصے سے جاری تھیں، جہاں اغوا برائے تاوان، ڈکیتی اور پولیس پر حملوں کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ عوام نے پولیس اور رینجرز کے آپریشن کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اب علاقے میں دیرپا امن قائم ہو سکے گا۔

  • گھوٹکی: کچہ آپریشن میں پولیس کانسٹیبل امجد علی ڈرگھ شہید، جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا

    گھوٹکی: کچہ آپریشن میں پولیس کانسٹیبل امجد علی ڈرگھ شہید، جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا

    گھوٹکی (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری)اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق "شہید زندہ ہیں، انہیں مردہ نہ کہو، وہ اپنے رب کے حضور رزق پاتے ہیں” ، اسی مفہوم کے تحت گھوٹکی کے بہادر پولیس کانسٹیبل امجد علی ڈرگھ کو آج پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ الوداع کیا گیا۔

    شہید کانسٹیبل کی نمازِ جنازہ ایس ایس پی آفس کے لان میں ادا کی گئی، جس میں ڈی آئی جی سکھر رینج کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ، ڈپٹی کمشنر گھوٹکی منظور احمد کنرانی، پولیس افسران و اہلکاروں، صحافیوں، سیاسی و سماجی شخصیات سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    نماز جنازہ کے بعد شہید کے بلند درجات اور مغفرت کے لیے اجتماعی دعا مانگی گئی۔ شہید کا جسدِ خاکی پاکستان اور سندھ پولیس کے پرچم میں لپیٹا گیا جبکہ گھوٹکی پولیس کے چاق و چوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔

    یاد رہے کہ تھانہ شہید دین محمد لغاری کی حدود میں جاری کچہ آپریشن کے دوران پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں کانسٹیبل امجد علی ڈرگھ شہید جبکہ پولیس اہلکار خلیل لغاری زخمی ہو گیا تھا۔

    ڈی آئی جی سکھر رینج کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ نے شہید کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ شہید امجد علی ڈرگھ ایک دلیر، نڈر اور بہادر جوان تھے جنہوں نے اپنی جان قربان کر کے پولیس کے وقار میں اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء پولیس کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی، محکمہ پولیس اپنے شہداء کے خاندانوں کی ہر ممکن جائز مدد کرے گا۔

    ڈی آئی جی سکھر رینج نے مزید کہا کہ پولیس اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن ڈاکوؤں کے خاتمے تک جاری رہے گا۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق چار سے پانچ ڈاکو ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ پولیس کے حوصلے بلند ہیں اور آپریشن اپنے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

    ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کی قیادت میں پولیس اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن تاحال جاری ہے۔

    نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد شہید کے جسدِ خاکی کو ان کے آبائی گاؤں جان محمد ڈرگھ روانہ کیا گیا، جہاں انہیں پورے اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔ عوام اور پولیس کے اہلکاروں نے شہید کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے لیے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

  • گھوٹکی: جوئے کے اڈے پر پولیس کا چھاپہ، 14 ملزمان گرفتار، نقدی، موٹرسائیکلیں اور تاش برآمد

    گھوٹکی: جوئے کے اڈے پر پولیس کا چھاپہ، 14 ملزمان گرفتار، نقدی، موٹرسائیکلیں اور تاش برآمد

    گھوٹکی (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈی آئی جی سکھر محمد انور کھیتران کی خصوصی ہدایت پر گھوٹکی پولیس کی جرائم پیشہ عناصر اور جواریوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اسی سلسلے میں ایس ایچ او تھانہ ڈھرکی مصور حسین قریشی نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے جوئے کے اڈے پر چھاپہ مار کر 14 ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں عبدالقادر مہر، مہتاب چاچڑ، وقار شر، شعیب کھرل، مشتاق کھرل، شاہد کھرل، زاہد کھرل، اظہر کھرل، محمد اختر جتوئی، ایاز چاچڑ، محمد اسلم چاچڑ، سندر لعل ہندو، پیر بخش چنہ اور علی اکبر چنہ شامل ہیں۔ موقع سے 3 تاشوں کے سیٹ، 5 موٹر سائیکلیں، 2 موبائل فونز اور 3800 روپے نقد رقم برآمد کرلی گئی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے دو نامعلوم ساتھی موقع سے فرار ہوگئے جن کی تلاش جاری ہے۔ تمام گرفتار ملزمان کو تھانہ منتقل کر کے ان کے خلاف کرائم نمبر 210/2025، دفعہ 5 سندھ جواء ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ ضلع بھر میں جوئے، منشیات اور دیگر جرائم کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • خورشید شاہ اور خاندان کے دیگر افراد کیخلاف کیس ایف آئی اے کے حوالے

    خورشید شاہ اور خاندان کے دیگر افراد کیخلاف کیس ایف آئی اے کے حوالے

    سکھر کی احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق پیپلزپارٹی رہنماء خورشید شاہ اور خاندان کے دیگر افراد کیخلاف کیس ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔

    پیپلزپارٹی رہنماء خورشید شاہ اور خاندان کے دیگر افراد کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کا محفوظ فیصلہ سکھر کی احتساب عدالت نے سنا دیا، کیس کو ایف آئی اے کے حوالے کردیا گیا۔نیب پراسیکیوٹر کی استدعا کے تحت عدالت کی جانب سے کیس ایف آئی اے کے حوالے کردیا گیا، عدالت میں خورشید شاہ کے بیٹے سید زیرخ شاہ اور ایڈوکیٹ محفوظ اعوان پیش ہوئے، احتساب عدالت کے جج غلام یاسین کولاچی نے محفوظ فیصلہ سنایا۔

  • جب بھٹو زندہ ہے، تو دیہی سندھ کیوں لاوارث ہے؟

    جب بھٹو زندہ ہے، تو دیہی سندھ کیوں لاوارث ہے؟

    جب بھٹو زندہ ہے، تو دیہی سندھ کیوں لاوارث ہے؟
    میرپورماتھیلو سے مشتاق علی لغاری کی ڈائری
    ضلع گھوٹکی کی تحصیل میرپورماتھیلو کے نواحی گاؤں خدا بخش لغاری تک پہنچنا کسی آزمائش سے کم نہیں۔ کچی سڑکیں ہر طرف گرد اور دھول اڑا رہی ہیں، جیسے وقت خود یہاں ٹھہر گیا ہو۔ دیواروں پر آج بھی ’’جیئے بھٹو‘‘ کے نعرے درج ہیں، مگر انہی نعروں کے بیچ میں بسنے والی زندگیاں خاموش احتجاج بن چکی ہیں۔

    تقریباً پانچ ہزار ووٹروں پر مشتمل یہ گاؤں کئی دہائیوں سے بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ پینے کے صاف پانی کا کوئی انتظام نہیں۔ نہ فلٹر پلانٹ ہے، نہ بورنگ، نہ ٹینکی۔ عورتیں اور بچے کلومیٹر دور سے پانی بھر کر لاتے ہیں۔ بارش کے دنوں میں راستے کیچڑ میں ڈوب جاتے ہیں، مگر پیاس برقرار رہتی ہے۔

    صحت کی سہولتیں بھی ناپید ہیں۔ نہ کوئی ڈاکٹر، نہ ڈسپنسری، نہ دوائی۔ زچگی یا معمولی بیماری کی صورت میں مریضوں کو میرپورماتھیلو یا گھوٹکی لے جانا پڑتا ہے اور اکثر راستے میں جان چلی جاتی ہے۔ بزرگوں کے چہرے پر خوف نہیں، مایوسی لکھی ہے۔

    پرائمری سکول کی عمارت بوسیدہ ہے۔ ٹوٹے دروازے، غائب کھڑکیاں اور خالی کمروں میں صرف خاک اڑتی ہے۔ استاد کبھی کبھار آتے ہیں۔ بچے کھیتوں میں مزدوری کرتے دکھائی دیتے ہیں اور لڑکیاں تعلیم کے خواب دیکھنے سے پہلے ہی ہار مان لیتی ہیں۔ ایک مکین کا کہنا ہےکہ “ہمارا مستقبل اندھیرے میں ہے، ہم صرف ووٹ دینے کے دن یاد کیے جاتے ہیں۔”

    نکاسی آب کا کوئی نظام نہیں،گلیوں میں گندے پانی کے جوہڑ، بدبو، مچھر اور بیماریوں کا راج ہے۔ ڈینگی اور ملیریا کے مریض بڑھ رہے ہیں، مگر کوئی سپرے ٹیم کبھی نہیں آئی۔ گاؤں کی گندگی سیاست کے وعدوں کا مذاق اڑاتی دکھائی دیتی ہے۔

    گاؤں خدابخش لغاری کے ایک بزرگ ہاتھ اٹھا کر کہتے ہیں کہ “کیا ہم صرف ووٹ دینے کے لیے پیدا ہوئے ہیں؟ بھٹو زندہ ہے، مگر ہمارا گاؤں مر چکا ہے۔” ان کے الفاظ درد سے بھرے ہیں اور آنکھوں میں امید کے بجائے خالی پن ہے۔

    گاؤں کے اردگرد کھیت اجڑے ہوئے ہیں۔ کبھی لہلہاتی فصلیں تھیں، اب پانی کی کمی نے زمین چٹخا دی ہے۔ نہری نظام ناکام، ٹیوب ویل بند اور مزدوری کے لیے شہروں کا رخ کرنے والے ہاتھ خالی لوٹتے ہیں۔ سیاستدان صرف انتخابات کے موسم میں ان راستوں کو پہچانتے ہیں۔

    میرپورماتھیلو اور گھوٹکی کے درمیان زندگی جیسے رکی ہوئی ہے۔ ترقی کے وعدے ہوا میں تحلیل ہو چکے ہیں اور بھٹو کے نعرے اس دھرتی کی خاموش چیخوں میں دب گئے ہیں۔ اگر واقعی بھٹو زندہ ہے تو دیہی سندھ اتنا لاوارث کیوں ہے؟ یہ سوال ہر دروازے سے اٹھتا ہے، ہر صحن سے گونجتا ہے۔

    گاؤں کے مکین روزانہ بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ صاف پانی ہر خاندان کے لیے خواب بن چکا ہے۔ عورتیں اور بچے بالٹیاں اٹھائے میلوں چلتے ہیں، ان کی صحت برباد ہو رہی ہے۔ کچی سڑکوں پر روز حادثات ہوتے ہیں۔ بارش میں راستے بند اور گاؤں دنیا سے کٹ جاتا ہے۔

    نہ صحت کا کوئی مرکز ہے، نہ سکول فعال ہیں۔ بچے کھلے آسمان تلے پڑھتے ہیں، اگر استاد آ جائے تو۔ لڑکیوں کی تعلیم کو اب بھی غیرضروری سمجھا جاتا ہے۔ صفائی کا حال یہ ہے کہ ہر گلی کیچڑ اور بدبو سے بھری ہے، ہر گھر بیماریوں سے گھرا ہوا ہے۔

    غربت، بیماری اور بے بسی نے گاؤں والوں کے چہروں سے مسکراہٹ چھین لی ہے۔ لوگ قرض میں ڈوبے ہیں، مزدور کم اجرت پر محنت کر رہے ہیں اور زندگی صرف گزاری جا رہی ہے۔ ہر گھر میں سوال ہے کہ کیا ہمارا کام صرف ووٹ دینا ہے؟ کیا وعدے ہمیشہ کاغذوں میں دفن رہیں گے؟

    گذشتہ کئی سالوں میں کسی منتخب نمائندے یا افسر نے اس گاؤں کا حال نہیں پوچھا۔ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ عوام کا صبر اب ختم ہو چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب وعدوں پر نہیں، عمل پر یقین چاہیے۔

    گاؤں کے باسی صاف پانی، صحت، تعلیم اور سڑکوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ واٹرفلٹر یشن پلانٹ، بورنگ سسٹم، ڈسپنسری اور سکولوں کی مرمت فوری کی جائے۔ لڑکیوں کی تعلیم اور صفائی کے نظام کو ترجیح دی جائے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ یہ وعدے اب تحریروں سے نکل کر حقیقت بنیں۔

    ان کا پیغام واضح ہے کہ خاموشی ختم ہو چکی ہے۔ اگر اب بھی حکومت، سیاستدان اور افسران نے توجہ نہ دی تو عوام جمہوری طریقے سے اپنی آواز بلند کریں گے۔ گاؤں خدا بخش لغاری اب مزید وعدوں پر نہیں جئے گا، وہ حق مانگے گا ، اپنے انسانی وقار، بنیادی سہولیات اور انصاف کے حق کے لیے۔

    یہ گاؤں اب انتظار نہیں کرے گا۔ یہ گاؤں اٹھ چکا ہے، تاکہ بھٹو کے زندہ ہونے کا مفہوم صرف نعرہ نہ رہے، بلکہ انسانوں کی زندہ حالت میں نظر بھی آئے۔

  • گھوٹکی: میونسپل ملازمین کا احتجاج 26ویں روز میں داخل، تنخواہیں بحال نہ ہونے پر شدید احتجاج

    گھوٹکی: میونسپل ملازمین کا احتجاج 26ویں روز میں داخل، تنخواہیں بحال نہ ہونے پر شدید احتجاج

    گھوٹکی باغی ٹی وی (نامہ نگار مشتاق علی لغاری) میونسپل کمیٹی گھوٹکی کے ملازمین کا زبردستی بند کی گئی تنخواہوں کی بحالی کے لیے احتجاجی کیمپ مسلسل 26ویں روز بھی جاری رہا، مگر تاحال کسی اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے نوٹس نہیں لیا۔

    تفصیلات کے مطابق ملازمین چھ سال سے تنخواہوں کی بندش کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی تنخواہیں فوری طور پر بحال کی جائیں، بصورت دیگر احتجاجی کیمپ غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا۔

    احتجاجی ملازمین کا کہنا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، بلدیاتی وزیر ناصر حسین شاہ اور میونسپل چیئرمین آصف رزاق دھاریجو نے تاحال کسی قسم کی توجہ نہیں دی، جس سے ملازمین میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔

    دریں اثنا، احتجاجی کیمپ میں موجود ملازمین نے ایم این اے سردار علی گوہر خان مہر، ایم پی اے سردار راجا خان مہر، صوبائی وزیر محمد بخش خان مہر اور دیگر معزز شخصیات سے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ سندھ مرحوم سردار علی محمد خان مہر کی والدہ اور ضلع چیئرمین میر بنگل خان مہر کی چچی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار بھی کیا۔

    ملازمین نے حکومتِ سندھ سے اپیل کی ہے کہ ان کے جائز مطالبات تسلیم کرتے ہوئے بقایا تنخواہیں فوری بحال کی جائیں تاکہ وہ اپنے گھروں کے معاشی مسائل سے نجات پا سکیں۔

  • گھوٹکی: میونسپل ملازمین کا 23 ویں بھی دھرنا جاری، وکلاء کا 8 دن کا الٹی میٹم

    گھوٹکی: میونسپل ملازمین کا 23 ویں بھی دھرنا جاری، وکلاء کا 8 دن کا الٹی میٹم

    گھوٹکی(باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)گھوٹکی میونسپل کمیٹی کے ملازمین کی جانب سے چھ سال سے سیاسی بنیادوں پر بند تنخواہوں کی بحالی کے لیے پپل چوک پر جاری احتجاجی کیمپ 23ویں دن میں داخل ہو گیا ہے۔ اس دوران گھوٹکی بار ایسوسی ایشن کے صدر شاہنواز وسیر اپنی ٹیم کے ہمراہ احتجاجی کیمپ پر پہنچ گئے اور ملازمین سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ہر فورم پر ساتھ دینے کا اعلان کیا۔

    بشیر کلوڑ، مختیار ٹگڑ، احمد کلادی، برکت کوری، سہراب کلوڑ، اورنگزیب چنا، امداد مہر، ہدایت اللہ ابڑو، وحید مراد چنا، کفایت اللہ گھوٹو، ایاز گل چنا، ندیم دھانڈو اور دیگر ملازمین کی قیادت میں یہ احتجاج گزشتہ 23 دن سے جاری ہے۔

    وکیل شاہنواز وسیر نے دھرنے میں پہنچ کر ملازمین سے ہمدردی کا اظہار کیا اور سندھ حکومت، اعلیٰ افسران، گھوٹکی چیئرمین اور سی ایم او گھوٹکی کو تنخواہیں بحال کرنے کے لیے 8 دن کا الٹی میٹم دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تنخواہیں فوری طور پر جاری نہ کی گئیں تو ملازمین کے ساتھ مل کر قانونی تحریک بھی شروع کی جائے گی۔

    شاہنواز وسیر کی آمد پر احتجاجی کیمپ میں موجود ملازمین نے وکلا برادری کا شاندار استقبال کیا اور ہر جانب سے پھولوں کی بارش کی گئی۔ ملازمین سے ملاقات کے دوران شاہنواز وسیر میڈیا کے سامنے آبدیدہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ایک دن گزارنا کتنا مشکل ہے جبکہ ان ملازمین کی چھ سال سے جبراً تنخواہیں بند ہیں، جو براہِ راست ان کا معاشی قتل ہے۔ ان کے بچوں کی تعلیم تباہ ہو گئی اور سینکڑوں خاندانوں کا مستقبل برباد ہو گیا، جو ان لوگوں کا کام ہے جن کا نعرہ "روٹی، کپڑا اور مکان” ہے۔

    احتجاجی کیمپ میں سیاسی و سماجی رہنماؤں رئوف پارس دائو، احسان کلادی، فدا حسین ملک اور دیگر نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے ہر فورم پر ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے جبراً بند کی گئی تنخواہوں کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔