Baaghi TV

Category: سکھر

  • گھوٹکی کے کچے میں پولیس اور رینجرز کا بڑا آپریشن، 12 ڈاکو ہلاک، 14 زخمی

    گھوٹکی کے کچے میں پولیس اور رینجرز کا بڑا آپریشن، 12 ڈاکو ہلاک، 14 زخمی

    سندھ کے ضلع گھوٹکی کے کچے کے علاقے میں پولیس اور رینجرز نے مشترکہ طور پر ڈاکوؤں کے خلاف بڑا آپریشن کیا، جس میں اب تک 12 ڈاکو ہلاک اور 14 زخمی ہوگئے ہیں، جب کہ ایک پولیس اہلکار شہید اور دو اہلکار زخمی ہوئے۔

    تفصیلات کے مطابق گھوٹکی کے علاقے رونتی کچا میں رات گئے پولیس کو اطلاع ملی کہ شر گینگ کے مسلح ڈاکوؤں نے مقامی افراد پر فائرنگ کی ہے۔ فائرنگ کے نتیجے میں 6 شہری ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی تو ڈاکوؤں نے پولیس پارٹی پر شدید فائرنگ شروع کردی۔جوابی کارروائی میں پولیس نے رینجرز کی مدد سے بڑے پیمانے پر کچا آپریشن کا آغاز کیا۔ آپریشن میں گھوٹکی، شکارپور اور کشمور اضلاع کی پولیس حصہ لے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس ٹیم کو بکتر بند گاڑیوں، ڈرونز اور ہیوی ہتھیاروں کی مدد حاصل ہے تاکہ ڈاکوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔آپریشن کے دوران پولیس اور رینجرز نے کئی ٹھکانوں کا محاصرہ کیا اور فائرنگ کے تبادلے میں 12 ڈاکو مارے گئے جبکہ 14 زخمی ہوئے۔ پولیس نے ہلاک ڈاکوؤں میں سے 6 کی لاشیں اسپتال منتقل کردی ہیں جبکہ اطلاعات ہیں کہ 3 لاشیں ڈاکو اپنے ساتھ لے گئے۔

    پولیس حکام کے مطابق علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور کچے کے داخلی و خارجی راستے مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ ڈرون نگرانی کے ذریعے ڈاکوؤں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ڈی آئی جی سکھر نے بتایا کہ آپریشن کا مقصد علاقے سے جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ اور امن بحال کرنا ہے۔ حکام کے مطابق آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک علاقے کو ڈاکوؤں سے مکمل طور پر کلیئر نہیں کر دیا جاتا۔

    ذرائع کے مطابق رونتی کے کچے میں شر گینگ اور دیگر گروہوں کی سرگرمیاں کافی عرصے سے جاری تھیں، جہاں اغوا برائے تاوان، ڈکیتی اور پولیس پر حملوں کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ عوام نے پولیس اور رینجرز کے آپریشن کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اب علاقے میں دیرپا امن قائم ہو سکے گا۔

  • گھوٹکی: کچہ آپریشن میں پولیس کانسٹیبل امجد علی ڈرگھ شہید، جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا

    گھوٹکی: کچہ آپریشن میں پولیس کانسٹیبل امجد علی ڈرگھ شہید، جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا

    گھوٹکی (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری)اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق "شہید زندہ ہیں، انہیں مردہ نہ کہو، وہ اپنے رب کے حضور رزق پاتے ہیں” ، اسی مفہوم کے تحت گھوٹکی کے بہادر پولیس کانسٹیبل امجد علی ڈرگھ کو آج پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ الوداع کیا گیا۔

    شہید کانسٹیبل کی نمازِ جنازہ ایس ایس پی آفس کے لان میں ادا کی گئی، جس میں ڈی آئی جی سکھر رینج کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ، ڈپٹی کمشنر گھوٹکی منظور احمد کنرانی، پولیس افسران و اہلکاروں، صحافیوں، سیاسی و سماجی شخصیات سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    نماز جنازہ کے بعد شہید کے بلند درجات اور مغفرت کے لیے اجتماعی دعا مانگی گئی۔ شہید کا جسدِ خاکی پاکستان اور سندھ پولیس کے پرچم میں لپیٹا گیا جبکہ گھوٹکی پولیس کے چاق و چوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔

    یاد رہے کہ تھانہ شہید دین محمد لغاری کی حدود میں جاری کچہ آپریشن کے دوران پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں کانسٹیبل امجد علی ڈرگھ شہید جبکہ پولیس اہلکار خلیل لغاری زخمی ہو گیا تھا۔

    ڈی آئی جی سکھر رینج کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ نے شہید کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ شہید امجد علی ڈرگھ ایک دلیر، نڈر اور بہادر جوان تھے جنہوں نے اپنی جان قربان کر کے پولیس کے وقار میں اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء پولیس کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی، محکمہ پولیس اپنے شہداء کے خاندانوں کی ہر ممکن جائز مدد کرے گا۔

    ڈی آئی جی سکھر رینج نے مزید کہا کہ پولیس اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن ڈاکوؤں کے خاتمے تک جاری رہے گا۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق چار سے پانچ ڈاکو ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ پولیس کے حوصلے بلند ہیں اور آپریشن اپنے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

    ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کی قیادت میں پولیس اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن تاحال جاری ہے۔

    نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد شہید کے جسدِ خاکی کو ان کے آبائی گاؤں جان محمد ڈرگھ روانہ کیا گیا، جہاں انہیں پورے اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔ عوام اور پولیس کے اہلکاروں نے شہید کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے لیے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

  • گھوٹکی: جوئے کے اڈے پر پولیس کا چھاپہ، 14 ملزمان گرفتار، نقدی، موٹرسائیکلیں اور تاش برآمد

    گھوٹکی: جوئے کے اڈے پر پولیس کا چھاپہ، 14 ملزمان گرفتار، نقدی، موٹرسائیکلیں اور تاش برآمد

    گھوٹکی (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈی آئی جی سکھر محمد انور کھیتران کی خصوصی ہدایت پر گھوٹکی پولیس کی جرائم پیشہ عناصر اور جواریوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اسی سلسلے میں ایس ایچ او تھانہ ڈھرکی مصور حسین قریشی نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے جوئے کے اڈے پر چھاپہ مار کر 14 ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں عبدالقادر مہر، مہتاب چاچڑ، وقار شر، شعیب کھرل، مشتاق کھرل، شاہد کھرل، زاہد کھرل، اظہر کھرل، محمد اختر جتوئی، ایاز چاچڑ، محمد اسلم چاچڑ، سندر لعل ہندو، پیر بخش چنہ اور علی اکبر چنہ شامل ہیں۔ موقع سے 3 تاشوں کے سیٹ، 5 موٹر سائیکلیں، 2 موبائل فونز اور 3800 روپے نقد رقم برآمد کرلی گئی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے دو نامعلوم ساتھی موقع سے فرار ہوگئے جن کی تلاش جاری ہے۔ تمام گرفتار ملزمان کو تھانہ منتقل کر کے ان کے خلاف کرائم نمبر 210/2025، دفعہ 5 سندھ جواء ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ ضلع بھر میں جوئے، منشیات اور دیگر جرائم کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • خورشید شاہ اور خاندان کے دیگر افراد کیخلاف کیس ایف آئی اے کے حوالے

    خورشید شاہ اور خاندان کے دیگر افراد کیخلاف کیس ایف آئی اے کے حوالے

    سکھر کی احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق پیپلزپارٹی رہنماء خورشید شاہ اور خاندان کے دیگر افراد کیخلاف کیس ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔

    پیپلزپارٹی رہنماء خورشید شاہ اور خاندان کے دیگر افراد کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کا محفوظ فیصلہ سکھر کی احتساب عدالت نے سنا دیا، کیس کو ایف آئی اے کے حوالے کردیا گیا۔نیب پراسیکیوٹر کی استدعا کے تحت عدالت کی جانب سے کیس ایف آئی اے کے حوالے کردیا گیا، عدالت میں خورشید شاہ کے بیٹے سید زیرخ شاہ اور ایڈوکیٹ محفوظ اعوان پیش ہوئے، احتساب عدالت کے جج غلام یاسین کولاچی نے محفوظ فیصلہ سنایا۔

  • جب بھٹو زندہ ہے، تو دیہی سندھ کیوں لاوارث ہے؟

    جب بھٹو زندہ ہے، تو دیہی سندھ کیوں لاوارث ہے؟

    جب بھٹو زندہ ہے، تو دیہی سندھ کیوں لاوارث ہے؟
    میرپورماتھیلو سے مشتاق علی لغاری کی ڈائری
    ضلع گھوٹکی کی تحصیل میرپورماتھیلو کے نواحی گاؤں خدا بخش لغاری تک پہنچنا کسی آزمائش سے کم نہیں۔ کچی سڑکیں ہر طرف گرد اور دھول اڑا رہی ہیں، جیسے وقت خود یہاں ٹھہر گیا ہو۔ دیواروں پر آج بھی ’’جیئے بھٹو‘‘ کے نعرے درج ہیں، مگر انہی نعروں کے بیچ میں بسنے والی زندگیاں خاموش احتجاج بن چکی ہیں۔

    تقریباً پانچ ہزار ووٹروں پر مشتمل یہ گاؤں کئی دہائیوں سے بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ پینے کے صاف پانی کا کوئی انتظام نہیں۔ نہ فلٹر پلانٹ ہے، نہ بورنگ، نہ ٹینکی۔ عورتیں اور بچے کلومیٹر دور سے پانی بھر کر لاتے ہیں۔ بارش کے دنوں میں راستے کیچڑ میں ڈوب جاتے ہیں، مگر پیاس برقرار رہتی ہے۔

    صحت کی سہولتیں بھی ناپید ہیں۔ نہ کوئی ڈاکٹر، نہ ڈسپنسری، نہ دوائی۔ زچگی یا معمولی بیماری کی صورت میں مریضوں کو میرپورماتھیلو یا گھوٹکی لے جانا پڑتا ہے اور اکثر راستے میں جان چلی جاتی ہے۔ بزرگوں کے چہرے پر خوف نہیں، مایوسی لکھی ہے۔

    پرائمری سکول کی عمارت بوسیدہ ہے۔ ٹوٹے دروازے، غائب کھڑکیاں اور خالی کمروں میں صرف خاک اڑتی ہے۔ استاد کبھی کبھار آتے ہیں۔ بچے کھیتوں میں مزدوری کرتے دکھائی دیتے ہیں اور لڑکیاں تعلیم کے خواب دیکھنے سے پہلے ہی ہار مان لیتی ہیں۔ ایک مکین کا کہنا ہےکہ “ہمارا مستقبل اندھیرے میں ہے، ہم صرف ووٹ دینے کے دن یاد کیے جاتے ہیں۔”

    نکاسی آب کا کوئی نظام نہیں،گلیوں میں گندے پانی کے جوہڑ، بدبو، مچھر اور بیماریوں کا راج ہے۔ ڈینگی اور ملیریا کے مریض بڑھ رہے ہیں، مگر کوئی سپرے ٹیم کبھی نہیں آئی۔ گاؤں کی گندگی سیاست کے وعدوں کا مذاق اڑاتی دکھائی دیتی ہے۔

    گاؤں خدابخش لغاری کے ایک بزرگ ہاتھ اٹھا کر کہتے ہیں کہ “کیا ہم صرف ووٹ دینے کے لیے پیدا ہوئے ہیں؟ بھٹو زندہ ہے، مگر ہمارا گاؤں مر چکا ہے۔” ان کے الفاظ درد سے بھرے ہیں اور آنکھوں میں امید کے بجائے خالی پن ہے۔

    گاؤں کے اردگرد کھیت اجڑے ہوئے ہیں۔ کبھی لہلہاتی فصلیں تھیں، اب پانی کی کمی نے زمین چٹخا دی ہے۔ نہری نظام ناکام، ٹیوب ویل بند اور مزدوری کے لیے شہروں کا رخ کرنے والے ہاتھ خالی لوٹتے ہیں۔ سیاستدان صرف انتخابات کے موسم میں ان راستوں کو پہچانتے ہیں۔

    میرپورماتھیلو اور گھوٹکی کے درمیان زندگی جیسے رکی ہوئی ہے۔ ترقی کے وعدے ہوا میں تحلیل ہو چکے ہیں اور بھٹو کے نعرے اس دھرتی کی خاموش چیخوں میں دب گئے ہیں۔ اگر واقعی بھٹو زندہ ہے تو دیہی سندھ اتنا لاوارث کیوں ہے؟ یہ سوال ہر دروازے سے اٹھتا ہے، ہر صحن سے گونجتا ہے۔

    گاؤں کے مکین روزانہ بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ صاف پانی ہر خاندان کے لیے خواب بن چکا ہے۔ عورتیں اور بچے بالٹیاں اٹھائے میلوں چلتے ہیں، ان کی صحت برباد ہو رہی ہے۔ کچی سڑکوں پر روز حادثات ہوتے ہیں۔ بارش میں راستے بند اور گاؤں دنیا سے کٹ جاتا ہے۔

    نہ صحت کا کوئی مرکز ہے، نہ سکول فعال ہیں۔ بچے کھلے آسمان تلے پڑھتے ہیں، اگر استاد آ جائے تو۔ لڑکیوں کی تعلیم کو اب بھی غیرضروری سمجھا جاتا ہے۔ صفائی کا حال یہ ہے کہ ہر گلی کیچڑ اور بدبو سے بھری ہے، ہر گھر بیماریوں سے گھرا ہوا ہے۔

    غربت، بیماری اور بے بسی نے گاؤں والوں کے چہروں سے مسکراہٹ چھین لی ہے۔ لوگ قرض میں ڈوبے ہیں، مزدور کم اجرت پر محنت کر رہے ہیں اور زندگی صرف گزاری جا رہی ہے۔ ہر گھر میں سوال ہے کہ کیا ہمارا کام صرف ووٹ دینا ہے؟ کیا وعدے ہمیشہ کاغذوں میں دفن رہیں گے؟

    گذشتہ کئی سالوں میں کسی منتخب نمائندے یا افسر نے اس گاؤں کا حال نہیں پوچھا۔ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ عوام کا صبر اب ختم ہو چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب وعدوں پر نہیں، عمل پر یقین چاہیے۔

    گاؤں کے باسی صاف پانی، صحت، تعلیم اور سڑکوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ واٹرفلٹر یشن پلانٹ، بورنگ سسٹم، ڈسپنسری اور سکولوں کی مرمت فوری کی جائے۔ لڑکیوں کی تعلیم اور صفائی کے نظام کو ترجیح دی جائے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ یہ وعدے اب تحریروں سے نکل کر حقیقت بنیں۔

    ان کا پیغام واضح ہے کہ خاموشی ختم ہو چکی ہے۔ اگر اب بھی حکومت، سیاستدان اور افسران نے توجہ نہ دی تو عوام جمہوری طریقے سے اپنی آواز بلند کریں گے۔ گاؤں خدا بخش لغاری اب مزید وعدوں پر نہیں جئے گا، وہ حق مانگے گا ، اپنے انسانی وقار، بنیادی سہولیات اور انصاف کے حق کے لیے۔

    یہ گاؤں اب انتظار نہیں کرے گا۔ یہ گاؤں اٹھ چکا ہے، تاکہ بھٹو کے زندہ ہونے کا مفہوم صرف نعرہ نہ رہے، بلکہ انسانوں کی زندہ حالت میں نظر بھی آئے۔

  • گھوٹکی: میونسپل ملازمین کا احتجاج 26ویں روز میں داخل، تنخواہیں بحال نہ ہونے پر شدید احتجاج

    گھوٹکی: میونسپل ملازمین کا احتجاج 26ویں روز میں داخل، تنخواہیں بحال نہ ہونے پر شدید احتجاج

    گھوٹکی باغی ٹی وی (نامہ نگار مشتاق علی لغاری) میونسپل کمیٹی گھوٹکی کے ملازمین کا زبردستی بند کی گئی تنخواہوں کی بحالی کے لیے احتجاجی کیمپ مسلسل 26ویں روز بھی جاری رہا، مگر تاحال کسی اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے نوٹس نہیں لیا۔

    تفصیلات کے مطابق ملازمین چھ سال سے تنخواہوں کی بندش کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی تنخواہیں فوری طور پر بحال کی جائیں، بصورت دیگر احتجاجی کیمپ غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا۔

    احتجاجی ملازمین کا کہنا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، بلدیاتی وزیر ناصر حسین شاہ اور میونسپل چیئرمین آصف رزاق دھاریجو نے تاحال کسی قسم کی توجہ نہیں دی، جس سے ملازمین میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔

    دریں اثنا، احتجاجی کیمپ میں موجود ملازمین نے ایم این اے سردار علی گوہر خان مہر، ایم پی اے سردار راجا خان مہر، صوبائی وزیر محمد بخش خان مہر اور دیگر معزز شخصیات سے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ سندھ مرحوم سردار علی محمد خان مہر کی والدہ اور ضلع چیئرمین میر بنگل خان مہر کی چچی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار بھی کیا۔

    ملازمین نے حکومتِ سندھ سے اپیل کی ہے کہ ان کے جائز مطالبات تسلیم کرتے ہوئے بقایا تنخواہیں فوری بحال کی جائیں تاکہ وہ اپنے گھروں کے معاشی مسائل سے نجات پا سکیں۔

  • گھوٹکی: میونسپل ملازمین کا 23 ویں بھی دھرنا جاری، وکلاء کا 8 دن کا الٹی میٹم

    گھوٹکی: میونسپل ملازمین کا 23 ویں بھی دھرنا جاری، وکلاء کا 8 دن کا الٹی میٹم

    گھوٹکی(باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)گھوٹکی میونسپل کمیٹی کے ملازمین کی جانب سے چھ سال سے سیاسی بنیادوں پر بند تنخواہوں کی بحالی کے لیے پپل چوک پر جاری احتجاجی کیمپ 23ویں دن میں داخل ہو گیا ہے۔ اس دوران گھوٹکی بار ایسوسی ایشن کے صدر شاہنواز وسیر اپنی ٹیم کے ہمراہ احتجاجی کیمپ پر پہنچ گئے اور ملازمین سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ہر فورم پر ساتھ دینے کا اعلان کیا۔

    بشیر کلوڑ، مختیار ٹگڑ، احمد کلادی، برکت کوری، سہراب کلوڑ، اورنگزیب چنا، امداد مہر، ہدایت اللہ ابڑو، وحید مراد چنا، کفایت اللہ گھوٹو، ایاز گل چنا، ندیم دھانڈو اور دیگر ملازمین کی قیادت میں یہ احتجاج گزشتہ 23 دن سے جاری ہے۔

    وکیل شاہنواز وسیر نے دھرنے میں پہنچ کر ملازمین سے ہمدردی کا اظہار کیا اور سندھ حکومت، اعلیٰ افسران، گھوٹکی چیئرمین اور سی ایم او گھوٹکی کو تنخواہیں بحال کرنے کے لیے 8 دن کا الٹی میٹم دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تنخواہیں فوری طور پر جاری نہ کی گئیں تو ملازمین کے ساتھ مل کر قانونی تحریک بھی شروع کی جائے گی۔

    شاہنواز وسیر کی آمد پر احتجاجی کیمپ میں موجود ملازمین نے وکلا برادری کا شاندار استقبال کیا اور ہر جانب سے پھولوں کی بارش کی گئی۔ ملازمین سے ملاقات کے دوران شاہنواز وسیر میڈیا کے سامنے آبدیدہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ایک دن گزارنا کتنا مشکل ہے جبکہ ان ملازمین کی چھ سال سے جبراً تنخواہیں بند ہیں، جو براہِ راست ان کا معاشی قتل ہے۔ ان کے بچوں کی تعلیم تباہ ہو گئی اور سینکڑوں خاندانوں کا مستقبل برباد ہو گیا، جو ان لوگوں کا کام ہے جن کا نعرہ "روٹی، کپڑا اور مکان” ہے۔

    احتجاجی کیمپ میں سیاسی و سماجی رہنماؤں رئوف پارس دائو، احسان کلادی، فدا حسین ملک اور دیگر نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے ہر فورم پر ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے جبراً بند کی گئی تنخواہوں کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔

  • میرپورماتھیلو: حکومتِ سندھ اور ’زندہ بھٹو‘ بھی خاموش، جروار کے قریب گوٹھ خدا بخش لغاری کے لوگ پتھر کے زمانے کی زندگی گزارنے پر مجبور

    میرپورماتھیلو: حکومتِ سندھ اور ’زندہ بھٹو‘ بھی خاموش، جروار کے قریب گوٹھ خدا بخش لغاری کے لوگ پتھر کے زمانے کی زندگی گزارنے پر مجبور

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری )ضلع گھوٹکی کی انتظامیہ اور حکومتِ سندھ کی مجرمانہ غفلت نے جروار کے قریب گاؤں خدا بخش لغاری کے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ قیام پاکستان سے لیکر اب تک اس گاؤں میں نہ پینے کا صاف پانی میسر ہے، نہ سڑک، نہ ہسپتال اورنہ ہی سکول۔ عوام کا کہنا ہے کہ بارہا میڈیا پر خبریں نشر ہونے کے باوجود کسی افسر، وزیر یا محکمے نے نوٹس تک لینا گوارا نہیں کیا۔

    علاقہ مکینوں نے بتایا کہ پانی کی کمی کے باعث عورتیں اور بچے روزانہ میلوں پیدل چل کر پانی لاتے ہیں۔ صاف پانی نہ ہونے سے ہیضہ، ٹائیفائڈ ،جگر و پیٹ کے امراض عام ہیں۔ گاؤں میں صحت کی کوئی سہولت موجود نہیں، ہسپتال تو دور کی بات، ایک ڈسپنسری تک قائم نہیں۔ مریضوں کو ہنگامی حالت میں سینکڑوں کلومیٹر دور شہروں میں لے جانا پڑتا ہے اور کئی قیمتی جانیں تاخیر کے باعث ضائع ہو چکی ہیں۔

    تعلیم کا حال بھی انتہائی افسوسناک ہے۔ گاؤں میں کوئی فعال سرکاری سکول موجود نہیں، بچے دوسرے دیہات کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ تعلیم کی محرومی نے نئی نسل کا مستقبل اندھیروں میں دھکیل دیا ہے، جبکہ منتخب نمائندے صرف انتخابی وعدوں تک محدود ہیں۔

    اہلِ علاقہ نے حکومتِ سندھ، ڈپٹی کمشنر گھوٹکی، محکمہ صحت، محکمہ تعلیم، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ورکس اینڈ سروسز اور بلدیاتی اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وعدوں اور تصویری بیانات سے بات نہیں بنے گی ،عملی کام درکار ہے، نہیں تو احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔

    عوام کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت اگر واقعی عوامی خدمت کا دعویٰ کرتی ہے اور بھٹو کو زندہ رکھنا چاہتی ہے تو گھوٹکی کے محروم عوام کو مزید نظرانداز نہ کرے۔

    “شہریوں کا کہنا تھا کہ ہم حکومت سے صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ہمیں انسان سمجھا جائے، ہمارے بچوں کو تعلیم، پانی اور صحت کا حق دیا جائے۔ اگر حکومت نے اب بھی خاموشی اختیار کی تو یہ خاموشی عوامی بغاوت میں بدل جائے گی۔”

  • گھوٹکی: شراب فیکٹری کی زہریلی گیسوں سے ڈہرکی و اوباڑو کی فضا آلودہ، شہری پریشان

    گھوٹکی: شراب فیکٹری کی زہریلی گیسوں سے ڈہرکی و اوباڑو کی فضا آلودہ، شہری پریشان

    گھوٹکی (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری)کموں شہید بارڈر کے قریب قائم شراب فیکٹری سے خارج ہونے والی زہریلی گیسوں اور کیمیکل نے ڈہرکی، اوباڑو اور سندھ پنجاب کے سرحدی علاقوں کے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ مقامی آبادی کے مطابق رات ڈھلتے ہی فضا میں بدبو اور زہریلا دھواں اس قدر پھیل جاتا ہے کہ سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے۔ آنکھوں میں جلن، گلے میں خراش اور سر درد جیسے امراض عام ہو چکے ہیں جبکہ بچے اور بزرگ بدترین متاثرین میں شامل ہیں۔

    علاقہ مکینوں نے بتایا کہ کئی ماہ سے یہ مسئلہ شدت اختیار کر چکا ہے مگر انتظامیہ اور ماحولیاتی ادارے مکمل خاموش ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اداروں کی یہ بے حسی عوامی صحت کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔ لوگوں نے وزیراعلیٰ سندھ، محکمہ ماحولیات اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری کارروائی کی جائے، فیکٹری کے فضائی اخراجات کی مانیٹرنگ کی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو اس زہریلی فضا سے نجات مل سکے۔

  • گھوٹکی: زمین کے تنازع پر خونریز تصادم، فائرنگ سے نیاز چاچڑ جاں بحق، علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی

    گھوٹکی: زمین کے تنازع پر خونریز تصادم، فائرنگ سے نیاز چاچڑ جاں بحق، علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی

    گھوٹکی (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی کے علاقے قادرپور کچے بُنڈی تھانے کی حدود میں زمین کے تنازع پر چاچڑ برادری کے دو گروہوں کے درمیان شدید تصادم ہوا۔

    جھگڑا شدت اختیار کرنے پر دونوں جانب سے اندھا دھند فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں نیاز چاچڑ ولد ساکانی موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ لاش کو سول ہسپتال گھوٹکی منتقل کردیا گیا ہے۔

    واقعے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی، پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ کر صورتِ حال کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان تنازع پرانی دشمنی کا تسلسل بتایا جاتا ہے جبکہ پولیس نے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔